کھوپڑیاں اور چوہے : بھارتی کسان سراپا احتجاج

گذشتہ ہفتے انڈیا میں ایک کسان نے زندہ چوہا دانتوں میں پکڑ کر انوکھا احتجاج
ریکارڈ کروایا۔ 65 سالہ چناگو ڈانگی پالانیسامی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے کسانوں کی حالتِ زار کی طرف حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے قریب جنتر منتر کے علاقے میں ایک خیمے میں مجھے بتایا : ‘میں اور میرے کسان ساتھی یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر حالات میں تبدیلی نہ ہوئی تو ہم چوہے کھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔’ پالانیسامی اور ان کے سو کے قریب ساتھی اس عارضی پناہ گاہ میں گذشتہ 40 روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق تمل ناڈو کے ان علاقوں سے ہے جو حالیہ برسوں میں شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے انڈیا نے اس خشک سالی کو بھلا دیا ہے۔ اس لیے پالانیسامی اور ان کے ساتھی نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا یہ انوکھا طریقہ سوچا ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں حکومت کی جانب سے قحط زدہ علاقوں کے لیے مختص رقوم دی جائیں جب کہ معمر کسانوں کو پنشنیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ وہ قرضوں کی معافی، فصلوں کی بہتر قیمت اور اپنی زمینوں کی آبپاشی کے لیے مزید نہروں کی مانگ بھی کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے روایتی لباس پہن رکھے ہیں اور وہ انسانی کھوپڑیاں لہرا رہے ہیں جو ان کے بقول مردہ کسانوں کی ہیں۔ انھوں نے آدھے سر منڈوا رکھے ہیں اور منھ میں زندہ چوہے پکڑ رکھے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ہاتھ کاٹ کر ‘احتجاجی خون’ بہا رہے ہیں، جب کہ کچھ گرم بجری پر لوٹ رہے ہیں۔ کچھ لوگ فرضی جنازوں کی رسمیں بھی ادا کر رہے ہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ مطالبے تسلیم نہ ہونے تک دہلی میں ڈٹے رہیں گے. جب ان لوگوں کو وزیرِ اعظم سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تو انھوں نے ایوانِ وزیرِ اعظم کے قریب اپنے کپڑے اتار لیے۔ جب ان میں سے ایک احتجاجی نے چوہا منھ میں پکڑ کر خود کو ایک درخت سے لٹک کر پھانسی دینے کی کوشش کی تو آگ بجھانے والے عملے کو بلانا پڑا۔ ان میں سے کئی افراد کو علاج کے لیے ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔ انھیں میڈیا کی جانب سے توجہ تو ملی ہے لیکن بعض مظاہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کا میڈیا انھیں کرتب باز سمجھتا ہے اور ان کے احتجاج کے پیچھے درد و کرب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔

ایک مبصر نے لکھا کہ یہ احتجاج ‘مضحکہ خیز حد تک بڑھ گیا ہے جہاں اس کا مقصد احتجاج سے زیادہ پرفارمنس بن کر رہ گیا ہے۔’ تمل ناڈو کے 40 فیصد سے زیادہ لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ وہاں خشک سالی، فصلوں کی کم قیمتوں اور زرعی قرضے حاصل کرنے میں مشکلات نے اس ریاست میں کئی عشروں کا بدترین بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس بات کا تعین ہونا ابھی باقی ہے کہ آیا اس احتجاج کا کوئی فائدہ ہو گا یا نہیں۔ انڈیا میں ناکام احتجاجی مظاہرے کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم ان مظاہروں میں حصہ لینے والے منفرد طریقے سے اپنے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انڈیا میں زراعت کی شرحِ نمو سکڑ کر 1.2 فیصد رہ گئی ہے، جہاں لاکھوں کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

پالانیسامی کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل تک ان کے پاس ساڑھے چار ایکڑ زمین تھی جہاں چاول، گنا، دالیں اور کپاس بکثرت اگتی تھیں۔ لیکن برسوں کی خشک سالی نے ان کی زمین کو بنجر بنا دیا ہے۔ ان کے دو بیٹے چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، ان پر چھ لاکھ روپے قرض چڑھ گیا اور ان کے گھر پر موجود سونا گروی پڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ‘یہ میری زندگی کا بدترین زرعی بحران ہے۔ میں نے ایسا بحران پہلے کبھی نہیں دیکھا۔’ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تمل ناڈو کے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک 58 کسان خودکشیاں کر چکے ہیں۔ تاہم ایک مقامی تنظیم کے مطابق اصل تعداد ڈھائی سو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ جنتر منتر میں موجود یہ کسان اپنی بنجر زمینوں اور مردہ درختوں کی کہانیاں سناتے ہیں، جب کہ درجۂ حرارت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پالانیسامی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر اپنی ڈائری میں کچھ تحریر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حال میں کچھ شاعری بھی کی ہے جس میں وہ اپنے گھر کو یاد کرتے ہیں۔

مر چکی ہے، مر چکی ہے، زراعت مر چکی ہے

اذیت ہے، اذیت ہے، زراعت کی موت

جل رہے ہیں، جل رہے ہیں

کسانوں کے دل اور پیٹ

روکو، اسے روکو

کسانوں کی موت کو

سوتک بسواس

بی بی سی نیوز، انڈیا

Advertisements

نوٹوں پر پابندی مودی پر بھاری تو نہیں پڑ گئی؟

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے آٹھ نومبر کو 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں پر یہ کہہ کر پابندی عائد کی تھی کہ اس کا مقصد ملک میں کالے دھن کا خاتمہ کرنا ہے۔ انھوں نے عوام سے کہا تھا کہ وہ انھیں صرف 50 دن کا وقت دیں اور وہ ان کےخوابوں کا بھارت انھیں دیں گے۔ نوٹوں پر پابندی کو 50 دن گزر چکے ہیں۔ اپوزیشن والے پوچھ رہے ہیں کہ جس کالے دھن کی تلاش میں مودی نے یہ غیر معمولی قدم اٹھایا تھا وہ کالا دھن کہاں ہے۔ لوگوں کو اپنے خوابوں کا انڈیا ملنے کے بجائے پچھلے دنوں کی وہ لمبی لمبی قطاریں یاد آتی ہیں جو دو ہزار روپے نکالنے کے لیے بینکوں کے باہر لگی رہتی ہیں۔ مودی آج بھارتی قوم کو بتائیں گے کہ انھوں نے اس اقدام سے کیا حاصل ہوا۔

نوٹوں پر پابندی کے 50 دن بعد بھی ملک میں نصف سے زیادہ اے ٹی ایم پر ابھی تک نئے نوٹ نہیں پہنچ سکے ہیں۔ بینکوں سے نقد روپے نکالنے کی حد مقرر کیے جانے سے بہت سے چھوٹے موٹے کاروبار بند ہو گئے ہیں۔ نقدی کی قلت کے سبب مزدوروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے بڑی تعداد میں بے روزگار بیٹھے ہیں۔ دوسری جانب حکومت اب کالے دھن کے بجائے ’کیش لیس اکونومی‘ کے نعرے کو مشتہر کرنے میں مصروف ہے۔ لوگوں پر زور دیا جا رہا ہے وہ کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ، موبائل ایپ اور انٹرنیٹ کے ذریعے لین دین کریں۔

لوگ پرانے کرنسی نوٹ دکھا رہے ہیں جو وہ بینک میں واپس کر رہیں ہیں. سوا ارب کی آبادی والے ملک میں نوٹوں پر پابندی اورانھیں بدلنے کا عمل ایک غیر معمولی اقدام تھا۔ جس طرح اس کا نفاذ ہوا اور جس طرح کی مشکلیں پیش آئیں ان سے واضح ہے کہ اس کے بارے میں صحیح طریقے سے نہیں سوچا گیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے سوچا تھا کہ پندرہ لاکھ کروڑ روپے میں جو تین چار لاکھ کروڑ روپے کالے دھن کے ہیں وہ جمع نہیں ہو پائیں گے۔ اس سے حکومت کو مالی فائدہ تو ہو گا ساتھ ہی وہ عوام کو بتا سکیں گے کہ کس طرح انھوں نے لاکھوں کروڑ روپے کا کالا دھن تباہ کر دیا۔

لیکن جو اطلاعات مل رہی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ جتنے روپے گردش میں تھے تقریباً وہ سبھی جمع ہو گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو کالا دھن کیش میں تھا ہی نہیں اور اگر تھا تو کالے دھن کے مالکوں نے اپنی ذہانت سے اسے بھی بینک میں جمع کر کے سفید بنا لیا۔ حکومت یہ ضرور دعویٰ کر سکتی ہے کہ آج سارے روپے جو گردش میں ہیں ان میں کالا دھن نہیں ہے لیکن اگر اتنے بڑے عمل سے کچھ نہیں نکلا تو پھر آخر اس کا جواز کیا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کبھی شکست نہیں مانتے اور نہ وہ یہ تسلیم کرنا پسند کرتے ہیں کہ کبھی ان کے اندازے بھی غلط ہو سکتے ہیں۔ حکومت نے پہلے ہی یہ پراپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ اس اقدام سے دو مہینے کے اندر ٹیکسوں وصولیوں اور دوسرے شعبوں میں کافی تیزی آ گئی ہے۔ پیسے جمع کیے جانے سے بینکوں کے قرض دینے کی صلاحیت بڑھ گئی ہے اور سارا پیسہ بینکوں میں ہونے سے ان کے مالکوں کا پورا ریکارڈ درج ہو گیا ہے۔

آئندہ چند دنوں میں نوٹوں پر پابندی کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر دکھایا جائے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی سنیچر کی شب بھارتی قوم سے خطاب کریں گے۔ ماہرین یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ وہ اس خطاب میں یہ تاثر دیے جانے کا امکان ہے کہ انھوں نے کالے دھن کےخلاف ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ کالے دھن کے خلاف کچھ نئے اقدامات کا اعلان بھی متوقع ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ غریبوں کے لیے کوئی نئی سیکم بھی متعارف کروائی جائے۔ اپوزیشن نے اس پورے عمل کو محض ’ایک سیاسی ڈرامہ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ لیکن مودی حکومت عوام تک یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ کالے دھن کے خلاف ایک سنجیدہ جنگ لڑ رہی ہے۔

شکیل اختر

بی بی سی اردو، دلی

انڈیا میں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں نوے فیصد مزدوروں کو ’غلامی‘ کا سامنا

بھارت کی جنوبی ریاستوں کی بڑی صنعت ‘سپنگ انڈرسٹری’ میں جو مغربی ممالک کے بڑے بڑے برانڈ کے لیے دھاگہ یا یارن تیار کرتی ہیں ان میں کام کرنے والے مزدوروں اور ہنرمندوں میں سے نوے فیصد کو غلامی کی مختلف اقسام جن میں ‘چائلڈ لیبر’ بھی شامل ہے کا سامنا ہے۔ خبر رساں ادارے روائٹر کی ایک تحقیقاتی رپوٹ کے مطابق اس سنگین صورتحال پر ماہرین نے ملوں کی نگرانی کے نظام اور آڈٹ کو مزید سخت کرنے کی تجویز دی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم انڈین کمیٹی آف نیدرلینڈ (آئی سی این) نے بھارتی ریاست تمل ناڈو میں جو بھارت میں سوتی دھاگہ بنانے والی صنعت کا سب سے بڑا مرکز ہے وہاں قائم آدھی ملوں میں کام کرنے والے مزدوروں سے بات کی ہے۔

تمل ناڈو میں قائم ڈیڑھ ہزار سے زیادہ ملوں میں سے سات سو چونتیس 734 ملوں میں کام کرنے والی خواتین جن سے اس تحقیق کے دوران بات کی گئی ان میں اکثریت کی عمریں چودہ سے اٹھارہ برس کے درمیان تھیں اور تقریباً بیس فیصد خواتین کی عمر چودہ سال سے کم تھیں۔ اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان مزدور خواتین اور مردوں کو طویل اوقات تک کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اکثر مل مالکان ان غریب مزدوروں کی تنخواہیں روک لیتے ہیں اور انھیں کمپنی کے ہاسٹلوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ ان میں بہت سے مزدوروں کو جنسی طور پر ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ آئی سی این ڈائریکٹر جیراڈ اونک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو پانچ سال سے اٹھا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود نئی تحقیق میں اس مسئلہ کی جو سنگینی سامنے آئی ہے وہ ان کے لیے بھی حیران کن ہے۔ تمل ناڈ میں سپنگ ملز ایسوسی ایشن کے مشیر اعلیٰ کے وینکٹاچالم کا کہنا ہے کہ انھیں کسی ایسی تحقیق کے بارے میں علم نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے حال ہی میں مدراس ہائی کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اب اس صنعت میں ایسے مسائل اب موجود نہیں ہیں۔ وینکٹاچالم نے روائٹرز کو بتایا کہ ‘یہ معاملہ اب ختم ہو گیا ہے۔’

بھارت دنیا میں ٹیکسٹائل اور کپڑے بنانے والے بڑے ملکوں میں شامل ہے۔ جنوبی ریاست تمل ناڈو میں سولہ سو ملیں قائم ہیں جن میں دو لاکھ سے چار لاکھ کے درمیان مزدور کام کرتے ہیں۔ روایتی طور پر ‘ڈائنگ یونٹس، سپنگ ملوں اور تولیے بنانے والی فیکٹریوں میں تمل ناڈو کے دیہات سے لوگ کم اجرتوں پر آ کر کام کرتے ہیں جو کپاس سے دھاگہ اور کپڑے بناتی ہیں جو مغربی ملکوں کے بڑے بڑے سٹور میں فروخت ہوتے ہیں۔ ان میں اکثریت نچلی ذات کی دلت کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی نوجوان دیہاتی ناخواندہ خواتین کی ہوتی ہے ۔ انھیں اکثر زور زبردستی، نامناسب جارحانہ لب و لہجے اور بدکلامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کو جنسی طور پر ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔

آئی سی این نے کہا کہ اس تحقیق میں جن ملوں کا انھوں نے احاطہ کیا ان میں مزدوروں کو کام کے اوقات کے بعد کمپنی کے ہاسٹلوں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان میں سے صرف انتالیس ملیں اجرتیں کم از کم مزدوری کے مطابق ادا کر رہیں تھیں اور آدھے سے زیادہ ملوں میں مزدوروں کو ہر ہفتے میں مجموعی طور پر ساٹھ گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنا پڑتا تھا. آئی سی این کو ایک اٹھارہ سالہ مزدو لڑکی نے بتایا کہ ان ملوں میں سپروائزر لڑکیوں پر تشدد کرتے ہیں تا کہ ان سے زیادہ سے زیادہ کام کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔  ایک اور کم عمر لڑکی کلیاچولی نے جو ہر ماہ اٹھ ہزار اجرت وصول کر رہی تھی بتایا کہ اسے بارہ گھنٹے مسلسل کام کرنے پر مجبور کیا جاتا اور اس دوران انھیں کھانے اور حتی کہ یبت الخلا جانے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے انھیں صحت کے بہت سے مسائل پیش آ رہے ہیں جن میں آنکھوں میں مستقل جلن، بخار، پیروں میں درد اور معدے کی خرابی شامل ہیں۔

نریندر مودی کی پالیسیاں بھارت کو لے ڈوبیں

نریندر مودی کی پالیسیاں بھارت کو لے ڈوبیں،غیرملکی سرمایہ کار بھاگ گئے اور بھارتی روپیہ کم ترین سطح پر آگیا۔ تفصیلات کے مطابق نوٹوں کی تبدیلی کا معاملہ ہو یا پاکستان سے کشیدگی ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھارت سرکار کی پالیسیوں کو رد کردیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک ماہ کے دوران بھارتی مارکیٹ سے دو ارب ستر کروڑ ڈالر کا غیر ملکی سرمایہ نکل گیا، صرف نومبر میں بھارتی روپے کی قدر میں ڈھائی فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوٹوں کی تبدیلی کی وجہ سے بازار میں سرمائے کی شدید قلت ہے، دوسری طرف غیرملکی سرمایہ کار مودی کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں، اسی لئے بھارت کی اسٹاک اور بانڈ مارکیٹ فروخت کے شدید دباو کا شکار ہیں۔

یاد رہے کہ مودی حکومت نے کالے دھن کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے آٹھ اور نو نومبر کی درمیانی رات سے پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی لگنے کے بعد عوام نئی اذیت میں مبتلا ہوگئے، اپنی نوکری اور کاروبار کو پس پشت ڈال کر اپنے نوٹ بچانے کے لیے بینکوں میں قطاریں بنا کر کھڑے ہوگئے جبکہ اے ٹی ایم مشینوں نے بھی کام کرنا بند کر دیا۔ حکومت کے اس اعلان کے بعد کم آمدن والے کاروباری، بڑے تاجر اور وہ عام لوگ جن کی زندگی اور کاروبار نقد پیسوں پر منحصر ہے حکومت کے اس قدم سے بری طرح متاثر ہوئے۔

انڈیا ٹرینڈز : ‘بینکوں میں قطاریں، مودی جی فرار’

ab42b502-a97d-11e6-a836-75a661626cad_660x385انڈیا میں جب سے 500 اور1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی لگی ہے  عوام ایک بحرانی کشمکش کا شکار ہے، کاروبار ٹھپ ہیں اور افواہوں کا بازار گرم ہے۔ یکایک بہت سے لوگوں کے پیشے بے معنی ہو گئے۔ جیب میں نوٹ تو ہیں لیکن انھیں لینے والا کوئی نہیں۔ نوٹ بدلوانے اور اپنے پیسے نکالنے کے لیے ملک بھر کے تمام بینکوں میں لوگوں کی کثیر تعداد قطار میں نظر آ رہی ہے۔ جبکہ کئی جگہ بے قابو ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کی مدد لینی پڑی ہے۔ دارالحکومت دلی سے ہمارے نمائندے نے بتایا کہ سنیچر کو صبح سے ہی لوگوں کی قطاریں تمام چھوٹے بڑے بینکوں کے سامنے لگی ہیں حالانکہ ابھی بینک کھلنے میں دیر ہے۔ کئی لوگ تو منھ اندھیرے ہی بینک کے دروازے پر آ کر کھڑے ہو گئے۔

زیادہ تر اے ٹی ایم میں پیسے نہ ہونے کی شکایتیں مل رہی ہیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث و مباحثہ جاری ہے جس میں ایک ٹرینڈ مستقل نظر آ رہا ہے ’بینکوں میں قطاریں، مودی جی فرار۔‘ خیال رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ملک میں کالے دھن پر اچانک حملے کی زد میں سب سے پہلے ملک کی غریب عوام ہے جبکہ نریندر مودی اپنے اعلان کے بعد جاپان کے دورے پر ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس صورت حال کو وزیراعظم کے جاپان دورے کے تعلق سے پیش کیا جا رہا ہے۔

وکاس یوگی نام کے ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں ’صبح نہ دودھ، نہ شام کو کھانا آسان! صاحب کو کیا! وہ تو نکل لیے جاپان!‘

سمر نام کے ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں ’خط نہ کوئی پیغام، فون نہ کوئی تار، بینکوں میں لگی قطار، کہاں تم ہوئے ہو فرار۔‘

ایک دوسرے ٹوئٹر صارف اشوک کمار کے مطابق ’بینکوں میں قطار، کر کے پی ٹی ایم کا پرچار (تشہیر)، صاحب ہوئے فرار۔‘

خیال رہے کہ وزیراعظم کے بہت قریبی اور بی جے پی کہ بہت سے لوگ انھیں صاحب کہتے ہیں جبکہ پی ٹی ایم بغیر کیش کے بہت سی سہولیات فراہم کرتی ہے۔

كاوانی نام کے ٹوئٹر ہینڈل سے ٹویٹ کیا گیا ’آپ کا شکریہ مودی جی۔ آپ کی وجہ سے عام عوام اپنے ہی پیسوں کے لیے ماری ماری پھر رہی ہے۔‘

شہاب احمری نے لکھا ’اے ٹی ایم – آؤٹ آف سروس، بینک- آؤٹ آف کیش، پبلک- آؤٹ آف کنٹرول۔ پی ایم- آؤٹ آف کنٹری۔‘

بہر حال بہت سے لوگوں نے وزیر اعظم کی اقدام کی حمایت بھی کی ہے۔

ریئل بھیکھو نام کے ٹوئٹر ہینڈل سے یہ ٹویٹ سامنے آيا ’آپ پارٹی کے حامی چاہیں تو مودی جی کی مخالفت میں اپنے 500 اور 1000 کے نوٹ نہ بدلوائيں۔ دیکھتے ہیں کتنے پکے مودی مخالف ہیں؟‘

جبکہ پنیت دھميجا لکھتے ہیں ’بات بات میں حب الوطنی کا نعرہ سوشل میڈیا پر بلند کرنے والے لوگ ملک کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے قدم کی وجہ سے ذرا سی تکلیف جھیلنے کو تیار نہیں۔ دو گھنٹے بینک کی لائن میں لگنے سے ہی اتر گیا حب الوطنی کا بخار، اور کہہ رہے ہو مودی جی ہوئے فرار۔

کیا مودی حکومت ناکام ہو رہی ہے؟

بھارت کے وزیرِ اعظم نے سنہ 2015 کا اختتام پاکستان کے اچانک دورے سے کیا۔ پچھلے ڈیڑھ برس سے دونوں ممالک کے درمیان جو بات چیت رکی ہوئی تھی وہ اب نئے برس میں دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔

دونوں وزرائے اعظم کا جو رخ اس وقت نظر آ رہا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ منجمد تعلقات میں جلد ہی بہتری کے امکانات ہیں۔
وزیرِ اعظم مودی ذاتی طور پر خارجی امور میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں اور بیشتر معاملات میں اہم فیصلے وہ خود کرتے ہیں۔
وزیرِ اعظم بننے کے بعد ڈیڑھ برس کی مدت میں جتنے ممالک کا دورہ انھوں نے کیا ہے شاید ہی بھارت کے کسی اور وزیر اعظم نے کبھی کیا ہو۔ جتنے کم وقفے میں وہ غیر ممالک کے دورے کرتے ہیں اس سے ان کی توانائی اور ذہنی چستی کا بھی پتہ جلتا ہے۔
گزرے ہوئے برس میں مودی نے بیرونی ممالک سے تعلقات میں یقیناً بڑی پیش رفت کی ہے لیکن ملک کے اندر مودی کی مجموعی کارکردگی ان کے مخالفین کے لیے ہی نہیں ان کے حامیوں کے لیے بھی مایوس کن رہی ہے۔ مودی نے بڑے بڑے وعدوں کے ساتھ عوام کی پہلے سے ہی بے چین تمناؤں کو آسمان پر پہنچا دیا تھا۔
گزرے ہوئے ایک برس میں مودی حکومت کسی بھی محاذ پر ایک بھی ایسا کام نہیں کر سکی جسے وہ عام آدمی کے سامنے اپنی کارکردگی کےطور پر پیش کر سکے۔

معیشت سست روی کا شکار ہے۔ حکومت اور نجی کمپنیاں ملازمتوں کے مواقع فراہم میں ناکام رہی ہیں۔ کھانے پینے اور ضروی اشیا کی قیمتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے بیشتر شعبے کساد بازاری اور مایوسی کا شکار ہیں۔ صنعت کاروں اور بڑی بڑی کمپنیوں کو مودی حکومت کے آنے سے جو بڑی امیدیں بندھی تھیں وہ اب ٹوٹنے لگی ہیں۔

سیاسی سطح پر مودی کو دلی کے بعد بہار میں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ مودی کی ذاتی شکست تھی کیونکہ انھوں نے نتیش کمار کو وقار کا مسلہ بنا لیا تھا۔ رواں برس کئی ریاستوں میں انتخابات ہونےوالےہیں ۔ بی جے پی بہار کے انتخابات سے پہلے جتنی پر اعتمار اور جوش میں نظر آتی تھی، وہ تیور اب کہیں نظر نہیں آتے۔
گزرا ہوا برس ملک میں ہر طرح کی عدم رواداری کے لیے بھی یاد کیا جائے گا۔ سنہ 2015 اس لیے بھی یاد کیا جائے گا کہ مودی حکومت، اس کے حامیوں اور میڈیا کی تمام کوششوں کے باوجود ملک کے اعتدال پسندوں نے عدم رواداری کی طاقتوں کو جھکنے کےلیے مجبور کیا۔ منافرت اور عدم رواداری کی طاقتیں بری طرح پسپا ہوئی ہیں لیکن وہ وقتاً فوقتاً اپنا سر اٹھاتی رہتی ہیں۔
نیا برس مودی حکومت کی امبیج کو بہتر کرنے کے لیے آخری موقع ہو گا۔ ڈیڑھ برس میں مودی نے صرف کچھ نعرے دیے ہیں اور ڈھیر ساری تقاریر۔ زمین پر کچھ بدلتا ہوا محسوس نہیں ہوا۔ کئی معنوں میں حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوئے ہیں۔ نعرون اور تقاریر سے لوگ اب بیزار ہونے لگے ہیں۔
مودی کے مستقبل کی سیاست کے لیے یہ بجٹ انتہائی اہم ہے۔ مشکل یہ ہے کہ وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی جو اس وقت اپنا بیشتر وقت بجٹ کی تیاریوں پر صرف کرتے ہیں، وہ دلی کے وزیرِ اعلی کیجریوال کی جانب سے عائد کیے گئے بد عنوانی کے الزامات کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں۔
دلی کے متمول طبقے کی سیاست کرنے والے جیٹلی کی شبیہ بد عنوانی کے الزامات سے بری طرح مجروح ہوئی ہے۔
گزرا ہوا برس مودی کےلیے کافی پریشان اور مایوس کن رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی کا وہ تیکھا تیور بھی کمزور پڑ چکا ہے جو ان کےلب و لہجے کا خاصا ہوا کرتا تھا۔
حکومت کے بعض حالیہ اقدامات سے پتہ چلتا ہےکہ وزیر اعظم خود بھی اپنی حکومت کی کارکردگی سےمطمئن نہیں ہیں۔
اگر وہ نئے برس میں بھی خود کو ایک بہتر حکومت کے طور پر نہ پیش کر سکے تو پارٹی کے اندر ان کے مخالفین اور ہندوتوا کی وہ طاقتیں غالب ہونا شروع کردیں گی جو ابھی تک مودی کے ترقی کے ایجنڈے کے نیچے خاموش بھیٹھی ہوئی ہیں۔
رواں سال مودی کےلیے بہت چیلنجز بھرا ہوا سال ہو گا۔
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

دنیا کی 10جاہل ترین اقوام میں بھارت دوسرے نمبر پر

.ایک حالیہ سروے کے مطابق بھارت دنیا کی جاہل ترین اقوام کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک مارکیٹ ریسرچ کمپنی   کی طرف سے حال ہی میں سروے کیا گیاجس میں سروے ٹیم کی جانب سے 33مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 25000افراد سے ملک کے کم اورزیادہ سنگین مسائل کے متعلق سوالات کئے گئے۔

مسائل کی سنگینی کا مجموعی تخمینہ لگانے کے لئے تیار کی جانے والی اس سروے رپورٹ کے نتائج کے مطابق دنیا کی بہترین اقوام کی درجہ بندی میں جنوبی کوریا کا نام سب سے اوپر ہے جبکہ چین پانچویں نمبر پر جگہ بنانے میں کامیاب ہو پایا ہے لیکن جب بات ہوئی دنیا کی 10جاہل ترین اقوام کی تو ان میں پہلے نمبرپر میکسیکو آیا۔ میکسیکو کے 30فیصدعوام غیر مذہبی افراد اور20فیصد تارکین وطن کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جبکہ اس کے برعکس وہ ملک میں خواتین سیاست دانوں کی بڑھتی تعداد کو کم اہمیت دیتے ہیں۔بے خبراورجاہل اقوام کی اس درجہ بندی میں ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں 32فیصدعوام اظہار خیال میں ہمیشہ مبالغہ آرائی سے رائے دیتے ہیں، علاوہ ازیں حیرت انگیز طور ہندوستان میں فربہ افراد کو بھی تحقیر آمیز رویے کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاہم بھارتی، خواتین سیاستدانوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ہمیشہ مبالغہ آرائی کا سہارا لیتے ہیں۔

دوسری جانب شہری علاقوں میں رہنے والے دیہی آبادی کی انٹرنیٹ تک رسائی تک کو حقیر سمجھتے ہیں۔ اس درجہ بندی میں ترتیب وار برازیل تیسرے، پیروچوتھے ، نیوزی لینڈ پانچویں ، کولمبیاچھٹے ، بیلجیم ساتویں ، جنوبی افریقہ آٹھویں، ارجنٹائن نویں اور اٹلی دسویں نمبر پر ہیں

وزیراعظٰم یا ابن بطوطہ

ملائیشیا اور سنگا پور سے واپسی کے ساتھ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے اپنے ڈیڑھ سالہ دور اقتدار میں 32 ممالک کا دورہ کر کے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس سال کے آخر میں وہ فرانس اور روس بھی جا رہے ہیں۔ چونکہ 2002 ء میں گجرات کے مسلم کش فسادات کے بعد اکثر یورپی ممالک اور امریکہ نے مودی کو ویزا جاری کرنے سے انکار کیا تھا، شائد اس لیے گزشتہ سال 26 مئی کو زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد سے انہوں نے غیر ملکی دوروں کا سلسلہ شروع کر دیا تاکہ دنیا میں اپنا تاثر بہتر بنائیں اور عالمی برادری انہیں جواہر لال نہرو اور اٹل بہاری واجپائی جیسے بھارت کے سابق سربراہوں کے ہم پلہ تسلیم کرے۔

مختلف حلقوں میں اب یہ سوال گردش کر رہے ہیں کہ ان دوروں سے ملک کو کیا حاصل ہو گا؟ مودی نے اقتدار اس وقت سنبھالا جب عالمی کساد بازاری بھارتی معیشت پر بھی اثر انداز ہو رہی تھی۔ اس کا توڑ کرنے کیلیے ماہرین زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات کو بڑھانے کا مشورہ دے رہے تھے۔ دوسری طرف کارپوریٹ سیکٹر نے مودی کو کرسی تک پہنچانے کیلیے انتخابات میں دل کھول کر چندہ دیا تھا۔
اس لیے ان کو نئی مارکیٹیس دلانا اور سستی ٹکنالوجی فراہم کروانا بھی نئے وزیراعظم کے ایجنڈے میں شامل تھا۔ اب چین، جاپان، شمالی کوریا، امریکہ اور برطانیہ نے مجموعی طور پر 100ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے، مگر یہ سرمایہ کاری تاحال کاغذوں تک محدود ہے جبکہ گزشتہ گیارہ مہینوں سے برآمدات میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ 18 ماہ میں برآمدات میں 44.89 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ مارچ 2014ء میں اس کا حجم 280 ارب ڈالر تھا جو اکتوبر 2015ء میں کم ہو کر 154 ارب ڈالر رہ گیا۔ ادھر صرف گزشتہ برس مودی کے بیرونی دوروں پر تین ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں۔

بڑی طاقتوں کے ساتھ مودی کے تعلقات شاید بہتر ہو رہے ہیں مگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ ان کی پالیسی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ سفارتی تعلقات میں انتہائی اشتعال انگیزی کا مقابلہ بھی صبر وتحمل سے کرنا پڑتا ہے مگر مودی نے عدم برداشت کے متعلق اپنا امیج برقرار رکھتے ہوئے نیپال اور افغانستان کو سبق سکھانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ نیپال کا دوبار دورہ کرنے کے بعد مودی کو یقین تھا کہ وہاں کی پارلیمنٹ ان کی مرضی کے مطابق ایک تو ہندومت کو سرکاری مذہب قرار دے گی، دوسرے بھارتی صوبوں بہار اور اتر پردیش سے وہاں جا بسی مدھیشی آبادی کو سرکاری اداروں میں خاطر خواہ نمائندگی ملے گی، مگر جب نیپالی پارلیمنٹ نے یہ دونوں تجاویز ٹھکرا دیں تو چاروں طرف سے گھرے اس ملک کی سرحدوں پر نقل و حمل مسدود کر دی گئی۔ اگر بھارت چاہے تو فوراً ناکہ بندی ختم کروا سکتا ہے۔

اسی طرح جب افغانستان کے نو منتخب صدر اشرف غنی نے مسائل حل کرنے کیلیے پاکستان کی جانب ہاتھ بڑھایا اور پاکستانی اداروں کو کابل میں رسائی دی تو نریندر مودی اس قدر برہم ہوئے کہ افغان صدر کو دہلی کا دورہ کرنے کیلیے نہ صرف کئی ماہ انتظار کروایا بلکہ خاموش سفارتی سرزنش کے طور پر بھی کئی قدم اٹھائے جن میں علاج معالجے کیلیے بھارت آنے کے خواہش مند افغانوں کے ویزے جاری کرنے میں تاخیر شامل تھی تاآنکہ افغانستان نے سر تسلیم خم کر کے دوبارہ آستانہ دہلی کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ طالبان کے ساتھ گفت وشنید میں ناکامی اور قندوز واقعہ کے بعد افغان رہنما اب مودی کو باور کروا رہے ہیں کہ پاکستان نے انہیں دھوکہ دیا ہے، وہ بھارت کیساتھ دوبارہ تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں۔ 

افغانستان میں دوبارہ عمل دخل کو یقینا مودی حکومت کی سفارتی کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے مگر ماہرین کو اس دوستی کی پائیداری پر شبہ ہے جس کا انحصار اصولوں کے بجائے پاکستان دشمنی پر ہے۔ البتہ افغان نائب صدر وزیر خارجہ حکمت کرزئی نے آئندہ ‘ہارٹ آف ایشیا کانفرنس’ بھارت میں منعقد کرنے کا عندیہ دیا ہے اور مودی کے دورہ کابل کی تاریخوں کا تعین کیا جا رہا ہے ۔

حالیہ برسوں میں بھارت کی خارجہ پالیسی کا محور سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت اور بیرونی سرمایہ کاری کا حصول رہا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، چین، روس، آسٹریلیا اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک ہندوستان کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے علاوہ اس کے ہاتھ اپنا اسلحہ بھی فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ ان ترقی یافتہ ملکوں کے لیے ایک ترغیب یہ بھی ہے کہ بھارت میں دنیا کی سب سے بڑی جوان آبادی ہے، یہاں سستی لیبر اور خام مالک بھی آسانی سے دستیاب ہے۔
جہاں تک سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کا معاملہ ہے امریکہ، روس اور برطانیہ وغیرہ بھارت کو خوش کرنے اور اسلحے کے سودے کرنے کی غرض سے اب تک صرف چکنی چپڑی باتیں کرتے رہے ہیں، عملی اقدام کا وقت آتا ہے تو وہ رنگ بدل لیتے ہیں۔ یہ منظر اقوام متحدہ کے اجلاس میں دیکھنے کو ملا۔ چنانچہ کانگریس رہنما آنند شرما کو کہنا پڑا کہ بھارت اپنے اس مطالبے پر روس کی حمایت کھو چکا ہے اور امریکہ نے بھی مبہم موقف اختیار کر رکھا ہے حالانکہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر پر قدغن لگانے اور افغانستان میں ناکامی کے بعد امریکہ کو نئی دہلی کی سخت ضرورت ہے۔
بھارت کے الیکٹرانک میڈیا کی چوبیس گھنٹے کے غیر ملکی دوروں کی تشہیر، مبالغہ آرائی اور غلط بیانی اب اس کی روایت بن چکی ہے۔ مودی کے خلاف جانے والے واقعات کی پردہ داری کی جاتی ہے جیسے سان جوڑ میں ان کے خلاف جو بڑا مظاہرہ ہوا اسے بالکل نظر انداز کر دیا گیا حالانکہ اس میں دو ہزار سے زائد مظاہرین پلے کارڈز اور بینروں کے ساتھ احتجاج کر رہے تھے اور اس میں تمام مذاہب کے ماننے والے شامل تھے۔
سری لنکا کے دورے میں بھی مودی کیخلاف مظاہرہ ہوا لیکن اسے بھی دبانے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح بھارت نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے مطالبے کو تقویت پہنچانے کیلیے مستقل رکنیت کے امید وار ملکوں جرمنی، برازیل اور جاپان کا ایک گروپ بنایا تاکہ اصلاحات کیلیے اجتماعی کوشش کی جائے۔ اس کی پہلے من موہن سنگھ کے پہلے دور حکومت میں ہوئی تھی لیکن اس کا کریڈٹ مودی حکومت کو دینے کی کوشش کی گئی۔

 میڈیا کی مودی نوازی کا یہ عالم ہے کہ اس نے یہ خبر اڑائی کہ امریکی دورے کے دوران صدر براک اوباما اور امریکی انتظامیہ نے مودی کو خصوصی اور ممتاز مہمان کا درجہ دے رکھا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اوباما نے چینی صدر کے اعزاز میں دوبار سرکاری عشائیہ دیا جو ان کی خصوصی عزت افزائی تھی جو کسی دوسرے مہمان سربراہ کے حصے میں نہیں آئی۔

ذرائع کے مطابق بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی طرح مودی اکیلے ہی خارجہ امور طے کرتے ہیں۔ عموماً ان کے دن کا آغاز خارجہ سیکرٹری ایس جے شنکر سے ملاقات سے ہوتا ہے۔ اس وزارت کے تمام افسر مودی کے براہ راست کنٹرول میں ہیں ۔ اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ سشما راج برائے نام وزیر خارجہ ہیں۔ غالباً تن تنہا خارجہ پالیسی چلانے کا نتیجہ تھا کہ امریکہ میں وزیراعظم نے دعوی کر دیا کہ ہندوستان کی قومی مجموعی پیداوار آٹھ کھرب ڈالر ہے اور ہم اسے بیس کھرب تک لے جانا چاہتے ہیں ۔ ان کا یہ بیان اپوزیشن کی سخت تنقید کا ہدف بنا۔ کانگریس نے یاد دلایا کہ جب یو پی اے نے حکومت کی باگ دوڑ مودی کے حوالے کی تھی تو اس وقت ہندوستان کا جی ڈی پی کا حجم  2.27 کھرب ڈالر تھا جو اب 2.50 کھرب ڈالر کے قریب پہنچا ہے حتیٰ کہ چین کی جی ڈی پی کا حجم بھی آٹھ کھرب ڈالر نہیں ہے۔
وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں کے موقع پر ان کے اعزاز میں استقبالیہ جلسوں کا انعقاد بھی اب فیشن بن چکا ہے جس کا بظاہر مقصد وزیراعظم کا سیاسی قد بلند کرنا ہوتا ہے۔ غیر ملکی سرزمین پر ہونے والی ان تقاریب کی الیکٹرانک میڈیا پر اس قدر تشہیر کی جاتی ہے جیسے بھارت میں ان سے پہلے کوئی ایسا سیاسی رہنما پیدا ہی نہیں ہوا جس کی غیر ملکی سرزمین پر اتنے بڑے پیمانے پر قدر دانی کی گئی ہو۔ ان تقریبات پر لاکھوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ ان کے انعقاد کی تیاری کے سلسلے میں ہزاروں لوگوں بالخصوص انتہا پسند تنظیموں آر ایس ایس کے کارکنوں اور بی جے پی کے ورکروں کو بہت پہلے اس ملک میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں کا مودی دورہ کرنے والے ہوتے ہیں۔
امریکہ کے دورے کے موقع پر بی جے پی کے 43000 کارکن 10 جولائی سے وہاں مقیم تھے۔ بی جے پی کے جنرل سیکرٹری بیرونی دورے سے پہلے متعلقہ ملک پہنچ جاتے ہیں تاکہ جلسوں کی تیاریوں کی نگرانی کر سکیں۔ آر ایس ایس کے سابق پرچارک رام مادھومودی کے غیر ملکی دوروں اور خارجہ پالیسی کی منصوبہ بندی کرنے میں مدد کرتے ہیں اور اب وہ ہی بی جے پی کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ انڈیا فاونڈیشن نام سے قائم کردہ ادارہ اس کام میں ان کی مدد کرتا ہے جو رام مادھو اور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر راجیت دوبھال کے صاحبزادے شوریا ڈوبھال چلاتے ہیں۔ یہ ادارہ وزیراعظم کی خارجہ ڈپلومیسی کے سلسلہ میں معلومات فراہم کرنے کے علاوہ ان کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔
سید افتخار گیلانی
 بشکریہ روزنامہ ‘دنیا