کھوپڑیاں اور چوہے : بھارتی کسان سراپا احتجاج

گذشتہ ہفتے انڈیا میں ایک کسان نے زندہ چوہا دانتوں میں پکڑ کر انوکھا احتجاج
ریکارڈ کروایا۔ 65 سالہ چناگو ڈانگی پالانیسامی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے کسانوں کی حالتِ زار کی طرف حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے قریب جنتر منتر کے علاقے میں ایک خیمے میں مجھے بتایا : ‘میں اور میرے کسان ساتھی یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر حالات میں تبدیلی نہ ہوئی تو ہم چوہے کھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔’ پالانیسامی اور ان کے سو کے قریب ساتھی اس عارضی پناہ گاہ میں گذشتہ 40 روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق تمل ناڈو کے ان علاقوں سے ہے جو حالیہ برسوں میں شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے انڈیا نے اس خشک سالی کو بھلا دیا ہے۔ اس لیے پالانیسامی اور ان کے ساتھی نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا یہ انوکھا طریقہ سوچا ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں حکومت کی جانب سے قحط زدہ علاقوں کے لیے مختص رقوم دی جائیں جب کہ معمر کسانوں کو پنشنیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ وہ قرضوں کی معافی، فصلوں کی بہتر قیمت اور اپنی زمینوں کی آبپاشی کے لیے مزید نہروں کی مانگ بھی کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے روایتی لباس پہن رکھے ہیں اور وہ انسانی کھوپڑیاں لہرا رہے ہیں جو ان کے بقول مردہ کسانوں کی ہیں۔ انھوں نے آدھے سر منڈوا رکھے ہیں اور منھ میں زندہ چوہے پکڑ رکھے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ہاتھ کاٹ کر ‘احتجاجی خون’ بہا رہے ہیں، جب کہ کچھ گرم بجری پر لوٹ رہے ہیں۔ کچھ لوگ فرضی جنازوں کی رسمیں بھی ادا کر رہے ہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ مطالبے تسلیم نہ ہونے تک دہلی میں ڈٹے رہیں گے. جب ان لوگوں کو وزیرِ اعظم سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تو انھوں نے ایوانِ وزیرِ اعظم کے قریب اپنے کپڑے اتار لیے۔ جب ان میں سے ایک احتجاجی نے چوہا منھ میں پکڑ کر خود کو ایک درخت سے لٹک کر پھانسی دینے کی کوشش کی تو آگ بجھانے والے عملے کو بلانا پڑا۔ ان میں سے کئی افراد کو علاج کے لیے ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔ انھیں میڈیا کی جانب سے توجہ تو ملی ہے لیکن بعض مظاہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کا میڈیا انھیں کرتب باز سمجھتا ہے اور ان کے احتجاج کے پیچھے درد و کرب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔

ایک مبصر نے لکھا کہ یہ احتجاج ‘مضحکہ خیز حد تک بڑھ گیا ہے جہاں اس کا مقصد احتجاج سے زیادہ پرفارمنس بن کر رہ گیا ہے۔’ تمل ناڈو کے 40 فیصد سے زیادہ لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ وہاں خشک سالی، فصلوں کی کم قیمتوں اور زرعی قرضے حاصل کرنے میں مشکلات نے اس ریاست میں کئی عشروں کا بدترین بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس بات کا تعین ہونا ابھی باقی ہے کہ آیا اس احتجاج کا کوئی فائدہ ہو گا یا نہیں۔ انڈیا میں ناکام احتجاجی مظاہرے کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم ان مظاہروں میں حصہ لینے والے منفرد طریقے سے اپنے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انڈیا میں زراعت کی شرحِ نمو سکڑ کر 1.2 فیصد رہ گئی ہے، جہاں لاکھوں کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

پالانیسامی کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل تک ان کے پاس ساڑھے چار ایکڑ زمین تھی جہاں چاول، گنا، دالیں اور کپاس بکثرت اگتی تھیں۔ لیکن برسوں کی خشک سالی نے ان کی زمین کو بنجر بنا دیا ہے۔ ان کے دو بیٹے چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، ان پر چھ لاکھ روپے قرض چڑھ گیا اور ان کے گھر پر موجود سونا گروی پڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ‘یہ میری زندگی کا بدترین زرعی بحران ہے۔ میں نے ایسا بحران پہلے کبھی نہیں دیکھا۔’ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تمل ناڈو کے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک 58 کسان خودکشیاں کر چکے ہیں۔ تاہم ایک مقامی تنظیم کے مطابق اصل تعداد ڈھائی سو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ جنتر منتر میں موجود یہ کسان اپنی بنجر زمینوں اور مردہ درختوں کی کہانیاں سناتے ہیں، جب کہ درجۂ حرارت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پالانیسامی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر اپنی ڈائری میں کچھ تحریر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حال میں کچھ شاعری بھی کی ہے جس میں وہ اپنے گھر کو یاد کرتے ہیں۔

مر چکی ہے، مر چکی ہے، زراعت مر چکی ہے

اذیت ہے، اذیت ہے، زراعت کی موت

جل رہے ہیں، جل رہے ہیں

کسانوں کے دل اور پیٹ

روکو، اسے روکو

کسانوں کی موت کو

سوتک بسواس

بی بی سی نیوز، انڈیا

’بس ایک ہی مسلمان تو مرا‘

بھارت کی ریاست راجستھان میں مسلم ڈیری تاجروں پر ہندو گئو رکشکوں کے بہیمانہ حملے کے مناظر ابھی تک لوگوں کے ذہن میں تازہ ہیں۔ گئو رکشک ملک کی کئی ریاستوں میں شاہراہوں اور اہم راستوں پر غیر قانونی طور پر ناکہ بندی کرتے ہیں اور مویشیوں کو لانے لے جانے والوں کو اکثر مارتے پیٹتے اور ان سے جبراً پیسے وصول کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ گائے کی منتقلی موت سے کھیلنے کے برابر ہے۔ ابھی الور کے حملے کی تصویر ذہن سے مٹ بھی نہیں پائی تھی کہ جمعہ کو جھارکھنڈ میں ایک 20 برس کے مسلم لڑکے کو ایک ہجوم نے مار مار کر اس لیے ہلاک کر دیا کیونکہ وہ ایک ہندو لڑکی سے پیار کرتا تھا۔

اتر پردیش میں سادھو آدتیہ ناتھ یوگی کی حکومت بننے کے بعد حکومت نے غیر قانونی ذبح خانوں کے خلاف کارروائی کرنے کے نام پر بھینس، بکرے اور مرغ کے کاروبار پر تقریـباً روک لگا دی ہے۔ ریاست میں لاکھوں لوگ گوشت کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ گوشت کا ذکر اس طرح کیا جا رہا ہے جیسے اس کا کاروبار یا اسے کھانا کوئی جرم ہو۔ اس کے باوجود کہ کئی ارب ڈالر کے اس کاروبار سے لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی جڑی ہوئی ہے حکومت نے ابھی تک کوئی متبادل قانونی راستہ نہیں نکالا کہ یہ کاروبار بحال ہو سکے۔ بی جے پی نے جو مہم چلا رکھی تھی وہ گئو کشی کے خلاف تھی۔ شمال کی سبھی ریاستوں میں گائے کے ذبیحے پر بہت پہلے سے پابندی عائد ہے لیکن یوگی نے جو اقدامات کیے ہیں اس کا نشانہ بھینس بکرے اور مرغ کا گوشت ہے۔

گوشت اور چمڑے کی صنعت سے روایتی طور پر دلت اور مسلمان منسلک رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ گوشت کے خلاف ایک منظم تحریک چلا کر دلتوں بالخصوص مسلمانوں کو اقتصادی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس وقت ہندوستان کئی خانوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک طرف بی جے پی اور اس کے ہندو نطریے کے حامی ہیں جنھیں لگتا ہے کہ اب تک ملک میں ہر چیز غلط تھی اور وہ اب دور قدیم کے علوم کی بنیاد پر ملک میں ایک ثقافتی، مذہبی اور اقتصادی انقلاب لانے والے ہیں۔ کسی موثر سیاسی چیلنج کے نہ ہونے کے سبب انھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ حکومت تاحیات قائم رہے گی اور اس کے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ بی جے پی کی جیت اتنی موثر ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی اب ہندو راشٹر کے قیام کی باتیں کرنے لگے ہیں۔

دوسری طرف مسلمان ہیں جو اس وقت انتہائی خوفزدہ ہیں۔ روایتی طور پر وہ ہمیشہ بی جے پی کے خلاف رہے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے اس وقت وہ بے سہارا ہیں، اقتصادی طور پر وہ پہلے ہی سماج کے حاشیے پر تھے اب انھیں اپنی شناخت، رہن سہن اور ثقافت سبھی کے بارے میں انجانے اندیشوں نے گھیر لیا ہے۔ تیسری جانب وہ ہندوستانی ہیں جو ملک کے بدلتے ہوئے پس منظر کو کچھ تشویش اور کچھ تجسس سے دیکھ رہے ہیں۔ فضا میں کچھ گھبراہٹ اور بے چینی بھی ہے لیکن جو بات یکساں طور پر پورے ملک میں پائی جاتی ہے وہ ہے مسلمانوں سے نفرت۔ پچھلے کچھ عرصے سے ہندوؤں میں مسلمانوں کے تئیں خاصی نفرت پیدا ہوئی ہے۔

ان نفرتوں کے بہت سے اسباب ہیں۔ ان کے لیے بہت حد تک خود مسلمان بھی ذمہ دار ہیں لیکن ان سے نفرت پیدا کرنے میں سب سے اہم کرداد ملک کی غیر بی جے پی، نام نہاد سیکولر جماعتوں نے ادا کیا ہے۔ ان جماعتوں نے مسلمانوں کو نہ صرف پس ماندگی اور غربت سے نکلنے نہیں دیا بلکہ انھیں اپنی پالیسیوں سے باقی ہندوؤں کی نظر میں دشمن بنا دیا ہے۔ یہ نفرتیں اب اتنی بڑھی ہوئی ہیں کہ بہت سے لوگ جب مسلم تاجروں پر الور جیسے ہجومی حملے کو دیکھتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں ’ایسا کیا ہوا بس ایک ہی مسلمان تو مرا۔ انہیں صحیح کرنا ضروری ہے۔‘ ہندوستان کی سیاست بدل رہی ہے۔ اس بدلتی ہوئی سیاست میں ابھی بہت سے رنگ سامنے آئیں گے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ سیاست میں کوئی بھی چیز مستقل نہیں ہوتی نہ تصور مستقل ہوتے ہیں اور نہ ہی حکومتیں، صرف تبدیلی ہی ایک مستقل حقیقت ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔

 شکیل اختر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

بھارتی انصاف : سچائی اگلوانے کے لیے بیلٹ کا استعمال کیا

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ ‘باؤنڈ بائی بردرہڈ‘ میں انڈیا میں حراست کے دوران اموات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 114 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ سوموار کو جاری کی گئی ہے جس میں پولیس کی جانب سے ضابطوں کی پروا نہ کرنا، ٹارچر کی وجہ سے حراست میں اموات کا ہونا اور اس کے لیے ذمہ دار افراد کو سزا نہ ملنے کا ذکر ہے۔ اس میں بعض دلدوز واقعات کا ذکر کیا گيا ہے۔ مارچ سنہ 2013 میں ممبئی پولیس کی حراست میں مرنے والے ذوالفقار شیخ کی موت کے بارے میں پولیس حوالدار نے کہا: ملزم کے جسم پر زخم کے بارے میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ وہ پکا مجرم تھا اس لیے اس نے کچھ بھی بتانے سے انکار کیا۔ اس سے معلومات حاصل کرنا بہت ضروری تھا اس لیے پولیس نے میری موجودگي میں سچائی اگلوانے والے بیلٹ کا استعمال کیا۔ وہ اتنا کمزور تھا کہ پٹائي کہ بعد جب وہ پانی پینے کے لیے اٹھا تو وہ درد سے چکر کھا کر کھڑکی پر گرا جس سے اس کے جبڑے کا نچلا حصہ ٹوٹ گیا۔

جبکہ کولکتہ ہائی کورٹ نے مئی میں پریتم کمار سنگھ کے مقدمے میں کہا: ایسا لگتا ہے کہ ریاستی تفتیشی ادارے نے نقصان کی تلافی کے طور پر جلد بازی میں یہ جانچ کی ہے تا کہ اعلی پولیس افسران کو خفت سے بچایا جا سکے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ دوران حراست کسی بھی قیدی کی موت کے لیے ایک بھی سپاہی کو کوئی سزا نہیں ہوئي ہے اور نہ ہی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ انڈیا میں پولیس حراست میں ہونے والی موت کو عام طور پر بیماری، فرار ہونے کی کوشش، خودکشی اور حادثات کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ لیکن انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا الزام ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اموات حراست میں تشدد کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ تاہم سرکاری افسران ان الزامات کی تردید کر تے ہیں۔

تازہ رپورٹ میں 2009 سے 2015 کے درميان ‘حراست میں ہوئی اموات’ کے 17 معاملات کی ‘تفصیلی جانچ’ پیش کی گئي ہے جس میں سے نصف مسلمان ہیں۔ ویسے بھی انڈیا کی جیلوں میں مسلمانوں کا تناسب ملک میں ان کے آبادی کے تناسب کے مقابلے دوگنا ہے۔ شاہدین کے مطابق 35 سالہ جلفر شیخ کوسنہ 2012 میں 28 نومبر کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گيا۔ پولیس نے ضابطے کی پرواہ کیے انھیں دیر سے مجیسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جبکہ دو دسمبر کو اس کی پولیس تحویل میں ہی موت ہو گئی۔ اہل خانہ نے ممبئی کے دھراوی پولیس سٹیشن میں اسے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا الزام لگایا۔ مغربی بنگال میں مرشدآباد کے 21 سالہ سبزی فروش راجیب ملا کو 15 فروری سنہ 2015 میں گرفتار کیا گيا اور اسی دن اس کی موت ہو گئی۔ ریبا بی بی نے بتایا کہ اس روز سادہ لباس میں پانچ لوگ اس کے گھر آئے اور کہا کہ ان کے پاس گرفتاری کا وارنٹ ہے لیکن انھوں نے کوئی وارنٹ نہیں دکھایا۔ وہ رانی نگر پولیس سٹیشن گئیں اور انھوں نے پوچھا کہ کیا کسی نے راجیب کو مارا ہے تو ایک پولیس والے نے کہا: زیادہ نہیں لیکن آنے والے دنوں میں ہم اسے بہت ماریں گے۔

ریبا بی بی نے بتایا: میں کھڑکی سے دیکھ رہی تھی کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور چار پولیس والے جوتوں اور تھپڑوں سے مار رہے ہیں۔ اترپردیش کے عبدالعزیز کو پولیس نے 2011 میں آٹھ مئی کو رات ساڑھے دس بجے بغیر وارنٹ دکھائے گرفتار کیا۔ جب ان کے گھر والے پولیس سٹیشن پہنچے تو انھیں بتایا گیا کہ وہ بیمار ہو گئے ہیں اور انھیں ہسپتال روانہ کیا گیا اور جب وہ ہسپتال پہنچے تو انھیں پتہ چلا کہ وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔ مہاراشٹر کے 22 سالہ الطاف قادر شیخ یا مغربی بنگال کے قاضی نصیرالدین یا پھر 52 سالہ عبیدالرحمن یا 51 سالہ شفیق الاسلام اور تمل ناڈو کے 23 سالہ کے سید محمد کی بھی اسی قسم کی کہانی ہے جسے انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں پیش کیا ہے۔ انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاملے میں پولیس کو سزاوار قرار نہیں دیا گيا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پولیس قانون کی پاسداری نہیں کرتی اور پھر اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے سارے جتن کرتی ہے۔

مرزا اے بی بیگ

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

انڈیا : مسلمانوں کی کوئی عزت ہی نہیں؟

India Eid al Fitrانڈیا میں مسلمانوں کی پرانی شکایت ہے کہ حکومت ان پر اعتبار نہیں کرتی، انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور پاکستان کے خلاف کرکٹ کا میچ ہو یا پھر کالا دھن ڈکلیئر کرنے کی سکیم، زندگی کے ہر موڑ پر انھیں اپنی حب الوطنی اور وفاداری کا سرٹفیکیٹ دکھانا پڑتا ہے۔ لیکن حکومتوں کو تو آپ جانتے ہی ہیں، ایک ہی جھٹکے میں سب کو خاموش کرنے کا ہنر انھیں خوب آتا ہے۔ حکومتیں نہ ہندو مسلمان میں فرق کرتی ہیں اور نہ غریب کی پریشانی دیکھ سکتی ہیں۔ چند ماہ قبل حکومت نے کالے دھن کو بینکنگ کے نظام میں لانے کے لیے ایک عام معافی کا اعلان کیا تھا، اپنا کالا دھن ڈکلئر کیجیے، 45 فیصد ٹیکس ادا کیجیے، اور چین کی بانسری بجائیے۔

 یہ سکیم 30 ستمبر کو ختم ہوئی اور تقریباً 71 ہزار لوگوں نے اس سے استفادہ کیا۔ 67 ہزار کروڑ روپے کے ناجائز اثاثے ڈکلیئر کیے گئے لیکن دو بے چارے غریبوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا گیا۔ ایک سعید خاندان ہے جس کا بنیادی طور پر تعلق اجمیر سے بتایا جا رہا ہے،۔ اور دوسرے صاحب ہیں گجرات کے مہیش شاہ جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ پراپرٹی کا کاروبار کرتے ہیں۔ مہیش شاہ نے ہوش ربا 13800 کروڑ روپے کی ناجائز آمدنی ڈکلیئر کی تھی لیکن سعید صاحب کی فیملی تو زیادہ ہی جذباتی ہو گئی۔ انھوں نے دو لاکھ کروڑ روپے کی ناجائز آمدنی کا انکشاف کیا ہے۔indian-muslim-ap-ab_060215044730

مہیش شرما کے علاوہ سعید خاندان کے ڈکلیئریشن کو مسترد کر دیا گيا ہے یہ رقم کتنی ہوتی ہے آپ کو شاید اندازہ ہوگا۔ اگر نہ ہوتو یوں سمجھ لیجیے کہ انڈیا کا سالانہ دفاعی بجٹ بس تقریباً اسی رینج میں ہوتا ہے! لیکن حکومت نے دونوں کے انکشافات کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ وہ معمولی حیثیت کے لوگ ہیں! اب آپ چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان اگر اپنی چوری کا بھی اعتراف کرے تو حکومت اس پر اعتبار نہیں کرتی، اور حکومت یہ کہہ سکتی ہے کہ وہ ہندو اور مسلمان میں فرق نہیں کرتی۔ اس نے مہیش شاہ اور عبدالرزاق محمد سعید دونوں میں کوئی تفریق نہیں کی۔ لیکن آپ شاید کہیں گے کہ اس سے بھی گہرا سوال یہ ہے کہ کیا وہ امیر اور غریب میں فرق کرتی ہے؟ اگر کسی ٹاٹا، برلا یا امبانی نے یہ اعلان کیا ہوتا تو کیا کوئی کہتا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں؟ فوراً ان کی بات پر یقین کر لیا جاتا۔ حکومت اپنی پیٹھ تھپتھپاتی اور ڈکلیئر کرنے والا سینا ٹھوک کر کہتا کہ وہ قوم کی تعمیر نو میں اپنا یودگان (تعاون) دے رہا ہے۔

مہیش شاہ کا دعویٰ ہے کہ جس رقم کا انھوں نے انکشاف کیا ہے وہ ان کی نہیں ہے اور اس کیس میں اب بہت سے دلچسپ انکشافات ہو سکتے ہیں۔ یہ پیسہ ان کا نہیں ہے تو کس کا ہے اور ہے بھی کہ نہیں؟ کیا اس میں کچھ سیاستدانوں کا بھی حصہ ہے اور اگر ہے تو کیا اسے قوم کی تعمیر میں ان کا یوگدان مانا جاسکتا ہے؟ اور یہ سعید صاحب کون ہیں؟ ان کی کہانی کیا ہے، یہ پیسہ اگر واقعی ہے تو کس کا ہے؟ اگر ان کا ہے تو کہاں سے آیا۔ وہ ایسا کیا کاروبار کرتے ہیں جس سے انھیں دو لاکھ کروڑ کی آمدنی ہوگئی اور انکم ٹیکس والوں کو کان و کان خبر نہ ہوئی؟

اس معمے کی پرتیں ابھی کھلنا باقی ہیں، اگر آمدنی تھی ہی نہیں تو ڈکلیئر کیوں کی گئی اور اگر ہے تو حکومت مان کیوں نہیں رہی؟

پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست!

سہیل حلیم

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دلی

نریندر مودی کی پالیسیاں بھارت کو لے ڈوبیں

نریندر مودی کی پالیسیاں بھارت کو لے ڈوبیں،غیرملکی سرمایہ کار بھاگ گئے اور بھارتی روپیہ کم ترین سطح پر آگیا۔ تفصیلات کے مطابق نوٹوں کی تبدیلی کا معاملہ ہو یا پاکستان سے کشیدگی ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھارت سرکار کی پالیسیوں کو رد کردیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک ماہ کے دوران بھارتی مارکیٹ سے دو ارب ستر کروڑ ڈالر کا غیر ملکی سرمایہ نکل گیا، صرف نومبر میں بھارتی روپے کی قدر میں ڈھائی فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوٹوں کی تبدیلی کی وجہ سے بازار میں سرمائے کی شدید قلت ہے، دوسری طرف غیرملکی سرمایہ کار مودی کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں، اسی لئے بھارت کی اسٹاک اور بانڈ مارکیٹ فروخت کے شدید دباو کا شکار ہیں۔

یاد رہے کہ مودی حکومت نے کالے دھن کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے آٹھ اور نو نومبر کی درمیانی رات سے پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی لگنے کے بعد عوام نئی اذیت میں مبتلا ہوگئے، اپنی نوکری اور کاروبار کو پس پشت ڈال کر اپنے نوٹ بچانے کے لیے بینکوں میں قطاریں بنا کر کھڑے ہوگئے جبکہ اے ٹی ایم مشینوں نے بھی کام کرنا بند کر دیا۔ حکومت کے اس اعلان کے بعد کم آمدن والے کاروباری، بڑے تاجر اور وہ عام لوگ جن کی زندگی اور کاروبار نقد پیسوں پر منحصر ہے حکومت کے اس قدم سے بری طرح متاثر ہوئے۔

بھارتی جیلوں کی اونچی دیواروں کے پیچھے تعصب کی داستانیں’

انڈیا میں مسلمانوں کا الزام ہے کہ ملک میں جیلوں کی اونچی دیواروں کے پیچھے تعصب کی داستانیں پوشیدہ ہیں اور سرکاری اعدادوشمار بھی اسی تصویر کی عکاسی کرتے ہیں۔ انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں ہر تین میں سے ایک قیدی مسلمان ہے لیکن ریاست کی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ صرف ساڑھے 11 فیصد ہے۔ یہی تصویر کم و بیش پورے ملک میں نظر آتی ہے، اور مسلمان نوجوان مانتے ہیں کہ اس کے پیچھے ایک منظم سوچ کار فرما ہے۔ تاہم اس مسئلے پر ممبئی میں قائم ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے پروفیسر وجے راگھون کا کہنا ہے صرف ایک فی صد قیدی ہی دہشت گردی اور منظم جرائم جیسے سنگین معاملوں میں جیلوں میں قید ہیں جبکہ باقی قیدی عام جرائم کے لیے وہاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے جرائم خاندانی رشتوں پر مبنی ہیں نہ کہ منظم جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

ممبئی میں ہم نے مسلم نوجوانوں سے اس مسئلے پر بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ جہاں اس میں حکومت کا تعصب ہے وہیں مسلمانوں کی غلطیاں بھی ہیں۔ ایک طالبہ صفیہ خاتون نے کہا: ‘مسلمانوں میں تعلیم کی کمی ہے، تربیت کی کمی ہے، روزگار کی کمی ہے۔ خود انسانیت سے ہم گرتے جا رہے ہیں۔ دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس میں حکومت کا تعصبانہ رویہ ہے تو برادران وطن کی سازش بھی اس میں شامل ہے۔’ انھوں نے مزید کہا: ‘دوسرے فرقے والے مسلمانوں کو ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے اس لیے انھیں پھنسا دیا جاتا ہے جبکہ کچھ حد تک میڈیا بھی اس کے لیے ذمہ دار ہے۔’ ممبئی کے ایک نوجوان عباد الرحمن نے جیلوں میں مسلمانوں کے زیادہ تناسب کو غربت و افلاس کا نتیجہ بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘بہت غربت ہے۔ لوگ چھوٹی چھوٹی چوریاں کرتے ہیں اور اس کے لیے برسوں تک جیل میں رہتے ہیں۔ ان سے پوچھو تو کہتے ہیں ان کے پاس ضمانت کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ رقم چھوٹی ہوتی ہے دو ہزار، تین ہزار لیکن وہ ضمانت کے اتنے پیسے بھی عدالت میں جمع نہیں کرا پاتے اور اسی لیے جیلوں میں پڑے رہتے ہیں۔’ حکومت نے حال ہی میں ایوان بالا میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ انڈیا کی 1387 جیلوں میں 82 ہزار سے زیادہ قیدی مسلمان ہیں جن میں سے تقریبا 60 ہزار کے معاملے ابھی زیر سماعت ہیں۔

پروفیسر راگھون کا کہنا ہے کمزور طبقے کے پاس اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قانونی وسائل بھی نہیں ہوتے ہیں اس لیے بھی ان کی تعداد زیادہ ہے۔ جبکہ ایک طالبہ رابعہ کا کہنا ہے کہ ‘مسلمان بہت لاپروائی برتتے ہیں۔ دین میں جو صحیح راستے بتائے گئے ہیں، ہم ان راستوں کو چھوڑ کر بھٹک گئے ہیں اور انسان جب بھٹک جائے گا تو پھر کچھ بھی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔’مہاراشٹر کے ہی ایک نوجوان منور یوسف کا کہنا ہے کہ ‘مسلمانوں کو بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ انھیں ہر قدم پر اپنی وفاداری کو ثابت کرنا پڑتا ہے لیکن دوسرے فرقے والے خواہ کچھ بھی کریں انھیں محبِ وطن تسلیم کیا جاتا ہے۔’

پروفیسر راگھون کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق میں جہاں یہ پتہ چلا کہ مذہبی اقلیت کے خلاف تعصب ہے وہیں یہ بھی پتہ چلا کہ ان کی معاشی حالت اتنی زیادہ خراب ہے کہ انھیں جرائم کی جانب آسانی سے دھکیلا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں میں عام تاثر یہ ہے کہ دہشت گردی کے الزام سے بری ہونے والے افراد کو معاشرے کا باعزت شہری بنانے کے لیے کوئی نظام نہیں۔ صرف شک کی بنیاد پر ان کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے ملک بھر میں ایسے سینکڑوں افراد ہیں جو دس دس سال بعد بے قصور ثابت ہوئے اور انھیں رہائی دی گئی۔ اسی بارے میں ایک کمپنی میں کام کرنے والے نذرالحسن کا کہنا ہے: ‘جو بے قصور پکڑے جاتے ہیں انھیں نہ کوئی معاوضہ دیا جاتا ہے اور نہ وسائل پیدا کیے جاتے ہیں کہ وہ باقی زندگی گزار سکیں۔’ ماہرین کے مطابق ضرورت پولیس میں اقلیتوں کی نمائندگی بڑھانے کی ہے۔ ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز میں مسلمانوں کا تناسب صرف چار فی صد ہے جو کہ ان کی آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے۔ توازن کا ہدف حاصل کرنے کے لیے منزل ابھی دور ہے اور تب تک عدالتوں کے چکر لگتے رہیں گے اور جیلوں کے دروازے مسلمان قیدیوں پر یوں ہی کھلتے رہیں گے۔

مرزا اے بی بیگ

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

انڈیا نے مسلم مبلغ ذاکر نائیک کی تنظیم پر پانچ برس کی پابندی عائد کر دی

انڈیا کی حکومت نے ملک کے معروف مسلم مذہبی مبلغ ذاکر نائیک کے ادارے ‘اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن’ پر پانچ برس کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے ذاکر نائیک کے ادارے پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگتے رہے تھے۔ چند روز پہلے ہی حکومت نے ذاکر نائیک کے اس ادارے پر بیرون ملک سے چندہ لینے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق پابندی لگانے کا یہ فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والی مرکزی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت داخلہ کی جانب سے رسمی نوٹیفکیشن جلد ہی جاری کر دیا جائے گا۔

ذاکر نائیک کا ادارہ ممبئی میں واقع ہے اور وہ اپنی تبلیغی سرگرمیاں وہیں سے انجام دیتے تھے۔ اس سے قبل ریاست مہاراشٹر کی حکومت اور مرکزی وزارت داخلہ نے ذاکر نائیک کے خلاف تفتیش کا آغاز کیا تھا۔ خبروں کے مطابق وزارت داخلہ کو تحقیق کے دوران معلوم چلا تھا کہ اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن نامی ادارے کے بین الاقوامی اسلامی چینل ‘پیس ٹی وی’ سے مبینہ طور پر تعلقات ہیں۔ بھارت میں پیس ٹی وی پر بھی کئی طرح کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ پہلی بار جب ذاکر نائیک پر ایسے الزامات لگے تھے تو وہ ملک سے باہر تھے اور اس وقت سے وہ انڈیا واپس نہیں آئے ہیں۔

ذاکر نائیک سے متعلق اس طرح کا تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب اس طرح کی خبریں میڈیا میں نشر کی جانے لگیں کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے حملہ آور ذاکر نائیک سے متاثر تھے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ حملہ آور ذاکر نائیک کو سنا کرتے تھے۔ ڈھاکہ حملے میں حملہ آوروں سمیت 28 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ لیکن ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اس طرح کے تمام الزامات سے انکار کیا ہے کہ وہ اپنی تبلیغ سے کسی بھی طرح کی شدت پسندی پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا کوئی بھی ایسا ایک بھی خطاب نہیں ہے جس میں انھوں نے کسی معصوم کی جان لینے کی بات کہی ہو، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔

انڈیا ٹرینڈز : ‘بینکوں میں قطاریں، مودی جی فرار’

ab42b502-a97d-11e6-a836-75a661626cad_660x385انڈیا میں جب سے 500 اور1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی لگی ہے  عوام ایک بحرانی کشمکش کا شکار ہے، کاروبار ٹھپ ہیں اور افواہوں کا بازار گرم ہے۔ یکایک بہت سے لوگوں کے پیشے بے معنی ہو گئے۔ جیب میں نوٹ تو ہیں لیکن انھیں لینے والا کوئی نہیں۔ نوٹ بدلوانے اور اپنے پیسے نکالنے کے لیے ملک بھر کے تمام بینکوں میں لوگوں کی کثیر تعداد قطار میں نظر آ رہی ہے۔ جبکہ کئی جگہ بے قابو ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کی مدد لینی پڑی ہے۔ دارالحکومت دلی سے ہمارے نمائندے نے بتایا کہ سنیچر کو صبح سے ہی لوگوں کی قطاریں تمام چھوٹے بڑے بینکوں کے سامنے لگی ہیں حالانکہ ابھی بینک کھلنے میں دیر ہے۔ کئی لوگ تو منھ اندھیرے ہی بینک کے دروازے پر آ کر کھڑے ہو گئے۔

زیادہ تر اے ٹی ایم میں پیسے نہ ہونے کی شکایتیں مل رہی ہیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث و مباحثہ جاری ہے جس میں ایک ٹرینڈ مستقل نظر آ رہا ہے ’بینکوں میں قطاریں، مودی جی فرار۔‘ خیال رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ملک میں کالے دھن پر اچانک حملے کی زد میں سب سے پہلے ملک کی غریب عوام ہے جبکہ نریندر مودی اپنے اعلان کے بعد جاپان کے دورے پر ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس صورت حال کو وزیراعظم کے جاپان دورے کے تعلق سے پیش کیا جا رہا ہے۔

وکاس یوگی نام کے ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں ’صبح نہ دودھ، نہ شام کو کھانا آسان! صاحب کو کیا! وہ تو نکل لیے جاپان!‘

سمر نام کے ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں ’خط نہ کوئی پیغام، فون نہ کوئی تار، بینکوں میں لگی قطار، کہاں تم ہوئے ہو فرار۔‘

ایک دوسرے ٹوئٹر صارف اشوک کمار کے مطابق ’بینکوں میں قطار، کر کے پی ٹی ایم کا پرچار (تشہیر)، صاحب ہوئے فرار۔‘

خیال رہے کہ وزیراعظم کے بہت قریبی اور بی جے پی کہ بہت سے لوگ انھیں صاحب کہتے ہیں جبکہ پی ٹی ایم بغیر کیش کے بہت سی سہولیات فراہم کرتی ہے۔

كاوانی نام کے ٹوئٹر ہینڈل سے ٹویٹ کیا گیا ’آپ کا شکریہ مودی جی۔ آپ کی وجہ سے عام عوام اپنے ہی پیسوں کے لیے ماری ماری پھر رہی ہے۔‘

شہاب احمری نے لکھا ’اے ٹی ایم – آؤٹ آف سروس، بینک- آؤٹ آف کیش، پبلک- آؤٹ آف کنٹرول۔ پی ایم- آؤٹ آف کنٹری۔‘

بہر حال بہت سے لوگوں نے وزیر اعظم کی اقدام کی حمایت بھی کی ہے۔

ریئل بھیکھو نام کے ٹوئٹر ہینڈل سے یہ ٹویٹ سامنے آيا ’آپ پارٹی کے حامی چاہیں تو مودی جی کی مخالفت میں اپنے 500 اور 1000 کے نوٹ نہ بدلوائيں۔ دیکھتے ہیں کتنے پکے مودی مخالف ہیں؟‘

جبکہ پنیت دھميجا لکھتے ہیں ’بات بات میں حب الوطنی کا نعرہ سوشل میڈیا پر بلند کرنے والے لوگ ملک کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے قدم کی وجہ سے ذرا سی تکلیف جھیلنے کو تیار نہیں۔ دو گھنٹے بینک کی لائن میں لگنے سے ہی اتر گیا حب الوطنی کا بخار، اور کہہ رہے ہو مودی جی ہوئے فرار۔

بھارت : حکومت شریعت میں دخل نہ دے

انڈیا میں ان دنوں یکساں سول قانون کے لیے راہ ہموار کرنے کی مہم جاری ہے اور اس کے ساتھ اس پر سیاست بھی۔ ایک طرف حکومت نے مسلمانوں میں رائج تین طلاق کےمعاملہ میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا ہے تو دوسری طرف گجرات کے معروف شہر صورت میں ہزاروں کی تعداد میں مسلم خواتین نے مظاہرہ کیا ہے۔ مذہبی امور کے معاملے میں انڈیا میں مسلمانوں کی سرکردہ تنظیم مسلم پرسنل لا بورڈ نے تین مرتبہ طلاق اور یکساں سول کود کے معاملے میں حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے حالیہ کوششوں کو مذہب میں مداخلت سے تعبیر کیا ہے۔ گجرات کے شہر صورت میں مظاہر کرنے والی خواتین کا مطالبہ ہے کہ طلاق کے معاملے میں حکومت دخل نہ دے۔ خواتین نے اس سلسلے میں ایک میمورینڈم ضلع مجسٹریٹ کے حوالے کیا۔

ریلی میں شامل شہناز پٹیل نے بی بی سی کے لیے رپورٹ کرنے والے صحافی پرشانت دیال کو بتایا کہا: ‘ہم انڈین حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ طلاق کے معاملے میں شریعت کا قانون ہی بہترین ہے۔ یہ معاملہ ہندوستان کے آئین سے بھی اوپر ہے۔’ پٹیل نے بتایا: ‘ہم ہندوستان کے آئین کو سلام کرتے ہیں، لیکن جب بات شریعت کی آتی ہے تو ہمیں قرآن کا بتایا راستہ ہی بہترین معلوم ہوتا ہے۔ اس صورت حال میں حکومت ہند یکساں سول کوڈ کے سہارے اسلام میں مداخلت کرنا چھوڑ دے۔’ ریلی کے آرگنائزر مقصود احمد نے کہا: ‘یہ مظاہرہ کسی ادارے کی طرف سے منعقد نہیں تھا، لیکن یکساں سول کوڈ پر ملک میں جو حالات پیدا کیے جا رہے ہیں ایسے میں خواتین از خود سامنے آئی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ‘کامن سول کوڈ’ کے نام پر حکومت ہند شریعت قانون میں دخل دے رہی ہے۔’

خیال رہے کہ ہندوستان کے آئین کے رہنما اصول میں یہ بات کہی گئي ہے کہ ہندوستان میں تمام مذاہب کے لیے ایک سا سول قانون نافذ کیا جائے لیکن ابھی تک اس پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے تاہم بی جے پی نے اسے اپنے انتخابی منشور میں شامل کیا تھا اور دیگر ہندو جماعتیں بھی اس کے حق میں نظر آتی ہیں۔