شام کی سرزمین سے انسانیت کے نام

کرامہ مہاجر کیمپ کے انچارج کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ ادلب کے قریب  شامی سرحد کے اندر یہ کیمپ ترکی کی ایک رفاعی تنظیم انسانی حقوق و حریت (IHH) نے قائم کیا تھا۔ یہ کیمپ اس وقت سے قائم ہے جب سے جنگ کا آغاز ہوا اور ایسے کئی کیمپوں میں دن بدن اضافی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس وقت نو لاکھ شامی بارڈر پر موجود ان کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ان کے لیے ترک سکولوں میں داخلہ مفت ہے اور اسپتالوں میں علاج بھی مفت۔ یہ وہ خوش قسمت ہیں جو تھوڑی بہت جمع پونجی بچا کے ترکی آ گئے، کوئی ہنر جانتے تھے، یا تعلیم تھی اور یہاں کسی روزگار سے منسلک ہو گئے۔

یہ لوگ جس طرح کی رہائشوں میں رہ رہے ہیں وہ اذیت ناک ہیں۔ مثلا ایک برگیڈئیر کی بیوہ جس کے سامنے اس کے بھائی، خاوند اور باپ کو بشار الاسد کے فوجیوں نے اذیت دے کر مارا، اپنی بچیوں کے ساتھ ایک دوکان کرائے پر لیکر اس میں رہ رہی ہے لیکن کیمپوں میں رہنے والوں کی حالت انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اگر باپ کو کپڑے بدلنا ہوں تو پورے گھر کو باہر نکلنا ہوتا ہے اور یہی کچھ کسی دوسرے فرد کے کپڑے بدلنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ ان کیمپوں میں گذشتہ پانچ سال سے رہ رہے ہیں۔ یعنی جو بچہ جنگ شروع ہوتے پانچ سال کا تھا اب گیارہ کا ہو چکا ہے اور جو گیارہ کا تھا وہ سترہ کا۔ اس دوران یہ بچے نہ کسی سکول پڑھنے کے لیے گئے اور نہ ہی کوئی ہنر سیکھا۔ یوں اگر کچھ برسوں کے بعد شام میں امن آبھی جائے تو یہ نسل نہ تعلیم یافتہ ہو گی اور نہ ہی کسی ہنر سے آشنا۔ ان کے برعکس نا ڈاکٹر ہوں گے نا انجنیئر بلکہ نا ہئیر کٹنگ والے ہوں گے نہ ڈرائی کلین کرنے والے۔ ایک المیہ پروان چڑھ رہا ہے۔

کرامہ کے مہاجر کیمپ کا انچارج رو رہا تھا اور اس سے واقعہ بیان نہیں ہو رہا تھا۔ ہمت باندہ کر اس نے کہا کہ میں ڈاکٹر کے پاس ہسپتال میں گیا۔ اس وقت وہ ایک جنگی زخمی کے بدن سے بم کے ٹکڑے نکالنے جا رہا تھا۔ میں نے کہا آپ اپنا کا م کر لیں۔ اس نے کہا نہیں تم میرے ساتھ چلو گے، میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس بیہوش کرنے والی دوا Anesthesia نہیں ہے اور ہم مستقل آپریشن کر رہے ہیں۔ میں گھبرا گیا لیکن وہ میرا بازو پکڑ کر ساتھ لے گیا۔ جب اس نے اوزار تھامے تو ڈاکٹر بھی رو رہا تھا اور مریض کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔ اس بار اس نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر چھری سے جسم کا کاٹنا شروع کیا اور ساتھ ہی سورہ اخلاص پڑھتا رہا۔ مہاجر کیمپ کا انچارج کہتا ہے کہ میں میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس دوران مریض نے زبان سے اف تک نا نکالی بلکہ وہ مستقل حسبی اللہ و نعم الوکیل بڑھتا رہا۔ جب جسم سے بموں کے ٹکڑے نکال کر اسے سی دیا گیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ تم نے دیکھ لیا اس وقت سورہ اخلاص ہی ہمارا Anesthesia ہے۔

یہ صرف ادلب کے قریب ایک کیمپ کا ذکر ہے۔ یہ وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو بھاگ کر ان کیمپوں میں پناہ لینے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ یوں تو ان لوگوں کی داستانیں خون کے آنسو رلاتی ہیں لیکن ان کو اپنے ان بھائیوں کی فکر کھائے جاتی ہے جو شام کے شہروں میں محصور ہیں۔ دمشق اور حمص کے علاقوں سے آنے والے مہاجرین بتاتے ہیں کہ بشار الاسد کی فوج کا محاصرہ اس قدر اذیت ناک تھا کہ بچوں پر کئی کئی دن فاقے آتے تھے۔ ایک شخص نے ایک بوری چاول کے عوض اپنا پورا باغ بیچ دیا کہ اس سے بچوں کی بھوک نہیں دیکھی جا رہی تھی۔ جب سب کچھ ختم ہو گیا اور کھانے کے لیے کچھ بیچنے کو بھی باقی نہ تھا تو علماء نے فتویٰ دیا تھا کہ اب جان بچانے کے لیے بلیاں اور کتے بھی ذبح کر کے کھائے جا سکتے ہیں اور لوگوں نے وہ بھی کھائے۔

ترکی کی سرحد کے ساتھ آپ سفر کریں تو آپکو ہر شہر کے مقابل ایک شہر ملے گا۔ جیسے ریحان علی کے سامنے ادلب اور اس کے قرب و جوار ہیں۔ غازی انتب کے سامنے حلب کا علاقہ ہے۔ اب تک نو لاکھ افراد اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں اور اس وقت گیارہ لاکھ شامی بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ ترکی کی سرحد کے اندر جو دارالیتامیٰ یعنی یتیم خانے کھولے گئے ہیں، ان کے اندر جانا بھی ایک تکلیف دہ تجربہ ہے۔ بچے آپ سے ایسے لپٹ جاتے ہیں جیسے کوئی بچھڑا ہوا باپ یا بھائی گھر آ گیا ہو۔ ایک یتیم خانے میں داخلہ ہوا تو میرے ہاتھ میں مائیک دیکھ کر بچیاں اس سے کھیلنے لگ گئیں۔ کبھی کچھ کبھی کچھ اچانک ایک ساتھ کھڑی ہو کر خوبصورت قرات کے ساتھ سورہ کہف پڑھنے لگ گئیں۔ ان پانچ چھ سال کی بچیوں کو کیا علم کہ اس سورت کو آج کے دور میں پڑھنے کی کس قدر اہمیت ہے۔ رسول اللہ نے اسے فتنہ دجال سے حفاظت کے لیے پڑھنے کی تلقین کی ہے۔

ادلب میں کچھ دن پہلے بشار الاسد نے کیمیکل ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا، میں کیمپ کے اس ہسپتال بھی گیا جہاں وہ بچے لائے گئے تھے اور ان بچوں سے بھی ملا ہوں۔ ان کی تکلیف کی کہانیاں اس قدر درد واذیت سے بھرپور ہیں کہ کوئی پتھر دل والا بھی ایک کہانی کے بعد دوسری سننے کی تاب نہیں لا سکتا۔ ریحان علی کا وہ ہسپتال جس میں ان کا علاج ہوا وہاں کسی نے ان بچوں سے پوچھا کہ یہ کس نے کروایا؟ بچے پکارتے تھے بشار الاسد۔ ایک بچہ جو ذرا بڑا تھا اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رہا تھا، ابھی کیمیائی ہتھیاروں کے اثر سے پوری طرح باہر نہیں نکلا تھا۔ ایک دم غصے سے تلملا اٹھا اور سانس بحال کر کے بولنے لگا۔ جہاز بشار الاسد کے پاس ہیں یا پھر روس اور امریکہ۔ پھر اس بچے نے عالمی سیاست کی گھتی سلجھاتے ہوئے کہا کہ روس اور امریکہ تو بشار کے یار ہیں۔

غازی انتب کا شہر حلب کے ساتھ جڑا ہے۔ پہلے یہ بھی حلب کا حصہ ہوتا تھا لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد جب خلافت عثمانیہ ٹوٹی تو حصہ فرانسیسی شام میں چلا گیا۔ غازی انتب سے حلب کے علاقے میں داخل ہوں تو پہلے جرابولس کا شہر آتا ہے۔ یہاں پر”احرار الشام” کا کنٹرول ہے اور پورا شہر برباد ہو چکا تھا لیکن اب کسی حد تک واپسی کی جانب لوٹ رہا ہے۔ شہر کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا مہاجر کیمپ ہے جس کے رہنے والے خوبصورت بچے ایسے لگتا ہے انہوں نے کئی ماہ سے منہ نہیں دھویا۔ یہ علاقہ پہلے داعش کے پاس تھا ، یہاں پہ کردوں کی PKK اور پیش مرکہ بھی مورچہ زن تھے۔ اب یہ علاقہ ایک گروہ کے کنٹرول میں ہے اس لیے یہاں امن ہے لیکن اس کے ہسپتال میں روزانہ سو سے زیادہ عورتیں اور بچے لائے جاتے ہیں جو اس خوفناک جنگ کے زخمی ہیں اور انہیں علاج کی فوری ضرورت ہے۔ ان میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہوتی ہے۔ مرد، یوں لگتا ہے کہ امریکہ، روس، ایرانی پاسداران، بشار الاسد کا نشانہ ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کی شام مہں ان کا کوئی مخالف مرد زندہ نہ رہے۔

  بشکریہ روزنامہ 92 نیوز

اوریا مقبول جان

Advertisements

شامی مہاجرین کی حالتِ زار

شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے شام کی آدھی سے زیادہ آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ ان میں سے آدھے لوگ تو شام ہی میں آئی ڈی پیز بن کر زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 50 لاکھ سے زائد لوگ ترکی، لبنان، سعودی عرب، یونان اور چند ہزار مغربی ممالک میں مہاجرین بن کر زندگی گزار رہے ہیں۔ لبنان اور مغربی ممالک میں رہنے والے شامی مہاجرین کو اس حد تک مجبور کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے کچھ اپنے مذہب کو چھوڑ کر عیسائی بننے پر مجبور ہو گئے ہیں جس کی مغربی ممالک خوب تشہیر کر رہے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر تشہیر کی جا رہی ہے کہ اتنے مسلمان مذہب تبدیل کر چکے ہیں۔ پوری دنیا میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کے ہوتے ہوئے ان کے کلمہ گو مسلمان بھائی بھوک، پیاس اور امن کی خاطر اپنا دین چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک نے شامی مہاجرین کے بارے میں ابھی تک صحیح لائحہ عمل اختیار ہی نہیں کیا۔

روشن کردار برادر ملک ترکی نے ادا کیا ہے جس نے اپنے ملک میں نامساعد حالات کے باوجود 30 لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین کو بسایا ہوا ہے۔ انہوں نے شامی مہاجرین کو اپنے شہروں میں رکھا ہوا ہے۔ مہاجرین کو ملازمتیں بھی دی ہوئی ہیں۔ زیادہ تر شامی مہاجرین شام ترکی بارڈر پر مختلف کیمپوں میں رہ رہے ہیں جہاں وہ خراب حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان میں شامی مہاجرین کے ریلیف کے لیے ابھی تک کوئی خاص کام نہیں ہوا۔ چند تنظیمیں اپنے طور پر کام کر رہی ہیں۔ پاکستان میں شامی مہاجرین کے لیے کام کرنے کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان کے لئے ترپالیں، گرم کپڑے، بچوں اور عورتوں کے کپڑے، بچوں کے لیے دودھ تحائف اور دوسری اشیاء بھجوا دی گئی ہیں ۔

یہ تمام اشیاء ترکی پہنچ گئی ہیں اور استنبول میں ترکی کی این جی او ’’حیرات فائونڈیشن‘‘ کے تحت شامی مہاجرین میں تقسیم کی جائینگی۔ وہاں مہاجرین کے لیے ایک منی ہسپتال قائم کر کے اس کے علاوہ ایک روٹی پلانٹ بھی لگایا جائے گا۔ شامی مہاجرین کی حالتِ زار تمام مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ آپ ﷺکے ارشاد مبارک کے مطابق تو تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ ایک حصہ میں تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔ اس وقت شام کے مسلمانوں کو ہمدردی، سہارے اور ہر قسم کی ریلیف اشیاء کی ضرورت ہے۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ شام کے مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے آگے آئیں۔

ڈاکٹر آصف محمود جاہ (ستارئہ امتیاز)

شامی مہاجر خاندان کی دردناک کہانی

ہجر سیاسی ہو یا رومانوی ہمیشہ ہی تکلیف دہ رہا ہے اور اس کی تاریخ اتنی ہی پُرانی ہے جتنی کہ انسان کی ہے۔ اختلافات دلوں کے ہوں یا سرحدوں کے ہمیشہ بچھڑنا ہی پڑتا ہے۔ آج دنیا ترقی کی بلندی پر کھڑی ہے لیکن ہجرت تو آج بھی ہے۔ جو دُکھ درد پاکستانیوں نے 1947ء میں اُٹھائے، ان کی تکلیف سے آج بھی آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں۔ وہی دکھ آج شامی اُٹھا رہے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں شامی مہاجرین کو قبول کرنا ایک بڑے سیاسی ایشو کے طور پر لیا جا رہا ہے لیکن چراغ تلے اندھیرے والی بات مصدقہ ہو رہی ہے۔ شام کے ہمسایہ ممالک کے دلوں میں وہ جگہ کیوں نہیں بن پائی جو یورپی ممالک کے دلوں میں بنی ہے لیکن اس کے باوجود یہ بھی سچ ہے کہ اردن، لبنان اور ترکی نے اپنی استعداد سے بڑھ کر مہاجرین کو پناہ دی ہے۔

اقوام متحدہ کی رفیوجی ایجنسی کے مطابق مہاجرین کی تعداد 4.2 ملین سے زائد ہے۔ جس میں نصف تعداد بچوں پر مشتمل ہے۔ جس مہاجر خاندان کو دیکھیں اپنے اندر ایک کربناک کہانی لیے کیمپ میں زندگی گزار رہا ہے۔ آئیے آپ کو دمشق میں رہنے والے ایک مہاجر خاندان کی کہانی سناتے ہیں۔ کہانی سنانے والے مہاجر کا نام عمار ہے اور ان کی کہانی انہی کی زبانی سنیں۔ ہم لوگ دمشق میں اپنے گھر اپنے خاندان کے ہمراہ خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے۔ میرے خاندان میں میری بیوی، بچوں کے علاوہ والدین بھی شامل ہیں۔ اچھے بھلے پُر امن ملک میں بدامنی کی لہر نے ایسا سر اُٹھایا کہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اپنے ہی ملک میں جینا حرام ہو گیا۔ باغوں کی خوشبو کی جگہ بارود کی بُونے لے لی۔ فلک بوس عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔ خوش و خرم چہرے خون آلودہ ہوئے۔ جانے وہ کون امن کے دشمن ہیں جنہیں انسانوں کو قتل کرتے ذرا بھی خوف نہیں آتا۔ انسان ایسا کب کرتے ہیں یہ تو انسانوں اور درندوں کے مابین دنگل کا منظر ہے۔ جنت کی یہ زندگی جہنم ہی ہو گئی اور اس جہنم سے نکلنا ہی نصیب ہوا۔

اپنے بچوں اور والدین کو لیکر وطن عزیز چھوڑا تو دل زخمی زخمی تھا۔ دو سال ہو گئے شام کو چھوڑ کر بنکاک آئے ہوئے لیکن گولیوں کی تڑتڑاہٹ آج بھی دماغ میں گونجتی رہتی ہیں۔ اپنے گھر میں بیتے آخری ایام میں تو یہ ہوتا ہے کہ بچوں اور والدین کو لیے محفوظ جگہ پر ساری رات آنکھوں میں کاٹتے۔ اچانک گولیوں کی بوچھاڑ ہوتی اور دل دہل کے رہ جاتا۔ دھماکہ ہوتا اور کوئی عمارت کھنڈر بن جاتی۔ دھواں اٹھتا اور گرد و غبار کے بادل آسمانوں سے باتیں کرتے۔ ایسے میں دم توڑتے لوگوں کی خوفناک چیخیں سارا سکون لے جاتیں۔ یوں لگتا جیسے ابھی کوئی گولہ ہماری چھت پر گرے گا اور ہم سب یہاں ہی دفن ہو جائیں گے۔ ایک شام جب بمباری کی انتہا ہو گئی تو گھر چھوڑنا ہی بھلا سمجھا۔ جو ہاتھ میں آیا اُٹھایا اور بچوں اورماں باپ کو سہارا دئیے باہر کی جانب بھاگے۔ وہ منظر نہیں بھلایا جاسکتا جب چاروں اطراف خوفناک فائرنگ جاری تھی اور ہم سرجھکائے دیواروں کی اوڑھ میں بھاگتے ہی چلے جا رہے تھے۔ ایک میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد قدرے پُر سکون علاقے میں آئے تو رات کی چادر تن چکی تھی۔ اندھیرے میں آگے سفر کرنا نا ممکن تھا۔ وہ علاقہ مکینوں سے خالی تھا۔

ہم لوگوں نے ایک خالی گھر میں پناہ لی۔ اس کھلے گھر میں سب کچھ موجود تھا لیکن کوئی رہائشی نہ تھا۔ اس کا ایک پورشن کسی بارود گولے کا نشانہ بن چکا تھا۔ ہم نے قدرے محفوظ کمرے میں پناہ لی اور اسی گھر کے کچن سے کھانے پینے کا سامان استعمال کیا۔ دو دن یہاں قیام کیا۔ دوسری رات کے پچھلے پہر ایک گولہ صحن میں گرا اور اس کے درو دیوار لرز گئے۔ ہم لوگ سوئے ہوئے تھے۔ ایسے محسوس ہوا جیسے چھت گر گئی ہے لیکن صبح کی پُو پھٹنے تک ہم سب لوگ دبکے بیٹھے رہے۔ا علیٰ الصبح میری چھوٹی بیٹی بھوک سے بلک اُٹھی۔ اس کا رونا دیکھا نہیں جا رہا تھا۔ زندگی ہتھیلی پررکھے دودھ کی تلاش میں نکلا تو گلی کی نکڑ پر ہی ایک فریڈم آرمی کے کمانڈو سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ کمانڈر نے حکماًً کہا کہ یا ہمارے ساتھ ہتھیار اُٹھا کر جنگ میں شامل ہو جاؤ یا پھر موت کے لیے تیار ہو جاؤ۔ پھر جانے اس کے دماغ میں کیا آیا اور کہا کہ دس گننے تک یہاں سے غائب ہو جاؤ ورنہ کوئی اندھی گولی تمہارا بھیجا اُڑا دے گی ا ورتدفین بھی نصیب نہیں ہو گی۔

میں وہاں سے بھاگا اور اپنے خاندان کو لے کر گھر کے پچھواڑے ایک اجاڑ راستے پر جا نکلا۔ ہم لوگ چھ گھنٹے پیدل چلے۔ اس دوران میری بیٹیاں بھوک سے روتی رہیں۔ دوپہر ایک بجے کے قریب کچھ لوگوں نے خوراک کے پیکٹ اور دودھ کی بوتلیں ہماری طرف پھینکیں اور یہاں سے دور چلے جانے کا مشورہ دیا۔ میں وہ منظر بھول نہیں سکتا کہ کس طرح میری چھوٹی بیٹی نے دودھ کی بوتل کو منہ لگایا۔ ہم لوگ شام چھ بجے ایک مہاجر کیمپ میں تھے جہاں میرے سینکڑوں ہم وطن اپنی قسمت کا لکھا بھگت رہے تھے۔ یہاں سے تھائی لینڈ کا موقع تو میسر تھا لیکن ویزے کے بغیر فلپائن آنا گویا جیل میں جانے کے مترادف تھا۔ میں دن بھر اپنے بچوں اور بوڑھے والدین کے لیے خوراک کی تلاش میں رہتا۔ اپنا گھر چھوڑتے وقت اچھی خاصی رقم میری جیب میں تھی جو اس نازک موقعہ پر کام آرہی تھی۔ میری بیوی سارا سارا دن قطاروں میں لگ کے اقوام متحدہ کے قائم کردہ دفتر میں خاندان کی رجسٹریشن کروانے میں کامیاب ہوئی۔ 2012 کے آخر میں تھائی لینڈ نے سیاسی پناہ دینے کی سہولت دے دی تو ہماری اولین ترجیح تھائی لینڈ ہی تھی۔ یو این ایچ سی آر یعنی اقوام متحدہ کا دفتر برائے مہاجرین میں ہمارا انٹرویو لیا گیا اور خدا کے فضل سے ہمیں ویزہ دے دیا گیا۔ ہمیں مہاجر کا درجہ دے دیا گیا اور اب میرے بچوں کا مستقبل تاریک نہیں تھا۔

بھلے کسی اور ملک میں اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنے جا رہے ہیں لیکن یہ سکون ہے کہ اس ملک میں گولے بارود کی بُو کی جگہ پھولوں کی خوشبو ہو گی اور میری بیٹیوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہوں گی۔ میں ان کے روشن مستقبل کو دیکھ کر جی تو اُٹھا لیکن وطن کی محبت نے دل میں درد کے نئے باب کھول دئیے۔ یہ ہجر جانے کب ختم ہوں گے اور جانے کب انسان نما درندوں کویہ سمجھ آئے گا کہ اسلحہ کی تجارت میں انسانوں کو لقمہ اجل بنانا کہاں کا انصاف ہے۔ یہ دنیا امن کے لیے بنائی گئی تھی۔ تاجروں نے اسے قتل گاہ بنا دیا۔

عبدالستارہاشمی

یورپ کے ساحلوں پر ڈوبنے والے عورتیں، بچے اور ہماری بے حسی

المیہ یہ نہیں کہ لوگ سمندر کی لہروں کی نذر ہو رہے ہیں،المیہ یہ ہے کہ انھیں ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ کیا مجبوریاں ہیں جو لوگوں کو زندگیاں خطرات میں ڈالنے پر مجبور کر رہی ہیں؟ وہ کیا خواب ہیں جن کی تعبیر کا گھر یورپ ہی ہے؟ وہ کون سے دکھ ہیں جن کا مداوا سمندری راستے سے پورپی ممالک میں پوشیدہ ہے؟ کئی اور سوالات جن کے جوابات درکار ہیں۔ مگر کون ہے جو چبھتے سوالات کا سامنا کر سکے؟ ڈوبنے والے سارے کے سارے تیسری دنیا کے مفلوک الحال شہری ہیں۔ جو بچ نکلتے ہیں وہ بھی تیسری دنیا کے وہ بد نصیب باشندے جن کی عبرت ناک داستانیں اٹلی، لیبیا، یونان، ترکی کے ساحلوں سے لے کر ہنگری،فرانس اور جرمنی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ مسلم ممالک کے، جنگ، سماج اور معاشیات سے تنگ باشندے تو موت کا آسان ہدف ہیں۔

آئے روز اخبارات ایسی خبروں سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں کہ تارکین ِ وطن کی کشتی ڈوب گئی،اتنے کم نصیبوں کو بچا لیا گیا اور اتنے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ یہ خبریں بھی مگر عالمی میڈیا سے مستعار لے کر اردو اخبارات میں شائع کی جاتی ہیں۔ کئی ایک مقامی مثالیں بھی موجود ہیں کہ کیسے غریب گھرانوں کے نوجوان انسانی سمگلروں کے بنے ہوئے خواب میں اپنی تعبیر کا سامان ڈھونڈتے ڈھونڈتے موت کا رزق بن گئے۔ ترکی کے ساحل پہ ڈوبنے والا ایک بچہ درد دل رکھنے والوں کو کب بھول سکے گا؟ وہ شامی بچہ جسے سمندرنے بھی اپنی آغوش میں جگہ نہ دی۔اس تحریر کے لیے خبروں کی تلاش میں تھا۔ کئی ایک خبریں اور واقعات اپنی طرف متوجہ کر چکے تھے کہ اچانک لیبیا والوں کی اس کشتی کی خبر نے اپنی طرف موڑ لیا جو اپنے دامن میں گنجائش سے زیادہ تارکین وطن کو لے کر اٹلی کے ساحل کی طرف رواں تھی۔

اٹلی کے ساحلی محافظوں نے ایک بڑی امدادی کارروائی کے دوران لیبیا کے ساحل سے کم سے کم 6500 تارکین وطن کو بچا لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اٹلی کے گوسٹ گارڈز کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے دوران 40 ریسکیو آپریشن کیے گئے۔یہ کارروائی لیبیا کی بندرگاہ صبراتہ سے 20 کلومیٹر اس طرف کی گئی اور اس میں اٹلی کے علاوہ یورپی یونین کی بارڈر ایجنسی فرونٹیکس، غیر سرکاری تنظیموں پرو ایکٹو اوپن آرمز اور میدساں سان فرنتیر کی کشتیوں نے بھی حصہ لیا۔ کہا جارہا ہے کہ جن تارکین وطن کو سمندر میں ڈوبنے سے بچایا گیا ہے اس میں سے بیشتر کا تعلق افریقی ممالک صومالیہ اور ایریٹریا سے ہے۔ اس سے متعلق ایک ویڈیو فوٹیج میں تارکین وطن کے بچانے کا عمل بھی یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے جس میں بہت سے لوگ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ بہت سے نوجوان اپنی بوسیدہ کشتیوں سے پانی میں چھلانگ لگا کر امدادی عملے کی کشتیوں کی جانب تیر رہے ہیں۔ بعد میں ان تمام تارکین وطن کو ایک محفوظ جہاز میں سوار کر لیا گیا۔ ان میں بہت سی خواتین اور شیر خوار بچے بھی شامل ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق تارکینِ وطن کو ایسی کشتیوں میں سوار کیا گیا جو قابل ِ اعتماد بحری سفر کے قابل ہی نہیں تھیں، نیز ان کشتیوں میں ضرورت سے زیادہ افراد کو لیبیا کی بندرگاہ صبراتہ سے رو انہ کیا گیا تھا۔ گذشتہ اتوار کو بھی اسی علاقے میں تقریباً 1100 تارکین وطن کو بچایا گیا تھا۔

مشرق ِ وسطیٰ اورافریقی ممالک کے بہت سے لوگ یورپ میں پناہ لینے کی غرض سے لیبیا سے کشتیوں میں سفر کرکے اٹلی جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس عمل میں بہت سے لوگ راستے میں ہی ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ معاشی تنگی کے پیش نظر یورپ میں بہتر مواقع کی تلاش کے لیے جاتے ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد مختلف علاقوں میں سیاسی عدم استحکام، یا پھر وہاں جاری جنگ سے بچنے کے لیے یورپ جانا چاہتی ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ برس یورپ میں تقریبا ً دس لاکھ پناہ گزین داخل ہوئے جس سے دوسری عالمی جنگ کے بعد اس نوعیت کا بحران پیدا ہوا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ 2015 کے دوران دس لاکھ سے زائد تارکینِ وطن سمندر عبور کر کے یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔ ادارے کے مطابق ساڑھے آٹھ لاکھ تارکین وطن ترکی سے یونان میں داخل ہوئے جبکہ ڈیڑھ لاکھ افراد لیبیا سے بحیرہ روم عبور کر کے اٹلی پہنچے۔ سنہ 2014 کے مقابلے میں سمندر کے راستے یورپ آنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور 2014 میں محض 216000 افراد سمندر کے راستے یورپ آئے تھے۔ مئی میں بھی یورپی یونین کی کشتیوں نے تقریباً 13000 تارکین ِوطن کو بچا لیا تھا جبکہ ایک واقعے میں 700 سے زائد تارکین وطن سمندر میں ڈوب گئے تھے۔

اعداد و شمار دکھ آور ہیں۔ سارے کام تقدیر کے کھاتے میں نہیں ڈالے جا سکتے۔ تد بیر بھی ایک شے کا نام ہے اور مومن کا ہتھیار شاید تد بیر ہی ہے۔ وہ کون ہے جو مگر اس ہتھیار سے کام لے؟ آج اگر افریقی ممالک، ایریٹیریا، شام، لبنان، عراق، افغانستان ،پاکستان،یمن اور لیبیا کے لوگ انسانی سمگلروں کے ستم رسیدہ پنجوں میں آئے ہوئے ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ بے شک ان ممالک کے حکمران، اور سارے مسلم حکمران لاریب۔ اسرائیل، امریکہ،یورپ،استعمار اس کے بعد ذمہ دار ہیں کہ مسلم حکمران کسی نہ کسی شکل میں عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں ،صرف اپنے اقتدار کی خاطر یا اپنے ریاستی فہم کی خاطر۔یورپ تارکین وطن کے جس بحران کا سامنا کر رہا ہے یہ بھی بے شک یورپی ممالک کی خارجہ پالیسیوں کا اثر ہے۔عالم ِ انسانیت کسی ایسے عادل کی راہ دیکھ رہا ہے جو ستم رسیدہ بندوں کو عدل کے ترازوں میں تول کر ستم کے سارے موسموں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت کر دے۔

طاہر یاسین طاہر

شامی مہاجروں کے ازدحام میں

طاقتور امریکی خیراتی ادارے باراک حسین اوباما کی حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ امریکہ مٰں آباد کئے جانے والے شامی پناہ گزینوں کی تعداد دوگنی کر دی جائے۔ امریکی قانون کی رو سے پناہ گزین   اور تارکین وطن   میں فرق ہے۔
مجبوری کے تحت ترک وطن کرنے والا پناہ گزین یا ریفیوجی ہے اور اقوام متحدہ کے رکن تمام ملک اسے ریفیوجی سٹیٹس دیتے ہیں جبکہ اختیاری ترک وطن کرنے والا امیگرنٹ ہے اور متعلقہ ملک یا اسکا کوئی شہری اس کا کفیل یا سپانسر ۔
 وزیر خارجہ جان کیری نے وعدہ کیا ہے کہ یکم اکتوبر کو شروع ہونے والے مالی سال کے دوران امریکہ مزید دس ہزار افراد کو پناہ دے گا جس میں اکثریت شامی ہوگی۔ اقوام متحدہ کے ایک معاہدے کی رو سے امریکہ ہر سال تقریبا ستر ہزار افراد کو جو ساری دنیا سے جنگ، مفلسی ، سیاسی اختلاف اور مذہبی تشدد کی بنا پر ترک وطن کرتے ہیں، ریفیوجی سٹیٹس دیتا ہے اور اب رفاہی ادارے جن میں بیشتر کرسچن ہیں،صدر کے نام اس تعداد کو دس ہزار سے زیادہ کرنے کا کھلا خط لکھ رہے ہیں، اس بات کا لحاظ کئے غیر کہ ان میں اکثریت کا وجود مذہبی ہے اور اندر آنے والے کئی لوگ پناہ گزینوں کے بھیس میں اسلامی اساس پرست بھی ہو سکتے ہیں۔ امریکہ اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان، ہندوستان، افغانستان، مصر، تونس ، اریٹیریا، البانیہ ، کوسوا اور دوسرے ملکوں کے کچھ لوگ مغربی یورپ میں آباد ہونے کی امید میں شامل پناہ گزینوں کی بھیڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔
 شام میں جہاں سہ طرفہ جنگ جاری ہے، پندرہ لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ بشار الاسد کی آمریت کے خلاف جو اپویشن پیدا ہوئی امریکہ نے اسکی حمایت کی اور دونوں گروہوں میں جو خانہ جنگی جاری تھی اس پر داعش نے شب خون مارا۔ اب سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز حج پر داعش کو لتاڑ کر چوتھا فریق بن گئے ہیں۔
شام کی صورت حال سے اندازہ ہوا کہ سرد جنگ ابھی جاری ہے۔ مغرب کی قیادت بدستور امریکہ کر رہا ہے اور مشرق کی رہنمائی سوویت یونین کے سقوط کے بعد روس نے لے رکھی ہے۔ بڈھ بیڑ پر حالیہ افغان حملے سے جس میں 29 افراد شہید ہوئے ، اس جنگ کی خاصی نشان دہی ہوئی ہے۔ یہ ہوئی اڈہ امریکہ نے تعمیر کیا تھا اور یہاں سے اڑ کر گیری پاورز ، سوویت علاقے میں داخل ہوا تھا جسے خروشچیف کی فوجوں نے مار گرایا اور کچھ عرصے کے بعد یہ ہوئی مستقر بھی پاک فضائیہ کے حوالے کر دیا گیا جو اسے رہائش گاہ کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔ روس اور ایران، شام کی حمایت کر رہے ہیں اور روسیوں نے مبینہ طور پر وہاں فوج اور جنگی سازوسامان بھی اتار دیا ہے جس پر امریکہ نوحہ کناں ہے۔
امریکی مسلمانوں کی دو سب سے بڑی تنظیمیں، اثنا اور اکنا جو بڑی حد تک مہاجروں کی جماعتیں ہیں، اسلامی دنیا کے اس المیے پر خاموش ہیں مگر ریفیوجی کونسل یو ایس اے جو امریکی چرچوں کی تنظٰم ہے، شامی پناہ گزینوں کے پہلے ریلے کا انتظار کر رہی ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ چرچ کے لوگ ، رضاکارانہ طور پر نوواردوں کو سوشل سکیورٹی نمبر حاصل کرنے، انہیں روزگار کی درخواستیں دینے اور انکے لئے انگریزی زبان کی کلاسوں کا انتظام کرنے میں مدد دیں گے۔ بیشتر پناہ گزین ، ڈیٹرائٹ مشی گن، سین ڈیاگو کیلیفورنیا اور ایسی دوسری ریاستوں کا جہاں پہلے سے شام سے آنے والے بڑی تعداد میں آباد ہیں رخ کریں گے۔ باقی ممکن ہے قومی دارالحکومت اور ملحقہ میری لینڈ اور ورجینیا میں بیٹھ جائیں۔
کچھ علاقوں میں مختلف وجوہ کی بنا پر نئے آبادکاروں کی مزاحمت کے آثار ہیں۔ سرکاری حکام اور خیراتی اداروں کے عہدیدار کہہ رہے ہیں کہ مسیحی اقدار کو اجاگر کر کے وہ اس کا توڑ کریں گے۔ حسن اتفاق سے پوپ فرانسس ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں اور وہ مائیگریشن کے زبردست حامی سمجھے جاتے ہیں۔ اس ملک کی تقریبا آدھی آبادی رومن کیتھولک ہے وہ قدرتی طور پر پوپ کو اپنا روحانی باپ مانتی ہیں اور باقی افراد بھی انکا احترام کرتے ہیں۔ ایک چرچ لیڈر نے کہا، ہمارے اسقف اعظم مشترکہ انسانیت پر اصرار کرتے ہیں اور انکا فرمانا ہمارے سر آنکھوں پر ہے۔ کچھ مہاجر مذہب تبدیل کر لیں گے اور متعلقہ چرچ جانا شروع کر دیں گے۔ فائدہ بالآخر مسیحت کا ہوگا۔ نام نہاد اسلامی خلافت کو یہ احساس ہونا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے   نے اٹھارہ سو لوگوں کو امریکہ میں آبادکاری کے اہل قرار دیا تھا۔اوباما حکومت نے ان میں سے سولہ سو کا انتخاب کی اہے۔ بیشتر پناہ گیر ہوائی جہازوں میں بھر کر امریکہ لائے جائیں گے۔ اس وقت وہ اردن، لبنان اور ترکی میں پڑے ہیں۔ نو بڑی تنظیموں نے وائٹ ہاؤس کے نام اپنے کھلے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ ، موجودہ مالی سال کے دوران دو لاکھ پناہ گزین قبول کرے جن میں ایک لاکھ شامی ہوں۔ امریکہ شروع ہی سے مذہبی اور اقتصادی تارکین وطن کی سرزمین ہے۔ محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان کہتے ہیں کہ آبادکاری کی مد میں موجودہ مالی سال کے لئے ایک اعشاریہ ایک بلین ڈالر رکھے گئے ہیں جو ستر ہزار لوگوں کی جروریات کے لئے کافی ہوں گے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ پینتالیس ہزار شامی پہلے سے امریکہ میں آباد ہیں۔
 
ابتدائی برسوں میں کرسچن شامی امریکہ میں وارد ہوئے تھے مگر اب زیادہ تر مسلم مہاجر خانہ جنگی سے بھاگ رہے ہیں۔ جو ادارے تازہ وارددوں کی میزبانی کریں گے ان مٰن واشنگٹن ڈی سی، شمالی ورجینیا اور بالٹی مور کی کیتھولک تنظیمیں شامل ہیں۔ امریکی اخبارات کی اطلاعات کے مطابق جرمنی جو شروع میں پناہ گزین قبول کرنے میں سب سے آگے تھا، شامیوں میں عراقیوں ، افغانیوں اور پاکستانیوں کو شامل ہوتے ہوئے دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگا رہا ہے۔
مہاجروں اور پناہ کے متلاشیوں کے ایک بحربے کراں کا سامنا کرتے اب وہ یہ کہہ رہا ہے کہ آسٹریا کے ساتھ اپنے بارڈر کی پابندیاں سخت کر دے گا، عارضی طور پر سرحد تک ریلوے سروس معطل کرے گا اور ان سڑکوں کی دیکھ بھال تیز تر کر دے گا جن پر پیدل سفر کرتے ہوئے ہزاروں پناہ گیر برلن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ سب مہاجر دنیائے اسلام سے آئے ہیں اور مغربی یورپ میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔
خودکشی اور ترک وطن کے درمیان کوئی ایسا مرحلہ ہونا چاہئے جہاں انسان اپنی جان اور عزت بچا سکے۔ چند سال پہلے مجھے گوئٹے مالہ سے ایک خط ملا جس سے پتا چلا کہ پاکستانی، جنوبی امریکہ کے اس غریب ملک میں بھی پہنچے ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال آذربائیجان میں بہت سے پاکستانیوں کی موجودگی کا علم ہوا جو میڈیکل کی تعلیم کے لئے اس ملک مٰن داخل ہوئے تھے۔ جب مانگ بڑھے گی تو رسد میں بھی اضافہ ہوگا۔ سنتے ہیں کہ اسلام آباد ، لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ آںے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے جو انسانی سمگلروں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں۔ 
مبینہ طور پر ایک سمگلر نے ایک امیدوار سے پچپن ہزار ڈالر وصول کئے اور ویزا ملنے پر مزید چار ہزار ڈالر کی وصولی کی امید ظاہر کی ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس سمگلر اور اس گنجے چالیس سالہ شخص میں کوئی فرق نہیں جس نے شام سے ترکی میں گھس کر ایک فرسودہ سے ہوٹل مین دکان کھولی ہے اور شامی مہاجروں سے فی کس تیرہ سو ڈالر لیتا ہے ماسوا اس کے کہ وہ سستا ہے۔ ربر کی ایک ڈسپوزیبل کشتی میں ازمیر کے ساحل سے یونان تک سفر کراتا ہے اور اس کے ناپائیدار کشتی بعض اوقات منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے مسافروں سمیت ڈوب جاتی ہے۔
کوئی فرد آسانی سے اپنا وطن ہیں چھوڑتا۔ مہاجر بڈاپسٹ اور مشرقی یورپ کے دوسرے شہروں میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ان کا بس چلے تو وہ ترکی میں نہیں رکیں گے کیونکہ کسی زمانے میں وہ یورپ کا مرد بیمار کہلاتا رہا ہے ۔ وہ ازمیر سے پینتالیس منٹ دور یونان میں بھی نہیں ٹھہریں گے کیونکہ وہ یورپی ملک ہونے کے باوجود بدترین مالی بحران کا شکار ہے۔ انکی پہلی ترجیح شمالی امریکہ اور مغربی یورپ ہو گی جہاں چلنے پھرنے اور ووٹ دینے کی آزادی ہے، جہاں سرحدیں معدوم یا برائے نام ہیں اور جہاں ایک دوسرے ملک منتقل ہونے کیلئے ویزے کی درخواست نہیں دینی پڑتی۔
 پاکستان سے اعلی تعلیم کیلئے امریکہ آںے کے خواہش مند نوجوانوں کو مشورہ یہ ہے کہ اگر وپ واقعہ تعلیم کی غرض سے امریکہ کا ارادہ رکھتے ہیں تو پچپن ہزار ڈالر سمگلر کو مت دیں۔ قریبی امریکن سنٹر یا قونصل خانے جائیں، ان کے فارم بھریں ،تعلیمی ویزا لیں، امریکی درسگاہیں کاروباری بنیادوں پر کام کرتی ہیں۔ وہ چشم براہ ہیں۔ ہوائی جہاز کا ٹکٹ خرید کر امریکہ آئیں۔ آپ پڑھ لکھ کر یہاں ملازمت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ صدر اوباما غیر ملکی ذہنوں کو امریکہ میں رکھنے کے حامی ہیں۔
 
اکمل علیمی
بہ شکریہ روزنامہ  دنیا 

Migrant Crisis – What is left behind

A baby jacket is seen on a street next to a beach where refugees and migrants arrived on dinghies, on the Greek island of Lesbos.
Lifejackets hang on a tree on a beach where refugees and migrants arrived on dinghies, with the coasts of Turkey seen in the background, on the Greek island of Lesbos. 
A toothbrush is seen on a beach where refugees and migrants arrived on dinghies, on the Greek island of Lesbos. 
A packet of cigarettes is seen on a beach where refugees and migrants arrived on dinghies, on the Greek island of Lesbos. 
Kids clothes and a life jacket are seen on a beach where refugees and migrants arrive on dinghies, on the Greek island of Lesbos. 
A paper with details of a flight from Dubai to Istanbul is seen on a beach where refugees and migrants arrived on dinghies, on the Greek island of Lesbos. 
A pair of baby shoes are seen on a beach where refugees and migrants arrived on dinghies, on the Greek island of Lesbos. 
A shoe is seen on a railway track near a collection point in Roszke, Hungary. 
A passport photo left behind by a migrant is seen among seaweed on a beach on the Greek island of Lesbos. 
A child’s shoe is seen amongst possessions left behind by migrants and refugees after a rainstorm at the border crossing between Greece and Macedonia, near the Greek village of Idomeni. 
Stuffed animals are seen among possessions left behind by migrants and refugees after a rainstorm at the border crossing between Greece and Macedonia, near the Greek village of Idomeni. 
A child’s stuffed animal and a sandal are seen among possessions left behind by migrants and refugees after a rainstorm at the border crossing between Greece and Macedonia, near the Greek village of Idomeni. 
Migrants’ belongings, including a child’s buoyancy ring, litter the deck of a wooden boat from which migrants were rescued off the coast of Libya. 
High heeled shoes are seen among possessions left behind by migrants and refugees after a rainstorm at the border crossing between Greece and Macedonia, near the Greek village of Idomeni. 
Belongings of migrants are pictured in an underground station at the Keleti trainstation in Budapest, Hungary. 

یورپی شہروں میں پناہ گزینوں کی حمایت میں مظاہرے

یورپ کے متعدد شہروں اور آسٹریلیا میں دسیوں ہزار لوگوں نے جلوس نکال کر پناہ گزینوں کی حمایت میں ’یومِ عمل‘ میں حصہ لیا ہے۔
البتہ کچھ ملکوں میں پناہ گزینوں کی آمد کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔
یورپ تشدد اور غربت سے بھاگ کر شام اور دوسرے ملکوں سے آنے والے پناہ گزینوں کے بوجھ سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔
حکومت پناہ گزینوں کے لیے اپنی ذمہ داریاں سمجھے: جیرمی کوربن
دو دن میں مزید 40 ہزار پناہ گزین جرمنی آ سکتے ہیں
ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں 30 ہزار کے قریب لوگ پارلیمان کے باہر جمع ہوئے۔ وہ یہ نعرے لگا رہے تھے: ’زور سے بولو، پناہ گزینوں کا یہاں خیرمقدم ہے۔ 
ہفتے کے روز نو ہزار پناہ گزین جرمنی کے شہر میونخ پہنچے۔ جرمنی کو اس اختتامِ ہفتہ تک ملک میں 40 ہزار پناہ گزینوں کی آمد کی توقع ہے۔
جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ یہ درست فیصلہ ہے۔
لندن میں دسیوں ہزار لوگوں نے وزیرِاعظم کی رہائش گاہ ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کی طرف مارچ کیا۔ انھوں نے ہاتھوں میں پلےکارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: ’سرحدیں کھول دو،‘ اور ’پناہ گزینوں کو آنے دو۔ 
 
یورپ کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے جن میں دسیوں ہزار لوگوں نے شرکت کی
لیبر پارٹی کے نئے رہنما جیرمی کوربن نے اپنی نامزدگی کے بعد پہلا خطاب پارلیمنٹ سکوئر میں ایک مظاہرے میں شرکت کر کے کیا۔
پولیس کے ذرائع کے مطابق اس مظاہرے میں دسیوں ہزار افراد شریک تھے۔ اس قسم کے جلوس برطانیہ کے دوسرے شہریوں ایڈنبرا، گلاسگو اور کارڈف میں بھی نکالے گئے۔
لندن میں کوربن نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ’اپنے دل و دماغ کو کھولے اور مصیبت زدہ لوگوں کی جانب اپنا رویہ تبدیل کرتے ہوئے ان کی مدد کرے جو رہنے کے لیے محفوظ جگہ چاہتے ہیں اور جو ہمارے معاشرے میں کچھ کر کے اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ ہم سب کی طرح انسان ہیں۔ 
 
جرمنی کو توقع ہے کہ اس اختتامِ ہفتہ تک وہاں 40 ہزار پناہ گزین پہنچ جائیں گے
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اگلے پانچ برسوں میں 20 ہزار پناہ گزینوں لے گی، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں واقع کیمپوں سے، نہ کہ یورپ آنے لوگوں میں سے۔
سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں تقریباً ایک ہزار لوگوں نے پناہ گزینوں کی مزید فراخ دلانہ امداد کی درخواست کی۔
مظاہرے میں شریک یواکم نامی ایک شخص نے کہا: ’سویڈن مزید بہت کچھ کر سکتا ہے۔ نہ صرف اس لیے کہ اس کے پاس ایسا کرنے کی اہلیت ہے، بلکہ یورپی یونین کے ہمراہ اس پر شام کے تنازعے کی کچھ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔