کیا ٹیکنالوجی نے ملازمتیں ختم کر دیں ؟

ٹیکنالوجی کو عام طور پر اچھا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی مدد سے کام تیز اور کم افرادی قوت کے بل بوتے پر ممکن ہوتا ہے۔ یہ ملازمتوں پر اثر انداز بھی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں نچلے 50 فیصد ملازمین کی حقیقی آمدنی میں 1999ء سے مجموعی طور پر کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا ۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اجرتیں نہیں بڑھیں بلکہ ہوا یہ کہ ان میں اور مہنگائی میں اضافے کا تناسب ایک جیسا رہا۔ اس کی بہت سی وجوہ ہیں۔ کچھ ماہرین کے خیال میں ٹیکنالوجی اس کا سب سے بڑا سبب ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے کتنا تیار ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے افرادی قوت پر اثرات کے بارے میں ایک تحقیق کی گئی جس سے پتا چلا کہ کم و بیش ہر شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متاثر ہو گا۔ مثال کے طور پر عین ممکن ہے کہ کاروں، ٹرکوں اور بسوں کو چلانے کے لیے ڈرائیوروں کی ضرورت نہ رہے کیونکہ وہ خود کار ہو جائیں گی۔ اسی طرح تعلیم کے لیے اساتذہ اور سٹاف کی ضرورت کم ہو جائے گی کیوں آن لائن علم اور ڈگری حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کوایک نیا انقلاب کہا جاتا ہے لیکن تیز رفتا تبدیلیوں کے بارے میں پالیسی سازوں کے پاس اعدا د و شمار کی کمی ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلیوں سے کون سی ملازمتیں پیدا ہونے جا رہی ہیں اور کون سی ختم۔ اس کا ایک نتیجہ بے روزگاری کی صورت میں نکلتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی کے مطابق مہارتیں رکھنے والے افراد کی کمی ہو جاتی ہے اور جن ملازمتوں سے ان کے اخراج کا امکان ہوتا ہے اس کا متبادل بروقت تلاش نہیں کیا جاتا۔

پرانی ملازمتوں کے خاتمے اور نئی کے امکانات کے بارے میں تحقیق اور اعدادوشمار کم ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں اطلاعات کا سیلاب آیا ہوا ہے لیکن ان میں مطلوبہ معلومات نہیں ملتیں۔ کچھ بڑی کمپنیوں کے پاس اس بارے میں بہت سا ڈیٹا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایمازون اور نیٹ فلکس اپنی مصنوعات کی فروخت سے نئے رجحانات کا پتا لگاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ کیا چاہ رہے ہیں اور انہیں کیا کرنا چاہیے۔ لیکن ان اعداوشمار تک عام رسائی نہیں ہوتی اور نہ حکومتی پالیسی ساز اس بارے میں جان سکتے ہیں۔ اسی طرح جو ویب سائٹس ملازمتوں کی آفرز کے لیے بنائی جاتی ہیں ان کے پاس بھی نئے رجحانات اور ملازمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا اچھا خاصا ڈیٹا ہوتا ہے۔

انہیں پتا ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کن شعبوں کے طالبہ کے لیے کون سی ملازمتیں میسر ہیں۔ ان کے اعدادوشمار سے پالیسی ساز معلوم کر سکتے ہیں کہ کالج اور یونیورسٹی میں بدلتی ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھ کر کن نئے شعبوں کو متعارف کروانے کی ضرورت ہو گی۔ مثال کے طور پر پاکستان میں چند سال قبل تک ٹی وی پروڈکشن کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی لیکن اب متعدد کورسز متعارف کروائے گئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹی وی چینلز کے آنے کے بعد ایسا کیا گیا حالانکہ اسے پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے ثمرات سے زیادہ سے زیادہ افراد فائدہ اٹھائیں۔ اگر اس سے ملازمتیں ختم ہوتی جائیں اور بے روزگاری بڑھ جائے تو جرائم اور دیگر سماجی برائیاں پیدا ہوں گی۔

رضوان مسعود

Advertisements

پاکستان میں بے روزگاری کا عفریت

پاکستان میں بھی دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح بے روزگاری بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہو کر ایک اچھے مستقبل کی امید اور آنکھوں میں بھرے سپنے لے کر نکلتے ہیں کہ اب ان کی منزل نزدیک ہے۔ ایک طالب علم اپنی زندگی کا چوتھا حصہ اور اپنا مال اس امید پر پڑھنے پر لگاتا ہے کہ وہ ایک دن اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے ایک باعزت روزگار حاصل کر سکے۔ شاید ان کو نہیں پتا کہ جلد ان کا سامنا بیروزگاری کی تلخ حقیقت سے ہونے والا ہے۔ ان کو نہیں پتا کہ ہر جگہ ان کی قابلیت اور امیدوں کو ٹھکرا دیا جائے گا، کبھی رشوت کے نام پر تو کبھی سفارش کے نام پر،ان کی محنت، قابلیت اور ڈگریوں کو نہیں دیکھا جائے گا، بہت سے نوجوان مایوس ہو کر خودکشی کر تے ہیں اور کچھ مجبور ہو کر پیسہ کمانے کے لیے مجرم بھی بن جاتے ہیں۔ جب ساری اسامیاں اور نوکریاں امرا اور سیاست دانوں کے لیے ہیں تو این ٹی ایس، اخباروں میں اشتہارات، نوکریوں کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویوز کا ڈھنڈورا کیوں پیٹا جاتا ہے۔

ایک غریب کی قابلیت کو اس لیے نظر انداز کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس سفارش اور نوٹوں کے بنڈل نہیں ہوتے۔ اگر ایک غریب کی قابلیت کو دیکھا جائے تو ان کی جیب گرم نہیں ہو گی۔ اب ڈگری کے ساتھ ساتھ ایک امیری اور سفارش کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرنا ہو گا۔ اس کے لیے بھی کوئی شعبہ بنا دیا جائے جہاں ایک غریب اور مظلوم نوجوان اپنی محنت اور قابلیت کا ایک اور امتحان دے کر یہ سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر لے۔ یا پھر ہر تعلیمی شعبے میں ایک پالیسی بنائی جائے کہ جس کے پاس مستقبل میں کوئی سفارش کرنے والا یا امیری کا سرٹیفکیٹ اور پیسے نہیں تو وہ اپلائی نہیں کر سکتا، کم از کم ایک نوجوان کی امیدیں اور خواہشات پامال تو نہیں ہوں گی، ان کے والدین کی قربانیاں کسی دفتر کے ڈسٹ بن میں تو نہیں پھینکی جائیں گی، ان کے دلوں میں امید کی کرن تو نہیں جاگے گی کہ کل ان کی قربانیوں کا ازالہ ان کی اولاد کے آنے والے روشن مستقبل سے ہو گا ، ان کو کیا پتا کہ ان کی امیدوں کے چراغ کو روشن ہونے سے پہلے ہی بجھا دیا جائے گا۔

رابی بدر بلوچ

ہاں ! بیروزگاری کاخاتمہ ہوسکتا ہے

بیروزگاری ہمارے ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ بیس کروڑ کی آبادی میں 65% نوجوان ہیں جن کی عمریں اٹھارہ سے پینتیس سال کے درمیان ہیں ۔ ان میں ذہانت ہے، قوّت ہے، صلاحیتیں ہیں مگروہ نوکری اور روزگارسے محروم ہیں، پبلک سیکٹر صرف چند ہزاراسامیاں تخلیق کرسکتا ہے ۔

ملکی معیشت اتنی توانا نہیں اور اس میں اتنی وسعت نہیں کہ کروڑوں بے روزگار نوجوانوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لے اور سب کو روزگار فراہم کر دے۔ بیروز گاری کے مسئلے پر کتنے ہی اجلاس اور سیمینار منعقد کر لیے جائیں اور کتنی ہی تقریریں کر لی جائیں کوئی دوسرا طریقہ نہیں ڈھونڈا جاسکتا ۔۔اس پر قابو پانے کا ایک ہی حل ہے۔
نوجوانوں کو فنّی تربیّت فراہم کرکے انھیں ہنر مند بنادیا جائے۔ ہنرمند کبھی بے روزگار نہیں رہ سکتا۔ یورپی ممالک نے برسوں پہلے یہ حل ڈھونڈ لیا تھا اس لیے وہ معاشی تر قّی کی دوڑ میں آگے نکل گئے۔ ہم نے اسے نظر انداز کیے رکھا اس لیے بہت پیچھے رہ گئے۔
کئی دھائیوں تک یہ اہم ترین شعبہ حکومتوں اور حکمرانوں کی نظروں سے اوجھل رہا اور غلط ترجیحات کے باعث ملک بیروزگاری اور غربت کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ 1997-98 میں پنجاب حکومت نے سب سے پہلے اس کا ادراک کیا اور ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی  کے نام سے ایک ادارے کا قیام عمل میں آیا۔
دیکھا دیکھی دوسرے صوبوں میں بھی اس جانب توجہ مبذول ہونا شروع ہوئی، پھر اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ فنّی تعلیم و تربیّت کے اہم ترین شعبے میں پالیسی سازی،  کے لیے مرکزی سطح پر ادارہ ہونا چاہیے لہذاء نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کا وجود عمل میں آیا ۔ کامران لاشاری ،امجد علی خان ( چیف سیکریٹری خیبر پختونخواہ ) ،سجاد سلیم ھوتیانہ (سابق چیف سیکریٹری سندھ ) اور کئی دیگر سول سرونٹس اس کے سربراہ رہے ہیں۔

اس سال پولیس سروس سے ریٹائرہوا تو پرائم منسٹر صاحب نے بلا کرکہا کہ ’’حکومت آپ کی صلاحیتّوں سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے ‘‘ اس ضمن میں ناچیز کو نیکٹا کی سربراہی سمیت مختلف عہدوں کی پیشکش ہوئی جو ناچیز نے قبول کرنے سے اس لیے معذرت کی کہ میں دیانتداری سے سمجھتا تھا کہ وہاں آزادی سے کوئی کردار ادا نہیں کر سکوں گا۔ نوکری کبھی بھی میرا مسئلہ نہیں رہی۔ مگر جب اس سال اگست کے آخر میں کہا گیا کہ ’’آپ نیوٹیک کی ذمے داری سنبھال لیں‘‘  تو میں نے دوستوں سے مشورے کے بعد حامی بھر لی کیونکہ اس میں نوجوانوں کو ہنرمند بناکر انھیں روزگار فراہم کرنے اور ملکی ترقّی میں حصہ ڈالنے کے مواقعے نظرآئے۔

ہمارے ہاں ہر سال لاکھوں نوجوان بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں لے کر مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے چکر کاٹنا اور اخباری اشتہارات چاٹنا  شروع کردیتے ہیں مگر ہر طرف سے انھیں مایوس کن جواب ملتا ہے کیونکہ کاغذ کی اس دستاویز کی نہ کوئی اہمیّت ہے اور نہ مانگ۔ اتنے بڑے  کو اگر ہم فراہم کرسکیں تو یہ ہمارے پاس سونے اور تیل سے کہیں بڑا سرمایہ ہے۔ اوراگرانھیں وہ ہنر فراہم نہ کرسکے جو انھیں روزگار کمانے کے قابل بنادے، تو بیکاری اور فرسٹریشن انھیںجرائم یا دہشت گردی کی طرف دھکیل دے گی۔
ہمارے ہا ں ٹیکنیکل اور ووکیشنل شعبے کی طرف بالکل توجہ نہیں رہی۔ پنجاب میں لاہور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی  ایک اچھا ادارہ ہے مگر یہ انجینئر تو پیدا کررہا ہے ٹیکنیشن نہیں بنارہا۔ ٹیکنالوجی کا شعبہ غیر فعال ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں منڈی بہاؤالدین کے رسول کالج اور سویڈش کالج گجرات کے بعد کوئی اعلیٰ پائے کا ادارہ قائم نہیں ہوسکا۔ سندھ اور کراچی میں بھی اچھے ادارے پرائیویٹ سیکٹر میںہی قائم ہوئے ہیں۔
اس کے برعکس ترقی کی دوڑمیں ایشیاء اور افریقہ سے آگے نکل جانے والے ملکوں نے کسی منصوبہ بندی کے بغیر اپنے نوجوانوں کو بی اے ایم اے کی طرف نہیںدھکیلا ۔ انھوں نے کی طرف فوکس کیا میٹرک میں اعلیٰ گریڈز لینے والے بچوں کو ہی یونیورسٹی تعلیم کی طرف جانے دیا جاتا ہے۔

دوسروں کو فنّی اور ووکیشنل تعلیم و تربیت کے اداروں میں بھیجاجاتا ہے، جہاں ان کا بیس فیصد وقت کلاس روم میں اور 80 فیصد فیکٹری میں عملی تربیت حاصل کرنے میں گزرتا ہے۔ یہ سب کچھ صنعتی شعبے کی موجودگی یا نگرانی میں ہوتا ہے اس لیے تربیّت مکمل کرنے والے نوجوان کا روزگار یا یقینی ہوتی ہے۔ چین نے اعلیٰ پائے کے ٹیکنیکل ادارے قائم کرلیے ہیں۔ کوریانے انجنیئرنگ یونیورسٹیا ں قائم کرنا بند کردی ہیں صرف ٹیکنیکل ٹریننگ کے ادارے قائم کیے جارہے ہیں۔
یورپ ہی نہیں ایشیا اور پیسیفک کے ممالک بھی ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل  ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ  کے شعبے میں بہت آگے نکل گئے ہیں اور ترقی یا فتہ ممالک کو چھورہے ہیں ۔ فلپائن نے میزبانی کے شعبے پر خاص  توجہ دیکر بڑی مہارت حاصل کی ہے یہی وجہ ہے کہ اب یورپ کے ریستورانوں میں بھی فرنٹ ڈیسک ، ریسپشن اور طعام گاہوں میں کھانا سرو کرنے والے زیادہ تر فلپینی نوجوان نظر آتے ہیں۔سری لنکا بھی اس میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
ناچیز نے میدان میں اتر کر دیکھا تو بہت کام رفو کا نکلا۔ عرب ممالک میں تعینات سفارتکاروں نے بتایا کہ کہ مڈل ایسٹ میں پاکستان کا محنتی اور جفا کش مزدور جتنی تنخوا ہ لیتا ہے فلپائن یا سری لنکا کے مزدورکا معاو ضہ اُس سے تین چار گنا زیادہ ہے کیونکہ پاکستانی مزدور بے ہنر  ہے اور فِلپینی یا سری لنکن ہنر سیکھ کرآ تا ہے۔
صنعت کا ہر سیکٹر غیر ہنرمند لیبر فورس کا رونا رو رہا ہے۔ پیداواری صلاحیّت بڑھانے کے لیے ہر فیلڈ میں ہنرمندی اور مہارت کی ضرورت ہے۔زراعت ،تعمیرات،سولر انرجی، صحت، آئی ٹی سے لے کر بیوٹیشن اور کُکنگ تک۔ مقابلے کے اس دور میں دنیا کا مقابلہ کرنا ہے توفنّی تربیّت کے بغیرممکن ہی نہیں۔ ٹیکنیکل اسکل یعنی ہنر ہی وہ کنجی  ہے جو کسی بھی فرد کے لیے امکانات کے لاتعداد دروازے کھول دیتی ہے۔
ہمارے ملک میں مشکلات اور چیلنجز کم نہیں ہیں۔  بہت سے علاقے پسماندہ ہیں جہاں تیکنیکی تربیّت کے مواقع ناپید ہیں۔ معیار اور موزونیت پر توجہ نہیں رہی، زیادہ تر اداروں میں جو تربیّت دی جاتی رہی ہے اس کی ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں طلب نہیں۔ تربیّتی اداروں اور آجر میں باہمی ربط کا فقدان ہے۔
تربیتّی ادارے اپنی سہولت اور وسائل کے مطابق تربیّت فراہم کرتے ہیں اس سلسلے میں انڈسٹریل سیکٹر کو اعتماد میں نہیں لیتے جب کہ یورپ،چین اور جاپان میں ہنرکے انتخاب سے لے کرسیلبس کی تیاری، عملی ٹریننگ اور  تک ہر مرحلے پر صنعتی شعبہ عملی طور پر حصے دار ہوتا ہے اسی لیے تربیّت مکمّل کرنے والوں کو متعلقہ صنعت فوراً اچک لیتی ہے اور بڑی خوشی سے اپنے ہاں روزگار فراہم کرتی ہے۔
پچھلے تین مہینوں میں انھی امور کی جانب توجہ دی گئی ہے، وزیرِ اعظم خود چاہتے ہیں کہ ہر سال ہزاروں نہیں لاکھوں نوجوانوں کو ٹریننگ فراہم کی جائے ۔ تربیّت کے لیے اب بہترین  اداروں کا انتخاب کیا جارہا ہے کس ہنر میں تربیّت دینی ہے اس کا فیصلہ ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ کی طلب کو پیشِ نظر رکھ کر کیا جارہا ہے یعنی کا آغاز کردیا گیا ہے۔
تربیّت کا معیار بلند کرنے اور اسے بین الاقوامی سطح تک لانے کے لیے عالمی  سطح کے سیلبس سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ تربیّت کے پرانے اور دقیانوسی طریقے سے ہٹ کر  متعارف کرائی جارہی ہے۔ سیکٹر میں عالمی سطح کے جانے اور پہچانے جانے والے سٹی اینڈ گلڈز جیسے اداروں کے ساتھ اشتراکِ عمل شروع کردیا گیا ہے۔ غیر ملکی ماہرین کی ٹیکنیکل سپورٹ کے ساتھ سسٹم میں اصلاحات لائی جارہی ہیں، تربیّت کو جانچنے اور نیوٹیک کے سرٹیفیکیٹ کا معیا ر اور اعتبار قائم کرنا ایک اہم ہدف ہے۔
اور نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے  قائم کیے جارہے ہیں۔ انڈسٹری کے ساتھ باہمی رابطہ استوار کرنے کے لیے مسلسل کوششیں ہورہی ہیں، اس سلسلے میں کراچی اور لاہور میں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے عنوان سے دو بڑے سیمینار منعقد ہوچکے ہیں جس میں انڈسٹری کے نمائیندوں نے بڑی تعداد میں اور بڑے جوش و خروش سے شرکت کی۔ سیکٹر سکل کونسلز قائم کی جارہی ہیں، اگلے ماہ منعقد کیے جائیں گے۔
فروری اور مارچ میں تمام صوبائی دارلحکومتوں اور صنعتی شہروں میں  کا انعقاد ہوگاجس میں نوجوانوں، تربیت فراہم کرنے والے اداروں، صنعتکاروں اور آجروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے گا، جہاں ہنر سیکھنے کے بارے میں نوجوانوں کی رہنمائی بھی کی جائے گی اور تربیّت یافتہ نوجوانوں کی اہلیّت اور صلاحیّت کو دیکھ کر صنعتکار انھیں وہیں بھی آفرکریں گے۔
ہنرمندی کا راستہ ہی خوشحالی کی منزل تک پہنچائے گا۔ اس منزل کے حصول کے لیے نیوٹیک خلوص اور لگن کے ساتھ ایک رہنما اور مددگار کا کردار ادا کرے گا۔
ذوالفقار احمد چیمہ

The world’s jobless

 RUSSIA, 5.4 percent in June 2015 Oksana Shirshova, unemployed, carries a shoulder yoke with two buckets hanging on it after drawing water from the Teryol river in Verkhnyaya Biryusa village, located in the Taiga area near the Russian Siberian city of Krasnoyarsk.
PAKISTAN, 6.0 percent in December 2014 A man whose family moved to Islamabad from Pakistan’s Khyber-Pakhtunkhwa province to look for work stands outside his house on the outskirts of Islamabad.

MAURITANIA, 10.1 percent in December 2012 A passenger on a SNIM train carrying iron ore and mine workers waits for transport after arriving in Nouadhibou, Mauritania. 
UNITED KINGDOM, 5.6 percent in May 2015 A window cleaner carries his ladders past a mural of the Beatles painted on the end of a row of terraced houses in Liverpool, northern England.

 VORY COAST, 15.7 percent in December 2008 Prospectors search for gold at a gold mine near the village of Gamina, in western Ivory Coast.

EAST TIMOR, 11.0 percent in December 2013 Workers sort coffee beans at the Timor Coffee Cooperative in Dili. 

PALESTINE, 25.6 percent in March 2015 Contracted members of Palestinian security forces loyal to Hamas rest during a protest demanding for permanent jobs, at the headquarters of the Palestinian parliament in Gaza City. 

CHINA, 4.04 percent in June 2015 Thousands of job seekers visit booths at a job fair in Chongqing municipality.

بے روزگاری کا کرب

اگر عوام کو درپیش مسائل کی درجہ بندی کی جائے تو بے روزگاری کا مسئلہ یقیناً پہلے درجے پر آتا ہے جس میں حکمران طبقات کی اپنی پالیسیوں کا عمل دخل ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف غربت کو بڑھا رہا ہے بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں اور ان کے سہانے مستقبل کے خواب دیکھنے والے ان کے والدین کو بھی عملاً ذہنی مریض بنا کر سماجی رہن سہن اور اقدار کو الٹاتے ہوئے پورے سماجی معاشرے کو جرائم کی آماجگاہ بنانے کے راستے نکال رہا ہے۔ 
پچھلے دنوں معروف کلینیکل سائیکاٹرسٹ صبا شبیر شیخ سے بات ہو رہی تھی تو میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ جن اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ ملازمت کے حصول کے معاملہ میں ناانصافی ہو رہی ہے اور میرٹ کے ڈھکوسلے کے تحت انہیں این ٹی ایس اور پبلک سروس کمشن کے تحت ملازمت کے ہر اشتہار میں چار سو سے سات سو روپے کی فیس کے ساتھ تحریری ٹیسٹ اور انٹرویو کے لئے نتھی کیا جا رہا ہے اور اس بار بار کی ایکسرسائز کے باوجود یہ نوجوان ملازمت کے حصول میں کامیاب نہیں ہو پاتے تو صرف وہی ذہنی دبائو کا شکار نہیں ہوتے بلکہ ان کے والدین بھی بار بار کی فیسیں ادا کرکے ذہنی تنائو میں مبتلا رہتے ہیں اور پھر مستقل ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔ صبا شبیر کے بقول ان کے پاس کونسلنگ کے لئے آنے والے نفسیاتی مریضوں میں بھی اکثریت انہی مضطرب طبقات کی ہے۔ 
میں خود بھی اسی ناطے سے پڑھی لکھی نوجوان نسل میں پائے جانے والے اضطراب کا مشاہدہ کر رہا ہوں۔ یہ نوجوان خواتین و حضرات اور ان کے والدین ایک ایسے کرب میں مبتلا نظر آتے ہیں جس کا ردعمل اتنا خوفناک ہو سکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے خونیں انقلاب کو آتا دیکھنے والے فیشنی بیانات کے عملی قالب میں ڈھلنے سے بھی شائد ہمارے معاشرے میں اتنی خوفناک صورتحال پیدا نہیں ہو گی۔
میں حیران ہوتا ہوں کہ موجودہ حکمران طبقات اپنے ہاتھوں سے انسانی معاشرتی ڈھانچے کی تباہی کا اہتمام کر رہے ہیں اور انہیں اس پر کسی قسم کی فکر بھی لاحق نہیں ہے۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اپنی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں بجٹ میں موجود اعداد و شمار کے نہ جانے کون سے ہیر پھیر سے نتیجہ اخذ کرکے قوم کو خوشخبری سنا رہے تھے کہ حکومتی اقدامات سے 25لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔ بھئی یہ روزگار زمین کے کس حصے پر اگے گا اور کس کے ہاتھ کیسے آئے گا۔ سالہا سال سے روزگار کی تلاش میں دھکے کھاتے، رسوا ہوتے، میرٹ کی دھجیاں بکھرتے اور دستیاب ملازمتوں کے دروازے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے اشرافیائوں کے پسندیدگان کے لئے کھلتے دیکھ کر مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے والے اس معاشرے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں اور ان کے مایوس والدین کو بھی اس سے آگاہ کر دیجئے۔ ورنہ ایک مایوسی جو ہے سو ہے اور وہ ساری انسانی معاشرتی اقدار کو کھا رہی ہے تو کیا اس معاشرے پر نازل ہونے والی وحشتوں کو ٹالا جا سکے گا؟
میرے پاس ایسے خطوط کے ڈھیر لگے پڑے ہیں جن میں میرٹ کے حکومتی ڈھکوسلوں کے نام پر ہونے والی بے انصافی پر آہ و بکا امڈی پڑی نظر آتی ہے۔ روزانہ ٹیلی فون پر بھی مایوس نوجوانوں کی ایسی آہ و بکا سننا پڑتی ہے اور چلتے پھرتے مشاہدے میں بھی آہ و بکا کے ایسے مناظر روح تک کو کرب میں ڈبو جاتے ہیں مگر حکمران طبقات کے کانوں پر جوں تک رینگتی نظر نہیں آتی۔ پچھلوں نے ’’پڑھا لکھا پنجاب‘‘ اپنا ماٹو بنایا۔ موجودگان دانش سکولوں اور پڑھو، بڑھو، مقدر سنوارو کے نعرے لگاتے اپنی سیاسی دکانداری سجاتے، چمکاتے نظر آ رہے ہیں جبکہ آگے بڑھنے کی تمنا میں پڑھے لکھے نوجوان طبقات اس جتن میں راندہ درگاہ بنتے جا رہے ہیں۔ مایوسی اوڑھے بیٹھے ہیں جنہیں اوورایج ہونے کا غم بھی کھائے جا رہا ہے۔ کیا کبھی جائزہ لیا حکمران طبقات نے معاشرے میں پھیلنے والی اس مایوسی کے ممکنہ مضر اثرات کا؟ اگر جائزہ لے لیں تو انہیں رات کو چین سے نیند بھی نہ آنے پائے۔
میرے پاس ڈھیر لگے مراسلات میں اسی کرب اور بے چینی کی جھلکیاں نظر آ رہی ہیں۔ پچھلے دنوں پنجاب پبلک سروس کمشن نے لیکچرار کی پندرہ سو کے قریب اسامیاں مشتہر کیں۔ کیا ہمارے وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کو اس کی رپورٹ ملی ہے کہ ان اسامیوں پر سروس کمشن کو دو لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں۔ یہ سارے درخواست گزار خواتین و حضرات علم و استعداد کے حوالے سے اپنے تئیں میرٹ پر پورا اترتے ہیں مگر ان میں سے 15سو نے تقرر پانا ہے اور دیگر ایک لاکھ 98ہزار پانچ خواتین و حضرات نے ملازمت کے حصول کے جتن میں جتے رہنا ہے۔ کیا ملازمت کا حصول ان سب کا حق نہیں اور جن کو جس طریقے سے ملازمت ملتی ہے اس کی سرعام چلتی پھیلتی داستانیں سن کر سر چکرانے لگتا ہے۔ آپ فیسیں بھرو، این ٹی ایس کے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرو مگر ارکان اسمبلی و سینٹ کی سفارشات پر لسٹیں پہلے سے تیار شدہ ہوتی ہیں جو مقتدر حلقے کی جس شخصیت کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں اس کا نام لئے 
بغیر بھی اس کالم میں گزارا چل جائے گا کہ ؎
’’ہے آپ اپنا تعارف، ہوا بہار کی‘‘
اور پھر ایسی لسٹوں میں نام شامل کرنے کے لئے بھائو تائو والی داستانیں زیادہ المناک ہیں۔ دروغ بر گردنِ راوی، میرے ایک دوست نے رازداری کے ساتھ مگر فخریہ انداز میں مجھے بتایا کہ این ٹی ایس کے ماتحت سول جج کے امتحان میں اپنے بیٹے کو امتیازی نمبروں کے ساتھ کامیاب کرانے کے لئے اس نے ایک کمیشن ایجنٹ کی خدمات حاصل کیں۔ اس کے ساتھ آٹھ لاکھ روپے میں معاملہ طے ہوا۔ اس نے سو میں سے 92نمبر دلوانے کا یقین دلایا اور اس کے دعوے کے عین مطابق اس کے بیٹے نے 92نمبر حاصل کر لئے ہیں۔
 یہ میں نے کوئی فرضی کہانی بیان نہیں کی،میرے دوست کے بقول سو فیصد حقیقت ہے۔ آپ تصور کیجئے کہ کسی پوسٹ کی دستیاب اسامیوں پر این ٹی ایس کے انٹری ٹیسٹ میں 90 فیصد تک نمبر لینے والے ہی تقرر کے مستحق ٹھہریں گے اور اتنے نمبر لینے کا نسخہ میدان عمل میں موجود کمیشن ایجنٹوں اور خود ساختہ تعلیمی اکیڈمیوں کے پاس موجود ہے جن کے متعلقہ ادارے میں کس کے ساتھ رابطے ہوتے ہیں، ایسی کسی اکیڈمی اور کمیشن ایجنٹ کو دھر کر اس سے اگلوا لیجئے۔ مگر کوئی یہ جستجو کیوں کرے گا کہ خود ہی تو ایسا کام کرایا جاتا ہے۔ اگر حکومت کی خصوصی مہربانی سے ایک ادارہ انٹری ٹیسٹ کی فیس کی مد میں اربوں روپے کما رہا ہے تو وہ کسی حکومتی شخصیت کی فراہم کردہ لسٹوں سے باہر بھلا کسی کو آنے دے گا۔
 اس لئے ادارے کی ویب سائٹ پر صرف کامیاب امیدواروں کے نام دئیے جاتے ہیں اور وہ بھی صرف متعلقہ امیدوار ہی دیکھ سکتا ہے ۔ جو ٹیسٹ میں ناکام ہوئے انہوں نے کتنے نمبر لئے مجال ہے اس کی بھنک بھی پڑنے دی جائے۔ مقصد صرف یہ ظاہر نہ ہونے دینا ہے کہ کامیاب ہونے والوں نے کیسے کامیابی حاصل کی۔ آخر یہ کس نے کھوج لگانا ہے کہ اب تک سرکاری محکموں میں مشتہر ہونے والی معدودے چند اسامیوں کے لئے ہر متعلقہ محکمہ کو کتنی درخواستیں موصول ہوئیں۔ یہ حساب لگانا یقیناً مشکل نہیں کہ سب درخواستیں این ٹی ایس کے ذریعہ وصول کی جاتی ہیں۔
 یقیناً ان کی تعداد لاکھوں میں ہے اور یہ مذاق نہیں، حقیقت ہے کہ نائب قاصد اور کانسٹیبل کی اسامیوں پر بھی پوسٹ گریجویٹ نوجوان درخواستیں دے رہے ہیں اور وہاں بھی ان کا کوئی چارہ نہیں بن رہا۔ پچھلے دنوں وفاقی اور صوبائی وزارت اطلاعات کے ماتحت پی ٹی وی، ریڈیو اور اس وزارت کے دوسرے محکموں میں کچھ اسامیاں مشتہر ہوئیں جو این ٹی ایس کے انٹری ٹیسٹ کے ساتھ مشروط تھیں۔ میری اطلاع کے مطابق اب تک ان اسامیوں پر تقرر بھی عمل میں آ چکا ہے مگر ٹیسٹ میں 70فیصد سے زائد نمبر حاصل کرکے پاس ہونے ولے امیدوار انٹرویو کی کال کے ہی منتظر بیٹھے ہیں۔اگر پہلے سے تیار شدہ لسٹوں پر ہی ملازمتیں دی جانی ہیں تو پھر این ٹی ایس اور سروس کمشن کے ذریعے میرٹ کے ڈھنڈورے پیٹنے کی کیا ضرورت ہے۔ صاف کہہ دیا جائے کہ ملازمتیں صرف ’’صاحب سلامت‘‘ کی نظر کرم سے ہی ملنی ہیں۔ کوئی میرٹ پر اس کی توقع نہ رکھے۔ اگر ان سارے معاملات کی حقائق پر مبنی داستانیں بیان کرنا شروع کر دی جائیں تو پھر ؎
’’ہم بولے گا تو بولو گے کہ بولتا ہے‘‘۔ بھئی اپنے معاملات درست کر لیجئے ورنہ اب اقتداری اشرافیائوںکی ناانصافی سے پیدا ہونے والا اضطراب طوفان اٹھانے کو تلا بیٹھا ہے۔ اس بے رحم طوفان سے کون بچ پائے گا؟ کچھ نہ پوچھئے صاحب! بس سوچئے اور تدبیر کیجئے۔
سعید آسی