امریکہ فوجی کارروائی کا نتیجہ مکمل جنگ ہو گا – شمالی کوریا

شمالی کوریا میں اعلیٰ حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی
کشیدگی اور بین الاقوامی مذمت کے باوجود شمالی کوریا اپنے میزائل تجربے جاری رکھے گا۔ شمالی کوریا کے نائب وزیرِ خارجہ ہان سونگ ریول کا کہنا تھا کہ ’ہم ہفتہ وار، ماہانہ، اور سالانہ بنیادوں پر اپنے تجربے جاری رکھیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اس قدر غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ فوجی کارروائی کرے تو اس کا نتیجہ مکمل جنگ ہو گا۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر مائیک پینس کا کہنا تھا کہ امریکہ کا شمالی کوریا کے حوالے سے سٹریٹیجک صبر کا دور ختم ہو گیا ہے۔

وہ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل کے تجربے کے چند ہی گھنٹوں بعد جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول پہنچے تھے۔ امریکہ اور شمالی کوریا کی جانب سے شعلہ بیان بازی کے بعد کوریائی جزیرہ نما پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کے اعلیٰ سکیورٹی مشیر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر بڑھتے تناؤ کے باعث امریکہ اور چین اس حوالے سے ‘کئی تجاویز’ پر غور کر رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر مک ماسٹر نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ چین کے ساتھ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ‘یہ وہ صورتحال ہے جسے مزید نہیں بڑھنا چاہیے۔’

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین اس مسلے پر ‘ہمارے ساتھ کام کر رہا ہے۔’ چین جو کہ شمالی کوریا کا سب سے بڑا اتحادی ہے اس وقت اپنے پڑوسی ملک پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی دباؤ میں آ گیا ہے۔

Advertisements

شمالی کوریا کی جنگی تیاریاں

خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس مختلف رینج کے 1000 میزائل ہیں جن
میں انتہائی طویل رینج کے ایسے میزائل بھی شامل ہیں جو مستقبل میں امریکہ کو نشانہ بنانے کے قابل ہو سکیں گے۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ٹیکٹیکل آرٹلری راکٹوں سے شروع ہونے والا شمالی کوریا کا میزائل پروگرام گذشتہ چند دہائیوں میں کافی پیشرفت کر چکا ہے اور اب پیانگ یانگ کے پاس شارٹ اور میڈیم رینج کے بلسٹک میزائل ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے اس سے بھی زیادہ رینج کے میزائلوں پر تحقیق اور تیاری کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں شمالی کوریا نے اعلان کیا تھا وہ بین البراعظمی رینج کے میزائل تیار کر رہا ہے جن میں مغربی ممالک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہو گی۔

میزائلوں کی رینج

شارٹ یا کم رینج میزائل: ایک ہزار کلومیٹر سے یا اس سے کم

میڈیم یا درمیانی رینج میزائل: ایک ہزار سے تین ہزار کلومیٹر

انٹرمیڈیٹ یا متوسط رینج: تین ہزار سے پانچ ہزار کلومیٹر

انٹر کانٹنینٹل یا بین البراعظمی رینج: ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر سے زیادہ

بذریعہ: فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹ

شارٹ یا کم رینج میزائل

شمالی کوریا کا جدید میزائل پروگرام سکڈ میزائلوں سے شروع ہوا تھا جن کی پہلی کھیپ مبینہ طور پر 1976 میں مصر سے منگائی گئی تھی۔ 1984 تک شمالی کوریا اسی طرز کے واسونگ نامی میزائل تیار کر رہا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کم رینج کے متعدد قسم کے میزائل ہیں جو کہ ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ دونوں کوریائی ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور قانونی طور پر دونوں ایک دوسرے کے خلاف حالتِ جنگ میں ہیں۔

امریکہ میں ’سنٹر فار نان پرولفریشن سٹڈیز‘ کے مطابق واسونگ ۔5 اور واسونگ 6 کی بالترتیب 300 اور 500 کلومیٹر کی رینج ہے۔ یہ میزائل روایتی وار ہیڈ استعمال کرتے ہیں مگر ان میں کیمیائی، بائیولوجیکل، اور جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ ان دونوں میزائلوں کو ٹیسٹ کیا جا چکا ہے اور واسونگ ۔6 ایران کو بھی بیچا جا چکا ہے۔

درمیانی رینج کے میزائل

1980 کی دہائی میں شمالی کوریا نے ایک نیا درمیانی رینج کا میزائل، نوڈانگ تیار کرنا شروع کیا جس کی رینج تقریباً 1000 کلومیٹر تھی۔ یہ میزائل بھی سکڈ میزائل کے ڈیزائن پر تیار کیا گیا مگر اس کا حجم 50 فیصد زیادہ تھا اور اس کا انجن زیادہ طاقتور تھا۔ انٹرنیشل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے اپریل 2016 کے جائزے میں کہا گیا کہ یہ میزائل ایک ٹیسٹ شدہ نظام کے تحت لائے گئے ہیں اور یہ جنوبی کوریا کے تمام اور جاپان کے بیشتر علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ شمالی کوریا نے اکتوبر 2010 میں انھیں میزائلوں میں جدت لا کر ان کی رینج 1600 کلومیٹر تک کر دی جس کے نتیجے میں یہ جاپانی جزیرے اوکیناوا میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نوڈنگ کو 2006، 2009، 2014، اور 2016 میں ٹیسٹ کیا گیا۔

متوسط رینج کے میزائل

شمالی کوریا کئی سالوں سے موسودان نامی میزائل کے تجربے کر رہا ہے اور آخری مرتبہ انھیں 2016 میں ٹیسٹ کیا گیا۔ ان میزائلوں کی رینج کے بارے میں اندازوں میں کافی تضاد ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ان کی رینج 2500 کلومیٹر ہے جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی رینج 3200 کلومیٹر ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق کے 4000 کلومیٹر تک نشانہ بنا سکتے ہیں۔

نوڈنگ۔ بی یا ٹیپوڈونگ۔ایکس نامی میزائل شمالی کوریا اور جاپان دونوں کے تمام علاقوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس کی رینج کی حد میں گوام میں امریکی فوجی اڈے بھی آتے ہیں۔ وار ہیڈ کے حوالے سے ان میزائلوں کی صلاحیتوں کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں مگر خیال کیا جاتا ہے کہ ایک سے سوا ایک ٹن کا وار ہیڈ لے جا سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’زمین سے زمین تک مار کرنے والا میڈیم ٹو لانج رینج کے بلسٹک‘ میزائل بھی تیار کیے ہیں۔ اس طرز کے پکگکسونگ کا اگشت 2016 میں تجربہ کیا گیا جسے ایک آبدوز سے لانچ کیا گیا۔

پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ انھوں اس کے لیے سالڈ ایندھن استعمال کیا جس کے ذریعے اسے لانچ کرنے کا عمل جلدی ہو سکے گا۔ تاہم اس کی رینج کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

بین البراعظمی بلسٹک میزائل

شمالی کوریا اپنا طویل ترین رینج کا میزائل تیار کر رہا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ موبائل لانچر سے داغا جا سکے گا اور اس کا نام کے این ۔ 08 ہو گا۔ اس پیشرفت کا ابتدائی اندازہ اس وقت لگایا گیا جب ستمبر 2016 میں شمالی کوریا نے ایک نیا راکٹ انجن ٹیسٹ کیا جو کہ ایک بین البراعظمی بلسٹک میزائل پر لگایا جا سکے گا۔ امریکی وزارتِ دفاع کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کم از کم چھ کے این_08 میزائل ہیں جو کہ امریکہ کے بیشتر علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا نے اس سے بھی زیادہ رینج والا کے این۔ 14 تیار کر لیا ہے مگر اسے کبھی عوامی سطح پر ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ جنوری 2017 میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک بین البراعظمی بلسٹک میزائل تیار کرنے کے آخری مراحل میں ہے۔

کیمیکل حملے کے صرف 15 منٹ بعد کم جونگ نام ہلاک ہو گئے تھے

ملائشیا کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کے سوتیلے بھائی کم جونگ نام کی ہلاکت اعصاب شکن زہریلے مادے سے کیے جانے والے حملے کے بعد 15 سے 20 منٹ کے اندر ہوئی۔ خیال رہے کہ وی ایکس ایک غیر معمولی تباہ کن کیمیائی ہتھیار ہے اور اس کا ایک قطرہ بھی انسانی جلد پر گرنے سے انسان مر سکتا ہے۔ یہ کیمیکل جلد کے راستے انسانی جسم میں داخل ہو کر نظامِ اعصاب کو تباہ کر دیتا ہے۔

ملائشیا کے وزیرِ صحت سبرامایم سانتھاسیوم کے مطابق اس مہلک حملے کے بعد کوئی دوائی کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔ شمالی کوریا کے سربراہ کے سوتیلے بھائی کے قتل کے سلسلے میں گرفتار انڈونیشیا کی سیتی ایسیاہ نامی ایک خاتون نے 25 فروری حکام کو دوران تفتیش بتایا کہ وہ سمجھی تھیں کہ انھیں یہ ‘شرارت’ کرنے کے لیے صرف 90 ڈالر کی رقم دی گئی۔ خاتون کا کہنا تھا کہ انھیں ایک مزاحیہ ریئلٹی شو میں حصہ لینے کے لیے 90 ڈالر کم جونگ نام کے چہرے پر ‘بے بی آئل’ ملنے کے لیے دیے گئے تھے۔

ملائیشیا کے تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ دو خواتین نے اپنے ہاتھوں پر زہریلا مادہ ملا اور پھر ان ہاتھوں سے کم کا چہرہ پونچھ دیا لیکن اگر ایسا ہوتا تو وہ دونوں بھی اسی وقت مر چکی ہوتیں۔ اس صورتحال میں بظاہر لگتا یہی ہے کہ جس کپڑے سے کم کا چہرہ صاف کیا گیا اس پر وی ایکس کی بہت کم مقدار جو ممکنہ طور پر صرف ایک قطرہ بھی ہو سکتی ہے، موجود تھی۔ لیکن یہ کام کسی بھی طرح آسان نہیں تھا۔ مجرموں نے اس کی مشق کی ہو گی کہ قطرہ کم کو چھوئے لیکن وہ خود اس سے محفوظ رہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ مجرموں نے 13 فروری سے پہلے شاپنگ مالز میں اس کام کی مشق کی ہو گی۔

A ballistic missile is launched and tested in Iran

A ballistic missile is launched and tested in an undisclosed location, Iran, in this handout photo released by Farsnews

بی ففٹی ٹو کوریا کے مسئلہ کا حل نہیں

شمالی کوریا کی طرف سے ہائیڈروجن بم بنانے کی اطلاع یا انکشاف کے بعد اس خطے میں نئی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اور امریکا کے خطرناک B-52 بمبار کوریا کی فضاؤں میں پرواز کر رہے ہیں۔

اس صورتحال کو مبصرین بہت تشویشناک اس لیے قرار دے رہے ہیں کہ B-52 بمبار ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور عموماً یہ بمبار ایٹمی ہتھیاروں سے لیس بھی ہوتے ہیں۔ شمالی کوریا کی طرف سے ایک عرصے سے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی خبریں میڈیا میں آتی رہی ہیں اور شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری روکنے کے لیے اعلیٰ سطح پر مذاکرات کا ایک طویل سلسلہ بھی چلتا رہا ہے، لیکن لگتا ہے کہ امریکا اور اس کے ہمنوا شمالی کوریا کو قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ بین الاقوامی ذمے دار طاقتیں ان تضادات کو حل کرنے سے قاصر رہی ہیں جو شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی طرف لے جاتی رہی ہیں۔
دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد بڑی طاقتوں نے جس بندربانٹ کا مظاہرہ کیا وہ اس قدر بے رحمانہ اور عالمی اخلاقیات سے عاری تھا کہ اس بندربانٹ کے نتیجے میں نہ صرف کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کرکے کوریا کے عوام کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کردیا گیا بلکہ جرمنی کے دو حصے کرکے اسے بھی ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کر دیا گیا، یہ بڑی طاقتوں کا ایسا جرم ہے جسے کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔
جرمنی کے عوام نے ایک طویل جدوجہد کے بعد دیوار برلن کو مسمار کرکے بڑی طاقتوں کو یہ بتادیا کہ جب عوام ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو انھیں مفاد پرست طاقتیں جدا نہیں کرسکتیں۔ اور عوام ہر دیوار برلن کو اپنی ٹھوکروں سے مسمار کردیتے ہیں۔ دوسری جنگ کے بعد جب کوریا تقسیم ہوا تو شمالی کوریا روس کے حصے میں آیا اور جنوبی کوریا امریکا کے حصے میں آیا۔ جنوبی کوریا کو امریکا نے اپنے فوجی اڈے میں بدل دیا۔ اس تقسیم کے علاوہ ایک تقسیم اور عمل میں آئی کہ شمالی کوریا سوشلسٹ بلاک کا ایک حصہ بن گیا اور جنوبی کوریا سرمایہ دارانہ نظام کا ایک حصہ بن گیا۔

یوں عملاً امریکا اور روس ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ روس کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد شمالی کوریا کا شمار ان ملکوں میں ہونے لگا جو سوشلزم سے وابستہ رہے جب کہ جنوبی کوریا مکمل طور پر نہ صرف سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ بن گیا بلکہ عملاً امریکا کا فوجی اڈہ بن گیا۔ شمالی کوریا کی قیادت جنوبی کوریا کی اس حیثیت کی سخت مخالف رہی اور یہ مخالفت دونوں کوریاؤں کے درمیان ایک بڑا تضاد بنی رہی۔

امریکا نے جنوبی کوریا کی بھرپور معاشی مدد کی جس کے نتیجے میں جنوبی کوریا نے نسبتاً زیادہ اقتصادی ترقی کی۔ شمالی کوریا کی قیادت کا خیال تھا کہ جنوبی کوریا کی پوزیشن کا مقابلہ کرنے اور جنوبی کوریا میں امریکا کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کا ایٹمی ملک بننا ضروری ہے۔
اس نفسیات نے شمالی کوریا کو ایٹمی طاقت بننے کی طرف مائل کردیا۔ بدقسمتی یہ رہی ہے کہ بڑی طاقتیں ہمیشہ اپنے مفادات کو اولیت دیتی رہیں اور عوامی مفادات کو ہمیشہ پس پشت ڈالنے کی کوشش کی۔ یہی نفسیات یہی روایت بین الاقوامی تنازعات میں بھی حاوی ری  اور بڑی طاقتیں متحارب ممالک کے درمیان موجود بنیادی تضادات کو حل کرنے کے بجائے عارضی اور غیر منطقی طریقوں سے ان تضادات کو حل کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔
برصغیر کے دو انتہائی پسماندہ ملک ہندوستان اور پاکستان غیر ایٹمی ملک تھے ان کے درمیان بنیادی تضاد مسئلہ کشمیر تھا۔ بڑی طاقتوں نے محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر اس تضاد کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے ہندوستان ایٹمی ملک بننے کی راہ پر چل پڑا اور جب وہ ایٹمی ملک بن گیا تو پاکستان کی قیادت کے سامنے یہی آپشن رہ گیا کہ وہ بھارت کی کسی ممکنہ جارحیت سے بچنے کے لیے ایٹمی ہتھیار تیار کرے۔
مرحوم بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی ملک بنانے کی سمت میں پیش رفت شروع کی تو امریکا نے پاکستان کو مثبت اور منطقی طریقوں سے ایٹمی ملک بننے سے روکنے کے بجائے منفی طریقوں روکنے کی کوشش کی اور اپنے وزیر خارجہ ہنری کسنجر کو پاکستان بھیجا اور کسنجر نے بھٹو کو دھمکی دی کہ اگر وہ ایٹمی ہتھیار تیار کرنے سے باز نہ آئے تو انھیں نشان عبرت بنادیا جائے گا اور واقعی بھٹو کو نشان عبرت بنادیا گیا لیکن پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا۔
اسی روایت کو امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایران میں دہرانے کی کوشش کی۔ ایران کے تضادات اگرچہ کہ عرب ملکوں خصوصاً سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں سے بھی ہیں لیکن اس کا بنیادی تضاد اسرائیل کے ساتھ ہے۔ اسرائیل ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایران کا اسرائیل سے خوفزدہ ہونا منطقی بھی ہے فطری بھی ہے۔
یہی خوف اسے ایٹمی ہتھیار بنانے پر مجبور کرتا رہا ہے لیکن ایران اور اسرائیل کے درمیان بنیادی تضاد کو حل کر کے ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے بجائے اس پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ بڑھا کر اس تضاد کو حل کرنے کی کوشش کی گئی اور وقتی طور پر امریکا اور اس کے اتحادی ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے میں کامیاب تو رہے ہیں لیکن جلد یا بدیر ایران بھی پاکستان کے راستے پر چل پڑے گا کیونکہ ایران کو اسرائیل کے خوف سے آزاد نہیں کیا گیا، اس کے برخلاف خلیجی ملکوں کو استعمال کرتے ہوئے ایران پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو منطقی طور پر ایک احمقانہ کوشش ہے، جو مشرق وسطیٰ میں امن کی فضا بحال کرنے کے بجائے کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
ان ہتھکنڈوں کا مقصد اسرائیل کو محفوظ بناکر ایران اور خلیجی ملکوں کو آپس میں لڑانا ہے، لیکن اس سازش سے مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہوسکتا بلکہ غیر یقینی صورتحال میں اور اضافہ ہی ہوگا۔بلاشبہ ایٹمی ہتھیار خواہ وہ کسی ملک کے پاس ہوں انسانیت کی بقا کے لیے ایک زبردست خطرہ ہیں لیکن محض پسماندہ ملکوں کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے سے دنیا کے سر پر لٹکنے والے ایٹمی خطرے سے بچایا نہیں جاسکتا۔
بڑی طاقتوں کے پاس ہزاروں کی تعداد میں ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اگر دنیا کو ایٹمی ہتھیار کے خطرے سے نجات دلانا ہے تو بلاامتیاز ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ کرنا ضروری ہے اگر شمالی کوریا اور ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کا حق نہیں ہے تو بڑی طاقتوں کو بھی ایٹمی ہتھیار رکھنے کا قطعی حق حاصل نہیں محض B-52 جنگی جہازوں کی اڑانوں سے شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیار کے استعمال سے روکا نہیں جاسکتا۔
ظہیر اختر بیدری

Rising Tensions on the Korean Peninsula

North Koreans who signed up to join the army train in the midst of political tension with South Korea, in this undated photo released by North Korea’s Korean Central News Agency (KCNA) in Pyongyang. Top aides to the leaders of North and South Korea resumed talks on Sunday after negotiating through the night in a bid to ease tensions involving an exchange of artillery fire that brought the peninsula to the brink of armed conflict. 
A journalist stands next to a South Korean soldier standing guard as he waits for vehicles transporting a South Korean delegation at a checkpoint on the Grand Unification Bridge, which leads to the truce village Panmunjom, just south of the demilitarized zone separating the two Koreas, in Paju, South Korea. 
South Korean soldiers sits on a military vehicle, just south of the demilitarized zone separating the two Koreas, in Yeoncheon, South Korea.
North Koreans sign up to join the army in the midst of political tension with South Korea, in this undated photo released by North Korea’s Korean Central News Agency (KCNA) in Pyongyang.
South Korean soldiers stand guard at a checkpoint on the Grand Unification Bridge which leads to the truce village Panmunjom, just south of the demilitarised zone separating the two Koreas, in Paju, South Korea. 
North Korean leader Kim Jong Un (3rd R) speaks at an emergency meeting of the Workers’ Party of Korea (WPK) Central Military Commission, in this undated photo released by North Korea’s Korean Central News Agency (KCNA) in Pyongyang.
A cutout of North Korean leader Kim Jong Un is set alight by a man from an anti-North Korea and conservative civic group during an anti-North Korean rally in central Seoul, South Korea.
A South Korean soldier checks a resident who wants to pass a checkpoint on the Grand Unification Bridge which leads to the truce village Panmunjom, just south of the demilitarized zone separating the two Koreas, in Paju, South Korea.

Flying North Korea

North Korean leader Kim Jong Un sits in an airplane as he guides a flight drill for the inspection of airmen of the Korean People’s Army (KPA) Air and Anti-Air Force in this undated photo released by North Korea’s Korean Central News Agency (KCNA) in Pyongyang October 30, 2014. His father was afraid to fly, but North Korean leader Kim Jong Un has taken to the skies, building a series of small runways long enough to land light, private aircraft next to some of his palaces, satellite imagery shows.
A ground staff of North Korean airliner Air Koryo thrusts a hand in front of her face at the airport in North Korean capital of Pyongyang.
North Korean leader Kim Jong Un gave field guidance to the machine plant managed by Jon Tong Ryol in this undated photo released by North Korea’s Korean Central News Agency (KCNA) in Pyongyang.
North Korean leader Kim Jong Un (C) talks with officials onboard his personal plane in this undated photo released by North Korea’s Korean Central News Agency (KCNA) in Pyongyang.
North Korean leader Kim Jong Un and his wife Ri Sol Ju arrive for the 2014 Combat Flight Contest among commanding officers of the Korean People’s Air Force in this undated photo released by North Korea’s Korean Central News Agency (KCNA) in Pyongyang.
North Koreans work at the Sunan airport in Pyongyang.
Airplanes are seen as North Korean leader Kim Jong Un guides a flight drill for the inspection of airmen of the Korean People’s Army (KPA) Air and Anti-Air Force in this undated photo released by North Korea’s Korean Central News Agency (KCNA) in Pyongyang.
A plane sits on the tarmac outside the newly built terminal at Pyongyang International Airport, in this undated picture released by North Korea’s Korean Central News Agency (KCNA).

World’s most dangerous airlines

Indonesian airline Lion Mentari Airlines is one of dozens of airlines blacklisted from operating within the airspace of the European Union, according to the EU’s transport ministry. Other notable air carriers currently banned.

 Nepalese airline Sita Air.

Afghan airline Ariana.
Nepalese airline Yeti Airlines.
Nepalese airline Buddha Air.
Surinamese airline Blue Wing Airlines. 
Afghan airline Pamir. 
North Korean airline Air Koryo is subject to operational restrictions.