کیا ٹیکنالوجی نے ملازمتیں ختم کر دیں ؟

ٹیکنالوجی کو عام طور پر اچھا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی مدد سے کام تیز اور کم افرادی قوت کے بل بوتے پر ممکن ہوتا ہے۔ یہ ملازمتوں پر اثر انداز بھی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں نچلے 50 فیصد ملازمین کی حقیقی آمدنی میں 1999ء سے مجموعی طور پر کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا ۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اجرتیں نہیں بڑھیں بلکہ ہوا یہ کہ ان میں اور مہنگائی میں اضافے کا تناسب ایک جیسا رہا۔ اس کی بہت سی وجوہ ہیں۔ کچھ ماہرین کے خیال میں ٹیکنالوجی اس کا سب سے بڑا سبب ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے کتنا تیار ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے افرادی قوت پر اثرات کے بارے میں ایک تحقیق کی گئی جس سے پتا چلا کہ کم و بیش ہر شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متاثر ہو گا۔ مثال کے طور پر عین ممکن ہے کہ کاروں، ٹرکوں اور بسوں کو چلانے کے لیے ڈرائیوروں کی ضرورت نہ رہے کیونکہ وہ خود کار ہو جائیں گی۔ اسی طرح تعلیم کے لیے اساتذہ اور سٹاف کی ضرورت کم ہو جائے گی کیوں آن لائن علم اور ڈگری حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کوایک نیا انقلاب کہا جاتا ہے لیکن تیز رفتا تبدیلیوں کے بارے میں پالیسی سازوں کے پاس اعدا د و شمار کی کمی ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلیوں سے کون سی ملازمتیں پیدا ہونے جا رہی ہیں اور کون سی ختم۔ اس کا ایک نتیجہ بے روزگاری کی صورت میں نکلتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی کے مطابق مہارتیں رکھنے والے افراد کی کمی ہو جاتی ہے اور جن ملازمتوں سے ان کے اخراج کا امکان ہوتا ہے اس کا متبادل بروقت تلاش نہیں کیا جاتا۔

پرانی ملازمتوں کے خاتمے اور نئی کے امکانات کے بارے میں تحقیق اور اعدادوشمار کم ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں اطلاعات کا سیلاب آیا ہوا ہے لیکن ان میں مطلوبہ معلومات نہیں ملتیں۔ کچھ بڑی کمپنیوں کے پاس اس بارے میں بہت سا ڈیٹا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایمازون اور نیٹ فلکس اپنی مصنوعات کی فروخت سے نئے رجحانات کا پتا لگاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ کیا چاہ رہے ہیں اور انہیں کیا کرنا چاہیے۔ لیکن ان اعداوشمار تک عام رسائی نہیں ہوتی اور نہ حکومتی پالیسی ساز اس بارے میں جان سکتے ہیں۔ اسی طرح جو ویب سائٹس ملازمتوں کی آفرز کے لیے بنائی جاتی ہیں ان کے پاس بھی نئے رجحانات اور ملازمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا اچھا خاصا ڈیٹا ہوتا ہے۔

انہیں پتا ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کن شعبوں کے طالبہ کے لیے کون سی ملازمتیں میسر ہیں۔ ان کے اعدادوشمار سے پالیسی ساز معلوم کر سکتے ہیں کہ کالج اور یونیورسٹی میں بدلتی ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھ کر کن نئے شعبوں کو متعارف کروانے کی ضرورت ہو گی۔ مثال کے طور پر پاکستان میں چند سال قبل تک ٹی وی پروڈکشن کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی لیکن اب متعدد کورسز متعارف کروائے گئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹی وی چینلز کے آنے کے بعد ایسا کیا گیا حالانکہ اسے پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے ثمرات سے زیادہ سے زیادہ افراد فائدہ اٹھائیں۔ اگر اس سے ملازمتیں ختم ہوتی جائیں اور بے روزگاری بڑھ جائے تو جرائم اور دیگر سماجی برائیاں پیدا ہوں گی۔

رضوان مسعود

Advertisements

یورپ میں رہنے کی ‘بھاری’ قیمت

shutterstock_319837088-998x666یورپ جانے کے خواہش مند محمد اشفاق نے ستمبر 2013 میں اپنا گھر چھوڑا تھا اور اب وہ کراچی میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے انسداد انسانی اسمگلنگ ونگ کے کراچی میں واقع دفتر میں موجود اپنے آبائی علاقے مردان جانے کے لیے اجازت کے منتظر ہیں۔ جب 23 سالہ اشفاق ایران جانے کے لیے گھر سے نکلا تھا تو اس وقت وہ بہت پرجوش تھا، اس کے خیال میں قسمت کی دیوی جلد ہی اس پر مہربان ہونے والی ہے، لیکن سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا ہم سوچتے ہیں اور اب 3 سال بعد وہ واپس اپنے گھر جانے اور اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے بے تاب ہے۔ اشفاق کو اس ‘تبدیلی’ کے لیے بہت بھاری قیمت چکانی پڑی۔GettyImages-152573316-640x480

اشفاق کے مطابق اس تمام عرصے میں اسے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس کے پاؤں کے تلووں کو ربڑ سے پیٹا گیا، ان پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے اور انھیں پانی کے ٹینکوں میں اوپر نیچے کیا گیا۔ اشفاق کے مطابق مسلسل 27 دنوں تک الٹنا لٹکنے، جلتی ہوئی سگریٹ، گرم چھری اور آئرن راڈز سے داغے جانے، ناخنوں میں سوئیاں چبھونے، اندھیرے کمروں میں قید رہنے اور انتہائی سرد ماحوم میں رہنے جیسی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد انھیں یہ اندازہ ہوچکا ہے کہ گھر جیسی اور کوئی جگہ نہیں ہے اور اپنے کیریئر کے لیے راستے کے انتخاب میں وہ بہت غلط تھے۔

اشفاق نے ہفتہ 14 جنوری کو فضل امین کے ہمراہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کیا، انھیں ایک ہفتہ قبل ترک پولیس نے استنبول کے نواح میں واقع ایک گھر سے ریسکیو کروایا تھا، جہاں یہ دونوں دیگر 4 پاکستانی نوجوانوں سمیت ایک ماہ سے زائد عرصے سے قید تھے۔ ان 6 میں سے 4 نوجوانوں کا تعلق پنجاب کے شہر گجرانوالہ اور 2 کا تعلق مردان سے ہے، جنھیں افغان انسانی اسمگلرز نے ‘اغواء’ کیا، ان پر بدترین تشدد کیا اور ان کی مشکلات کی ویڈیوز بنا کر ان کے اہلخانہ کو واٹس ایپ کے ذریعے بھیجیں۔ اغواء کاروں نے اشفاق کی رہائی کے لیے ان کے اہلخانہ سے 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ اشفاق نے بتایا، ‘میں استنبول میں 2013 سے غیر قانونی طور پر رہ رہا تھا، میں وہاں ایک مقامی ریسٹورنٹ میں کام کرتا تھا، جہاں میری ملاقات فضل امین سے ہوئی اور ہم اچھے دوست بن گئے کیونکہ وہ بھی پاکستان میں میرے ہی علاقے سے تعلق رکھتا تھا، ہمارا رابطہ ایک افغان شخص رحیم سے ہوا جو ہمارا اچھا دوست بن گیا، ہم نے 2 سال ایک ساتھ رہتے اور کام کرتے ہوئے گزارے لیکن ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وہ ایک درندہ ہے’۔

اشفاق کے مطابق انھیں اچھی طرح جاننے اور یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ ان کا تعلق مردان سے ہے، رحیم نے منصوبہ بنایا اور انھیں اغواء کر کے استنبول کے نواح میں واقع ایک گھر میں منتقل کر دیا، وہاں آکر انھیں معلوم ہوا کہ اس گھر میں مزید چار نوجوان عادل احمد، محمد ذیشان، عابد اور عثمان علی بھی موجود ہیں جو مقامی ایجنٹوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کے دوران رحیم اور اس کے گروہ کے چنگل میں پھنس گئے۔ اشفاق نے بتایا، ‘ہم وہاں 27 دن تک قید رہے، اِن دنوں میں ہمیں بری طرح مارا پیٹا گیا اور 5 دن تک بھوکا رکھا جاتا رہا، ہر چھٹے دن ہمیں پانی اور روٹی کا ایک ٹکڑا دیا جاتا، تشدد کے دوران وہ ہماری ویڈیوز بناتے اور انھیں تاوان کے لیے ہمارے اہلخانہ کو بھیجا جاتا، مجھے نہیں معلوم کہ کس طرح ایک ویڈیو لیک ہوئی اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہماری رہائی کا باعث بنی’۔

نوجوانوں کے اغواء کی خبریں سوشل میڈیا پر آنے کے بعد حکام نے ان کا نوٹس لیا، جس کے بعد دفتر خارجہ نے ترک حکام سے رابطہ کیا، جنھوں نے نوجوانوں کا سراغ لگایا، چھاپہ مارا اور 9 ملزمان کو گرفتار کیا۔ اشفاق اس حوالے سے یقین سے نہیں کہہ سکتے، تاہم انھوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ رحیم جیسے گینگ دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی عام ہیں جہاں یورپ میں رہائش کے خواہشمند پاکستانیوں کو زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ‘یہ گینگ جانتے ہیں کہ پاکستانی کسی بھی طرح یورپ جانا چاہتے ہیں اور چونکہ وہ غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہوتے ہیں، لہذا وہ مقامی حکام سے رابطہ بھی نہیں کر سکتے، یہی وجہ ہے کہ یہ گروہ پاکستانیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور اس طرح کی بلیک میلنگ کے ذریعے ان کے اہلخانہ سے رقم بٹورتے ہیں’۔

پاکستان میں بے روزگاری کا عفریت

پاکستان میں بھی دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح بے روزگاری بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہو کر ایک اچھے مستقبل کی امید اور آنکھوں میں بھرے سپنے لے کر نکلتے ہیں کہ اب ان کی منزل نزدیک ہے۔ ایک طالب علم اپنی زندگی کا چوتھا حصہ اور اپنا مال اس امید پر پڑھنے پر لگاتا ہے کہ وہ ایک دن اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے ایک باعزت روزگار حاصل کر سکے۔ شاید ان کو نہیں پتا کہ جلد ان کا سامنا بیروزگاری کی تلخ حقیقت سے ہونے والا ہے۔ ان کو نہیں پتا کہ ہر جگہ ان کی قابلیت اور امیدوں کو ٹھکرا دیا جائے گا، کبھی رشوت کے نام پر تو کبھی سفارش کے نام پر،ان کی محنت، قابلیت اور ڈگریوں کو نہیں دیکھا جائے گا، بہت سے نوجوان مایوس ہو کر خودکشی کر تے ہیں اور کچھ مجبور ہو کر پیسہ کمانے کے لیے مجرم بھی بن جاتے ہیں۔ جب ساری اسامیاں اور نوکریاں امرا اور سیاست دانوں کے لیے ہیں تو این ٹی ایس، اخباروں میں اشتہارات، نوکریوں کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویوز کا ڈھنڈورا کیوں پیٹا جاتا ہے۔

ایک غریب کی قابلیت کو اس لیے نظر انداز کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس سفارش اور نوٹوں کے بنڈل نہیں ہوتے۔ اگر ایک غریب کی قابلیت کو دیکھا جائے تو ان کی جیب گرم نہیں ہو گی۔ اب ڈگری کے ساتھ ساتھ ایک امیری اور سفارش کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرنا ہو گا۔ اس کے لیے بھی کوئی شعبہ بنا دیا جائے جہاں ایک غریب اور مظلوم نوجوان اپنی محنت اور قابلیت کا ایک اور امتحان دے کر یہ سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر لے۔ یا پھر ہر تعلیمی شعبے میں ایک پالیسی بنائی جائے کہ جس کے پاس مستقبل میں کوئی سفارش کرنے والا یا امیری کا سرٹیفکیٹ اور پیسے نہیں تو وہ اپلائی نہیں کر سکتا، کم از کم ایک نوجوان کی امیدیں اور خواہشات پامال تو نہیں ہوں گی، ان کے والدین کی قربانیاں کسی دفتر کے ڈسٹ بن میں تو نہیں پھینکی جائیں گی، ان کے دلوں میں امید کی کرن تو نہیں جاگے گی کہ کل ان کی قربانیوں کا ازالہ ان کی اولاد کے آنے والے روشن مستقبل سے ہو گا ، ان کو کیا پتا کہ ان کی امیدوں کے چراغ کو روشن ہونے سے پہلے ہی بجھا دیا جائے گا۔

رابی بدر بلوچ

پاکستان میں بے روزگاری کا عفریت

پسماندہ ملکوں میں بیروزگاری ایک خطرناک وائرس کی شکل میں موجود ہے، کالجوں، یونیورسٹیوں سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ڈگری ہولڈر نکلتے ہیں اور ڈگریاں ہاتھ میں تھامے اور ساتھ ہی ساتھ دل کو تھامے روزگار کی منڈی کا رخ کرتے ہیں، جہاں انھیں ہر جگہ ’’نو ویکنسی‘‘ کا جواب ملتا ہے۔ بے روزگاری سے تنگ آئے ہوئے نوجوان یا تو منشیات کی طرف چلے جاتے ہیں یا پھر جرائم کی دنیا کا رخ کرتے ہیں، ہماری سرکار بڑھتے ہوئے جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے طرح طرح کی فورسز تشکیل دیتی ہے، لیکن چونکہ سرمایہ دارانہ نظام میں نیچے سے اوپر تک کرپشن کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہوتا ہے، لہٰذا اینٹی کرپشن کے ادارے سب سے زیادہ کرپٹ بن جاتے ہیں، جرائم میں بے دھڑک اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ حال ہی میں امجد صابری قوال کا قتل اورچیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے صاحبزادے کے اغوا کے علاوہ مرحوم گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے اغوا سے پاکستان میں جرائم کے گراف کا اندازہ ہو سکتا ہے۔

مغربی ملکوں میں بے روزگاری کو روکنے کے لیے ایک منظم اور منصوبہ بند طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوانوں کے اعداد و شمار حاصل کیے جاتے ہیں اور ان اعداد و شمار کے مطابق ہر سال ویکنسیاں نکالی جاتی ہیں، یوں تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو جاب کے لیے جوتیاں نہیں چٹخانی پڑتی ہیں، بلکہ آسانی سے روزگار حاصل ہو جاتا ہے۔ چونکہ سرمایہ دارانہ نظام کا اونٹ بے نکیل ہو رہا ہے، اس لیے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن ان ملکوں میں بے روزگار نوجوانوں کو سماج دشمن راستوں پر جانے سے روکنے کے لیے بے روزگاری الاؤنس دیا جاتا ہے، اس لیے بے روزگار نوجوان بے راہ روی سے بچ جاتے ہیں۔

پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے اب 69 سال ہونے والے ہیں لیکن اس طویل عرصے کے دوران کسی حکومت نے بیروزگاری کو روکنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی نہ روزگار کی مارکیٹ میں اصلاحات کیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان برسوں سے روزگار کے لیے جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ یہ ضرور ہو رہا ہے کہ حکمران طبقات کی نااہل اولاد کو بڑی بڑی اور منافع بخش پوسٹوں پر لگا کر کرپشن کے راستے کھولے جا رہے ہیں اور قابل اور اہل تعلیم یافتہ نوجوان بیچلر اور ماسٹر کی ڈگریاں رکھنے والے چپراسی کی نوکریاں تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ جب کسی محکمے میں بھاری تعداد میں ویکنسیاں نکالی جاتی ہیں تو ان پر میرٹ کے حوالے سے تقرریاں نہیں کی جاتیں بلکہ اقتدار میں شامل جماعتوں کو کوٹہ دیا جاتا ہے اور اس کوٹے کا استعمال یوں ہوتا ہے کہ وزرائے کرام اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ویکنسیاں بھاری داموں پر بیچ کر کروڑوں روپے کما لیتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک مشہور وزیر پر تیرہ ہزار ملازمتیں بیچنے کی خبریں میڈیا کی زینت بنیں لیکن نتیجہ ٹائیں ٹائیں فش کے علاوہ کچھ نہ نکلا۔ سیکڑوں بے روزگاروں نے حکام اعلیٰ کے ایجنٹوں کو نوکری حاصل کرنے کے لیے لاکھوں روپوں کی رشوت دی لیکن انھیں نہ تو نوکری ملی نہ ان کی رقم واپس ملی۔

ایسے لوگ جن عذابوں سے گزر رہے ہیں اس کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔ جب نوکریاں بیچی جاتی ہیں تو اہل کے ساتھ نااہل لوگ بھی جاب حاصل کر لیتے ہیں، یوں سرکاری ملازمین کی کارکردگی کا کونڈہ ہو جاتا ہے۔ آج ہزاروں نہیں لاکھوں نوجوان بے روزگاری کے پنجوں میں جکڑے سسک رہے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں، کیونکہ حکومتوں کو اس اہم ترین مسئلے پر توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں اس کی ساری توجہ کرپشن کے الزامات کے دفاع پر لگی ہوئی ہے۔

ہمارے محترم وزیراعظم کا تعلق صنعتی شعبے سے ہے، اس حوالے سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک میں صنعتی ترقی کا جال بچھا دیا جاتا لیکن ہو یہ رہا ہے کہ ہزاروں کارخانے بند ہو رہے ہیں اور لاکھوں مزدور بے کار ہو رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ملک میں بجلی کا قحط ہے اور بجلی کے بغیر صنعتیں چل نہیں سکتیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت پر قابض حکمران بجلی کی کمی کو سابقہ حکمرانوں کی نااہلی قرار دیتے ہیں جب کہ حالیہ حکمران سابقہ حکمران رہے ہیں۔ 1988ء سے اب تک صرف دو جماعتیں برسر اقتدار رہی ہیں اور ایک دو نہیں تین تین بار حکومت میں رہی ہیں، اس حقیقت کے پیش نظر سابقہ حکومتوں پر نااہلی کا الزام لگانا مسخرہ پن ہی نہیں بلکہ بد دیانتی بھی ہے۔

ہمارے ملک میں ایلیٹ سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کے نام پر غریب عوام کی امداد پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جس کا کوئی مصرف نہیں۔ مثال کے طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر 80-70 ارب روپے سالانہ خرچ کیے جا رہے ہیں، اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں کو تین ماہ میں تین ساڑھے تین ہزار روپے بڑی بھاگ دوڑ کے بعد ملتے ہیں، یعنی مہینے میں ایک ہزار کے لگ بھگ امداد ملتی ہے جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہوتی ہے، ایک ایسا خاندان جو 6-5 افراد پر مشتمل ہو وہ مہینے میں ملنے والے ایک ہزار روپوں کا کیا کرے گا۔ اس قسم کے پروپیگنڈا ویلیو پروگرام کو ختم کر کے ان اربوں روپوں سے صنعتیں قائم کی جائیں، کاٹج انڈسٹری کو فروغ دیا جائے تو ضرورت مند لوگ محنت اور عزت کے ساتھ روٹی حاصل کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس قسم کی فلاحی اسکیموں میں 50 فیصد سے زیادہ رقم خردبرد کر لی جاتی ہے۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ حکمران اشرافیہ کو عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں، اس کی ساری دلچسپی ملک کے اندر اور بیرون ملک اربوں کھربوں کی جائیداد بنانے اور بینکوں میں سرمایہ جمع کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

ظہیر اختر بیدری

39 percent of Pakistanis live in poverty; Fata, Balochistan worst hit

Nearly 39 per cent of Pakistanis live in multidimensional poverty with the highest rates in the Federally Administered Tribal Areas (Fata) and Balochistan. Though the national poverty rates have dropped from 55 to 39pc since 2004. According to Pakistan’s first ever Multidim­ensional Poverty Index (MPI), launched on Monday, progress across different regions of the country is uneven. Poverty in urban areas is 9.3pc as compared to 54.6pc in rural areas. Disparities also exist across the provinces, it says. The report says that over two-thirds of people in Fata (73pc) and Balochistan (71pc) live in multidimensional poverty. Poverty in Khyber Pakhtunkhwa stands at 49pc, Gilgit-Baltistan and Sindh at 43pc, Punjab at 31pc and Azad Jammu and Kashmir at 25pc. At the district level, Larkana, Attock, Malakand, Toba Tek Singh and Hyderabad have made the most progress reducing absolute poverty headcount ratio by more than 32 percentage points. In relative terms, the best performers were the districts of Islamabad, Attock, Jehlum, Lahore, Karachi and Rawalpindi.

On the other hand, some districts have experienced an increase in poverty incidence. In absolute and relative terms, the districts of Umerkot, Harnai, Panjgur, Killa Abdullah and Kashmore have witnessed the highest increase in incidence of poverty. Deprivation in education contributes the largest share of 43pc to MPI followed by living standards which contributes nearly 32pc and health contributing 26pc. These findings further confirm that social indicators are very weak in Pakistan, even where economic indicators appear healthy.
The report found that the decrease in multidimensional poverty was slowest in Balochistan while it increased in several districts of Balochistan and Sindh during the past decade. The MPI uses a broader concept of poverty than income and wealth alone. It reflects the deprivations people experience with respect to health, education and standard of living, and is thus a more detailed way of understanding and alleviating poverty. Since its development by the OPHI and the UNDP in 2010, many countries, including Pakistan, have adopted this methodology as an official poverty estimate, complementing consumption or income-based poverty figures.
Speaking at the launch, Minister for Planning, Development and Reforms Professor Ahsan Iqbal said that the reduction of multidimensional poverty was one of the core objectives of Pakistan’s Vision 2025. He said that inclusive and balanced growth, which benefited everyone and especially the marginalised communities, was the government’s priority and an essential thing for promoting harmony in society. The MPI is a useful instrument budgeting, resource allocation and inclusion in policy making. Pakistan’s MPI establishes baseline not for only Vision 2025, but also for Pakistan’s progress towards achieving the Sustainable Development Goals, and complements the consumption-based poverty estimates recently released by the government.

The UNDP Country Director, Marc-Andre Franche said: “We consider this a highly innovative approach because of its multi-faceted nature and the availability of estimates at the sub-national level. Multidimensional poverty provides useful analysis and information for targeting poverty, and reducing regional inequalities. Many countries are using MPI to inform government priorities for planning and it is encouraging to see the government of Pakistan adopting the MPI to complement monetary poverty measure in Pakistan”. Director OPHI, Dr Sabina Alkire said: “Developed with input from all provinces, Pakistan’s MPI is very robust and we are pleased to work alongside the very strong academic and policy community in Pakistan. Pakistan’s leadership will be of interest to over 40 other countries in the Multidimensional Poverty Peer Network who are using multidimensional poverty measures in the Sustainable Development Goals,” she said.

AMIN AHMED
Published in Dawn, June 21st, 2016

ملک کی تقدیر بدلنے کا نُسخہ

ایک روز میں دفتر میں بیٹھا شیشے کے پار مرگلہ کی خوبصورت پہاڑیوں پر اترے ہوئے بادلوں کا دلفریب منظر دیکھ کر خوش ہورہا تھا مگر پھر یہ سوچ کر مضطرب ہوگیا کہ یہ قدرتی حسن اور نظارے ہم جیسے لوگوں کے لیے سکون آور ہیں جو معاشی مسائل سے آزاد ہیں جن پر خدا کا فضل و کرم ہے اور جو  کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کروڑوں گھرانوں کے لیے جہاں بسنے والے نوجوان بے روزگار ہیں، جہاں چولہا تب جلتا ہے جب گھرکا کوئی فرد مزدوری کے پیسوں سے سبزی اور گھی لے کر آتا ہے،جہاں صبح روٹی پکے تو شام کو کھانے کے لیے کچھ نہیں بچتا  جہاں غربت اور بے روزگاری نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں ،ان گھرانوں اور وہاں کے مکینوں کے لیے ایسے نظارے بے معنی ہیں۔  ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ روزگار، روزی اور روٹی ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ یورپی ممالک میں بھی بہت غربت تھی۔
بے روزگاری اِن کے لیے بھی بہت بڑا چیلنج تھا۔ انھوں نے اس پر کیسے قابو پایا،  انھوں نے اپنے شہریوں کو غربت کی دلدل سے کیسے باہر نکال لیا؟ میں انھی سوچوں میں گم تھا کہ ایک وزیٹنگ کارڈ موصول ہوا ، ملاقات کے لیے برٹش کونسل سے دو پڑھی لکھی شستہ اور خوش گفتار خواتین آئیں تھیں۔ پاکستان کے ھیومن ریسورس کو کارآمد بنانے پر ان کی گفتگو نے بہت متاثر کیا کہ اس میں عام این جی اوز والی لیپا پوتی اور ہوائی اصطلاحات نہیں بلکہ خلوص اور   کی مہک تھی۔
انھوں نے ملک سے محبّت کے جذبے سے سرشار ہوکر  کے ساتھ تعاون کا عندیہ دیا اور اٹھتے ہوئے برٹش کونسل کے زیرِ اہتمام برمنگھم میں   پر ہونے والی عا لمی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ میں نے کہا نیوٹیک کی طرف سے کسی سینئر افسر کو بھیج دیں گے اس پرکنٹری ڈائریکٹر مسز نشاط ریاض نے کہا  ’’صوبائی  کے سربراہ بھی جارہے ، باقی ملکوں سے بھی اداروں کے سربراہ آئیں گے اس لیے پاکستان کی نمایندگی کے لیے آپ کا شریک ہونا ضروری ہے۔
وہ ممالک جنہوں نے سکل ڈویلپمنٹ کے ذریعے غربت کے جن کو قابو کیا ہے اور اپنے ہیومن ریسورس کے ذریعے سماجی اور معاشی ترقی کے زینے طے کیے ہیں ان کے تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے ‘‘۔ میں نے حامی بھرلی ۔ سفری دستاویزات ان کے رفیق ِ کار علی نے مکمل کروا کے بروقت پہنچادیں۔
برمنگھم ائیرپورٹ پر اُترے تو ہڈیوں میں اترتی ہوئی یخ بستہ ہواؤں نے استقبال کیا۔ شاعرِ مشرق کے بقول زمستانی ہوا میںواقعی شمشیر کی تیزی تھی۔
 ہوٹل کی سادگی بھی ذرا حوصلہ شکن سی تھی مگر صبح کانفرنس شروع ہوئی تو سارے گِلے جاتے رہے۔ کانفرنس کے ہر مقرر (چاہے وہ خاتون تھی یا مرد) نے موضوع کے مختلف زاویوں پر بڑی خوبصورتی سے اظہارِ خیال کیا۔ دوپہر کے بعد شرکاء کو  مختلف گروپوں میں تقسیم کردیا گیا جہا ں مختلف ممالک کے تجربات سننے اور ان سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔
رات کو برمنگھم شہر کے ایک ٹیکنیکل ادارے (ڈَڈلے کالج) کی طرف سے عشائیے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جب اسٹیج سیکریٹری نے اعلان کیا کہ سب سے پہلے کالج کے پرنسپل مہمانوں کو خوش آمدیدکہیں گے توذھن میں اپنے ہاں کے ووکیشنل اداروں کا تصوّر تھا اس لیے خیال کیا کہ کسی گھِسے ہوئے پُرزے کی طرح کا بوڑھا انگریز ہوگا جو ٹیکنیکل سی باتیں کرکے بورکرے گا۔ مگر ایک انتہائی باوقار شخص نے مائیک پر آکر چند فقروں میں ہی تمام حاضرین کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
پرنسپل صاحب کی چند باتیں یاد رہ گئیں ’’یہاں نوجوان طلباء وطالبات کے کیرئیر ہی نہیں کردار بھی بنائے جاتے ہیں۔ ہم انھیں ہنر ہی نہیں زندگی کے اصول بھی سکھاتے ہیں ۔ مجھے اور میرے کولیگز کو فخر ہے کہ یہ ادارہ جہاں آپ بیٹھے ہوئے ہیں برطانیہ کی ترقّی میں بھرپور حصہ ڈال رہا ہے‘‘کھانے پر ان سے بات چیت ہوئی تو اِنکی باتوں پر یقین آگیا،مختلف زبانیں بولنے والے شرکاء اس پر متفق تھے کہ وہ جنھیں معمارِ قوم کہا جاتا ہے وہ اسی طرح کے استاد ہوتے ہیں۔ زیرِ تربیّت طباء وطالبات نے اپنے ہاتھوں سے تیار کی ہوئی ڈشیں مہمانوں کو بڑے سلیقے سے سرو کیں۔
دوسرے روز شرکاء کو مختلف گروپوں میں تقسیم کرکے مختلف انڈسٹریز کے دورے کرائے گئے۔ جہا ں فیکٹریوں میں زیرِ تربیّت اپرنٹسوں کو کام کرتے ہوئے دیکھا۔ اپرنٹس وہ زیرِ تربیّت ورکر ہوتا ہے جسے انڈسٹری کی طرف سے کچھ معاوضہ بھی دیا جاتا ہے اور تربیّت مکمل ہونے کے بعد اسے اسی انڈسٹری میں پوری تنخواہ کے ساتھ  کرلیا جاتا ہے۔
اس کے بعد ایک اور ووکیشنل کالج کا دورہ کرایا گیا۔کالج کے انفراسٹرکچر، وسعت اور  کے لحاظ سے ہماری کوئی یونیورسٹی بھی اس کا  مقابلہ نہیں کرتی ۔ ہم حکومت کو سفارشات بھیج رہے ہیں کہ ہر ڈویژن کی سطح پر ایک اعلیٰ پائے کا ٹیکنیکل ادارہ قائم کیا جائے جہاں عالمی معیار کی تربیّت فراہم ہوجہاںسے فارغ ہونے والوں کا روزگار سو فیصد یقینی ہوگا۔
تیسرے روز برمنگھم کے ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والے  کا دورہ کرایا گیا۔ یہ دورہ بلاشبہ سب سے زیادہ   اور  تھا۔ اس کے شرکاء کی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ ہوگی۔ نوجوان طلباء وطالبات کے ایک گروپ نے ہمارے گائیڈز کی ذمے داری سنبھال لی۔ گائیڈز ہمیں سیکڑوں کی تعداد میں بنے ہوئے مختلف ٹریڈز کے انکلیوز میں لے جاتے رہے، کہیں   ہورہے تھے کہیں طلباء وطالبات کی  کے 
بارے میں راہنمائی کی جارہی تھی۔
زیرِ تربیّت طلباء و طالبات کے علاوہ ان کے انسٹرکٹر، ان کے والدین اور صنعتکار  اور  بھی بہت بڑی تعداد میں ایک ہی جگہ جمع تھے اور مقابلوں کے دوران نوجوانوں کی صلاحیّت دیکھ کر انھیں اپنی انڈسٹری یا اپنے ادارے میں jobsکی پیشکش کررہے تھے۔ نیوٹیک بھی بہت جلد اس طرح کے مقابلے اور روزگار میلے منعقد کرانے جارہا ہے۔
پرائم منسٹر یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ  پروگرام کے تحت پچیّس ہزار خواتین و حضرات ملک کے ہر صوبے اور ہر علاقے میں مختلف ہنر سیکھ رہے ہیں، کراچی اور کوئٹہ کے مختلف اداروں میں زیرِ تربیّت نوجوانوں سے ملاقات ہوئی تو انھیں پرامید پایا۔ سلائی کڑھائی اور پکائی سیکھنے والی بچیوں سے ملا تو وہ لڑکوں سے زیادہ پر عزم تھیں اور بیوٹیشن کے کورس کرنے والی لڑکیوں کوتو سو فیصد یقین تھا کہ وہ اپنی گلی میں بھی اپنا پارلر بنا کر کام شروع کردیں گی تو بہت کامیاب ہوگا۔  کے ضمن میں اتنی ہیں کہ اِن پر کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔
دوسری جانب جس دوست یا واقف کار سے بات ہوئی اسے  کا متلاشی پایا، صنعتکار کہتے ہیں کہ کنسٹرکشن، مَیٹل اور سرامکس میں ہنر مند ورکر نہیں ملتے، کیٹرنگ کا کاروبار کرنے والے دوست کہتے ہیں تربیّت یافتہ نوجوانوں کو ڈھونڈ رہے ہیں ۔
ہر قسم کے ایکسپورٹرز کو پیکنگ کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی ٹرینڈ ورکر چاہتے ہیں گھر کی بجلی اور باتھ روم ٹھیک کرنے والے الیکٹریشن اور پلمبر کی ضرورت پڑجائے تو اَن ٹرینڈ اورڈنگ ٹپاؤ قسم کے ملتے ہیں جنکی کارکردگی انتہائی ناقص ہوتی ہے اور زراعت سے وابستہ پڑھے لکھے حضرات سمجھتے ہیں کہ فارم منیجر اگر تربیّت یافتہ ہوگا تو زراعت کی پیداوار کئی گنا بڑھ جائے گی اس کے علاوہ ٹنل فارمنگ، باغات کی دیکھ بھال ا ور سائینسی بنیادپر کھیتی باڑی اور لائیو اسٹاک کے لیے تربیّت یافتہ اسٹاف کی ضرورت ہے۔  سب کچھ ممکن ہے ہر چیز قابلِ عمل ہے۔
اس سے لاکھوں نوجوانوں کو ملک کے اند ر روزگار مل سکتا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں مڈل ایسٹ اور یورپ میں معقول نوکریاں حاصل کرسکتے ہیں ھُنر کے ثمر سے سب فیضیاب ہونگے گھروں میں خوشحالی آئیگی باہر سے آنے والی  میں کئی گنا  اضافہ ہوگا غربت کے اندھیرے چھٹ جائیں گے اور ملک ترقّی سے ہمکنار ہوگا۔ چنائی(بھارت) کے پروفیسرڈاکٹر ایس موہن نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ غربت کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے    ـ”ماسٹر کی” کا کردار ادا کرتی ہے ۔ ملائیشیا میں منسٹری آف ہائر ایجوکیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نعیم یعقوب کہتے ہیں کہ ٹیکنیکل ایند ووکیشنل ٹریننگ نے ملائیشیا سے غربت کے خاتمے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔
مگر ہمارے نوجوان فنّی تربیّت کی طرف کیوں راغب نہیں ہوتے اور والدین بیٹوں اور بیٹیوں کو ووکیشنل تعلیم کیطرف بھیجنے سے کیوں گریزاں ہیں؟ شاید اس لیے کہ یہاں کا تصوّر نہیں ہے ہنرمند کو وہ عزت نہیں ملتی جسکا وہ حقدار ہے۔ ہم حضورؐ کافرمان  ’الکاسب حبیب اﷲ‘  (ہاتھ سے کام کرنے والامحنت کش اﷲکا دوست ہے) پڑھ تو لیتے ہیں اسے حِرزِجاں نہیں بناتے ۔
نبی کریم ﷺ سے عقیدت اور محبّت کا دم تو بھرتے ہیں، پگڑی بھی باندھ لیتے ہیں داڑھی بھی رکھ لیتے ہیں مگر کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ سرکارِ دو عالم ہاتھوں سے  کرتے رہے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی ہاتھ سے کام کرنے کو توہین سمجھتے ہیں!!! اس کا علم ہوتے ہوئے بھی فنّی کام کو کمتر سمجھتے ہیں۔
ہمارے نوجوان  بی اے، ایم اے کی بے وقعت ڈگری حاصل کرنے کے لیے کئی سال ضایع کردیتے ہیں مگر تکنیکی ہنر کی تربیّت(جسکے نتیجے میں وہ روزانہ ہزاروں روپے کماسکتے ہیں)حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں۔  ہم غلط تصوّرات اور جاہلانہ  سے کب چھٹکارا حاصل کریں گے؟  نوجوانوں کو اس کی جانب راغب کرنے کے لیے والدین اور اساتذہ بھرپور کردار ادا کریں تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ  سیکٹر ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
ذوالفقار احمد چیمہ

ہاں ! بیروزگاری کاخاتمہ ہوسکتا ہے

بیروزگاری ہمارے ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ بیس کروڑ کی آبادی میں 65% نوجوان ہیں جن کی عمریں اٹھارہ سے پینتیس سال کے درمیان ہیں ۔ ان میں ذہانت ہے، قوّت ہے، صلاحیتیں ہیں مگروہ نوکری اور روزگارسے محروم ہیں، پبلک سیکٹر صرف چند ہزاراسامیاں تخلیق کرسکتا ہے ۔

ملکی معیشت اتنی توانا نہیں اور اس میں اتنی وسعت نہیں کہ کروڑوں بے روزگار نوجوانوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لے اور سب کو روزگار فراہم کر دے۔ بیروز گاری کے مسئلے پر کتنے ہی اجلاس اور سیمینار منعقد کر لیے جائیں اور کتنی ہی تقریریں کر لی جائیں کوئی دوسرا طریقہ نہیں ڈھونڈا جاسکتا ۔۔اس پر قابو پانے کا ایک ہی حل ہے۔
نوجوانوں کو فنّی تربیّت فراہم کرکے انھیں ہنر مند بنادیا جائے۔ ہنرمند کبھی بے روزگار نہیں رہ سکتا۔ یورپی ممالک نے برسوں پہلے یہ حل ڈھونڈ لیا تھا اس لیے وہ معاشی تر قّی کی دوڑ میں آگے نکل گئے۔ ہم نے اسے نظر انداز کیے رکھا اس لیے بہت پیچھے رہ گئے۔
کئی دھائیوں تک یہ اہم ترین شعبہ حکومتوں اور حکمرانوں کی نظروں سے اوجھل رہا اور غلط ترجیحات کے باعث ملک بیروزگاری اور غربت کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ 1997-98 میں پنجاب حکومت نے سب سے پہلے اس کا ادراک کیا اور ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی  کے نام سے ایک ادارے کا قیام عمل میں آیا۔
دیکھا دیکھی دوسرے صوبوں میں بھی اس جانب توجہ مبذول ہونا شروع ہوئی، پھر اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ فنّی تعلیم و تربیّت کے اہم ترین شعبے میں پالیسی سازی،  کے لیے مرکزی سطح پر ادارہ ہونا چاہیے لہذاء نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کا وجود عمل میں آیا ۔ کامران لاشاری ،امجد علی خان ( چیف سیکریٹری خیبر پختونخواہ ) ،سجاد سلیم ھوتیانہ (سابق چیف سیکریٹری سندھ ) اور کئی دیگر سول سرونٹس اس کے سربراہ رہے ہیں۔

اس سال پولیس سروس سے ریٹائرہوا تو پرائم منسٹر صاحب نے بلا کرکہا کہ ’’حکومت آپ کی صلاحیتّوں سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے ‘‘ اس ضمن میں ناچیز کو نیکٹا کی سربراہی سمیت مختلف عہدوں کی پیشکش ہوئی جو ناچیز نے قبول کرنے سے اس لیے معذرت کی کہ میں دیانتداری سے سمجھتا تھا کہ وہاں آزادی سے کوئی کردار ادا نہیں کر سکوں گا۔ نوکری کبھی بھی میرا مسئلہ نہیں رہی۔ مگر جب اس سال اگست کے آخر میں کہا گیا کہ ’’آپ نیوٹیک کی ذمے داری سنبھال لیں‘‘  تو میں نے دوستوں سے مشورے کے بعد حامی بھر لی کیونکہ اس میں نوجوانوں کو ہنرمند بناکر انھیں روزگار فراہم کرنے اور ملکی ترقّی میں حصہ ڈالنے کے مواقعے نظرآئے۔

ہمارے ہاں ہر سال لاکھوں نوجوان بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں لے کر مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے چکر کاٹنا اور اخباری اشتہارات چاٹنا  شروع کردیتے ہیں مگر ہر طرف سے انھیں مایوس کن جواب ملتا ہے کیونکہ کاغذ کی اس دستاویز کی نہ کوئی اہمیّت ہے اور نہ مانگ۔ اتنے بڑے  کو اگر ہم فراہم کرسکیں تو یہ ہمارے پاس سونے اور تیل سے کہیں بڑا سرمایہ ہے۔ اوراگرانھیں وہ ہنر فراہم نہ کرسکے جو انھیں روزگار کمانے کے قابل بنادے، تو بیکاری اور فرسٹریشن انھیںجرائم یا دہشت گردی کی طرف دھکیل دے گی۔
ہمارے ہا ں ٹیکنیکل اور ووکیشنل شعبے کی طرف بالکل توجہ نہیں رہی۔ پنجاب میں لاہور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی  ایک اچھا ادارہ ہے مگر یہ انجینئر تو پیدا کررہا ہے ٹیکنیشن نہیں بنارہا۔ ٹیکنالوجی کا شعبہ غیر فعال ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں منڈی بہاؤالدین کے رسول کالج اور سویڈش کالج گجرات کے بعد کوئی اعلیٰ پائے کا ادارہ قائم نہیں ہوسکا۔ سندھ اور کراچی میں بھی اچھے ادارے پرائیویٹ سیکٹر میںہی قائم ہوئے ہیں۔
اس کے برعکس ترقی کی دوڑمیں ایشیاء اور افریقہ سے آگے نکل جانے والے ملکوں نے کسی منصوبہ بندی کے بغیر اپنے نوجوانوں کو بی اے ایم اے کی طرف نہیںدھکیلا ۔ انھوں نے کی طرف فوکس کیا میٹرک میں اعلیٰ گریڈز لینے والے بچوں کو ہی یونیورسٹی تعلیم کی طرف جانے دیا جاتا ہے۔

دوسروں کو فنّی اور ووکیشنل تعلیم و تربیت کے اداروں میں بھیجاجاتا ہے، جہاں ان کا بیس فیصد وقت کلاس روم میں اور 80 فیصد فیکٹری میں عملی تربیت حاصل کرنے میں گزرتا ہے۔ یہ سب کچھ صنعتی شعبے کی موجودگی یا نگرانی میں ہوتا ہے اس لیے تربیّت مکمل کرنے والے نوجوان کا روزگار یا یقینی ہوتی ہے۔ چین نے اعلیٰ پائے کے ٹیکنیکل ادارے قائم کرلیے ہیں۔ کوریانے انجنیئرنگ یونیورسٹیا ں قائم کرنا بند کردی ہیں صرف ٹیکنیکل ٹریننگ کے ادارے قائم کیے جارہے ہیں۔
یورپ ہی نہیں ایشیا اور پیسیفک کے ممالک بھی ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل  ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ  کے شعبے میں بہت آگے نکل گئے ہیں اور ترقی یا فتہ ممالک کو چھورہے ہیں ۔ فلپائن نے میزبانی کے شعبے پر خاص  توجہ دیکر بڑی مہارت حاصل کی ہے یہی وجہ ہے کہ اب یورپ کے ریستورانوں میں بھی فرنٹ ڈیسک ، ریسپشن اور طعام گاہوں میں کھانا سرو کرنے والے زیادہ تر فلپینی نوجوان نظر آتے ہیں۔سری لنکا بھی اس میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
ناچیز نے میدان میں اتر کر دیکھا تو بہت کام رفو کا نکلا۔ عرب ممالک میں تعینات سفارتکاروں نے بتایا کہ کہ مڈل ایسٹ میں پاکستان کا محنتی اور جفا کش مزدور جتنی تنخوا ہ لیتا ہے فلپائن یا سری لنکا کے مزدورکا معاو ضہ اُس سے تین چار گنا زیادہ ہے کیونکہ پاکستانی مزدور بے ہنر  ہے اور فِلپینی یا سری لنکن ہنر سیکھ کرآ تا ہے۔
صنعت کا ہر سیکٹر غیر ہنرمند لیبر فورس کا رونا رو رہا ہے۔ پیداواری صلاحیّت بڑھانے کے لیے ہر فیلڈ میں ہنرمندی اور مہارت کی ضرورت ہے۔زراعت ،تعمیرات،سولر انرجی، صحت، آئی ٹی سے لے کر بیوٹیشن اور کُکنگ تک۔ مقابلے کے اس دور میں دنیا کا مقابلہ کرنا ہے توفنّی تربیّت کے بغیرممکن ہی نہیں۔ ٹیکنیکل اسکل یعنی ہنر ہی وہ کنجی  ہے جو کسی بھی فرد کے لیے امکانات کے لاتعداد دروازے کھول دیتی ہے۔
ہمارے ملک میں مشکلات اور چیلنجز کم نہیں ہیں۔  بہت سے علاقے پسماندہ ہیں جہاں تیکنیکی تربیّت کے مواقع ناپید ہیں۔ معیار اور موزونیت پر توجہ نہیں رہی، زیادہ تر اداروں میں جو تربیّت دی جاتی رہی ہے اس کی ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں طلب نہیں۔ تربیّتی اداروں اور آجر میں باہمی ربط کا فقدان ہے۔
تربیتّی ادارے اپنی سہولت اور وسائل کے مطابق تربیّت فراہم کرتے ہیں اس سلسلے میں انڈسٹریل سیکٹر کو اعتماد میں نہیں لیتے جب کہ یورپ،چین اور جاپان میں ہنرکے انتخاب سے لے کرسیلبس کی تیاری، عملی ٹریننگ اور  تک ہر مرحلے پر صنعتی شعبہ عملی طور پر حصے دار ہوتا ہے اسی لیے تربیّت مکمّل کرنے والوں کو متعلقہ صنعت فوراً اچک لیتی ہے اور بڑی خوشی سے اپنے ہاں روزگار فراہم کرتی ہے۔
پچھلے تین مہینوں میں انھی امور کی جانب توجہ دی گئی ہے، وزیرِ اعظم خود چاہتے ہیں کہ ہر سال ہزاروں نہیں لاکھوں نوجوانوں کو ٹریننگ فراہم کی جائے ۔ تربیّت کے لیے اب بہترین  اداروں کا انتخاب کیا جارہا ہے کس ہنر میں تربیّت دینی ہے اس کا فیصلہ ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ کی طلب کو پیشِ نظر رکھ کر کیا جارہا ہے یعنی کا آغاز کردیا گیا ہے۔
تربیّت کا معیار بلند کرنے اور اسے بین الاقوامی سطح تک لانے کے لیے عالمی  سطح کے سیلبس سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ تربیّت کے پرانے اور دقیانوسی طریقے سے ہٹ کر  متعارف کرائی جارہی ہے۔ سیکٹر میں عالمی سطح کے جانے اور پہچانے جانے والے سٹی اینڈ گلڈز جیسے اداروں کے ساتھ اشتراکِ عمل شروع کردیا گیا ہے۔ غیر ملکی ماہرین کی ٹیکنیکل سپورٹ کے ساتھ سسٹم میں اصلاحات لائی جارہی ہیں، تربیّت کو جانچنے اور نیوٹیک کے سرٹیفیکیٹ کا معیا ر اور اعتبار قائم کرنا ایک اہم ہدف ہے۔
اور نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے  قائم کیے جارہے ہیں۔ انڈسٹری کے ساتھ باہمی رابطہ استوار کرنے کے لیے مسلسل کوششیں ہورہی ہیں، اس سلسلے میں کراچی اور لاہور میں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے عنوان سے دو بڑے سیمینار منعقد ہوچکے ہیں جس میں انڈسٹری کے نمائیندوں نے بڑی تعداد میں اور بڑے جوش و خروش سے شرکت کی۔ سیکٹر سکل کونسلز قائم کی جارہی ہیں، اگلے ماہ منعقد کیے جائیں گے۔
فروری اور مارچ میں تمام صوبائی دارلحکومتوں اور صنعتی شہروں میں  کا انعقاد ہوگاجس میں نوجوانوں، تربیت فراہم کرنے والے اداروں، صنعتکاروں اور آجروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے گا، جہاں ہنر سیکھنے کے بارے میں نوجوانوں کی رہنمائی بھی کی جائے گی اور تربیّت یافتہ نوجوانوں کی اہلیّت اور صلاحیّت کو دیکھ کر صنعتکار انھیں وہیں بھی آفرکریں گے۔
ہنرمندی کا راستہ ہی خوشحالی کی منزل تک پہنچائے گا۔ اس منزل کے حصول کے لیے نیوٹیک خلوص اور لگن کے ساتھ ایک رہنما اور مددگار کا کردار ادا کرے گا۔
ذوالفقار احمد چیمہ

The world’s jobless

 RUSSIA, 5.4 percent in June 2015 Oksana Shirshova, unemployed, carries a shoulder yoke with two buckets hanging on it after drawing water from the Teryol river in Verkhnyaya Biryusa village, located in the Taiga area near the Russian Siberian city of Krasnoyarsk.
PAKISTAN, 6.0 percent in December 2014 A man whose family moved to Islamabad from Pakistan’s Khyber-Pakhtunkhwa province to look for work stands outside his house on the outskirts of Islamabad.

MAURITANIA, 10.1 percent in December 2012 A passenger on a SNIM train carrying iron ore and mine workers waits for transport after arriving in Nouadhibou, Mauritania. 
UNITED KINGDOM, 5.6 percent in May 2015 A window cleaner carries his ladders past a mural of the Beatles painted on the end of a row of terraced houses in Liverpool, northern England.

 VORY COAST, 15.7 percent in December 2008 Prospectors search for gold at a gold mine near the village of Gamina, in western Ivory Coast.

EAST TIMOR, 11.0 percent in December 2013 Workers sort coffee beans at the Timor Coffee Cooperative in Dili. 

PALESTINE, 25.6 percent in March 2015 Contracted members of Palestinian security forces loyal to Hamas rest during a protest demanding for permanent jobs, at the headquarters of the Palestinian parliament in Gaza City. 

CHINA, 4.04 percent in June 2015 Thousands of job seekers visit booths at a job fair in Chongqing municipality.

بے روزگاری کا کرب

اگر عوام کو درپیش مسائل کی درجہ بندی کی جائے تو بے روزگاری کا مسئلہ یقیناً پہلے درجے پر آتا ہے جس میں حکمران طبقات کی اپنی پالیسیوں کا عمل دخل ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف غربت کو بڑھا رہا ہے بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں اور ان کے سہانے مستقبل کے خواب دیکھنے والے ان کے والدین کو بھی عملاً ذہنی مریض بنا کر سماجی رہن سہن اور اقدار کو الٹاتے ہوئے پورے سماجی معاشرے کو جرائم کی آماجگاہ بنانے کے راستے نکال رہا ہے۔ 
پچھلے دنوں معروف کلینیکل سائیکاٹرسٹ صبا شبیر شیخ سے بات ہو رہی تھی تو میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ جن اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ ملازمت کے حصول کے معاملہ میں ناانصافی ہو رہی ہے اور میرٹ کے ڈھکوسلے کے تحت انہیں این ٹی ایس اور پبلک سروس کمشن کے تحت ملازمت کے ہر اشتہار میں چار سو سے سات سو روپے کی فیس کے ساتھ تحریری ٹیسٹ اور انٹرویو کے لئے نتھی کیا جا رہا ہے اور اس بار بار کی ایکسرسائز کے باوجود یہ نوجوان ملازمت کے حصول میں کامیاب نہیں ہو پاتے تو صرف وہی ذہنی دبائو کا شکار نہیں ہوتے بلکہ ان کے والدین بھی بار بار کی فیسیں ادا کرکے ذہنی تنائو میں مبتلا رہتے ہیں اور پھر مستقل ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔ صبا شبیر کے بقول ان کے پاس کونسلنگ کے لئے آنے والے نفسیاتی مریضوں میں بھی اکثریت انہی مضطرب طبقات کی ہے۔ 
میں خود بھی اسی ناطے سے پڑھی لکھی نوجوان نسل میں پائے جانے والے اضطراب کا مشاہدہ کر رہا ہوں۔ یہ نوجوان خواتین و حضرات اور ان کے والدین ایک ایسے کرب میں مبتلا نظر آتے ہیں جس کا ردعمل اتنا خوفناک ہو سکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے خونیں انقلاب کو آتا دیکھنے والے فیشنی بیانات کے عملی قالب میں ڈھلنے سے بھی شائد ہمارے معاشرے میں اتنی خوفناک صورتحال پیدا نہیں ہو گی۔
میں حیران ہوتا ہوں کہ موجودہ حکمران طبقات اپنے ہاتھوں سے انسانی معاشرتی ڈھانچے کی تباہی کا اہتمام کر رہے ہیں اور انہیں اس پر کسی قسم کی فکر بھی لاحق نہیں ہے۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اپنی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں بجٹ میں موجود اعداد و شمار کے نہ جانے کون سے ہیر پھیر سے نتیجہ اخذ کرکے قوم کو خوشخبری سنا رہے تھے کہ حکومتی اقدامات سے 25لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔ بھئی یہ روزگار زمین کے کس حصے پر اگے گا اور کس کے ہاتھ کیسے آئے گا۔ سالہا سال سے روزگار کی تلاش میں دھکے کھاتے، رسوا ہوتے، میرٹ کی دھجیاں بکھرتے اور دستیاب ملازمتوں کے دروازے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے اشرافیائوں کے پسندیدگان کے لئے کھلتے دیکھ کر مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے والے اس معاشرے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں اور ان کے مایوس والدین کو بھی اس سے آگاہ کر دیجئے۔ ورنہ ایک مایوسی جو ہے سو ہے اور وہ ساری انسانی معاشرتی اقدار کو کھا رہی ہے تو کیا اس معاشرے پر نازل ہونے والی وحشتوں کو ٹالا جا سکے گا؟
میرے پاس ایسے خطوط کے ڈھیر لگے پڑے ہیں جن میں میرٹ کے حکومتی ڈھکوسلوں کے نام پر ہونے والی بے انصافی پر آہ و بکا امڈی پڑی نظر آتی ہے۔ روزانہ ٹیلی فون پر بھی مایوس نوجوانوں کی ایسی آہ و بکا سننا پڑتی ہے اور چلتے پھرتے مشاہدے میں بھی آہ و بکا کے ایسے مناظر روح تک کو کرب میں ڈبو جاتے ہیں مگر حکمران طبقات کے کانوں پر جوں تک رینگتی نظر نہیں آتی۔ پچھلوں نے ’’پڑھا لکھا پنجاب‘‘ اپنا ماٹو بنایا۔ موجودگان دانش سکولوں اور پڑھو، بڑھو، مقدر سنوارو کے نعرے لگاتے اپنی سیاسی دکانداری سجاتے، چمکاتے نظر آ رہے ہیں جبکہ آگے بڑھنے کی تمنا میں پڑھے لکھے نوجوان طبقات اس جتن میں راندہ درگاہ بنتے جا رہے ہیں۔ مایوسی اوڑھے بیٹھے ہیں جنہیں اوورایج ہونے کا غم بھی کھائے جا رہا ہے۔ کیا کبھی جائزہ لیا حکمران طبقات نے معاشرے میں پھیلنے والی اس مایوسی کے ممکنہ مضر اثرات کا؟ اگر جائزہ لے لیں تو انہیں رات کو چین سے نیند بھی نہ آنے پائے۔
میرے پاس ڈھیر لگے مراسلات میں اسی کرب اور بے چینی کی جھلکیاں نظر آ رہی ہیں۔ پچھلے دنوں پنجاب پبلک سروس کمشن نے لیکچرار کی پندرہ سو کے قریب اسامیاں مشتہر کیں۔ کیا ہمارے وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کو اس کی رپورٹ ملی ہے کہ ان اسامیوں پر سروس کمشن کو دو لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں۔ یہ سارے درخواست گزار خواتین و حضرات علم و استعداد کے حوالے سے اپنے تئیں میرٹ پر پورا اترتے ہیں مگر ان میں سے 15سو نے تقرر پانا ہے اور دیگر ایک لاکھ 98ہزار پانچ خواتین و حضرات نے ملازمت کے حصول کے جتن میں جتے رہنا ہے۔ کیا ملازمت کا حصول ان سب کا حق نہیں اور جن کو جس طریقے سے ملازمت ملتی ہے اس کی سرعام چلتی پھیلتی داستانیں سن کر سر چکرانے لگتا ہے۔ آپ فیسیں بھرو، این ٹی ایس کے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرو مگر ارکان اسمبلی و سینٹ کی سفارشات پر لسٹیں پہلے سے تیار شدہ ہوتی ہیں جو مقتدر حلقے کی جس شخصیت کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں اس کا نام لئے 
بغیر بھی اس کالم میں گزارا چل جائے گا کہ ؎
’’ہے آپ اپنا تعارف، ہوا بہار کی‘‘
اور پھر ایسی لسٹوں میں نام شامل کرنے کے لئے بھائو تائو والی داستانیں زیادہ المناک ہیں۔ دروغ بر گردنِ راوی، میرے ایک دوست نے رازداری کے ساتھ مگر فخریہ انداز میں مجھے بتایا کہ این ٹی ایس کے ماتحت سول جج کے امتحان میں اپنے بیٹے کو امتیازی نمبروں کے ساتھ کامیاب کرانے کے لئے اس نے ایک کمیشن ایجنٹ کی خدمات حاصل کیں۔ اس کے ساتھ آٹھ لاکھ روپے میں معاملہ طے ہوا۔ اس نے سو میں سے 92نمبر دلوانے کا یقین دلایا اور اس کے دعوے کے عین مطابق اس کے بیٹے نے 92نمبر حاصل کر لئے ہیں۔
 یہ میں نے کوئی فرضی کہانی بیان نہیں کی،میرے دوست کے بقول سو فیصد حقیقت ہے۔ آپ تصور کیجئے کہ کسی پوسٹ کی دستیاب اسامیوں پر این ٹی ایس کے انٹری ٹیسٹ میں 90 فیصد تک نمبر لینے والے ہی تقرر کے مستحق ٹھہریں گے اور اتنے نمبر لینے کا نسخہ میدان عمل میں موجود کمیشن ایجنٹوں اور خود ساختہ تعلیمی اکیڈمیوں کے پاس موجود ہے جن کے متعلقہ ادارے میں کس کے ساتھ رابطے ہوتے ہیں، ایسی کسی اکیڈمی اور کمیشن ایجنٹ کو دھر کر اس سے اگلوا لیجئے۔ مگر کوئی یہ جستجو کیوں کرے گا کہ خود ہی تو ایسا کام کرایا جاتا ہے۔ اگر حکومت کی خصوصی مہربانی سے ایک ادارہ انٹری ٹیسٹ کی فیس کی مد میں اربوں روپے کما رہا ہے تو وہ کسی حکومتی شخصیت کی فراہم کردہ لسٹوں سے باہر بھلا کسی کو آنے دے گا۔
 اس لئے ادارے کی ویب سائٹ پر صرف کامیاب امیدواروں کے نام دئیے جاتے ہیں اور وہ بھی صرف متعلقہ امیدوار ہی دیکھ سکتا ہے ۔ جو ٹیسٹ میں ناکام ہوئے انہوں نے کتنے نمبر لئے مجال ہے اس کی بھنک بھی پڑنے دی جائے۔ مقصد صرف یہ ظاہر نہ ہونے دینا ہے کہ کامیاب ہونے والوں نے کیسے کامیابی حاصل کی۔ آخر یہ کس نے کھوج لگانا ہے کہ اب تک سرکاری محکموں میں مشتہر ہونے والی معدودے چند اسامیوں کے لئے ہر متعلقہ محکمہ کو کتنی درخواستیں موصول ہوئیں۔ یہ حساب لگانا یقیناً مشکل نہیں کہ سب درخواستیں این ٹی ایس کے ذریعہ وصول کی جاتی ہیں۔
 یقیناً ان کی تعداد لاکھوں میں ہے اور یہ مذاق نہیں، حقیقت ہے کہ نائب قاصد اور کانسٹیبل کی اسامیوں پر بھی پوسٹ گریجویٹ نوجوان درخواستیں دے رہے ہیں اور وہاں بھی ان کا کوئی چارہ نہیں بن رہا۔ پچھلے دنوں وفاقی اور صوبائی وزارت اطلاعات کے ماتحت پی ٹی وی، ریڈیو اور اس وزارت کے دوسرے محکموں میں کچھ اسامیاں مشتہر ہوئیں جو این ٹی ایس کے انٹری ٹیسٹ کے ساتھ مشروط تھیں۔ میری اطلاع کے مطابق اب تک ان اسامیوں پر تقرر بھی عمل میں آ چکا ہے مگر ٹیسٹ میں 70فیصد سے زائد نمبر حاصل کرکے پاس ہونے ولے امیدوار انٹرویو کی کال کے ہی منتظر بیٹھے ہیں۔اگر پہلے سے تیار شدہ لسٹوں پر ہی ملازمتیں دی جانی ہیں تو پھر این ٹی ایس اور سروس کمشن کے ذریعے میرٹ کے ڈھنڈورے پیٹنے کی کیا ضرورت ہے۔ صاف کہہ دیا جائے کہ ملازمتیں صرف ’’صاحب سلامت‘‘ کی نظر کرم سے ہی ملنی ہیں۔ کوئی میرٹ پر اس کی توقع نہ رکھے۔ اگر ان سارے معاملات کی حقائق پر مبنی داستانیں بیان کرنا شروع کر دی جائیں تو پھر ؎
’’ہم بولے گا تو بولو گے کہ بولتا ہے‘‘۔ بھئی اپنے معاملات درست کر لیجئے ورنہ اب اقتداری اشرافیائوںکی ناانصافی سے پیدا ہونے والا اضطراب طوفان اٹھانے کو تلا بیٹھا ہے۔ اس بے رحم طوفان سے کون بچ پائے گا؟ کچھ نہ پوچھئے صاحب! بس سوچئے اور تدبیر کیجئے۔
سعید آسی