شام کی سرزمین سے انسانیت کے نام

کرامہ مہاجر کیمپ کے انچارج کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ ادلب کے قریب  شامی سرحد کے اندر یہ کیمپ ترکی کی ایک رفاعی تنظیم انسانی حقوق و حریت (IHH) نے قائم کیا تھا۔ یہ کیمپ اس وقت سے قائم ہے جب سے جنگ کا آغاز ہوا اور ایسے کئی کیمپوں میں دن بدن اضافی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس وقت نو لاکھ شامی بارڈر پر موجود ان کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ان کے لیے ترک سکولوں میں داخلہ مفت ہے اور اسپتالوں میں علاج بھی مفت۔ یہ وہ خوش قسمت ہیں جو تھوڑی بہت جمع پونجی بچا کے ترکی آ گئے، کوئی ہنر جانتے تھے، یا تعلیم تھی اور یہاں کسی روزگار سے منسلک ہو گئے۔

یہ لوگ جس طرح کی رہائشوں میں رہ رہے ہیں وہ اذیت ناک ہیں۔ مثلا ایک برگیڈئیر کی بیوہ جس کے سامنے اس کے بھائی، خاوند اور باپ کو بشار الاسد کے فوجیوں نے اذیت دے کر مارا، اپنی بچیوں کے ساتھ ایک دوکان کرائے پر لیکر اس میں رہ رہی ہے لیکن کیمپوں میں رہنے والوں کی حالت انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اگر باپ کو کپڑے بدلنا ہوں تو پورے گھر کو باہر نکلنا ہوتا ہے اور یہی کچھ کسی دوسرے فرد کے کپڑے بدلنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ ان کیمپوں میں گذشتہ پانچ سال سے رہ رہے ہیں۔ یعنی جو بچہ جنگ شروع ہوتے پانچ سال کا تھا اب گیارہ کا ہو چکا ہے اور جو گیارہ کا تھا وہ سترہ کا۔ اس دوران یہ بچے نہ کسی سکول پڑھنے کے لیے گئے اور نہ ہی کوئی ہنر سیکھا۔ یوں اگر کچھ برسوں کے بعد شام میں امن آبھی جائے تو یہ نسل نہ تعلیم یافتہ ہو گی اور نہ ہی کسی ہنر سے آشنا۔ ان کے برعکس نا ڈاکٹر ہوں گے نا انجنیئر بلکہ نا ہئیر کٹنگ والے ہوں گے نہ ڈرائی کلین کرنے والے۔ ایک المیہ پروان چڑھ رہا ہے۔

کرامہ کے مہاجر کیمپ کا انچارج رو رہا تھا اور اس سے واقعہ بیان نہیں ہو رہا تھا۔ ہمت باندہ کر اس نے کہا کہ میں ڈاکٹر کے پاس ہسپتال میں گیا۔ اس وقت وہ ایک جنگی زخمی کے بدن سے بم کے ٹکڑے نکالنے جا رہا تھا۔ میں نے کہا آپ اپنا کا م کر لیں۔ اس نے کہا نہیں تم میرے ساتھ چلو گے، میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس بیہوش کرنے والی دوا Anesthesia نہیں ہے اور ہم مستقل آپریشن کر رہے ہیں۔ میں گھبرا گیا لیکن وہ میرا بازو پکڑ کر ساتھ لے گیا۔ جب اس نے اوزار تھامے تو ڈاکٹر بھی رو رہا تھا اور مریض کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔ اس بار اس نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر چھری سے جسم کا کاٹنا شروع کیا اور ساتھ ہی سورہ اخلاص پڑھتا رہا۔ مہاجر کیمپ کا انچارج کہتا ہے کہ میں میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس دوران مریض نے زبان سے اف تک نا نکالی بلکہ وہ مستقل حسبی اللہ و نعم الوکیل بڑھتا رہا۔ جب جسم سے بموں کے ٹکڑے نکال کر اسے سی دیا گیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ تم نے دیکھ لیا اس وقت سورہ اخلاص ہی ہمارا Anesthesia ہے۔

یہ صرف ادلب کے قریب ایک کیمپ کا ذکر ہے۔ یہ وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو بھاگ کر ان کیمپوں میں پناہ لینے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ یوں تو ان لوگوں کی داستانیں خون کے آنسو رلاتی ہیں لیکن ان کو اپنے ان بھائیوں کی فکر کھائے جاتی ہے جو شام کے شہروں میں محصور ہیں۔ دمشق اور حمص کے علاقوں سے آنے والے مہاجرین بتاتے ہیں کہ بشار الاسد کی فوج کا محاصرہ اس قدر اذیت ناک تھا کہ بچوں پر کئی کئی دن فاقے آتے تھے۔ ایک شخص نے ایک بوری چاول کے عوض اپنا پورا باغ بیچ دیا کہ اس سے بچوں کی بھوک نہیں دیکھی جا رہی تھی۔ جب سب کچھ ختم ہو گیا اور کھانے کے لیے کچھ بیچنے کو بھی باقی نہ تھا تو علماء نے فتویٰ دیا تھا کہ اب جان بچانے کے لیے بلیاں اور کتے بھی ذبح کر کے کھائے جا سکتے ہیں اور لوگوں نے وہ بھی کھائے۔

ترکی کی سرحد کے ساتھ آپ سفر کریں تو آپکو ہر شہر کے مقابل ایک شہر ملے گا۔ جیسے ریحان علی کے سامنے ادلب اور اس کے قرب و جوار ہیں۔ غازی انتب کے سامنے حلب کا علاقہ ہے۔ اب تک نو لاکھ افراد اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں اور اس وقت گیارہ لاکھ شامی بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ ترکی کی سرحد کے اندر جو دارالیتامیٰ یعنی یتیم خانے کھولے گئے ہیں، ان کے اندر جانا بھی ایک تکلیف دہ تجربہ ہے۔ بچے آپ سے ایسے لپٹ جاتے ہیں جیسے کوئی بچھڑا ہوا باپ یا بھائی گھر آ گیا ہو۔ ایک یتیم خانے میں داخلہ ہوا تو میرے ہاتھ میں مائیک دیکھ کر بچیاں اس سے کھیلنے لگ گئیں۔ کبھی کچھ کبھی کچھ اچانک ایک ساتھ کھڑی ہو کر خوبصورت قرات کے ساتھ سورہ کہف پڑھنے لگ گئیں۔ ان پانچ چھ سال کی بچیوں کو کیا علم کہ اس سورت کو آج کے دور میں پڑھنے کی کس قدر اہمیت ہے۔ رسول اللہ نے اسے فتنہ دجال سے حفاظت کے لیے پڑھنے کی تلقین کی ہے۔

ادلب میں کچھ دن پہلے بشار الاسد نے کیمیکل ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا، میں کیمپ کے اس ہسپتال بھی گیا جہاں وہ بچے لائے گئے تھے اور ان بچوں سے بھی ملا ہوں۔ ان کی تکلیف کی کہانیاں اس قدر درد واذیت سے بھرپور ہیں کہ کوئی پتھر دل والا بھی ایک کہانی کے بعد دوسری سننے کی تاب نہیں لا سکتا۔ ریحان علی کا وہ ہسپتال جس میں ان کا علاج ہوا وہاں کسی نے ان بچوں سے پوچھا کہ یہ کس نے کروایا؟ بچے پکارتے تھے بشار الاسد۔ ایک بچہ جو ذرا بڑا تھا اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رہا تھا، ابھی کیمیائی ہتھیاروں کے اثر سے پوری طرح باہر نہیں نکلا تھا۔ ایک دم غصے سے تلملا اٹھا اور سانس بحال کر کے بولنے لگا۔ جہاز بشار الاسد کے پاس ہیں یا پھر روس اور امریکہ۔ پھر اس بچے نے عالمی سیاست کی گھتی سلجھاتے ہوئے کہا کہ روس اور امریکہ تو بشار کے یار ہیں۔

غازی انتب کا شہر حلب کے ساتھ جڑا ہے۔ پہلے یہ بھی حلب کا حصہ ہوتا تھا لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد جب خلافت عثمانیہ ٹوٹی تو حصہ فرانسیسی شام میں چلا گیا۔ غازی انتب سے حلب کے علاقے میں داخل ہوں تو پہلے جرابولس کا شہر آتا ہے۔ یہاں پر”احرار الشام” کا کنٹرول ہے اور پورا شہر برباد ہو چکا تھا لیکن اب کسی حد تک واپسی کی جانب لوٹ رہا ہے۔ شہر کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا مہاجر کیمپ ہے جس کے رہنے والے خوبصورت بچے ایسے لگتا ہے انہوں نے کئی ماہ سے منہ نہیں دھویا۔ یہ علاقہ پہلے داعش کے پاس تھا ، یہاں پہ کردوں کی PKK اور پیش مرکہ بھی مورچہ زن تھے۔ اب یہ علاقہ ایک گروہ کے کنٹرول میں ہے اس لیے یہاں امن ہے لیکن اس کے ہسپتال میں روزانہ سو سے زیادہ عورتیں اور بچے لائے جاتے ہیں جو اس خوفناک جنگ کے زخمی ہیں اور انہیں علاج کی فوری ضرورت ہے۔ ان میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہوتی ہے۔ مرد، یوں لگتا ہے کہ امریکہ، روس، ایرانی پاسداران، بشار الاسد کا نشانہ ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کی شام مہں ان کا کوئی مخالف مرد زندہ نہ رہے۔

  بشکریہ روزنامہ 92 نیوز

اوریا مقبول جان

Advertisements

پہلے اللہ پھر بیٹا، پہلے قرآن پھر بیٹا، پہلے محمد رسول اللہؐ پھر بیٹا

ہندوستان ٹائمز کی ہریندر بویجا اکتوبر 2015ء میں مقبوضہ کشمیر کے پلوامہ کے علاقے میں ترال شہر کے ایک ہائر سیکنڈری سکول کے پرنسپل مظفر احمد وانی کے گھر پہنچی۔ دیودار کی منقش لکڑی سے بنے دروزے کے پاس کھڑے ہو کر اس نے ایک رپورٹر، جسے ہندی میں پترکار کہتے ہیں، کی حیثیت سے ابتدائی کلمات بولتے ہوئے کہا، ’’آئیے جانتے ہیں کہ ایک پڑھا لکھا کشمیری نوجوان شدت پسندی کی آواز کیسے بن گیا‘‘ ادھیڑ عمر کے مظفر احمد وانی جس نے سر پر ایک سفید ٹوپی اور بدن پر اون سے بنا ہوا کشمیری چوغہ پہنا ہوا تھا۔

اس کے چہرے کے خال و خط ایک راسخ العقیدہ مسلمان کے لگتے تھے۔ داڑھی کی تراش خراش، چہرے پر عجز و انکساری اور گفتگو میں تحمل۔ لیکن جب اس نے سوالات کے جواب دینا شروع کیے تو یوں لگتا تھا کہ جذبہ ایمانی، شوق شہادت اور اللہ کی ذات پر توکل اس کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ سوال کیا گیا، برہان یا اس جیسے نوجوان کشمیریوں کا مقصد کیا ہے، جواب دیا، ہندوستان سے آزادی، یہ نوجوانوں کا ہی نہیں بلکہ ہم سب کا مقصد ہے۔ آپ کو معلوم ہے کشمیر کے حالات کیسے ہیں، ٹرک ڈرائیور یہاں سے جاتا ہے، مار دیا جاتا ہے، کیوںکہ مسلمان ہے، ہم حلال جانور  ذبح کرتے ہیں فساد ہو جاتے ہیں۔ پھر سوال کیا، آپ کو پتا ہے ہندوستان کی فوج کو ہرانا بہت مشکل ہے لیکن اس نے کیا جذبہ ایمانی سے بھر پور جواب دیا۔ ’’بہت مشکل ہے، بہت مشکل ہے، لیکن ہمارا اللہ پر یقین ہے، ہمیں یقین ہے کہ جو اس تحریک میں ہندوستان کے ظلم و ستم سے مرتا ہے وہ مرتا نہیں بلکہ اپنے اللہ کے پاس جاتا ہے۔

دوسری دنیا میں ٹرانسفر ہو جاتا ہے۔ سوال کیا گیا کہ آپ کو تکلیف ہو گی کہ آپ کا بیٹا گولی سے مرے گا۔ جواب دینے والے باپ کی ہمت اور ایمان دیکھیے، کہا، ہاں تھوڑی تکلیف تو ہوتی ہے لیکن پھر یاد آتا ہے پہلے خدا پھر بیٹا، پہلے محمد صلی اللہ علیہ و سلم پھر بیٹا، پہلے قرآن پھر بیٹا، پہلے بیٹا نہیں ہے۔ اس کے بعد پوچھا، برہان آج ایک رول ماڈل بن چکا ہے۔ اس کی ویڈیو سامنے آئی ہیں، وہ جو کہتا ہے لوگ اس کے پیچھے چلتے ہیں۔ جواب دیا آج نوے فیصد لوگ اسے دعائیں دیتے ہیں کہ برہان زندہ رہے تا کہ ہماری جدوجہد آگے بڑھے۔ آج اسے پانچ سال ہو گئے مجاہد بنے ہوئے، یہ دو ہزار دن بنتے ہیں، مجھے نہیں معلوم وہ کھاتا کہاں سے ہے، پہنتا کہاں سے ہے، آخر لوگ اس کی مدد کرتے ہیں نا۔ آخری سوال کیا، آپ اس کے لیے کیا دعا کرتے ہیں، کہا، میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ اسے کامل ایمان عطا کرے۔

یہ انٹرویو آج بھی یوٹیوب پر موجود ہے جب کہ اس عظیم باپ کا بیٹا اپنے اللہ کے حضور اپنی شہادت کا صلہ لینے پہنچ چکا ہے۔ برہان وانی جب صرف 15 سال کا تھا تو 16 اکتوبر 2016ء کو کشمیری مجاہدین کے ساتھ شامل ہونے کے لیے اپنے اس عظیم المرتبت باپ سے اجازت لینے کے بعد روانہ ہوگیا۔ 1990ء سے لے کر اب تک بھارت یہ الزام عائد کرتا رہتا تھا کہ کشمیر کی جدوجہد دراصل پاکستان میں موجود تنظیموں حرکت المجاہدین، لشکر طیبہ، جیش محمد اور البدر کی مداخلت کی وجہ سے ہے۔ اسی لیے مجاہدین جو شہید ہوتے تھے ان کے نام و مقام خفیہ رکھے جاتے تھے۔ اس کی وجہ مجاہدین یہ بتاتے تھے کہ ان کی شہادت کے بعد بھارت کی فوج ان کے گھر پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیتی تھی۔ لیکن بھارت انھیں پاکستان سے آئے ہوئے مسلح درانداز کہتا تھا۔ برہان وانی نے خوف کا یہ پردہ چاک کردیا۔ اپنے چہرے سے گمنامی کا نقاب اتارا اور سوشل میڈیا پر ایک مقامی کشمیری کی حیثیت سے سامنے آگیا۔ اس کی اس جرأت کو ان کشمیری نوجوانوں نے قبول کیا جو ایک ناختم ہونے والی فوجی بربریت سے تنگ تھے۔

وہ 1990ء کے بعد پہلا چہرہ تھا جو کشمیر کے ہر گھر میں پہچانا جانے لگا۔ ہر کوئی یہ کہانی اپنے بچوں کو سناتا کہ برہان اپنے بھائی کے ساتھ موٹر سائیکل پر جارہا تھا کہ بھارتی فوج اور پولیس کے لوگوں نے انھیں پکڑ کر بہت مارا۔ اس کا بھائی بے ہوش ہوگیا۔ برہان اس وقت نویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ اس نے سب کچھ چھوڑا اور جہاد کے لیے نکل پڑا۔ 2011ء میں اسے حزب المجاہدین نے اپنا ممبر بنالیا۔ اور پھر اس کی سوشل میڈیا پر موجودگی نے پورے کشمیر میں آگ لگا دی۔ برہان کی وہ ویڈیو کشمیر میں ہردل کی دھڑکن بن گئی جس میں وہ نوجوانوں کو بھارت سے آزادی کے لیے تیار کررہا تھا۔ اس کی گفتگو میں کس بلا کی روانی تھی اور الفاظ کا سحر ایسا کہ دلوں میں اترجائیں۔ اس کی اسلحہ کے ساتھ تصویریں بھارتی افواج کا منہ چڑاتی تھیں۔

بھارتی افواج اور کشمیر پولیس اس کی تلاش میں تھیں۔ 13 اپریل 2015ء کو اس کے بھائی خالد مظفر وانی کو بھارتی فوج اور کشمیری پولیس نے شہید کردیا۔ اسے چند دن پہلے اٹھایا گیا تھا۔ اس پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ مجاہدین یعنی ہندوستان کے لیے آتنک وادی (دہشت گردوں) کا سہولت کار ہے۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے اور کسی قسم کی گولی اس کے جسم میں پیوست نہ تھی۔ وہ ایم کام کا طالب علم تھا اور اس کا جہادی تنظیموں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ اس علاقے کے لوگ کہتے ہیں اور بھارتی افواج بھی اس کے خلاف میڈیا کو کوئی ثبوت فراہم نہ کرسکی۔ برہان کی 2016ء جون میں آنے والی ویڈیو ایک مسلمان مجاہد کی اخلاقیات کی علمبردار تھی۔ اس نے کہا مجاہدین امرناتھ یاترا پر حملہ نہیں کریں گے۔ ہندو پنڈت جموں میں آکر رہ سکتے ہیں۔ لیکن ان کے لیے اسرائیل کی طرح علیحدہ بستیاں مت بناؤ۔ اس نے کہا ہم صرف اور صرف یونیفارم والوں پر حملے کریں گے کہ ان سے ہی ہماری لڑائی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی ایک ویڈیو کی وجہ سے اندازاً تیس نوجوان حزب المجاہدین میں شامل ہوئے تھے۔

8 جولائی 2016ء کو بھارتی فوج کی یونٹ 19 راشٹریہ رائفلز اور جموں کشمیر کے سپیشل گروپ نے کوکرناگ کے گاؤں بنڈورا میں شام چار بج کر تیس منٹ پر آپریشن شروع کیا۔ گاؤں کے لوگ اکٹھا ہوگئے اور انھوں نے فوجیوں پر پتھر برسانا شروع کردیے۔ برہان اپنے ساتھیوں سرتاج احمد شیخ اور پرویز احمد لشکری کے ساتھ جس گھر میں موجود تھا وہاں سے انھوں نے مقابلہ شروع کیا۔ لیکن سوا چھ بجے شام تینوں شہادت کے ارفع منصب پر فائز ہوکر اللہ کی بارگاہ میں پہنچ چکے تھے۔

اس کی شہادت کے بعد جس طرح پورے کشمیر میں جذبات بھڑکے اور جس طرح اس کے جنازے میں لوگ جوق در جوق پہنچے اور جیسے اس شخص کی میت کو کندھا دینے کے لیے گھمسان کا رن پڑا۔ سب آیندہ سالوں کے کشمیر کا نقشہ واضح کرتا ہے۔ فوج کے ترجمان کہتے ہیں کہ ہمیں اس کے بعد ایک زیادہ زور دار مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ حزب المجاہدین نے کہا کہ وہ جنوبی کشمیر کا کمانڈر تھا۔ اس کی جگہ لینے کے لیے بہت نوجوان موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ برہان کی آخری ویڈیو جس میں وہ نئے آنے والے مجاہدین کے ساتھ کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آتا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری نوجوان جوق در جوق شامل ہونے چلے جارہے ہیں۔

گزشتہ دو سالوں سے ایک چیز کشمیر میں بہت عام ہوئی ہے اور وہ ہے پاکستانی پرچم۔ برہان کے جنازے میں بھی یہ پرچم بار بار دکھائی دیا گیا۔ اسے پاکستان کے پرچم میں دفن کیا گیا۔ یہ کشمیری پاکستان سے کیوں ملنا چاہتے ہیں۔ اپنی آزاد ریاست کے لیے جدوجہد کیوں نہیں کرتے۔ اس سوال کا جواب برہان وانی کے والد کے انٹرویو میں موجود ہے۔ اللہ کے لیے جان دینے والوں کو بخوبی علم ہے کہ دنیا میں دو سو سے زیادہ ملکوں میں سے صرف ایک ملک ایسا ہے جو رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر نہیں بلکہ کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ کی بنیاد پر بنا ہے۔ کشمیر کے لیے مرو یا دنیا کے کسی اور ملک کے لیے اس مقصد دنیاوی، علاقائی اور قومی جدوجہد میں مرکر امرہونا ہوگا۔ لیکن پاکستان کے لیے مرنا اللہ کے لیے مرنا ہے۔ شہادت کی موت ہے۔ اسی لیے جب بوڑھا سیدعلی گیلانی نعرہ بلند کرتا ہے کہ پاکستان سے رشتہ کیا، لاالہ الااللہ تو پورا کشمیر گونج اٹھتا ہے۔ اس لیے کہ کشمیری کہتے ہیں، پہلے اللہ پھر بیٹا، پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بیٹا، پہلے قرآن پھر بیٹا۔

اوریا مقبول جان

مولوی اور معاشرہ

شیرشاہ سوری کے بنائے ہوئے پیمائش۔ زمین کے خوبصورت نظام کی بنیاد پر
جب انگریز نے برصغیر پاک و ہند میں زمینوں کے ریکارڈ مرتب کرنے شروع کیے تو اس کے دماغ میں ایک طبقے سے شدید نفرت رچی بسی تھی اور وہ تھا اس سرزمین کا مولوی۔ انگریز کی آمد سے پہلے یہ لفظ معاشرے میں اس قدر عزت و توقیر کا حامل تھا کہ بڑے بڑے علماء و فضلاء اپنے نام کے ساتھ مولوی کا اضافہ کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے۔

انگریز کی اس طبقے سے نفرت کی بنیاد 1857ء کی جنگ آزادی میں پڑی جس کے سرخیل یہی مسجدوں کے مولوی تھے۔ دلّی کی جامع مسجد سے جہاد کے اعلان نے برصغیر کے مسلمانوں کو اس آخری معرکے کے لیے تیار کیا۔ لیکن یہ تو گزشتہ پچاس سالوں کی وہ جدوجہد تھی جو مسجدوں کی چٹائیوں پر بیٹھ کر دین پڑھانے والے ان مسلمان علماء نے کی تھی۔ ٹیپو سلطان کی شہادت ایسا واقعہ تھا جس نے انگریز کو برصغیر میں قدم جمانے کا موقع فراہم کیا۔ ٹیپو سلطان کی موت کی خبر اس قدر خوش کن تھی کہ آج بھی ایڈمبرا کے قلعہ میں موجود ٹیپو کی نوادرات کے ساتھ یہ تحریر درج ہے کہ اس کی موت پر پورے انگلستان میں جشن منایا گیا۔ اس کے بعد انگریز نے ساری توجہ ان مسلمان مدرسوں کو بند کرنے، ان کو مسمار کرنے اور وہاں پر ہونے والے تدریسی کام پر پابندی لگانے پر مبذول کر دی۔ شاہ ولی اللہ کا خانوادہ برصغیر کا سب سے معتبر دینی خاندان سمجھا جاتا تھا۔
اسی کے ایک سپوت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے 1803ء میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا مشہور فتویٰ دیا اور برصغیر کو دارالحرب قرار دیا۔ یہی فتویٰ تھا جس کی بنیاد پر 1831ء میں سید احمد شہید اور شاہ اسمٰعیل شہید کی تحریک انھی مسجدوں کی چٹائیوں سے اٹھی۔ سانحہ بالا کوٹ کے بعد یہ تحریک ختم نہ ہوئی بلکہ اس کی قیادت مولانا نصیرالدین دہلوی نے سنبھالی۔ 1840ء میں ان کی وفات کے بعد مولانا ولائت علی عظیم آبادی اور ان کے بھائی عنائت علی عظیم آبادی نے اس کو زندہ رکھا۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں یہی وہ جماعت تھی جس نے اپنے شاگردوں کی صورت ایک مزاحمتی فوج تیار کی۔ مولانا احمد شاہ مدراسی، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا فضل حق خیرآبادی اور دیگر علماء کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے مولانا فضل حق خیرآبادی کی قیادت میں جہاد کا فتویٰ جاری کیا۔ 1857ء کی جنگ آزادی کی قیادت مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی کر رہے تھے۔

جن کے بارے میں انگریز افواج اور انتظامیہ متفق تھی کہ وہ ان کا شمالی ہند میں سب سے بڑا دشمن ہے۔ آرکائیوز کے اندر موجود دستاویز میں اس مولوی کا جس قدر خوف خط و کتابت میں دکھائی دیتا ہے وہ حیران کن ہے۔ ان کے مقابلے میں ایک دوسرا طبقہ تھا جس کی وفاداریوں نے انگریز کے دل میں اپنی جگہ بنا لی تھی۔ یہ تھا خطۂ پنجاب کا زمیندار چوہدری اور نواب جنہوں نے مسلمانوں کی اس جنگ آزادی میں مجاہدین کے خلاف لڑنے کے لیے افرادی قوت فراہم کی۔ یہی نہیں بلکہ ان بڑے بڑے زمینداروں نے اپنے علاقوں میں جس طرح مسلمانوں کا خون بہایا اور انگریز کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبایا وہ تاریخی سچائی ہے۔ پاکستان کی اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے اکثر ممبران کے آباء و اجداد مسلمانوں کے خلاف اس خونریزی کی قیادت کرتے تھے اور یہاں تک کہ ایک مسلمان جہادی کو مارنے کا معاوضہ صرف چند روپے لیتے تھے۔

پنجاب کی دھرتی کے یہ ’’عظیم سپوت‘‘ جن کی اولادیں آج ہماری سیاسی قیادت ہیں انگریز کے اس قدر وفادار تھے کہ جنگ عظیم اول میں جب فوج کی بھرتیاں شروع ہوئیں تو 1914ء میں 28 ہزار میں سے 14 ہزار پنجاب سے بھرتی ہوئے۔ 1915ء میں 93 ہزار میں سے 46 ہزار پنجاب سے اور 1916ء کے آخر تک پورے ہندوستان سے 2 لاکھ 23 ہزار نوجوان انگریز کے لیے لڑنے کے لیے فوج میں بھرتی ہوئے۔
ان میں سے ایک لاکھ دس ہزار پنجاب سے تھے۔ دوسری جانب 1857ء کی جنگ آزادی میں ہزاروں علماء کو پھانسیاں دی گئیں، توپ کے ساتھ باندھ کر اڑا دیا گیا، کالا پانی بھیجا گیا مگر ان کی تحریک زندہ و جاوید رہی۔ 1864ء میں انبالہ سازش کیس میں مولانا جعفر تھانیسری، مولانا یحییٰ اور مولانا محمد شفیع کو پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے۔ شوق شہادت کا یہ عالم کہ تینوں سجدہ شکر ادا کرتے ہیں۔ انگریز ڈپٹی کمشنر پارسن اگلے دن آتا ہے اور کہتا ہے ’’ہم تم کو تمہاری مرغوب سزا شہادت نہیں دیں گے بلکہ تمہیں تمام زندگی کالا پانی میں کاٹنا ہو گی۔ اس کے بعد یہ مشعل مستقل روشنی رہتی ہے۔ 1863ء پٹنہ سازش، 1870ء مالوہ سازش، 1871ء انبالہ سازش، 1870ء راج محل سازش اور ایسی بے شمار بغاوتیں برصغیر کے اس مولوی کے سینے کا تمغہ ہیں جو بوریہ  نشین تھا۔
انگریز جب ریونیو ریکارڈ مرتب کرنے لگا تو اس نے برصغیر اور خصوصاً پنجاب میں آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک باعزت کاشتکار اور دوسرے غیر کاشتکار، کاشتکاروں میں وہ اعلیٰ نسل نواب، چوہدری ، سردار، وڈیرے اور خان شامل تھے جنہوں نے انگریز سے وفاداری کے صلے میں زمینیں، جاگیریں اور جائیدادیں حاصل کی تھیں۔ جب کہ غیر کاشتکاروں میں محنت مزدوری سے رزق کمانے والے لوہار، ترکھان، جولاہے، موچی وغیرہ۔ انھیں عرف عام میں کمی یعنی کمترین کہہ کر پکارا جانے لگا۔ پنجاب میں کمی کمین ایک عام لفظ ہے جو ہر متکبر زمیندار کے منہ پر ہوتا ہے۔ ریونیو ریکارڈ میں ایک ’’فہرست کمیاں‘‘ مرتب کی گئی جس میں لوہار، ترکھان اور موچی، جولاہے کے ساتھ مسلمانوں کی قیادت کے دینی طبقے مولوی کو بھی شامل کر دیا گیا اور پھر گاؤں میں جو تضحیک کمی کمینوں کے حصے میں آئی مولوی کو بھی اسی تضحیک کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس کے باوجود اس طبقے نے مسجد کی چٹائی سے دین کی مشعل تھامے رکھی۔
ہزاروں دیہاتوں میں یہ واحد پڑھا لکھا فرد ہوا کرتا  تھا لیکن بڑے زمیندار جو جاہل اور ان پڑھ تھے ان کی تذلیل سہتا، جوتیوں میں بٹھایا جاتا، کٹائی پر بیگار میں لگایا جاتا مگر کمال ہے اس مرد باصفا کا کہ صبح فجر پر مسجد پہنچتا، چبوترے پر کھڑے ہو کر اذان دیتا، لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا، بچوں کے کان میں اذان دیتا، نکاح پڑھاتا اور اس ظالم چوہدری کے مرنے پر اس کے لیے قرآن بھی پڑھتا اور دعا کے لیے ہاتھ بھی اٹھاتا۔ شہروں میں بھی مولوی کو مسجد کی ڈیوٹی تک محدود کر دیا گیا۔ معاشرے سے اس کا تعلق صرف تین مواقع پرہوتا ہے۔
پیدائش کے وقت کان میں اذان، شادی کے وقت نکاح خوانی، اور موت پر مرنے والے کا جنازہ اور دعائے مغفرت۔ ملک بھر کی چھوٹی چھوٹی لاکھوں مساجد میں یہ امام ایک مزدور سے بھی کم تنخواہ پر امت کا سب سے اہم فریضہ یعنی اللہ کی جانب بلانا، ادا کرتے رہے، بچوں کو قرآن بھی پڑھاتے رہے اور پنجگانہ نماز کی امامت بھی۔ کبھی ایک سیکنڈ کے لیے بھی مساجد میں نماز لیٹ نہ ہوئی کہ مولوی اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال پر ہیں۔ اس معاشرے نے جو فرض عین انھیں سونپا انھوں نے معاشرے کے ہر شعبے سے زیادہ حسن و خوبی اور اخلاص کے ساتھ ادا کیا۔
اس سب کے بدلے میں انگریز کے اس تخلیق کردہ معاشرے نے مولوی کو کیا دیا۔ وہ قرآن جس کی تعلیم کو اللہ نے سب سے بہتر تعلیم قرار دیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان معلموں اور طالب علموں کو افضل ترین قرار دیا۔ یہ طالب جو اس راستے پر نکلے شام کو ہر دروازے پر دستک دے کر کھانا اکٹھا کرتے ہیں اور پھر جو روکھی سوکھی مل جائے اسے نوش جاں کرتے ہیں۔ عالیشان کوٹھیوں میں رہنے والے اپنے بچوں کو انگریزی، فزکس، کیمسٹری کے لیے ہزاروں روپے ماہانہ دے کر بہترین استاد کا بندوبست کرتے ہیں، لیکن قرآن پڑھانے کے لیے انھیں ایسا مولوی چاہیے جو دو وقت روٹی لے کر خوش اور زیادہ سے زیادہ عید پر ایک جوڑا۔ جنھیں اپنے سگے ماں باپ کو موت کے بعد نہلانا نہیں آتا، اپنے باپ یا ماں کوجہنم کی آگ سے بچانے کے لیے مغفرت کی دعا کے دو حرف پڑھنے نہیں آتے وہ مولوی کا تمسخر اڑاتے رہے۔
اسے تضحیک کا نشانہ بناتے رہے۔ لیکن یہ مولوی اللہ کا بندہ اس معاشرے کی تمام تر ذلت و رسوائی کے باوجود پانچ وقت اللہ کی بڑائی اور سید الانبیاء کی رسالت کا اعلان کرتا رہا۔ وہ اگر سرکار کی کسی مسجد میں ملازم ہوا تو اس کی عزت و توقیر بھی پاؤں تلے روندی گئی۔کسی اوقاف کے منیجر نے اس کو ہاتھ باندھ کر کھڑا کیا تو دوسری جانب کسی انگریز فوجی یونٹ کے کرنل نے بلا کر کہا، او مولوی تمہیں سمجھ نہیں آتی یہ تم کیا قرآن کے الٹے سیدھے معانی نکالتے رہتے ہو۔ انسان کے بچے بن جاؤ ورنہ کوارٹر گارڈ بھی بند کر دوں گا۔ تمسخر، تضحیک، ذلت، لطیفے بازی سب اس مولوی کا مقدر تھی اور ہے۔ اب تو اگر کوئی اس حلیے کا شخص کسی چیک پوسٹ پر آ جائے تو دہشتگردی کے شبے میں تلاشی کے عذاب سے بھی گزرتا ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود اس دور کی پر آشوبی میں دین کی اگر کوئی علامت ہے تو اس بوسیدہ سی مسجد کے چھوٹے سے کوارٹر میں رہنے والا مولوی۔ اسلام مولوی کا نہیں ہم سب کا ہے۔ اللہ قیامت کے روز مولوی سے نہیں پوچھے گا کہ تم نے دین کا علم حاصل کرنے اور پھیلانے میں اپنی ذمے داری ادا کی بلکہ ہر مسلمان سے یہ سوال ہو گا۔ اس سے بھی جو مسلمان کہلاتا ہے لیکن مسلمان بنتا نہیں اور اس سے بھی جو مسجد میں چندہ دے کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ دین کا فرض ادا ہو گیا۔ یہ رویہ جو گزشتہ دو سو سال سے انگریز نے اس معاشرے میں پیدا کیا ہے جس نے مولوی کو تمسخر کا نشانہ بنایا ایسے معاشرے میں جب ایک خاتون عالم دین اور پابند شرع شخص کو اوئے، ابے، جاہل اور ایسے ذلت آمیز الفاظ سے بلاتی ہے تو تعجب کیسا۔ ایسا وہ معاشرے کے کسی اور طبقے سے کر کے دکھائے۔ زندگی جہنم نہ بنا دیں اس کی، کسی پارٹی کے لیڈر کو اس طرح ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کرے۔ ہر کسی کا زور مولوی پر چلتا ہے۔
اوریا مقبول جان

فیصلے کا وقت : برطانوی مسلمان

اس قدر خوف اور بے یقینی میں نے کبھی ان کے چہروں پر نہیں دیکھی اور نہ ہی ان کی گفتگو سے عیاں ہوئی۔ ان کا تو حال ہی  میں ایک شخص صادق خان لندن کا میئر منتخب ہوا ہے۔ پاکستان میں رہنے والوں کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں۔ ہر کوئی مغربی نظام حکومت اور طرز معاشرت کے گیت گا رہا ہے۔ وہ دیکھو تم انھیں نفرت کے علمبردار کہتے ہو، انھوں نے ایک مسلمان اور وہ بھی پاکستانی پس منظر والا میئر منتخب کیا ہے اور وہ بھی اپنے سب سے بڑے شہر لندن کا۔  لیکن گزشتہ کل سے میں پاکستانیوں کے اجتماعات کی جس سیریز میں مدعو ہوں ان کا عنوان ہی بتاتا ہے کہ یہاں کے رہنے والے پاکستانیوں کو خطرے کی گھنٹی کا احساس ہو گیا ہے۔
عنوان ہے   Time to Decide:  Save the Genration،  فیصلے کا وقت: ’’اپنی نسلوں کو بچایئے‘‘ یہ خوف کس چیز کا ہے، کس چیز سے نسلوں کو بچانا مقصود ہے۔ یہ سوال ان تمام لوگوں کے چہروں پر تحریر تھا جو کل مانچسٹر کے  یورپین اسلامک سینٹر میں موجود تھے۔ وہ لوگ جو خود یا ان کے آباؤ اجداد رزق کی تلاش میں برطانیہ آئے تھے۔ آج صرف اسی صورت میں قابل قبول ہیں کہ وہ ان کے رنگ میں رنگ جائیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ انھوں نے کس قدر عقیدت اور احترام سے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھا، جب تک اسے معاشرے میں اس نام سے نفرت کی سنگینی کا احساس نہ ہوا، وہ یہ کہلواتا بھی رہا اور وقت بھی گزرتا رہا۔
لیکن اب اس نے اپنے دوستوں بلکہ گھر والوں سے بھی کہا ہے کہ اسے ’’مو مو‘‘ کہ کر پکارا جائے۔ نئی نسل کی ایک کثیر تعداد ایسی ہے جو صادق خان کی طرح ہم جنس پرستی، بغیر شادی کے ایک ساتھ رہنا، الحاد یعنی خدا کے نہ ہونے پر یقین رکھنا، اسلام کے عقائد کو جدید لائف اسٹائل کے لیے ایک خطرہ تصور کرنا جیسے خیالات کے قائل ہیں اور وہ اس معاشرے کے اندر قابل قبول ہیں جب کہ دوسری جانب وہ نوجوان ہیں جنھیں اس معاشرے میں پائے جانے والے ایسے تمام رویوں سے نفرت کی بو آتی ہے جو ان کی اقدار، روایات اور مذہب کے خلاف ہیں۔ یہ مسلمان اور اسلام سے پائی جانے والی نفرت اور تعصب کو دیکھ کر ایک دوسری انتہا کو جا پہنچے ہیں اور وہ اس پوری تہذیب سے لڑنے کو تیار ہیں۔
ان تک دین کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے پہنچا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد اس پوری دنیا کا ہدف مسلمان ہیں۔ وہ پوری دنیا جسے مغرب جدید سیکولر جمہوری دنیا کہتا ہے۔ ان نوجوانوں تک معلومات با آسانی پہنچ جاتی ہیں کہ یہاں کسی بھی قسم کی پابندی نہیں۔ وہ صرف میڈیا پر ہونے والے یک طرفہ پراپیگنڈہ سے متاثر نہیں ہوتے۔ ان تک صرف افغانستان اور عراق کی فتح کی ٹی وی نشریات نہیں پہنچتیں بلکہ ہزاروں ویب سائٹس ایسی ہیں جو وہاں پر مرنے والی عورتوں اور بچوں کی لاشیں، بھوک میں بلکتے، سسکتے اور تڑپتے لوگوں کی ویڈیوز اور ظلم و تشدد کرتے سپاہیوں کے کلپ دکھاتی ہیں۔
یہ نوجوان براہ راست اس انٹرنیٹ سے ان لوگوں تک رابطے میں آ جاتے ہیں جو شام، عراق، فلسطین اور افغانستان میں لڑ رہے ہیں یہ صرف پاکستانی نہیں ہیں بلکہ ہر مسلمان ملک کے شہریوں کے بچے ہیں یہ بچے نفرت سے جنم لینے والی نفرت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ یہ اپنے حلیے سے بھی مکمل مسلمان لگنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر ممکن ہو تو برطانیہ چھوڑ کر ان ملکوں میں جا نے کی تگ و دو میں ہوتے ہیں جہاں امریکا اور یورپ سے جنگ ہو رہی ہو۔ یہ برطانیہ کے لیے سب سے تشویشناک بات ہے، اس لیے کہ ان ملکوں میں جانے والے صرف غیر ملکی پس منظر رکھنے والوں کے بچے شامل نہیں بلکہ وہ گورے بھی ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور جو اپنے گوروں کو بہتر انداز میں جانتے ہیں اور ان کی پالیسیوں سے شدید نفرت کرتے ہیں۔
9 مارچ 2016ء کو ایم آئی 6 کے ڈائریکٹر نے شام میں دولت اسلامیہ کے لیے جانے والوں کے ایک بہت بڑے ڈیٹا کے پکڑے جانے کا انکشاف کیا جن میں بائیس ہزار نوجوانوں کے فارم تھے جو انھوں نے شام و عراق میں لڑنے کے لیے دولت اسلامیہ کے لیے بھیجے۔ انٹر نیٹ پر موجود ان فارموں پر تئیس (23) سوالات کے جوابات دینا ہوتے ہیں۔ ان میں برمنگھم کے جنید حسین اور کارڈف کے ریاض خان کے فارم بھی شامل تھے جو شام میں امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہوئے۔ اسی ڈائریکٹر نے بتایا کہ ان میں سے گرفتار ہونے والے ایک شخص نے بتایا کہ جلد ہی امریکا پر بہت بڑا حملہ ہونے والا ہے۔ دوسری جانب توپوں کا رخ صرف اور صرف پاکستان کی جانب موڑا جا رہا ہے اور میڈیا اس کے لیے مکمل طور پر کمربستہ ہے۔
چند دن پہلے بی بی سی نے ایک طویل ڈاکومینٹری نشر کی جو مولانا مسعود اظہر کے بارے میں تھی۔ ڈاکو مینٹری کا ٹائٹل تھا۔ ’’The Man Who Brought Jihad to Britain‘‘ (وہ شخص جو برطانیہ میں جہاد لے کر آیا‘‘۔ ڈاکو مینٹری کا آغاز مولانا مسعود اظہر کے 1993ء میں برطانیہ کے ایک دورے سے  ہوتا ہے جب وہ کشمیر میں لڑنے والے نوجوانوں کے گروہ حرکت المجاہدین کے سربراہ تھے۔ ان کا یہ دورہ ایک ماہ پر مشتمل تھا اور انھوں نے یہاں چالیس تقریریں کیں۔ وہ اس وقت 25 سال کی عمر کے تھے جب برطانیہ میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔
ڈاکو مینٹری کے مطابق مولانا اظہر کا پہلا جہادی برمنگھم کا محمد بلال تھا جس نے 2000ء میں سرینگر میں خود کو ایک آرمی چھاؤنی کے باہر بم سے اڑایا تھا جس میں 6 بھارتی فوجی اور تین شہری مارے گئے تھے۔ پوری ڈاکو مینٹری اس بات کے گرد گھومتی ہے کہ پاکستان کے مخصوص مسلک کے مدرسے جہاد کی نرسریاں ہیں۔ ان کے مطابق برطانیہ میں 45 فیصد مدارس اور مسجدیں دیوبندی مکتبہ فکر کی ہیں اور یہ مکتبہ فکر کشمیر اور افغانستان میں جہاد کا سب سے بڑا علمبردار ہے اور برطانیہ میں بھی پاکستانی اور افغان نوجوانوں کو جہاد کی ترغیب دیتا ہے۔
اس ڈاکو مینٹری میں برطانیہ میں موجود پاکستانی مسلمانوں کو جہاد کے تصورات رکھتے ہوئے بتایا گیا ہے۔ اسی میں خاص طور پر سپاہ صحابہ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا بھی ذکر ہے ۔ ڈاکو مینٹری دیکھ کر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اس کو کس طرح میڈیا میں موجود بھارتی لابی نے پاکستان، اور پاکستان میں کشمیر جہاد اور آئی ایس آئی کی جانب موڑا ہے۔ تمام توپوں کا رخ پاکستان کی جانب ہے اور اردو ریڈیو پر ا علانات ہو رہے ہیں کہ پاکستانی پس منظر والے نوجوان ایم آئی 5 اور 6 میں نوکری کریں۔ جو پاکستانی ان اداروں میں کام کرتے ہیں ان کے انٹرویو نشر ہوتے ہیں کہ انھیں کیا کیا سہولتیں میسر ہیں پھر بھرتی کے لیے راغب کیا جاتا ہے۔
یہ ہے ایک ہلکی سی تصویر جو اس معاشرے کی آیندہ نسلوں کی ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔ ایسے میں لیبر پارٹی کا نیا سربراہ جرمی کوربائن Jeremy Cor byn ایسے خیالات لے کر سامنے آیا ہے کہ برطانیہ کو داعش، شام اور افغانستان پر حملے نہیں کرنا چاہیے۔ وہ اسرائیل کے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، حماس اور حزب اللہ کو درست کہتا ہے لیکن ہم جنس پرستی اور الحاد کا بھی علمبردار ہے۔ ایسے میں سب سے زیادہ کنفیوژن کا شکار مسلمانوں کی نئی نسل ہے۔ ایک چوراہے پر کھڑی ہے اور راستہ بتانے والا کوئی نہیں جو کوئی جیسا چاہتا ہے اس سمت روانہ ہو جاتا ہے۔
اوریا مقبول جان

سیکولر ازم کا پاکستانی برانڈ

اسلام اور پاکستان یہ دو ایسے تصورات ہیں کہ جنھیں آپ ساتھ ساتھ ادا کریں تو
کتنے ماتھوں پر بل پڑتے ہیں‘ کتنی زبانیں آگ اگلنے لگتی ہیں‘ کتنے لہجے تلخ ہو جاتے ہیں اور آپ پر طرح طرح کے سوالوں کی بوچھاڑ ہونے لگتی ہے۔

پاکستان روشن خیال‘ سیکولر‘ لبرل یا پھر وہ لوگ جو اپنے آپ کو عقلی طور پر ملحد یعنی Atheist کہتے ہیں‘ ان سب کے پاس آپ سے پوچھنے کے لیے سوالات کرنے کی ایک لسٹ ہے جس میں چند گھڑے گھڑائے فقرے ہیں جو تاریخی جھوٹ پر مبنی ہیں‘ کچھ تصوراتی انجمنیں ہیں اور باقی اسلام اور پاکستان سے شدید نفرت میں بجھے ہوئے زہر آلود سوال۔
 جمہوریت‘ انسانی حقوق اور عالمی برادری کا نعرہ لگانے والوں کو اپنے سیکولر ازم‘ لبرل ازم یا الحاد کی اتنی فکر نہیں ہوتی جسقدر اسلام اور پھر پاکستان کو بدنام کرنے کی آرزو ہوتی ہے۔
اگر آپ ان کی تنقید اور سوالات کی کل کائنات کو جمع کریں تو ان کی فہرست دو درجن سوالات اور تنقیدی جملوں کے آس پاس ہی رہتی ہے‘ ان کا سب سے بڑا نعرہ اور سب سے اہم تصور ’’قائداعظم کا پاکستان‘‘ ہے۔
اس کے لیے ان کے نزدیک قائداعظم کا تصور ایک ڈکٹیٹر یا آمر مطلق کا  سا ہے۔ 
یعنی اگر قائداعظم کے زمانۂ گورنر جنرلی میں قانون ساز اسمبلی میں کوئی منتخب وزیراعظم خواہ وہ لیاقت علی ہی کیوں نہ ہوتا‘ قرار داد مقاصد پیش کرنے کی اجازت مانگتا تو قائداعظم اسے فوراً ایک شٹ اپ کال دے دیتے اور اگر اراکین اسمبلی میں ایسی ہی قرار داد مقاصد اسمبلی میں پیش کر بیٹھتے تو قائداعظم فوراً قانون ساز اسمبلی میں تشریف لاتے‘ اپنی گرجدار آواز میں کہتے خبردار کسی قسم کی کوئی قرار داد لانے کی ضرورت نہیں ’’قرار داد لاہور ہی قرار داد مقاصد ہے‘‘۔
اس کے باوجود بھی اگر اسمبلی قرار داد مقاصد منظور کر لیتی تو قائداعظم فوراً اس جمہوری عمل پر خط تنسیخ پھیر دیتے اور ایک آمر کی طرح فرماتے میں جس طرح کا پاکستان چاہتا ہوں ویسا ہی بنے گا‘ کسی کو اپنی مرضی کا پاکستان بنانے کی اجازت نہیں ہو گی خواہ مخالف اس ملک کی اکثریت ہی کیوں نہ ہو۔ قرارداد مقاصد وہ دستاویز ہے جو ہر اسلام دشمن شخص کے گلے کی پھانس  ہے اور وہ ہر وقت اس کی چبھن محسوس کرتا ہے۔

اس لیے کہ اس قرارداد میں انسانوں پر اللہ کی حاکمیت کا اعلان ہے۔ یہ لوگ صرف اعلان سے ہی اسقدر خوفزدہ ہیں کہ اپنی پوری توانائیاں اسے ختم کرنے پر صرف کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے بارے میں ان کے سوالات بہت ہی مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔ قرارداد لاہور 23 مارچ کو پیش ہوئی اور 24 مارچ کو منظور ہوئی تو پھر آپ 23 مارچ کو یوم پاکستان کیوں مناتے ہیں۔ قرارداد میں تو ایک ریاست نہیں بلکہ ریاستوں کا ذکر ہے‘ اس میں تو پاکستان کا نام بھی نہیں ہے۔

اگر قائداعظم علیحدہ ملک چاہتے تھے تو انھوں نے کیبنٹ مشن پلان کیوں منظور کر لیا جس میں مرکز کے اندر محدود اختیارات والی حکومتیں تھیں‘ وہ تو نہرو اور پٹیل نے نا منظور کیا اور پاکستان بن گیا‘ گویا اصل میں پاکستان نہرو اور پٹیل نے بنایا ہے۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ اس طرح وہ قائداعظم کو ایک دوغلا قسم کا سیاستدان ثابت کر دیں کیونکہ ان کی اصل نفرت قائداعظم سے ہے‘ وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح گزشتہ تین سو سالوں کی تعلیم نے دنیا بھر کو یقین دلا دیا تھا کہ قومیں رنگ‘ نسل‘ زبان اور علاقے سے بنتی ہیں لیکن قائداعظم نے ان کے مبلغ علم پر خط تنسیخ پھیرتے ہوئے نہ صرف مذہب کی بنیاد پر قومیت کا نعرہ بلند کیا بلکہ چند سالوں میں نعرے اور اس خواب کو ایک آزاد خود مختار اور اسلامی سلطنت میں تبدیل کر دیا۔ قائداعظم کا یہ جرم چھوٹا نہیں۔ آکسفورڈ کیمرج اور ہارورڈ جیسی یونیورسٹیوں میں سیاسیاست‘ سماجیات اور بشریات وغیرہ جیسے علوم کی کتابیں رد کر دی گئیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان بننے کے پہلے دن سے یہ طبقہ پاکستان میں موجود مختلف زبانیں بولنے والوں یا مختلف نسلی بنیادوں پر تقسیم کی کوشش میں رہتا ہے۔ قائداعظم کے پاکستان کا انکار اگلا تصور یہ ہے کہ یہ دراصل ایک معمولی سی لکیر کھینچی گئی تھی جس سے دو ملک وجود میں آ گئے تھے۔
ورنہ تو دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ وہاں بھی مسلمان‘ ہندو‘ سکھ اور عیسائی مل جل کر رہتے ہیں اور یہاں بھی‘ اس لیے یہ مذہب وغیرہ کا ریاست کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہے۔ اس سادہ سی لکیر کے پیچھے وہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کو بھول جاتے ہیں۔ لکیر کے آر پار دس لاکھ انسانوں کی لاشوں کو فراموش کر دیتے ہیں جو اس لیے قتل کر دیے گئے کہ کلمہ پڑھتے تھے یا نہیں پڑھتے تھے۔ یہی وہ قربانی ہے جو اس لکیر کو آج سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی سیکولر نہیں ہونے دیتی اور یہی میرے ان کرمفرماؤں کا المیہ ہے۔
ان کا قائداعظم کے بارے میں آخری وار یہ ہے کہ وہ شخص سر سے لے کر پاؤں تک مغربی لباس اور مغربی تہذیب میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایسا شخص   بھلا کسی ملک میں اسلام کو نافذ کر سکتا تھا۔ وہ تو اپنے چھ فٹ کے قد پر اسلام نافذ نہیں کر سکا۔ میرے ان سیکولر اور لبرل دوستوں کے نزدیک سوٹ پہننا‘ ٹائی لگانا‘ کرسی پر بیٹھنا یا کار میں سفر کرنا لبرل‘ سیکولر اور مغربی ہونے کی علامتیں ہیں۔ انھیں اندازہ نہیں کہ ایک آدمی مسلمان یا ملحد اپنے نظریے کی بنیاد پر ہوتا ہے لباس کی بنیاد پر نہیں۔ اگر مسلمان ہندوستان اور ایران وغیرہ فتح کرنے کے بجائے یورپ کو فتح کرنے چل پڑتے اور وہاں کا اکثریتی مذہب اسلام ہو جاتا تو آج شلوار قمیض کافروں اور پینٹ کوٹ مسلمانوں کا لباس ہوتے۔
قائداعظم سے بڑا مغربی تہذیب و معاشرت اور معاشیات کا ناقد پورے برصغیر میں کوئی نہ تھا۔ کسی کو یقین نہیں آتا تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان افتتاح کے موقع پر ان کی تقریر پڑھ لے۔ یہ ان کی آخری تقریر ہے اور آج بھی اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔
اس میں جہاں وہ سود سے پاک بینکاری نظام کے قیام کی بات کرتے ہیں وہیں وہ یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ مغرب کے طرز معیشت و سیاست نے اس قدر تباہی پھیلا دی ہے کہ اب اسے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ قائداعظم کے بارے میں میرے ان دوستوں کا بس نہیں چلتا کہ وہ اپنے اصل جذبات کا اظہار کریں‘ ورنہ ان کی ممدوح ملالہ یوسف زئی نے تو اپنی کتاب میں لکھ یا لکھوا دیا کہ ’’قائداعظم دراصل ایک رئیل اسٹیٹ یعنی پلاٹ وغیرہ کے لیے جدوجہد کر رہے تھے ریاست کے لیے نہیں۔
پاکستان سے پہلے میرے ان دوستوں کا ہدف صرف اور صرف اسلام ہوتا ہے۔ ان کے ارد گرد دیگر مذاہب کے لوگ بھی بستے ہیں۔ اسی ملک میں عیسائی‘ سکھ‘ ہندو اور پارسی بھی رہتے ہیں لیکن ان کا ہدف صرف اور صرف اسلام کے پیروکار ہوں گے۔ یہ سید الانبیاء کی ذات کے بارے میں تو بظاہر گفتگو نہیں کرتے لیکن آپ ان کے فیس بک پیج وغیرہ دیکھ لیں تو ان کی نفرت اور غیظ زبانوں کا اندازہ ہو جائے گا۔
وہاں چونکہ یہ چھپے ہوتے ہیں اس لیے ان کے اندر کا بغض اور غلاظت سامنے آتی ہے۔ اسلام کے اصول و قواعد پر بھی بحث کم کرتے ہیں بس اصل نشانہ مولوی ہوتا ہے۔ مولوی کا تمسخر اڑاؤ‘ اسے جاہل‘ گنوار‘ اجڈ‘ جدید دنیا سے لا علم اور متشدد ثابت کرو اور پھر آخر میں یہ فقرہ بول دو یہ ہے ان کا اسلام‘‘۔ اگر سیکولر ازم یا لبرل ازم ہر مذہب سے انکار اور بیزاری کا نام ہے تو پھر اس ملک میں بسنے والے کسی پادری‘ کسی سکھ گرنتھی یا ہندو پنڈت کے حوالے سے گفتگو کیوں نہیں ہوتی۔ عیسائی راہبائیں بھی حجاب پہنتی ہیں لیکن پردے کی بات آئے گی تو تنقید اسلام پر کریں گے۔
آپ ان سے گفتگو کریں یہ آپ کو اپنے نظریے کے حق میں دلائل بہت کم لا کر دیں گے بس آپ پر سوالات کی بوچھاڑ کر دیں گے۔ شراب اس لیے نہیں پئیں گے کہ ان کا ذائقہ انھیں اچھا لگتا ہے‘ انھیں علم ہے کہ دنیا پوری اس کے نقصانات پر روز گفتگو کرتی ہے لیکن اس لیے پئیں گے کہ اس سے اسلام کے ایک مسلم اصول کی نفی ہوتی ہے۔
یہ کمال کے لوگ ہیں عورت کے حقوق و احترام کی باتیں کرتے ہیں لیکن کسی فیشن شو میں بیٹھے ہوں تو ہر ماڈل کو یوں ناپ تول رہے ہوتے ہیں جیسے وہ کسی دکان پر سجا ہوا کوئی مال ہو۔ ان کے ہاں آمریت کی مخالفت اور جمہوریت کی حمایت بھی منافقت سے بھری ہوئی ہے۔ ضیاء الحق کی آمریت کو گالی دیتے ہیں اور پرویز مشرف کی آمریت کو سراہتے ہیں۔ بھارت کی مسلم کش جمہوریت کے گیت گاتے ہیں لیکن مصر میں اسلام پسند جمہوریت کو گالی دیتے ہیں۔ کس بلا کے یہ لوگ ہیں۔
اوریا مقبول جان

’’گڈ ‘‘ طالبان، ’’بیڈ‘‘ طالبان

پورا میڈیا گُنگ ہے، سب کو ایسے لگتا ہے سانپ سونگھ گیا ہے۔ کیسے مان لیں کہ افغانستان کے وہ طالبان جن کے ساتھ انھوں نے پاکستان میں ہونے والے ہر سانحہ کو جوڑنے کی کوشش کی۔ انھیں اپنے امریکی آقاؤں، مغربی سرپرستوں اور ذاتی تعصب کی بھینٹ چڑھا کر بدنام کیا گیا۔ افغانستان نے آج اگر پچاس سال پہلے بھی کوئی زیادتی کی تھی تو اسے بحیثیت مجموعی ان کے کھاتے میں ڈال کر انھیں پوری افغان تاریخ کا نمایندہ قرار دے کر گالی دی گئی۔

کیسے تسلیم کر لیں کہ سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو انھوں نے بغیر تاوان کے رہا کر دیا اور پھر اسے پاکستان تک چھوڑ کر آئے۔ ان راستوں سے ہوتے ہوئے جہاں امریکی اور افغان فوجی باؤلے کتوں کی طرح ان کا پیچھا کرتے پھرتے ہیں۔ وہ جو افغان امور کے ماہر بن کر کتنے سالوں سے یہ ثابت کرنے میں مصروف تھے کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان  ایک ہی چیز ہیں۔ اگر وہ یہ تسلیم کر لیں کہ شہباز تاثیر پاکستانی طالبان کی قید میں ایک سے دوسری جگہ بِکتا ایک ایسے گروہ تک جا پہنچا تھا جو مقامی اور ازبک طالبان پر مشتمل تھا اور وہ بھاری تاوان طلب کر رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی انھوں نے افغان طالبان سے شکست کھائی اور شہباز تاثیر افغان طالبان کے ہاتھ آیا تو ملا اختر منصور نے فوراً اسے بحفاظت پاکستان پہنچانے کا حکم صادر کیا۔
کیا یہ سب گزشتہ پندرہ سال کی بدترین کردار کشی اور افغان طالبان کو مطعون کرنے کی ساری کوششوں کے برعکس نہیں ہو گیا۔ میڈیا گُنگ ہے اور اس لمحے کی تلاش میں ہے جب انھیں کوئی ایسی جھوٹی رپورٹ ہی میسر آ جائے تا کہ ان گُنگ زبانوں کو قرار آ جائے اور وہ ایک بار پھر سے افغانستان میں آزادی اور حریت کی جنگ لڑنے والوں کے خلاف بولنا شروع کر دیں۔
شہباز تاثیر جس علاقے سے ہوتا ہوا کوئٹہ کے قریب کچلاک میں پہنچا، وہ پورے کا پورا علاقہ 1980ء سے افغانستان میں ہونے والی کشمکش کا گواہ ہے۔ ان چھتیس سالوں میں وہاں جو بھی اتار چڑھاؤ آیا، پاکستان میں رہنے والے اس خطے کے افراد پر اس کا اثر ضرور مرتب ہوا۔ زابل، قندھار اور ہلمند، یہ تین صوبے ایسے ہیں جو بلوچستان کے اہم اضلاع کی سرحدوں کے اس پار ہیں جب کہ پکتیکا اور نیمرروز دو صوبے بلوچستان کے شمالی اور مغربی اضلاع کے آخری کناروں کو چھوتے ہیں۔ قندھار کا فاصلہ چمن سے اتنا ہی ہے جتنا کوئٹہ کا فاصلہ چمن سے ہے۔

اسی لیے چمن کا شہر گزشتہ چھتیس سالوں سے افغانستان میں ہونے والے ہر واقعے یا آنے والے ہر انقلاب سے براہ راست متاثر ضرور ہوا ہے۔ ان چھتیس سالوں میں سے صرف چھ سال ایسے تھے جب افغانستان کے بارڈر کے ساتھ آباد ژوب، قلعہ سیف اللہ، چمن، نوشکی اور دالبندین کے عوام نے سکھ کا سانس لیا اور انھیں اس بات کا اندازہ ہوا کہ پڑوس میں بھی اگر ایک ایسی حکومت قائم ہو جائے جو انصاف کرتی ہو اور امن و امان قائم کر دے تو ساتھ والے خطے میں بھی امن اور انصاف کی خوشبو دار ہوائیں چلنے لگتی ہیں۔

یہ چھ سال تھے 1995ء سے 2001ء تک‘ جب افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی۔ ورنہ روس کی 1980ء میں افغانستان میں آمد سے اگلے پندرہ سالوں تک اس خطے نے یا توبم دھماکے دیکھے یا پھر اغوا برائے تاوان۔ کونسا سا ایسا شہر نہیں تھا جہاں سے انسان تاوان کے لیے اغوا نہ ہوئے ہوں اور گاڑیاں تو پورے پاکستان سے چوری کر کے افغانستان کے ان صوبوں میں جا کر بیچی جاتی تھیں۔

میں 1980ء کے اوائل میں، اقوام متحدہ کے ایک ادارے کے تحت منشیات کی اسمگلنگ پر تحقیق کر رہا تھا۔ میرے ساتھ ایک جرمن باشندہ بھی تھا۔ ہم دونوں افغانستان میں پھیلی وسیع و عریض پوست کی کاشت دیکھتے، پھر بارڈر پر موجود ہیروئن کی فیکٹریوں کے بارے معلومات اکٹھا کرتے اور پھر پاکستان کے ان شہروں میں چلنے والے اڈوں جسے یہاں کے لوگ ساقی خانہ کہتے ہیں وہاں منشیات کا شکار افراد سے انٹرویو کرتے۔

یہ دھندا روس کے زمانے میں بھی چلتا رہا۔ افغان جنگ میں بھی زوروں پر رہا۔ مجاہدین کی حکومت آئی تو وہ آپس میں اس قدر بٹی ہوئی تھی کہ منشیات فروشوں کے وارے نیارے ہو گئے۔ لیکن طالبان کے ان پانچ سالوں میں سے آخری تین سال جب ملا محمد عمر نے منشیات پر پابندی کا حکم صادر کیا۔ افغانستان میں منشیات کی کاشت جو دنیا کا نوے فیصد تھی صفر پر آ گئی۔ ژوب سے لے کر چاغی تک کے تمام سرحدی اضلاع اور یہاں تک کہ کوئٹہ سے زیارت اور لورالائی تک کے تمام علاقے اس لیے امن میں آ گئے تھے کہ اب کوئی شخص چوری کر کے، گاڑی اغوا کر کے یا پھر قتل کے بعد افغانستان میں پناہ نہیں لے سکتا تھا۔
آغاز میں کچھ لوگ اسے پہلے والا افغانستان سمجھتے ہوئے ایسے جرائم کر کے وہاں پناہ گزین ہوئے لیکن وہ تمام گاڑیاں اور چوری کا مال بھی واپس کیا گیا اور مجرم بھی پاکستان کے حوالے کر دیے گئے۔ انھیں دنوں میں یہ دستور عام ہونے لگا تھا کہ لوگ اپنے درمیان ہونے والے قضیؤں اور جھگڑوں کے فیصلے افغانستان کی کسی نزدیکی عدالت کے طالبان سے کرواتے۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ جان محمد دشتی کے دفتر میں موجود وہ وفد مجھے نہیں بھولتا جو ایک درخواست لے کر آیا تھا کہ چار اشخاص نے ہمارے کروڑوں افغانی (کرنسی) اور ایک موٹر سائیکل دھوکے سے لے لیا ہے۔ چاروں پکڑے گئے۔ دو کو عدالت نے چھوڑ دیا اور دو ایس ایچ او نے پولیس کے رہا کردہ بھاگ کر قندھار چلے گئے۔ ہم اپنا مقدمہ لے کر وہاں پہنچے۔ طالبان نے آدھی رقم اور موٹر سائیکل واپس کروا دیا۔ آپ ہمیں باقی دو افراد پکڑ کر دو ہم ان کو قندھار لے جائیں گے تا کہ انصاف سے فیصلہ ہو۔
سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کے واپس آنے کے بعد اس سارے علاقے میں لوگوں کے ذہنوں میں اس دور کی یاد تازہ کر دی ہے۔ جس دن شہباز تاثیر کی خبر آئی، میں نے وہاں بے شمار لوگوں سے رابطہ کیا۔ ہر کسی کو اس واقعے کی پوری صحت کا علم تھا۔ کیسے قلات غلزئی کے قریب طالبان کی ایک ایسے گروہ سے جھڑپ ہوئی جسے امریکا، افغان حکومت اور بھارت نے ان کے خلاف منظم کیا ہے۔ اس میں ازبکستان کی اسلامک موومنٹ کے لوگ بھی شامل ہیں۔
 ان کا ابوبکر البغدادی سے کوئی رابطہ نہیں لیکن ایک بڑی چھتری کے نیچے آنے کے لیے داعش کا ذکر کرتے ہیں۔ جہاں جہاں افغانستان میں یہ جگہ بناتے ہیں، وہاں افغان فوج اور امریکا ان کے لیے راہ ہموار کرتا ہے تا کہ یہ طالبان سے لڑیں۔
غزنی پر جب طالبان نے اپنا حملہ کیا تو زابل پڑوس میں ہونے کی وجہ سے ان کے زیراثر تھا۔ وہاں یہ گروپ بھی موجود تھا جس کے پاس شہباز تاثیر تھا۔ غزنی میں افغان فوج کا تو عمل دخل مشکل تھا، اسی گروہ کو طالبان کے خلاف ابھارا گیا۔ جنگ میں یہ لوگ پسپا ہوئے اور شہباز تاثیر افغان طالبان کے ہاتھ آ گیا۔ یہاں اس قیادت کا فرق واضح ہوتا ہے جو اغوا برائے تاوان پر یقین نہیں رکھتی، بے گناہ کو اس کے جرم کی سزا نہیں دیتی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہزار بے وفائیوں کے باوجود پاکستان سے محبت کرتی ہے، احترام کرتی ہے۔ زابل سے کچلاک کوئی آسان راستہ نہیں۔ دو بندی کے پہاڑی میدان اور قلعہ سیف اللہ کے پہاڑی سلسلے اور ان کے دشوار گزار راستے۔
دوسری جانب افغان فوج اور خود پاکستانی اہلکار آپ کے تعاقب میں لیکن شہباز تاثیر کو ایک محفوظ جگہ تک چھوڑ کر گئے تا کہ وہ گھر رابطہ کر کے بتا سکے۔ طالبان اب موبائل فون کا استعمال بہت کم کرتے ہیں تاکہ ڈرون وغیرہ سے بچ سکیں۔ اس لیے بہت احتیاط کرنا پڑی اس سارے سفر میں۔ایک افواہ اور گرم تھی کہ چالیس کروڑ لیے گئے لیکن علاقے کے لوگوں کی خبر اس کی تصدیق نہیں کرتی۔ شہباز تاثیر کی واپسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کی حکومت موجود ہو تو پاکستان میں جرائم کس قدر کم ہوں گے لیکن کون اس کو مانے گا۔ شاید کوئی نہیں۔
دنیا کی ہر قوم میں ’’گڈ‘‘ اور ’’بیڈ‘‘ ہوتے ہیں لیکن تعصب کی انتہا دیکھیں کہ اس ملک کے عظیم دانشور تمام کے تمام طالبان کو ’’بیڈ‘‘ گنتے ہیں اور دوسروں کو گننے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔ خواہ مدرسے میں پڑھتے ہوں اور امن سے رہتے ہوں، خواہ دھماکے اور دہشت گردی کرتے ہوں یا پھر وہ افغان طالبان جنہوں نے اپنے ملک میں ایک پرامن حکومت پانچ سال تک چلا کر دکھائی۔ سب کے سب ’’بیڈ‘‘ ہیں۔ اسی لیے کہ یہ لوگ شہباز تاثیر کی بازیابی کے واقعہ پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ کسی کی بڑائی کی تعریف نہیں کریں گے۔اگر شہباز تاثیر بلوچ قوم پرستوں، سندھ کے ڈاکوؤں یا کراچی کے بھتہ خوروں کے ہاتھ آتا تو کیا وہ ایسے رہا ہوتا۔ ہرگز نہیں۔ لیکن کوئی نہیں بولے گا۔ پندرہ سال کا جھوٹ واپس نگلنا آسان کام تو نہیں ہوتا۔
اوریا مقبول جان

مفلوک الحال انسانوں کے جنگل میں سفاری

یہ وہ بے حس لوگ ہیں جنھیں سب معلوم ہے کہ وہ قرضہ جو وہ اپنی انا کی تسکین کے لیے بنائے گئے منصوبوں کے لیے لیتے ہیں اسے کون روزانہ ادا کر رہا ہے۔ انھیں اچھی طرح علم ہے کہ جس قرض پر یہ اتنی آسانی سے دستخط کر دیتے ہیں اور ان کی روح نہیں کانپتی اسے پٹرول پمپ پر آنے والا رکشہ ڈرائیور، چنگ چی کا مالک یا موٹر سائیکل والا ادا کر رہا ہوتا ہے جو جیب سے تڑے مڑے پسینہ زدہ نوٹ نکالتا ہے اور بعض دفعہ یہی اس کی کل کائنات ہوتی ہے۔
ایسے ہی مفلوک الحال اور غربت زدہ چہرے آپ کو ہر شہر، بستی اور قریے میں لاتعداد نظر آئیں گے، ان بے چاروں کو علم تک نہیں کہ یہ جو چمکتی ہوئی موٹروے ہے، تیزی سے مکمل ہونے والی میٹروبس سروس ہے یا پھر انھیں کے ٹھکانے گرا کر انھیں بے آسرا کر کے جو اورنج ٹرین بنائی جا رہی ہے، ان سارے اللے تللوں کا قرضہ یہ لٹے  پٹے عوام ادا کر رہے ہیں۔ یہ لوگ جب صرف زندگی کی سانسیں بحال رکھنے کے لیے آٹا، دال، گھی، چینی وغیرہ خرید رہے ہوتے ہیں تو ان کو علم تک نہیں ہوتا کہ ان اشیاء کی قیمتوں میں ٹیکس بھی شامل ہوتا ہے۔
یہ غریب لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید مہنگائی زیادہ ہو گئی ہے حالانکہ ہوتا یہ ہے کہ حکمرانوں کی ہوس بڑھ چکی ہوتی ہے۔ ان کا قرضہ لے کر عیاشی کرنے کا جنون زیادہ ہو چکا ہوتا ہے۔ اس لیے اشیاء کی قیمتوں پر ٹیکس لگا کر عام آدمی سے قرض اتارنے کے لیے پیسہ اکٹھا نہیں بلکہ لوٹا جاتا ہے۔ یہ قومی قرضہ بھی ایک ایسی لعنت ہے جو قومی ریاستیں بننے کے ساتھ سودی بینکاری نظام نے عطا کی۔ عالمی مالیاتی نظام کے وجود میں آنے سے قبل انسانوں کے انفرادی قرضے ہوتے تھے جو وہ اپنی ضروریات کے لیے لیتے تھے لیکن قومی قرضوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔
اسی برصغیر پاک و ہند پر 1947ء سے قبل کوئی قومی قرضہ نہیں تھا جب کہ یہاں بہترین ریلوے بنی، نہروں کا جال بچھایا گیا، تعلیمی ادارے قائم کیے گئے، انسانوں اور جانوروں کے اسپتال بنے، مال روڈ لاہور کی عمارتوں کو ہی ذہن میں لایا جائے اور ایسی ہی عمارتوں کا کلکتہ، بمبئی، دلی، مدراس وغیرہ میں سوچا جائے تو یہ سب کچھ کسی عالمی قرضے کے بغیر بن گیا تھا۔ الٹا یہ کہ ہر سال اس برصغیر و ہند سے پانچ کروڑ پونڈ برطانیہ بھیجے جاتے تھے تا کہ وہاں عیاشیاں کی جا سکیں۔ اسی ہندوستان میں سے جدا ہونے والی مملکت خداداد پاکستان کا ہر شہری خواہ وہ ایک دن کا بچہ ہو یا نوے سال کا بوڑھا آج ایک لاکھ روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ ہمارا کل قرضہ 181 کھرب روپے ہے۔
حیرت میں ڈوب جائیے کہ ان میں 121 کھرب روپے ہم نے باہر کی دنیا سے نہیں مانگے بلکہ اپنے ہی ملک کے بینکوں سے ادھار لیے ہیں۔ وہ بینک جن میں اس قوم کے غریب عوام نے اپنی جمع پونجی رکھی ہوتی ہے اور لالچ یہ ہوتا ہے کہ اس پر انھیں سود ملے گا۔ حکومت وہ ساری جمع پونجی لے لیتی ہے، اس سے اپنی مرضی کے شاہ خرچیوں والے منصوبے بناتی ہے۔ اس پر ظلم کی بات یہ کہ وہ عوام جن سے یہ قرض لیا ہوتا ہے ان کو واپس ادا کرنے کے لیے انھیں پر ٹیکس لگایا جاتا ہے یعنی پہلے عوام کی جمع پونجی ان سے چھینی جاتی ہے کہ یہ قرض ہے اور ہم ادا کر دینگے۔ پھر ان کی روزمرہ آمدن کا ایک حصہ چھین کر انھیں واپس کیا جاتا ہے کہ یہ لو تمہارے قرضے کی قسط یہ ہے۔
یہ ہے اس مالیاتی نظام کی مضحکہ خیز صورتحال۔ یہ بھکاری حکمران کونسا ایسا دروازہ نہیں جہاں کشکول لے کر کھڑے نہ ہوتے ہوں۔ 121 کھرب مقامی قرضوں کے علاوہ انھوں نے 51 ارب ڈالر دنیا بھر سے لے رکھے ہیں جنھیں ہم سب نے نہیں بلکہ ہماری نسلوں نے بھی ادا کرنا ہے۔ ان قرضوں سے ہمارے یہ حکمران ہمیں تعلیم مہیا نہیں کرتے، صحت کی سہولیات نہیں دیتے، پینے کا صاف پانی میسر نہیں کرتے، روزگار میں اضافہ نہیں کرتے بلکہ اپنے شوق کی تکمیل کے لیے کبھی موٹروے بناتے ہیں تو کبھی مری کی روڈ کو خوبصورت، ایئرپورٹ شاندار ہو جاتے ہیں یا میٹروبس کا تحفہ لاہور اور راولپنڈی کو مل جاتا ہے اور اب اورنج ٹرین۔
گندم جو بنیادی ضرورت ہے جسے حکومت ایک مقرر کردہ قیمت پر خریدتی ہے تا کہ کسانوں کو نقصان نہ ہو اور لوگوں کو گندم میسر رہے۔ اس کے لیے بینک سے قرضہ لے کر خریداری ہوتی ہے اور پھر وہ گندم بیچ کر ادائیگی کی جاتی ہے۔ اسے مالیاتی نظام میں فوڈ اکاؤنٹ کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے سارے مالی اثاثے دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ فوڈ اکاؤنٹ اور نان فوڈ اکاؤنٹ۔ اس فوڈ اکاؤنٹ کے گردشی قرضے 120 ارب روپے ہو چکے ہیں اور اس سال اپریل میں حکومت کے پاس گندم خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوں گے۔
اس غربت، افلاس، مجبوری، بیماری اور بے روزگاری کے موسم میں مبارک ہو کہ ہم نے قرضہ لے کر لاہور کے شہریوں کو پہلے میٹروبس کا تحفہ دیا، پھر راولپنڈی والوں کو ایسا ہی تحفہ دیا گیا اور اب اورنج ٹرین کے لیے جھولیاں بھر کر قرضہ لیا جا رہا ہے۔ عالم یہ ہے کہ سال کے آغاز میں آپ بجٹ پیش کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ تقریر کرتے ہیں کہ ہم نے تعلیم، صحت، صاف پانی وغیرہ کے لیے اتنے زیادہ پیسے رکھے ہیں، تالیاں بجتی ہیں، اداریے لکھے جاتے ہیں۔ لیکن یہ سب سرمایہ میٹروبس اور اورنج ٹرین جیسے منصوبوں کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔
لاہور میں جب میٹروبس بنائی جا رہی تھی تو 2011-12ء کے بجٹ میں جن اسکیموں کے پیسے اس میٹروبس کو دیے گئے۔ اس میں صوبے میں صاف پانی کی اسکیمیں، کوئلے سے بجلی بنانے کی اسکیمیں، پسماندہ علاقوں کی لنک روڈ کی اسکیمیں، جنوبی پنجاب کے چولستان کی معاشرتی حالت بہتر بنانے کی اسکیمیں، جنوبی پنجاب کے غربت کے خاتمے کی اسکیمیں، چھوٹے ڈیم بنانے کی اسکیمیں، ان سب کے فنڈز میٹروبس پر لگا دیے گئے۔
 اسپتال دوائیوں سے محروم کر دیے گئے اور اسکول اجڑتے چلے گئے، پورے کا پورا صوبہ محروم ہوتا چلا گیا۔ لیکن شہر لاہور کے شہریوں کو میٹروبس کی ایئرکنڈیشنڈ سواری مل گئی۔
قرضہ لے کر اپنی مغلیہ خواہشات کی تکمیل کرنے والے حکمرانوں کو اس بات کی پروا نہیں کہ یہ قرضہ اس قوم اور اس کی نسلوں نے ادا کرنا ہے۔ انھیں تو اس بات کی بھی پرواہ نہیں کہ اس سرمائے سے عوام کے لیے ایسے منصوبے ہی بنا لیے جائیں جن سے ان کو تعلیم میسر ہو، صحت بہتر ہو، پینے کا صاف پانی ہی مل جائے۔ اورنج ٹرین منصوبے پر 6 ارب فی کلو میٹر خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے کرائے میں سبسڈی کے لیے 14 کروڑ روپے صرف ہوں گے۔ اس کی دیکھ بھال پر 4 کروڑ روپے لگیں گے اور 10 کروڑ قرضے میں چکائے جائیں گے۔ یعنی 28 کروڑ روپے ماہانہ جو 28 ارب روپے سالانہ بنتے ہیں۔
جو ڈھائی لاکھ لوگ اس پر سفر کریں گے، ان پر اس منصوبے کی تعمیر کی فی کس لاگت 6 لاکھ پچاس ہزار روپے بنتی ہے جب کہ پانچ لاکھ 50 ہزار میں ایک سوزوکی مہران خریدی جا سکتی ہے۔ اس سارے سرمائے سے شوکت خانم اسپتال جیسے 41 اسپتال تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔ اس سرمائے سے ہر ضلع میں 300 اسکول بنائے جا سکتے ہیں۔ یعنی پورے پنجاب میں دس ہزار نئے اسکول قائم ہو جاتے ہیں۔ پنجاب میں ہم تعلیم پر 600 روپے فی کس خرچ کرتے ہیں۔
صحت پر فی کس 500/- روپے خرچ کرتے ہیں جب کہ اورنج ٹرین کا فی کس قرضہ ہی 1600 روپے ہے۔ یہ ہیں ہماری ترجیحات، یہ ہے ہماری پلاننگ اور یہ ہے ہمارے حکمرانوں کا اس قوم کو آگے لے جانے کا وژن۔ کہتے ہیں جہاں سے سڑک گزرتی ہے وہاں ترقی خود بخود آتی ہے۔ آج سے بیس سال پہلے لاہور سے اسلام آباد تک موٹروے بچھائی گئی تھی۔ آج بیس سال گزرنے کے بعد بھی آپ کو موٹروے کے ایک جانب کروڑوں بھوکے، ننگے، نادار اور مفلوک الحال افراد نظر آئیں گے اور موٹروے کے دوسری جانب بھی۔
کبھی کبھی ان تمام اسکیموں کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے جیسے ہم سفاری ایکسپریس وے بنا رہے ہیں۔ افریقہ کے جنگلوں میں شاندار سڑک بنائی گئی ہے کہ ہم چیتے، شیر یا دیگر جانور ایئرکنڈیشنڈ گاڑیوں میں بیٹھے دیکھ سکیں۔ اسی طرح ہم موٹروے پر سفر کرتے ہوئے، میٹروبس یا اورنج ٹرین میں بیٹھے ہوئے جانور نہیں بلکہ غریب اور مفلوک الحال انسانوں کو دیکھتے ہیں جو بیمار ہیں، بے روزگار ہیں، مفلس و نادار ہیں، انھیں نہ پینے کا صاف پانی ملتا ہے، نہ تعلیم اور نہ صحت۔ کیا خوبصورت سفر ہے نا ان تمام سہولیات سے عاری انسانوں کے درمیان۔
اوریا مقبول جان

قومی عزت و ناموس اور ذلت و رسوائی

بحیثیت قوم یہ میری ذلت و رسوائی کا پہلا موقع نہیں کہ جس میں میرے ہی کسی ہم وطن نے غیروں کے ایماء پر اس قوم میں پائے جانے والی خرابی کو عالمی سطح پر اچھالا ہو، لیکن میری اس ذلت و رسوائی پر اس دفعہ مہر تصدیق ثبت کرنے کے لیے وزیراعظم ہاؤس کے دروازے کھول دیے گئے۔
جس شخص کو اس قوم نے تین دفعہ منتخب کیا، اس نواز شریف نے بمعہ اہل خانہ اس ڈاکومنٹری فلم کو دیکھا اور پھر ویسی ہی گفتگو کی جیسی واشنگٹن، لندن یا پیرس میں بیٹھا کوئی شخص میرے ملک کے بارے میں کرتا ہے۔ اس لیے کہ وہاں کے لوگوں اسی طرح کی ڈاکومنٹریاں دکھا دکھا کر یہ ذہن نشین کرایا جاتا ہے کہ اول تو مسلمان ایک جاہل، اجڈ، گنوار، بدتہذیب اور ظالم قوم ہے اور دوم یہ کہ پاکستانی تو ان معاملات میں درجہ کمال رکھتے ہیں۔ یہ وہ تصور ہے جو میڈیا کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کیا جاتا ہے۔
یہ میڈیا صرف خبر، کالم یا تبصرے تک محدود نہیں بلکہ فلم، ڈراما، اسٹیج، کارٹون اور ڈاکومنٹری جیسی اصناف تک پھیلا ہوا ہے۔ اخبار کی خبر، کالم یا تبصرے کے بارے میں لوگوں کا عمومی تاثر یہ ابھرتا ہے کہ یہ ایک خبر ہے، ایک واقعہ ہے جو کسی ملک کے کسی شہر میں ہو گیا ہے۔ ایسے چند ایک واقعات بار بار ہو جائیں تو تبصرے کا موضوع بن جاتے ہیں۔ لیکن کسی فلم یا ڈرامے کا تو کمال یہ ہے کہ آدمی اس میں گم ہو جاتا ہے۔
وہ ان کرداروں میں پوری قوم، قبیلے یا برادری کو سوچنے لگتا ہے۔ اگر مسجد سے نماز پڑھ کر نکلنے والے، داڑھی اور ماتھے پر محراب والے شخص کو دکان میں ملاوٹ کرتے، بیوی کو مارتے، بچوں سے ظالموں کی طرح سلوک کرتے دکھایا جاتا ہے تو تین گھنٹے مسلسل اس کردار کو دیکھ کر افراد جو تاثر لے کر اٹھتے ہیں وہ یہی ہوتا ہے کہ اسی شکل و صورت اور اس طرح کے مذہبی لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔
لیکن ڈاکومنٹری فلم ایک انتہائی خطرناک میڈیم ہے۔ فلم یا ڈراما میں تو لوگوں کو ذہن کے کسی گوشے میں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ یہ ایک کہانی ہے اور ہو سکتا ہے یہ کسی کی ذہنی اختراع ہو یا بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہو، لیکن ڈاکو منٹری کو تو حقیقت نگاری کی سند حاصل ہوتی ہے۔ ہر کوئی اسے اس یقین کے ساتھ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اس میں دکھایا گیا ایک ایک سین اصل ہے، اس کے کردار بھی حقیقی ہیں اور کہانی میں بھی تو ملاوٹ یا افسانہ نگاری شامل نہیں۔ پہاڑوں، دریاؤں، صحراؤں، پرندوں، جانوروں، آفتوں، طوفانوں اور اس طرح کی دیگر خوبصورتیوں یا فطرت کے واقعات پر مبنی ڈاکومنٹریاں تو بہت حد تک تعصب سے پاک ہوتی ہیں کہ وہاں نہ تو شیر کا کردار بگاڑنا ہوتا ہے اور نہ ہی گیدڑ کو شیر ثابت کرنا، زلزلے یا آتش فشاں کے پھٹنے کو بھی اس کی ہولناکیاں دکھانے تک محدود رکھا جا سکتا ہے۔
لیکن اگر انسانوں کے بارے میں یا انسانوں کے ایک گروہ کے بارے میں ڈاکومنٹری بنانا مقصود ہو تو کسی ایک منفی کردار یا واقعے کو پوری قوم کی ذلت و رسوائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کسی ایک چور، ڈاکو، دہشت گرد، قاتل یا غیرت کے نام پر قتل کرنے والے کی کہانی کو اس طرح فلمایا جاتا ہے جیسے یہ اس پوری قوم کا مزاج ہے۔ پھر اس میں جس طرح ذلیل کرنا مقصود ہوتا ہے، جس قسم کے افراد کو رسوا کرنے کی منصوبہ بندی ہوتی ان کے کردار کو مزید نکھار سنوار کر اور نوک پلک درست کر کے دکھایا جاتا ہے تا کہ نفرت کا سارا بہاؤ ان کی جانب موڑ دیا جائے۔
شرمین عبید چنائے کی خصوصیت یہی تکنیک ہے۔ کسی ایک برائی کا شکار ایک یا دو کرداروں کو منتخب کیا جائے۔ ان کی زندگیوں پر مرتب اثرات کو نمک مرچ لگا کر دکھایا جائے اور پھر ڈاکومنٹری میں یہ تاثر عام کیا جائے کہ پورے پاکستان میں ہر گلی کوچے میں یہی ظلم روا  رکھا جاتا ہے۔
جب آپ مسلمان یا پاکستان کو اس طرح بدنام کریں تو آسکر ایوارڈ آپ کے ہاتھ میں تھمایا جائے، آپ سے چند جملے سنے جائیں اور پھر تالیوں کی گونج میں رخصت کیا جائے اور پوری دنیا میں اس تقریب کو دیکھنے والے یہ تاثر لے کر اٹھیں کہ پاکستان غیرت کے نام پر قتل کے سوا اور کسی چیز کے لیے مشہور نہیں۔ لیکن اس دفعہ تو آسکر سے پہلے یہ ’’عظیم‘‘ فریضہ اور اس مملکت خداداد پاکستان کی ذلت و رسوائی کا بندوبست ہمارے محبوب وزیر اعظم نے وزیر اعظم ہاؤس میں سرانجام دیا۔
کیا غیرت کے نام پر قتل صرف پاکستان میں ہوتا ہے۔ کیا عورت صرف پاکستان میں مظلوم ہے یا پھر کیا پاکستان میں صرف عورت مظلوم ہے۔ کس قدر شاندار طریقے اور الفاظ کے ہیرپھیر سے یورپ اور امریکا نے اپنے ہاں ہونے والے عورتوں کے قتل کو خوبصورت نام دے کر چھپایا ہے۔ پاکستان میں اگر کوئی بھائی یا باپ اپنی بہن یا بیٹی کو قتل کر دے تو اسے غیرت کے نام پر قتل کہا جاتا ہے اور اسے ایک طرح کا بدترین ظلم قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن چونکہ یورپ اور امریکا میں عورتیں اپنے سابقہ شوہروں یا سابقہ بوائے فرینڈز کے ہاتھوں قتل ہوتی ہیں اس لیے اس ظلم یا جرم کو ’’جذباتی جرم‘‘ یعنی  کہا جاتا ہے۔
پاکستان میں شرمین عبید کی ڈاکومنٹری میں دکھائے گئے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ایک ہزار عورتیں سالانہ ایسے قتل کی جاتی ہیں جس کی تصدیق اعداد و شمار سے شاید نہ ہو سکے۔ لیکن چلو مان لیتے ہیں۔ اب ان اعداد و شمار کی طرف آتے ہیں جو امریکا اور یورپ کے بارے میں ہیں۔  ’’جذباتی جرم‘‘ کے نتیجے میں تمام قتل ہونے والی خواتین کے تیس فیصد کو ان کے سابقہ شوہر اور بوائے فرینڈ قتل کرتے ہیں۔
اس جرم کو وہ عارضی پاگل پن یعنی  کہتے ہیں۔ یعنی ایک شخص اپنی محبوبہ کے چھوڑ جانے یا اس کی بے وفائی کی وجہ سے پاگل پن کا شکار ہوا اور اس نے اپنی محبوبہ کو قتل کر دیا اور اب پاگل پن کی سزا موت نہیں بلکہ علاج ہے‘ اس لیے اسے ذہنی امراض کے اسپتال میں داخل کیا جائے۔ 1942میں آسکر کے اکیڈمی ایوارڈ نے ڈاکومنٹری فلم پر ایوارڈ دینا شروع کیے۔ میں ساری لسٹ کھنگالتا رہا کہ شاید مجھے کوئی ان موضوعات پر ڈاکومنٹری مل جائے جس میں امریکی یا یورپی معاشرے کے ان کریہہ جرائم کو اچھالا گیا ہو۔
موضوعات کی کوئی کمی نہ تھی۔ اعداد و شمار کا انبار تھا۔ موضوعات تھے کہ ہاتھ باندھے کھڑے تھے کہ کوئی شرمین عبید امریکا یا یورپ کی ان خرابیوں پر فلم بنائے اور ایوارڈ حاصل کرے۔ ہر دو منٹ میں ایک عورت امریکا میں جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ صرف ایک سال 1996 میں تین لاکھ 66 ہزار عورتیں جنسی تشدد کا شکار بنائی گئیں اور آج یہ تعداد بہت بڑھ چکی ہے۔ بارہ لاکھ ساٹھ ہزار بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے جن میں 75 فیصد بچیاں تھیں۔ 28 لاکھ بچے ماں باپ کے تشدد کی وجہ سے اسپتال پہنچے اور ان میں 25 فیصد موت کی آغوش میں چلے گئے۔ امریکا میں ہر سال جتنے بچے پیدا ہوتے ہیں ان میں آدھے سے زیادہ یعنی 54 فیصد کنواری مائیں جنم دیتی ہیں۔
خاوند چھوڑ کر یہ جا وہ جا اور بچے بیچاری ماں پال رہی ہوتی ہے۔ اپنی تعلیم چھوڑ دیتی ہے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی ان موضوعات پر ڈاکومنٹری بنائے اور پھر وائٹ ہاؤس کے اورنج روم میں چیدہ چیدہ شخصیات کو بلا کر اسے دکھایا جائے اور امریکی صدر دنیا بھر کو امریکا کا یہ مکروہ چہرہ پیش کرے اور پھر آسکر ایوارڈ کی چکاچوند روشنیوں میں اسے ایوارڈ دیا جائے۔ آئیے ایک سچی کہانی میں دیتا ہوں 43 سالہ تھامس منٹگمری خود کو 21 سال کا ظاہر کر کے ایک خاتون جیسی سے انٹرنیٹ پر تعلقات استوار کرتا ہے جو اصل میں 40 سال کی ہے اور اپنی 17 سالہ بیٹی کی تصویریں استعمال کرتی ہے۔ اس دوران جیسی ایک 22 سالہ شخص برائن سے بھی انٹرنیٹ پر تعلق استوار کرتی ہے اور محبت کی تکون وجود میں آتی ہے۔
تھامس اس خاتون کو ڈھونڈتا ہے اور اسے اس جھوٹ‘ فراڈ اور بے وفائی کی سزا میں قتل کر دیتا ہے۔ اسے عارضی پاگل پن کا شکار کہہ کر پاگل خانے میں علاج کے لیے بھجوا دیا جاتا ہے۔ اس طرح کی ہزاروں کہانیاں امریکا اور یورپ میں بکھری ہوئی ہیں لیکن کوئی نہ تو ان پر ڈاکومنٹری بنائے گا اور نہ آسکر اسے ایوارڈ دے گا۔ یہ ذلت و رسوائی اور عالمی بدنامی تو ہمارا مقدر بنائی جاتی ہے۔
اس ذلت کو ہم کئی سالوں سے سہتے چلے آ رہے تھے کہ یہ ان لوگوں کا ہمارے ساتھ سلوک ہے۔ لیکن اس دکھ پر کہاں جا کر ماتم کیا جائے جہاں رسوائی کا اہتمام وزیر اعظم ہاؤس میں کیا جائے۔ بھارت دنیا میں جنسی تشدد کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ ایک عورت دلی میں بس میں اس تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ بی بی سی اس واقعے کو بنیاد بنا کر پورے بھارت کے بارے ڈاکومنٹری بناتا ہے۔ نریندر مودی اس ڈاکو منٹری پر پابندی لگا دیتا ہے۔ یہ تو غیرت اور اپنی قوم سے محبت کے معاملے ہیں‘ شاید نواز شریف صاحب کو یہ سب بھول گئے ہیں۔ یہ تو قومی عزت و ناموس کے معاملے میں۔
اوریا مقبول جان

وطن کی فکر کر ناداں

ضرب عضب کامیابیوں کی نوید دے رہا ہے، نیشنل ایکشن پلان پر پوری سیاسی قیادت متفق ہے، سوا دو ہزار دہشت گرد مارے گئے ہیں، دو ہزار گرفتار کر لیے گئے، قبائلی علاقہ جات میں کامیاب آپریشن کے بعد دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی، بلوچستان میں اکثر علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا گیا، دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی، یہ ہے وہ تصویر جو گزشتہ ایک سال کے آپریشن اور ضرب عضب کے بعد پیش کی جاتی رہی ہے۔ لیکن گزشتہ تیس روز میں ایک سو چالیس افراد دہشت گردوں کے ہاتھوں لقمۂ اجل بن گئے۔ یعنی اوسطاً روزانہ پانچ افراد جان سے گئے۔

ایک سال بعد یہ سب اچانک کیسے شروع ہو گیا۔ یہ ایک بحث ہے جو گزشتہ ایک سال سے ہمارے میڈیا پر جاری ہے۔ ایک طبقہ جنھیں قلم کی طاقت اور میڈیا کا کیمرہ میسر ہے وہ آغاز ہی سے ایک بات کی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ پاکستان میں ریاست کا بیانیہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا بیانیہ دہشت گردی کو جنم دے رہا ہے۔ ان ہی میں سے ایک گروہ سیاست دانوں کو مورد الزام ٹھہراتا ہے کہ انھوں نے نیشنل ایکشن پلان کے اکثر نکات پر عملدرآمد ہی نہیں کیا۔
ان نکات میں سے سب سے محبوب نکتہ مدارس پر کنٹرول ہے۔ دوسرا گروہ جنھیں گزشتہ تیس برسوں سے پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی سے ایک خاص قسم کا بغض ہے وہ دبی دبی زبان میں بھی اور کھل کر بھی اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ فوج اور آئی ایس آئی طالبان کے مختلف گروہوں کے درمیان تفریق کرتے ہیں، کچھ کو درست سمجھتے ہیں اور کچھ کو دشمن، اس لیے دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہو رہی۔ ان تمام گروہوں کا نصب العین اور مقصد مشترک ہے۔
ان کے تبصروں اور تجزیوں میں پاکستان کی سلامتی پر اثر انداز کسی قسم کے بیرونی عوامل پڑوسی ممالک کی مالی امداد، اسلحہ کی ترسیل اور وقت ضرورت چھپنے کے لیے پناہ گاہیں مہیا کرنے کا ذکر شامل نہیں ہوتا۔ یہ گزشتہ پندرہ برسوں سے ہم پر مسلط کی گئی امریکی سلامتی کی جنگ کو بھی اس صورت حال کا ذمے دار نہیں ٹھہراتے۔ ان کے نزدیک امریکا سے نجات ممکن نہیں، اس لیے خواہ وہ ڈرون حملے کرے، افغانستان میں پاکستان سے بھاگے ہوئے دہشت گردوں کو پناہ دے، ممکن ہو تو ان کو حملہ کرنے کے لیے راستہ فراہم کرے، اپنی سرپرستی میں بھارت کے سفارت خانے اور قونصل خانوں کو پاکستان میں کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کی مکمل اجازت دے۔

ہمہ وقت پس پردہ رہ کر پاکستان پر جنگ مسلط رکھے، لیکن ہم صرف اور صرف یہی کہیں گے کہ یہ تو ہماری اپنی جنگ ہے۔ ایسا تو بدترین غلامی میں بھی نہیں ہوتا کہ پاکستان پر پہلا ڈرون حملہ ڈمہ ڈولہ میں ہوا جہاں 80 کے قریب معصوم طلبہ جاں بحق ہوئے اور ہماری حکومت نے کس ڈھٹائی کے ساتھ اعلان کیا کہ یہ ہم نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملہ کیا تھا۔

 کسی دوسرے کا قتل اپنے سر لینے کی روایت وڈیروں، سرداروں اور نوابوں میں صدیوں سے موجود ہے، جب وہ کسی قتل کے بدلے اپنے ملازم، نوکر یا غلام کو پیش کر دیا کرتے تھے اور آج بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے جب اسلام نے قصاص کی آیت نازل کی تو صاف کہا کہ آزاد کے بدلے میں آزاد سے ہی قصاص لیا جائے گا، یہ نہیں کہ غلام کی گردن پیش کر دی جائے۔ لیکن ہم وہ بدترین غلام تھے جنھوں نے امریکا کے کہنے کے بغیر ہی اپنی گردن پیش کر دی اور آج تک ہماری گردنیں کٹ رہی ہیں۔
لیکن کوئی تبصرہ نگار اس سارے معاملے کا ذمے دار براہ راست امریکا بھارت یا افغانستان کو نہیں ٹھہرائے گا۔ ہر کوئی اپنا گھر درست کرنے کو کہے گا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ آپ چاروں جانب سے گندے پانی کے جوہڑ میں گھر چکے ہوں اور وہاں مچھروں کی افزائش دن بدن ہو رہی ہو اور آپ گھر میں اسپرے کرتے پھریں، نہ کھڑکیاں بند کریں اور نہ دروازے بلکہ اس گندے پانی کے جوہڑ کو بھی اس ساری آفت کا ذمے دار نہ ٹھہرائیں۔ جنرل شاہد عزیز ان لوگوں میں سے ہیں جو اس سارے قضیے میں مرکزی کرداروں میں سے ایک رہے ہیں۔ آج سے دو سال قبل 15 دسمبر 2013ء کو انھوں نے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں دہشت گردی کے سدباب کے عنوان سے اپنا مضمون پڑھا۔ اس کی چند لائنیں اس پورے قضیے کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔
’’امریکا کی جنگ میں شامل ہو کر اور ان کے حکم پر ہم نے یہاں فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا، اس کے انجام میں جو معصوم جانوں کا قتل عام ہوا، اور حکومت کے خلاف جو نفرتیں ابھریں، انھیں ملک دشمن عناصر نے منظم کر کے ہمارے خلاف استعمال کیا۔ انھیں بھی طالبان کہا، تا کہ افغان مجاہدین ہماری نظروں سے گر جائیں اور ہمیں ان کے دشمن امریکا کا ساتھ دینے پر دل میں کسک نہ ہو‘‘ یہ حقیقت نہیں کہ جب قبائلی علاقہ جات میں افغانستان کے شمالی اتحاد کے مدرسوں کے ذریعے بھارت کچھ گروہوں کو منظم کر رہا تھا تو پہلے انھوں نے بہت سے نام رکھنے کی کوشش کی، لیکن ہر کوئی جانتا ہے جو ان کی قیادت کا حصہ تھا کہ کیسے امریکا اور شمالی اتحاد نے انھیں تحریک طالبان پاکستان کا نام رکھنے کو کہا۔ انھیں علم تھا کہ ہم نے ان سے پاکستان میں دہشت گردی کا کام لینا ہے۔
اس لیے جب لوگ ان سے نفرت کریں گے تو افغانستان کے مجاہدین جو آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور طالبان کہلاتے ہیں ان سے بھی نفرت خودبخود کرنے لگیں گے۔ جنرل شاہد عزیز نے پھر کہا ’’فاٹا کی مسلح تنظیموں کو کون مالی امداد دیتا ہے۔ سب جانتے ہیں، حکومت کئی بار اعلان کر چکی ہے لیکن کوئی نام نہیں لیتا۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہاں جتنے کھلاڑی ہیں سب کی پشت پناہی امریکا کرتا ہے۔ میرا مقصد بیرونی طاقتوں پر الزام نہیں۔ وہ یقینا اپنے مفاد میں ہی کام کریں گے۔ ہم امریکا کے نرغے میں ہیں اور یہ گھیرا آہستہ آہستہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ہم اندرونی طور پر بھی ان کی گرفت میں ہیں۔
ان کے خفیہ داروں نے ہر جگہ پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ آگے چل کر جنرل صاحب نے کہا ’’اس وقت امریکا پوری اسلامی دنیا میں اپنا کھیل کھیل رہا ہے، صرف پاکستان اور افغانستان میں نہیں، ایران اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں تبدیل آ رہی ہے۔ جب کھلاڑی شطرنج کے مہرے چلاتا ہے تو ایک چال سوچ کر نہیں چلاتا، منجھا ہوا کھلاڑی ہر چال سے پہلے اپنے ذہن میں ساری چالیں چل لیتا ہے، مات تک کا خاکہ اس کے ذہن میں ہوتا ہے، اگر ہمیں کچھ سجھائی نہیں دیتا تو دکھائی تو دیتا ہے کہ باقی مسلم ممالک میں کیا ہو رہا ہے۔ کچھ وہیں سے سیکھ لیں، امریکا سے اچھی توقع کیوں؟‘‘۔ ’’جب امریکا یہاں سے اپنے ٹھکانے نکالنے پر مجبور ہو گا، تو اس خطے میں آگ لگا دے گا، امریکا ہمارے ملک میں انتشار پھیلائے گا اور ہماری حکومت کی امداد میں بھی کر رہا ہو گا۔
انڈیا کی فوجیں بھی ہمارے بارڈر پر آ موجود ہوں گی تا کہ حکومت کے ہاتھ کمزور کیے جائیں اور آگ کو اور بھڑکایا جائے‘‘ کس قدر واضح اور حقیقت پسندانہ تجزیہ تھا جنرل شاہد عزیز کا جو مشرف دور میں اس ساری دہشت گردی کی جنگ میں کلیدی عہدے پر فائز رہے۔ میں جنرل صاحب کے ساتھ اس سیمینار میں موجود تھا اور مجھے ان کے ایک ایک لفظ کی گونج آج بھی سنائی دے رہی ہے۔
 موجودہ ایک ماہ میں ایک سو چالیس معصوم جانوں کے زیاں کے پس منظر میں کوئی صدر اوباما کا یہ دعویٰ نظر میں رکھے کہ پاکستان میں ابھی کئی دہائیاں بدامنی اور خلفشار رہے گا اور ساتھ ہی بھارتی وزیر دفاع کا یہ بیان کہ اگلے ایک سال میں پاکستان کو پتہ چل جائے گا کہ پٹھان کوٹ حملے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ لیکن ہماری قیادت نہ امریکا کے مقابلے میں زبان کھولے گی اور نہ ہی بھارت کے معاملے میں اپنی فدویانہ روش ترک کرے گی۔
ادھر وہ لوگ جو اس ملک کی اساس کی تباہی چاہتے ہیں، بیانیئے کی بحث چھیڑے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک تو دہشت گردی کا آغاز قرارداد مقاصد کے بیانیے سے ہی ہو گیا تھا۔ لیکن کیا کچھ ہونے والا ہے، ایک صاحب نظر گزشتہ دنوں سے بہت پریشان، انتہائی مضطرب، کہنے لگے یوں لگتا ہے بھارت جلد پاکستان پر حملہ کر دے گا اور یہ بہت شدید ہو گا کہ ہمیں سنبھلنے کا موقع ہی نہیں مل سکے، حکمرانوں کو خبردار کرو، بھارت ہیڈ مرالہ اور سیالکوٹ کے درمیان سے جنگ کا آغاز کرے گا۔
میں نے کہا کہ یہ بات تو ایک درویش نے نسیم انور بیگ مرحوم کے گھر میں آٹھ سال قبل بتائی تھی، لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔ کہنے لگے۔ اب بہت جلد معلوم ہوتا ہے، اس قوم کو ایک بیانیئے پر متحد کرنے کے لیے قضا و قدر کی قوتوں کے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا۔ اللہ سے رحم مانگو، اس سے پہلے یہ جنگ ہم پر مسلط ہو جائے، ہمیں علم تو ہو کہ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون۔
اوریا مقبول جان 

کیا ہمیں اختلاف امت کے جرم کی سزا ملنے والی ہے؟

کسی امت کی اس سے بڑھ کر بدقسمتی اور کیا ہو گی کہ آگ کا ایک طوفان اس کی جانب بڑھ رہا ہو اور وہ اس میں کودنے کے لیے اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہو۔ یوں تو آگ اور خون کے اس کھیل کو موجودہ دور میں تازہ دم ہوئے تیس سال ہو چکے ہیں۔ اس امت میں شیعہ سنی اختلاف گزشتہ تیرہ سو سال سے چلا آ رہا ہے لیکن اس کے فساد کی شکل ہمیشہ اس وقت اختیار کی جب اسے اقتدار کی سیڑھی یا غلبے کا ذریعہ بنا کر دوسرے مسلک کے افراد کو قتل کیا گیا۔ تاریخ میں ایسا اس وقت ہوا جب خلاف عثمانیہ کی اجتماعی حکومت کے مقابل میں ایران میں صفوی برسراقتدار آئے۔

صوفیاء کا دیس ایران جہاں سے مولانا روم، سعدی، حافظ اور کیسے نابغۂ روز افراد نے جنم لیا، وہاں مسلکی اختلاف سے دور اس روحانی احساس کو ختم کرنے کے لیے صوفیاء کا قتل عام کیا گیا۔ عراق سے ملاؤں کو بلا کر ایک خاص فقہہ ترتیب دی گئی اور اسے نافذ کیا گیا۔ صفوی حکمرانوں نے یہ صرف اس لیے کیا کہ وہ خلافت عثمانیہ جو کہ سنی مسلک کی اجتماعی خلافت تھی اس کے مقابلے میں اپنی علیحدہ شناخت اور خود مختاری قائم کرنا چاہتے تھے۔ 
قتل عام کی یہ داستان بہت طویل اور دلگداز ہے کہ کس طرح وہاں اپنے اقتدار کو مسلک کا تڑکا لگا کر قائم کیا گیا اور کیسے ایران کو ایک ایسے علاقے میں تبدیل کر کے رکھ دیا گیا جہاں تصوف اور صوفیاء کا نام بھی اجنبی ہو گیا۔ وجہ شاید یہ تھی کہ یہ لوگ مسلک کے بجائے اتحاد امت کی بات کرتے تھے۔ دوسری دفعہ یہ قتل عام اس وقت نظر آتا ہے جب 1888ء میں افغانستان پر امیر عبدالرحمن کی حکومت تھی تو اس کے چچازاد بھائی محمد اسحاق نے اس کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا۔

یہ ایک خالصتاً قبائلی جنگ تھی اور ہزارہ قبیلے کے افراد نے محمد اسحاق کا ساتھ دیا۔ ہزارہ قبیلہ چونکہ چنگیزی ہونے کی وجہ سے خاصا جنگجو تھا۔ اس لیے امیر عبدالرحمن کو شکست کا خوف دامن گیر ہوا۔ چالیس ہزار کے قریب ہزارہ قبائل اس جنگ میں شریک تھے۔ ایسے میں انھیں شکست دینے کا ایک ہی راستہ تھا کہ ان کے خلاف لوگوں کو مسلک کے نام پر متحد کیا جائے۔ پورے افغانستان میں جہاد کا اعلان کیا گیا کہ ہم نے ہزاروں کے خلاف لڑنا ہے کیونکہ وہ شیعہ ہیں۔ ان کا قتل عام کیا گیا۔ ان کی زمینیں ان سے چھین کر پشتونوں کو دے دی گئیں اور انھیں دیگر چھوٹے چھوٹے پیشوں سے رزق کمانے پر مجبور کر دیا گیا۔

جب بھی کبھی اقتدار کی ہوس اور بالادستی کی خواہش کو مسلک کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش کی گئی ہے یہ انتہائی خوفناک شکل اختیار کر جاتی ہے۔ امت مسلمہ کی تاریخ میں صرف چند ایک مثالوں کے علاوہ کوئی ایسا بڑا واقعہ نظر نہیں آتا جب دونوں مسالک کے افراد تلواریں سونت کر میدان میں نکل آئے ہوں۔ دونوں مسالک کے ماننے والے ساتھ ساتھ رہتے اور اپنے روزمرہ کاروبار زندگی میں اس کو داخل نہ ہونے دیتے۔ 
حکومتی کاروبار میں بھی دونوں مسالک کے لوگ سلطنت کے امور نبٹاتے۔ اورنگزیب عالمگیر جیسے شخص جسے سیکولر افراد بہت بدنام کرتے ہیں، اس کی حکومت میں دو شیعہ وزیر تھے۔ برصغیر پاک و ہند میں سب سے پہلے اس اختلاف کو ہوا لکھنو کے انگریز ڈپٹی کمشنر نے دی۔ لکھنو میں عزاء داری کے جلوس کا ایک راستہ متعین تھا۔ اسی دوران شہر کی دوسری سمت شان صحابہ کانفرنس ہوا کرتی تھی۔
   انگریز ڈپٹی کمشنر نے عزاء داری کے جلوس کا راستہ بدل کر اسے عین اس جگہ سے گزرنے کا حکم دیا جہاں شان صحابہ کانفرنس ہوا کرتی تھی۔ یہ شیعہ سنی فسادات کا برصغیر میں آغاز تھا۔ لیکن اس کے باوجود بھی پورے عالم اسلام میں اکا دکا فسادات کے علاوہ کوئی مثال نہیں ملتی کہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ محلوں میں رہنے والے یہ گروہ آپس میں ایسے لڑے ہوں کہ قتل و غارت رکنے کا نام نہ لے۔ 
موجودہ دور میں صدام حسین نے اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے شیعہ اکثریت پر مظالم کیے لیکن وہ ظلم میں شیعوں کے خاص نہ تھا۔ اس نے سب سے زیادہ ظلم سنی کردوں پر کیا جن کی اس نے بستیوں کی بستیاں اجاڑ دیں۔ اس کے ظلم کو مسلکی بالادستی کے زمرے میں نہیں گنا جا سکتا۔ لیکن انقلاب ایران ایک ایسا واقعہ ہے جس نے اس امت میں اس اختلاف کو اس قدر واضح کر دیا کہ یہ دو واضح گروہوں میں تقسیم ہوتی چلی گئی۔

یوں تو ایرانی اس بات کا اعلان کرتے تھے کہ ان کا انقلاب وسیع تر اسلامی انقلاب ہے جو تمام مسالک کی نمایندگی کرتا ہے لیکن حقیقتاً انھوں نے پوری ملت اسلامیہ میں ایسے گروہوں کو منظم کرنا شروع کیا جو ان کے مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ اقتدار پر بزور قوت قبضہ کر کے ایرانی اسلامی انقلاب کو سوویت یونین کے انقلاب کی طرز پر برآمد کرنے کی پالیسی کا آغاز ہوا۔ کوئٹہ میں جولائی 1985ء کا واقعہ اس کی ایسی مثال ہے جو بہت کچھ کہے دیتی ہے۔ 

جب ایک جلوس کی پولیس کے ساتھ مڈھ بھیڑ ہوئی اور اس واقعہ میں تیرہ پولیس والوں کے سر کاٹ کر کھمبوں پر لٹکا دیے گئے۔ انقلاب کا اس قدر جنوں تھا کہ ایک حاضر سروس کپتان لودھی چھٹی لے کر آیا اور اس جلوس کی قیادت کی۔ بالآخر فوج بلائی گئی، کرفیو لگا لیکن اس کے بعد سے کوئٹہ کا ہزارہ علاقہ امن کو ترس گیا۔ امن ہو جاتا لیکن بالادستی کی خواہش نے اختلاف کو ہوا دی۔ ہزارہ آبادی کوئٹہ کے مشرقی پہاڑ کے دامن میں آباد تھی۔
گورنر موسیٰ کے زمانے میں مغربی پہاڑ کا دامن بلوچوں سے خریدا گیا اور وہاں افغانستان سے ہزارہ قبائل کے افراد کو لا کر آباد کیا گیا۔ ذہنوں میں شاید یہ تصور تھا کہ دونوں جانب کے پہاڑ ہمارے قبضے میں ہوں گے تو پورا کوئٹہ شہر ہمارا۔ لیکن دوسری جانب مخالف مسلک کے افراد بھی منظم ہوتے چلے گئے۔ جھنگ شہر میں خالصتاً شیعہ زمینداروں سے الیکشن جیتنے کے لیے کاروباری طبقے کے افراد نے چند علماء کو ساتھ ملا کر سپاہ صحابہ بنائی اور پھر بالادستی اور غلبے کو مسلک کا ایسا تڑکا لگا کہ شیعوں کا قتل شروع ہو گیا۔ دوسری جانب سپاہ صحابہ کا بھی کوئی سربراہ ایسا نہیں ہے جسے قتل نہ کیا گیا ہو۔ اس کے باوجود بھی یہ جنگ شیعہ سنی جنگ کی شکل اختیار نہ کر سکتی۔
پورے پاکستان میں سنی آبادیوں میں چھت پر علم لگائے شیعہ افراد کے گھر کسی قدر امن سے رہ رہے ہیں۔ اس لیے یہاں ابھی اس اختلاف نے وہ شکل اختیار نہیں کی جیسی لبنان میں اختیار کی۔ ایران کے پاسداران کی سربراہی میں شام کی سرپرستی میں حزب اللہ کو منظم کیا گیا تا کہ پورے خطے میں مسلک کی بنیاد پر بالادستی حاصل کی جائے۔ مقصد بہت اعلیٰ و ارفع تھا کہ ہم نے اسرائیل سے لڑنا ہے۔ پورے لبنان نے ان کو خوش آمدید کہا۔ لیکن اس نے لبنان، شام، اردن اور فلسطین کے معاشرے کو اس طرح تقسیم کیا کہ آج وہاں قتل و غارت اور ظلم و دہشت کا بازار گرم ہو چکا ہے۔
گزشتہ کئی سالوں سے لبنان میں صدر منتخب نہیں ہو سکا کیونکہ حزب اللہ نہیں چاہتی۔ شام میں جس بالادستی کی جنگ کا آغاز ہوا بڑی خاموشی سے ہوا تھا۔ اب وہ اس قدر پھیل گئی ہے کہ اس نے پوری مسلم امت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ 34 ممالک کا اتحاد ایک طرف اور تین ملک دوسری جانب۔ اس خوفناک صورتحال کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سب ایک دم جاگ اٹھتے، ایک احساس پیدا ہوتا کہ ہم ایسی خوفناک جنگ میں داخل ہونے والے ہیں جو گلی گلی اور محلہ محلہ شروع ہو جائے گی۔
 وہ جنھوں نے منبر و محراب پر بیٹھ کر اس آگ کو ہوا دی انھیں بھی احساس نہیں۔ اب بھی اس بات کا درس دے رہے ہیں کہ اس معرکے میں کودو، آخری فتح تمہاری ہو گی۔ اب بھی اپنی مرضی اور اپنے تعصب پر مبنی تجزیے کیے جا رہے ہیں۔ مسلکی بنیاد پر جذبہ جہاد اور شوق شہادت کو ابھارا جا رہا ہے۔ کسی امت کی اس سے بڑھ کر اور کیا بدقسمتی ہو گی۔ لگتا ہے قضا و قدر نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہمیں اختلاف امت کے جرم کی سزا دے دی جائے۔
اوریا مقبول جان