Stephen Hawking : 1942 – 2018

Physicist Stephen Hawking, who sought to explain some of the most complicated questions of life while himself working under the shadow of a likely premature death, has died at 76. Stephen William Hawking was a British theoretical physicist, cosmologist, author and Director of Research at the Centre for Theoretical Cosmology within the University of Cambridge. His scientific works include a collaboration with Roger Penrose on gravitational singularity theorems in the framework of general relativity and the theoretical prediction that black holes emit radiation, often called Hawking radiation. Hawking was the first to set out a theory of cosmology explained by a union of the general theory of relativity and quantum mechanics. He was a vigorous supporter of the many-worlds interpretation of quantum mechanics.
Hawking was an Honorary Fellow of the Royal Society of Arts (FRSA), a lifetime member of the Pontifical Academy of Sciences, and a recipient of the Presidential Medal of Freedom, the highest civilian award in the United States. In 2002, Hawking was ranked number 25 in the BBC’s poll of the 100 Greatest Britons. He was the Lucasian Professor of Mathematics at the University of Cambridge between 1979 and 2009 and achieved commercial success with works of popular science in which he discusses his own theories and cosmology in general. His book, A Brief History of Time, appeared on the British Sunday Times best-seller list for a record-breaking 237 weeks.
Hawking had a rare early-onset, slow-progressing form of amyotrophic lateral sclerosis (ALS) that gradually paralysed him over decades. Throughout his life, he was still able to communicate using a single cheek muscle attached to a speech-generating device. Hawking died on 14 March 2018, at the age of 76.
Hawking was born on 8 January 1942 in Oxford to Frank (1905–1986) and Isobel Hawking (née Walker; 1915–2013). His mother was Scottish. Despite their families’ financial constraints, both parents attended the University of Oxford, where Frank read medicine and Isobel read Philosophy, Politics and Economics. The two met shortly after the beginning of the Second World War at a medical research institute where Isobel was working as a secretary and Frank was working as a medical researcher. They lived in Highgate; but, as London was being bombed in those years, Isobel went to Oxford to give birth in greater safety. Hawking had two younger sisters, Philippa and Mary, and an adopted brother, Edward.
In 1950, when Hawking’s father became head of the division of parasitology at the National Institute for Medical Research, Hawking and his family moved to St Albans, Hertfordshire. In St Albans, the family were considered highly intelligent and somewhat eccentric; meals were often spent with each person silently reading a book. They lived a frugal existence in a large, cluttered, and poorly maintained house and travelled in a converted London taxicab. During one of Hawking’s father’s frequent absences working in Africa, the rest of the family spent four months in Majorca visiting his mother’s friend Beryl and her husband, the poet Robert Graves.
Hawking died at his home in Cambridge, England, early in the morning of 14 March 2018, according to a family spokesman. His family issued a statement expressing their grief. They did not reveal the cause of his death, only stating that he “died peacefully”.

 

 

 

 

Advertisements

چین میں آئی فون کا چہرہ پہچاننے والا فیچر ناکام ہو گیا

چین میں ایپل کمپنی کے نئے ماڈل آئی فون ایکس میں متعارف کرائی جانے والی چہرہ پہچاننے کی خصوصیت (فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی) ناکام ہو گئی ہے اور معلوم ہوا ہے کہ لوگ کسی کے بھی موبائل کا لاک آسانی سے کھول سکتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی کنزیومر مارکیٹ کی جانب سے ایپل پر تعصب کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک خاتون کو ان کے شوہر نے آئی فون ایکس کا نیا ورژن خرید کر دیا لیکن موبائل پر لاک لگانے کے باوجود خاتون کے بیٹے نے اپنے چہرے کے ذریعے فون کا لاک کھول لیا۔

یہ صرف ایک ہی واقعہ نہیں بلکہ شنگھائی میں کئی لوگوں نے یہی شکایت کی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے آئی فون استعمال کرنے والے چینی شہریوں نے فون کی سیکورٹی اور پرائیوسی کے فیچرز پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا ہے۔ خاتون کے شوہر کا نام صرف ’’لیو‘‘ کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے، جیسے ہی انہیں اس مسئلے کا علم ہوا انہوں نے ایپل کے کسٹمر سروس سینٹر پر فون کر کے شکایت درج کرائی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیس آئی ڈی موبائل کا سامنے والا کیمرا ’ٹروُ ڈیپتھ‘ استعمال کرتی ہے جس کے بعد ایک ڈاٹ پروجیکٹر چہرے کے 30؍ ہزار پوائنٹس کے ذر یعے A11 پراسیسر استعمال کرتے ہوئے چہرہ  شناخت  کرتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایپل نے اس شکایت پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

چین روبوٹس کے میدان میں جاپان کو مات دینے کے قریب پہنچ گیا

چین میں 19ویں سالانہ ٹیکنالوجی فیئر کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا بھر سے لاکھوں شائقین نے شرکت کی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اشیا دیکھ کر خوب محظوظ ہوئے۔ تین ہزار سے زائد کمپنیز نے اپنے سٹال لگائے جہاں جدید ترین کمپیوٹرز، الیکٹرانک گاڑیوں کے علاوہ جدید ترین روبوٹس بھی پیش کئے گئے جن کو دیکھ کر ماہرین نے خوشگوار حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین روبوٹس کے میدان میں صف اول کے ملک جاپان کو مات دینے کے قریب پہنچ چکا ہے ۔

کیا ٹیکنالوجی نے ملازمتیں ختم کر دیں ؟

ٹیکنالوجی کو عام طور پر اچھا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی مدد سے کام تیز اور کم افرادی قوت کے بل بوتے پر ممکن ہوتا ہے۔ یہ ملازمتوں پر اثر انداز بھی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں نچلے 50 فیصد ملازمین کی حقیقی آمدنی میں 1999ء سے مجموعی طور پر کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا ۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اجرتیں نہیں بڑھیں بلکہ ہوا یہ کہ ان میں اور مہنگائی میں اضافے کا تناسب ایک جیسا رہا۔ اس کی بہت سی وجوہ ہیں۔ کچھ ماہرین کے خیال میں ٹیکنالوجی اس کا سب سے بڑا سبب ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے کتنا تیار ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے افرادی قوت پر اثرات کے بارے میں ایک تحقیق کی گئی جس سے پتا چلا کہ کم و بیش ہر شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متاثر ہو گا۔ مثال کے طور پر عین ممکن ہے کہ کاروں، ٹرکوں اور بسوں کو چلانے کے لیے ڈرائیوروں کی ضرورت نہ رہے کیونکہ وہ خود کار ہو جائیں گی۔ اسی طرح تعلیم کے لیے اساتذہ اور سٹاف کی ضرورت کم ہو جائے گی کیوں آن لائن علم اور ڈگری حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کوایک نیا انقلاب کہا جاتا ہے لیکن تیز رفتا تبدیلیوں کے بارے میں پالیسی سازوں کے پاس اعدا د و شمار کی کمی ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلیوں سے کون سی ملازمتیں پیدا ہونے جا رہی ہیں اور کون سی ختم۔ اس کا ایک نتیجہ بے روزگاری کی صورت میں نکلتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی کے مطابق مہارتیں رکھنے والے افراد کی کمی ہو جاتی ہے اور جن ملازمتوں سے ان کے اخراج کا امکان ہوتا ہے اس کا متبادل بروقت تلاش نہیں کیا جاتا۔

پرانی ملازمتوں کے خاتمے اور نئی کے امکانات کے بارے میں تحقیق اور اعدادوشمار کم ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں اطلاعات کا سیلاب آیا ہوا ہے لیکن ان میں مطلوبہ معلومات نہیں ملتیں۔ کچھ بڑی کمپنیوں کے پاس اس بارے میں بہت سا ڈیٹا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایمازون اور نیٹ فلکس اپنی مصنوعات کی فروخت سے نئے رجحانات کا پتا لگاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ کیا چاہ رہے ہیں اور انہیں کیا کرنا چاہیے۔ لیکن ان اعداوشمار تک عام رسائی نہیں ہوتی اور نہ حکومتی پالیسی ساز اس بارے میں جان سکتے ہیں۔ اسی طرح جو ویب سائٹس ملازمتوں کی آفرز کے لیے بنائی جاتی ہیں ان کے پاس بھی نئے رجحانات اور ملازمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا اچھا خاصا ڈیٹا ہوتا ہے۔

انہیں پتا ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کن شعبوں کے طالبہ کے لیے کون سی ملازمتیں میسر ہیں۔ ان کے اعدادوشمار سے پالیسی ساز معلوم کر سکتے ہیں کہ کالج اور یونیورسٹی میں بدلتی ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھ کر کن نئے شعبوں کو متعارف کروانے کی ضرورت ہو گی۔ مثال کے طور پر پاکستان میں چند سال قبل تک ٹی وی پروڈکشن کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی لیکن اب متعدد کورسز متعارف کروائے گئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹی وی چینلز کے آنے کے بعد ایسا کیا گیا حالانکہ اسے پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے ثمرات سے زیادہ سے زیادہ افراد فائدہ اٹھائیں۔ اگر اس سے ملازمتیں ختم ہوتی جائیں اور بے روزگاری بڑھ جائے تو جرائم اور دیگر سماجی برائیاں پیدا ہوں گی۔

رضوان مسعود

لیپ ٹاپ کو ٹپ ٹاپ کیسے رکھیں ؟ Caring for Your Laptop

آج کل لیپ ٹاپ کا زمانہ ہے۔ قریباً 90 فیصد کالج کے طلباء کے پاس لیپ ٹاپ موجود ہے۔ اس کے علاوہ گھر اور دفاتر میں بھی لیپ ٹاپ کا استعمال بالکل عام ہو چکا ہے۔ لیپ ٹاپ ، پی سی کے مقابلے میں بیس فیصد کم بجلی استعمال کرتا تو ہر کوئی لیپ ٹاپ کیوں نہ لے۔ جب ہم پی سی کئی گنا مہنگا لیپ ٹاپ خریدتے ہیں تو ہمیں اس کا خیال بھی رکھنا چاہیے۔ آئیے آپ کو چند مفید ٹپس دیتے ہیں ، جن کی مدد سے آپ اپنے لیپ ٹاپ کو بہترین حالت میں رکھ سکتے ہیں۔

 ہمیشہ ہموار اور سخت سطح پر رکھیں لیپ ٹاپ کی خرابی کی اہم وجہ اسے سخت اور برابر یا ہموار سطح پر نہ رکھنا ہے۔ زیادہ تر ہم لیپ ٹاپ کو ٹانگوں پر، تکیے یا بیڈ پر رکھ کر استعمال کرتے ہیں۔ غیر ہموار سطح پر لیپ ٹاپ رکھنے کی وجہ سے اس میں سے نکلنے والی گرم ہوا کا بہاؤ بند ہو جاتا ہے اور لیپ ٹاپ گرم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس لیے لیپ ٹاپ کو ہمیشہ ہموار اور سخت سطح پر رکھیں تاکہ ہوا کا یہ بہاؤ متاثر نہ ہو۔

 لیپ ٹاپ کو ٹانگوں پر رکھ کر استعمال کرنا انسانی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ بہتر یہ ہے کہ لیپ ٹاپ رکھنے کا اسٹینڈ استعمال کیا جائے۔ مکمل آف کر کے بیگ میں رکھیں لیپ ٹاپ کو شٹ ڈاؤن کرتے ہی فوراً ڈھکن بند کر کے بیگ میں مت ڈالیں۔ ہارڈ ڈسک کو مکمل آف ہونے میں چند سیکنڈز درکار ہوتے ہیں اس لیے مکمل طور پر آف ہونے کے بعد ہی لیپ ٹاپ کو بیک پیک میں ڈالیں۔

چارجنگ ہمیشہ لگی نہ رکھیں ہر وقت چارج پر لگا کر لیپ ٹاپ استعمال کرنا اس کی بیٹری کو خراب کر دیتا ہے۔ جب بیٹری مکمل چارج ہو جائے تو اسے مکمل استعمال بھی کریں۔ لیپ ٹاپ کی بیٹری کو بہترین حالت میں رکھنے کے لیے ہر پندرہ بیس دن کے بعد اسے مکمل طور پر استعمال کریں حتیٰ کہ بیٹری بالکل ختم ہو جائے اور لیپ ٹاپ آف ہو جائے۔ 

اس کے بعد لیپ ٹاپ کو چار سے پانچ گھنٹے تک استعمال مت کریں۔ اس وقفے کے بعد لیپ ٹاپ کو ایک دفعہ مکمل چارج کریں۔ چارجنگ ختم اور چارج کرنے کے دوران آپ لیپ ٹاپ کو استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ عمل جاری رکھنے سے لیپ ٹاپ کی بیٹری بہتری حالت میں رہتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ لیپ ٹاپ کو یا دیگر ڈیوائسز کو ہمیشہ چارج پر لگا رہنے سے بجلی کا بے انتہا زیاں ہوتا ہے کیونکہ ڈیوائس کو مکمل چارج ہونے کے بعد مزید انرجی نہیں چاہیے ہوتی جبکہ پلگ لگا ہونے کی وجہ سے مزید آنے والی چارجنگ صرف اور صرف ضائع ہو رہی ہوتی ہے۔ 

لیپ ٹاپ کی صفائی کریں کچھ عرصے کے بعد لیپ ٹاپ کی صفائی بھی ضروری ہے۔ ہم جب اسے استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو اس میں دھول اور مٹی جا رہی ہوتی ہے۔ یہ دھول مٹی کی بورڈ کے نیچے جمع ہو کر کی بورڈ اور لیپ ٹاپ کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے، اس لیے اسے تیز ہوا یا کاٹن سے جتنا ہو سکے صاف کرتے رہیں۔ شٹ ڈاؤن ضرور کریں لیپ ٹاپ کا زیادہ استعمال کرنے والے اکثر اسے شٹ ڈاؤن نہیں کرتے بلکہ اسے ہمیشہ آن ہی رہنے دیتے ہیں۔

 اگر آپ اپنے لیپ ٹاپ کی کارکردگی کو بہتر رکھنا چاہتے ہیں تو جب یہ استعمال میں نہ ہو، اسے شٹ ڈاؤن کر دیں۔ چوروں سے باخبر رہیں اگر آپ لیپ ٹاپ کو سفر میں ساتھ رکھتے ہیں، تو اس بات کے لیے تیار رہیں کہ یہ چوری بھی ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیشہ اپنے لیپ ٹاپ کی حفاظت کریں۔ اس کے بعد اگر کوئی انتہائی اہم ڈاکیومنٹ رکھنا ہے تو اسے اِنکرپٹ کر کے رکھیں تاکہ خدانخواستہ کسی حادثے کی صورت میں کسی دوسرے کے ہاتھ نہ لگ سکے۔ 

ایک اہم چیز لاگ ان پاس ورڈ بھی ہے۔ ہمیشہ ونڈوز پر پاس ورڈ لگا کر رکھیں تاکہ غیر ضروری چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رہے۔ یہ بات یقیناً آپ کو دلچسپ لگے گی کہ لیپ ٹاپس اتنی زیادہ تعداد میں موجود ہیں کہ دنیا میں ہر 53 سیکنڈز میں ایک لیپ ٹاپ چوری ہو رہا ہے۔ بیک اپ لیپ ٹاپ پر موجود اپنے ڈیٹا کا ہمیشہ بیک اپ بنا کر رکھتے رہیں۔ زیادہ تر لوگ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے، لیکن یہ چیز بہت اہم ہے۔ آج کل ایکسٹرنل ڈرائیوز بہت سستی ہو چکی ہیں۔ بلکہ اب بڑی اسٹوریج کی حامل یو ایس بی فلیش ڈرائیوز سستے داموں دستیاب ہیں۔ ایک یو ایس بی لے کر اپنا اہم ڈیٹا اس پر بیک اپ ضرور کرتے رہیں۔

 (مجلے ’’ کمپیوٹنگ‘‘ سے ماخوذ)  

اے ٹی ایم مشین : بنکوں کی دنیا کا انقلاب

از خود زرشمار مشین یعنی اے ٹی ایم بنکوں کی دنیا کا انقلاب ہے۔ جس نے چیک بک سے لیکر ایک سے دستخط ہونے کی جھنجھٹ سے آزادی دلا دی ہے۔ سادہ طریقہ اپنائیں بنک یا کسی بھی پبلک مقام پر نصب اے ٹی ایم میں اپنا کارڈ ڈالیں، خفیہ نمبر دیں اور مطلوبہ رقم حاصل کریں۔ اے ٹی ایم کی موجودہ شکل کس طرح مکمل ہوئی اس ضمن میں چھ سات دہائیاں ماضی میں جانا پڑے گا۔ 1939ء میں لیوتھر سم جین نے اے ٹی ایم کی ایک نمونہ شکل بنائی جس کو پذیر ائی نہ مل سکی تاہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ اے ٹی ایم بنانے کے سفر کی شروعات تھی۔ 1966ء میں سکاوٹ لینڈ کے جیمز گڈ فیلو نے کامیاب مشین بنا ڈالی جس میں کنزومر کو اپنا شناختی کارڈ ڈال کر مطلوبہ رقم وصول کرنے کی سہولت تھی لیکن اس آپشن کو بنکوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

 پھر1967ء میں جان شیرڈ برائون نے بریکلے بنک کی لندن برانچ میں اپنی مشین نصب کی۔ اس مختصر تاریخ میں سب سے اہم نام لیوتھر سم جین کا ہی ہے۔ وہ 28 جنوری 1905ء کو ترکی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے میڈیسن کی تعلیم حاصل کی۔ 1934ء میں وہ نیویارک آ گئے اور یہاں پہلی مرتبہ کمرشل بنیادوں پر بنک ٹرانزیکشن کیلئے مشین بنائی۔ 

چھ ماہ کے بعد مختلف بنکوں نے تحریری طور پر لیوتھر کو آگاہ کیا کہ ان کی بنائی مشین کو عوام میں پذیرائی نہیں مل سکی لہٰذا وہ ان سے مزید مشینیں بنوانے کے خواہاں نہیں ہیں لیکن لوتھر نے ہار نہ مانی۔ وہ اپنی مشین کی افادیت کے لیے ہمیشہ کوشاں رہا۔1939ء میں بنائی گئی اے ٹی ایم آج دنیا بھر میں ہر بنک اور اس سے زیادہ بنک کے ہر گاہک کی بنیادی ضرورت ہے۔ لیوتھر وہ سائنس دان تھے جنہوں نے اے ٹی ایم مشین کے ساتھ ساتھ پہلا سلف پوریٹ کیمرہ بھی بنایا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہوائی جہازوں کے لیے فلائٹ سپیڈ انڈیکٹر بھی بنائے۔ پھر انہوں نے رنگین ایکسرے مشین بنائی اور بعد ازاں ٹیلی پرومٹر بھی بنایا۔