یہاں استعفیٰ دیا نہیں لیا جاتا ہے

پاکستان میں جب کوئی جماعت حزبِ اختلاف ہوتی ہے تو اسے فوراً سیاسی اخلاقیات کا بھولا ہوا سبق یاد آنے لگتا ہے اور وہ کرپشن، نااہلی اور بد عنوانی کے خلاف سینہ سپر ہو جاتی ہے۔ حزبِ اختلاف بات بات پر صدر سے تھانے دار تک ہر ایک سے استعفی مانگتی پھرتی ہے اور جب خود اقتدار میں آتی ہے تو سیاسی اخلاقیات بھول بھال کر ہر بد انتظامی اور کرپشن کے بارے میں وہی تاویلات پیش کرنا شروع کر دیتی ہے جو اس کی پیشرو حکومت پیش کرتی تھی اور پیشرو حکومت حزبِ اختلاف میں آ کر اسی سیاسی اخلاقیات کے منبر پر بیٹھ جاتی ہے جو گذشتہ حزبِ اختلاف کے حزبِ اقتدار بننے سے خالی ہوا تھا۔

یہ اخلاقی و تاویلاتی میوزیکل چیئر پچھلے 70 برس سے جاری ہے۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی منتخب یا سرکاری عہدیدار نے الزامات ثابت ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز پر استعفی دیا ہوتا آنکہ پشت پر قانونی و سیاسی لات نہ پڑے۔ اگر بہت دور چلے گئے تو بات بھی بہت دور نکل جائے گی۔ فوری یادداشت کا سہارا لیا جائے تو سابق وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کا دور یاد آتا ہے جب وزیرِ مواصلات پرنس محی الدین، وزیرِ بلدیات انور عزیز چوہدری اور پیداوار کے وزیرِ مملکت اسلام الدین شیخ کو بدعنوانی، غفلت یا خورد برد کے الزامات لگتے ہی وزیرِ اعظم نے خود برطرف کیا۔ وہ الگ بات کہ چھان بین کے نتیجے میں بعد ازاں صرف اسلام الدین شیخ پر ہی باضابطہ فردِ جرم عائد اور ثابت ہوئی مگر جونیجو کی اصول پسندی خود ان کے کسی کام نہ آ سکی۔

سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں چلتا کیا۔ مگر سنہ 2010 میں خود یوسف رضا گیلانی کو اپنے تین وزرا بدعنوانی یا ڈسپلن کی خلاف ورزی پر برطرف کرنا پڑے۔ وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار عبدالقیوم جتوئی نے اپنی ہی حکومت پر کرپشن اور پھر اس کرپشن میں حصہ داری نہ ملنے کا شکوہ کیا لہذا انھیں جانا ہی تھا۔ وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے اپنے ہی ہم کابینہ وزیرِ مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر حاجیوں کو لوٹنے اور حج کوٹے کی فروخت کا الزام لگایا تو یوسف رضا گیلانی نے دونوں وزرا کو کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا۔

اعظم سواتی جمیعت علماِ اسلام کے کوٹے پر وزیر تھے لہذا ان کی برطرفی پر مولانا فضل الرحمان احتجاجاً حکومت سے الگ ہو گئے۔ حامد سعید کاظمی کو کرپشن ثابت ہونے پر جیل جانا پڑا جہاں سے وہ ابھی پچھلے ماہ ہی رہا ہوئے ہیں۔ جہاں تک شریف دور کا معاملہ ہے توسنہ 2014 میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ہاتھوں پاکستان عوامی تحریک کے دس حامیوں کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ روکنے کے لیے وزیرِ اعلی شہباز شریف نے کچھ عرصے کے لیے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ سے قلمدان واپس لے لیا اور پھر موقع محل دیکھ کر واپس بھی کر دیا۔

جب وزیرِ تعلیم و سیاحت و امورِ نوجوانان رانا مشہود احمد خان کی ایک وڈیو سامنے آئی جس میں وہ رشوت لے رہے ہیں اور اسی دوران 20 ارب روپے کے ایک سکینڈل میں ملوث ہونے کے شبہے میں نیب نے رانا صاحب کے خلاف چھان بین شروع کردی تو وزیرِ اعلی شہباز شریف اور پارٹی کے ‘اخلاقی دباؤ’ کا احترام کرتے ہوئے رانا مشہود نے امورِ نوجوانان اور سیاحت کا قلمدان تو چھوڑ دیا مگر تعلیم کی وزارت پھر بھی رکھی۔ کچھ عرصے بعد رانا صاحب کو چھان بین کے نتیجے میں کلین چٹ مل گئی اورایک بار پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔ سنہ 2015 میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کو جب تک الیکشن کمیشن نے انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات کے نتیجے میں نشست سے محروم نہیں کر دیا تب تک انھوں نے بھی اخلاقاً پہل نہیں کی۔ اس کے بعد بھاری اکثریت سے دوبارہ انتخاب جیت کر دوبارہ اسپیکر کی کرسی سنبھال لی اور دوبارہ عمران خان کو غصہ دلایا۔

جب بھی ملک میں دہشت گردی کی بڑی واردات کے بعد حزبِ اختلاف سدا بہار وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے تو چوہدری صاحب اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اتنے جوابی وار کرتے ہیں کہ حزبِ اختلاف اگلے ایک ہفتے تک اپنے زخم سہلاتی رہتی ہے۔ چوہدری صاحب نے تو امن و امان کی ابتری اور کوئٹہ سول سپتال میں 50 سے زائد وکلا کی ہلاکت کے اسباب کی چھان بین کے لیے قائم سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کمیشن کی سفارشات کو ‘لیرو لیر’ کر دیا تو حزبِ اختلاف کیا بیچتی ہے۔ سنا ہے ایک آدھ بار چوہدری صاحب نے وزیرِ اعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینے کی بھی پیش کش کی مگر میاں صاحب نے ان کی یہ درخواست سختی سے مسترد کر دی۔ میاں صاحب گرم و سرد چشیدہ ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ کابینہ میں اس طرح کی بدعت اگر شروع ہو گئی تو بات جانے کہاں تک پہنچے۔

خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت نے نومبر سنہ 2013 میں گڈ گورننس اور شفاف سیاست کی خاطر دو صوبائی وزرا کو بدعنوانی اور ہیرا پھیری کے الزام میں کابینہ سے چلتا کر دیا مگر دونوں کا تعلق اتفاق سے اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی سے تھا۔ خود پی ٹی آئی کے وزیرِ مواصلات یوسف ایوب تب تک برطرف نہیں ہوئے جب تک وہ جعلی ڈگری کیس میں سپریم کورٹ میں آخری اپیل نہیں ہار گئے۔ البتہ خود تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان انتخابی دھاندلی چھان بین کمیشن میں سنہ 2013 کے انتخابات میں 35 پنکچر کیس ہارنے کے باوجود قومی اسمبلی کی نشست پر نئے عزم اور دلائل کے ساتھ براجمان رہے اور تقریریاتی کنٹینر بھی ساتھ میں رکھا۔

جعلی ڈگری سے یاد آیا کہ جب سنہ 2008 میں مظفر گڑھ سے رکنِ قومی اسمبلی بننے والے جمشید دستی کو جعلی ڈگری رکھنے کی پاداش میں نا اہل قرار دے کر نشست سے محروم کر دیا گیا تو ضمنی انتخاب میں وہ پہلے سے بھی زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی موجودہ نو سالہ حکومت کے دوران جہاں بہت کچھ ہوا وہاں یہ بھی ہوا کہ ایک وزیرِ باتدبیر شرجیل انعام میمن جب اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات سے گھبرا کر دوبئی ہجرت کر گئے تو وزارتی قلمدان بھی ساتھ لے گئے اور کئی ہفتوں بعد واپس کرنے پر رضامند ہوئے۔ پچھلے ماہ جب وہ اپنے خلاف ‘جھوٹے مقدمات’ کا سامنا کرنے کے لیے ہائی کورٹ کی پیشگی ضمانت سے مسلح ہو کر اسلام آباد اترے اور پھر فاتحانہ حیدر آباد لوٹے تو جیالوں نے صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے شرجیل میمن کی بے لوث خدمات پر گولڈن تاجپوشی کی۔

مگر ایسا نہیں کہ کوئی ضمیر کی آواز ہی نہیں سنتا۔ سنہ 1983 میں جب ضیا حکومت کے وزیرِ بلدیات سید فخر امام ضیا حکومت کے ہی ایک حامی یوسف رضا گیلانی سے ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کی چیئر مین شپ کا انتخاب ہار گئے تو انھوں نے وفاقی وزارت سے استعفی دے دیا۔ فخر امام کے اس قدم کو سب ہی نے سراہا اور بعد ازاں غیر جماعتی قومی اسمبلی کے پہلے سپیکر منتخب ہوئے۔ اسی طرح اگست سنہ 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یہ عندیہ ملنے پر کہ وہ دوسرا صدارتی انتخاب بھی وردی میں لڑیں گے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت اسحاق خاکوانی نے اپنے ضمیر کی سنتے ہوئے وزارت سے استعفی دے دیا۔ عدلیہ میں ایسے کئی جج ہیں جنھوں نے ضیا الحق اور پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم ناموں کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور گھر بیٹھ گئے۔ مگر اب تک ایک ہی ایسی مثال سامنے آئی ہے کہ اعلیٰ عدالت کے کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن کا ریفرنس دائر ہو اور وہ سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی اپنا عہدہ چھوڑ دے۔

یہ واقعہ اس سال فروری میں پیش آیا جب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظہر اقبال سندھو نے سماعت کا سامنا کرنے سے پہلے ہی جج کی کرسی سے استعفی دے دیا۔ جہاں تک فوج کا معاملہ ہے تو میجر جنرل سکندر مرزا نے عہدہِ صدارت سے تب رضاکارانہ استعفی دیا جب جنرل ایوب خان کے ساتھی جنرلوں نے ان کے سامنے ایک ٹائپ شدہ کاغذ اور اس پر ایک پستول بھی بطور پیپر ویٹ رکھ دیا۔

ایوب خان نے بھی 25 مارچ 1969 کو عہدۂ صدارت رضاکارانہ طور پر چھوڑا جب ان کے سپہ سالار جنرل یحییٰ خان نے آہستگی سے کہا ‘سر ہم آپ کو بہت مس کریں گے۔’ انہی یحییٰ خان نے 20 دسمبر سنہ 1971 کو ملک ٹوٹنے کے چار دن بعد اپنی مرضی سے استعفی دیا کیونکہ انھیں بتا دیا گیا تھا کہ بطور صدر اپنی مرضی استعمال کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔

18 اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد مطمئن رخصت ہوئے حالانکہ انھوں نے اپنے پیشرو رفیق تارڑ کو یہ اعزاز نہیں بخشا تھا۔ فوج میں صرف ایک مثال ایسی ہے جب بری فوج کے ایک سربراہ نے دھڑن تختہ کیے بغیر اپنے عہدے سے قبل از اختتامِ مدت استعفی دیا ہو۔ وہ تھے جنرل جہانگیر کرامت ۔ جب ان کی نواز شریف کی دوسری حکومت سے نہیں بنی تو پنجہ آزمائی کے بجائے کنارہ کش ہو گئے۔ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید 12 اکتوبر سنہ 1999 بھی نہ ہوتا۔

اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا. جہاں تک کرپشن کا معاملہ ہے تو فوج میں کسی نے ازخود استعفی نہیں دیا جب تک برطرف نہیں کیا گیا یا آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلا۔ بھلے وہ این ایل سی سکینڈل میں ماخوز لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل مظفر اور میجر جنرل خالد طاہر اختر ہوں یا ایف سی بلوچستان کے سابق کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل عبید اللہ خٹک، میجر جنرل اعجاز شاہد بریگیڈئیر اسد شہزاد، سیف اللہ، عامر اور کرنل حیدر ہوں یا پھر بحریہ کے سابق سربراہ ایڈ مرل منصور الحق ہوں جو گرفتاری کے بعد پلی بارگین کے تحت 7.5 ملین ڈالر نیب میں جمع کرا کے بری ہوئے۔

واپڈا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر نے گذشتہ برس خود پاکستان آ کر پلی بارگین کے تحت کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے 200 ملین روپے واپس کر کے کلین چٹ حاصل کر لی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان جیسی ترقی پذیر جمہوریتوں میں گڈ گورننس ہر شخص اور ادارہ چاہتا ہے مگر ضمیر کی گورنننس کا عادی ہونے کی عادت پڑتے پڑتے ہی پڑے گی۔ تب تک اپنے علاوہ سب کا احتساب جاری رہے گا۔

وسعت اللہ خان

تجزیہ کار

پانامہ کیس : ’تحقیقاتی ٹیموں کا راستہ ایک بند گلی‘

’نواز شریف ایک جائز طور پر منتخب وزیر اعظم ہیں لیکن اب تک وہ قوم کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے ہیں کہ انھوں نے اور ان کے خاندان نے جو دولت جمع کی ہے وہ جائز طریقے سے کمائی ہوئی ہے۔‘ پاکستان کے سب سے مقتدر اخبار روزنامہ ڈان نے پاناما پیپرز پر سپریم کورٹ کے منقسم فیصلے پر اداریے کا اختتام مندرجہ بالا سطروں پر کیا ہے۔ پاناما پیپرز کے فیصلے پر جمعے کو پاکستان کے تمام اخبارات نے ادارتی صفحات پر عدالت عالیہ کے اس ‘تاریخی فیصلے’ پر اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے ایک اور اخبار ‘ڈیلی ایکسپریس’ نے اس موضوع پر اپنے اداریے کی ابتدائی سطروں میں کہا ہے کہ شریف فیملی کے علاوہ شاید چند ہی ایسے لوگ ہوں گے جو سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر شاد ہوں گے۔ انگریزی زبان کے ایک اور اخبار ’دی نیشن‘ نے اپنے اداریے کی ابتدا ہی میں یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک ایسا فیصلہ نہیں تھا جو 20 برس تک یاد رکھا جائے اور نہ ہی اس فیصلے نے وزیر اعظم کو الزامات سے بری کیا ہے۔ انگریزی زبان کے لاہور سے شائع ہونے والے اخبار ‘پاکستان ٹوڈے’ نے ‘منقسم فیصلے کے مضمرات’ کے عنوان سے اپنے ادارے کی پہلی سطر میں لکھا کہ جو فیصلہ تاریخی کہہ کر پیش کیا گیا اس نے بہت سے لوگوں کو حیران اور پریشان کر دیا ہے۔ تمام بڑے اخبارات اس بات پر متفق ہیں کہ یہ فیصلہ حکمران خاندان کے لیے خوشیاں منانے کا کوئی جواز فراہم نہیں کرتا اور ان پانچ ججوں نے وزیر اعظم کو کرپشن کے سنگین الزامات سے مکمل طور پر پاک نہیں کیا ہے۔

روزنامہ ڈان نے مشترکہ تحقیقاتی کمیشن میں فوج کے نمائندوں کو شامل کرنے کے اہم نکتے پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ روزنامہ ڈان کا کہنا ہے کہ ملٹری انٹیلیجنس اور پاکستان فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے نمائندوں کو اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا جانا ایک لحاظ سے سویلین اداروں پر عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے سویلین امور میں فوج کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے اور ہونا تو یہ چاہیے کہ سویلین امور سویلین ادارے ہی حل کریں۔

’مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل میں فوج کے نمائندوں کو شامل کیا جانا خاص طور پر ایک وزیر اعظم کے خلاف مالی اور قانونی امور کی تحقیقات کے لیے ایک غیر معمولی قدم ہے اور ایک ایسی مثال ہے جو کہ قائم نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘ اخبار کہتا ہے کہ ماضی میں سیاسی طور پر کشیدہ ماحول میں بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کا خاص طور پر ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے اور یہ راستہ ایک بند گلی میں ختم ہوتا ہے۔

اردو زبان کا روزنامہ جنگ اپنے اداریے کے آخر میں لکھتا ہے کہ یہ فیصلہ اس اعتبار سے یقیناً تاریخ ساز ہے کہ پاکستان میں بھی ملک کے سب سے بااختیار منصب پر فائز شخصیت کو ملک کے تحقیقاتی اداروں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا جس سے عدل و انصاف کی بالادستی کی نئی اور شاندار روایت قائم ہو گی۔ روزنامہ ڈیلی ایکسپریس نے اپنے اداریے کا اختتام بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس خزانے کے اصل ماخذ کا پتا چلنا ابھی باقی ہے لیکن اس ڈارمے کے ڈراپ سین کے لیے شاید فیوڈر ڈسٹووسکی کے مشہور ناول ’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘ سے کچھ نکالنا پڑے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

پانامہ لیکس کا ممکنہ فیصلہ اور اثرات

پانامہ لیکس کا مقدمہ کئی حوالوں سے تاریخی اور منفرد مقدمہ ہے جس کی مثال گزشتہ کئی صدیوں میں نہیں ملتی۔ صحافیوں کی عالمی تنظیم آئی سی آئی جے نے دنیا بھر کے لاکھوں امیر ترین خاندانوں اور افراد کے پوشیدہ اثاثوں کا انکشاف کیا۔ ان خاندانوں میں پاکستان کا حکمران شریف خاندان بھی شامل ہے جس نے تسلیم کیا کہ لندن کے فلیٹس انکی ملکیت ہیں۔ پانامہ لیکس کی روشنی میں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے پانچ محترم باوقار، نیک نام اور سینئر ترین جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے شریف خاندان کی تین نسلوں کے اثاثوں کا جائزہ لینے کیلئے طویل، صبر آزما اور شفاف سماعت کی جس کے دوران فریقین کو اپنا مؤقف ثابت کرنے کیلئے پورا موقع دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے بنچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جس کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ کالم لکھنے سے قبل ایک سابق چیف جسٹس پاکستان ، ایک سابق سپیکر قومی اسمبلی چند ریٹائرڈ ججوں اور پاکستان کے پانچ سینئر ماہرین قانون سے مشاورت کی گئی۔ اکثریت کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیگی جو سپریم کورٹ کے ایک یا دو ججوں پر مشتمل ہو گا اور سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی گئی دستاویزات کا ٹرائیل کورٹ کی طرح جائزہ لیکر اور شہادتیں طلب کر کے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کریگا جس کی روشنی میں حتمی فیصلہ سنایا جائیگا۔ اس کمیشن کا بڑا مقصد شریف خاندان کو ایک موقع فراہم کرنا ہے تا کہ وہ منی ٹریل پیش کر کے اپنی صفائی پیش کر سکیں اور ثابت کریں کہ لندن فلیٹس جائز اور قانونی ہیں اور ان کو خریدنے کیلئے منی لانڈرنگ نہیں کی گئی۔332929_45354325

پاکستان کا کوئی ماہر قانون اس امکان کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ پانامہ لیکس کے مقدمے میں وزیراعظم کو کلین چٹ مل جائیگی۔ ایک ماہر قانون کی رائے ہے کہ اگر کمیشن تشکیل دیا گیا تو کمیشن کی تحقیقات مکمل ہونے تک وزیراعظم کے اختیارات اس حد تک معطل کر دئیے جائینگے کہ وہ تحقیقاتی اداروں پر دبائو نہ ڈال سکیں۔ ایک سینئر بیرسٹر نے بڑے وثوق کے ساتھ کہا کہ سپریم کورٹ کے بنچ کا فیصلہ شریفانہ نہیں بلکہ جارحانہ ہو گا۔ ایک نامور ریٹائرڈ جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کو پانامہ کیس کی سماعت ہی نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ پانامہ لیکس کے بعد کسی تھانے میں قومی خزانے کے غبن کی ایف آئی آر درج کرا دی جاتی۔ ماہرین قانون ججوں کے ان ریمارکس کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں کہ فیصلہ تاریخ ساز ہو گا اور بیس سال گزرنے کے بعد بھی اس فیصلے کی اہمیت، انفرادیت، جامعیت، شفافیت اور آئینیت کو تسلیم کیا جائیگا۔

ایک دانا اور بینا ماہر قانون کے مطابق پانامہ لیکس کے فیصلے میں قرآنی آیات، احادیث، خلیل جبران اور عالمی شہرت یافتہ ججوں کے فیصلوں کے حوالے شامل ہوں گے۔ میڈیا کیلئے یہ فیصلہ دلچسپ ہو گا اور عوام اسے پڑھ کر لطف اندوز ہونگے۔ اس فیصلے میں ایسی آبزرویشن شامل ہوں گی جن سے پی پی پی اور تحریک انصاف سیاسی فائدہ اُٹھا سکیں گی۔ پانامہ لیکس کی سماعت کے دوران جو دلیرانہ ریمارکس منظر عام پر آئے انکی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ’’منیر کورٹ‘‘، ’’ڈوگر کورٹ‘‘، ’’شریف کورٹ‘‘ کا دور ختم ہوا اور عدلیہ اب ’’پاکستان کورٹ‘‘ کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اقلیت کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کے جج طویل سماعت کے بعد فیصلے کے بارے میں ذہن بنا چکے ہیں اور سچ تک پہنچ چکے ہیں۔ شریف خاندان کے متضاد بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں اس لیے فیصلے میں ڈیکلریشن شامل ہو گا۔ الیکشن کمیشن پاکستان کو عدلیہ کے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم پاکستان کیخلاف آئین کے آرٹیکل نمبر 62 کے تحت کاروائی کر کے نااہلی کا فیصلہ کریگا۔

ایک جج نے سماعت کے دوران آبزرویشن دی تھی کہ ’’نیب کی وفات ہو گئی‘‘۔ اس آبزرویشن کی روشنی میں توقع کی جاتی ہے کہ تفصیلی فیصلے میں نیب کی فاتحہ پڑھی جائیگی۔ ایک محترم جج نے بے ساختہ کہا تھا ’’وہ بھی کم بخت تیرا چاہنے والا نکلا‘‘ اُمید کی جا سکتی ہے کہ فیصلہ متفقہ ہو گا اور سب محترم جج پاکستان، آئین اور ریاست کے چاہنے والے خوش بخت ثابت ہوں گے۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ امیر ترین جنگجو سیاستدان ہیں مگر ریاست کے ادارے بشمول عدلیہ چوں کہ مضبوط ہیں اس لیے وہ صدر کے بجائے ثابت قدمی کے ساتھ امریکی ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔ افسوس پاکستان کے ریاستی اداروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے ’’یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا‘‘۔ پی پی پی کے حامی بے چینی کے ساتھ پانامہ لیکس کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

عدلیہ کی افسوسناک تاریخ کی روشنی میں انکے تحفظات بے جا نہیں ہیں۔ پی پی پی کے بانی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے شکستہ پاکستان کا وقار اور شکست خوردہ فوج کا اعتماد بحال کیا۔ قوم کو مایوسی سے باہر نکالا، اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کر کے عالم اسلام کو متحد کیا۔ قوم کو پہلا متفقہ آئین دیا۔ عوام کی آزادی اور ملکی سلامتی کیلئے ایٹمی صلاحیت حاصل کی مگر سپریم کورٹ کے ججوں نے ان کا ’’عدالتی قتل‘‘ کر دیا۔ جب میاں نواز شریف پر طیارہ ہائی جیکنگ اور دو سو سے زیادہ مسافروں کو موت سے ہمکنار کرنے کا سنگین الزام تھا انہوں نے شاہراہیں اور موٹرویز کی تعمیر کے علاوہ ملک کی کوئی قابل ذکر خدمت نہ کی تھی مگر امریکہ اور سعودی عرب ان کو وی آئی پی طیارے پر پاکستان سے جدہ پیلس لے گئے اور سپریم کورٹ نے آنکھیں بند رکھیں۔ پانامہ لیکس میں وزیراعظم کی جان کو کوئی خطرہ نہیں وہ صرف نا اہل ہو سکتے ہیں۔ وہ اپنا جانشین کو خود نامزد کرینگے اور آصف زرداری کی طرح سیاسی اور حکومتی طاقت انکے ہاتھ میں رہے گی۔ البتہ اگلے انتخابات میں ان کو سیاسی نقصان اُٹھانا پڑیگا۔ وزیراعظم کے زیر احتساب آنے کے بعد احتساب کا بند دروازہ کھل جائیگا اور پاکستان کے بڑے لٹیرے احتساب کے شکنجے میں آ جائینگے جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے آب حیات ثابت ہو گا۔ مایوس اور بے حس عوام میں حوصلے اور اُمید کی نئی کرن پیدا ہوگی۔

سماعت کے دوران سامنے آنیوالے دلائل اور فاضل جج حضرات کے ریمارکس کے بعد بھی فیصلہ وزیراعظم کے حق میں آنے سے پورے ملک میں مایوسی، نااُمیدی اور بداعتمادی کی لہر پھیل جائے گی جو ریاست کیلئے زہر قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔ علیحدگی پسند، پاکستان دشمن خفیہ ایجنسیاں اور دہشت گرد اس نوعیت کے فیصلے کو اپنے مذموم مقاصد کی خاطر ہتھیار کے طور پر استعمال کرینگے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد خان نے کرپشن کے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کرپشن کی وجہ سے ملکی حالت مویشیوں کے باڑے جیسی ہو چکی ہے۔ ماضی میں جس فرد پر بدعنوانی کا الزام ہوتا اسکے بیٹے اور بیٹی کو کوئی رشتہ نہیں دیتا تھا۔

محترم جسٹس دوست محمد خان ایک کلرک احتشام الحق کی اپیل کی سماعت کر رہے تھے جسے ایک لاکھ 94 ہزار کی کرپشن کرنے کے الزام میں چار سال قید کی سزا ہو چکی تھی جس میں سے وہ دو سال قید کاٹ چکا تھا اور باقی سزا کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ سے التجا کر رہا تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ چھوٹے کرپٹ جیلوں میں بند ہیں جبکہ مہا کرپٹ بڑے منصبوں پر فائز ہیں۔ اب شاید عدل و انصاف کا نیا دور شروع ہونیوالا ہے۔ آئین اور قانون سب پر مساوی طور پر نافذ ہو گا اور کرپشن کرنیوالے بڑے لوگ بھی جیلوں میں بند نظر آئینگے۔ کرپشن کا زہر جسد ریاست میں پھیل چکا ہے جسے بچانے کیلئے آئینی اور قانونی آپریشن لازم ہے۔ رد کرپشن آپریشن کے بغیر ردالفساد آپریشن کی کامیابی ممکن نہیں ہو گی۔

پانامہ لیکس کی سماعت کے دوران وزیراعظم پاکستان کی اخلاقی ساکھ مجروح ہو چکی۔ فیصلہ آنے کے بعد اس پر شدید ضرب لگے گی اور حکومت مخالف جماعتیں وزیراعظم کے استعفے کیلئے تحریک چلائیں گی جو دراصل انتخابی مہم کا آغاز ہو گی۔ قومی اتحاد کی پرجوش تحریک کے دوران بھٹو نے ایک اعلیٰ سطحی حکومتی اجلاس میں اپنی عینک غصے کے ساتھ میز پر پھینکتے ہوئے کہا تم لوگوں نے میری اخلاقی ساکھ مجروح کر دی اگر وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کو بلا مقابلہ منتخب نہ کرایا جاتا تو قومی اتحاد کی تحریک کبھی کامیاب نہ ہوتی۔ افسوس موجودہ وزیراعظم اخلاقی ساکھ کو اہمیت دینے کیلئے ہی تیار نہیں ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کے ہاتھ میں نئے انتخابات کرانے کا ایک آئینی پتا باقی ہے کیا وہ یہ پتا مناسب وقت پر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاک فوج اور عدلیہ بہتر کارکردگی کی بناء پر ریاست پر کنٹرول بڑھا چکے ہیں جبکہ پارلیمنٹ اور حکومت بیڈ گورنینس کی وجہ سے اپنی رٹ محدود کربیٹھے ہیں۔

قیوم نظامی

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کی سماعت

پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پاناما لیکس پر میڈیا ذمے داری کا مظاہرہ کرے۔ وزیراعظم نوازشریف ، ان کے بچوں کے خلاف منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری کے الزامات اور پاناما لیکس میں سامنے آنے والی معلومات کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ کررہا ہے۔ حامد خان کے کیس لڑنے سے انکار کے بعد تحریک انصاف کی نئی لیگل ٹیم عدالت میں پیش ہوئی۔

دوران سماعت عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کےصاحبزادے کا این ٹی این ہی نہیں ہے،مریم نواز وزیر اعظم کی زیر کفالت ہیں اور وہ لندن فلیٹس کی بینی فشل اونر ہیں، وزیر اعظم کو یہ بات گوشواروں میں پیش کرنی چاہئے تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ قطری شہزادے کا خط وزیر اعظم کے موقف سے مختلف ہے، نیب اور دیگر ادارے اپنا کام کرنے میں ناکام رہے، نیب وزیر اعظم کو بچانے میں لگا رہا، نیب چیئرمین کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے،اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کیس میں اعترافی بیان دیا۔

نعیم بخاری نے گزشتہ سماعت پر ہونے والی تلخ کلامی پر معافی طلب کی اور کہا کہ انہیں اس عدالت پر مکمل یقین ہے۔ طارق اسد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ میڈیا میں حامد خان سے متعلق بہت باتیں آئی ہیں،تبصروں سے کیس پر اثر پڑے گا، میڈیا کو کیس پر تبصروں سے روکا جائے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان بہت سینئر اور اہل قانون دان ہیں، قانون پرکتب لکھ چکے ہیں، حامد خان سے متعلق میڈیا میں باتوں سے ان کے قد کاٹھ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ پاناما لیکس پر میڈیا ذمے داری کا مظاہرہ کرے۔ دوران سماعت جماعت اسلامی کے وکیل اسد منظور بٹ نےدرخواست کی کہ عدالت فریقین کو حکم دے، وہ کیس کو مختصر کریں ۔

 

 

 

جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج کے نئے سربراہ مقرر

 

General Qamar Javed Bajwa

General Qamar Javed Bajwa is a four-star rank army general, currently serving as the 16th Chief of Army Staff of the Pakistan Army, appointed by Prime Minister Nawaz Sharif on 26 November 2016.
Previously he worked as a Principal Staff Officer to Chief of Army Staff Raheel Sharif as the Inspector General of the Training and Evaluation at the GHQ from 2015 to 2016 and served as Corps Commander X Corps which is stationed in Rawalpindi from 2013 to 2015.
Military career
As lieutenant colonel, he served in the X Corps , where he was general staff officer. As a brigadier, Bajwa served as Chief of Staff at X Corps and has also commanded formation division in Northern Areas as formation commander. As a brigade commander, Bajwa has also commanded a United Nations peacekeeping mission in Congo. In May 2009, he was promoted to the rank of major general. As a major general, Bajwa served as the Force Commander of Gilgit-Baltistan and held the title of the General Officer Commanding. In August 2011, he was awarded Hilal-i-Imtiaz (Military). He was Commandant of an Infantry School in Quetta before he was promoted to the rank of lieutenant general in August 2013 and was installed as Corps Commander X Corps shortly after which is stationed in Rawalpindi. He was Grade-I officer during his tenure as Corps Commander X Corps.
In September 2015, he was appointed as the Inspector General of the Training and Evaluation at the GHQ where he is a Principal Staff Officer to Chief of Army Staff Raheel Sharif. Since Bajwa has been posted in X Corps thrice, he have good experience of handling affairs in Kashmir. But reportedly, he consider religious extremism in Pakistan a bigger threat for Pakistan rather than India. He belongs to the infantry’s Baloch Regiment is from the 62nd Pakistan Military Academy Long Course. He was appointed as the 16th Chief of Army Staff of the Pakistan Army by Prime Minister Nawaz Sharif on 26 November 2016.

‘ایک اور نیازی نے ہتھیار ڈال دیے’

Imran-Khan2پاناما لیکس کے معاملے پر عمران خان کی جانب سے دھرنے کے مؤخر کرنے کے فیصلے پر عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے تحریک انصاف کا اپنا فیصلہ قرار دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کے معاملے پر ہونے والی سماعت کو اخلاقی فتح قرار دیتے ہوئے 2 نومبر کے دھرنے کو یوم تشکر میں تبدیل کردیا۔ پاناما لیکس کے معاملے پر عمران خان کے مؤقف کے حامی ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنے کو مؤخر کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ‘انا للہ و انا الیہ راجعون’ پڑھ لیا۔ عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ یہ تحریک انصاف کا اپنا فیصلہ ہے، میرے پاس موجودہ صورتحال میں الفاظ نہیں ہیں اور مجھے تاحال کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک اور نیازی نے ہتھیار ڈال دیے۔ انہوں نے کہا کہ کارکن مار کھاتے رہے لیکن عمران خان پہاڑی سے نیچے نہیں اترے لیکن دھرنا ختم کرنے کے بعد پی ٹی آئی والے عمران خان کی تلاشی لیں۔ اس موقع پر انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ بلاول بھٹو کے مطالبات نہ مانے گئے تو پیپلز پارٹی تحریک چلائے گی۔ ادھر پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بہن آصفہ بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کے فیصلے پر ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں عمران خان کو ‘یوٹرن خان’ قرار دیا۔

دوسری جانب وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ یہ حکومت کے اصولی مؤقف کی جیت ہے کیونکہ آج ہنگامہ کرنے والوں نے ناکامی پر مان لیا کہ فیصلہ دھرنوں اور ڈی چوک پر نہیں بلکہ عدالتوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کھلنڈرا پن ختم کریں، سپریم کورٹ نے وہی فیصلہ کیا جو مؤقف وزیراعظم نے اپنایا تو پھر عمران خان کو یہ ہنگامہ کرنے کی ضرورت کیا تھی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں عوام کا نقصان ہوا جس کے ذمے دار دونوں فریقین ہیں، مریضوں کو ہسپتال، بچوں کو اسکول اور لوگوں کو دفاتر جانے کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا الگ بات ہے لیکن کسی شہر کو بند کرنا الگ بات ہے۔ تحریک انصاف کے اعلان پر زاہد خان نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یوم تشکر کس بات پر منائیں گے یہ تو وہ جانتے ہیں کہ کس بات پر شکر ادا کریں گے لیکن انہیں کل کے جلسے میں حکومت کی مذمت ضرور کرنی چاہیے تھی۔ اے این پی کے رہنما نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں حکومت کو فائدہ ہو گا کیونکہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ موجودہ قوانین کی روشنی میں ہو گا، سپریم کورٹ ازخود تو آئین میں کوئی ترمیم نہیں کر سکتی اور اسے موجودہ آئین کے مطابق ہی فیصلے کرنے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ حکومت کی فتح ہے یا اپوزیشن کی کیونکہ اس کا دارومدار سپریم کورٹ کی اگلی کارروائی پر ہو گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو کڑا پیمانہ یوسف رضا گیلانی کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے تو کیا وہی پیمانہ نواز شریف کے خلاف استعمال ہو گا یا نہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا کہ ملک پر ایک اور حملہ ناکام ہو گیا، مجھے اُمید تو کم ہے لیکن پھر بھی اُمید کرتی ہوں کہ وہ اس شرمندگی سے سبق سیکھیں گے۔