رجب طیب اردوآن : خوابوں کا صورت گر

حال ہی میں ملک گیر ریفرنڈم کے ذریعے ترک قوم نے اپنے سیاسی نظام میں تبدیلی کا فیصلہ کیا، اب وہ پارلیمانی کے بجائے صدارتی نظام کے سائے تلے زندگی بسر کرے گی۔ اگرچہ مغربی حکمرانوں نے ترک قوم کو صدر رجب طیب اردوآن کی حمایت سے باز رکھنے کی ہزار ہا کوششیں کیں لیکن قوم اپنے رہنما کے ساتھ کھڑی ہے۔ آخر اس شخص میں کیا ہے جو قوم اس کی محبت میں مبتلا ہے، اُس نے کیسے دیوالیہ ہوجانے والے ترکی کو بلندوبالا مقام عطا کیا، اس کا جواب صدر اردوآن کے زیر نظر خاکہ سے بخوبی ملتا ہے، جو ممتاز صحافی اور مصنف محمد فاروق عادل کی زیرطبع کتاب’’ جو صورت نظرآئی‘‘ کا حصہ ہے۔ (ادارہ)

شام کے سائے ڈھلتے ڈھلتے سارا سامان فروخت ہوچکا تھا، میں نے حساب لگایا تو پتہ چلا کہ میری دن بھر کی آمدنی بھی ہمارے ایک دن کے اخراجات کے لیے ناکافی ہے، میں دکھی ہو گیا اور میں نے سوچا:

’’محنت کش کو اس کی محنت کا حق ملے گا کبھی ؟‘‘

میں نے یہ سوچا پھر میری آنکھیں بھر آئیں۔ میری آنکھوں کے سامنے پہلے میرے والد کی تصویر ابھری پھر کچھ دوسرے چہرے۔ میرے والد نے اپنی زندگی دفتر کو دے ڈالی تھی اور اب ان کے بال سفید اور جسم کمزور ہو چلا تھا لیکن ان کی زندگی بھر کی کمائی ہمارے لیے ناکافی تھی۔ پھر میری آنکھوں کے سامنے محمت کی شبیہ ابھری، قاسم پاشا کا نان بائی، زندہ دل اور یار باش لیکن رات کوگھر جانے سے پہلے اس کی ساری شوخی ہوا ہوجاتی کیوں کہ کام ختم کرنے کے بعد جب وہ غلے سے نکال کر لیرے گنتا تو سوچتا کہ اتنے تھوڑے پیسوں سے گھر کاخرچہ کیسے چلے گا؟

میری آنکھوں کے سامنے اس روز گلی صاف کرنے والے چپ چو (çöpçüبہ معنی خاکروب)، گاؤں میں غلہ اگانے والے چٹ چی (çiftçi بہ معنی کسان)، اسکول میں پڑھانے والے اورٹ من (ögretmen بہ معنی استاد) اور جانے کن کن لوگوں کی تصاویر ابھریں اور میں نے سوچا کہ ان لوگوں کی قسمت شاید کبھی نہ بدلے پھر ایک جذبہ میرے دل کے نہاں خانے سے ابھرا اور میں نے سوچا کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھٹکنا کیسا؟ یہ جھنڈا کیوں نہ میں خودہی اٹھا لوں۔ میں نے یہ سوچا اور میری تھکن دور ہو گئی۔ اس روز رات کا کھانا میں نے بے دھیانی سے کھایا کیوں کہ قسمت بدلنے کے کئی منصوبے میرے ذہن میں کلبلا رہے تھے۔ اس کیفیت کو آنے (anne یعنی ماں) نے میری لاپروائی جانا اور گوشمالی کی۔ کہا کہ یہ لڑکا جانے کن خیالوں میں کھویا رہتا ہے؟ کبھی سدھرے گا نہیں۔ میں خاموش رہا اور سوچا کہ جو بات میرے دل میں ہے، اسے میں زبان پہ کیسے لاؤں؟

لیکن بابا نے اس قضئے پر ہمیشہ کی طرح در گزر سے کام لیا اور میں نے سوچا کہ مردوں کو اسی طرح متحمل اور مستقل مزاج ہونا چاہئے پھر سوچا: ’’ جو عزم میں نے کیا ہے، مستقل مزاجی اس کے لیے ضروری ہوگی‘‘۔ میرے ذہن میں ایک اور خیال نے جگہ بنائی۔ اپنے معمول کی طرح میں اب بھی اوکل (Okul یعنی اسکول) جاتا اور ہر شام ساحل پر مزدوری بھی کرتا لیکن میرا ذہن ہمیشہ ایک ہی بات سوچتا کہ کب بدلے گی یہ دنیا؟‘‘۔ یہ طیب کی کہانی ہے جو استنبول کے غریب خاندان میں پیدا ہوا اور محنت مزدوری کے دوران اس نے ایک بڑا خواب دیکھا، آنے والے برسوں میں جس کی تعبیر اس نے اپنے ہاتھوں سے تراشنی تھی۔ لڑکپن میں معصوم خواب دیکھنے والے اس بچے کو میں نے لاہور میں اس زمانے میں دیکھا جب اپنے خوابوں کی بے رنگ تصویروں میں رنگ بھرنے کی طاقت وہ بڑی حد تک حاصل کر چکا تھا اور دنیا اسے استنبول کے مئیر رجب طیب ایردوآن کے نام سے جاننے لگی تھی۔ اْس روز وہ لاہور میں تھا اور پرشکوہ مینار پاکستان کے سائے میں اسے خطاب کرنا تھا، وہ نسبتاً سبک روی سے چلتا ہوا چبوترے پر پہنچا، آسمان کو چھوتے ہوئے مینار کی عظمت پر ایک نگاہ ڈالی اور مسکرایا:

’’خواب کیسے حقیقت بنتے ہیں اور کیسے ان کی عظمت کو جلا بخشنے کے لیے عمارتیں وجود میں آتی ہیں‘‘۔ مسکراہٹ نے اس کے دل کا حال بیان کر دیا۔ ممکن ہے، اس روز اس شخص نے سوچا ہو کہ اپنے وطن کی لولی لنگڑی معیشت کو توانا کرنے کے لیے مجھے بھی اسی عزم سے کام کرنا ہے جس عزم کی کہانی یہ عظیم الشان مینار بیان کرتا ہے۔ اس روز جب اس شخص نے زباں کھولی تو اس کا طرز بیاں اپنی شہرہ آفاق شعلہ بیانی سے کوسوں دور تھا، اس دن اس مقرر نے اپنے دل کا حال ایسے بیاں کیا جیسے کوئی کیفیت اس پہ طاری ہو، اس نے کہا:

’’ ہماری جو بھی کوشش ہو، عوام کی خاطر ہو، یہ کرلیا تو سمجھو وہ کر لیا جس کے لیے یہ امت صدیوں سے بھٹکتی پھر رہی ہے’’۔

مینار پاکستان کے سائے میں اس روز بہت تقریریں ہوئیں لیکن یہ تقریر لوگوں کے دلوں کو چھو گئی اسلام کے بارے میں مغرب کے تعصبات اور افغانستان کا جہاد اس زمانے کا محبوب موضوع تھا لیکن اس شخص نے زمانے کے چلن سے ہٹ کر ایک نیا خیال پیش کیا کہ طاقت محض بندوق اور اس کی گولی میں نہیں بلکہ قومی خزانے میں ہے جس کی مددسے لوگوں کی زندگی آسان بنائی جا سکے۔

رجب طیب ایردوان استنبول کے مئیر بنے تو یہ شہر ہمارے کراچی کی طرح بے یار و مدد گار اور اہل اقتدار کی عدم توجہی کا شاہکار تھا، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر پڑے رہتے جو آتے جاتوں کو منہ لپیٹ کر چلنے پر مجبور کرتے اور ان کے جسم و جاں کے لیے مسائل پیدا کرتے۔ مشہور تھا کہ سفید قمیص پہن کر شہر میں جاؤ تو اپنی ضمانت پر جاؤ۔ بیکریوں کے سامنے لوگوں کی قطاریں لگی رہتیں مگر وہ روٹی سے محروم رہتے اور بیمار دواخانوں پر ہجوم کیے رکھتے مگر صحت ان کی قسمت میں کم ہی ہوتی۔ کہیں جانے کے لیے لوگ وقت سے کہیں پہلے گھروں سے نکلتے مگر اکثر تاخیر سے بھی منزل پر پہنچ نہ پاتے۔ برس ہا برس سے استنبول کے ایسے ہی شب و روز تھے، شہر کے حکمراں بدلتے ضرور مگر شہر والوں کی قسمت کبھی نہ بدلتی۔ کچھ اس طرح کے حالات تھے جن میں رجب طیب ایردوآن مئیر منتخب ہوئے اور دہائیوں سے ناسور کی طرح بدبو دیتے ہوئے مسائل سے نمٹنے میں مصروف ہو گئے۔

مسائل پرانے بھی تھے اور پیچیدہ بھی مگر ان کے اندازِ کار سے پتہ چلا کہ بہت سوچ سمجھ کر انھوں نے یہ ذمہ داری قبول کی ہو گی اور اس کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے وہ پہلے سے ہی تیار تھے۔ یہ طرز عمل آگے چل کر ان کے بہت کام آیا۔ میئر بننے کے بعد وہ دفتر کے ہو کر ہی نہیں رہ گئے، ان کا بیشتر وقت دفتر سے باہر گزرتا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ وہ گھر سے نکل کر کسی ایسی جگہ جا پہنچتے جو کسی کے سان گمان میں بھی نہ ہوتی۔ اپنے اسی معمول کے تحت ایک روز وہ ایوپ سلطان ( حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مزار کا علاقہ) کی طرف جا نکلے جس کے قریب ہی ایک مقام پر گندگی کے بڑے بڑے ڈھیر پڑے رہتے تھے۔ میئر کو اس طرف جاتا دیکھ کر عملے کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، کسی نے کہا:

اے فندم! گٹ مک اچن یاشک تر(Efendim, oraya gitmek yasaktir

یعنی سر!اس طرف جانا مناسب نہیں)

’’اسی لیے تو میں وہاں جانا چاہتا ہوں‘‘

میئر نے بلا تامل جواب دیا۔

’’سر، گندگی اور بدبوکے سبب وہاں ذرا سی دیر رکنا بھی مشکل ہو گا‘‘

’’لیکن ہزاروں لوگ وہاں رہتے ہیں‘‘

مشورہ دینے والا لاجواب ہو گیا۔ اس روز شام سے پہلے پہلے یہ جگہ صاف ہو گئی اس کے بعد شہرکے بہت سے دوسرے علاقے بھی آئینے کی طرح چمکنے لگے۔ اپنی اس کامیابی پر وہ مسرور تھے اور شہر والے بھی:

’’بو ہا ریکا ‘‘(bu harika یعنی یہ تو کمال ہو گیا)۔

لوگ عام طور پر کہا کرتے لیکن انکے ذہن میں ابھی ایک منصوبہ اور بھی تھا۔ ایک روز büyüksehir belediyesi (یعنی میٹرو پولیٹن میونسپلٹی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بڑے دکھ کے ساتھ انھوں نے کہا: ’’لوگ ہماری تعریف کرتے ہیں کہ شہر صاف ہو گیا مگر خرابی کی ایک جڑ تو اب بھی موجود ہے‘‘۔

یہ ایک نئی مہم کی ابتدا تھی جس کا مقصد شہر کو آلودگی سے پاک کرنا تھا۔ انھوں نے کہا: ’’ میں چاہتا ہوں، دنیا کے جدید شہروں کی طرح میرا شہر بھی پھول پودوں کی خوشبو سے مہکنے لگے‘‘۔

استنبول میں صدیوں پرانے بڑے خوب صورت درخت پائے جاتے ہیں لیکن آلودگی کے سبب ان درختوں کا حسن ماند پڑ چکا تھا اور دن پر دن وہ کمزور ہوئے جاتے تھے لہٰذا ایک جامع منصوبے کے تحت پرانے درختوں کو تحفظ دیا گیا اور ایک خیال (Theme) کے تحت نئے درخت لگائے گئے۔ اگلے چند ہی برسوں میں شہر کا حلیہ بدل گیا، فٹ پاتھ پرچلنے والے لوگوں کو سایہ بھی میسر آ گیا اورصاف ستھرا ماحول بھی لیکن مئیر صاحب شاید اب بھی مطمئن نہ تھے۔ ایک روز ائیر پورٹ کے راستے میں ایک ایسے موڑ پر انھوں نے گاڑی رکوا دی جہاں سامنے سے ڈھلوان کی طرح اترتی ہوئی ایک پہاڑی پراگا ہوا گھاس پھوس راہ چلتوں کو متوجہ کرتا تھا۔ مئیر صاحب کچھ دیر وہاں کھڑے یہ منظر دیکھتے اور کچھ سوچتے رہے پھر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔

یہ ایک نئی مہم کی ابتدا تھی جس کے نتیجے میں یہ جگہ ایک نیا اور دل خوش کن منظر پیش کرنے لگی۔ مٹی اور پتھرکی اس دیو ہیکل چٹان پر اس ترتیب سے پھول پودے لگائے گئے کہ لوگوں کو دور ہی سے مولانا روم کا درویش محو رقص نظر آتا۔ دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں ثقافتی مظاہر کی نمائش کے لیے ہورڈنگ اور بل بورڈ لگائے جاتے ہیں مگر یہاں یہ کام پھول بوٹوں سے لیا گیا جس سے شہر والوں کی خوش ذوقی کا اظہار ہوا، ترک شناخت نمایاں ہوئی اور ماحول دوستی کا حق بھی ادا ہو گیا۔ آئندہ چند برسوں کے دوران یہ شہر جس میں کبھی خاک اڑا کرتی تھی، اس طرح کے دل کو موہ لینے والے مناظر سے بھر گیا۔ یہ مرحلہ طے ہوا تو ایک روز مئیر نے کہا:

’’یہ جوشہر کی سڑکوں اور ان کے بیچ خالی قطعوں (Dividers) میں خاک اڑتی نظر آتی ہے،مجھے پسند نہیں‘‘

’’پھر؟‘‘

کئی سوالیہ آوازیں ایک ساتھ ابھریں تو مئیر نے کہا:

’’انھیں پھولوں سے بھر دیا جائے‘‘۔

’’مگر کس پھول سے؟‘‘

یہ سوال اٹھا تو بحث کا دروازہ کھل گیا لیکن ایردوآن نے چند لفظوں میں موضوع سمیٹ دیا، انھوں نے کہا:

’’تمھارا خیال لالے(lale یعنی ٹیولپ کے پھول) کی طرف کیوں نہیں جاتا؟‘‘

’’لالے؟‘‘

کسی نے حیرت سے کہا تو انھوں نے کہا کہ ہاں لالے جو ہماری تہذیب کا نمائندہ، آبا واجداد کی نشانی اور مشرق اور مغرب کے درمیان ثقافت کا سفیر ہے۔ ایردوآن کے فیصلوں میں تاریخ، ثقافت اور تہذیبی شعور کی جھلکیاں ہمیشہ ایسے نظر آتیں جیسے انگشتری میں نگینہ۔ آج جب کوئی اجنبی استنبول میں داخل ہوتا ہے تو لالے یعنی ٹیولپ کے رنگا رنگ حسن میں ڈوب ڈوب جاتا ہے۔ پروفیسر نجم الدین اربکان کی حکومت کے خاتمے کے بعد رفاہ پارٹی سخت آزمائش میں تھی، کارکن پریشان تھے اور کسی قدر بے حوصلہ، اس موقع پر طیب ایردوآن نتائج کی پروا نہ کرتے ہوئے میدان عمل میں کودے۔ یہ بالکل اسی زمانے کی بات ہے جب انھوں نے اپنی تقریر میں ایک نظم پڑھی جس میں انھوں نے مساجد کو چھاونی، گنبدوں کو خود (Helmet) اور میناروں کو اسلحہ قرار دیا تھا۔ اس نظم نے گویا بھس کو چنگاری دکھا دی اور ان کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کر کے عمر بھر کے لیے انھیں کسی سرکاری منصب کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ ’’اب یہ شخص کبھی کسی قصبے کا مئیر بھی بن سکے تو جانیں!‘‘

طیب ایردوآن کے مستقبل کے بارے میں یہ بات زبان زدعام تھی لیکن اس شخص کے ذہن میں تو ایک اور ہی منصوبہ تھا۔ انھوں نے اپنی متنازع تقریر میں مسجدوں اور میناروں کی بات کر کے صرف سلطنت عثمانیہ کی یاد تازہ نہ کی تھی بلکہ نظریاتی طور پر اپنے ہم خیال لوگوں کے سامنے ایک نیا نظریہ بھی پیش کیا تھا تا کہ مذہب اورسیکیولرزم کی بحث سے آگے بڑھ کر ملک کو ترقی کی منزل کی جانب گامزن کیا جاسکے مگر یہ بات ایسی ہے جسے ان کے ناقدوں نے نظر انداز کر دیا۔ طیب ایردوآن کا یہ نظریہ ترکی کے مخصوص سیاسی پس منظر سے ہی مختلف نہ تھا بلکہ یہ زاویہ نگاہ ان کے اپنے قائد اور استاد پروفیسر نجم الدین اربکان کی سیاسی حکمت عملی سے بھی ایک جرات مندانہ اختلاف تھا۔اس نئے سیاسی تصور کوسمجھنے کے لیے اسلامی تحریکوں کے ذہن کو سمجھنا ضروری ہے ۔

جس کے تحت مغرب کو مسائل کی جڑ قرار دے کر اس کے خلاف توپوں کے دہانے کھول دیے جاتے ہیں جس کے سبب اسلام اور مغرب کے درمیان کشیدگی کا ایسا شور اٹھ جاتا ہے جس میں اعتدال کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔ ایردوآن نے فرد کے لیے عقیدے،عبادت اور رسم و رواج (ترکی کے پس منظر میں حجاب یعنی اسکارف پابندی) کی آزادی کے مغربی تصورات کی تحسین کی اور کہا کہ اپنی قومی ترقی کے لیے کیوں نہ ہم بھی یہی حکمت عملی اختیار کریں۔ ترکی کے دائیں بازو یا یوں کہیے کہ خود ان کی اپنی جماعت (رفاہ پارٹی) نے اس تصور کو مسترد کر دیا لیکن ان کا ساتھ دینے والے بھی کم نہ تھے جن میں سابق صدر عبداللہ گل اور سابق وزیر اعظم احمت داؤد اولو موجودہ رکن پارلیمنٹ برہان کیاترک سمیت کئی اہم قائدین شامل تھے۔

اسلام اور سیکیولرزم کے حوالے سے ترکی کے مخصوص ماحول میں یہ اعتدال کی راہ تھی جسے بھرپور پزیرائی ملی کیوں کہ ماضی میں مغربی سیکیولرزم کو مثالی قراردینے کے باوجود فرد کی رائے اور خواہش کو نظر انداز کردیا جاتا تھا لیکن ایردوآن نے اسی مغربی تصور کو کامیابی کے ساتھ عام آدمی کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا دیا۔ گویا طیب ایردوآن ایک کامیاب سیاست دان ہی نہیں ذہین نظریہ ساز بھی ہیں جس کے سبب ان کی نوزائدہ جماعت اقتدار کے ایوانوں میں ہی نہیں جا پہنچی بلکہ عوامی حمایت کے زور پر ان کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں بھی دم توڑ گئیں اور عوام نے ہر بار پہلے سے زیادہ ووٹ دے کر انھیں منتخب کیا۔ یہاں تک کہ ریفرنڈم میں ان کی حمایت کر کے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بھی بدل دیا۔

نظریاتی سیاست میں اکثر ہوتا ہے کہ کسی سیاست داں نے کوئی نیا تصور پیش کیا اور اقتدار کے دروازے اس پر کھل گئے لیکن اس مقبولیت کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا، طیب ایردوآن نے یہ مشکل کام بھی آسانی کے ساتھ کر دکھایا۔ اقتدار میں آنے کے بعد طیب ایردوآن نے نہایت منظم طریقے سے کام کا آغاز کیا۔ اپنی پرانی عادت کے مطابق ایک روز وہ دفتر جانے کی بہ جائے شہر کے مضافات میں جا نکلے اور ایک نشیبی علاقے کی پسماندہ بستی میں پہنچ کر لوگوں سے پوچھا:

’’بو یور دستنی اولان؟‘‘(Bu yor distiny olan یعنی کیا یہی تمھاری قسمت ہے؟)

پھر کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ غریب آبادیوں کے حالات بدلیں اور ایسے علاقوں کے لوگ بھی پرآسائش زندگی بسر کریں۔ ان کے ذہن میں مضافات میں عظیم الشان رہائشی عمارتوں کا ایک منصوبہ جنم لے چکا تھا۔ تیسری دنیا کے ملکوں میں قبضہ مافیا اسی طرح غریب آبادیوں پر قبضہ کرکے انھیں بے دخل کیا کرتی ہے، اس منصوبے پر بھی شک و شبہے کا اظہار کیا گیا لیکن ایردوآن کی ساکھ یہاں بھی کام آئی ہے۔ پہلے ایک رہائشی منصوبہ پروان چڑھا پھر دوسرا، اس کے بعد ایسے کامیاب منصوبوں کی قطار لگ گئی،غریب ترکوں کو اعلیٰ معیار کی رہائش ہی میسر نہیں آئی بلکہ ایسے علاقوں کے باسیوں کو روزگار کے بہتر مواقع بھی میسر آگئے۔

اسی طرح ایک جامع حکمت عملی کے تحت انھوں نے ملک کے دور دراز علاقوں میں تعلیم، صحت اور روز گار کی فراہمی کے منصوبوں کا جال بچھا دیا۔ قومی سیاست میں یہ ایک انقلابی تبدیلی تھی جس کے نتیجے میں ملک کی معیشت نے بھی تیزی سے ترقی کی۔ اس سے قبل قومی وسائل سے بڑے بڑے شہروں اور ان میں بھی مراعات یافتہ طبقہ ہی مستفید ہوا کرتا تھا۔ ایردوآن کی پالیسی نے قومی سیاست کارخ ہی بدل دیا،یوں ان کی مقبولیت میں اضافے کی ایسی تاریخ رقم ہوئی جس کی مثال نہیں ملتی۔

جولائی 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کے پس منظر میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ طیب ایردوآن اور فوج ایک دوسرے کے مدمقابل آکھڑے ہوئے تھے لیکن ایک متوازی خیال یہ بھی ہے کہ فوج اور طیب ایردوآن تو شانہ بہ شانہ کھڑے تھے، اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا وہ جیل میں نہ ہوتے؟ جدید ترکی میں پہلی بار یہ دیکھنے میں آیا کہ عوام، حکومت اور فوج کے مفادات میں یکسانیت پیدا ہوئی جس کے سبب فوج نے بھی باغیوں کو مسترد کیا اور عوام نے بھی۔ اس کارنامے کا کریڈٹ اسی شخص کو جاتا ہے جس نے ایک شام آبنائے باسفورس سے لوٹتے ہوئے ملک کی قسمت بدلنے کا خواب دیکھا تھا۔

Advertisements

ترکی عالم اسلام کا درخشندہ ستارہ — حافظ محمد ادریس

ترکی مسلم دنیا کا وہ ملک ہے، جس کی حدود بیک وقت یورپ اور ایشیا دونوں
براعظموں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ترکی کی آبادی تقریباً ساڑھے سات کروڑ ہے۔ ترکی میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ۲۰۰۲ء سے اب تک برسرِ اقتدار ہے۔ طیب اردوگان پہلے وزیراعظم تھے، اب صدر ہیں۔ اس وقت احمد داؤد اوغلو ملک کے وزیراعظم ہیں۔ اس پارٹی کو مغربی قوتوں اور ان کے ہم نوا عناصر کی طرف سے ’اسلامسٹ‘ (اسلام پسند) کہا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک ترکی میں ’اسلامسٹ‘ پارٹی کا برسرِ اقتدار آنا خطرناک ہے۔ اسی وجہ سے امریکا اور مغربی و سیکولر قوتیں اس حکومت سے ناخوش ہیں۔ جسٹس پارٹی کا اعلان ہے کہ وہ ترکی کے سیکولر دستور کو جمہوری طریقے سے تبدیل کرے گی۔ اس کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی قیادت پُرامید ہے کہ وہ اس منزل کو سر کر لے گی۔ اس وقت پارلیمان میں ان کے ۳۱۷؍ارکان ہیں، جب کہ دستور میں ترمیم کے لیے ۳۷۶؍ ارکان کی ضرورت ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ترکی میں سیکولر عناصر ہوں یا نام نہاد مذہبی طبقہ، دونوں جسٹس پارٹی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔ جب جون۲۰۱۵ء کے انتخابات میں جسٹس پارٹی اکثریت حاصل نہ کرسکی تو انگریزی روزنامہ زمان اور حریت جو دونوں فتح اللہ گولن کی تنظیم کے تحت نکلتے ہیں، خوب پروپیگنڈا کرنے لگے۔ ایک نعرہ انھوں نے متعارف کروایا ’’۵۲فی صد ووٹ حاصل کرنے والے صدر کو سزاے موت‘‘۔ یہ نعرہ صدر محمدمرسی کی سزاے موت کے تناظر میں گھڑا گیا۔ واضح رہے کہ طیب اردوگان نے بھی پارلیمانی انتخابات سے قبل صدارتی انتخابات میں ۵۲ فی صد ووٹ حاصل کرکے الیکشن جیتا تھا۔ اسی طرح نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے بھی اردوگان کے خلاف کافی زہر اُگلا۔ نیویارک ٹائمز نے ۲۲مئی ۲۰۱۵ء کو اداریے کا عنوان رکھا: “Dark Clouds Over Turkey”(ترکی سیاہ بادلوں کی زد میں) جب کہ واشنگٹن پوسٹ نے ایک اداریے کا عنوان دیا “The Sultan Emperor Erdogan Rule” (اردوگان کا دورِ حکومت، سلطانی شہنشاہیت )۔

جون۲۰۱۵ء میں انتخابات ہوئے تو حکمران جسٹس پارٹی کو ۴۰ فی صد اور ۵۵۰ کے ایوان میں صرف۲۵۸ نشستیں ملیں۔ دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت سازی کی کاوشیں ہوئیں مگر بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ آخرکار دستوری تقاضے کے تحت صدرِ مملکت نے نئے انتخابات کا اعلان کردیا۔ لہٰذا نومبر۲۰۱۵ء کے انتخابات میں جسٹس پارٹی نے ۳۱۷ نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے واضح اکثریت ثابت کر دی۔ ووٹوں کا تناسب ۵ء۴۹فی صد ہوگیا۔ صدرِ مملکت کے اس فیصلے پر بہت تنقید کی گئی اور ان پر آمریت اور بادشاہت کی پھبتیاں بھی کسی گئیں۔ ترک دستور کے مطابق یہ کوئی انہونی بات نہیں تھی۔ صدر کے اختیارات میں شامل ہے کہ ایسے تعطل کی صورت میں، جب کہ بڑی پارٹی دوسری پارٹیوں کے اشتراک سے اکثریت حاصل نہ کر پائے تو وہ نئے انتخابات کا اعلان کرسکتے ہیں یا دوسرے نمبر پر آنے والی پارٹی کو حکومت سازی کا موقع دے سکتے ہیں۔ اس سے قبل بھی یہ روایت ترکی میں موجود رہی ہے۔ چنانچہ ایسے چھے مواقع (۱۹۵۷ء، ۱۹۸۷ء، ۱۹۹۱ء، ۱۹۹۵ء، ۱۹۹۹ء اور ۲۰۰۲ء ) ہیں جب صدر نے یہ حق استعمال کیا اور انتخاب قبل از وقت کروائے گئے۔

ماضی میں ترک فوج نے بار بار بغاوت کرکے منتخب حکومتوں کو برطرف کیا اور پاکستان کی طرح ملک میں مارشل لا لگا دیا۔ سیاسی قیادت کو بغیر کسی جرم کے پھانسی بھی لگایا گیا۔ ۱۹۶۱ء میں وزیراعظم عدنان مندریس کو شقی القلب جنرل گُرسل نے تختۂ دار پر لٹکا دیا ۔ طیب اردوگان نے برسرِاقتدار آکر بڑی حکمت کے ساتھ فوج کی اس باغیانہ روش کو کنٹرول کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط اور فوجی مداخلت کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ موجودہ ترک حکومت کو امریکا اور اس کے حواری اچھی نظر سے نہیں دیکھتے، حالانکہ ترکی ناٹو کا رکن بھی ہے۔ اس کی وجوہات بالکل واضح ہیں کہ ترک حکومت پوری دنیا میں امت مسلمہ کے مسائل پر جرأت مندانہ مؤقف اختیار کرتی اور ظلم کے خلاف کھل کر کھڑی ہوجاتی ہے۔ غزہ کی حمایت میں جانے والا فلوٹیلا اور اس کے نتیجے میں اسرائیل کی غنڈا گردی اب تک لوگوں کو یاد ہے۔ اہلِ غزہ اپنے ترک بھائیوں کے اس جرأت مندانہ اقدام اور قربانیوں پر آج بھی ان کی تحسین کرتے ہیں۔
۲۰مارچ ۲۰۰۳ء کو امریکا نے عراق پر حملہ کیا تو ترکی سے اپنی فوج کی نقل و حرکت کے لیے زمینی راستہ مانگا، جس سے ترک حکومت نے انکار کر دیا۔ امریکا نے ۱۰؍ ارب ڈالر امداد کی بھی پیش کش کی، جو مصلحت پسندوں کے نزدیک اس زمانے میں ترکی کی بیمار معیشت کے لیے نسخۂ شفا تھا۔ جسٹس پارٹی کی غیرت مند قیادت نے اس پیش کش کو ٹھکرا دیا۔ امریکا نے ہوائی راستہ مانگا تو حکومت نے اس سے بھی معذرت کردی۔ کوئی مسلمان ملک آج کے دور میں ایسی جرأت مندانہ مثال مشکل ہی سے قائم کرسکا ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان جان کربی (John Kirby) نے ایک بیان داغا ہے، جس میں ترکی میں علیحدگی پسند کردش ورکرز پارٹی اور ترک حکومت کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا ہے۔ یہ پارٹی علیحدگی پسند اور دہشت گرد سمجھی جاتی ہے۔
ترکی میں داعش کی طرح یہ بھی آئے دن دھماکے کرتی رہتی ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ترکی کے جنوب مشرقی علاقے کو علیحدہ کرکے اپنی حکومت قائم کرے گی۔ ۱۸فروری کو ۲۴گھنٹوں میں ترکی کی سرزمین پر دہشت گردی کے چار خطرناک واقعات ہوئے۔ انقرہ میں ہونے والے دھماکے میں ۲۸؍افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے۔ اس کی ذمہ داری کرد علیحدگی پسندوں نے قبول کرلی۔ امریکی ترجمان کی اس ناروا مداخلت کے جواب میں ترک وزارتِ خارجہ کے ترجمان تانجو بالجیس (Tanju Bilgic)نے سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی یہ مداخلت ناروا ہے اور انقرہ امریکی حکومت کی طرف سے علیحدگی پسند اور دہشت گرد تنظیم کو منتخب دستوری حکومت کے برابر درجہ دینے پر سراپا احتجاج ہے۔ (ڈان ۱۶فروری۲۰۱۶ء)۔یہ عجیب سوے اتفاق ہے کہ روس اور امریکا دونوں بیک وقت ترکی کے خلاف اپنے اپنے انداز میں سازشیں کررہے ہیں۔ بہرحال یہ تو حقیقت ہے کہ الکفر ملۃ واحدۃ ۔
شام میں بشار الاسد کی نصیری اور آمرانہ حکومت نے اہلِ شام کو جس بدترین ظلم کا شکار بنایا ہے، اس پر بھی ترکی نے اسلامی اخوت اور غیرتِ مومنانہ کا مظاہرہ کیا ہے۔ مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینا اور ظالم کا ہاتھ روکنے کی عملی کاوشیں ترک حکومت کا بہت بڑا اور انسان دوستی پر مبنی مظاہرہ ہے۔ ترکی کی یہ جہودِ مسعودہ روس کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ روس شام پر مسلط ظالم حکمران کا پشت پناہ ہے اور اپنی عسکری قوت بشار مخالف تحریک کو کچلنے کے لیے بڑی بے دردی سے استعمال کررہا ہے۔
اسی سلسلے میں ایک روسی طیارہ ۲۴ نومبر۲۰۱۵ء کو ترکی کی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہوا۔ ترک فوج نے اپنا حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے یہ طیارہ مار گرایا۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ترکی کو سخت دھمکی دی اور ترک حکومت سے اس ’گستاخی‘ پر فی الفور معذرت اور معافی مانگنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ ترک حکومت نے دیگر مسلمان ملکوں کی روش سے ہٹ کر پوری جرأت کے ساتھ جواب دیا کہ انھوں نے کوئی جارحیت نہیں کی، جس پر معافی مانگیں۔ اپنی فضائی حدود کی حفاظت ان کا بنیادی حق ہے اور روس نے ان حدود کو پامال کرکے خود ایسی حرکت کی ہے، جس پر اسے معذرت کرنی چاہیے۔
روس کا صدر پیوٹن بہت رعونت پسند حکمران ہے۔ اس نے چند دنوں کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا ہے۔ اس کے جواب میں ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے ۱۵فروری کو یوکرائن کے دارالحکومت کیو(Kiev)میں پریس کانفرنس کے دوران بہت جرأت مندی کے ساتھ کہا ہے کہ: ’’روس ،شام میں بالکل کھلی دہشت گردی کر رہا ہے۔ وہ نہ تو داعش کے ٹھکانوں پر حملہ کرتا ہے اور نہ اسے اس کی فکر ہی ہے۔ اس کے حملے عام آبادیوں پر شام کے پُرامن شہریوں کی ہلاکت کا باعث ہیں۔ عام شہری بے چارے ایک جانب روسی اور نصیری بمباری کا شکار ہیں اور دوسری جانب دہشت گرد بھی انھی کا قتلِ عام کر رہے ہیں۔ ان حالات کے پیشِ نظر ہم نے شام سے ملحق اپنی سرحدوں کو مظلوموں کی مدد اور سہولت کے لیے کھول دیا ہے۔ ہر چند کہ مہاجرین کا بوجھ ہمارے لیے بڑا مسئلہ ہے، لیکن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہم نے یہ اقدام کیا ہے۔ روس کو اس علاقے میں فوجی چڑھائی اور قتل و غارت گری کا کوئی حق نہیں۔ ترکی مظلوم شامی عوام کی حمایت جاری رکھے گا، جو ظالم بشارالاسد سے نجات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں‘‘۔ (ڈان ۱۶فروری ۲۰۱۶ء)
ترکی کے معروضی حالات پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس مسلمان ملک میں سیکولر طبقے کی قوت ختم نہیں ہوئی، البتہ اس کا زور پہلے کے مقابلے میں کافی ٹوٹا ہے۔ اس صورت حال سے مغرب اور کفر کی تمام طاقتیں پریشان ہیں۔ ترکی کے خلاف ہر طرح کی سازشیں زوروں پر ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ترکی کی معیشت تباہ و برباد ہوجائے گی۔ اسی طرح ترکی کے امن و امان کو تباہ کرنے کے لیے بھی کئی عناصر غیر مرئی قوتوں کی اشیرباد اور پشت پناہی سے ترکی میں ، بالخصوص بڑے شہروں کے اندر دھماکے کر رہے ہیں۔ کردوں کا مسئلہ بلاشبہہ کافی پرانا ہے، مگر کرد پارٹی انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمان میں نمایندگی حاصل کرچکی ہے۔ پھر بھی علیحدگی پسند عناصر ترکی کی حدود میں موجود ہیں۔ ان کو پڑوس سے بھی شہ ملتی ہے اور عالمی دہشت گرد امریکا بھی اس کوشش میں ہے کہ موجودہ حکومت کو غیر مستحکم کیا جائے۔
جسٹس پارٹی کے برسرِ اقتدار آنے سے پہلے اس صدی کے آغاز میں ترک کرنسی (لیرا) بالکل بے وقعت ہوگئی تھی۔ عام آدمی کے لیے روٹی کا حصول بھی جوے شیر لانے کے مترادف تھا۔ کوڑیوں سے ہلکی کرنسی کی وجہ سے ترکی کی معیشت دنیا کے کمزور ترین ممالک میں شمار ہونے لگی تھی۔ موجودہ حکومت کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ اس نے اپنی معیشت کو سنبھالا دیا۔ غیرضروری اخراجات ختم کیے، کرپشن اور بدعنوانی کے ناسور پر قابو پایا، منصوبہ بندی ٹھیک انداز میں کی اور امورِ خارجہ ، بیرونی تجارت اور ملکی صنعت کو نئے سرے سے منظم کیا۔ اس کے نتیجے میں ایک لیرا آدھے امریکی ڈالر کے برابر ہوگیا۔ بعد میں پھر ترکی کے خلاف جب گھیرا تنگ کیا گیا تو عالمی تجزیہ نگاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اب لیرا پھر پہلی پوزیشن پر چلا جائے گا۔
ترکی کے خلاف کی جانے والی سازشوں کے نتیجے میں یقیناًترکی کی کرنسی نیچے تو آئی ہے، مگر اب دوبارہ سنبھل گئی ہے اور اس میں مسلسل بہتری آرہی ہے۔ پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ایک لیرے کی قیمت ۶۸ء۳۵روپے ہے۔ ترکی کی فی کس سالانہ آمدنی ۹۱ء۸۸۷۱ امریکی ڈالر ہے۔ صرف موازنے کے لیے عرض ہے کہ پاکستان کی فی کس سالانہ آمدنی ۶ء۱۳۱۶؍ امریکی ڈالر ہے۔ گویا اب بھی ترکی کی معیشت اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کا کامیابی سے مقابلہ کر رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکمران اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن ادا کر رہے ہیں۔ شام ہو یا فلسطین، ترک حکمران بالکل یکسوئی کے ساتھ مظلوموں کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ مصر میں جنرل سیسی کی ناجائز حکومت کو اگر کسی نے آئینہ دکھایا ہے تو وہ صرف ترکی ہے۔
اس وجہ سے سعودی عرب جو شاہ عبداللہ کے زمانے میں جنرل سیسی کا پرزور حامی تھا، ترکی سے ناراض ہوگیا۔ شاہ سلمان کے برسر اقتدار آنے کے بعد حالات کچھ تبدیل ہوئے ہیں اور اس وقت ترکی سعودی عرب کے ساتھ مل کر فوجی مشقیں کر رہا ہے۔ آج بھی ترکی نے مصر کے بارے میں اپنا مؤقف تبدیل نہیں کیا۔ وہ کھلم کھلا صدر مرسی کو مصر کا قانونی سربراہ تسلیم کرتا ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں مظالم کے خلاف سفارتی سطح پر چند مسلمان ممالک نے جو آواز اٹھائی ہے، اس میں سب سے توانا آواز ترکی ہی کی ہے۔
ظاہر ہے کہ ان حالات میں اسرائیل، امریکا اور ان کے حواری ترکی کو خطرے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ملک کے اندر ایک مضبوط مذہبی تحریک ہے جس کی جڑیں ترکی کی حدود کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی اپنے تعلیمی نیٹ ورک کی وجہ سے خاصی مضبوط ہیں۔ یہ خود کو غیر سیاسی کہتے ہیں، مگر سیاست میں ان کا عمل دخل خاصا ہے۔ کتنا المیہ ہے کہ ان کا وزن اُس قوت کے پلڑے میں پڑنے کے بجاے جسے سارا عالم کفر ’اسلامسٹ‘ ہونے کے طعنے دیتا ہے، یہ مذہبی طبقہ لا دینوں کی حمایت کرتا ہے، تاکہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی اقتدار سے باہر ہوجائے۔
ان حالات میں ترک حکومت بڑی حکمت اور جرأت کے ساتھ اندرونی اور بیرونی ہر محاذ پر مثبت پیش رفت کر رہی ہے۔ عرب بہار کے بعد جس طرح عرب ملکوں میں ابھرنے والی اسلامی تحریکوں کی کامیابی شیطانی قوتوں کے ہاتھوں ناکامی میں بدلی گئی، ترکی کے بارے میں بھی اسلام دشمن یہی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ دیکھیے اللہ کو کیا منظور ہوتا ہے۔ آج کا ترکی اس ترکی سے بالکل مختلف ہے، جو خلافت کے آخری دنوں میں یورپ کا مردِ بیمار کہلاتا تھا۔ اس دور میں خلافت کی بساط لپیٹ دی گئی۔ خلافت کے خاتمے اور سیکولر دستور کے نفاذ سے ترک قوم کا امتیازی مقام زوال پذیر ہوا۔
اس کے باوجود ترکوں کا عالمِ اسلام میں ایک بھرم اور تاریخ میں ان کے یادگار کارناموں کی وجہ سے اُمتِ مسلمہ میں عزت قائم رہی۔ اب عالمِ کفر پھر سازشوں میں مصروف ہے اور مختلف عناصر کو مختلف لبادوں میں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اس میں نام نہاد مذہبیت کا رنگ بھی ہے اور سیکولرازم، لبرل ازم اور قومیت پرستی کی چھاپ بھی۔ تاہم، پچھلے طویل عرصے کے دوران پُلوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے، اب دوبارہ اسی ڈرامے کو دہرانے کی کوشش ہو رہی ہے، جو ان شاء اللہ ناکام ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے: ’’وہ اپنی خفیہ تدبیریں کرنے لگے، جواب میں اللہ نے بھی اپنی خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے‘‘ (اٰل عمرٰن۳:۵۴)۔ ان شاء اللہ ترکی میں 
پھر کسی مصطفی کمال کے آنے کا امکان بہت کم ہے۔
حافظ محمد ادریس