شام کی سرزمین سے انسانیت کے نام

کرامہ مہاجر کیمپ کے انچارج کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ ادلب کے قریب  شامی سرحد کے اندر یہ کیمپ ترکی کی ایک رفاعی تنظیم انسانی حقوق و حریت (IHH) نے قائم کیا تھا۔ یہ کیمپ اس وقت سے قائم ہے جب سے جنگ کا آغاز ہوا اور ایسے کئی کیمپوں میں دن بدن اضافی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس وقت نو لاکھ شامی بارڈر پر موجود ان کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ان کے لیے ترک سکولوں میں داخلہ مفت ہے اور اسپتالوں میں علاج بھی مفت۔ یہ وہ خوش قسمت ہیں جو تھوڑی بہت جمع پونجی بچا کے ترکی آ گئے، کوئی ہنر جانتے تھے، یا تعلیم تھی اور یہاں کسی روزگار سے منسلک ہو گئے۔

یہ لوگ جس طرح کی رہائشوں میں رہ رہے ہیں وہ اذیت ناک ہیں۔ مثلا ایک برگیڈئیر کی بیوہ جس کے سامنے اس کے بھائی، خاوند اور باپ کو بشار الاسد کے فوجیوں نے اذیت دے کر مارا، اپنی بچیوں کے ساتھ ایک دوکان کرائے پر لیکر اس میں رہ رہی ہے لیکن کیمپوں میں رہنے والوں کی حالت انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اگر باپ کو کپڑے بدلنا ہوں تو پورے گھر کو باہر نکلنا ہوتا ہے اور یہی کچھ کسی دوسرے فرد کے کپڑے بدلنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ ان کیمپوں میں گذشتہ پانچ سال سے رہ رہے ہیں۔ یعنی جو بچہ جنگ شروع ہوتے پانچ سال کا تھا اب گیارہ کا ہو چکا ہے اور جو گیارہ کا تھا وہ سترہ کا۔ اس دوران یہ بچے نہ کسی سکول پڑھنے کے لیے گئے اور نہ ہی کوئی ہنر سیکھا۔ یوں اگر کچھ برسوں کے بعد شام میں امن آبھی جائے تو یہ نسل نہ تعلیم یافتہ ہو گی اور نہ ہی کسی ہنر سے آشنا۔ ان کے برعکس نا ڈاکٹر ہوں گے نا انجنیئر بلکہ نا ہئیر کٹنگ والے ہوں گے نہ ڈرائی کلین کرنے والے۔ ایک المیہ پروان چڑھ رہا ہے۔

کرامہ کے مہاجر کیمپ کا انچارج رو رہا تھا اور اس سے واقعہ بیان نہیں ہو رہا تھا۔ ہمت باندہ کر اس نے کہا کہ میں ڈاکٹر کے پاس ہسپتال میں گیا۔ اس وقت وہ ایک جنگی زخمی کے بدن سے بم کے ٹکڑے نکالنے جا رہا تھا۔ میں نے کہا آپ اپنا کا م کر لیں۔ اس نے کہا نہیں تم میرے ساتھ چلو گے، میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس بیہوش کرنے والی دوا Anesthesia نہیں ہے اور ہم مستقل آپریشن کر رہے ہیں۔ میں گھبرا گیا لیکن وہ میرا بازو پکڑ کر ساتھ لے گیا۔ جب اس نے اوزار تھامے تو ڈاکٹر بھی رو رہا تھا اور مریض کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔ اس بار اس نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر چھری سے جسم کا کاٹنا شروع کیا اور ساتھ ہی سورہ اخلاص پڑھتا رہا۔ مہاجر کیمپ کا انچارج کہتا ہے کہ میں میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس دوران مریض نے زبان سے اف تک نا نکالی بلکہ وہ مستقل حسبی اللہ و نعم الوکیل بڑھتا رہا۔ جب جسم سے بموں کے ٹکڑے نکال کر اسے سی دیا گیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ تم نے دیکھ لیا اس وقت سورہ اخلاص ہی ہمارا Anesthesia ہے۔

یہ صرف ادلب کے قریب ایک کیمپ کا ذکر ہے۔ یہ وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو بھاگ کر ان کیمپوں میں پناہ لینے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ یوں تو ان لوگوں کی داستانیں خون کے آنسو رلاتی ہیں لیکن ان کو اپنے ان بھائیوں کی فکر کھائے جاتی ہے جو شام کے شہروں میں محصور ہیں۔ دمشق اور حمص کے علاقوں سے آنے والے مہاجرین بتاتے ہیں کہ بشار الاسد کی فوج کا محاصرہ اس قدر اذیت ناک تھا کہ بچوں پر کئی کئی دن فاقے آتے تھے۔ ایک شخص نے ایک بوری چاول کے عوض اپنا پورا باغ بیچ دیا کہ اس سے بچوں کی بھوک نہیں دیکھی جا رہی تھی۔ جب سب کچھ ختم ہو گیا اور کھانے کے لیے کچھ بیچنے کو بھی باقی نہ تھا تو علماء نے فتویٰ دیا تھا کہ اب جان بچانے کے لیے بلیاں اور کتے بھی ذبح کر کے کھائے جا سکتے ہیں اور لوگوں نے وہ بھی کھائے۔

ترکی کی سرحد کے ساتھ آپ سفر کریں تو آپکو ہر شہر کے مقابل ایک شہر ملے گا۔ جیسے ریحان علی کے سامنے ادلب اور اس کے قرب و جوار ہیں۔ غازی انتب کے سامنے حلب کا علاقہ ہے۔ اب تک نو لاکھ افراد اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں اور اس وقت گیارہ لاکھ شامی بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ ترکی کی سرحد کے اندر جو دارالیتامیٰ یعنی یتیم خانے کھولے گئے ہیں، ان کے اندر جانا بھی ایک تکلیف دہ تجربہ ہے۔ بچے آپ سے ایسے لپٹ جاتے ہیں جیسے کوئی بچھڑا ہوا باپ یا بھائی گھر آ گیا ہو۔ ایک یتیم خانے میں داخلہ ہوا تو میرے ہاتھ میں مائیک دیکھ کر بچیاں اس سے کھیلنے لگ گئیں۔ کبھی کچھ کبھی کچھ اچانک ایک ساتھ کھڑی ہو کر خوبصورت قرات کے ساتھ سورہ کہف پڑھنے لگ گئیں۔ ان پانچ چھ سال کی بچیوں کو کیا علم کہ اس سورت کو آج کے دور میں پڑھنے کی کس قدر اہمیت ہے۔ رسول اللہ نے اسے فتنہ دجال سے حفاظت کے لیے پڑھنے کی تلقین کی ہے۔

ادلب میں کچھ دن پہلے بشار الاسد نے کیمیکل ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا، میں کیمپ کے اس ہسپتال بھی گیا جہاں وہ بچے لائے گئے تھے اور ان بچوں سے بھی ملا ہوں۔ ان کی تکلیف کی کہانیاں اس قدر درد واذیت سے بھرپور ہیں کہ کوئی پتھر دل والا بھی ایک کہانی کے بعد دوسری سننے کی تاب نہیں لا سکتا۔ ریحان علی کا وہ ہسپتال جس میں ان کا علاج ہوا وہاں کسی نے ان بچوں سے پوچھا کہ یہ کس نے کروایا؟ بچے پکارتے تھے بشار الاسد۔ ایک بچہ جو ذرا بڑا تھا اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رہا تھا، ابھی کیمیائی ہتھیاروں کے اثر سے پوری طرح باہر نہیں نکلا تھا۔ ایک دم غصے سے تلملا اٹھا اور سانس بحال کر کے بولنے لگا۔ جہاز بشار الاسد کے پاس ہیں یا پھر روس اور امریکہ۔ پھر اس بچے نے عالمی سیاست کی گھتی سلجھاتے ہوئے کہا کہ روس اور امریکہ تو بشار کے یار ہیں۔

غازی انتب کا شہر حلب کے ساتھ جڑا ہے۔ پہلے یہ بھی حلب کا حصہ ہوتا تھا لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد جب خلافت عثمانیہ ٹوٹی تو حصہ فرانسیسی شام میں چلا گیا۔ غازی انتب سے حلب کے علاقے میں داخل ہوں تو پہلے جرابولس کا شہر آتا ہے۔ یہاں پر”احرار الشام” کا کنٹرول ہے اور پورا شہر برباد ہو چکا تھا لیکن اب کسی حد تک واپسی کی جانب لوٹ رہا ہے۔ شہر کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا مہاجر کیمپ ہے جس کے رہنے والے خوبصورت بچے ایسے لگتا ہے انہوں نے کئی ماہ سے منہ نہیں دھویا۔ یہ علاقہ پہلے داعش کے پاس تھا ، یہاں پہ کردوں کی PKK اور پیش مرکہ بھی مورچہ زن تھے۔ اب یہ علاقہ ایک گروہ کے کنٹرول میں ہے اس لیے یہاں امن ہے لیکن اس کے ہسپتال میں روزانہ سو سے زیادہ عورتیں اور بچے لائے جاتے ہیں جو اس خوفناک جنگ کے زخمی ہیں اور انہیں علاج کی فوری ضرورت ہے۔ ان میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہوتی ہے۔ مرد، یوں لگتا ہے کہ امریکہ، روس، ایرانی پاسداران، بشار الاسد کا نشانہ ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کی شام مہں ان کا کوئی مخالف مرد زندہ نہ رہے۔

  بشکریہ روزنامہ 92 نیوز

اوریا مقبول جان

Advertisements

بیروت کا ٹیکسی ڈرائیور اور او آئی سی

ابو جعفر بیروت کا ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا جو مجھے بیروت سے دمشق چھوڑنے
جا رہا تھا ۔ ہماری ٹیکسی لبنان سے شام میں داخل ہوئی تو ابوجعفر نے دور سے نظر آنے والی پہاڑیوں کی طرف مجھے متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ گولان کا علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ابو جعفر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر بیروت اور بغداد کو تباہ کر دیا اب وہ دمشق اور تہران سے ہوتا ہوا مکہ پہنچنے کی تیاری کر رہا ہے اور بدقسمتی سے اسے صرف امریکہ کی نہیں بلکہ بہت سے مسلمانوں کی حمایت بھی حاصل ہو گی ۔ میں کافی دیر سے اسکی عربی لہجے میں انگریزی تقریر سن رہا تھا اور خاموش تھا۔

لیکن جب اس نے کہا کہ اسرائیل نے بیروت اور بغداد کے بعد دمشق کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے تو میں نے ابوجعفر سے پوچھا کہ دمشق میں اسرائیل کو کیا چاہئے ؟ ابوجعفر نے فوراً بلند آواز میں کہا کہ مسلمان اپنی تاریخ بھول چکے ہیں لیکن صیہونی تاریخ کو نہیں بھولتے وہ صلاح الدین ایوبی کے مزار تک پہنچنا چاہتے ہیں ۔ صلاح الدین ایوبی نے صلیبی جنگوں کے دوران بیت المقدس پر اسلامی جھنڈا لہرایا تھا، صیہونی صلاح الدین ایوبی کے مزار پر اپنا جھنڈا لہرانا چاہتے ہیں ۔ یہ سن کر میں خاموش رہا ۔ ابو جعفر کو شک گزرا کہ شاید میں اس کے ساتھ اتفاق نہیں کر رہا ۔ اس نے اپنے بائیں ہاتھ کی انگلی سینے پر رکھی اور کہا کہ میں ابو جعفر ہوں، جب اسرائیلی فوج بیروت میں گھس گئی تو میں اسے پتھر مارنے والے نوجوانوں میں شامل تھا مجھے گرفتار کر کے اسرائیل کی جیل میں بند کر دیا گیا میں نے صیہونیت کو اسرائیل کی جیلوں میں بہت قریب سے دیکھا ہے جو مجھے نظر آ رہا ہے وہ تمہیں اور بہت سے مسلم ممالک کے حکمرانوں کو نظر نہیں آ سکتا ۔

باتیں کرتے کرتے ہم دمشق کے قریب پہنچ گئے۔ ابو جعفر کا اصرار تھا کہ میں سیدھا دمشق ایئرپورٹ جائوں اور جلد از جلد شام سے نکل جائوں لیکن میں دمشق میں ایک دن کیلئے رکنا چاہتا تھا تا کہ سیدہ زینبؓ بنت علی ؓ اور صلاح الدین ایوبی کے مزارات پر فاتحہ خوانی کر سکوں ۔ لبنان اور اسرائیل کی جنگ کے دوران تین ہفتوں تک ابو جعفر نے میرے لئے ٹیکسی ڈرائیور کے علاوہ مترجم اور گائیڈ کا کام کیا تھا ۔ اس نے مجھے بڑے ہمدردانہ انداز میں سمجھاتے ہوئے کہا کہ دمشق ایئرپورٹ دنیا کے دیگر ایئرپورٹوں سے مختلف ہے یہاں بہت زیادہ غیر ضروری سوالات کئے جاتے ہیں تمہارے پاس ریزرویشن بھی نہیں ہے تمہارا پاسپورٹ بھی پاکستانی ہے میری گزارش ہے کہ دمشق میں ایک رات رکنے کی بجائے سیدھے ایئرپورٹ جائو اور یہاں سے نکلنے کی کوشش کرو۔

میں نے پوچھا یہاں پاکستانی پاسپورٹ پر کیا اعتراض کیا جاتا ہے؟ ابو جعفر نے کہا اعتراض پاکستان پر نہیں پاکستان کے صدر پرویز مشرف پر ہے جسے اسرائیل کا دوست سمجھا جاتا ہے کیونکہ شمعون پیریز اسکی بہت تعریف کرتا ہے ۔ میں نے ابو جعفر کے مشورے پر اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مجھے سیدہ زینب ؓ کے مزار کے پاس واقع ہوٹل پہنچا دو اور تم واپس بیروت جائو ۔ اس نے مجھے ہوٹل اتارا، کرایہ وصول کیا اور جاتے جاتے انگریزی میں کہنے لگا کہ صلاح الدین ایوبی کے مزار پر یہ دعا ضرور کرنا کہ اس مزار تک صیہونیوں کے قدم کبھی نہ پہنچیں ۔ ابوجعفر کے ساتھ میری یہ گفتگو 2006ء میں ہوئی جب میں لبنان اور اسرائیل کی جنگ میں تین ہفتے گزار کر واپس آ رہا تھا۔ 2011ء میں شام کے مختلف علاقوں میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو مجھے ابوجعفر کی باتیں یاد آئیں لیکن پھر میں نے سوچا کہ یہ خانہ جنگی جلد ختم ہو جائے گی ۔

چھ سال گزر گئے یہ خانہ جنگی ختم نہ ہوئی اور لاکھوں معصوم لوگ مارے گئے ۔جمعہ کی رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکہ نے شام پر 59 توماہاک میزائل داغ دیئے ۔ یہ وہی میزائل ہیں جو 1998ء میں طالبان کے خلاف افغانستان میں استعمال کئے گئے تھے ۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے شام کے صدر بشار الاسد کی طرف سے باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کیلئے میزائلوں سے حملہ کیا جبکہ بشار الاسد کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے انکار کر رہا ہے ۔

 یہ وہی سرزمین ہے جہاں کسی زمانے میں حضرت خالدؓ بن ولید کی قیادت میں مسلمانوں نے اپنے سے کئی گنا بڑی ہرقل کی فوج کو شکست دی تھی اور اسی جنگ میں حضرت ضرار ؓاپنی شجاعت کے جوہر دکھاتے ہوئے دشمنوں کی فوج کے اندر گھس گئے اور گرفتار ہو گئے ۔ پھر انکی رہائی کیلئے ہونے والی جنگ میں انکی بہن حضرت خولہؓ نے بھی بہادری کے جوہر دکھائے ۔ اس جنگ میں اسلامی لشکر کے پرچم پر عقاب بھی موجود تھا ۔ یہ عقاب آج بھی متعدد عرب ممالک کے پرچم پر نظر آتا ہے لیکن افسوس کہ کچھ عرب قائدین عقاب کی نظر سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہیں دوست اور دشمن کی پہچان نہیں رہی ۔

بشار الاسد نے اپنے مخالفین پر ظلم وستم کیا تو اسلامی ممالک کی تنظیم اوآئی سی نے یہ معاملہ اپنے فورم پر طے کرنے کی بجائے شام کی رکنیت معطل کر دی ۔ شام پر امریکی میزائلوں کے حملے کی نیٹو کے علاوہ جاپان، سعودی عرب، ترکی اور اسرائیل نے حمایت کی ہے جبکہ روس، چین، عراق اور ایران نے اس حملے کی مذمت کی ہے ۔ انڈونیشیا نے شام اور امریکہ دونوں کی جارحیت کو قابل مذمت قرار دیا ۔ شام پر امریکی حملے کے بعد مسلم ممالک میں تقسیم واضح ہو چکی ہے اور مجھے بار بار ابوجعفر کے الفاظ یاد آ رہے ہیں ۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ شام کی خانہ جنگی میں پاکستان اور افغانستان کے نوجوان دونوں فریقوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں ۔ بشار الاسد کے حامی نوجوانوں کو ایران کے راستے شام بھیجا جاتا ہے اور بشارالاسد مخالف نوجوانوں کو ترکی کے راستے شام بھیجا جا رہا ہے ۔

پاکستان کو شام اور امریکہ کے اس تنازع میں بہت محتاط رہنا ہو گا کیونکہ جنرل راحیل شریف کی طرف سے 39 رکنی فوجی اتحاد کی سربراہی کو پاکستان کی ریاستی پالیسی قرار دیئے جانے کے بعد امریکہ کے جنگی جرائم کا ملبہ پاکستان اور سعودی عرب پر گرنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب یہ واضح کریں کہ 39 ممالک کا فوجی اتحاد شام کے خلاف کسی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا ۔ سعودی عرب نے امریکی حملے کی حمایت کر دی ہے تاہم پاکستان کو امریکی حملے کے ساتھ ساتھ بشار ا لاسد کی طرف سے اپنے مخالفین پر کئے جانے والے ظلم کی کھل کر مذمت کرنی چاہئے اور او آئی سی کے ذریعے اس خانہ جنگی کے خاتمے کا راستہ اختیار کرنا چاہئے ۔

اس خانہ جنگی کی طوالت پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دیگی جس کا فائدہ صرف اور صرف مسلمانوں کے دشمنوں کو ہو گا۔ مجھے ابوجعفر سے کئی سال بعد اتفاق کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر مسلمانوں نے اپنے فرقہ وارانہ اختلافات کی بنیاد پر آپس میں لڑنا بند نہ کیا تو ٹرمپ کا امریکہ اور مودی کا ہندوستان مل کر ہمیں ایک دوسرے کے ہاتھوں (خدانخواستہ) برباد کرائے گا جس کی مثال بھارت اور بنگلہ دیش کا دفاعی معاہدہ ہے جو امریکہ نے کرایا ہے ۔

حامد میر

شام میں ایک بار پھر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اور اقوام عالم کی بحسی

شام کے شہر ادلب سے آنے والی خبروں کے مطابق شہریوں پر ہولناک کیمیائی حملہ کیا گیا۔ اگست 2013 کیے جانے والے سارن حملے کی طرح اس دفعہ بھی لوگوں کے کئی ایسے بیانات اور ویڈیو شواہد سامنے آئے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شہریوں پر ایک مخصوص قسم کا کیمیائی ہتھیار استعمال کیا گیا ہے جو ‘نرو ایجنٹ’ کہلاتا ہے۔ چار سال پہلے کیے جانے والے حملے میں کیمائی مادہ سارن استعمال کیا گیا تھا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نرو ایجنٹ کے ثبوت کی تصدیق ویڈیو کی مدد سے نہیں ہو سکتی۔

مائع حالت میں پائے جانے والے نرو ایجنٹس سے اثر انداز ہونے والے افراد ان لوگ کے مقابلے میں مختلف رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں جو گیس والے نرو ایجنٹس سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ البتہ تمام نرو ایجنٹس انسانی جسم کے اندر جا کر ایک ہی طریقے سے رد عمل کرتے ہیں۔ شام میں استعمال ہونے والا کیمائی عنصر شاید سارن نہ ہو لیکن بہت ممکن ہے کہ وہ کوئی اور نرو ایجنٹ ہو۔ ادارہ برائے ممانعتِ کیمیائی ہتھیار (او پی سی ڈبلیو) کی جاری کی گئی دستاویزات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کے پاس وی ایکس نامی نرو ایجنٹ بنانے کی پوری صلاحیت ہے۔ ایک اور ممکنہ کیمیائی عنصر ٹابن بھی ہو سکتا ہے جو عراق نے 80 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر بنایا تھا۔

ٹابن کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ تیار کرنے میں آسان ہے لیکن دوسری جانب وہ وی ایکس اور سارن کے مقابلے میں وہ اتنا جان لیوا نہیں ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی نرو ایجنٹس ہو سکتے ہیں لیکن ان کو بنانا اتنا آسان نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک مشترکہ طور پر کوشش کی جائے کہ شواہد جمع کیے جائیں اور فورینسک تفتیش سے یہ ثابت ہو کہ کون سا نرو ایجنٹ استعمال کیا گیا تھا۔ لیکن اگر نرو ایجنٹ کا استعمال ثابت ہو جاتا ہے، اس کے بہت گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہو گا کہ شام میں معاملات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ کلورین کے بجائے اب نرو ایجنٹ استعمال ہو رہا ہے۔

اور یہ شاید اس لیے ہو رہا ہے کہ کلورین استعمال کرنے پر کوئی سزا نہیں ملی اور نہ ہی زیادہ اموات ہوئیں۔ اسد حکومت کی جانب سے نرو ایجنٹس کا استعمال یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ جب او پی سی ڈبلیو اور کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن میں شامل ہوئے تھے تو انھوں نے مکمل طور پر حقائق سے آگاہ نہیں کیا تھا کہ ان کے پاس کیمیائی ہتھیار بنانے کی اور اسے ترسیل کرنے کی صلاحیت ہے۔ البتہ یہ بات پریشانی کا باعث ہے کہ پابندیوں کے باوجود یہ ہتھیار بنانے کے لیے ضروری کیمیکل کہاں سے آئے۔

سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ بین الاقوامی برادری کی بھرپور ناکامی ہے کہ وہ ان معاہدوں کے باجود کیمیائی حملوں کو روک نہیں سکی۔ سارن سمیت یہ تمام کیمیائی ہتھیار عمومی طور پر صرف شہریوں کے خلاف استعمال ہوتے ہیں اور یہ ان تمام پابندیوں کی کھلے عام خلاف ورزیاں کرتے ہیں جن کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ممنوع ہے۔

شام میں استعمال کی جانے والی “سیرین” گیس کیا ہے ؟

شام میں بشار حکومت کی جانب سے منگل کے روز اِدلِب میں استعمال کی جانے والی سیرین گیس.. 1938 جرمنی میں دریافت کی گئی۔ انتہائی زہریلی نوعیت کی اس گیس کی کوئی بُو اور رنگ نہیں ہوتا۔ سیرین گیس کا اثر چند سیکنڈوں کے اندر ہو جاتا ہے جب کہ سیال حالت میں اس گیس کے اثر انداز ہونے کے لیے چند منٹ درکار ہوتے ہیں۔ اس گیس کو سونگھ لینے یا جلد کو چھو جانے کی صورت میں یہ غدود اور پٹھوں کے درمیان اعصابی سیال کو معطل کر دیتی ہے۔

اس کی تھوڑی سی مقدار کے نتیجے میں نکسیر اور آنسو بہنے کے ساتھ ساتھ ہذیانی کیفیت اور بے تحاشہ پسینہ آنے کی حالت سامنے آ سکتی ہے۔ چکر اور قے آنے کے علاوہ سانس لینے میں شدید دشواری ہو جاتی ہے۔ البتہ اس کی نصف ملی گرام مقدار انسان کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے۔ متاثرہ شخص کو ایک سے دس منٹ کے دوران ہوش کھو بیٹھنے ، جسم اکڑ جانے اور نظامِ تنفس مفلوج ہو جانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے بعد وہ موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

شامی مہاجرین کی حالتِ زار

شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے شام کی آدھی سے زیادہ آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ ان میں سے آدھے لوگ تو شام ہی میں آئی ڈی پیز بن کر زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 50 لاکھ سے زائد لوگ ترکی، لبنان، سعودی عرب، یونان اور چند ہزار مغربی ممالک میں مہاجرین بن کر زندگی گزار رہے ہیں۔ لبنان اور مغربی ممالک میں رہنے والے شامی مہاجرین کو اس حد تک مجبور کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے کچھ اپنے مذہب کو چھوڑ کر عیسائی بننے پر مجبور ہو گئے ہیں جس کی مغربی ممالک خوب تشہیر کر رہے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر تشہیر کی جا رہی ہے کہ اتنے مسلمان مذہب تبدیل کر چکے ہیں۔ پوری دنیا میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کے ہوتے ہوئے ان کے کلمہ گو مسلمان بھائی بھوک، پیاس اور امن کی خاطر اپنا دین چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک نے شامی مہاجرین کے بارے میں ابھی تک صحیح لائحہ عمل اختیار ہی نہیں کیا۔

روشن کردار برادر ملک ترکی نے ادا کیا ہے جس نے اپنے ملک میں نامساعد حالات کے باوجود 30 لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین کو بسایا ہوا ہے۔ انہوں نے شامی مہاجرین کو اپنے شہروں میں رکھا ہوا ہے۔ مہاجرین کو ملازمتیں بھی دی ہوئی ہیں۔ زیادہ تر شامی مہاجرین شام ترکی بارڈر پر مختلف کیمپوں میں رہ رہے ہیں جہاں وہ خراب حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان میں شامی مہاجرین کے ریلیف کے لیے ابھی تک کوئی خاص کام نہیں ہوا۔ چند تنظیمیں اپنے طور پر کام کر رہی ہیں۔ پاکستان میں شامی مہاجرین کے لیے کام کرنے کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان کے لئے ترپالیں، گرم کپڑے، بچوں اور عورتوں کے کپڑے، بچوں کے لیے دودھ تحائف اور دوسری اشیاء بھجوا دی گئی ہیں ۔

یہ تمام اشیاء ترکی پہنچ گئی ہیں اور استنبول میں ترکی کی این جی او ’’حیرات فائونڈیشن‘‘ کے تحت شامی مہاجرین میں تقسیم کی جائینگی۔ وہاں مہاجرین کے لیے ایک منی ہسپتال قائم کر کے اس کے علاوہ ایک روٹی پلانٹ بھی لگایا جائے گا۔ شامی مہاجرین کی حالتِ زار تمام مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ آپ ﷺکے ارشاد مبارک کے مطابق تو تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ ایک حصہ میں تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔ اس وقت شام کے مسلمانوں کو ہمدردی، سہارے اور ہر قسم کی ریلیف اشیاء کی ضرورت ہے۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ شام کے مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے آگے آئیں۔

ڈاکٹر آصف محمود جاہ (ستارئہ امتیاز)

حلب کے کھنڈرات میں پھول اُگانے والا – شام میں بمباری پر لکھی گئی ایک تحریر

حلب کی ڈاکٹر ہدا کی جانب سے ملنے والی اُس ای میل کو میں نے دنوں بعد کھولا ہے۔ ڈاکٹر ہدا کا تعلق حلب شہر سے تھا۔ اُن سے میرے ای میل رابطے شام کی صورت حال کو سمجھنے میں بڑے معاون ثابت ہوئے۔ خود ہم بھی تو اِسی منجدھار میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ دھرتی کتنی بے وفا ہے؟ اتنا خون پیتی ہے۔ اتنے لعل و گہر نگلتی ہے۔ مگر نہ اس کی پیاس بجھتی ہے اور نہ اس کا پیٹ بھرتا ہے۔ میں ڈاکٹر ہدا کی میل پڑھتی ہوں۔ آنکھیں گیلی ہیں۔ لکھتی ہیں۔ ’’پروردگار تیری کائنات میں کیسے کیسے لوگ ہیں؟ کہیں اگر ظالم، زندگی ختم کرنے والے، اس کا حُسن گہنانے والے ہیں تو وہیں زندگی کا حُسن بڑھانے اور اسے بچانے والے بھی ہیں۔‘‘ ’’یہ کیسی دکھ بھری بات ہے کہ میں تمہیں گزشتہ بہت سارے مہینوں سے کتنے ہی المناک اور دکھ بھرے واقعات جو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کے حامل میرے اِس شہر حلب کے قلب و جگر سے پھوٹ رہے ہیں سنا سنا کر تمہاری محبت کا پتہ پانی کر رہی ہوں۔ خود تو روتی ہوں مگر تمہیں بھی رُلا رہی ہوں‘‘۔

مگر دیکھو !آج میں اِن سب تاریک پہلوؤں کے ساتھ ساتھ ایک ایسا رُخ بھی دکھانے لگی ہوں جو بہت ہی اُمید افزا ء ہے۔ یہ اُمید کی وہ کرنیں ہیں جو گھُپ اندھیروں میں کہیں کہیں چمک کر حوصلہ بڑھاتی ہیں۔ جو انسانیت کے زندہ ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔ جو کہتی ہیں کہ جب تک کرہ ارض پر ایسے لوگ موجود ہیں اُس وقت تک مایوس ہونے کی ضرور ت نہیں۔ یہ نئی نسل کے وہ نوجوان ہیں جو شب وروز اپنے ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔ وہ کہیں ٹینٹ ، کہیں تباہ شدہ عمارتوں، کہیں درختوں کے نیچے، کہیں کھُلے میدانوں میں تنبو ،قناتوں میں سکولوں میں بچوں کو پڑھاتے اور کہیں انہیں قطرے پلاتے کہیں ان میں زندگی کا حوصلہ اور جینے کی اُمنگ پیدا کرتے ہیں۔

ابوال ورد (پھولوں کا باپ) بھی ایسا ہی کردار ہے۔ مشرقی حلب کے عین مرکزی حصّے میں جو تہذیبوں کا مرکز ہے۔ جہاں سڑکیں ایک دوسرے کوکاٹتی ہیں جہاں چورا ہے ہیں وہیں گذشتہ پانچ سالوں سے وہ حکومت کے خلاف کھڑا ہے۔ کلسٹر اور بیرل بموں کی آگ اور خون، موت اور تباہی کے ریگستان پر زندگی کی، روشنی کی، آس امید کی بھینی بھینی خوشبوئیں دیتے پھولوں کے نخلستان کی آبیاری میں مصروف ہے۔ اگر حکومت اپنی کرسی ،اپنا اقتدار بچانے کے لئے شہر کی خوبصورت عمارتوں کو کھنڈر بنانے، سکولوں میں شام کا مستقبل ختم کرنے، اسپتالوں میں بیماروں کو قبریں دینے اور بستے رستے شہر کو اپنے مہلک سازوسامان کے ساتھ تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے تو وہیں ایک عام سا معمولی آدمی بھی اپنے اِن چھوٹے چھوٹے معمولی سازوسامان سے مقابلہ کرنے پر کمربستہ ہے۔

اس کا کہنا ہے میری یہ کچی پکی دیواروں میں گھری، مٹی کی سوندھی خوشبو میں بسی پھولوں اور پودوں سے سجی جگہ اربوں ڈالرسے بھی زیادہ قیمتی ہے۔اس کا تیرہ سالہ بیٹا ابراھیم اس کے ساتھ ہے۔ وہ پھول اُگاتا ہے، سبزیاں ، سلاد کے پتے ، زیتون پیدا کرتا ہے۔ پھر انہیں بہت معمولی قیمت پر اُن لوگوں کو فراہم کرتا ہے جو گھروں میں محصور ہیں، جن کے مرد باہر چلے گئے ہیں یا مارے گئے ہیں۔ پانی اور خوراک کی کمی ہے۔ وہ حیران ہوتا ہے۔ وہ انقلاب چاہتا ہے۔ ایسا انقلاب جہاں عام آدمی اپنے بل بوتے پر اوپر جا سکے۔ وہ بمباری ختم ہونے پر نکلتا ہے اور کہتا ہے ہم جو آمریت کے خلاف کھڑے ہیں ہمیں یہ آوازیں بیھتوون کی موسیقی لگتی ہیں۔ یہ دنیا خاص لوگوں کے لئے نہیں عام لوگوں کے لئے بنی ہے۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اِسے دوبارہ بنانا ہے خواہ یہ کتنی ہی تباہ کیوں نہ ہوجائے۔

شعروں سے، پھولوں سے، موسیقی سے، محبت سے اوریقین سے۔ جنگ شروع ہوئی تھی تب ابراھیم آٹھ سال کا تھا۔ سکول جاتا تھا۔سکول کھنڈر بننے لگے تو وہ باپ کے ساتھ پھول اگانے لگ گیا۔ دونوں باپ بیٹا گلاب کے سُرخ پھولوں کے ساتھ چوک میں کھڑے ہوتے تو پانچ لاکھ آبادی والا شہر جہاں اب صرف ڈھائی لاکھ لوگ رہ گئے تھے ۔ گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں پر سوار یا پیدل چلتے ہوئے اِن خوشنما پھولوں کو دیکھ کر، جیسے وہ جی اٹھتے۔ انہیں محسوس ہوتا کہ زندگی ابھی باقی ہے ،اُس کا حُسن بھی باقی ہے۔ اُس کی مسحور کن خوشبو زندگی کی پیامبر ہے۔ پر سلمیٰ میں کیا بتائوں۔ کیا لکھوں کہ وہ جو سارے شہر میں امیدیں بانٹتا پھرتا تھا۔ وہ جو حلب کی امید تھا۔ بیرل بم نے اُسے شکار کر لیا۔

 اس کے باغ کے قریب پھٹا اور وہ ختم ہو گیا۔ معصوم سے ابراھیم نے میرے گلے لگ کر اتنے آنسو بہائے کہ میرے پاس تسلی بھرے لفظوں کا کال پڑ گیا۔ میں تو اُس عظیم انسان کے لئے کھل کر پُرسہ بھی نہ دے سکی۔ اس کی ہنستی مسکراتی تصویر میرے دل میں آویزاں ہے۔ مجھے حوصلہ دیتی ہے۔ آغاز میں تو بمباری کی صورت پھر کچھ کم تھی کہ فورسز کے پائلٹ موسم کے ابر آلود اور خراب ہونے کی صورت میں بمباری نہ کر سکتے تھے۔ ہم خوش ہوتے اور دعائیں مانگتے ۔ پروردگار دھواں دھار قسم کی بارش ہوتی رہے۔ لیکن یہ جب سے روسی طیاروں نے دوستی کا حق ادا کرنا شروع کیا ہے۔ اُن کے کہنہ مشق پائلٹوں کے لئے ایسی سب چیزوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اب کیا کہوں؟ ہمہ وقت آسمان سے موت اترتی رہتی ہے۔ ہم حکومت کے بہت خلا ف ہیں۔ اس نے انسانیت کو جیسے تباہ کیا ہے اس کی مثال مشکل ہے۔ اب مرد ہی نہیں عورتیں بھی سربکف ہیں۔ دو دشمنوں کے خلاف حکومت اور داعش کے خلاف۔

دنیا کی بے حسی کا شکار شامی بچے

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ سنہ 2016 شام کے بچوں کے لیے بدترین سال رہا کیونکہ شام میں جاری جنگ کے دوران سب سے زیادہ بچے اسی سال ہلاک ہوئے ہیں۔ ادارے نے بتایا کہ گذشتہ سال کم از کم 652 بچے ہلاک ہوئے اور ان میں سے 255 بچے سکول یا اس کے پاس مارے گئے۔ یہ تعداد 2015 میں مارے جانے والے بچوں سے 20 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ میں مصدقہ اموات کا ہی ذکر کیا گیا ہے تاہم یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ یونیسیف نے یہ خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ گذشتہ سال 850 سے زیادہ بچوں کو لڑنے کے لیے بھرتی کیا گیا ہے اور یہ تعداد سنہ 2015 کے مقابلے دگنی ہے۔ بھرتی کیے جانے والے بچوں کو عام طور پر محاذ پر لڑنے کے لیے بھیجا گیا اور بعض معاملات میں انھیں پھانسی دینے والے، خودکش حملہ آور اور جیل کے محافظوں کے طور پر بھی استعمال کیا گيا۔

شام کی خانہ جنگی اپنے چھٹے سال میں داخل ہو چکی جس کی وجہ سے وہاں کے تقریبا 60 لاکھ بچے انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد پر منحصر ہیں. مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے یونیسیف کے ڈائریکٹر گیرٹ کیپیلارے نے شام کے شہر حمص میں بتایا کہ ’شامی بچوں کی تکالیف کی کہیں مثال نہیں ملتی ہے۔ شام میں لاکھوں بچے روزانہ ہونے والے حملوں کی زد میں ہیں اور ان کی زندگی برباد ہو چکی ہے۔‘ شام کی خانہ جنگی اپنے چھٹے سال میں داخل ہو چکی جس کی وجہ سے وہاں کے تقریباً 60 لاکھ بچے انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد پر منحصر ہیں۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ ان میں سے 23 لاکھ بچے تو ملک سے باہر نقل مکانی کر چکے ہیں لیکن 28 لاکھ بچوں کو سب سے زیادہ سنگین صورت حال کا سامنا ہے کیونکہ وہ دور افتادہ کے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان میں سے پونے تین لاکھ سے زیادہ تو محصور علاقوں میں ہیں۔

گیرٹ کیپیلارے نے مزید کہا: ’صحت، دیکھ بھال اور مستقبل کے حوالے سے ہر ایک بچے کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔‘ گذشتہ ہفتے فلاحی ادارے سیو دا چلڈرن نے متنبہ کیا تھا کہ لاکھوں بچے ’زہریلے دباؤ‘ کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس خیراتی ادارے نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ان کی فوری مدد نہیں کی گئی تو انھیں اس سے نکالنا مشکل ہو گا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو تہائی بچے کسی نہ کسی اپنے سے محروم ہو گئے ہیں، یا ان کے گھر بمباری اور شیلنگ کی زد میں آئے ہیں یا پھر وہ جنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔

‘حلب‘ بھوتوں کا شہر‘ جو کچھ ہوا وہ جنگی جرم تھا

شام کے شمالی شہر حلب میں خون کی ندیاں بہا دینے کے بعد امن تو قائم ہوا مگر شہر مکمل طور پر تباہ وبرباد اور ویران ہو چکا ہے۔ آبادی سے خالی اور تباہی و بربادی کے بدترین مناظر دیکھنے والوں کے رونگٹے کھڑی کر دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے کہ حلب کو چھڑانے کے لیے شامی حکومت کی طرف سے جو قیامت ڈھائی گئی وہ جنگی جرم ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے حلب میں جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گذشتہ دسمبر میں مشرقی حلب سے لاکھوں عام شہریوں اور جنگجوؤں کو نکال باہر کرنا ‘جنگی جرم‘ تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقی حلب سے آبادی کا انخلا وہاں پر لڑنے والے حکومت اور اپوزیشن کے گروپوں کے درمیان ایک تزویراتی بنیادوں پر کیا گیا جس میں شہریوں کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔ فوجی ضرورت کے پیش نظر شہروں کےانخلاء کی اجازت دینے کے بعد مخصوص گروپوں نے جبرا شہریوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا۔ ایسا کرنا سنگین جرم تھا جسے جنگی جرم ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں نے اپنی تازہ رپورٹس میں جولائی 2016ء سے 22 دسمبر 2016ء کے درمیانی عرصے میں مشرقی حلب پر روزانہ کی بنیاد پر شامی اور روسی فوج کی بمباری کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ رپورٹ کےمطابق بمباری کے دوران دانستہ طور پر لاکھوں شہریوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کے لیے اسپتالوں، اسکولوں اور شہری آبادی کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔

اقوام متحدہ کے قافلے کو قصدا نشانہ بنایا گیا اقوام متحدہ کےتحقیقاتی کمیشن نے الزام عاید کیا ہے کہ شامی فوج کی طرف سے حلب میں امداد لے جانے والے عالمی امدادی قافلے کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا جنگی جرم تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ گذشتہ برس دسمبر میں مغربی حلب میں ایک اقوام متحدہ اور ہلال احمر کے مشترکہ امدادی قافلے پر بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں امدادی کام بری طرح متاثر ہوا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ شامی فوج کی طرف سے امداد لے جانے والے کارکنوں پر بمباری کرنا سنگین جنگی جرم ہے اور اس کی تحقیقات کی جانی چاہئیں کہ آیا اقوام متحدہ کے امدادی قافلوں پر بمباری کیوں کی گئی تھی۔

حلب سے نکلنے والے افراد کا مستقبل کیا ہو گا ؟

29Syria-master768

گو کہ اب محصور افراد کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن شام میں  باغیوں کے زیر قصبہ شمالی حلب میں موجود عام شہریوں اور جنگجوؤں کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔ نکلنے والے زیادہ تر افراد ہمسایہ صوبے ادلب میں پناہ لے رہے ہیں جہاں امدادی تنظمیوں کے مطابق حالات ناساز گار ہیں خوراک اور ادویات کی قلت ہے۔

کتنے افراد کا انخلا ہوا ہے؟

سیرین اوبزویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطانق علاقے سے تین ہزار جنگجوؤں سمیت کم سے کم چھ ہزار افراد نکلے ہیں، جن میں تین سو افراد زخمی ہیں۔ علاقے میں موجود کئی جنگجوؤں نے نکلنے سے انکار کر دیا ہے۔ بعض نے شامی افواج میں زبردستی شمولیت اور حراست میں لیے جانے کے خدشات کا اظہار کیا جبکہ باقی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی افواج کے سامنے مزاحمت کریں یا لڑتے ہوئے مر جائیں گے۔ شام کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سفیر سٹفین ڈی مستورا کے اندازے کے مطابق شمالی حلب میں ابھی 50 ہزار افراد موجود ہیں جن میں 40 ہزار عام شہری ہیں۔People carry their belongings as they flee deeper into the remaining rebel-held areas of Aleppo

حلب میں کیا ہو رہا ہے؟

جمعے کو باغیوں کے زیر قصبہ علاقوں میں محصور افراد کو نکالنے کے لیے کیا گیا معاہدہ دو حکومتوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کی اتنظامیہ میں تنازعات کے باعث تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔ اس تاخیر کی وجہ سے سنیچر کو ہزاروں افراد راستے میں پھنس گئے تھے بعض اطلاعات کے مطابق ان افراد نے سردی میں رات گزاری اور اُن کے پاس بہت کم خوراک موجود تھی۔ اتوار کی صبح انتظامیہ میں اختلاف ختم ہونے کے بعد معاہدے پر دوبارہ سے عمل درآمد شروع ہوا۔

حلب سے نکلنے والے افراد کہاں جا رہے ہیں؟

باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے نکلنے والے افراد ادلب، کفریا اور فوعہ جا رہے ہیں۔ امدادی کارکنوں کے مطابق کئی افراد نے عارضی کیمپوں میں پناہ لی ہے جبکہ کچھ اپنے رشتے داروں کے مکان پر رہ رہے ہیں۔ عالمی ادارہِ صحت کا کہنا ہے کہ انتہائی زخمی افراد کو جنوبی حلب کے ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ ان افراد کی آنکھ یا اعضا متاثر ہیں جبکہ بعض کو دماغی امراض لاحق ہیں۔

جنگ زدہ حلب سے نکلنے والی باقی افراد ادلیب یا ترکی میں پناہ لے رہے ہیں۔

ادلب کی کیا صورتحال ہے؟

انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کا کہنا ہے کہ بہت سے علاقوں میں حالات پہلے ہی نا مناسب ہیں، بڑی تعداد میں خاندان زیر تعمیر عمارتوں میں رہ رہے ہیں جہاں بیت خلا، پانی اور گرمائش کا انتظام نہیں ہے اور دیہی علاقوں میں بھی بہت ہجوم ہے۔ ادلب میں ایک عارضی ہسپتال کے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ یہاں مریضوں کی نگرانی کے لیے آلات نہیں ہیں یہاں تک کہ انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں بھی ونٹیلیٹر نہیں ہے۔ اس سے پہلے ترکی کے نائب وزیراعظم نے کہا تھا کہ ادلیب میں ‘اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہاں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پناہ دی جائے۔’ آئی ار سی کے مطابق ادلب میں 230000 متاثرین مقیم ہیں اور یہاں 250 غیر رسمی کیمپ ہیں۔

کیا یہ افراد ادلیب میں محفوظ ہیں؟

امدادی اداروں نے، ادلیب جو شامی حزبِ اختلاف کا گڑھ ہے، وہاں سکیورٹی کی صورتحال پر بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ادلیب کا زیادہ تر علاقہ باغیوں کے اتحادی گروہ انصرہ فرنٹ کے کنٹرول میں ہے۔ اس صوبے پر بھی کئی بار شامی اور روسی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے بمباری کی ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کا اگلا ہدف بھی یہی ہے۔ سٹفین ڈی مستورا کا کہنا ہے کہ ‘اگر جنگ بندی یا سیاسی معاہدہ نہیں ہوا تو حلب کے بعد ادلب اگلا ہدف ہے۔’

کفریا اور فوعہ میں کیا ہو رہا ہے؟

آئی سی آر سی کے مطابق کفریا اور فوعہ جو شیعہ اکثریت کے قصبے ہیں وہاں 20 ہزار افراد نے پناہ لی ہے۔ حکومتی حمایت یافتہ جنگجؤ جو سنہ 2015 میں علاقہ چھوڑ آئے تھے اُن کا کہنا ہے کہ مقامی آبادی خوراک نہ ہونے کے سبب گھاس کھا کر گزارا کرنے پر مجبور ہے جبکہ ہسپتالوں کی یہ حالت ہے کہ زخمی افراد کو بے ہوش کیے بغیر ہی آپریشن کیا جا رہا ہے۔