Why do Arabs and Pakistanis love Erdogan so much?

President Erdoğan receives a warm welcome in Pakistan, as the capital city is decorated in honor of the Turkish leader’s visit.

 

 

 

 

 

 

 

 

Advertisements

بیت المقدس میں ترک سفارت خانہ

گزشتہ ہفتے ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں ’’مشرقی بیت المقدس‘‘ کو فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کی قراداد منظور کر لی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چھ دسمبر کے احمقانہ فیصلے جس میں ’’القدسٔ‘‘ کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا نے پورے عالمِ اسلام کو ہلا کر رکھ دیا اور صرف عالمِ اسلام ہی میں نہیں دنیا کے مختلف علاقوں میں صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف شدید ردِعمل سامنے آیا اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مظاہرے کئے گئے جو آج بھی جاری ہیں۔

صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے فوراً بعد ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے وقت ضائع کئے بغیر عالم اسلام کے رہنمائوں کو ٹیلی فون کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے اعلان کے چھ دنوں بعد ہی اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی اجلاس استنبول میں طلب کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس سربراہی اجلاس میں اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے زیادہ دلچسپی نہ لی لیکن دیگر اسلامی ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کرتے ہوئے ’’بیت المقدس‘‘ کے ساتھ اپنی یکجہتی اور محبت کا اظہار کیا۔ استنبول سربراہی اجلاس جس میں ’’مشرقی بیت المقدس‘‘ کو فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس قراداد کو اب اقوام متحدہ میں بھی پیش کر دیا گیا ہے اور اب اقوام متحدہ میں اسی ہفتے اس قرارداد پر غور کئے جانے کی توقع ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس قراداد کو منظور کروانا ممکن نہیں کیونکہ پانچ مستقل اراکین میں سے کسی ایک کے بھی ویٹو کرنے سے یہ قراداد ردی کی ٹوکری کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس قراداد کو جنرل اسمبلی میں پیش کرنے کیلئے سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک (پانچ مستقل اور دس عبوری) میں سے نو کی منظوری حاصل کرنے یا پھر اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے97 کی منظوری حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کے 56 رکن ممالک اقوام متحدہ کے بھی رکن ممالک ہیں اور اب صرف مزید 41 رکن ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور اس طرح جنرل اسمبلی میں اس قراداد پرغور کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت اقوام متحدہ میں پانچ مستقل رکن ممالک کے علاوہ دس عبوری رکن ممالک بولیویا، ایتھوپیا، اٹلی، جاپان، مصر، قازقستان، سینیگال، سویڈن، یوکرائین، اور یوراگوئے شامل ہیں۔ اس قرار داد کو جنرل اسمبلی سے منظور کرواتے ہوئے امریکہ کو دنیا میں تنہا کیا جا سکتا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اپیل کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور صدر ٹرمپ کے فیصلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس خلاف ورزی پر عمل درآمد کو رکوانے کی اپیل کی ہے۔ اسرائیل نے 1967 میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا اور 1980 میں اسے یک طرفہ طور پر اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کر دیا لیکن اسرائیل کے اس اعلان کے بعد کسی بھی ملک نے القدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم نہ کیا اور اقوام متحدہ نے بھی اسرائیل کے اس فیصلے کو ناقابل عمل قرار دے دیا۔

ترکی کی جانب سے اقوام متحدہ میں امریکہ کے صدر کے فیصلے کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد پر اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مستقل نمائندے نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے کیونکہ وہ امریکہ کے اس فیصلے کو دیگر ممالک سے بھی منوانا چاہتے ہیں لیکن جنرل اسمبلی میں اگر اسرائیل کے خلاف کوئی فیصلہ کیا گیا تو پھر اسرائیل کسی بھی صورت ’’بیت المقدس‘‘ کو اسرائیل کا دارالحکومت نہیں بنا سکے گا اور دنیا کا کوئی بھی ملک اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے ’’مشرقی بیت المقدس‘‘ منتقل نہیں کر سکے گا۔ اگرچہ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے ہیڈکوارٹر برسلز کا دورہ کرتے ہوئے امریکی فیصلے کی حمایت کرنے کی کوشش کی لیکن ان کو منہ کی کھانی پڑی اور کسی ایک یورپی ملک نے بھی امریکہ کے فیصلے کی حمایت نہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی فیصلہ کروانے پر زور دیا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے بعد ترکی کے مختلف مقامات پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ جلد ہی اپنے سفارت خانے کو بیت المقدس میں کھولنا چاہتے ہیں۔ وہ اس بات کا برملا کئی بار اظہار کر چکے ہیں کہ ’’اگر ہم کہتے ہیں کہ دنیا صرف پانچ ممالک ہی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑی جا سکتی تو یہ صرف ترکی کے لئے نہیں بلکہ ایسا ہم اقوام متحدہ کے پلیٹ فورم پر موجود 196 ممالک کی بہتری کے لئے کہہ رہے ہیں۔ ہماری یہ آواز وقت کے ساتھ ساتھ بلند ہوتی چلی جائے گی اور دنیا کے دیگر مظلوم ممالک بھی ہماری آواز کو اپنی آواز سمجھتے ہوئے ہمارا ساتھ دیں گے اور اقوام متحدہ کو ان پانچ ممالک کے نرغے سے آزاد کروا لیں گے۔ ‘‘ صدر ایردوان نے عالم اسلام کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ اگر القدس مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر مدینہ منورہ کا بھی تحفظ نہیں کیا جا سکتا۔ اب بیت المقدس کے ذریعے تمام تر مشرق وسطیٰ اور مسلم اُمہ کو ہدف بنانے والی ایک نئی چال چلی جا رہی ہے۔

اس معاملے میں ہم نے ابتدائی اقدامات اٹھائے تھے ان شاءاللہ ان کا دوام بھی آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ القدس کا مطلب استنبول، اسلام آباد، جکارتہ، مدینہ، قاہرہ، دمشق، بغداد ہے۔ القدس، مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ تمام تر مسلم اُمہ کی عزت و ناموس، وقا ر کا مسئلہ ہے۔ یہ ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ ہم ان میں سے کسی ایک سے بھی کنارہ کشی اختیار نہیں کر سکتے، اللہ تعالیٰ کے احکامات اور ہمارے آباؤاجداد کی امانت کا تحفظ کرنے کے لئے ہمیں جو کچھ بھی کرنا پڑے گا ضرور کریں گے۔ عالمی نظام میں مظلوم مسلمانوں کی کوئی دادرسی کی گنجائش نہیں ہے۔ عالمی برادری فلسطینیوں، کشمیریوں، قبرصی ترکوں، روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ ہمیں اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ترکی کی وزارتِ خارجہ کو اپنی ویب سائٹ پر ’’بیت المقدس‘‘ کو فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر پیش کئے جانے سے متعلق جو احکامات جاری کئے تھے ان پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا ہے اور اس وقت ترکی کی وزارتِ خارجہ ویب سائٹ دنیا کی پہلی ویب سائٹ ہے جس میں بیت المقدس فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ’’اس وقت بیت المقدس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے لیکن وہ وقت دور نہیں جب ہم بیت المقدس کو آزاد کر کے اپنا سفارت خانہ وہاں کھولیں گے۔‘‘ اس وقت ترکی عالمِ اسلام کا واحد ملک ہے جس نے اپنا قونصل خانہ ’’بیت القدس‘‘ میں کھول رکھا ہے اور صدر ایردوان نے کہا ہے وہ قونصل جنرل کو سفارت خانے کا روپ دینے کی تیاریوں کا آغاز کر چکے ہیں۔ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ بھی سفارتی تعلقات موجود ہیں اور اس کا سفارت خانہ دیگر ممالک کے سفارت خانوں کی طرح تل ابیب میں فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ صدر ایردوان نے ایک بار پھر امریکہ کے صدر ٹرمپ کو متنبہ کرتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لینے اور مزید کوئی اقدام اٹھانے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ اگر امریکہ نے اس سلسلے میں کوئی نیا قدم اٹھایا تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

ڈاکٹر فر قان حمید

وہ دن قریب ہیں جب بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہوگا، اردوگان

 ترک صدر ایردوآن نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ انقرہ حکومت جلد ہی فلسطینی ریاست کے لیے اپنا سفارت خانہ مشرقی یروشلم میں کھول پائے گی۔ انہوں نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کی مذمت بھی کی۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پر تنقید کرنے میں پیش پیش ہیں۔ امریکی اقدام کے ردِ عمل میں انہوں نے انقرہ میں اسلامی ممالک کی تنظیم کی ہنگامی کانفرنس بھی طلب کی تھی، جس میں انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ مشرقی یروشلم کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرے۔

ایردوآن نے ایک مرتبہ پھر صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ جلد ہی فلسطینی ریاست کے لیے ترک سفارت خانہ یروشلم میں کھول دیا جائے گا۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ صدر ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اپنی سیاسی جماعت کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا، ’’یروشلم (اسرائیلی) قبضے میں ہے اس لیے ہم وہاں جا کر اپنا سفارت خانہ نہیں کھول سکتے، لیکن انشااللہ وہ وقت دور نہیں اور ۔۔۔ ہم باقاعدہ طور پر اپنا سفارت خانہ وہاں کھولیں گے۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایردوآن نے انہیں ’صیہونی سوچ کا حامل‘ قرار دیا تھا۔ آج کی اپنی تقریر میں ایردوآن کا مزید کہنا تھا، ’’براہ مہربانی جہاں آپ ہیں، وہیں رک جائیں اور کوئی صیہونی آپریشن نہ شروع کریں۔ اگر ایسی کوئی کوشش کی گئی تو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘‘ ایردوآن نے اسلامی ممالک کی تنظیم کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کو کامیابی قرار دیا تھا۔ تاہم اس اجلاس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے امریکی اتحادی ممالک کے اعلیٰ رہنماؤں کی عدم شرکت نے اس تنظیم کی افادیت کے بارے میں ایک مرتبہ پھر سوالات کو جنم دیا تھا۔ ایردوآن نے اس اجلاس کے دوران مسلمانوں کو بھی خبردار کیا تھا کہ ’باہمی اختلافات‘ اور ’ایک دوسرے سے لڑائی‘ کا فائدہ ’صرف اسرائیل جیسی دہشت گرد ریاستوں کو ہو گا‘۔

بشکریہ DW اردو

اسلامی ممالک نے مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دے دیا

اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے دنیا کے دیگر ممالک پر بھی ایسا ہی کرنے کے لیے زور دیا ہے۔ اس تنظیم نے یروشلم کے حوالے سے امریکی فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترکی کے شہر استنبول میں منعقدہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے ایک غیر معمولی ہنگامی اجلاس کے اختتام پر ایک 23 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ ستاون مسلمان ممالک کی اس تنظیم کے اجلاس میں میزبان ترکی کے علاوہ پچاس ممالک کے مندوب شریک ہوئے۔ بائیس ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ مشترکہ اعلامیہ کی اکثر شقوں میں فلسطینیوں کی ہر فورم پر مکمل حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’’اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یروشلم کے معاملے کے حل کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا تو رکن ممالک اس معاملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لے کر جائیں گے‘‘۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اس اجلاس کے دوران میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔ اپنے خطاب میں صدر ایردوآن نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک ’دہشت گرد ریاست‘ ہے جو نہتے فلسطینیوں اور خصوصاﹰ بچوں پر ظلم کرتی ہے۔ ترک صدر نے نقشے کی مدد سے اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 1947ء سے قبل اسرائیل کا وجود مشرق وسطی کے نقشے پر ایک نقطے کی مانند تھا لیکن اب یہ بہت پھیل چکا ہے اور اسرائیلی قبضے کے سبب فلسطین اب نقشے پر ایک نقطے کی مانند رہ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا کہ یروشلم مسلمانوں کے لیے ایک ’’ریڈ لائن‘‘ یا سرخ لکیر ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسرائیل کی سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے آج تک کسی بھی قرار داد کو نہیں مانا۔ محمود عباس کا کہنا تھا کہ یروشلم فلسطین کا تھا، ہے اور رہے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا امن بات چیت میں کسی قسم کا کردار ادا کرنے کے لیے نا اہل ہو گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’’امن بات چیت میں اب امریکا کے مزید کسی کردار کو تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ اس نے اپنے تعصب کو ثابت کر دیا ہے۔‘‘ اجلا س کی خاص بات اس میں لاطینی امریکا کے ملک وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی شرکت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکی فیصلے کے خلا ف فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عام طور پر او آئی سی اسلامی دنیا کو پیش آنے والے مسا ئل پر زیادہ فعال نظر نہیں آتی تاہم اس مرتبہ کم از کم ایک اہم معاملے پر رکن ممالک میں سے اکثر نے کھل کر اظہار خیال اور اس مسئلے کے حل پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم یروشلم کے معاملے پر اس تنظیم کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ وہ یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اپنے فیصلے پر دنیا کے مزید کتنے ممالک کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ اسلامی دنیا کے اہم ترین ملک سعودی عرب اور فلسطین کے پڑوسی اسلامی ملک مصر کے سربراہان نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ ان کی عدم حاضری کے سبب اس تنظیم میں شامل ممالک کے آپس میں تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اجلا س میں شریک ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی مدد کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کیا جانا چاہیے۔

بشکریہ DW اردو

ترک صدر نے اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دے دیا

مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے خلاف ترکی میں اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے ہنگامی اجلاس کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔
استنبول میں او آئی سی اجلاس میں 57 اسلامی ممالک کے سربراہان اور ان کے نمائندے موجود ہیں جب کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کے دوران اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دیا ہے۔ ترک صدر نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور اخلاقیات کی اقدار کے منافی ہے جب کہ امریکی فیصلہ انتہا پسندوں کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے مز ید کہا کے فلسطین کے رقبے میں نمایاں کمی آرہی ہے، اسرائیل قابض اور دہشت گرد ریاست ہے جب کہ امریکی فیصلہ اسرائیل کے دہشت گردی اقدامات پر انہیں تحفہ دینے کے مترادف ہے۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ ہم آزاد فلسطینی ریاست کے مطالبے سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ ترک صدر کی اپیل پر بلائے جانے والے او آئی سی کے اجلاس میں فلسطینی صدر محمود عباسی، اردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم، پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سمیت 22 اسلامی ممالک کے سربراہان اور 25 ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شریک ہیں۔

بیت المقدس کے معاملے پر ٹرمپ سرخ لکیر عبور نہ کریں، طیب اردگان

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنائے جانے کی اطلاعات پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ اس معاملے پر سرخ لکیر عبور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ترک میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کے دوران صدر طیب اردگان نے امریکی صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کا اقدام مسلمانوں کے لیے سرخ لکیر کی مانند ہے ٹرمپ اس لائن کو عبور کرنے کی کوشش نہ کریں، یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانیت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہو گا، کیا امریکا نے تمام کام کر لیے ہیں جو اس کے کرنے کے لیے صرف یہی ایک کام رہ گیا ہے۔

رجب طیب اردگان نے اس حوالے سے او آئی سی کا اجلاس طلب کرنے پر زور دیا تاکہ اسرائیل کو اس معاملے میں مزید پیش رفت سے روکا جا سکے۔ دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے ٹرمپ کو فون کیا اور کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے یا نہ بنانے کا معاملہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کے ذریعے طے ہونا چاہیے۔ دریں اثنا فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ اگر امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تو ہم امریکا سے تعلقات منقطع کر دیں گے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل عالمی میڈیا کے توسط سے یہ خبر منظر عام پر آئی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور وہاں سفارت خانہ کھولنے پر غور شروع کر دیا ہے جس کا وہ جلد اعلان کریں گے تاہم آج اطلاعات آئی ہیں کہ انہوں نے سفارت خانہ کھولنے کا معاملہ موخر کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ منظر عام پر آتے ہی مسلم دنیا کے سربراہان نے اس کی مذمت کی اور کہا کہ اس سے خطے کی کشیدگی میں یک دم اضافہ ہو جائے گا، ساتھ ہی فلسطین کی حریت پسند تنظیموں نے اس ممکنہ فیصلے کے خلاف اتحاد قائم کرنے کا بھی عندیہ دے دیا ہے۔

امریکہ کی ترکی سے متعلق پالیسی

جدید جمہوریہ ترکی اپنے قیام سے لے کر آج تک امریکہ کے ایک قریبی اتحادی کا رول ادا کرتا چلا آیا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم سمجھے جاتے رہے ہیں۔ اگرچہ جدید جمہوریہ ترکی کے اتاترک کے دور ہی میں امریکہ سے قریبی تعلقات قائم ہو چکے تھے لیکن ان دونوں ممالک کے درمیان عملی اتحاد نیٹو اور سینٹو کی رکنیت حاصل کرنے کے موقع پر دیکھا گیا۔ سوویت یونین کی وسعت پسندانہ پالیسی کی وجہ سے ترکی کو اپنے دفاع کیلئے کسی سپر قوت کی حمایت اور پشت پناہی کی اشد ضرورت تھی کیونکہ سوویت یونین ترکی کی سرحدوں تک آن پہنچا تھا۔

اس صورتِ حال سے بچنے کیلئے ترکی نے امریکہ کا اتحادی بننے ہی میں عافیت محسوس کی، اس دور سے آج تک یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے اتحادی کے طور پر ایک دوسرے کا مکمل ساتھ دیتے چلے آئے ہیں البتہ قبرص کی جنگ کے موقع پر امریکہ کی طرف سے ترکی پر کچھ عرصے کیلئے فوجی امدا د بند کر کے پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں لیکن ان پابندیوں کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک ایک بار پھر شیر و شکر ہو گئے اور مختلف شعبوں میں پہلے سے بھی زیادہ ایک دوسرے سے تعاون کرتے رہے۔ یہ سلسلہ ترکی میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے برسر اقتدار رہنے کے دور میں بھی جاری رہا۔

ترکی کئی ایک یورپی ممالک کے مقابلے میں بھی امریکہ کیلئے زیادہ اہمیت کا حامل تھا اور امریکہ نے کئی ایک یورپی ممالک پر ترکی کو ترجیح دی۔ نیٹو اس بارے میں بہترین مثال کی حیثیت رکھتا ہے نیٹو میں ترکی کو کئی ایک یورپی ممالک پر ہمیشہ ہی برتری حاصل رہی ہے اس کی بلاشبہ ایک اہم وجہ ترکی کا کئی ایک یورپی ممالک کے مقابلے میں بہترین اور زیادہ تعداد میں فوج کا مالک ہونا ہے۔ امریکہ کے بعد نیٹو کو دوسری بڑی فوج کی حیثیت حاصل ہے۔ ترکی کے امریکہ کے صدر باراک اوباما کے دور تک بڑے قریبی تعلقات قائم رہے ہیں بلکہ سابق صدر اوباما نے اپنے پہلے دور میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے اسلامی ممالک میں ترکی کا دورہ کرتے ہوئے اسلامی ممالک کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ ترکی ان کیلئے بڑی اہمیت کا حامل ملک ہے.

صدر اوباما کے دور تک ترکی اور امریکہ کے تعلقات میں قربت کا یہ سلسلہ جاری رہا لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ترکی اور امریکہ کے تعلقات میں اونچ نیچ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ترکی نے شام سے متعلق امریکہ کی پالیسی کی کھل کر حمایت کی اور اس دوران ترکی نے روس کے جنگی طیارے کو گرا کر روس کیساتھ اپنے تعلقات کو بگاڑنے سے بھی گریز نہ کیا اور لگتا یہی تھا کہ ترکی امریکہ سے مل کر شام کے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے محروم کروانے میں کامیاب رہے گا لیکن علاقے میں براہ راست روس اور ایران کی مداخلت کی وجہ سے ترکی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور امریکہ نے بھی صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے میں کوئی دلچسپی نہ لی بلکہ اپنے اپنے اثرورسوخ میں اضافہ کیلئے علاقے میں موجود دہشت گردتنظیم ’’پی کے کے‘‘ کی شام میں موجود ایکسٹینشن ’’پی وائی ڈی‘‘ اور ’’وائی پی ڈی‘‘ کی پہلے بالواسطہ اور بعد میں براہ راست حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ فوجی امداد کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔

یہ صورتِ حال ترکی کیلئے لیے ناقابلِ قبول تھی، اس نے کئی بار انقرہ میں موجود امریکی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کرتے ہوئے احتجاجی مراسلہ دینے کے ساتھ اس کے باہمی سفارتی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہونے سے بھی آگاہ کیا لیکن امریکہ کی جانب سے ترکی کے ان احتجاجی مراسلوں کی ذرہ برابر پروا نہ کی گئی اور ان دہشت گرد تنظیموں کو اسلحہ فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران ترکی کی دہشت گرد تنظیم ’’فیتو‘‘ کی پشت پناہی کرنے اور ترکی میں 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت میں ملوث امریکی قونصل خانے میں ملازم دو ترک باشندوں سے پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیے جانے پر دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات پر کاری ضرب لگی اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے باشندوں کو ویزا فراہم کرنے کی سروس کو کچھ عرصے کیلئے معطل کر دیا تاہم اب سہولت کو بحال کر دیا گیا.

اس دوران ترکی کی جانب سے روس سے ایس 400 میزائلوں کی خریداری کے سودے سے ترکی اور روس ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں اور خاص طور پر 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت کے موقع پر صدر پیوٹن نے ترکی کے صدر ایردوان کو بر وقت اطلاع دے کر ترک صدر کے دل میں اپنے لیے جگہ بنا لی۔ گزشتہ ہفتے روس کے شہر سوچی میں شام کی صورتِ حال سے متعلق روس، ایران اور ترکی کے صدور کی ملاقات اور نئی حکمتِ عملی اپنائی جانے پر اتفاق سے امریکہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے صدر ایردوان کے واپس ترکی پہنچنے پر ٹیلی فون کرتے ہوئے فوری طور پر ترکی کی دہشت گرد تنظیم ’’ پی کے کے‘‘ کی شام میں موجود ایکسٹینشن ’’پی وائی ڈی‘‘ اور ’’وائی پی ڈی‘‘ کو ہر قسم کا اسلحہ فراہم کرنے سے باز آنے کی یقین دہانی کروائی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اس یقین دہانی پر عمل درآمد کرتا ہے یا نہیں۔ امریکہ کسی بھی صورت ترکی کو روس کی گود میں جانے نہیں دے گا کیونکہ اس سے قبل علاقے میں ایران کو روس کی مکمل اشیر باد حاصل ہے اور شام میں بھی روس اپنی پوزیشن بہت مضبوط کر چکا ہے اور اب وہ ترکی جیسے حلیف ملک کو کسی بھی صورت کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ ترکی کے امریکی اثر و رسوخ سے نکلنے کی صورت میں علاقے کی جیو پولیٹکل حیثیت تبدیل ہو کر رہ جائے گی اور ترکی جو کہ نیٹو میں امریکہ کے بعد سب سے زیادہ فوجی نفری رکھنے والے ملک ہے، کو شدید دھچکا لگے گا اور جس طرح سوویت یونین کے فوجی اتحاد کا شیرازہ بکھر چکا ہے اسی طرح نیٹو کا بھی شیرازہ بکھر سکتا ہے۔ اس صورتِ حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ترکی کے صدر ایردوان کو دہشت گرد تنظیموں کو ہر قسم کا اسلحہ فراہم نہ کرنے کی یقین دہانی کروا کے دراصل ترکی میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔

امریکہ ترکی کے روس کے قریب جانے سے بہت خائف ہے کیونکہ اس سے پورے خطے کی سیاسی صورتِ حال تبدیل ہو کر رہ جائے گی اور روس کو، جو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی گرفت کھو چکا تھا، ایک بار پھر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا موقع میسر آسکتا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان جو صورتِ حال کی نزاکت کو پوری طرح بھانپ چکے ہیں بہت پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔ اگرچہ ان کے ناقدین ان کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے چلے آئے ہیں لیکن اگر صدر ایردوان کی جانب سے اب تک اٹھائے جانے والے اقدامات کا بغور جائزہ لیا جائے تو وہ اس وقت تک اٹھائے جانے والے اقدامات میں کامیاب رہے ہیں اور اب امریکہ کو بھی ترکی سے متعلق اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے پرمجبور کر دیا ہے.

اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ ترکی سے متعلق نئی پالیسی پر کب عمل درآمد شروع کرتا ہے اور اس نے اب تک جو اسلحہ ترکی کی دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کی شام میں موجود ایکسٹینشن ’’پی وائی ڈی‘‘ اور ’’وائی پی ڈی‘‘ کوفراہم کیا ہے اس کو کس طرح واپس لیتا ہے۔ ان تنظیموں سے اسلحہ واپس حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن ان دہشت گرد تنظیموں کے پاس موجود یہ اسلحہ کسی وقت امریکہ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے اس لئے امریکی حکام اسلحہ و اپس لینے کیلئے اپنی نئی پالیسی مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔

ڈاکٹر فر قان حمید