کھوپڑیاں اور چوہے : بھارتی کسان سراپا احتجاج

گذشتہ ہفتے انڈیا میں ایک کسان نے زندہ چوہا دانتوں میں پکڑ کر انوکھا احتجاج
ریکارڈ کروایا۔ 65 سالہ چناگو ڈانگی پالانیسامی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے کسانوں کی حالتِ زار کی طرف حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے قریب جنتر منتر کے علاقے میں ایک خیمے میں مجھے بتایا : ‘میں اور میرے کسان ساتھی یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر حالات میں تبدیلی نہ ہوئی تو ہم چوہے کھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔’ پالانیسامی اور ان کے سو کے قریب ساتھی اس عارضی پناہ گاہ میں گذشتہ 40 روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق تمل ناڈو کے ان علاقوں سے ہے جو حالیہ برسوں میں شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے انڈیا نے اس خشک سالی کو بھلا دیا ہے۔ اس لیے پالانیسامی اور ان کے ساتھی نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا یہ انوکھا طریقہ سوچا ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں حکومت کی جانب سے قحط زدہ علاقوں کے لیے مختص رقوم دی جائیں جب کہ معمر کسانوں کو پنشنیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ وہ قرضوں کی معافی، فصلوں کی بہتر قیمت اور اپنی زمینوں کی آبپاشی کے لیے مزید نہروں کی مانگ بھی کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے روایتی لباس پہن رکھے ہیں اور وہ انسانی کھوپڑیاں لہرا رہے ہیں جو ان کے بقول مردہ کسانوں کی ہیں۔ انھوں نے آدھے سر منڈوا رکھے ہیں اور منھ میں زندہ چوہے پکڑ رکھے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ہاتھ کاٹ کر ‘احتجاجی خون’ بہا رہے ہیں، جب کہ کچھ گرم بجری پر لوٹ رہے ہیں۔ کچھ لوگ فرضی جنازوں کی رسمیں بھی ادا کر رہے ہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ مطالبے تسلیم نہ ہونے تک دہلی میں ڈٹے رہیں گے. جب ان لوگوں کو وزیرِ اعظم سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تو انھوں نے ایوانِ وزیرِ اعظم کے قریب اپنے کپڑے اتار لیے۔ جب ان میں سے ایک احتجاجی نے چوہا منھ میں پکڑ کر خود کو ایک درخت سے لٹک کر پھانسی دینے کی کوشش کی تو آگ بجھانے والے عملے کو بلانا پڑا۔ ان میں سے کئی افراد کو علاج کے لیے ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔ انھیں میڈیا کی جانب سے توجہ تو ملی ہے لیکن بعض مظاہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کا میڈیا انھیں کرتب باز سمجھتا ہے اور ان کے احتجاج کے پیچھے درد و کرب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔

ایک مبصر نے لکھا کہ یہ احتجاج ‘مضحکہ خیز حد تک بڑھ گیا ہے جہاں اس کا مقصد احتجاج سے زیادہ پرفارمنس بن کر رہ گیا ہے۔’ تمل ناڈو کے 40 فیصد سے زیادہ لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ وہاں خشک سالی، فصلوں کی کم قیمتوں اور زرعی قرضے حاصل کرنے میں مشکلات نے اس ریاست میں کئی عشروں کا بدترین بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس بات کا تعین ہونا ابھی باقی ہے کہ آیا اس احتجاج کا کوئی فائدہ ہو گا یا نہیں۔ انڈیا میں ناکام احتجاجی مظاہرے کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم ان مظاہروں میں حصہ لینے والے منفرد طریقے سے اپنے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انڈیا میں زراعت کی شرحِ نمو سکڑ کر 1.2 فیصد رہ گئی ہے، جہاں لاکھوں کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

پالانیسامی کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل تک ان کے پاس ساڑھے چار ایکڑ زمین تھی جہاں چاول، گنا، دالیں اور کپاس بکثرت اگتی تھیں۔ لیکن برسوں کی خشک سالی نے ان کی زمین کو بنجر بنا دیا ہے۔ ان کے دو بیٹے چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، ان پر چھ لاکھ روپے قرض چڑھ گیا اور ان کے گھر پر موجود سونا گروی پڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ‘یہ میری زندگی کا بدترین زرعی بحران ہے۔ میں نے ایسا بحران پہلے کبھی نہیں دیکھا۔’ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تمل ناڈو کے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک 58 کسان خودکشیاں کر چکے ہیں۔ تاہم ایک مقامی تنظیم کے مطابق اصل تعداد ڈھائی سو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ جنتر منتر میں موجود یہ کسان اپنی بنجر زمینوں اور مردہ درختوں کی کہانیاں سناتے ہیں، جب کہ درجۂ حرارت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پالانیسامی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر اپنی ڈائری میں کچھ تحریر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حال میں کچھ شاعری بھی کی ہے جس میں وہ اپنے گھر کو یاد کرتے ہیں۔

مر چکی ہے، مر چکی ہے، زراعت مر چکی ہے

اذیت ہے، اذیت ہے، زراعت کی موت

جل رہے ہیں، جل رہے ہیں

کسانوں کے دل اور پیٹ

روکو، اسے روکو

کسانوں کی موت کو

سوتک بسواس

بی بی سی نیوز، انڈیا

انڈیا : مسلمانوں کی کوئی عزت ہی نہیں؟

India Eid al Fitrانڈیا میں مسلمانوں کی پرانی شکایت ہے کہ حکومت ان پر اعتبار نہیں کرتی، انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور پاکستان کے خلاف کرکٹ کا میچ ہو یا پھر کالا دھن ڈکلیئر کرنے کی سکیم، زندگی کے ہر موڑ پر انھیں اپنی حب الوطنی اور وفاداری کا سرٹفیکیٹ دکھانا پڑتا ہے۔ لیکن حکومتوں کو تو آپ جانتے ہی ہیں، ایک ہی جھٹکے میں سب کو خاموش کرنے کا ہنر انھیں خوب آتا ہے۔ حکومتیں نہ ہندو مسلمان میں فرق کرتی ہیں اور نہ غریب کی پریشانی دیکھ سکتی ہیں۔ چند ماہ قبل حکومت نے کالے دھن کو بینکنگ کے نظام میں لانے کے لیے ایک عام معافی کا اعلان کیا تھا، اپنا کالا دھن ڈکلئر کیجیے، 45 فیصد ٹیکس ادا کیجیے، اور چین کی بانسری بجائیے۔

 یہ سکیم 30 ستمبر کو ختم ہوئی اور تقریباً 71 ہزار لوگوں نے اس سے استفادہ کیا۔ 67 ہزار کروڑ روپے کے ناجائز اثاثے ڈکلیئر کیے گئے لیکن دو بے چارے غریبوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا گیا۔ ایک سعید خاندان ہے جس کا بنیادی طور پر تعلق اجمیر سے بتایا جا رہا ہے،۔ اور دوسرے صاحب ہیں گجرات کے مہیش شاہ جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ پراپرٹی کا کاروبار کرتے ہیں۔ مہیش شاہ نے ہوش ربا 13800 کروڑ روپے کی ناجائز آمدنی ڈکلیئر کی تھی لیکن سعید صاحب کی فیملی تو زیادہ ہی جذباتی ہو گئی۔ انھوں نے دو لاکھ کروڑ روپے کی ناجائز آمدنی کا انکشاف کیا ہے۔indian-muslim-ap-ab_060215044730

مہیش شرما کے علاوہ سعید خاندان کے ڈکلیئریشن کو مسترد کر دیا گيا ہے یہ رقم کتنی ہوتی ہے آپ کو شاید اندازہ ہوگا۔ اگر نہ ہوتو یوں سمجھ لیجیے کہ انڈیا کا سالانہ دفاعی بجٹ بس تقریباً اسی رینج میں ہوتا ہے! لیکن حکومت نے دونوں کے انکشافات کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ وہ معمولی حیثیت کے لوگ ہیں! اب آپ چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان اگر اپنی چوری کا بھی اعتراف کرے تو حکومت اس پر اعتبار نہیں کرتی، اور حکومت یہ کہہ سکتی ہے کہ وہ ہندو اور مسلمان میں فرق نہیں کرتی۔ اس نے مہیش شاہ اور عبدالرزاق محمد سعید دونوں میں کوئی تفریق نہیں کی۔ لیکن آپ شاید کہیں گے کہ اس سے بھی گہرا سوال یہ ہے کہ کیا وہ امیر اور غریب میں فرق کرتی ہے؟ اگر کسی ٹاٹا، برلا یا امبانی نے یہ اعلان کیا ہوتا تو کیا کوئی کہتا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں؟ فوراً ان کی بات پر یقین کر لیا جاتا۔ حکومت اپنی پیٹھ تھپتھپاتی اور ڈکلیئر کرنے والا سینا ٹھوک کر کہتا کہ وہ قوم کی تعمیر نو میں اپنا یودگان (تعاون) دے رہا ہے۔

مہیش شاہ کا دعویٰ ہے کہ جس رقم کا انھوں نے انکشاف کیا ہے وہ ان کی نہیں ہے اور اس کیس میں اب بہت سے دلچسپ انکشافات ہو سکتے ہیں۔ یہ پیسہ ان کا نہیں ہے تو کس کا ہے اور ہے بھی کہ نہیں؟ کیا اس میں کچھ سیاستدانوں کا بھی حصہ ہے اور اگر ہے تو کیا اسے قوم کی تعمیر میں ان کا یوگدان مانا جاسکتا ہے؟ اور یہ سعید صاحب کون ہیں؟ ان کی کہانی کیا ہے، یہ پیسہ اگر واقعی ہے تو کس کا ہے؟ اگر ان کا ہے تو کہاں سے آیا۔ وہ ایسا کیا کاروبار کرتے ہیں جس سے انھیں دو لاکھ کروڑ کی آمدنی ہوگئی اور انکم ٹیکس والوں کو کان و کان خبر نہ ہوئی؟

اس معمے کی پرتیں ابھی کھلنا باقی ہیں، اگر آمدنی تھی ہی نہیں تو ڈکلیئر کیوں کی گئی اور اگر ہے تو حکومت مان کیوں نہیں رہی؟

پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست!

سہیل حلیم

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دلی

نریندر مودی کی پالیسیاں بھارت کو لے ڈوبیں

نریندر مودی کی پالیسیاں بھارت کو لے ڈوبیں،غیرملکی سرمایہ کار بھاگ گئے اور بھارتی روپیہ کم ترین سطح پر آگیا۔ تفصیلات کے مطابق نوٹوں کی تبدیلی کا معاملہ ہو یا پاکستان سے کشیدگی ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھارت سرکار کی پالیسیوں کو رد کردیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک ماہ کے دوران بھارتی مارکیٹ سے دو ارب ستر کروڑ ڈالر کا غیر ملکی سرمایہ نکل گیا، صرف نومبر میں بھارتی روپے کی قدر میں ڈھائی فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوٹوں کی تبدیلی کی وجہ سے بازار میں سرمائے کی شدید قلت ہے، دوسری طرف غیرملکی سرمایہ کار مودی کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں، اسی لئے بھارت کی اسٹاک اور بانڈ مارکیٹ فروخت کے شدید دباو کا شکار ہیں۔

یاد رہے کہ مودی حکومت نے کالے دھن کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے آٹھ اور نو نومبر کی درمیانی رات سے پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی لگنے کے بعد عوام نئی اذیت میں مبتلا ہوگئے، اپنی نوکری اور کاروبار کو پس پشت ڈال کر اپنے نوٹ بچانے کے لیے بینکوں میں قطاریں بنا کر کھڑے ہوگئے جبکہ اے ٹی ایم مشینوں نے بھی کام کرنا بند کر دیا۔ حکومت کے اس اعلان کے بعد کم آمدن والے کاروباری، بڑے تاجر اور وہ عام لوگ جن کی زندگی اور کاروبار نقد پیسوں پر منحصر ہے حکومت کے اس قدم سے بری طرح متاثر ہوئے۔

انڈیا نے مسلم مبلغ ذاکر نائیک کی تنظیم پر پانچ برس کی پابندی عائد کر دی

انڈیا کی حکومت نے ملک کے معروف مسلم مذہبی مبلغ ذاکر نائیک کے ادارے ‘اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن’ پر پانچ برس کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے ذاکر نائیک کے ادارے پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگتے رہے تھے۔ چند روز پہلے ہی حکومت نے ذاکر نائیک کے اس ادارے پر بیرون ملک سے چندہ لینے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق پابندی لگانے کا یہ فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والی مرکزی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت داخلہ کی جانب سے رسمی نوٹیفکیشن جلد ہی جاری کر دیا جائے گا۔

ذاکر نائیک کا ادارہ ممبئی میں واقع ہے اور وہ اپنی تبلیغی سرگرمیاں وہیں سے انجام دیتے تھے۔ اس سے قبل ریاست مہاراشٹر کی حکومت اور مرکزی وزارت داخلہ نے ذاکر نائیک کے خلاف تفتیش کا آغاز کیا تھا۔ خبروں کے مطابق وزارت داخلہ کو تحقیق کے دوران معلوم چلا تھا کہ اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن نامی ادارے کے بین الاقوامی اسلامی چینل ‘پیس ٹی وی’ سے مبینہ طور پر تعلقات ہیں۔ بھارت میں پیس ٹی وی پر بھی کئی طرح کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ پہلی بار جب ذاکر نائیک پر ایسے الزامات لگے تھے تو وہ ملک سے باہر تھے اور اس وقت سے وہ انڈیا واپس نہیں آئے ہیں۔

ذاکر نائیک سے متعلق اس طرح کا تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب اس طرح کی خبریں میڈیا میں نشر کی جانے لگیں کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے حملہ آور ذاکر نائیک سے متاثر تھے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ حملہ آور ذاکر نائیک کو سنا کرتے تھے۔ ڈھاکہ حملے میں حملہ آوروں سمیت 28 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ لیکن ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اس طرح کے تمام الزامات سے انکار کیا ہے کہ وہ اپنی تبلیغ سے کسی بھی طرح کی شدت پسندی پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا کوئی بھی ایسا ایک بھی خطاب نہیں ہے جس میں انھوں نے کسی معصوم کی جان لینے کی بات کہی ہو، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔

انڈیا ٹرینڈز : ‘بینکوں میں قطاریں، مودی جی فرار’

ab42b502-a97d-11e6-a836-75a661626cad_660x385انڈیا میں جب سے 500 اور1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی لگی ہے  عوام ایک بحرانی کشمکش کا شکار ہے، کاروبار ٹھپ ہیں اور افواہوں کا بازار گرم ہے۔ یکایک بہت سے لوگوں کے پیشے بے معنی ہو گئے۔ جیب میں نوٹ تو ہیں لیکن انھیں لینے والا کوئی نہیں۔ نوٹ بدلوانے اور اپنے پیسے نکالنے کے لیے ملک بھر کے تمام بینکوں میں لوگوں کی کثیر تعداد قطار میں نظر آ رہی ہے۔ جبکہ کئی جگہ بے قابو ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کی مدد لینی پڑی ہے۔ دارالحکومت دلی سے ہمارے نمائندے نے بتایا کہ سنیچر کو صبح سے ہی لوگوں کی قطاریں تمام چھوٹے بڑے بینکوں کے سامنے لگی ہیں حالانکہ ابھی بینک کھلنے میں دیر ہے۔ کئی لوگ تو منھ اندھیرے ہی بینک کے دروازے پر آ کر کھڑے ہو گئے۔

زیادہ تر اے ٹی ایم میں پیسے نہ ہونے کی شکایتیں مل رہی ہیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث و مباحثہ جاری ہے جس میں ایک ٹرینڈ مستقل نظر آ رہا ہے ’بینکوں میں قطاریں، مودی جی فرار۔‘ خیال رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ملک میں کالے دھن پر اچانک حملے کی زد میں سب سے پہلے ملک کی غریب عوام ہے جبکہ نریندر مودی اپنے اعلان کے بعد جاپان کے دورے پر ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس صورت حال کو وزیراعظم کے جاپان دورے کے تعلق سے پیش کیا جا رہا ہے۔

وکاس یوگی نام کے ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں ’صبح نہ دودھ، نہ شام کو کھانا آسان! صاحب کو کیا! وہ تو نکل لیے جاپان!‘

سمر نام کے ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں ’خط نہ کوئی پیغام، فون نہ کوئی تار، بینکوں میں لگی قطار، کہاں تم ہوئے ہو فرار۔‘

ایک دوسرے ٹوئٹر صارف اشوک کمار کے مطابق ’بینکوں میں قطار، کر کے پی ٹی ایم کا پرچار (تشہیر)، صاحب ہوئے فرار۔‘

خیال رہے کہ وزیراعظم کے بہت قریبی اور بی جے پی کہ بہت سے لوگ انھیں صاحب کہتے ہیں جبکہ پی ٹی ایم بغیر کیش کے بہت سی سہولیات فراہم کرتی ہے۔

كاوانی نام کے ٹوئٹر ہینڈل سے ٹویٹ کیا گیا ’آپ کا شکریہ مودی جی۔ آپ کی وجہ سے عام عوام اپنے ہی پیسوں کے لیے ماری ماری پھر رہی ہے۔‘

شہاب احمری نے لکھا ’اے ٹی ایم – آؤٹ آف سروس، بینک- آؤٹ آف کیش، پبلک- آؤٹ آف کنٹرول۔ پی ایم- آؤٹ آف کنٹری۔‘

بہر حال بہت سے لوگوں نے وزیر اعظم کی اقدام کی حمایت بھی کی ہے۔

ریئل بھیکھو نام کے ٹوئٹر ہینڈل سے یہ ٹویٹ سامنے آيا ’آپ پارٹی کے حامی چاہیں تو مودی جی کی مخالفت میں اپنے 500 اور 1000 کے نوٹ نہ بدلوائيں۔ دیکھتے ہیں کتنے پکے مودی مخالف ہیں؟‘

جبکہ پنیت دھميجا لکھتے ہیں ’بات بات میں حب الوطنی کا نعرہ سوشل میڈیا پر بلند کرنے والے لوگ ملک کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے قدم کی وجہ سے ذرا سی تکلیف جھیلنے کو تیار نہیں۔ دو گھنٹے بینک کی لائن میں لگنے سے ہی اتر گیا حب الوطنی کا بخار، اور کہہ رہے ہو مودی جی ہوئے فرار۔

کیا موت کی سزا صرف مسلمانوں کے لیے ہے؟

انڈین ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں سنہ 2002 میں ہونے والے گلبرگ قتلِ عام کیس میں جمعے کو خصوصی عدالت نے 11 لوگوں کو عمر قید اور 12 کو سات برس قید کی سزا سنائی ہے۔ اس خصوصی عدالت میں موجود سینیئر صحافی ویشیش دیال کے مطابق ایک مجرم کو 10 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالت کے اس فیصلے پر لوگ سوشل میڈیا پر اپنی رائے ظاہر کر رہے ہیں اور ٹوئٹر پر ’گلبرگ ورڈكٹ‘ ٹرینڈ كر رہا ہے۔
  
2002 میں ہونے والے اس قتل عام میں ہلاک ہونے والے کانگریس پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری نے کہا: ’میں مطمئن نہیں ہوں، میں خوش نہیں ہوں۔ مجھے اپنے وکیلوں سے صلاح و مشورہ کرنا ہوگا، یہ انصاف تو نہیں ہے۔‘ انھوں نے کہا: ’عدالت کو تمام قصورواروں کو عمرقید کی سزا دینی چاہیے تھی۔ یہ کیس میرے لیے آج ختم نہیں ہوا ہے۔ ہم اب بھی وہی ہیں جہاں سے ہم نے شروعات کی تھی۔‘ سماجی کار کن تیستا سیتلواڈ کا کہنا ہے کہ ‎’ہم بدلہ لینے والا فیصلہ نہیں چاہتے، بلکہ اصلاح چاہتے ہیں۔‘
 آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے ٹوئٹر پر لکھا ہے: ’اگر سول سوسائٹی کی تاریخ میں گلبرگ قتل عام سب سے سیاہ باب تھا، تو اس میں مجرم کو سزائے موت دی جانی چاہیے، عمر قید یا 10 سال کی سزا کافی نہیں ہے۔‘ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے لکھا: ’بڑے مجرموں کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ اس پر اپیل کی جانی چاہیے اور سازش کے الزامات بھی عائد کیے جانے چاہیں۔‘
آشیش ترویدی نے طنزیہ طور لکھا ہے: ’کمال ہے۔ میں نے ریپ کیا، آگ لگائي، قتل کر سکتا ہوں اور پھر بھی مجھے صرف 7 سال کی سزا ملے گی۔۔۔۔۔ وہ بھی 14 برسوں کے بعد۔۔۔ گجرات میں ہندو ہوتے ہوئے مجھے فخر محسوس ہو رہا ہے!‘
 
راکیش بٹكري نے لکھا: ’کیا اس ملک میں موت کی سزا صرف مسلمانوں کے لیے ہے۔‘ کرم ویر سنگھ برار نے لکھا ہے: ’کسی کو بھی موت کی سزا نہیں۔ یہ بڑی 
شرم کی بات ہے۔ وہ انتہا پسند ہیں اور انھیں ویسی ہی سزا ملنی چاہیے۔‘
بشکریہ بی بی سی اردو

کیا بھارت نیو کلیئرسپلائرز گروپ میں شامل ہو سکے گا ؟

بھارتی وزیراعظم امریکہ سے نکل کر کل میکسیکو گئے تھے اور وہاں کے
حکمرانوں سے اپنی نیوکلیئر سپلائرز گروپ (NSG) میں شمولیت کے لئے ووٹ مانگا تھا۔ میکسیکو ایک چھوٹا سا ملک ہے اور امریکہ کے ’’زیرِ سایہ‘‘ ہے، چنانچہ میکسیکو والوں نے بھی ہاتھی کے پاؤں میں پاؤں رکھ دیا اور مودی جی کو بتایا کہ ہم اس سلسلے میں آپ کے ہم نوا ہوں گے۔ اس سے پہلے مودی جی سوئٹزرلینڈ بھی تشریف لے گئے تھے اور ان کا ووٹ حاصل کر لیا تھا۔ اس پانچ ملکی دورے کے پیکیج میں مودی کا پہلا پڑاؤ کابل میں تھا جہاں انہوں نے ہرات میں ایک ڈیم کا افتتاح کیا۔ یہ ڈیم بھارت کے سرمائے (300ملین ڈالر) اور بھارتی انجینئروں کی مدد سے حال ہی میں مکمل کیا گیاہے۔ جب مودی 5جون کو امریکہ اُتر رہے تھے تو اسی روز ان کے وزیر دفاع منوہرپاریکر ویت نام کے   دارالحکومت ہنوئی میں اتر چکے تھے۔ وہ وہاں ویت نام کی حکومت سے ساؤتھ چائنا سمندر (Sea) میں چین کے خلاف ان امریکی (اور بھارتی) کوششوں کے سلسلے میں بات چیت کرنے اور امداد طلب کرنے گئے تھے جو آہستہ آہستہ عالمی تنازعے کا روپ دھارتی چلی جا رہی ہیں۔ مشرق اور مغرب میں بھارت کی یہ رسائیاں (Out -reaches) اتنی بدیہی ہو چکی ہیں کہ اوروں کو سمجھ آئے نہ آئے، چین کو سمجھ آ رہی ہے۔

بھارتی وزیر دفاع کا ویت نام کا دورہ ایک اور مقصد کے لئے بھی کیا جا رہا ہے۔۔۔ ویت نام اور چین کا بظاہر تو کوئی مقابلہ نہیں لیکن ویت نام کی جنگ میں چین نے ویت نامیوں کی جو عسکری اور مالی مدد کی تھی، وہ ویت نام کی نئی نسل کو اب بھی یاد ہے۔ لیکن چونکہ بعض علاقائی معاملات پر چین اور ویت نام میں اختلاف ہے اس لئے امریکہ اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے ( یا اٹھانا چاہتا ہے) یہی سبب ہے کہ چند روز پہلے صدر امریکہ وہاں جا کر ویت نامیوں کو یقین دلا چکے ہیں کہ ’’اب‘‘ امریکہ ان کا یارومددگار ہو گا۔ اتفاق دیکھئے کہ وہی جاپان جس پر دوسری عالمی جنگ میں امریکہ نے جوہری حملے کئے اور لاکھوں جاپانیوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور وہی ویت نام جس میں امریکہ نے لاکھوں ویت نامیوں کو سالہا سال تک کارپٹ بمباری اور نیپام بموں کا نشانہ بنایا وہ دونوں آج امریکی صدر کے سامنے سرِتسلیم خم کئے ہوئے ہیں!

منوہرپاریکر کے اس دورے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ویت نام کو اپنا براہموس (Brah-Mos) کروز میزائل بیچنا چاہتا ہے۔ بعض قارئین کو یاد ہو گا کہ یہ میزائل چند برس پہلے روس اور انڈیا نے مشترکہ طورپر ڈویلپ کیا تھا اس لئے اس کا نام براہموس رکھا گیا جس میں ’’براہ‘‘ انڈیا کے دریائے برہم پتر کا نصف اول ہے اور ’’موس‘‘ روس کے دریائے ماسکو کا۔ یہ کروز میزائل فضا، زمین اور سمندر سے (بذریعہ آبدوز) فائر کیا جا سکتا ہے، نہائت کارگر اور مہلک نتائج کا حامل ہے اور ویت نام اس کو چین کے خلاف استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ چونکہ یہ میزائل ماسکو اور دہلی کی مشترکہ پروڈکٹ ہے اس لئے انڈیا اور رشیا میں یہ معاہدہ ہے کہ جب تک دونوں ممالک راضی نہ ہوں اس وقت تک اسے کسی تیسرے ملک کو فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ روس، اگرچہ چین کا سٹرٹیجک ساتھی ہے لیکن آج کا ساتھی گزرے کل کا دشمن بھی تھا اور آنے والے کل میں ایک بار پھر دشمن بن سکتا ہے۔ اس لئے روس نہیں چاہتا کہ یہ میزائل ویتنام کو دے دیا جائے۔ روسیوں کو خدشہ ہے کہ یہ ہنوئی سے بیجنگ پہنچ جائے گا اور پھر چین اس کو ساؤتھ چائنا سمندر میں کسی بھی جارح ملک کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔

آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ جب سے بی جے پی سرکار دہلی میں براجمان ہوئی ہے، تب سے مودی اور ان کی کابینہ ’’گلوبل گاؤں گاؤں‘‘ چکر لگا کر وہاں کے ’’چودھریوں‘‘ سے ملاقاتیں کر رہی ہے اور بزعم خود پُرامید ہے کہ کامیابیاں اس کے قدم چوم رہی ہیں۔ یعنی اگر مشرق میں وزیر دفاع سرگرم ہیں تو مغرب میں خود وزیر اعظم بہ نفس نفیس گردش کناں ہیں۔ میں کل امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں مودی کی تقریر سن رہا تھا جو بڑی زور دار اور پر مغز تھی۔ موٹے موٹے انگریزی الفاظ اور مشکل بین الاقوامی سیاسی اصطلاحات ان کی زبان سے پھسل رہی تھیں۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ انڈین پارلیمینٹ اور امریکی کانگریس گویا ہم پلہ، ہمسر اور ہم مرتبہ ادارے ہیں! لیکن اس تقریر میں بھی مودی کو پاکستان نہیں بھولا اور انہوں نے نام لئے بغیر پاکستان کا یوں ذکر کیا اور کہا کہ ان کے ’’ہمسائے میں دہشت گردی کے عفریت پرورش پا رہے ہیں!‘‘۔ امریکی کانگریس کے اراکین جب تالیاں پیٹ رہے تھے تو بھارتی میڈیا کھکھلا رہا تھا لیکن اس میڈیا کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ آج امریکی نوازشیں ان پر دو وجوہات کی بنا پر لنڈھائی جا رہی ہیں۔ ایک تو جنوبی ایشیاء کے اس خطے میں امریکہ، چین کے خلاف بھارت کو پہلی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے اور دوسرے پاکستان کی 22 کروڑ کی ’’مونگ پھلی مارکیٹ‘‘ کے مقابلے میں بھارت کی 122 کروڑ کی ’’اخروٹ مارکیٹ‘‘ امریکی سوداگروں، تاجروں، ٹھیکیداروں، لٹیروں اور راہزنوں کی نگاہ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کوNSG میں داخلے کی حمایت کا لولی پاپ دے رکھا ہے۔ رہا افغانستان، سوٹزر لینڈ یا میکسیکو وغیرہ جیسے طفیلی ممالک کی حمایت کا سوال تو جب بھارت کی مارکیٹ کو نچوڑنے کا وقت آئے گا تو ان کے آگے بھی ’’حصہ بقدر جثہ‘‘ پھینک دیا جائے گا۔۔۔ اللہ اللہ، خیر سلا!

پاکستان نے بھی NSGمیں شمولیت کی درخواست دے رکھی ہے اور کئی ملکوں نے پاکستان کی حمایت کا یقین بھی دلا دیا ہے لیکن ہمارا سب سے بڑا تکیہ چین پر ہے۔ چین کا موقف ہے کہ اس کو بھارت کے NSG میں داخلے پر کوئی اعتراض نہیں بشرطیکہ پاکستان کو بھی اس گروپ میں شامل کر لیا جائے اور اس کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے کہ پاکستان بھی وہ ساری شرائط پوری کرتا ہے جو اس گروپ میں شامل ہونے کے لئے ضروری قرار دی گئی ہیں۔ رہا پاکستان کے اس ماضی کا قضیہ کہ اس نے کبھی ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کی مدد کی تھی اور ان کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں چوری چھپے ایک ناروا اقدام اٹھایا تھا تو یہ وہ گناہ ہے جو خود امریکہ بار بار کر چکا ہے۔  روس، برطانیہ اور فرانس کو کس نے یہ جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی تھی؟۔ یہ بات الگ ہے کہ پاکستان کا پول فوراً ہی کھل گیا اور امریکہ کا پول کھلنے کے ناقابل تردید شواہد اب سامنے آ رہے ہیں اور کوئی ہی دن جاتا ہے جب سارا پول بھی کھل جائے گا۔
گزشتہ سطور میں NSG میں شمولیت کے لئے جس ووٹنگ کا ذکر کیا گیا ہے اس کا تعلق تعداد سے نہیں۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس گروپ کے 48 اراکین میں سے اگر 25 اراکین انڈیا کے حق میں ووٹ دیں گے تو باقی 23 کے ووٹ بے معنی ہو جائیں گے۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ ووٹنگ بحث کی شکل میں ہو گی۔ انڈیا سے کہا جائے گا کہ وہ پہلے ایٹمی عدم پھیلاؤ (NPT)کے معاہدے پر دستخط کرے۔ ظاہر ہے یہ بات انڈیا نہیں مانے گا اور اگر امریکہ نے یہ استدلال کیا کہ اس گروپ میں شامل کئی اور ممالک نے بھی تو NPT پر دستخط نہیں کئے تو یہ استدلال پاکستان کے حق میں بھی جائے گا۔
دوسری بات یہ ہے کہ انڈیا کو اس گروپ میں شامل ہونے سے کوئی فوری مالی فوائد حاصل نہیں ہوں گے یعنی وہ اپنی افزودہ یورینیم کو دوسرے ملکوں میں (برائے نیو کلیئر پاور پلانٹ وغیرہ) فروخت نہیں کر سکے گا۔ اور زر مبادلہ نہیں کما سکے گا۔ نہ ہی کوئی اور ترقی یافتہ ملک اس کو وہ جوہری ٹیکنالوجی منتقل (یا فروخت) کر سکے گا جس کی آس بھارت لگائے بیٹھا ہے۔ جب تک بھارت، چین کا حریف رہے گا اور امریکہ کا حلیف ہونے کا دم بھرتا رہے گا تب تک بھارت کے NSG میں شمولیت کے امکانات میری نگاہ میں اگر معدوم نہیں تو موہوم ضرور رہیں گے۔ ساؤتھ چائینا سمندر میں جن چینی جزیروں کی ملکیت کا شور مچایا جا رہا ہے اور امریکہ کہہ رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی سمندر میں واقع ہیں اور اس لئے چین کا حصہ نہیں وہ جزیرے چین کے تصرف میں ہی رہیں گے۔ اس موضوع پر مزید دلائل دینے کے لئے گزشتہ دو صدیوں کی اُس عالمی تاریخ کا پنڈورا باکس کھولنا پڑے گا جس کی پوری خبر اردو زبان کے ایک عام پاکستانی قاری کو نہیں۔ 
بحر الکاہل کے وسیع و عریض پانیوں میں سینکڑوں چھوٹے بڑے جزیرے ہیں جن پر امریکہ نے قبضہ کر رکھا ہے اور ان میں سے ایک جزیرہ (ہوائی) تو باقاعدہ ایک امریکی ریاست کا درجہ پا چکا ہے۔ باقی جزائر پر بھی امریکی بحریہ اور فضائیہ کے ہزاروں ٹروپس مقیم ہیں۔ اس کی تین چوتھائی بحری قوت بحر الکاہل کے انہی جزیروں میں مقیم رہتی ہے۔ صرف اوکی ناوا جزیرے میں 25000 امریکی ٹروپس آج بھی موجود ہیں۔ اسی طرح آیوجیما، گوڈل کینال، مارشل اور وہ سینکڑوں جزیرے ہیں جن کے نام، ان پر قبضے کی ساری تاریخ، وہاں کے اصل باشندوں کا حشر جو امریکیوں نے ان کے ساتھ روا رکھا اور ان کی سٹرٹیجک عسکری اہمیت ایسے موضوعات ہیں جو بڑے پیچیدہ ہیں اور عام قاری کی دلچسپی کا کوئی سامان نہیں رکھتے، اس لئے ان سے فی الحال صرفِ نظر کرتا ہوں۔۔۔۔ ابھی وہ دن کچھ دور ہیں جب پاکستانی قارئین ان بین الاقوامی عسکری اور سٹرٹیجک موضوعات کی پوری طرح تفہیم کر سکیں گے!
لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

مودی کے خطابات فاش تاریخی غلطیوں سے پر

انڈین وزیراعظم نریندر مودی امریکہ کے دورے پر ہیں جنھوں نے کونارک کے
سوریہ مندر کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ یہ 2000 برس پرانا ہے جبکہ اس تاریخی مندر کی عمر 700 سال سے زیادہ نہیں۔ ان کے اس غلط بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مودی کا خوب مذاق اڑایا گیا۔ وزیراعظم اپنی تقریروں میں اکثر ایسی غلطیاں کرتے رہتے ہیں اور ماضی میں ان کی ایسی حرکتوں پر خوب بحث ہوتی رہی ہے۔

مودی کے خطابات میں پائے جانے والی ایسی کئی غلطیوں کی یہاں نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کی اصل حقیقت بھی پیش کی جا رہی ہے:
1: نومبر 2003 میں مودی نے مہاتما گاندھی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھیں موہن لال داس کرم چند گاندھی کہہ دیا تھا۔
حقیقت: مہاتما گاندھی کا مکمل نام موہن داس کرم چند گاندھی تھا۔ اس غلطی پر مودی پر سخت نکتہ چینی ہوئی تھی۔
2: سنہ 2013 میں پٹنہ میں ہونے والی ایک معروف ریلی میں نریندر مودی نے بہار کے متعلق بات کرتے ہوئے شہنشاہ اشوک، پاٹلی پتر اور پھر نالندہ اور تکشلا (ٹیکسلا) کا بھی ذکر کر ڈالا۔
حقیقت یہ ہے کہ تکشلا ریاست پنجاب کا حصہ تھا اور اب وہ پاکستان میں ہے۔

3: جولائی 2003 میں نریندر مودی نے احمد آباد میں کہا تھا کہ آزادی کے وقت ایک ڈالر کی قیمت ایک روپے کے برابر تھی۔

حقیقت: یو پی اے حکومت کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے نریندر مودی یہ بھول گئے تھے کہ اس وقت ایک روپے کی قیمت 30 سینٹ کے برابر تھی، اور اس وقت ایک روپیہ ایک پونڈ کے برابر تھا۔

4: احمد آباد میں اکتوبر 2003 میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ احمد آباد میونسپل میں خواتین کے ریزرویشن کی تجویز سردار ولبھ بھائی پٹیل نے سنہ 1919 میں پیش کی تھی۔
 حقیقت: طویل مدت تک ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ رہنے والے نریندر مودی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ولبھ بھائی پٹیل نے یہ تجویز سنہ 1926 میں رکھی تھی۔
5: فروری 2014 میں نریندر مودی نے میرٹھ میں کہا تھا کہ کانگریس نے جنگِ آزادی کو ایک طرح سے نظرانداز ہی کر دیا تھا۔
حقیقت: مودی یہ بھول گئے کہ کانگریس 1885 میں قائم ہوئی تھی اور 1857 میں لڑی جانے والی جنگ آزادی کے وقت کانگریس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔
6: نومبر 2003 میں بنگلور میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ 15 اگست کے روز ملک کا وزیر اعظم لال قلعے کے دروازے سے قوم سے خطاب کرتا ہے۔
حقیقت: سبھی کو معلوم ہے کہ یوم آزادی کے موقعے پر بھارت کا وزیراعظم لال قلعے کی فصیل پر کھڑا ہو کر خطاب کرتا ہے، نہ کہ دروازے پر۔
7: سنہ 2003 میں ممبئی میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ سنہ 1960 سے لے کر اب تک ریاست مہاراشٹر میں 26 وزرائے اعلیٰ گزرے ہیں۔
 حقیقت: 2003 تک کل 17 رہنماؤں نے 26 بار وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تھا۔
8: نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ جب قدیم ’گپتاسلطنت‘ کی بات کی جاتی ہے تو ہمیں چندر گپت کی سیاست کی یاد آتی ہے۔
حقیقت: دراصل مودی جس چندر گپت کی اور ان کی سیاست کا ذکر کر رہے تھے، وہ موریہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ گپتا دور میں چندر گپت دوم گزرتے تھے لیکن مودی ان کا ذکر نہیں کر رہے تھے۔
9: دسمبر 2013 میں نریندر مودی نے جموں میں ایک ریلی کے دوران کہا تھا کہ میجر سومناتھ شرما کو مہاویر چکر اور بریگیڈیئر رجندر سنگھ کو پرم ویر ملا تھا۔
حقیقت: میجر سومناتھ شرما کو پرم ویر اور رجندر سنگھ کو مہاویر چکر ملا تھا۔
10: نومبر 2013 میں کھیڑا میں بھی نریندر مودی شيام جي کرشن ورما اور شیاما پرساد مکھرجی کی شخصیات میں فرق نہیں کر پائے تھے۔
حقیقت: مودی نے شیاما پرساد مکھرجی کو گجرات کا بیٹا کہہ دیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ انھوں نے لندن میں انڈیا ہاؤس کی بنیاد رکھی تھی اور ان کی موت 1930 میں واقع ہو گئی تھی۔
دراصل شیاما پرساد مکھرجی کی پیدائش کولکتہ میں ہوئی تھی۔ وہ 1953 میں فوت ہوئے تھے۔ دراصل مودی شیام کرشن ورما کی جگہ شیاما پرساد مکھرجی کا ذکر کرگئے۔
11: پٹنہ میں ایک ریلی کے دوران نریندر مودی نے کہا تھا کہ سکندر اعظم کی فوج نے پوری دنیا فتح کر لی تھی۔ لیکن جب انھوں نے بہاریوں سے پنگا لیا تو ان کا کیا حشر ہوا۔ یہاں آکر ان کی شکست ہوئی تھی۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ سکندر اعظم کی فوج نے کبھی بھی دریائے گنگا کو عبور 
ہی نہیں کیا۔ یعنی ریاست بہار کبھی گئے ہی نہیں۔
بشکریہ بی بی سی اردو

گولڈن ٹیمپل : فوجی کارروائی کی 32 ویں سالگرہ

2سال پہلے آج ہی کے دن امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں بھارتی فوج نے کارروائی
کر کے پنجاب میں علیحدگی پسند مہم چلانے والے جرنیل سنگھ بھنڈرا والا کو ان سینکڑوں مسلح ساتھیوں کے ساتھ ختم کر دیا تھا۔ بھارتی حکومت کا موقف تھا کہ 1984 میں امرتسرمیں گولڈن ٹیمپل میں پناہ لینے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران 87 فوجیوں سمیت 400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ البتہ سکھوں کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں ہزاروں لوگ مارے گئے تھے جن میں وہاں عبادت کے لیے آنے والے افراد بھی شامل تھے۔

پنجاب میں آج بھی ایک گروپ جرنیل سنگھ کو شہید رہنما کہتا ہے جس کی وجہ سے ہر سال پنجاب میں خاص کر امرتسر میں آج کے دن کچھ کشیدگی رہتی ہے۔

اس بار امرتسر میں کشیدگی ہے اس لیے حکومت نے یہاں سیکورٹی کے خاص انتظامات کیے ہیں۔ گزشتہ سال پنجاب میں سکھوں کی مذہبی کتاب گروگرنتھ صاحب کی مبینہ طور پر بے حرمتی پر، دوگروپوں کے درمیان فائرنگ کا واقعہ اور کچھ شدت پسندوں کے جمع ہونے کے پیش نظر حکومت نے نے اس مرتبہ سیکورٹی کے خاص انتظامات کیے ہیں۔

امرتسر میں 8000 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ لدھیانہ اور پٹیالہ میں سی آر پی ایف اور نیم فوجی دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ چار سال سے گولڈن ٹیمپل میں خالصتان کی حمایت میں نعرے لگتے رہے ہیں. پنجاب میں ابھی تک امن ہے، لیکن خیال ہے کہ شاید ایک بار پھر شدت پسند عناصر سر اٹھا سکتے ہیں۔ گزشتہ چار سال سے گولڈن ٹیمپل میں خالصتان کی حمایت میں نعرے لگتے رہے ہیں۔ امرتسر اکالی دل کے سربراہ علیحدگی پسند کے طور پر دیکھے جانے والے سمرنجیت سنگھ مان خالصتان کا نعرہ لگا کر لوگوں کو ماحول کو گرم کر رہے ہیں۔