ہمارا نظام بینکاری بھی گیم چینجر ہو سکتا ہے؟ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

پچھلی کئی دہائیوں سے مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے پاکستان میں قومی بچتوں کی شرحیں انتہائی پست رہی ہیں جبکہ گزشتہ 13 برسوں میں یہ شرح مزید گری ہے۔ مالی سال 2002-3ء میں بچتوں کی شرح 20.8 فیصد تھی جو 2015-16ء میں گر کر 14.3 فیصد رہ گئی۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ چین میں قومی بچتوں کا تناسب 46 فیصد، تھائی لینڈ میں 33 فیصد، بھارت میں 31 فیصد اور بنگلہ دیش میں 28 فیصد ہے۔ فوجی حکومت کے دور میں 2002ء اور 2004ء میں حکومتی شعبے کے دو بڑے بینکوں کو نجکاری کے نام پر غیر ملکیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بینکوں نے اجارہ داری قائم کر کے نفع و نقصان میں شراکت کی بنیاد پر لئے گئے کھاتے داروں کو اپنے منافع میں شریک کرنے کے بجائے ان کو دی جانے والی شرح منافع میں کٹوتی کر کے اپنا منافع بڑھانا شروع کر دیا۔ چند حقائق پیش ہیں:۔

(1) 1999ء میں بینکوں کا ٹیکس سے قبل مجموعی منافع 7؍ارب روپے تھا جبکہ بینکوں نے بچت کھاتے داروں کو اوسطاً 7 فیصد سالانہ منافع دیا تھا۔

(2) 2009ء میں 81؍ ارب روپے کا منافع ہوا مگر شرح منافع 5.1 فیصد رہی۔

(3) 2013ء میں منافع 162؍ارب روپے مگر شرح منافع 6.5 فیصد رہی۔

(4) 2016ء میں منافع 314؍ ارب روپے مگر شرح منافع 3.75 فیصد رہی۔

فرینڈز آف پاکستان کے 26؍ستمبر 2008ء کے اعلامیہ کے تحت آئی ایم ایف نے تباہ کن شرائط پر نومبر 2008ء میں پاکستان کے لئے 7.6؍ارب ڈالر کا قرضہ منظور کیا۔ اس کے فوراً بعد بینکوں نے گٹھ جوڑ کرکے صنعت، تجارت، زراعت اور برآمدات وغیرہ کے لئے بڑے پیمانے پر قرضے فراہم کرنے کے اپنے اصل کام کو جاری رکھنے کے بجائے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے حکومت کو بڑے پیمانے پر قرضے دینا شروع کر دئیے۔ اس فیصلے سے بھی معیشت کی شرح نمو متاثر ہوئی، روزگار کے کم مواقع میسر آئے، قومی بچتوں کی شرح گری اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ آگے چل کر اس بات کے شواہد اور زیادہ واضح ہو گئے کہ اس تباہ کن پالیسی کو آئی ایم ایف کی آشیر باد حاصل تھی جس سے بینکوں کا منافع تو یقیناً بڑھا مگر معیشت کو نقصان پہنچا۔ بینکوں کے مجموعی قرضوں اور مجموعی سرمایہ کاری کا تقابلی جائزہ نذر قارئین ہے:

(ارب روپے)

2008ء

2016ء

اضافہ

مجموعی سرمایہ کاری

1087

7509

6422

مجموعی قرضے

3173

5499

2326

مندرجہ بالا اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ 8؍ برسوں میں بینکوں کے مجموعی قرضوں میں صرف 2326؍ ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ سرمایہ کاری میں اضافے کا حجم 6422؍ ارب روپے رہا۔ واضح رہے کہ اسی مدت میں بینکوں کے ڈپازٹس میں 8186؍ ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔ اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ حکومت کو دئیے گئے قرضوں پر مشتمل تھا جو ٹیکسوں کی بڑے پیمانے پر چوری ہونے دینے سے پیدا ہونے والے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے دئیے گئے تھے۔ اس قسم کے تباہ کن فیصلے کی پاکستان تو کیا دنیا بھر میں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں جو پریشان کن پیش رفت شعبہ بینکاری میں ہوئی ہیں ان میں سے دو یہ ہیں:

(1) مارچ 2017ء میں شائع ہونے والے سندھ بینک کے سالانہ گوشواروں سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت سندھ کی ملکیت اور زیرانتظام سندھ بینک حیران کن طور پر زبردست مشکلات اور نقصان کا شکار نجی شعبے کے ’’سمٹ بینک‘‘ کو خرید کر اپنے اندر ضم کرنے کے لئے پرتول رہا ہے۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو اس سے صوبہ سندھ اور اس کے عوام کا نقصان ہو گا اور اس کا فائدہ سمٹ بینک کے مالکان کو ہو گا جن کے دور میں سمٹ بینک کو زبردست نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سمٹ بینک پہلے پاکستان میں بنگلہ دیش کا روپالی بینک تھا۔ یہ بینک بعد میں عارف حبیب بینک بنا اور پھر پیپلز پارٹی کے دور میں اکتوبر 2010ء میں اس وقت کی وفاقی حکومت کی آشیر باد اور اسٹیٹ بینک کی منظوری سے اس بینک کے اکثریتی حصص ماریشس کی ایک پارٹی کے حوالے کر دئیے گئے اور اس طرح سمٹ بینک معرض وجود میں آیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد پاکستان میں بینک گاجر مولی کی طرح فروخت ہو رہے تھے چنانچہ مائی بینک اور اٹلس بینک بھی سمٹ بینک میں ضم ہو گئے۔ یہ بات بھی نوٹ کرنا اہم ہے کہ سندھ بھر میں سمٹ بینک کی شاخوں کی تعداد سے کہیں زیادہ اس بینک کی شاخیں ملک کے دوسرے صوبوں میں ہیں اور اس کی شاخوں، قرضوں اور پھنسے ہوئے قرضوں کا حجم سندھ بینک سے کہیں زیادہ ہے۔ سندھ بینک کو حکومتی شعبے میں قائم کرنے کا بنیادی مقصد صوبہ سندھ کی معیشت کی ترقی اور صوبے کے عوام کو بینکاری کی خدمات فراہم کر کے ان کی حالت بہتر بنانا ہے چنانچہ اس بات کا کوئی جواز نہیں ہے کہ سندھ کے مالی وسائل سمٹ بینک کے ’’نجاتی پیکیج‘‘ پر صرف کئے جائیں۔

(2) یہ بات حیرت سے پڑھی جائے گی کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے حکومتی شعبے کے فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کی سفارش اس بنیاد پر کی ہے اس کی کارکردگی ناقص ہے۔ فرسٹ ویمن بینک دنیا کا واحد ویمن بینک ہے اور اس کی شاخوں کی تعداد صرف 42 ہے۔ قائمہ کمیٹی کی یہ سفارش بنیادی حقائق کا ادراک کئے بغیر کی گئی ہے۔ فرسٹ ویمن بینک حکومتی شعبے میں رہتے ہوئے ملک کی لاکھوں خواتین کا ملک کی معاشی ترقی میں کردار بڑھانے اور ان کو ہنرمند بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ فرسٹ ویمن بینک کی خراب کارکردگی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے وفاقی حکومت نے وعدہ کرنے کے باوجود اس بینک کو 500 ملین روپے کا سرمایہ فراہم نہیں کیا حالانکہ اسٹیٹ بینک نے کسب بینک کو بینک اسلامی کے ہاتھ نہ صرف ایک ہزار روپے میں فروخت کیا بلکہ بینک اسلامی کو لمبی مدت کے لئے 20؍ ارب روپے کا سرمایہ بھی فراہم کیا۔ یہ فیصلہ متنازع اور غیر شفاف تھا۔ اگر کسب بینک ملک میں کام کرنے والے کسی بڑے بینک کو فروخت کیا جاتا تو بہتر قیمت ملتی اور اسٹیٹ بینک کو سرمایہ فراہم کرنے کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔

آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر نے اکتوبر 2016ء میں کہا تھا کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں خواتین کا کردار گیم چینجر ہو سکتا ہے۔ اگر ملک کے تیسرے بڑے بینک یونائیٹڈ بینک میں ایک خاتون کو صدر مقرر کیا جا سکتا ہے تو فرسٹ ویمن بینک میں بھی کسی لائق اور تجربہ کار خاتون بینکار کو صدر مقرر کیا جا سکتا ہے۔ انہیں ذمہ داری دی جائے کہ دسمبر 2018ء تک فرسٹ ویمن بینک کی ملک بھر میں 300 مزید شاخیں کھولی جائیں اور خواتین کو ہنرمند بنانے کے لئے ٹریننگ پروگرام شروع کئے جائیں۔ حکومت کو اس بینک کو مرحلہ وار چند ارب روپے کا سرمایہ بھی فراہم کرنا ہو گا اور خواتین کے لئے بڑے پیمانے پر ووکیشنل ٹریننگ کی رفتار تیز کرنا ہو گی۔ سندھ بینک کے لئے بھی موقع ہے کہ سمٹ بینک میں اپنا سرمایہ لگانے کے بجائے بے نظیر شہید کے وژن کی روشنی میں قائم کئے گئے فرسٹ ویمن بینک کی تیز رفتار ترقی کے لئے کردار ادا کرے۔

اگر مندرجہ بالا گزارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور سی پیک منصوبے سے رونما ہونے والے سنہری مواقع سے استفادہ کرنے کے لئے شعبہ بینکاری میں بھی بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی جائیں تو بینکاری کا شعبہ بھی جس کے مجموعی ڈپازٹس کا حجم 11؍ ہزار ارب روپے سے زائد ہے، یقیناً گیم چینجر ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

Advertisements

ملک میں 19 سال بعد چھٹی مردم شماری کا آغاز

png2

ملک بھر میں 19 سال کے بعد چھٹی مردم و خانہ شماری کا آغاز ہو گیا۔ چیف شماریات آصف باجوہ نے بتایا کہ شمار کنندہ عملے میں مختلف محکموں کے 1 لاکھ 18 ہزار افراد شامل ہیں جن میں پاکستان شماریات بیورو سے تعلق رکھنے والا عملہ بھی شریک ہے، جبکہ ان تمام افراد کو مردم شماری کے لیے خصوصی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ملک کے 63 اضلاع میں ہونے والی مردم شماری میں 1 لاکھ 75 ہزار فوجی اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے، جو شمار کرنے کے ساتھ ساتھ سروے کرنے والے عملے کو سیکیورٹی بھی فراہم کریں گے۔

 خیال رہے کے مردم شماری کا پہلا مرحلہ 15 اپریل تک مکمل ہوجائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے کا آغاز 25 اپریل سے ہو گا جو 25 مئی تک جاری رہے گا۔ مردم شماری کے دوسرے مرحلے میں 87 اضلاع کو شمار کیا جائے گا، جبکہ  ردم  شماری کی رپورٹس 2 ماہ میں مکمل کر لی جائیں گی۔ چیف شماریات کا مزید کہنا تھا کہ مردم شماری کے اصل پلان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

 

 

 

نئی مردم شماری کے نئے تقاضے

مردم شماری شروع ہو چکی ہے۔ اس ضمن میں چھوٹے صوبوں کے تحفظات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ لیکن ان سب تحفظات کے باوجود فوج کی نگرانی میں مردم شماری ہونا ایک خوش آیند بات ہے۔ تا ہم جو لوگ  فوج کی نگرانی میں مردم شماری کا مطالبہ کر رہے تھے وہ اب مزید بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ بعض کا خیال یہ ہے کہ اس مردم شماری کا فائدہ پنجاب کو ہو گا، شائد یہی خوف چھوٹے صوبوں کی قیادت کو کھائے جا رہا ہے۔ اور اسی لیے کئی سال مردم شماری ہو بھی نہیں سکی۔

بلوچستان میں بلوچوں کو خوف ہے کہ نئی مردم شماری کے نتیجے میں بلوچستان میں بلوچوں کی آبادی کا تناسب کم ہو جائے گا۔ وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ پہلے افغانوں کو بلوچستان سے نکالا جائے پھر مردم شماری کی جائے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ نہ نو من تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچے گی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب افغانوں کو نکالنے کی بات کی جائے توتب یہی بلوچ قیادت افغانوں کے نکالنے کی بھی مخالفت کر دیتی ہے۔ اگر بلوچستان کی مردم شماری میں بلوچوں کی تعداد کم ہو گئی تو کیا ہو گا۔ لیکن یہ سوال اس لیے اہم نہیں کہ مردم شماری حقیقت پر مبنی ہونی چاہیے اگر واقعی بلوچستان میں بلوچوں کی آبادی کم ہو چکی ہے۔ اور اگر وہاں پختونوں کی آبادی بڑھ گئی ہے تو مردم شماری میں یہ حقیقت سامنے آنے میں کوئی مذائقہ نہیں۔ کیونکہ اس حقیقت کو چھپا کر ملک کی کوئی خدمت نہیں کی جا سکتی۔

مجھے تو  اس دلیل میں بھی کوئی وزن نظر نہیں آتا کہ گوادر میں کسی غیر بلوچ کو مردم شماری میں شامل نہیں کیا جائے۔ جو بھی پاکستانی روزگار یا کسی اور مقصد کے لیے گوادر چلا گیا ہے اس کو مردم شماری میں اپنا پتہ گوادر کا لکھوانے کا بھر پور حق ہے۔ گوادر پورے پاکستان کا ہے۔ وہ گوادر میں اپنے ووٹ کا بھی اندراج کرا سکتا ہے۔ یہ عجیب منطق  ہے کہ آپ  رہیں گوادر میں لیکن مردم شماری میں آپ کا اندرج  وہاں نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح سندھی  قیادت کو  یہ خوف ہے کہ اس مردم شماری میں  سندھ کی شہری آبادی کا تناسب بڑھ جائے گا جب کہ شہری آبادی کی قیادت کے دعویداروں کو یہ خوف ہے کہ اس سے  دیہی سندھ کی آبادی کا  تناسب بڑھ جائے گا۔ ایک طرف ایم کیو ایم کو یہ خوف ہے کہ نئی مردم شماری میں کراچی اور حیدر آباد کی آبادی کم ہو جائے گی تو دوسری طرف پیپلزپارٹی کو یہ خوف ہے کہ اندرون سندھ کی آبادی کا تناسب  کراچی اور حیدرآباد کے مقابلے میں کم نہ ہو جائے۔ اگر کراچی کی آبادی بڑھنے کی وجہ سے وہاں کی سیٹیں بڑھ گئیں۔ تو یقیناً سندھ کی سیاست میں تبدیلی آ جائے گی۔ جس کا پیپلزپارٹی کو نقصان ہو گا۔ اسی لیے پیپلزپارٹی بھی پریشان ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد وزیر اعلیٰ کا تعلق شہری آبادی سے ہوا کرے۔

کے پی کے کی میں بھی مردم شماری کی عجیب صورتحال ہے۔ وہاں بھی اس حوالہ سے تحفظات موجود ہیں۔ سب سے پہلے تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے ہی مطالبہ کیا تھا مردم شماری فوج کی نگرانی میں کرائی جائے۔ لیکن اب ان کو بھی اس حوالہ سے تحفظات ہیں کیونکہ انھیں بھی یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ اس مردم شماری کے بعد کے پی کے کا سیاسی منظر نامہ کیا ہو گا۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے پنجاب میں سکون ہے۔ پنجاب میں مردم شماری کے حوالہ سے کوئی سنجیدہ تحفظات سامنے نہیں آئے۔ اس کی شائد ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پنجاب میں لسانیت کی بنیاد پر سیاست کا وجود نہیں۔ پنجاب میں تو کوئی پنجابی کے نام پر بھی سیاست کی دکان نہیں چمکا سکتا۔ اسی طرح پنجاب میں دیہی اور شہری سیاست میں کوئی سیاسی تنازعہ نہیں ہے۔ بلکہ پنجاب کی شہری اور دیہی سیاسی قیادت ایک ہی ہے ۔ چونکہ سیاسی مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے۔ اسی لیے تنازعہ نہیں ہے۔

اس طرح یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ لسانیت اور قوم پرستی کی سیاست کرنے والے سیاستدان اس مردم شماری سے پریشان ہیں۔ انھیں مردم شماری کے نتیجے میں بدلتے پاکستان سے اپنی سیاست خطرہ میں نظر آرہی ہے۔ وہ آج بھی ستر سال پرانی بنیاد پر سیاست کرنے کے خواہش مند ہیں۔ لیکن انھیں یہ بھی نظر آرہا ہے کہ اس بدلتے پاکستان میں ان کی سیاست خطرے  میں ہے۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے پنجاب کو یقیناً اس مردم شماری  اسے کوئی خوف نہیں۔ یہ  امید کی جا رہی ہے کہ لاہور کی آبادی بڑھنے سے یہاں کی سیٹیں بڑھ جائیں گے۔ سیاسی حلقہ اشارہ دے رہے ہیں کہ لاہور میں کم از کم قومی اسمبلی کی ایک نشست کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح وسطیٰ پنجاب کے تمام شہروں میں سیٹوں  میں  اضافہ کی توقع کی جا رہی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق نئی مردم شماری میں پنجاب کی آبادی میں بھی  مناسب اضافہ سامنے آ جائے گا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیگر صوبوں میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں رہی ہے۔ جس کی وجہ سے دیگر صوبوں سے لوگ پنجاب منتقل ہو ئے ہیں۔ اسی وجہ سے پنجاب کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ میں اس ضمن میں پریشان بھی ہوں کیوں کہ پنجاب کی عددی اکثرئت سے چھوٹے صوبے پہلے ہی پریشان ہیں۔ اور اس میں اگر اضافہ ہو گیا تو یقیناً اس پریشانی میں اضافہ ہو گا۔ کیا نئی مردم شماری پنجاب کی جمہوری حکمرانی میں اضافہ کرے گی اور اگر ایسا ہو گیا تو اس کی پاکستان کی  جمہوریت اور یکجہتی پر کیا اثرات ہوںگے۔

یہ درست ہے کہ سینیٹ میں تمام صوبوں کی برابر نمایندگی ہے لیکن قومی اسمبلی تو ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے۔  مردم شماری ایک آئینی تقاضا ہے۔ اس سے وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہے۔ مردم شماری میں تاخیر بھی اسی لیے ہوتی رہی کہ سیاسی مفاد عوامی مفاد کے طابع آتے رہے۔ لیکن اب جب عدلیہ کے دباؤ میں فوج کی نگرانی میں مردم شماری ہو رہی تو سیاستدان پریشان ہیں۔ اور یہ پریشانی آیندہ آنے والے چند دنوں میں مزید عیاں ہو جائے گی۔ لیکن عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مردم شماری اگر چند مخصوص سیاستدانوں کے مفاد میں نہیں بھی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ عوامی مفاد میں ہے۔ یہ پاکستان کے ہر شہری کے حقوق کا تعین کرے گی۔ جو شائد سیاستدانوں کی ترجیح نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں نئی مردم شماری سے آنے والے نتائج کے لیے نہ صرف کود تیار رہنا چاہیے بلکہ قوم کو بھی اس کے لیے تیار کرنا ہو گا۔

مزمل سہروردی

قرضے معاف کرانے والوں کی پردہ پوشی کیوں ؟

corruption-1

225977_details (1)اداریہ روزنامہ جنگ

دہشت گردی کے خلاف جنگ، پاکستان کو 118 ارب ڈالر کا نقصان

cccccاسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث ملک کو اب تک 118 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور یہ رقم مجموعی سالانہ ملکی پیداوار کے تیسرے حصہ سے زائد ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے معاشی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ جاری کی، جس میں کہا گیا کہ 2002 سے 2016 تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بل واسطہ اور بلا واسطہ ملک کو 118 ارب 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔ پاکستان کے سینٹرل بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ‘دہشت گردی کے واقعات کے باعث ملک میں معاشی اور سماجی شعبے کی ترقی کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا’۔

خیال رہے کہ 11 ستمبر 2001 میں امریکا پر ہونے والے حملوں کے بعد انھوں نے افغانستان میں فوجیں اتاریں تھی اور اس کے بعد پاکستان انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں امریکا کا اہم اتحادی قرار دیا گیا۔ مذکورہ جنگ کے دوران پاکستان کیلئے امریکا نے امداد برائے اتحادی تعاون یا کولیشن سپورٹ فنڈ منظور کیا تھا جس کے تحت پاکستان کو سالانہ ایک ارب ڈالر دیئے جانے تھے۔ یاد رہے کہ گذشتہ سال تک پاکستان کو مذکورہ فنڈ کے تحت 14 ارب ڈالر حاصل ہوئے تاہم اس کے مقابلے میں ملک کا ہونے والا نقصان 118 ارب 30 کروڑ ڈالر ہے۔ امریکی جنگ کا حصہ بننے کے بعد پاکستانی 2004 سے اپنی ہی سرزمین پر انتہا پسندوں سے بھی جنگ کررہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ اپنی سرزمین پر جاری جنگ کے دوران نا صرف پاکستان کو بڑی تعداد میں جانی نقصان اٹھانا پڑا جس میں ہلاکتیں اور اندرونی طور پر نقل مکانی بھی شامل ہے بلکہ اس کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آئی اور ملکی سرمایہ کاری رک گئی، برآمدات منجمد ہوگئیں اور ملک کی تجارت کو شدید نقصان پہنچا۔ واضح رہے کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے افغانستان سے منسلک سرحدی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے جس سے عسکریت پسندوں کی طاقت میں کمی آئی ہے جبکہ حال ہی شائع ہونے والی کچھ رپورٹس کے مطابق 2015 سے 2016 کے دوران ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ ادھر ڈان نیوز کے مطابق اسٹیٹ بینک نے جاری کی جانے والی سالانہ رپورٹ میں معاشی کارکردگی پراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو تجویز دی کہ سرمایہ کاری میں اضافے پر توجہ دی جائے۔

رپورٹ کے مطابق 30 جون 2016 کو ختم ہونے والے سال کے اختتام پر مہنگائی کی اوسط شرح گھٹ کر 2.9 فیصد پر آگئی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے حکومت کو یہ تجویز بھی دی کہ وہ سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ رپورٹ کے مطابق بچت اسکیموں میں اضافے کی ضرورت ہے اور نجی شعبے کو ملک میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کے لیے سہولیات دینا ہونگی کیونکہ اب تک نجی شعبے کی سرمایہ کاری حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ اس کے علاوہ عارضی اقدامات پر ٹیکس نظام کا انحصار معیشت میں بگاڑ پیدا کررہا ہے۔ دوسری جانب آئی ایم ایف نے رواں سال اکتوبر میں کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری آرہی ہے اور وہ مشکلات سے نکل رہی ہے جبکہ بیل آؤٹ پروگرام کے بعد ملک میں معاشی استحکام آرہا ہے۔

پاکستانی تاریخ کا سنہرا دن، گوادر بندرگاہ فعال ہو گئی

 Pakistan China

وزیراعظم نواز شریف نے گوادر بندر گاہ کا باضابطہ افتتاح کرکے اسے  فعال کردیا ہے  اور پاک چین اقتصادی راہدری منصوبے کے تحت چین کا پہلا تجارتی جہاز گوادر بندر گاہ سے روانہ ہو گیا۔ گوادر بندرگاہ سے برآمدات کا سلسلہ آج سے شروع ہوگیا  اور اس کا افتتاح وزیر اعظم نوازشریف نے کیا۔ سی پیک منصوبے کے تحت 300 کنٹینرز پر مشتمل پہلا میگا پائلٹ ٹریڈ کارگو گوادر سے روانہ ہوا۔ اس حوالے سے گوادر میں تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری، صوبے کے گورنر محمد خان اچکزئی، چینی سفیر، وفاقی وزراء اور پاکستان میں تعینات مختلف ممالک کے سفیروں نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ اس تاریخی دن سے خطاب کرنا میرے لئے باعث فخر ہے، وہ منصوبہ جو 2 سال پہلے شروع ہوا تھا آج حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبہ ایک خطہ اور ایک سڑک وژن کا آغاز ہے جب کہ گوادر اقتصادی راہداری منصوبے کے سر کا تاج ہے، سی پیک سے پاکستان تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا اور گوارد بندر گاہ وسط ایشیائی ریاستوں سے ربط پیدا کرے گی۔ تقریب سے چینی سفیرسن وی ڈونگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن بہت اہمیت کا حامل ہے اور سی پیک کے تحت پہلے منصوبے کے افتتاح پرمبارکباد دیتا ہوں، یہ پہلا موقع ہے کہ تجارتی قافلہ پاکستان کے مغربی حصے سے داخل ہوا اور اس منصوبے پر ہم حکومت اور فوج کے مشکور ہیں۔

چینی سفیر نے کہا کہ پاک چین راہداری منصوبہ پاکستان اور چین سمیت پورے خطےکے عوام کے لیے مفید ثابت ہوگا کیونکہ اس منصوبے کے تحت 10 ہزار سے زائد نوجوانوں کو روزگار ملے گا جب کہ اس پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے لیے ایف ڈبلیو او کا اہم کردار رہا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری کا کہنا تھا کہ سی پیک کی کامیابی پر وزیراعظم نوازشریف کو مبارکباد دیتا ہوں اور چینی قافلے کو خوش آمدید کہتا ہوں، پاک فوج نے سی پیک کی سیکیورٹی کے لیے الگ سیکیورٹی ڈویژن بنا دیا جب کہ بلوچستان میں اب امن و امان بھی بہتر ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت گوادر پورٹ کی انتظامی ذمہ داریاں چین کے سپرد کر دی گئی ہیں اور چین گوادر پورٹ کے ذریعے ہی اپنی درآمدات اور برآمدات کرے گا۔ گوادر بندر گاہ کے ذریعے چین اپنا تجارتی سامان باآسانی مشرق وسطیٰ اور افریقا تک پہنچا سکے گا۔

آئی ایم ایف اور ملکی اشرافیہ : ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

Read dr-shahid-hasan-siddiqui Column imf-aor-mulki-ashrafia published on 2016-11-03 in Daily JangAkhbar

 

 

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

پاک چائنا اقتصادی راہ داری (سی پیک) کے تحت تجارتی سرگرمیوں کا آغاز

چائنا پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔ گزشتہ روز 100 کے قریب چینی کنٹینرز سوست ڈرائی پورٹ میں داخل ہوئے جبکہ ایک روز قبل اس پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں کی افتتاحی تقریب بھی منعقد کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ سوست ہنزہ کا ایک گاؤں ہے اور قراقرم ہائی وے پر واقع یہ پاکستان کا آخری قصبہ ہے جس کے بعد چینی سرحد کا آغاز ہوجاتا ہے۔ سوست پورٹ پر کسٹمز کلیئنرس ملنے کے بعد چینی کنٹینرز گوادر کی بندرگاہ کی جانب روانہ ہوگئے۔ افتتاحی تقریب میں چینی حکام کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمٰن اور فورس کمانڈر ثاقب محمود ملک نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ سی پیک گلگت بلتستان کی قسمت بدل دے گا، ہر ہفتے قراقرم ہائی وے کے ذریعے ایک ہزار چینی کنٹینرز گلگت بلتستان سے گزریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان تجارتی سرگرمیوں کے نتیجے میں اس خطے میں بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا اور خوشحالی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چینی اور پاکستانی عوام کے لیے انتہائی اہم دن ہے کہ سی پیک کے تحت تجارتی سرگرمیوں کا باضابطہ طور پر آغاز ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’وفاقی حکومت نے اس خطے کے لیے 72 ارب روپے کے منصوبے منظور کیے ہیں جن سے گلگت بلتستان کو جدید ٹیکنالوجی سے بھی ہم آہنگ کیا جائے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت شنتر پاس، بابوسر روڈ اور گلگت اسکردو روڈ بھی تعمیر کی جائے گی۔ سوست پورٹ کے کسٹمز سپرینٹنڈنٹ اسحٰق کیانی نے بتایا کہ وہ کنٹینرز جن پر سی پیک منصوبوں سے متعلق اشیاء موجود ہیں انہیں امپورٹ ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 45 چینی کنٹینرز سوسٹ پورٹ سے روانہ ہوچکے ہیں جبکہ بقیہ کنٹینرز بھی کلیئرنس کے بعد آگے روانہ ہوجائیں گے۔

جمیل نگری