کھوپڑیاں اور چوہے : بھارتی کسان سراپا احتجاج

گذشتہ ہفتے انڈیا میں ایک کسان نے زندہ چوہا دانتوں میں پکڑ کر انوکھا احتجاج
ریکارڈ کروایا۔ 65 سالہ چناگو ڈانگی پالانیسامی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے کسانوں کی حالتِ زار کی طرف حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے قریب جنتر منتر کے علاقے میں ایک خیمے میں مجھے بتایا : ‘میں اور میرے کسان ساتھی یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر حالات میں تبدیلی نہ ہوئی تو ہم چوہے کھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔’ پالانیسامی اور ان کے سو کے قریب ساتھی اس عارضی پناہ گاہ میں گذشتہ 40 روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق تمل ناڈو کے ان علاقوں سے ہے جو حالیہ برسوں میں شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے انڈیا نے اس خشک سالی کو بھلا دیا ہے۔ اس لیے پالانیسامی اور ان کے ساتھی نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا یہ انوکھا طریقہ سوچا ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں حکومت کی جانب سے قحط زدہ علاقوں کے لیے مختص رقوم دی جائیں جب کہ معمر کسانوں کو پنشنیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ وہ قرضوں کی معافی، فصلوں کی بہتر قیمت اور اپنی زمینوں کی آبپاشی کے لیے مزید نہروں کی مانگ بھی کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے روایتی لباس پہن رکھے ہیں اور وہ انسانی کھوپڑیاں لہرا رہے ہیں جو ان کے بقول مردہ کسانوں کی ہیں۔ انھوں نے آدھے سر منڈوا رکھے ہیں اور منھ میں زندہ چوہے پکڑ رکھے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ہاتھ کاٹ کر ‘احتجاجی خون’ بہا رہے ہیں، جب کہ کچھ گرم بجری پر لوٹ رہے ہیں۔ کچھ لوگ فرضی جنازوں کی رسمیں بھی ادا کر رہے ہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ مطالبے تسلیم نہ ہونے تک دہلی میں ڈٹے رہیں گے. جب ان لوگوں کو وزیرِ اعظم سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تو انھوں نے ایوانِ وزیرِ اعظم کے قریب اپنے کپڑے اتار لیے۔ جب ان میں سے ایک احتجاجی نے چوہا منھ میں پکڑ کر خود کو ایک درخت سے لٹک کر پھانسی دینے کی کوشش کی تو آگ بجھانے والے عملے کو بلانا پڑا۔ ان میں سے کئی افراد کو علاج کے لیے ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔ انھیں میڈیا کی جانب سے توجہ تو ملی ہے لیکن بعض مظاہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کا میڈیا انھیں کرتب باز سمجھتا ہے اور ان کے احتجاج کے پیچھے درد و کرب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔

ایک مبصر نے لکھا کہ یہ احتجاج ‘مضحکہ خیز حد تک بڑھ گیا ہے جہاں اس کا مقصد احتجاج سے زیادہ پرفارمنس بن کر رہ گیا ہے۔’ تمل ناڈو کے 40 فیصد سے زیادہ لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ وہاں خشک سالی، فصلوں کی کم قیمتوں اور زرعی قرضے حاصل کرنے میں مشکلات نے اس ریاست میں کئی عشروں کا بدترین بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس بات کا تعین ہونا ابھی باقی ہے کہ آیا اس احتجاج کا کوئی فائدہ ہو گا یا نہیں۔ انڈیا میں ناکام احتجاجی مظاہرے کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم ان مظاہروں میں حصہ لینے والے منفرد طریقے سے اپنے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انڈیا میں زراعت کی شرحِ نمو سکڑ کر 1.2 فیصد رہ گئی ہے، جہاں لاکھوں کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

پالانیسامی کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل تک ان کے پاس ساڑھے چار ایکڑ زمین تھی جہاں چاول، گنا، دالیں اور کپاس بکثرت اگتی تھیں۔ لیکن برسوں کی خشک سالی نے ان کی زمین کو بنجر بنا دیا ہے۔ ان کے دو بیٹے چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، ان پر چھ لاکھ روپے قرض چڑھ گیا اور ان کے گھر پر موجود سونا گروی پڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ‘یہ میری زندگی کا بدترین زرعی بحران ہے۔ میں نے ایسا بحران پہلے کبھی نہیں دیکھا۔’ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تمل ناڈو کے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک 58 کسان خودکشیاں کر چکے ہیں۔ تاہم ایک مقامی تنظیم کے مطابق اصل تعداد ڈھائی سو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ جنتر منتر میں موجود یہ کسان اپنی بنجر زمینوں اور مردہ درختوں کی کہانیاں سناتے ہیں، جب کہ درجۂ حرارت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پالانیسامی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر اپنی ڈائری میں کچھ تحریر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حال میں کچھ شاعری بھی کی ہے جس میں وہ اپنے گھر کو یاد کرتے ہیں۔

مر چکی ہے، مر چکی ہے، زراعت مر چکی ہے

اذیت ہے، اذیت ہے، زراعت کی موت

جل رہے ہیں، جل رہے ہیں

کسانوں کے دل اور پیٹ

روکو، اسے روکو

کسانوں کی موت کو

سوتک بسواس

بی بی سی نیوز، انڈیا

انڈیا میں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں نوے فیصد مزدوروں کو ’غلامی‘ کا سامنا

بھارت کی جنوبی ریاستوں کی بڑی صنعت ‘سپنگ انڈرسٹری’ میں جو مغربی ممالک کے بڑے بڑے برانڈ کے لیے دھاگہ یا یارن تیار کرتی ہیں ان میں کام کرنے والے مزدوروں اور ہنرمندوں میں سے نوے فیصد کو غلامی کی مختلف اقسام جن میں ‘چائلڈ لیبر’ بھی شامل ہے کا سامنا ہے۔ خبر رساں ادارے روائٹر کی ایک تحقیقاتی رپوٹ کے مطابق اس سنگین صورتحال پر ماہرین نے ملوں کی نگرانی کے نظام اور آڈٹ کو مزید سخت کرنے کی تجویز دی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم انڈین کمیٹی آف نیدرلینڈ (آئی سی این) نے بھارتی ریاست تمل ناڈو میں جو بھارت میں سوتی دھاگہ بنانے والی صنعت کا سب سے بڑا مرکز ہے وہاں قائم آدھی ملوں میں کام کرنے والے مزدوروں سے بات کی ہے۔

تمل ناڈو میں قائم ڈیڑھ ہزار سے زیادہ ملوں میں سے سات سو چونتیس 734 ملوں میں کام کرنے والی خواتین جن سے اس تحقیق کے دوران بات کی گئی ان میں اکثریت کی عمریں چودہ سے اٹھارہ برس کے درمیان تھیں اور تقریباً بیس فیصد خواتین کی عمر چودہ سال سے کم تھیں۔ اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان مزدور خواتین اور مردوں کو طویل اوقات تک کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اکثر مل مالکان ان غریب مزدوروں کی تنخواہیں روک لیتے ہیں اور انھیں کمپنی کے ہاسٹلوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ ان میں بہت سے مزدوروں کو جنسی طور پر ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ آئی سی این ڈائریکٹر جیراڈ اونک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو پانچ سال سے اٹھا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود نئی تحقیق میں اس مسئلہ کی جو سنگینی سامنے آئی ہے وہ ان کے لیے بھی حیران کن ہے۔ تمل ناڈ میں سپنگ ملز ایسوسی ایشن کے مشیر اعلیٰ کے وینکٹاچالم کا کہنا ہے کہ انھیں کسی ایسی تحقیق کے بارے میں علم نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے حال ہی میں مدراس ہائی کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اب اس صنعت میں ایسے مسائل اب موجود نہیں ہیں۔ وینکٹاچالم نے روائٹرز کو بتایا کہ ‘یہ معاملہ اب ختم ہو گیا ہے۔’

بھارت دنیا میں ٹیکسٹائل اور کپڑے بنانے والے بڑے ملکوں میں شامل ہے۔ جنوبی ریاست تمل ناڈو میں سولہ سو ملیں قائم ہیں جن میں دو لاکھ سے چار لاکھ کے درمیان مزدور کام کرتے ہیں۔ روایتی طور پر ‘ڈائنگ یونٹس، سپنگ ملوں اور تولیے بنانے والی فیکٹریوں میں تمل ناڈو کے دیہات سے لوگ کم اجرتوں پر آ کر کام کرتے ہیں جو کپاس سے دھاگہ اور کپڑے بناتی ہیں جو مغربی ملکوں کے بڑے بڑے سٹور میں فروخت ہوتے ہیں۔ ان میں اکثریت نچلی ذات کی دلت کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی نوجوان دیہاتی ناخواندہ خواتین کی ہوتی ہے ۔ انھیں اکثر زور زبردستی، نامناسب جارحانہ لب و لہجے اور بدکلامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کو جنسی طور پر ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔

آئی سی این نے کہا کہ اس تحقیق میں جن ملوں کا انھوں نے احاطہ کیا ان میں مزدوروں کو کام کے اوقات کے بعد کمپنی کے ہاسٹلوں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان میں سے صرف انتالیس ملیں اجرتیں کم از کم مزدوری کے مطابق ادا کر رہیں تھیں اور آدھے سے زیادہ ملوں میں مزدوروں کو ہر ہفتے میں مجموعی طور پر ساٹھ گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنا پڑتا تھا. آئی سی این کو ایک اٹھارہ سالہ مزدو لڑکی نے بتایا کہ ان ملوں میں سپروائزر لڑکیوں پر تشدد کرتے ہیں تا کہ ان سے زیادہ سے زیادہ کام کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔  ایک اور کم عمر لڑکی کلیاچولی نے جو ہر ماہ اٹھ ہزار اجرت وصول کر رہی تھی بتایا کہ اسے بارہ گھنٹے مسلسل کام کرنے پر مجبور کیا جاتا اور اس دوران انھیں کھانے اور حتی کہ یبت الخلا جانے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے انھیں صحت کے بہت سے مسائل پیش آ رہے ہیں جن میں آنکھوں میں مستقل جلن، بخار، پیروں میں درد اور معدے کی خرابی شامل ہیں۔

300,000 children forced to beg in India

At least 300,000 children across India are drugged, beaten and forced to beg every day, in what has become a multi million rupee industry controlled by human trafficking cartels, police and trafficking experts said. Writing in a report which is about to be circulated across the country’s police forces, the authors urged law enforcers to carry out greater surveillance of children living on the streets. According to the Indian National Human Rights Commission, up to 40,000 children are abducted in India every year, of which at least 11,000 remain untraced. “The police don’t think begging is an issue because they assume that the adult with the child is either family or a known person,” said co-author Anita Kanaiya, CEO of The Freedom Project India, which works on trafficking issues.
“But for every 50 children rescued there will be at least 10 who are victims of trafficking. And there has to be a constant vigil to identify them,” she told the Thomson Reuters Foundation. Children are sometimes maimed or burned to elicit greater sympathy and get more alms, said the report. The money they earn is usually paid to the traffickers, or to buy alcohol and drugs. The report is based on the experiences of police and charities in Bengaluru city — formerly known as Bangalore — in the southern Indian state of Karnataka. There is a seasonal pattern to begging, local police said. Cities like Bengaluru see a sharp rise in the numbers of children wandering the streets just before festivals or after a natural disaster.
In 2011, Bengaluru police launched “Operation Rakshane” (“To Save“). In coordination with various government departments and charities, they drew up a blueprint to help children forced into begging. Months before carrying out a series of rescues, they spread out across the city, taking pictures of children on the street, documenting their daily activities and shadowing them back to their homes. “When we started, we had nothing to prove the connection between begging and trafficking. But we went about meticulously recording any signs of forced labor on the streets of the city,” Kanaiya said.
 According to inspector general of police, Pronob Mohanty, who spearheaded the operation, teams of police and health workers rescued 300 children on a single day across the city. The traffickers were arrested and later imprisoned. “Operation Rakshane is meant to be a template which can be replicated as a model of inter agency cooperation,” Mohanty said in the handbook, which includes suggestions for surveillance, data collection and rehabilitation, as well as listing relevant laws. Kanaiya said: “We are now initiating a planned campaign to take the book to every police headquarter in the country and follow it up with a workshop on child (begging) and rescue operations for policemen.”

بھارت میں کروڑ پتی لوگ بھکاری بن گئے

 پچھلے دنوں بھارتی ریاست ،اتر پردیش کی حکومت نے ان شخصیات کے لیے ایک پنشن اسکیم شروع کی جنہیں ریاستی اعزاز ’یش بھارتی‘ یا پھر قومی اعزاز ’پدم‘ سے نوازا گیا ہے۔یہ سکیم صرف ان افراد کے لیے مخصوص ہے جن کی جائے پیدائش یا کام کرنے کی جگہ ریاست اترپردیش میں ہو۔ اسکیم کا مقصد یہ تھا کہ جو نامور شخصیات مالی مسائل کا شکار ہیں،وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔اسکیم کے تحت انھیں 50 ہزار روپے ماہانہ کی پنشن ملنا تھی۔ چسپ بات یہ ہے کہ جب اسکیم کا آغاز ہوا تو کرکٹ کے ذریعے لاکھوں روپے کمانے والے بھارتی ٹیم کے آل راؤنڈر کھلاڑی سریش رائنا، فلمی اداکار اور رکن پارلیمان راج ببّر سمیت ایک سو سے زیادہ ’یش بھارتی اعزاز‘حاصل کرنے والی معروف شخصیات نے 50 ہزار روپے پنشن کی خاطر درخواستیں دے ڈالیں۔
پنشن طلب کرنے والے دیگر لوگوں میں اداکار راج ببّر کی اہلیہ نادرا ببّر، اداکار جمی شیر گل، نوازالدین صدیقی، کلاسیکل گلوکارہ گرجا دیوی، ڈرامہ نگار راج بساراور سابق کرکٹر محمد کیف وغیرہ شامل ہیں۔اداکار امیتابھ بچن، جیا بچّن اور ان کے بیٹے ابھیشیک بچّن بھی ’یش بھارتی‘ اعزاز حاصل کرنے والوں میں سے ہیں لیکن وہ پنشن لینے سے انکار کر چکے۔ یہ مثال عیاں کرتی ہے کہ روپیا بھی ایک نشے کے مانند ہےجو انسان اس نشے میں گرفتار ہو جائے ،وہ پھر اسے حاصل کرنے کے لیے اپنی عزت تک داؤ پر لگا دیتا ہے۔ خدا روپے پیسے کی اندھا دھند ہوس سے بچائے۔

Widows in India : My children threw me out of the house

By Showkat Shafi
Courtesy : Aljazeera English
Self-immolation, sati, on a husband’s pyre may have been banned in India, but life for many widows in India is still disheartening as they are shunned by their communities and abandoned by their families. “I used to wash dishes and clothes in people’s house to earn money, but the moment they heard that I am a widow, I was thrown out without any notice,” said 85-year-old Manu Ghosh, living in Vrindavan, a city in the Northern Indian state of Uttar Pradesh.
Vrindavan is home to more than 20,000 widows, and over the years, many shelters for widows run by the government, private enterprises and NGOs have mushroomed in the city. The city, which is considered holy by Hindus, has become known as the ‘City of Widows’. “I had to sleep on the street as even my family abandoned me after my husband’s death. I was married off to him when I was 11 years old and he was 40. “My daughter died of malnutrition as I could not give her food since nobody wanted to help a widow. “After her death, I decided to come to Vrindavan. A woman should die before her husband’s death so that she doesn’t have to live through hell like this,” Gosh says.
The women often live in acute poverty and are ostracised by society due to various superstitions – even the shadow of a widow can wreak havoc and bring bad luck, people believe. Lack of education and any source of income forces them to beg on streets and many turn to prostitution for survival. “My children threw me out of the house after my husband died,” says Manuka Dasi. “I try to earn money by singing devotional songs in temple and manage to get one meal for the day. I am just waiting to die so that I can be out of this life of misery.”

بھارت: سرمایہ کاری کے نام پر نسل کشی

ایک سال کے قلیل عرصے میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت اپنے 29ویں بیرونی دورے پر امریکہ میں ہیں۔ اسی عرصہ کے دوران انکی کابینہ کے رفقاء بھی 150 ممالک کے سرکاری دورے کر چکے ہیں۔ ان دوروں کا مقصد بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے سے زیادہ ملکی معیشت کو پٹڑی پر لانے اور انتخابی وعدے پورے کرنے کیلئے رقوم کی فراہمی کی خاطر غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول اور بیرون ملک مقیم صنعت کاروں کو بھارت میں ہی اپنے یونٹ کھولنے کی ترغیب دینا ہے تاکہ بےروزگاری پر کسی حد تک قابو پایا جا سکے۔ 

اس سال مئی میں مودی کے دورہ چین کے بعد بیجنگ کی طرف سے 14 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ جاپان کی 3.5 ٹریلین ، جنوبی کوریا کی 10 بلین ڈالر اور متحدہ امارات کی 75 سے 100 بلین ڈالر تک کی سرمایہ کاری کے وعدوں نے تو بھارتی مڈل کلاس اور صنعت کاروں میں مودی کو ایک اساطیری شخصیت بنا دیا۔ بی جے پی کے ترجمان اسے مودی کی مقناطیسی شخصیت کا کرشمہ بتاتے ہیں مگر ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک اس سرمایہ کاری کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے جسکی وجہ سے مودی کی دیو مالائی شخصیت کا بھرم ٹوٹ رہا ہے۔

 نہ صرف غٖیر ملکی سرمایہ کاری کے وعدے ابھی تک کاغذوں اور اعلانات تک محدود ہیں بلکہ مودی تو اب ملکی صنعت کاروں سے بھی نالاں نظر آ رہے ہیں جس کا برملا اظہار انہوں نے حال ہی میں ملک کے بیس چنیدہ صنعت کاروں کے ساتھ میٹنگ میں کیا۔ وزیر اعظم نے شکوہ کیا کہ اپوزیشن انہیں کارپوریٹ سیکٹر کے پٹھو اور 15 لاکھ کا سوٹ پہننے والے جیسے القابات سے نوازتی ہے مگر کوئی بھی صنعت کار، سہولتیں ملنے کے باوجود ملک میں سرمایہ کاری کا رسک لینے کو تیار نہیں، جس سے انکی حکومت کی سبکی ہو رہی ہو۔

غیر ملکی سرمایہ کاری نہ آنے اور ملکی صنعت کاروں کے لیت و لعل کی دو وجوہ ہیں۔ پہلی یہ کہ بھارت میں صنعتی یونٹ لگانے کیلئے زمینیں حاصل کرنے کے قوانین خاصے پیچیدہ ہیں۔ مودی نے اصلاح کرنے کی کوششیں کی مگر اپوزیشن نے اسے ایوان بالا میں مسترد کر دیا اور اسے کسانوں کے مفاد کے خلاف قرار دیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ نکسل باڑیوں یا بائیں بازو کے مسلح انتہا پسندوں نے ایسے علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے جہاں پن بجلی اور دوسرے قدرتی وسائل کے ذخائر ہیں۔ اس صورت حال سے ملٹی نیشنل کمپنیاں خظرہ محسوس کر رہی ہیں۔ کئی برس قبل اس وقت کے امریکی سفیر ڈیوڈ سی ملفورڈ نے حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ اگر جنوبی یا وسطی بھارت میں نکسلی تشدد کا سلسلہ جاری رہا تو امریکی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ حالت یہ ہے کہ 2015ء میں اب تک 320 افراد نکسلی تشدد کی نذر ہو چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں 6820 افراد ہلاک ہوئے۔ 1970ء کے اوائل مٰں شروع ہوئی نکسلی تحریک نے آج آندھرا پردیش، کرناٹک، بہار، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر ، اتر پردیش اور مغربی بنگال سمیت دس ریاستوں کے کئی حصوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ سرکار کا کہنا ہے کہ نکسلی تنظیموں کے تان بانے نیپال کی زیر زمین تنظیموں سے ملے ہوئے ہین جو ایک ایسا  قائم کرنا چاہتی ہیں جس کا دائرہ نیپال سے آندھرا پردیش تک پھیلا ہوگا۔ اس وسیع علاقے کو بائیں بازو کے انتہا پسندوں سے خالی کرانے اور صنعت کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کیلئے ان علاقوں میں آپریشن چل رہا ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ماؤنوازوں کے تشدد کو ختم کرنے کی آڑ میں حکومت خاموشی سے قبائلیوں کو ختم کرنے کے منصوبے پر عمل کر رہی ہے۔
پہلے گرین ہنٹ کے نام سے جس فوجی آپریشن کو عوامی دباؤ پر سابق حکومت کو ملتوی کرنا پڑا تھا، اب یہ کسی نام کے بغیر جاری ہے۔ مشہور وکیل پرشانت بھوشن کہتے ہیں خوف اس قدر ہے کہ مقامی اخبارات ریاستی دہشت گردی کے واقعات پر کچھ نہیں لکھتے۔ خود دہلی میں انکی پریس کانفرنس کو چند اخبارات نے معمولی جگہ دی؛ حالانکہ اس میں رپورٹروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس سے میڈیا کا دوہرا رویہ بھی آشکار ہوتا ہے۔ پولیس کے تشدد کا نشانہ بنے والی خواتین سونی سوری کو اسی ہڑمے اور لنگا کوڈپی نے اس پریش کانفرنس میں دل دہلا دینے والی داستانیں سنائیں۔
قبائلی یتیم لڑکی کو اسی ہڑمے کو سات سال جھوٹے الزامات کے تحت جیل میں بند رکھنے کے بعد حال ہی میں باعزت بری کر دیا گیا ہے۔ اسے 2008ء میں گرفتار کیا گیا جب اسکی عمر صرف 15 سال تھی اور قانونا اسے گرفتار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ صرف اسی مثال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں کتنے بڑے پیمانے پر حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ 
جو انتہا پسند خود سپردگی کرتے ہیں وہ واپس جا کر دیہاتیوں کو ڈراتے ہیں، انہیں بندوقیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ ان خواتین کا کہنا تھا کہ نکسلی مسئلہ قبائلیوں کی زمین اور وسائل چھیننے کا محض ایک بہانہ ہے۔ چند دن قبل پولیس نے ایک پورے گاؤں کو نذر آتش کر دیا تھا۔ لنگا نے اس واقعے کی ویڈیو بنائی تو اسے پولیس نے اغوا کر لیا۔ ہمانش کمار نے پولیس زیادتیوں کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ضلع مہذب معاشرے اور جمہوری حکومت کا حصہ نہیں، جہاں قبائلیوں کی اس طرح نسل کشی کی جا رہی ہے جیسے امریکہ میں یورپی اقوام نے مقامی باشندوں کی کی تھی۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق وسطی صوبی چھتیس گڑھ کی جیلیں کھچا کھچ بھری ہوئی ہیں۔ ایک ایک جیل مٰن گنجائش سے 261 فیصد زیادہ قیدی بند ہیں۔ ہیمانشو نے کمار نے کنکیر میں واقع ایک جیل کے بارے میں بتایا کہ اس میں قیدیوں کے سونے کے لئے باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹٰ کی خاتون رہنما اینی راجا نے کہا کہ انکی تنظیم کی کوششوں نے جب قبائلیوں کو راشن سے اناج ملا تو پولیس نے یہ لوٹ لیا اور انہیں یہ کہہ کر گرفتار کر لیا کہ وہ یہ غلہ ماؤ نوازوں کو پہنچا رہے ہیں۔ نامور ادیبہ اور سماجی کارکن ارون دھتی رائے نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسا علاقہ نہیں ہوگا جہاں لوگوں کو اس انداز سے نشانہ بنایا جا رہا ہو۔
 چھتیس گڑھ پولیس کو فوج میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ارون دھتی نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے اندر بین الاقوامی طرز کی سرحد کھینچ دی گئی ہے اور لوگوں کو یہ سرحد پار کرنے پر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ نامور مصنفہ نے کہا چھتیس گڑھ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیچھے معاشی محرکات ہیں۔ حکومت نے ماؤ نوازوں کو خطرناک دہشت گرد کے طور پر پیش کرنے کا نیا طریقہ وضع کیا ہے۔ انکے چہرے پر نقاب ڈال کر ہاتھوں مں بندوق تھما دی جاتی ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے معذور پروفیسر سائی بابا کو ان زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانے پر گرفتار کیا گیا۔ فلم ساز وین رنجن پرسات مقدمات قائم کر دیے گئے۔ اسکا قصور یہ ہے کہ اس نے چھتیس گڈھ کے سنگین حالات پر دستاویزی فلمیں بنائیں۔
دراصل ایک ارب سے زائد آبادی والے ملک میں جمہوریت کی برکات چند مخصوص طبقات تک محدود ہیں، بیشتر عوام آئینی اور بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ عوام کا بڑا طبقہ زمین اور آمدنی کی غیر متناسب تقسیم، ذات پات پر مبنی تشدد، چھوت چھات، غربت اور افلاس سے دوچار ہے۔ اس وجہ سے ان علاقوں میں طاقت کے زور پر اپنا حق حاصل کرنے کے نکسلی فلسفے کو اپنانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 
حقوق انسانی کے لئے سرگرم تنظیم پیپلز یونین فار سول لبرٹیز کا کہنا ہے کہ جب تک سماجی عدم مساوات کا خاتمہ نہیں ہو گا نکسلی تحریک کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا رہے گا۔ عدم تحفظ کا احساس لوگوں کو بائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں میں شامل ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ پولیس کے سابق افسر این سبرامنیم کا کہنا ہے کہ جب سکیورٹی کے دستے غریب قبائلیوں کو نشانہ بناتے ہیں تو حکومت اپوزیشن اور قومی میڈیا چپ سادھ لیتے ہیں جس سے ان قبائلیوں میں عدم تحفظ کا احساس شدت اختیار کر جاتا ہے۔
سید افتخار گیلانی 
بہ شکریہ روزنامہ  دنیا 

بھارت کی آبادی کا بڑا حصہ شدید غربت کا شکار ہے، سروے

بھارت میں معاشی ، معاشرتی اور ذاتوں سے متعلق کئے گئے تازہ سروے  سے ثابت ہوا ہے کہ بھارتیوں کی اکثریت اس وقت شدید غربت کی شکار ہے ۔
مردم شماری میں بھارت کے طول وعرض میں 30 کروڑ گھرانوں کا سروے کیا گیا جس سے انکشاف ہوا کہ 73 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جن میں سے صرف 5 فیصد ٹیکس دینے کی سکت رکھتی ہے صرف ڈھائی فیصد چار پہیوں کی سواری رکھتے ہیں اور 10 فیصد تنخواہ والی ملازمت کے حامل ہیں۔
 اس کے علاوہ ان دیہاتوں میں صرف ساڑھے تین فیصد افراد گریجویٹ ہیں جب کہ 35 فیصد آبادی لکھنے یا پڑھنے سے قاصر ہے۔
اگرچہ بھارت میں غربت کی تعریف پر ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے لیکن 2014 میں پلاننگ کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی قریباً 29 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزاررہی ہے جن کی تعداد 36 کروڑ30 لاکھ سے زائد ہے جب کہ دیہاتوں میں 57 فیصد اور شہروں میں 47 فیصد افراد اپنی آمدنی صرف خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر 73 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 5 ہزاربھارتی روپے سے بھی کم ہے۔

یہ ہے شائننگ انڈیا

دنیا کی سب سے بڑی انگلش سپیکنگ جمہوریہ کے سب سے بڑے قانون ساز ادارے راجیہ سبھا کی دہلیز پر گجندر سنگھ کی لٹکتی لاش اب کسے یاد ہوگی؟ راجستھان کے اس بے بس، کسان کی آتما ہتیا کا لائیو منظر تو اب مہان بھارت میں بھی کسی کو یاد نہیں۔ پاکستان میں کس کو معلوم ہوگا کہ خون رائیگاں کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عام آدمی پارٹی کے مکھ منتری اروند کجریوال جلسہ عام سے خطاب فرما رہے تھے۔ کسانوں کے حقوق کیلئے جاری یہ جلسہ کسان کی موت پر بھی نہ رکا۔
جب قرضوں کے بوجھ تلے دبے، فاقوں کے مارے، سرکاری بینک اور ساہوکار کے ہاتھوں ذلیل و خواب کاشتکار کی موت خبر بن کر بھولا بسرا آرکائیو بن چکی تو لال سنگھ کی بپتا کون سنتا۔ مدھیہ پردیش کا لال سنگھ جس نے 60 ہزار روپے کا قرض اتارنے کے لئے دو بیٹے گڈریئے کے پاس گروی رکھ دیئے۔ تو یہ ہے مہان بھارت، شائننگ انڈیا۔ فلمی دنیا کی چکاچوند سے بھرپور ہندوستان۔ اک عالم جس کے طلسم کا شکار ہے۔ وہ انڈیا جس میں اب کوئی فلم اربوں روپے سے کم کی لاگت میں تیار نہیں ہو پاتی۔ اداکاروں، فی میل آرٹسٹوں کی ذات پر اربوں روپے انویسٹ ہوتے ہیں۔
ان آرٹسٹوں کو چھینک بھی آ جائے تو سیٹھوں کے دل دھڑکنا بھول جاتے ہیں۔ اس بھارت میں آئی پی ایل کا میلا سجتا ہے تو دنیا بھر کی چیئر لیڈرز اپنے خزانہ حسن کے تمام جاں لیوا عشوے، غمزے اور اداؤں کے ہتھیار لیکر بھارتی سرزمین پر لینڈ کرتی ہیں۔ آئی پی ایل میں کھلاڑی لاکھوں ڈالر میں بکتا ہے۔ سیزن آف ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ایک رن، ایک وکٹ، ایک کیچ ہزاروں ڈالر میں پڑا۔ دنیائے کرکٹ کے مہان بلے باز، فاسٹ باؤلر، سپن بالنگ کے جادو گر اور برق رفتار وکٹ کیپر دعائیں مانگتے ہیں کہ کاش ان کی بھی بولی لگے۔ مقدر کا دھنی ہر کوئی تو نہیں ہوتا۔ اسی چمکتے دمکتے بھارت میں 1995ء سے لیکر 2015ء کے آغاز تک 3 لاکھ کسانوں نے موت اور ذلت کی زندگی میں سے ’’خودکشی‘‘ کی تھرڈ آپشن کا انتخاب کیا۔
مدھیہ پردیش کا لال سنگھ کو جگر گوشوں کو ظالم گڈریئے کے حوالے کر کے خود نشے کی فریبی دنیا میں پناہ لے چکا۔ موسم بہار کے آغاز میں گجندر سنگھ نے احتجاجی مظاہروں کے لئے معروف جنتر منتر میں احتجاجاً لائیو خودکشی کی۔ بھارت جو منی سپر پاور بن چکا۔ وہ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کے خواب بھی دیکھتا ہے۔ اس بھارت میں موت کسان کا مقدر ہے۔ بھارتی نیتا سمجھتے ہیں کہ زرعی زمینیں کسانوں سے چھین کر بڑے صنعتی گروپوں کے حوالے کر دی جائے تاکہ مینوفیکچرنگ کے میدان میں بالادستی قائم ہو۔ اس مقصد کے لئے حصول اراضی بل کی منظوری کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ کسانوں کا معاملہ صرف یہی نہیں۔ مودی سرکار یہ بل پاس کرا کے ہی رہے گی۔
منی سپر پاور کی دھرتی پر سانس لیتا کسان کئی طرح سے مجبور محض ہے۔ وہ بینکوں کے قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ وہ بیجوں، زرعی آلات خریدنے کے لئے مہاجن کا محتاج ہے۔ بیٹی کی شادی بھی ادھار لیکر کرتا ہے۔ سیکولر بھارت میں بیٹی بھاری بھر کم جہیز کے بغیر رخصت نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا اس کے پاس موت کو گلے لگا لینے کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔
اعداد و شمار نہ صرف شرمناک بلکہ لرزہ خیز بھی ہیں۔ بھارتی میڈیا کو کھنگالنے کے بعد معلوم ہوا ماہ مارچ کے دوران 67 بھارتی کسانوں نے حالات کے آگے سپر ڈالتے ہوئے موت کو گلے سے لگا لیا۔ ان میں سے 54 کا تعلق ایک ہی علاقے بندھیل کھنڈ سے تھا۔ یکم جنوری سے مارچ 2015ء تک مہاراشٹرا میں 135 کسانوں نے خودکشی کی۔ مہاراشٹرا بی جے پی کا مضبوط ترین علاقہ ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ 2012ء میں تصدیق شدہ ایک لاکھ سینتیس ہزار سات سو ستاون اور 2013ء میں ایک لاکھ اٹھارہ ہزار کسان چپ چاپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ایک اور رپورٹ بتاتی ہے کہ نامساعد حالات، خشک سالی، قرض اور فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے پر روزانہ 4 افراد اوسطاً آتما ہتیا کرتے ہیں۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ خودکشیوں کا مرکز وہ ریاستیں ہیں جن کی بنیاد پر بھارت کی خوشحالی کی مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔
کیرالہ، جسے دیوتاؤں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ تامل ناڈو جو کہ علاقائی زبانوں کی فلمی صنعت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ آندھرا پردیش، جس کا دارالحکومت حیدر آباد ایسا آئی ٹی کا مرکز شہر ہے۔ کرناٹک، ٹیپو سلطان کی جنم بھومی، جہاں بنگلور واقعہ ہے جسے بھارتی سیلی کون ویلی کہا جاتا ہے۔ یہ تمام وہ ریاستیں ہیں۔ جہاں معاشی ترقی کے بلندو بانگ دعوے کئے جاتے ہیں۔ لیکن سوا سو کروڑ آبادی کو خوراک فراہم کرنے کے ذمہ دار کسان اجتماعی خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارتی معاشرہ گلیمر اور غربت کی دو انتہاؤں کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ اسی معاشرہ میں نیو ائیر نائٹ پر صرف 4 منٹ کی ڈانس پرفارمنس پر پریانیکا چوپڑہ کو 5 کروڑ معاوضہ ادا کیا گیا۔ عالمی فرم ’’ویلتھ انسائٹ‘‘ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اگلے چند سالوں میں امیر خاندانوں کی دولت میں 44 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس دولت کی کل مالیت دو ہزار ارب ڈالر تک پہنچ جانے کا امکان ہے۔ پرائیویٹ جیٹ جہازوں کی ملکیت میں بھارت کا حصہ بارہ فیصد ہے۔ اگلے چند سالوں میں بھارتی باشندوں کے پاس 1215 لگژری نجی طیارے ہوں گے۔
بھارت میں سیٹھوں کی ملکیت لگژری بوٹس کی کل مالیت پندرہ ارب ڈالر تک ہے۔ دنیا کی پرتعیش کشتیوں میں سے ایک انڈین ایمپریس ہے جس کی مالیت 9 ملین ڈالر ہے یہ 312 فٹ لمبی کشتی وجے مالیا کی ملکیت ہے۔ 66 فیصد، کروڑ اور ارب پتی سال میں تین مرتبہ نجی پرتعیش دوروں پر جاتے ہیں۔ ان کے خاندانوں کا ہر فرد چالیس ہزار ڈالر فی دورہ خرچ کرتا ہے۔ مہنگی شرابیں، ذاتی جہاز، گھوڑوں کے فارم، سیون سٹار ہوٹل ان بھارتیوں کا لائف سٹائل ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی مہنگی ذاتی رہائش گاہ بھی امبانی خاندان کی ملکیت ہے۔
شائننگ انڈیا کی یہ تصویر بہت بھیانک ہے۔ ایک رپورٹ تو ایسی دل دہلا دینے والی ہے کہ اس پر یقین نہیں آتا۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حکومت کی پالیسی ہے کہ وہ خودکشی کرنے والے شخص کے ورثا کو ایک لاکھ روپیہ بطور زرتلافی ادا کرتی ہے۔ عزت نفس کے مارے صرف ایک لاکھ کیلئے پھندے سے جھول جاتے ہیں۔ ایک لاکھ روپیہ کا چیک ملے گا تو ساہوکار کا قرض ادا ہو جائے گا۔ کوئی یتیم بچوں کے گلے میں قرض کا طوق تو نہیں ڈالے گا۔
بہ شکریہ روزنامہ نئی بات