یہاں استعفیٰ دیا نہیں لیا جاتا ہے

پاکستان میں جب کوئی جماعت حزبِ اختلاف ہوتی ہے تو اسے فوراً سیاسی اخلاقیات کا بھولا ہوا سبق یاد آنے لگتا ہے اور وہ کرپشن، نااہلی اور بد عنوانی کے خلاف سینہ سپر ہو جاتی ہے۔ حزبِ اختلاف بات بات پر صدر سے تھانے دار تک ہر ایک سے استعفی مانگتی پھرتی ہے اور جب خود اقتدار میں آتی ہے تو سیاسی اخلاقیات بھول بھال کر ہر بد انتظامی اور کرپشن کے بارے میں وہی تاویلات پیش کرنا شروع کر دیتی ہے جو اس کی پیشرو حکومت پیش کرتی تھی اور پیشرو حکومت حزبِ اختلاف میں آ کر اسی سیاسی اخلاقیات کے منبر پر بیٹھ جاتی ہے جو گذشتہ حزبِ اختلاف کے حزبِ اقتدار بننے سے خالی ہوا تھا۔

یہ اخلاقی و تاویلاتی میوزیکل چیئر پچھلے 70 برس سے جاری ہے۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی منتخب یا سرکاری عہدیدار نے الزامات ثابت ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز پر استعفی دیا ہوتا آنکہ پشت پر قانونی و سیاسی لات نہ پڑے۔ اگر بہت دور چلے گئے تو بات بھی بہت دور نکل جائے گی۔ فوری یادداشت کا سہارا لیا جائے تو سابق وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کا دور یاد آتا ہے جب وزیرِ مواصلات پرنس محی الدین، وزیرِ بلدیات انور عزیز چوہدری اور پیداوار کے وزیرِ مملکت اسلام الدین شیخ کو بدعنوانی، غفلت یا خورد برد کے الزامات لگتے ہی وزیرِ اعظم نے خود برطرف کیا۔ وہ الگ بات کہ چھان بین کے نتیجے میں بعد ازاں صرف اسلام الدین شیخ پر ہی باضابطہ فردِ جرم عائد اور ثابت ہوئی مگر جونیجو کی اصول پسندی خود ان کے کسی کام نہ آ سکی۔

سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں چلتا کیا۔ مگر سنہ 2010 میں خود یوسف رضا گیلانی کو اپنے تین وزرا بدعنوانی یا ڈسپلن کی خلاف ورزی پر برطرف کرنا پڑے۔ وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار عبدالقیوم جتوئی نے اپنی ہی حکومت پر کرپشن اور پھر اس کرپشن میں حصہ داری نہ ملنے کا شکوہ کیا لہذا انھیں جانا ہی تھا۔ وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے اپنے ہی ہم کابینہ وزیرِ مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر حاجیوں کو لوٹنے اور حج کوٹے کی فروخت کا الزام لگایا تو یوسف رضا گیلانی نے دونوں وزرا کو کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا۔

اعظم سواتی جمیعت علماِ اسلام کے کوٹے پر وزیر تھے لہذا ان کی برطرفی پر مولانا فضل الرحمان احتجاجاً حکومت سے الگ ہو گئے۔ حامد سعید کاظمی کو کرپشن ثابت ہونے پر جیل جانا پڑا جہاں سے وہ ابھی پچھلے ماہ ہی رہا ہوئے ہیں۔ جہاں تک شریف دور کا معاملہ ہے توسنہ 2014 میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ہاتھوں پاکستان عوامی تحریک کے دس حامیوں کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ روکنے کے لیے وزیرِ اعلی شہباز شریف نے کچھ عرصے کے لیے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ سے قلمدان واپس لے لیا اور پھر موقع محل دیکھ کر واپس بھی کر دیا۔

جب وزیرِ تعلیم و سیاحت و امورِ نوجوانان رانا مشہود احمد خان کی ایک وڈیو سامنے آئی جس میں وہ رشوت لے رہے ہیں اور اسی دوران 20 ارب روپے کے ایک سکینڈل میں ملوث ہونے کے شبہے میں نیب نے رانا صاحب کے خلاف چھان بین شروع کردی تو وزیرِ اعلی شہباز شریف اور پارٹی کے ‘اخلاقی دباؤ’ کا احترام کرتے ہوئے رانا مشہود نے امورِ نوجوانان اور سیاحت کا قلمدان تو چھوڑ دیا مگر تعلیم کی وزارت پھر بھی رکھی۔ کچھ عرصے بعد رانا صاحب کو چھان بین کے نتیجے میں کلین چٹ مل گئی اورایک بار پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔ سنہ 2015 میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کو جب تک الیکشن کمیشن نے انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات کے نتیجے میں نشست سے محروم نہیں کر دیا تب تک انھوں نے بھی اخلاقاً پہل نہیں کی۔ اس کے بعد بھاری اکثریت سے دوبارہ انتخاب جیت کر دوبارہ اسپیکر کی کرسی سنبھال لی اور دوبارہ عمران خان کو غصہ دلایا۔

جب بھی ملک میں دہشت گردی کی بڑی واردات کے بعد حزبِ اختلاف سدا بہار وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے تو چوہدری صاحب اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اتنے جوابی وار کرتے ہیں کہ حزبِ اختلاف اگلے ایک ہفتے تک اپنے زخم سہلاتی رہتی ہے۔ چوہدری صاحب نے تو امن و امان کی ابتری اور کوئٹہ سول سپتال میں 50 سے زائد وکلا کی ہلاکت کے اسباب کی چھان بین کے لیے قائم سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کمیشن کی سفارشات کو ‘لیرو لیر’ کر دیا تو حزبِ اختلاف کیا بیچتی ہے۔ سنا ہے ایک آدھ بار چوہدری صاحب نے وزیرِ اعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینے کی بھی پیش کش کی مگر میاں صاحب نے ان کی یہ درخواست سختی سے مسترد کر دی۔ میاں صاحب گرم و سرد چشیدہ ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ کابینہ میں اس طرح کی بدعت اگر شروع ہو گئی تو بات جانے کہاں تک پہنچے۔

خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت نے نومبر سنہ 2013 میں گڈ گورننس اور شفاف سیاست کی خاطر دو صوبائی وزرا کو بدعنوانی اور ہیرا پھیری کے الزام میں کابینہ سے چلتا کر دیا مگر دونوں کا تعلق اتفاق سے اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی سے تھا۔ خود پی ٹی آئی کے وزیرِ مواصلات یوسف ایوب تب تک برطرف نہیں ہوئے جب تک وہ جعلی ڈگری کیس میں سپریم کورٹ میں آخری اپیل نہیں ہار گئے۔ البتہ خود تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان انتخابی دھاندلی چھان بین کمیشن میں سنہ 2013 کے انتخابات میں 35 پنکچر کیس ہارنے کے باوجود قومی اسمبلی کی نشست پر نئے عزم اور دلائل کے ساتھ براجمان رہے اور تقریریاتی کنٹینر بھی ساتھ میں رکھا۔

جعلی ڈگری سے یاد آیا کہ جب سنہ 2008 میں مظفر گڑھ سے رکنِ قومی اسمبلی بننے والے جمشید دستی کو جعلی ڈگری رکھنے کی پاداش میں نا اہل قرار دے کر نشست سے محروم کر دیا گیا تو ضمنی انتخاب میں وہ پہلے سے بھی زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی موجودہ نو سالہ حکومت کے دوران جہاں بہت کچھ ہوا وہاں یہ بھی ہوا کہ ایک وزیرِ باتدبیر شرجیل انعام میمن جب اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات سے گھبرا کر دوبئی ہجرت کر گئے تو وزارتی قلمدان بھی ساتھ لے گئے اور کئی ہفتوں بعد واپس کرنے پر رضامند ہوئے۔ پچھلے ماہ جب وہ اپنے خلاف ‘جھوٹے مقدمات’ کا سامنا کرنے کے لیے ہائی کورٹ کی پیشگی ضمانت سے مسلح ہو کر اسلام آباد اترے اور پھر فاتحانہ حیدر آباد لوٹے تو جیالوں نے صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے شرجیل میمن کی بے لوث خدمات پر گولڈن تاجپوشی کی۔

مگر ایسا نہیں کہ کوئی ضمیر کی آواز ہی نہیں سنتا۔ سنہ 1983 میں جب ضیا حکومت کے وزیرِ بلدیات سید فخر امام ضیا حکومت کے ہی ایک حامی یوسف رضا گیلانی سے ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کی چیئر مین شپ کا انتخاب ہار گئے تو انھوں نے وفاقی وزارت سے استعفی دے دیا۔ فخر امام کے اس قدم کو سب ہی نے سراہا اور بعد ازاں غیر جماعتی قومی اسمبلی کے پہلے سپیکر منتخب ہوئے۔ اسی طرح اگست سنہ 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یہ عندیہ ملنے پر کہ وہ دوسرا صدارتی انتخاب بھی وردی میں لڑیں گے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت اسحاق خاکوانی نے اپنے ضمیر کی سنتے ہوئے وزارت سے استعفی دے دیا۔ عدلیہ میں ایسے کئی جج ہیں جنھوں نے ضیا الحق اور پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم ناموں کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور گھر بیٹھ گئے۔ مگر اب تک ایک ہی ایسی مثال سامنے آئی ہے کہ اعلیٰ عدالت کے کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن کا ریفرنس دائر ہو اور وہ سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی اپنا عہدہ چھوڑ دے۔

یہ واقعہ اس سال فروری میں پیش آیا جب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظہر اقبال سندھو نے سماعت کا سامنا کرنے سے پہلے ہی جج کی کرسی سے استعفی دے دیا۔ جہاں تک فوج کا معاملہ ہے تو میجر جنرل سکندر مرزا نے عہدہِ صدارت سے تب رضاکارانہ استعفی دیا جب جنرل ایوب خان کے ساتھی جنرلوں نے ان کے سامنے ایک ٹائپ شدہ کاغذ اور اس پر ایک پستول بھی بطور پیپر ویٹ رکھ دیا۔

ایوب خان نے بھی 25 مارچ 1969 کو عہدۂ صدارت رضاکارانہ طور پر چھوڑا جب ان کے سپہ سالار جنرل یحییٰ خان نے آہستگی سے کہا ‘سر ہم آپ کو بہت مس کریں گے۔’ انہی یحییٰ خان نے 20 دسمبر سنہ 1971 کو ملک ٹوٹنے کے چار دن بعد اپنی مرضی سے استعفی دیا کیونکہ انھیں بتا دیا گیا تھا کہ بطور صدر اپنی مرضی استعمال کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔

18 اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد مطمئن رخصت ہوئے حالانکہ انھوں نے اپنے پیشرو رفیق تارڑ کو یہ اعزاز نہیں بخشا تھا۔ فوج میں صرف ایک مثال ایسی ہے جب بری فوج کے ایک سربراہ نے دھڑن تختہ کیے بغیر اپنے عہدے سے قبل از اختتامِ مدت استعفی دیا ہو۔ وہ تھے جنرل جہانگیر کرامت ۔ جب ان کی نواز شریف کی دوسری حکومت سے نہیں بنی تو پنجہ آزمائی کے بجائے کنارہ کش ہو گئے۔ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید 12 اکتوبر سنہ 1999 بھی نہ ہوتا۔

اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا. جہاں تک کرپشن کا معاملہ ہے تو فوج میں کسی نے ازخود استعفی نہیں دیا جب تک برطرف نہیں کیا گیا یا آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلا۔ بھلے وہ این ایل سی سکینڈل میں ماخوز لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل مظفر اور میجر جنرل خالد طاہر اختر ہوں یا ایف سی بلوچستان کے سابق کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل عبید اللہ خٹک، میجر جنرل اعجاز شاہد بریگیڈئیر اسد شہزاد، سیف اللہ، عامر اور کرنل حیدر ہوں یا پھر بحریہ کے سابق سربراہ ایڈ مرل منصور الحق ہوں جو گرفتاری کے بعد پلی بارگین کے تحت 7.5 ملین ڈالر نیب میں جمع کرا کے بری ہوئے۔

واپڈا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر نے گذشتہ برس خود پاکستان آ کر پلی بارگین کے تحت کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے 200 ملین روپے واپس کر کے کلین چٹ حاصل کر لی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان جیسی ترقی پذیر جمہوریتوں میں گڈ گورننس ہر شخص اور ادارہ چاہتا ہے مگر ضمیر کی گورنننس کا عادی ہونے کی عادت پڑتے پڑتے ہی پڑے گی۔ تب تک اپنے علاوہ سب کا احتساب جاری رہے گا۔

وسعت اللہ خان

تجزیہ کار

Advertisements

پانامہ کیس : ’تحقیقاتی ٹیموں کا راستہ ایک بند گلی‘

’نواز شریف ایک جائز طور پر منتخب وزیر اعظم ہیں لیکن اب تک وہ قوم کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے ہیں کہ انھوں نے اور ان کے خاندان نے جو دولت جمع کی ہے وہ جائز طریقے سے کمائی ہوئی ہے۔‘ پاکستان کے سب سے مقتدر اخبار روزنامہ ڈان نے پاناما پیپرز پر سپریم کورٹ کے منقسم فیصلے پر اداریے کا اختتام مندرجہ بالا سطروں پر کیا ہے۔ پاناما پیپرز کے فیصلے پر جمعے کو پاکستان کے تمام اخبارات نے ادارتی صفحات پر عدالت عالیہ کے اس ‘تاریخی فیصلے’ پر اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے ایک اور اخبار ‘ڈیلی ایکسپریس’ نے اس موضوع پر اپنے اداریے کی ابتدائی سطروں میں کہا ہے کہ شریف فیملی کے علاوہ شاید چند ہی ایسے لوگ ہوں گے جو سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر شاد ہوں گے۔ انگریزی زبان کے ایک اور اخبار ’دی نیشن‘ نے اپنے اداریے کی ابتدا ہی میں یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک ایسا فیصلہ نہیں تھا جو 20 برس تک یاد رکھا جائے اور نہ ہی اس فیصلے نے وزیر اعظم کو الزامات سے بری کیا ہے۔ انگریزی زبان کے لاہور سے شائع ہونے والے اخبار ‘پاکستان ٹوڈے’ نے ‘منقسم فیصلے کے مضمرات’ کے عنوان سے اپنے ادارے کی پہلی سطر میں لکھا کہ جو فیصلہ تاریخی کہہ کر پیش کیا گیا اس نے بہت سے لوگوں کو حیران اور پریشان کر دیا ہے۔ تمام بڑے اخبارات اس بات پر متفق ہیں کہ یہ فیصلہ حکمران خاندان کے لیے خوشیاں منانے کا کوئی جواز فراہم نہیں کرتا اور ان پانچ ججوں نے وزیر اعظم کو کرپشن کے سنگین الزامات سے مکمل طور پر پاک نہیں کیا ہے۔

روزنامہ ڈان نے مشترکہ تحقیقاتی کمیشن میں فوج کے نمائندوں کو شامل کرنے کے اہم نکتے پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ روزنامہ ڈان کا کہنا ہے کہ ملٹری انٹیلیجنس اور پاکستان فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے نمائندوں کو اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا جانا ایک لحاظ سے سویلین اداروں پر عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے سویلین امور میں فوج کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے اور ہونا تو یہ چاہیے کہ سویلین امور سویلین ادارے ہی حل کریں۔

’مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل میں فوج کے نمائندوں کو شامل کیا جانا خاص طور پر ایک وزیر اعظم کے خلاف مالی اور قانونی امور کی تحقیقات کے لیے ایک غیر معمولی قدم ہے اور ایک ایسی مثال ہے جو کہ قائم نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘ اخبار کہتا ہے کہ ماضی میں سیاسی طور پر کشیدہ ماحول میں بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کا خاص طور پر ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے اور یہ راستہ ایک بند گلی میں ختم ہوتا ہے۔

اردو زبان کا روزنامہ جنگ اپنے اداریے کے آخر میں لکھتا ہے کہ یہ فیصلہ اس اعتبار سے یقیناً تاریخ ساز ہے کہ پاکستان میں بھی ملک کے سب سے بااختیار منصب پر فائز شخصیت کو ملک کے تحقیقاتی اداروں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا جس سے عدل و انصاف کی بالادستی کی نئی اور شاندار روایت قائم ہو گی۔ روزنامہ ڈیلی ایکسپریس نے اپنے اداریے کا اختتام بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس خزانے کے اصل ماخذ کا پتا چلنا ابھی باقی ہے لیکن اس ڈارمے کے ڈراپ سین کے لیے شاید فیوڈر ڈسٹووسکی کے مشہور ناول ’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘ سے کچھ نکالنا پڑے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

What are the Panama Papers?

A huge leak of documents has lifted the lid on how the rich and powerful use tax havens to hide their wealth. The files were leaked from one of the world’s most secretive companies, a Panamanian law firm called Mossack Fonseca.
What are the Panama Papers?
The files show how Mossack Fonseca clients were able to launder money, dodge sanctions and avoid tax. In one case, the company offered an American millionaire fake ownership records to hide money from the authorities. This is in direct breach of international regulations designed to stop money laundering and tax evasion. It is the biggest leak in history, dwarfing the data released by the Wikileaks organisation in 2010. For context, if the amount of data released by Wikileaks was equivalent to the population of San Francisco, the amount of data released in the Panama Papers is the equivalent to that of India. You can find our special report on the revelations here.
Who is in the papers?
There are links to 12 current or former heads of state and government in the data, including dictators accused of looting their own countries. More than 60 relatives and associates of heads of state and other politicians are also implicated. The files also reveal a suspected billion-dollar money laundering ring involving close associates of Russia’s President, Vladimir Putin.  Also mentioned are the brother-in-law of China’s President Xi Jinping; Ukraine President Petro Poroshenko; Argentina President Mauricio Macri; the late father of UK Prime Minister David Cameron and three of the four children of Pakistan’s Prime Minister Nawaz Sharif. The documents show that Iceland’s Prime Minister, Sigmundur Gunnlaugsson, had an undeclared interest linked to his wife’s wealth. He has now resigned. The scandal also touches football’s world governing body, Fifa. Part of the documents suggest that a key member of Fifa’s ethics committee, Uruguayan lawyer Juan Pedro Damiani, and his firm provided legal assistance for at least seven offshore companies linked to a former Fifa vice-president arrested last May as part of the US inquiry into football corruption. The leak has also revealed that more than 500 banks, including their subsidiaries and branches, registered nearly 15,600 shell companies with Mossack Fonseca.  Lenders have denied allegations that they are helping clients to avoid tax by using complicated offshore arrangements. Chart showing the ten banks that requested most offshore companies for clients
How do tax havens work?
Although there are legitimate ways of using tax havens, most of what has been going on is about hiding the true owners of money, the origin of the money and avoiding paying tax on the money. Some of the main allegations centre on the creation of shell companies, that have the outward appearance of being legitimate businesses, but are just empty shells. They do nothing but manage money, while hiding who owns it. One of the media partners involved in the investigation, McClatchy.
What do those involved have to say?
Mossack Fonseca says it has operated beyond reproach for 40 years and never been accused or charged with criminal wrong-doing. Mr Putin’s spokesman Dmitry Peskov said the reports were down to “journalists and members of other organisations actively trying to discredit Putin and this country’s leadership”. Publication of the leaks may be down to “former employees of the State Department, the CIA, other security services,” he said. In an interview with a Swedish television channel, Mr Gunnlaugsson said his business affairs were above board and broke off the interview. Fifa said it is now investigating Mr Damiani, who told Reuters  that he broke off relations with the Fifa member under investigation as soon as the latter had been accused of corruption.
 Who leaked the Panama Papers?
The 11.5m documents were obtained by the German newspaper Sueddeutsche Zeitung and shared with the International Consortium of Investigative Journalists (ICIJ). The ICIJ then worked with journalists from 107 media organisations in 76 countries, including UK newspaper the Guardian, to analyse the documents over a year. The BBC does not know the identity of the source but the firm says it has been the victim of a hack from servers based abroad. In all, the details of 214,000 entities, including companies, trusts and foundations, were leaked. The information in the documents dates back to 1977, and goes up to December last year. Emails make up the largest type of document leaked, but images of contracts and passports were also released.
How can I read the papers?
So far, a searchable archive is not available at the moment. There is a huge amount of data, and much of it reportedly includes personal information (including passport details), and does not necessarily include those suspected of criminal activity. Having said that, there is plenty of information out there. The ICIJ has put together a comprehensive list of the main figures implicated here – you can also search by country. You can sign up on the ICIJ’s website for any major updates on the Panama Papers.

پانامہ لیکس کا ممکنہ فیصلہ اور اثرات

پانامہ لیکس کا مقدمہ کئی حوالوں سے تاریخی اور منفرد مقدمہ ہے جس کی مثال گزشتہ کئی صدیوں میں نہیں ملتی۔ صحافیوں کی عالمی تنظیم آئی سی آئی جے نے دنیا بھر کے لاکھوں امیر ترین خاندانوں اور افراد کے پوشیدہ اثاثوں کا انکشاف کیا۔ ان خاندانوں میں پاکستان کا حکمران شریف خاندان بھی شامل ہے جس نے تسلیم کیا کہ لندن کے فلیٹس انکی ملکیت ہیں۔ پانامہ لیکس کی روشنی میں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے پانچ محترم باوقار، نیک نام اور سینئر ترین جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے شریف خاندان کی تین نسلوں کے اثاثوں کا جائزہ لینے کیلئے طویل، صبر آزما اور شفاف سماعت کی جس کے دوران فریقین کو اپنا مؤقف ثابت کرنے کیلئے پورا موقع دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے بنچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جس کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ کالم لکھنے سے قبل ایک سابق چیف جسٹس پاکستان ، ایک سابق سپیکر قومی اسمبلی چند ریٹائرڈ ججوں اور پاکستان کے پانچ سینئر ماہرین قانون سے مشاورت کی گئی۔ اکثریت کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیگی جو سپریم کورٹ کے ایک یا دو ججوں پر مشتمل ہو گا اور سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی گئی دستاویزات کا ٹرائیل کورٹ کی طرح جائزہ لیکر اور شہادتیں طلب کر کے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کریگا جس کی روشنی میں حتمی فیصلہ سنایا جائیگا۔ اس کمیشن کا بڑا مقصد شریف خاندان کو ایک موقع فراہم کرنا ہے تا کہ وہ منی ٹریل پیش کر کے اپنی صفائی پیش کر سکیں اور ثابت کریں کہ لندن فلیٹس جائز اور قانونی ہیں اور ان کو خریدنے کیلئے منی لانڈرنگ نہیں کی گئی۔332929_45354325

پاکستان کا کوئی ماہر قانون اس امکان کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ پانامہ لیکس کے مقدمے میں وزیراعظم کو کلین چٹ مل جائیگی۔ ایک ماہر قانون کی رائے ہے کہ اگر کمیشن تشکیل دیا گیا تو کمیشن کی تحقیقات مکمل ہونے تک وزیراعظم کے اختیارات اس حد تک معطل کر دئیے جائینگے کہ وہ تحقیقاتی اداروں پر دبائو نہ ڈال سکیں۔ ایک سینئر بیرسٹر نے بڑے وثوق کے ساتھ کہا کہ سپریم کورٹ کے بنچ کا فیصلہ شریفانہ نہیں بلکہ جارحانہ ہو گا۔ ایک نامور ریٹائرڈ جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کو پانامہ کیس کی سماعت ہی نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ پانامہ لیکس کے بعد کسی تھانے میں قومی خزانے کے غبن کی ایف آئی آر درج کرا دی جاتی۔ ماہرین قانون ججوں کے ان ریمارکس کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں کہ فیصلہ تاریخ ساز ہو گا اور بیس سال گزرنے کے بعد بھی اس فیصلے کی اہمیت، انفرادیت، جامعیت، شفافیت اور آئینیت کو تسلیم کیا جائیگا۔

ایک دانا اور بینا ماہر قانون کے مطابق پانامہ لیکس کے فیصلے میں قرآنی آیات، احادیث، خلیل جبران اور عالمی شہرت یافتہ ججوں کے فیصلوں کے حوالے شامل ہوں گے۔ میڈیا کیلئے یہ فیصلہ دلچسپ ہو گا اور عوام اسے پڑھ کر لطف اندوز ہونگے۔ اس فیصلے میں ایسی آبزرویشن شامل ہوں گی جن سے پی پی پی اور تحریک انصاف سیاسی فائدہ اُٹھا سکیں گی۔ پانامہ لیکس کی سماعت کے دوران جو دلیرانہ ریمارکس منظر عام پر آئے انکی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ’’منیر کورٹ‘‘، ’’ڈوگر کورٹ‘‘، ’’شریف کورٹ‘‘ کا دور ختم ہوا اور عدلیہ اب ’’پاکستان کورٹ‘‘ کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اقلیت کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کے جج طویل سماعت کے بعد فیصلے کے بارے میں ذہن بنا چکے ہیں اور سچ تک پہنچ چکے ہیں۔ شریف خاندان کے متضاد بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں اس لیے فیصلے میں ڈیکلریشن شامل ہو گا۔ الیکشن کمیشن پاکستان کو عدلیہ کے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم پاکستان کیخلاف آئین کے آرٹیکل نمبر 62 کے تحت کاروائی کر کے نااہلی کا فیصلہ کریگا۔

ایک جج نے سماعت کے دوران آبزرویشن دی تھی کہ ’’نیب کی وفات ہو گئی‘‘۔ اس آبزرویشن کی روشنی میں توقع کی جاتی ہے کہ تفصیلی فیصلے میں نیب کی فاتحہ پڑھی جائیگی۔ ایک محترم جج نے بے ساختہ کہا تھا ’’وہ بھی کم بخت تیرا چاہنے والا نکلا‘‘ اُمید کی جا سکتی ہے کہ فیصلہ متفقہ ہو گا اور سب محترم جج پاکستان، آئین اور ریاست کے چاہنے والے خوش بخت ثابت ہوں گے۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ امیر ترین جنگجو سیاستدان ہیں مگر ریاست کے ادارے بشمول عدلیہ چوں کہ مضبوط ہیں اس لیے وہ صدر کے بجائے ثابت قدمی کے ساتھ امریکی ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔ افسوس پاکستان کے ریاستی اداروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے ’’یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا‘‘۔ پی پی پی کے حامی بے چینی کے ساتھ پانامہ لیکس کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

عدلیہ کی افسوسناک تاریخ کی روشنی میں انکے تحفظات بے جا نہیں ہیں۔ پی پی پی کے بانی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے شکستہ پاکستان کا وقار اور شکست خوردہ فوج کا اعتماد بحال کیا۔ قوم کو مایوسی سے باہر نکالا، اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کر کے عالم اسلام کو متحد کیا۔ قوم کو پہلا متفقہ آئین دیا۔ عوام کی آزادی اور ملکی سلامتی کیلئے ایٹمی صلاحیت حاصل کی مگر سپریم کورٹ کے ججوں نے ان کا ’’عدالتی قتل‘‘ کر دیا۔ جب میاں نواز شریف پر طیارہ ہائی جیکنگ اور دو سو سے زیادہ مسافروں کو موت سے ہمکنار کرنے کا سنگین الزام تھا انہوں نے شاہراہیں اور موٹرویز کی تعمیر کے علاوہ ملک کی کوئی قابل ذکر خدمت نہ کی تھی مگر امریکہ اور سعودی عرب ان کو وی آئی پی طیارے پر پاکستان سے جدہ پیلس لے گئے اور سپریم کورٹ نے آنکھیں بند رکھیں۔ پانامہ لیکس میں وزیراعظم کی جان کو کوئی خطرہ نہیں وہ صرف نا اہل ہو سکتے ہیں۔ وہ اپنا جانشین کو خود نامزد کرینگے اور آصف زرداری کی طرح سیاسی اور حکومتی طاقت انکے ہاتھ میں رہے گی۔ البتہ اگلے انتخابات میں ان کو سیاسی نقصان اُٹھانا پڑیگا۔ وزیراعظم کے زیر احتساب آنے کے بعد احتساب کا بند دروازہ کھل جائیگا اور پاکستان کے بڑے لٹیرے احتساب کے شکنجے میں آ جائینگے جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے آب حیات ثابت ہو گا۔ مایوس اور بے حس عوام میں حوصلے اور اُمید کی نئی کرن پیدا ہوگی۔

سماعت کے دوران سامنے آنیوالے دلائل اور فاضل جج حضرات کے ریمارکس کے بعد بھی فیصلہ وزیراعظم کے حق میں آنے سے پورے ملک میں مایوسی، نااُمیدی اور بداعتمادی کی لہر پھیل جائے گی جو ریاست کیلئے زہر قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔ علیحدگی پسند، پاکستان دشمن خفیہ ایجنسیاں اور دہشت گرد اس نوعیت کے فیصلے کو اپنے مذموم مقاصد کی خاطر ہتھیار کے طور پر استعمال کرینگے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد خان نے کرپشن کے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کرپشن کی وجہ سے ملکی حالت مویشیوں کے باڑے جیسی ہو چکی ہے۔ ماضی میں جس فرد پر بدعنوانی کا الزام ہوتا اسکے بیٹے اور بیٹی کو کوئی رشتہ نہیں دیتا تھا۔

محترم جسٹس دوست محمد خان ایک کلرک احتشام الحق کی اپیل کی سماعت کر رہے تھے جسے ایک لاکھ 94 ہزار کی کرپشن کرنے کے الزام میں چار سال قید کی سزا ہو چکی تھی جس میں سے وہ دو سال قید کاٹ چکا تھا اور باقی سزا کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ سے التجا کر رہا تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ چھوٹے کرپٹ جیلوں میں بند ہیں جبکہ مہا کرپٹ بڑے منصبوں پر فائز ہیں۔ اب شاید عدل و انصاف کا نیا دور شروع ہونیوالا ہے۔ آئین اور قانون سب پر مساوی طور پر نافذ ہو گا اور کرپشن کرنیوالے بڑے لوگ بھی جیلوں میں بند نظر آئینگے۔ کرپشن کا زہر جسد ریاست میں پھیل چکا ہے جسے بچانے کیلئے آئینی اور قانونی آپریشن لازم ہے۔ رد کرپشن آپریشن کے بغیر ردالفساد آپریشن کی کامیابی ممکن نہیں ہو گی۔

پانامہ لیکس کی سماعت کے دوران وزیراعظم پاکستان کی اخلاقی ساکھ مجروح ہو چکی۔ فیصلہ آنے کے بعد اس پر شدید ضرب لگے گی اور حکومت مخالف جماعتیں وزیراعظم کے استعفے کیلئے تحریک چلائیں گی جو دراصل انتخابی مہم کا آغاز ہو گی۔ قومی اتحاد کی پرجوش تحریک کے دوران بھٹو نے ایک اعلیٰ سطحی حکومتی اجلاس میں اپنی عینک غصے کے ساتھ میز پر پھینکتے ہوئے کہا تم لوگوں نے میری اخلاقی ساکھ مجروح کر دی اگر وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کو بلا مقابلہ منتخب نہ کرایا جاتا تو قومی اتحاد کی تحریک کبھی کامیاب نہ ہوتی۔ افسوس موجودہ وزیراعظم اخلاقی ساکھ کو اہمیت دینے کیلئے ہی تیار نہیں ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کے ہاتھ میں نئے انتخابات کرانے کا ایک آئینی پتا باقی ہے کیا وہ یہ پتا مناسب وقت پر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاک فوج اور عدلیہ بہتر کارکردگی کی بناء پر ریاست پر کنٹرول بڑھا چکے ہیں جبکہ پارلیمنٹ اور حکومت بیڈ گورنینس کی وجہ سے اپنی رٹ محدود کربیٹھے ہیں۔

قیوم نظامی

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کی سماعت

پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پاناما لیکس پر میڈیا ذمے داری کا مظاہرہ کرے۔ وزیراعظم نوازشریف ، ان کے بچوں کے خلاف منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری کے الزامات اور پاناما لیکس میں سامنے آنے والی معلومات کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ کررہا ہے۔ حامد خان کے کیس لڑنے سے انکار کے بعد تحریک انصاف کی نئی لیگل ٹیم عدالت میں پیش ہوئی۔

دوران سماعت عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کےصاحبزادے کا این ٹی این ہی نہیں ہے،مریم نواز وزیر اعظم کی زیر کفالت ہیں اور وہ لندن فلیٹس کی بینی فشل اونر ہیں، وزیر اعظم کو یہ بات گوشواروں میں پیش کرنی چاہئے تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ قطری شہزادے کا خط وزیر اعظم کے موقف سے مختلف ہے، نیب اور دیگر ادارے اپنا کام کرنے میں ناکام رہے، نیب وزیر اعظم کو بچانے میں لگا رہا، نیب چیئرمین کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے،اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کیس میں اعترافی بیان دیا۔

نعیم بخاری نے گزشتہ سماعت پر ہونے والی تلخ کلامی پر معافی طلب کی اور کہا کہ انہیں اس عدالت پر مکمل یقین ہے۔ طارق اسد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ میڈیا میں حامد خان سے متعلق بہت باتیں آئی ہیں،تبصروں سے کیس پر اثر پڑے گا، میڈیا کو کیس پر تبصروں سے روکا جائے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان بہت سینئر اور اہل قانون دان ہیں، قانون پرکتب لکھ چکے ہیں، حامد خان سے متعلق میڈیا میں باتوں سے ان کے قد کاٹھ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ پاناما لیکس پر میڈیا ذمے داری کا مظاہرہ کرے۔ دوران سماعت جماعت اسلامی کے وکیل اسد منظور بٹ نےدرخواست کی کہ عدالت فریقین کو حکم دے، وہ کیس کو مختصر کریں ۔

 

 

 

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

ایک شکاری سے ایک ساحلی بستی کے لڑکے نے پوچھا استاد جی میں چھوٹے موٹے پرندے تو زندہ پکڑ لیتا ہوں مگر بگلہ آج تک نہیں پکڑ سکا۔ شکاری نے کہا یہ تو بہت آسان ہے۔ جب بھی تم کسی چٹان پر بگلہ بیٹھے دیکھو تو دبے پاؤں اس کے پیچھے جاؤ، سر پر موم بتی رکھ کے جلا دو۔ موم کے پگھلتے قطرے بگلے کی آنکھوں میں پڑنے سے وہ نابینا ہو جائے گا۔ اس کے بعد آرام سے گردن سے پکڑو اور تھیلے میں ڈال لو۔ لڑکے نے پوچھا استاد جی ایک بات تو بتاؤ۔ جب میں بگلے کے اتنا نزدیک پہنچ جاؤں تو پھر سر پر موم بتی رکھنے کی کیا ضرورت۔ ڈائریکٹ گردن کیوں نہ دبوچ لوں؟ شکاری نے کہا کہ بات تو تیری ٹھیک ہے بچے پر اس طرح بگلہ پکڑنا کوئی فنکاری تو نہ ہوئی…
دنیا کے بیشتر ممالک میں جب بھی کوئی مالی و اخلاقی اسکینڈل سامنے آتا ہے تو عام طور سے ملکی ادارے ہی اس کی تحقیقات کرتے ہیں۔ جیسے امریکا میں ایف بی آئی، اسرائیل میں پولیس بیورو، برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ یارڈ، بھارت میں سی بی آئی۔ بھلے کوئی کلنٹن ہو، ایریل شیرون ہو، ٹونی بلیئریاراجیو گاندھی۔
یہ بھی ہو سکتا تھا کہ وزیرِ اعظم نواز شریف پانامہ لیکس کی چھان بین کا کیس نیب کے حوالے کر دیتے۔ آخر نیب برسوں سے سیاستدانوں، سابق جرنیلوں، بیوروکریٹس، تاجروں اور صنعت کاروں کے معاملات کی چھان بین کر ہی رہی ہے۔ کئی مقدمات کو منطقی انجام تک بھی پہنچا چکی ہے۔ اس کے پاس چھان بین کا ضروری انفراسٹرکچر بھی ہے۔
اگرچہ پانامہ لیکس سے چند ہفتے پہلے میاں صاحب نے نیب کو سخت سست بھی سنائی تھیں اور یہ تک کہا تھا کہ نیب جس طرح تاجر طبقے کو ہراساں کر رہی ہے اس کے بعد ملکی و غیر ملکی مخیئر پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہچکچا رہے ہیں اور افسر ضروری فائلوں پر دستخط سے بھی گھبرا رہے ہیں۔ اپنے تحفظات کے باوجود اگر وزیرِ اعظم پانامہ کیس کی چھان بین کا کام نیب کے حوالے کر دیتے تو حزبِ اختلاف بھی ایک خود مختار آئینی ادارے کے ہاتھوں اس کیس کی چھان بین کی بہت زیادہ مخالفت نہ کر پاتی۔ اس کام کے لیے ایف آئی اے بھی ایک موزوں ادارہ ہے مگر اس کی مثال میں اس لیے نہیں دے رہا کیونکہ ایف آئی اے وزارتِ داخلہ کے تحت ہے اور وزیرِ داخلہ تقریباً نائب وزیرِ اعظم ہیں۔
مگر میاں صاحب نے کسی وجہ سے نیب کا راستہ نہیں اپنایا۔ انھوں نے پہلے خود ہی قوم سے بعجلت خطاب میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے پانامہ لیکس کی گیند کو کسی ریٹائرڈ جج کے حوالے کرنے کی کوشش کی۔ جب بقول وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان سپریم کورٹ کے دو سابق چیف جسٹسوں سمیت پانچ ججوں نے یکے بعد دیگرے پانامہ لیکس کا گرم آلو پکڑنے سے انکار کر دیا تو پھر سکینڈل کا فٹ بال کھلے میدان میں چھوڑ دیا گیا۔ یوں بھانت بھانت کی فرمائشی ککیں اس فٹ بال پر پڑنا شروع ہو گئیں۔ عمران خان، اسفند یار ولی اور سراج الحق وغیرہ کی ضد ہے کہ تحقیقاتی کمیشن سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس اور دیگر برادر ججوں پر مشتمل ہو۔ جب کہ چیف جسٹس نے بھی اشارہ دیا کہ عدالت کا کام مقدمہ سنناہے۔ چھان بین انتظامی اداروں کا کام ہے۔
حکومت نے معاملے کی سنجیدگی کی شدت اپنے تئیں کم رکھنے کے لیے کم از کم دو ہفتے گیند کو کھیلنے کے بجائے اسے الزامی آسٹرو ٹرف پر ڈفلیکٹ کرنے یا ادھر ادھر باؤنڈری لائن سے باہر پھینکنے میں ضایع کر دیے اور پھر چار و ناچار عدالتِ عظمیٰ سے دوبارہ مدد لینے کا فیصلہ ایسے کیا جیسے بھولے کو اس کا باپ ٹیکہ لگوانے کے لیے کھینچتا ہوا کمپاؤنڈر تک لے جائے۔
اس دوران تجویزاتی میچ میں غیر سیاسی فریق بھی اپنا حصہ ڈالنے لگے۔ جیسے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے صدارتی آرڈیننس کے تحت نیشنل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جو اقوام متحدہ کے کنوینشن برائے انسداد بدعنوانی کے تحت جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنا کر بیرونی دنیا سے شواہد جمع کر سکے۔ پیپلز پارٹی سے وابستہ کئی نام بھی چونکہ پانامہ لیکس کا حصہ ہیں لہذا حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتوں کے برعکس پیپلز پارٹی کھل کے نہ تو کوئی آزادانہ موقف اپنا سکتی ہے اور نہ خاموش رہنے کی پوزیشن میں ہے۔ چنانچہ اس نے درمیانی راستہ چنا۔ وہ ایک پارلیمانی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کی حامی ہے جسے مالیاتی امور کے فورنزک ماہرین کا تعاون حاصل ہو۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے معاملے کو الزامیہ و جوابی الزامیہ دھول میں چھپاتے ہوئے شائد یہ بھی خیال ہو کہ حزبِ اختلاف کا کنفیوژن ایک طرح سے اس کے حق میں جائے گا۔ نہ اپوزیشن کسی ایک طریقے پر متفق ہو گی نہ تحقیقات کی رادھا ناچے گی۔ دوسری جانب اپوزیشن بھی اس سارے مسئلے کو مالیاتی تکنیکی انداز سے دیکھنے کے بجائے نواز شریف پر دباؤ ڈالنے کے ایک سنہری موقع کی طرح استعمال کر رہی ہے۔
سیدھی سیدھی بات ہے کہ وزیرِ اعظم کے خاندان پر آنے والے حرف کی چھان بین ہو تا کہ یہ حرف دھل سکے۔ مگر میزبانی کی نیت نہ ہو تو ایک سادہ سی بات کو بھی جلیبی بنایا جا سکتا ہے۔ بالکل اس میزبان کی طرح جس نے ایک بن بلائے مہمان سے پوچھا چائے پیجئے گا؟ مہمان نے کہا جی پی لیں گے۔ میزبان نے کہا کپ میں یا گلاس میں۔ مہمان نے کہا کپ میں۔ میزبان نے کہا کپ پلاسٹک کا بھی ہے اور چائنا کلے کا بھی۔ مہمان نے کہا چائنا کلے ٹھیک رہے گا۔ میزبان نے کہا میڈ ان پاکستان ٹی کپ میں یا برٹش میڈ میں۔ مہمان نے کہا برٹش چل جائے گا۔ میزبان نے کہا برٹش ٹی سیٹ بھی میرے پاس دو طرح کے ہیں سادہ بھی اور پھولدار بھی۔ میزبان نے کہا پھولدار اچھا لگے گا۔ میزبان نے کہا بس جیسے ہی باورچی آتا ہے میں چائے بنواتا ہوں۔ مہمان نے کہا مجھے بھی جانے کی کوئی جلدی نہیں۔
شائد مسلم لیگ ن بھی حزبِ اختلاف کو پانامہ کپ میں ایسی ہی چائے پیش کرنا چاہ رہی ہے۔ اب جب کہ فوج نے کسی باورچی کا انتظار کیے بغیر اپنے کچن کی صفائی شروع کر دی ہے۔ لگتا ہے سویلینز کو بھی اپنا خانساماں خود ہی بننا پڑے گا۔ آپس کی بات تو یہ ہے کہ میں نے منیرؔ نیازی کے بڑے بڑے عاشق دیکھے مگر پچھلے پینتیس برس میں نواز شریف جیسا نہیں دیکھا جو منیرؔ کی شاعری محض پسند ہی نہیں کرتے بلکہ اسے روزمرہ کاروبارِ مملکت کا حصہ بھی بنا کے رکھتے ہیں۔
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو
مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

وسعت اللہ خان

ابھی فیصلہ نواز شریف کے ہاتھ میں ہے

پانامہ لیکس کی ہنگامہ خیزی جاری ہے۔ عمران خان قوم سے پرائیویٹ خطاب کر
چکے ہیں۔ اس سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے بھی اسی قوم سے سرکاری خطاب کیا تھا۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور ان کی پاکستان پیپلزپارٹی اپنے تئیں نواز شریف اور ان کی حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔ عمران خان استعفیٰ مانگتے ہیں جب کہ پیپلزپارٹی جوڈیشل کمیشن بن جانے پر راضی ہے۔

دیگر سیاسی جماعتیں ایک حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہتیں۔ عین ممکن ہے عمران اگر رائیونڈ میں دھرنا دینے چل پڑیں تو نواز شریف دیگر سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھر قائل کر لیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے اس لیے وہ حکومت کا ساتھ دیں۔ پارلیمنٹ کا گذشتہ روز غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہونے والا اجلاس پھر سے بلایا جا سکتا ہے جو غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتا ہے اگرچہ اس بار یہ مشکل لگتا ہے۔ پرویز رشید کہتے ہیں کہ انھوں نے عمران کا پلان ون اور ٹو دیکھ لیا، دھرنا ٹو بھی دیکھ لیں گے۔

ہماری سرزمین بریکنگ نیوز کے لیے جتنی زرخیز ہے غالباً اتفاقات کے لیے بھی اتنی ہی پُرتاثیرہے۔ یہ محض ’’اتفاق‘‘ہی تو تھا کہ حسین نواز نے اچانک نامور اینکرز کو انٹرویو دے ڈالے۔ پھر یہ بھی ’’اتفاق‘‘ ہی ہے کہ ایک دن اچانک پانامہ لیکس سامنے آگئیں اور دنیا کے بیشتر ملکوں میں ہلچل مچ گئی۔ آئس لینڈ کے وزیراعظم کو گھر جانا پڑا، برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو اپنے ٹیکس ریٹرنز سامنے لانے پڑے جب کہ ان سے استعفے کی ڈیمانڈ ابھی تک جاری ہے۔

یہ بھی ’’اتفاق‘‘ ہی ہے کہ اختلاف رائے کے باوجود ہمارے وزیراعظم نے اپنے بچوں کی صفائی دینے کے لیے قوم سے خطاب کرنے کو ترجیح دی۔ اور ایسے ہی اتفاقات میں ایک اتفاق یہ بھی ہے کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے اس حلفیہ بیان میں جسے عدلیہ اس بنیاد پر کالعدم قرار دے چکی ہے کہ وہ ان سے دباؤ میں لیا گیا۔ سعید احمد نامی ایک شخص کا نام موجود تھا جو حال مقیم اسٹیٹ بینک اور عہدہ ان کا ڈپٹی گورنر ہے۔

کچھ اتفاقات ایسے ہوئے ہیں جو انسان کو پریشان کر دیتے ہیں۔ اسحاق ڈار سے جب دباؤ ڈال کر وہ تحریر لی گئی جس میں منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا گیا تھا تو پھر اس میں سعید احمد کا نام شامل کرنا کیوں ضروری تھا۔ مجھے حیرت اس لیے ہوئی کہ سعید احمد نے اسحاق ڈار سے اپنی دیرینہ دوستی کا اعتراف کیا ہے۔ دباؤ میں بھی کہیں کسی دوست کو پھنسانا میر ی سمجھ میں نہیں آیا۔ بڑے لوگوں کی باتیں بھی بڑی ہوتی ہیں۔ ممکن ہے وفاقی وزیرخزانہ نے دباؤ کے تحت سعید احمد کا نام اس کالعدم تحریر میں شامل کر لیا ہو اور پھر انھیں خیال آیا ہو کہ اب اس دوست کو ڈپٹی اسٹیٹ بینک کا عہدہ دے کر تلافی کر لی جائے۔ اس سے یہ مطلب اخذ نہ کیا جائے کہ سعید احمد اس عہدے کے اہل نہیں تھے یا نہیں ہیں۔
نواز شریف کو پانامہ لیکس پر قوم سے خطاب کرنا چاہیے تھا یا نہیں، بحث کافی پرانی ہو چکی ہے۔ میرے خیال میں نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ جب وزیراعظم اپنے بچوں کی جائیدادوں اور آف شور کمپنیوں کی وضاحت دینے کے لیے خود قوم کے سامنے آگئے تو معاملے میں اور زیادہ جان پڑ گئی۔ حکومت کے لیے بہتر تھا اور اب بھی ہے کہ وہ اس معاملے پر میڈیا سے بات کرنے کے لیے کسی ایک شخص کی ڈیوٹی لگا دے۔ کیونکہ جتنے زیادہ لوگ بات کریں گے اتنی زیادہ باتیں ہوں گی۔ اس کا سارا نقصان حکومت کو ہو گا۔ کوئی یہ دعویٰ کرے کہ حکومتی صفوں میں پریشانی نہیں ہے تو وہ یقیناً احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ نواز شریف نے ترکی کا دورہ منسوخ کر دیا ہے، اندرون ملک بھی ان کی مصروفیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
اس سے پہلے وہ دورہ امریکا ملتوی کر چکے ہیں لیکن اس کی وجہ گلشن اقبال پارک لاہور میں ہونے والا خوفناک دھماکا تھا۔ پانامہ لیکس کا کرائسز ایسا ہے کہ اس سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔ ایک فہرست تو وہ ہے جو سامنے آچکی ہے۔ ایک آنے والی فہرست کی بھی بازگشت ہے جس میں 470 مزید پاکستانیوں کی شمولیت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے اس آنے والی فہرست نے بھی اشرافیہ کے کئی لوگوں کو پریشان کر رکھا ہوگا۔ کئی کی نیندیں اڑ چکی ہوں گی۔
نواز شریف اب تک خوش قسمت رہے ہیں۔ 126 دن کے دھرنے کے باوجود وہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر نکلے۔ پانامہ لیکس کے آنے سے پہلے کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وزیراعظم یا ان کی حکومت کو دوبارہ کوئی مسئلہ درپیش ہو گا۔ راوی سب چین لکھ رہا تھا۔ ماضی میں عدالتوں سے ریلیف کے مقابلے میں بھی نواز شریف ہی سب سے زیادہ خوش قسمت ثابت ہوئے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کل پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کاروباری معاملات میں بھی نواز شریف اور ان کے بچوں کو خوش قسمت قرار دیا۔ یہ ہوتا ہے جب قسمت ساتھ دے تو مٹی بھی سونا بن جاتی ہے۔ اعتزاز کے بقول اب تک یہی حالت رہی ہے۔ نواز شریف موجودہ کرائسز سے نکل گئے تو پھر ان کے مخالفین یہ کہیں لکھ لیں کہ وہ اور ان کا خاندان تاحیات اس ملک کے حکمران رہیں گے۔
نوازشریف لکی ہیں تو عمران کی قسمت کے بھی کیا کہنے۔ پی ٹی آئی پے درپے غلطیوں کی وجہ سے اپنی مقبولیت کھو رہی تھی۔ لوگوں کا اعتماد اس پارٹی پر سے اٹھ رہا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ پیپلزپارٹی دوبارہ اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ پانامہ لیکس نے کپتان کی سیاست میں پھر سے جان ڈال دی۔ عمران یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے بہتر موقع ان کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ ان کا مقابلہ البتہ نوازشریف سے ہے۔ یہ ماننا پڑے گا کہ نواز شریف آخر تک ہار نہیں مانتے۔ کپتان کو اگر یقین ہے کہ وہ اس بار میاں صاحب کو گرا لیں گے تو دوسری طرف بھی یہ امید ہو گی کہ ایک بار پھر اس بحران سے نکل آئیں گے۔
کپتان نے اپنے پتے سیدھے کر لیے ہیں۔ پارٹی الیکشن ملتوی کر کے ساری توجہ پانامہ لیکس پر مبذول کر لی ہے۔ سوال یہ ہے کہ نواز شریف کے پاس کیا آپشنز ہیں۔ فوری حل تو یہ ہو سکتا ہے کہ وہ قوم سے ایک بار اور خطاب کریں۔ میاں صاحب یہ موقف اختیار کریں کہ ان کی فیملی نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا لیکن چونکہ ان کے بچوں کا نام آف شور کمپنیوں میں آیا ہے اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ فوری الیکشن کرا کے فریش عوامی مینڈیٹ لیا جائے۔
دوسرا ممکنہ حل یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ یہ معاہدہ کر لیں کہ 5سالہ مدت پوری کرنے کے بجائے وہ 4سالہ مدت کے بعد الیکشن کرادیں گے۔ جس نواز شریف کو میں جانتا ہوں وہ البتہ ایسا نہیں کرے گا۔ کپتان نے تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ رائیونڈ کا ہر صورت گھیراؤ کریں گے۔ اس سسٹم نے چلنا ہے تو پھر ایک ہی حل رہ جاتا ہے کہ اس بار اعلیٰ عدلیہ اپنا کردار ادا کرے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بن گیا تو سب مطمئن ہو جائیں گے۔ اتفاقات کا مزید سہارا لیا گیا تو پھر کوئی انہونی بھی ہو سکتی ہے۔
ابھی وقت ہے نواز شریف کوئی فیصلہ کر لیں۔ فیصلے کا اختیار ان کے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
ایاز خان