ایسا بم کیوں استعمال کیا گیا، اس وقت ہی کیوں؟

جب افغانستان کے شمالی ضلع شنوار کے پولیس افسر کریم نے دھماکے کی آواز سنی تو وہ اس کی شدت کی وجہ سے کچھ دیر کیلئے ششدر رہ گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ‘میں نے اس قبل ایسا کچھ نہیں سنا تھا’۔ وہ اور اس کے ساتھی یہ نہیں جاتے تھے کہ کس چیز کی آواز ہے لیکن انھیں یہ معلوم تھا کہ انھیں رد عمل ظاہر کرنا چاہیے۔ ‘ہم سمجھے کہ یہ خود کش دھماکا ہے’ لیکن یہ نہیں تھا۔ یہ آواز 300 ملین ڈالر کی رقم سے تیار ہونے والے 21600 پاؤنڈ وزنی بم ‘جی بی یو 43’ کی تھی جو امریکا نے ضلع اچن میں داعش کے تھکانے پر گرایا تھا۔ امریکی اور افغان حکام کے مطابق جمعرات کو ہونے والے بم حملے، اس بم کو ‘تمام بموں کی ماں’ کے نام سے پکارا جاتا ہے، کا مقصد دہشت گرد تنظیم داعش کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانا تھا۔

 

ننگرہار میں ہونے والے اس امریکی حملے کی خبر تیزی سے پورے افغانستان میں پھیل گئی، کابل اور صوبہ ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں مقامی افراد نے اس پر یقین کرنے سے انکار کیا۔ جلال آباد کے ایک رہائشی داؤد کا کہنا تھا کہ ‘میں اس پر یقین نہیں کر سکتا ہوں، ایسا بم کیوں استعمال کیا گیا، اس وقت کیوں؟’

دوسری جانب طالبان نے بم حملے کی مزمت کرتے ہوئے اسے غیر انسانی اور غیر ملکی فورسز کی ناقابل قبول کارروائی قرار دیا، یاد رہے کہ طالبان اور داعش ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں ان کے درمیان طویل جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ جس میں دونوں فریقین کو نقصان اٹھانا پڑا۔

گذشتہ 15 روز کے دوران ایک درجن سے زائد آپریشنز کے بعد امریکا کی جانب سے یہ بم حملہ کیا گیا جو داعش کیلئے ایک فیصلہ کن دھچکا ہو سکتا ہے۔ افغان اور امریکی فورسز نے گاؤں اسد خیل کے مذکورہ علاقے کو اس حملے سے قبل بند کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بم دھماکے سے قبل علاقے کو عام شہریوں سے خالی کرا لیا گیا تھا۔ نورجان، جس کے قریبی عزیز جن میں ایک 60 سالہ شخص اور 3 بچے شامل ہیں علاقے میں جاری آپریشن کے دوران ہلاک ہو گئے تھے، کا کہنا تھا کہ شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کیلئے خبردار کیا گیا تھا۔

انھوں نے اپنے موبائل پر موجود ایک کارڈ کی تصویر کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ‘سیکیورٹی فورسز نے لوگوں کو کارڈ نکال کر دیے اور علاقہ خالی کرنے کو کہا’۔ خیال رہے کہ گذشتہ 3 سال کے دوران ضلع اچن اور اس کے اطراف کے اضلاع میں موجود شہری، علاقہ خالی کرنے پر مجبور کیے گئے جیسا کہ داعش زمین حاصل کرنا چاہتی تھی۔ علاقے میں داعش کے خلاف دو ہفتوں سے جاری آپریشن میں شریک ایک سپاہی کا کہنا تھا کہ ‘داعش نے انھیں کہا تھا کہ اگر کوئی جائے گا تو وہ بھول جائے کہ کبھی اپنے علاقے میں واپس لوٹ پائے گا’۔ افغانستان میں امریکی فورسز کے کمانڈر جان نکلسن نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ واشنگٹن اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہا ہے کہ کسی شہری کو نقصان نہ پہنچے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘علاقے میں ہمارے پاس امریکی فورسز موجود ہیں اور ہمیں کسی شہری کی ہلاکت کے ثبوت نہیں ملے ہیں اور نہ ہی ایسا کچھ رپورٹ ہی ہوا ہے’۔ امریکی فورسز اب بھی لڑائی میں مصروف ہیں جیسا کہ دن بھر بم دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ مقامی افراد جو اس مقام کے قریب موجود ہیں میڈیا سے بات کرنے کیلئے تیار نہیں اور اس بات پر زور دے دہے ہیں کہ انھوں نے کچھ نہیں سنا اور نہ ہی کچھ دیکھا۔ تاہم مقامی اور غیر ملکی میڈیا سے تعلق رکھنے والے افغان صحافی اب بھی علاقے میں جانے کیلئے منتظر ہیں کیونکہ امریکی ہیلی کاپٹر اب بھی اس علاقے پر پرواز کر رہے ہیں اور بم حملے میں ہلاکتوں کی درست تعداد کے بارے میں اب بھی یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

(نوٹ: یہ رپورٹ ننگرہار کے ضلع اچن میں موجود علی محمد لطیفی نے تحریر کی)

Advertisements

افغانستان میں طویل قیام کا امریکی منصوبہ کب بنا ؟

امریکی ریاست الینوائس کی اسمبلی نے افغانستان سے فوج واپس بلانے کی قرارداد 29 جون 2009ء کو منظور کی۔ اس قرار داد کا متن امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کو ارسال کیا گیا۔ قرار داد کے متن میں کہا گیا تھا کہ ’افغانستان میں جنگ اور امریکی فوج کی اس میں شمولیت نائن الیون کے واقعہ کے بعد ضروری تھی، امریکی فوجیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہترین اور تاریخی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، امریکا نے افغانستان میں نئی حکومت کے قیام میں مدد دی، امریکی عوام نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ یہ جنگ بہت طول پکڑ چکی ہے، کئی امریکی فوجیوں نے افغانستان میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور بہت سے زخمی ہوئے۔

کانگریس نے اس جنگ اور افغانستان کی تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے، صرف ریاست الینوائس کے شہریوں کا حصہ دو اعشاریہ ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، لہٰذا ریاست کی اسمبلی کے چھیانویں اجلاس میں یہ قرار داد منظور کی جاتی ہے کہ ریاست الینوائس کے شہریوں کی طرف سے سینٹ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ یہ امریکا کے مفاد میں نہیں ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی عسکری موجودگی کو وسعت دے، افغانستان میں امریکہ کی بنیادی حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ افغانستان کی سیاسی قیادت کو ملک میں تشدد کے خاتمے کے لیے سیاسی فیصلوں کا موقع دیں،اس قرار داد کی نقول صدر باراک اوباما، الینوائس کانگریشنل ڈیلیگیشن کے ارکان، امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر، امریکی ایوان نمائندگان کی حزب اختلاف کے سربراہ، امریکی سینٹ کے چیئر مین اور حزب اختلاف کے سربراہ کو فراہم کی جائیں۔

اس کے بر عکس 16 نومبر 2009 ء کو ایک طرف امریکی حکام اصرار کر رہے تھے کہ افغانستان میں مزید امریکی فوجیوں کو بھیجنے کا فیصلہ دفاعی نوعیت کا ہے اور دوسری طرف اقرار کر رہے تھے کہ’’ مزید فوج افغانستان بھیجنے سے بجٹ پر پڑنے والا ممکنہ بوجھ فوجیوں کی تعداد کو کم سے کم رکھنے پر مجبور کر رہا ہے‘‘۔ نیویارک ٹائمز بتا رہا تھا کہ’’مزید 40 ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیجنے اور افغانستان کی سکیورٹی فورس میں قابل ذکر اضافے سے جیسا کہ افغانستان میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر جنرل سٹینلے کرسٹل نے تجویز کیا ہے ، امریکی فوج کو 40 ارب ڈالر سے 54 ارب ڈالر سالانہ کا اضافہ خرچہ برداشت کرنا پڑے گا۔

اگر امریکا 40 ہزار سے کم فوجی افغانستان بھیجتا ہے یا ان کے مشن میں کوئی تبدیلی کرتا ہے تب بھی وائٹ ہاؤس نے جو فارمولا بنایا ہے اس کے تحت ایک فوجی پر سالانہ دس لاکھ ڈالر خرچ ہوں گے، اس صورت میں امریکا کے مجموعی دفاعی بجٹ کا حجم 734 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا جو کہ بش انتظامیہ کے دور میں 676 ارب ڈالر کے زیادہ سے زیادہ دفاعی بجٹ سے بھی کہیں زیادہ ہے‘۔ یہ سب کچھ ان دنوں ہو رہا تھا جب امریکی معیشت کمزور تھی اور صدر اوباما ایک مہنگا صحت عامہ کا منصوبہ منظور کروانے کی کوشش میں تھے۔ ان ہی وجوہات کی بنا پر صدر اجلاسوں میں زور دیتے رہے تھے کہ جو بھی دفاعی حل تجویز کیا جائے اس میں افغانستان سے جلد انخلاء کی حکمت عملی بھی شامل ہونی چاہئے۔ ادھر افغانستان میں ممکنہ طور پر مقرر ہونے والے نئے فوجیوں کی مختصر وقت کیلئے تعیناتی کے حامی حکام کے صدر اوباما اور اہم ترین مشیروں کے درمیان ہونے والے اجلاسوں میں یہ دلیل پیش کی گئی تھی کہ ’’ امریکا کو افغانستان میں صرف اس قدر فوجیں رکھنی چاہئیں جو القاعدہ کو صرف پاکستانی پہاڑی علاقوں تک محدود کر سکیں‘‘۔

اس دلیل کے حامی ایک عہدیدار نے کہا، ’’آپ دلیل دے سکتے ہیں کہ اگر موجودہ صورت حال برقرار رہتی ہے تو ہمیں اس بات کا امکان نظر نہیں آتا کہ افغانستان سے القاعدہ کی واپسی ہو گی، لہٰذا اضافی فوجیوں کی تعیناتی کے باوجود ہمارے مرکزی ہدف پر کوئی دباؤ نہیں پڑے گا‘‘۔ اس دور کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن، وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن سمیت ہر وہ شخص جو افغانستان میں امریکا کی بھر پورفوجی موجودگی کا خواہاں ہے، یہ کہتا کہ ’ اگرچہ فی الوقت افغانستان، القاعدہ کی پناہ گاہ نہیں رہا لیکن طالبان کی مزید پیش قدمی کی صورت میں ایسا ہو سکتا ہے‘۔ 19نومبر 2009 ء کو سابق امریکی جنرل ویزلے کلارک نے کہا کہ’ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کا مطلب خطے کو طالبان اور القاعدہ کے حوالے کرنا ہو گا، جس سے پاکستان کے استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، ہم نے افغانستان میں ایک لاکھ افواج تعینات کر رکھی ہیں اور ہم سادگی کے ساتھ اس پالیسی کو ریورس نہیں کر سکتے، ہمارے انخلاء سے نہ صرف افغانستان متاثر ہو گا بلکہ حکومت پاکستان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی‘۔

حقیقت یہ ہے کہ اگست 2009ء ہی میں امریکا افغانستان میں طویل عرصہ تک رہنے کا منصوبہ بنا چکا تھا۔ اس منصوبہ کے تحت امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس امریکی سنٹرل کمانڈ میں نئی انٹیلی جنس تنظیم قائم کر رہے تھے جو پاکستان اور افغانستان کے فوجی افسروں، خفیہ ایجنٹس اور تجزیہ کاروں کو خصوصی طور پر تربیت دے گی۔ پاکستان اور افغانستان کے لئے یہ اسائنمنٹس 10 سال کے لئے ہوں گی۔ ایسے لوگوں کی تربیت کی جائے گی جو کم از کم 5 سال تک ان امور پر کام کرنے پر رضا مند ہوں گے۔ واشنگٹن ٹائمز نے اپنی خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ یہ خفیہ ادارہ ’’سنٹر فار افغانستان پاکستان ایکسی لینس‘‘ کے نام سے قائم کیا جا چکا ہے، اس کے سربراہ دفاعی خفیہ ایجنسی کے ریٹائرڈ کرنل ڈیرک ہاروے ہوں گے۔

کرنل ڈیرک ہاروے 2007-08ء میں عراق کی جنگ میں دہشت گردی کے خلاف مہم میں جنرل پیٹریاس کے سب سے زیادہ قابل اعتماد تجزیہ کاروں میں شامل تھے۔ ایک انٹرویو میں ہاروے نے کہا تھا کہ ’یہ سنٹر کچھ ایسے اسباق کے نتائج کو سامنے رکھ کر بنایا جائے گا جو انہوں نے اور ملٹری نے عراق میں نہ صرف بغاوت اور سرکشی کے دوران سیکھے بلکہ اس میں کچھ خفیہ تجزیات کو بھی سامنے رکھا جائے گا، سنٹر سی آئی اے، ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی، آفس آف ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس، ناٹو ایساف اور یورپ میں اتحادی طاقتوں کے سپریم ہیڈ کوارٹر کی معاونت میں کام کرے گا‘۔

یہ سب کچھ کرچکنے اورطول طویل بحث و تمحیص کے بعد آخر 2 دسمبر 2009ء کو امریکی صدر باراک حسین اوباما نے افغانستان میں مزید 34 ہزار امریکی فوجی بھیجنے کی منظوری دی تھی ۔ قوم سے خطاب میں افغانستان پر نئی امریکی حکمت عملی کے اعلان سے قبل امریکی صدر نے اعلیٰ عہدیداروں، کمانڈروں اور اتحادیوں کو آگاہ کیا اور برطانیہ، روس، بھارت ، افغانستان اور فرانس کے رہنماؤں کو ٹیلی فون کیا اور اعلان کے حوالے سے اعتمادمیں لیا۔ ایک روز قبل برطانوی وزیراعظم نے اوباما سے گفتگو کے بعد پارلیمنٹ کو بتایا کہ’ نئی حکمت عملی کا مقصد طالبان کو کمزور اور افغانستان کو مضبوط کرنا ہے، مجوزہ منصوبے کے تحت افغان فوج کی تعداد 90 ہزار سے بڑھا کر 1,34000 (ایک لاکھ چونتیس ہزار) کی جائے گی۔ قبل ازیں امریکی صدر نے افغان صدر سے ویڈیو کانفرنس کی۔ امریکی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے کہا کہ’’ صدر باراک اوباما نے اپنے اعلیٰ عہدے داروں اور کمانڈروں کو افغانستان کے لیے اپنی حکمت عملی سے آگاہ کر دیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے احکامات جاری کر دیئے ہیں‘‘۔

ویسٹ پوائنٹ میں تقریر سے قبل امریکی حکام اور سفارتکاروں کو بریفنگ کے مطابق ’’نئی فوج روانہ ہونے کے بعد افغانستان میں امریکی فوج ایک لاکھ سے تجاوز کر جائے گی‘‘۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ’حکام کے مطابق اوباما نیٹو اتحادیوں کو بھی 5 ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجنے کیلئے کہیں گے‘۔ توقع ظاہر کی گئی کہ’ امکان ہے کہ افغانستان میں فوجی اقدامات کے ساتھ سیاسی محاذ پر پیشرفت بھی اہمیت کی حامل ہو گی‘۔ مذکورہ مہینے میں امریکہ کے فوجی ہسپتال ڈرامائی انداز میں افغانستان سے واپس آنے والے زخمی اور کٹے ہوئے اعضاء والے فوجیوں سے بھر چکے تھے۔ صرف اگست، ستمبر اکتوبر2009ء میں ایک ہزار کے قریب زخمی امریکی فوجی افغانستان سے واپس آئے۔ بتایا گیا کہ’ یہ تعداد 2001ء سے اب تک زخمی ہو نے والے امریکی فوجیوں کی ایک تہائی کے برابر ہے’ ۔ اس دور کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے افغان جنگ میں زخمی فوجیوں کی بڑھتی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ’ سڑک کنارے پھٹنے والے بموں سے بچا جائے‘۔

واضح رہے کہ تب افغانستان میں 68 ہزار امریکی فوجی تھے اور ہر ماہ 350 کے قریب فوجی زخمی ہو رہے تھے۔ یاد رہے یہ وہ دور تھا جب فرانس کے وزیر خارجہ برنرڈ کاؤچنر اعتراف شکست ان الفاظ میں کر رہے تھے کہ’ افغانستان میں نیٹو پالیسی ناکام ہو گئی ہے اور وہاں ہمارے فوجی ہلاک ہو رہے ہیں، امریکا اور جرمنی نیٹو کی پالیسی پر تعاون نہیں کرتے اور صدر اوباما افغانستان میں نئی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بھی نیٹو سے مشورہ نہیں کیا جا رہا۔ اس صورت حال میں اقوام متحدہ نے افغانستان سے اپنے غیر ملکی سٹاف کو عارضی طور پر واپس بلانے کا بھی اعلان کردیا تھا۔ کابل میں اقوام متحدہ کے ترجمان ڈان میکنورٹن نے انٹر ویو میں بتایا تھا کہ ’اس وقت افغانستان میں تعینات اقوام متحدہ کے گیارہ سو میں سے 600 غیر ملکی کارکنوں کو عارضی طور پر افغان سے باہر منتقل کیا جائے گا، اس فیصلہ کی وجہ گزشتہ ہفتے کا بل میں اقوام متحدہ کے زیر استعمال گیسٹ ہاؤس پر طالبان کے حملے میں غیر ملکی کارکنوں کی ہلاکت ہے‘۔

عالم یہ تھا کہ اکتوبر 2009 ء میں افغانستان میں طالبان سے لڑنے والے امریکی فوجی احساس شکست کے باعث چند برسوں میں نفسیاتی مریض بن چکے تھے۔ میدان جنگ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں موجود امریکی فوجی خوف، نااُمیدی ، تھکاوٹ، بے خوابی اور واہموں کا شکار تھے۔ امریکی فوجیوں کی بہت بڑی تعداد باہر نکلنے سے بھی خوف زدہ تھی، تلخ کلامی اور ایک دوسرے کے ساتھ اشتعال انگیز جملوں کا تبادلہ ان کا معمول بن چکا تھا۔ ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ جس طرح بن پڑے جنگ کو روکا جائے۔ جس فوجی سے بات کی جاتی ، یہی کہتا کہ ’ علاقے میں طالبان کہیں نہیں لیکن ہر دس منٹ بعد ایک گولی چلنے کی آواز آنے لگتی ہے‘۔ طالبان کے ساتھ 9 مہینے تک محاذ جنگ پر امریکی فوجیوں کے دو پادریوں نے کابل کے نواح میں بنائے گئے عارضی گرجا گھر میں برطانوی اخبار ٹائمز کو بتایا کہ’متعدد ساتھیوں کی ہلاکتوں کے بعد کئی فوجی اپنی زندگی بھی خطرے میں سمجھنے لگے، وہ افغان مشن کو خونیں مشن قرار دیتے ہیں جہاں مقامی آبادی ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتی‘۔

حافظ شفیق الرحمان

بشکریہ روزنامہ “نئی بات”

سوویت یونین راتوں رات کیوں بکھر گیا ؟

15 مختلف جمہوریتوں پر مشتمل سوویت یونین راتوں رات ٹوٹ گیا تھا اور یہ بکھراؤ اتنا بڑا تھا کہ 25 برسوں کے بعد آج بھی اس کے جھٹکے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ 20 ویں صدی میں تاریخ، معیشت، نظریات اور ٹیکنالوجی کو متاثر کرنے والا سوویت یونین جس طرح سے اچانک ایک رات میں ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوا، یہ غور طلب ہے۔ سنہ 1917 میں کمیونسٹ انقلاب سے پیدا ہونے والے سوویت یونین میں کم از کم 100 قومیتوں کے لوگ رہتے تھے اور ان کے پاس زمین کا چھٹا حصہ تھا۔ ایک ایسی سلطنت جس نے ہٹلر کو شکست دی، جو امریکہ کے ساتھ سرد جنگ میں مبتلا رہا اور جوہری طاقت کی دوڑ میں بھی شامل رہا۔

اس نے ویتنام اور کیوبا کے انقلابات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ سویت یونین نے ہی خلا میں پہلا سیٹلائٹ بھیجا اور پہلا انسان بھی۔ ایک وقت تھا کہ جب سوویت یونین کھیل، رقص، فلم، ادب، فنون لطیفہ اور سائنس کے میدان میں بھی آگے آگے تھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر اور سوویت پالیسیوں کے ماہر آرچی براؤن کہتے ہیں: ‘جس تیزی سے سوویت یونین ٹوٹا، وہ بھی ایک ہی رات میں، وہ سبھی کے لیے حیران کن تھا۔’ براؤن سمیت کئی دیگر ماہرین سوویت یونین کے ٹوٹنے کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں۔ یہ 1991 میں کرسمس کی رات ہوا تھا۔

 

1۔ آمریت

سوویت یونین کا وجود سنہ 1917 میں بالشویک انقلاب کے ذریعے ہوا تھا۔ اور زار نکولس دوم کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد روسی سلطنت کو ختم کر دیا گیا تھا۔ سنہ 1922 میں لینن کی قیادت میں دور دراز کی ریاستوں کو روس میں شامل کیا گیا اور سرکاری طور پر يو ایس ایس آر کا قیام ہوا۔ اس کے سربراہ تھے ولادی میر لینن۔ ظاہر تھا کہ ایسے پیچیدہ اور متنوع ملک پر کنٹرول حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ زار کی آمریت سے الگ ہو کر سوویت یونین نے جمہوریت بننے کی کوشش کی لیکن آخر میں آمریت ہی قائم ہوئی جس میں سب سے اہم آمر سٹالن تھے۔ کچھ وقت کے بعد پارلیمان کا قیام بھی عمل میں آيا جسے سپریمو سوویت کہا گیا لیکن سارے فیصلے کمیونسٹ پارٹی ہی کرتی تھی۔ ملک کے اہم انتخاب سے لے کر حکومت کا ہر فیصلہ پارٹی کی ایک چھوٹی سی کمیٹی کرتی تھی، جسے پولٹ بیورو کہا جاتا تھا۔ سٹالن کے وقت سے ہی سیاست، معیشت اور عام زندگی پر پارٹی کا کنٹرول ہوتا چلا گیا۔ مخالفین کو گلگ بھیجا جانے لگا۔ گلگ وہی مقام ہے جہاں لوگوں کو اذیتیں دی جاتیں تھیں وہاں لاکھوں لوگ مارے گئے۔

2۔ سخت ترین نوکر شاہی

آمریت اور سینٹرل حکومت کی وجہ سے سوویت یونین میں ایک جامع بیور و کریسی بھی وجود میں آئی جس کا کنٹرول معاشرے کے ہر کونے میں بڑھتا چلا گیا۔ یعنی کہ آپ کو ہر چیز کے لیے کاغذ، سٹامپ اور شناخت کے عمل سے گزرنا ہوتا تھا۔ آکسفورڈ کے پروفیسر آرچی براؤن کہتے ہیں اس بیوروکریسی نے ہی سوویت یونین کو ایک مشکل ملک بنا دیا تھا۔

3۔ ناکام معیشت

سوویت یونین کی معیشت کارل مارکس کے معاشی اصولوں پر مبنی تھی۔ یہ اقتصادی نظام پنج سالہ منصوبوں کی بنیاد پر نافذ کیے جاتے تھے۔ سوویت یونین کی زیادہ تر آبادی کو صنعت اور زراعت کے کام میں لگایا گیا تھا۔ اور 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کا جی ڈی پی، امریکہ سے نصف رہ گیا۔

4۔ بہترین تعلیم و تربیت

سوویت یونین میں تعلیم و تربیت کا نظام بہت اچھا تھا اور لاکھوں لوگ تعلیم یافتہ ہوئے۔ آہستہ آہستہ باہر سے وابستگی پر لگنے والی پابندیاں کم ہونے لگی اور لوگوں کی دنیا کے بارے میں معلومات بڑھنے لگی۔ آہستہ آہستہ یہ ہوا کہ پڑھے لکھے لوگوں کے سماجی گروپ بننے لگے جو وقت کے ساتھ ہی متاثر کن ہوتے چلے گئے۔ وہ گورباچوف کی ان اقتصادی اصلاحات کے حامی ہوتے گئے جن کا اعلان نوے کے عشرے میں کیا گيا تھا۔

گوربا چیف

براؤن کے مطابق گرچہ سوویت یونین کی ٹوٹنے بہت سی وجوہات تھیں لیکن اس کی سب سے اہم وجہ گورباچوف خود تھے۔ ان کا اقتدار میں آنا ہی بڑی بات تھی۔ وہ اقتدار میں آئے تھے سوویت نظام کو تبدیل کرنے کے لیے یعنی وہ اپنی ہی قبر کھودنے کا کام کرنے والے تھے۔ 1985 میں وہ کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری بنے تو معیشت کا حال بہت برا تھا اور انھیں ایک غیر فعال سیاسی ڈھانچہ ملا تھا اس لیے انھوں نے ایک بہتر پروگرام شروع کیا۔ انھوں نے پیریستروكا (کم حکومتی کنٹرول) اور گلاسنوست نام کی دو پالیسیاں شروع کیں۔

گورباچوف کو لگا کہ اس سے نجی سیکٹر کو فائدہ ہو گا۔ اس سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا اور آگے چل کر غیر ملکی سرمایہ کاری بھی سوویت یونین میں آئے گی۔ انھوں نے مزدوروں کو ہڑتال کرنے کا حق دیا تا کہ وہ بہتر تنخواہ اور کام کرنے کی اچھی حالت کا مطالبہ کر سکیں۔ گلاسنوست کے تحت حکومت میں کھلے پن اور شفافیت کو اپنانے کی کوشش کی گئی۔ سولجینتسن اور جارج ارویل جیسے مصنفین کی کتابوں پر عائد پابندیاں ہٹا لی گئیں۔ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیا اور پریس کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔ پہلی بار انتخابات کی کوشش ہوئی اور اس میں کمیونسٹ پارٹی شامل ہوئی۔

اُس کا نتیجہ یہ نکلا کہ زیادہ راشن خریدنے کے لیے لوگوں کی قطاریں لگ گئیں۔ قیمتیں بڑھنے لگیں اور لوگ گورباچوف کی حکمرانی سے پریشان ہونے لگے۔ اسی سال 25 دسمبر کی رات گوربا چوف نے استعفیٰ دیا اور اگلے دن اس دستاویز پر دستخط کر دیے گئے جس کے تحت سوویت یونین کی تمام ریاستیں الگ الگ ہوگئیں۔ آرچی براؤن کہتے ہیں: ‘یہ ایسے نہیں ہوا کہ اقتصادی اور سیاسی بحران کی وجہ سے لبرل ازم آ گيا اور جمہوریت کا آغاز ہوا۔’ ان کے مطابق یہ سب کچھ الٹا تھا۔ لبرلایئزیشن اور جمہوریت کے اہتمام کی وجہ سے بحران شروع ہوا اور سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر گورباچوف اقتصادی اصلاح لانے کی کوشش نہ کرتے تو شاید آج بھی سوویت یونین کا وجود ہوتا۔

خوفزدہ نیویارک

1445429357455.png--ٹھیک بیس سال، پانچ ماہ بعد جب میں نیویارک کے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر اترا تو مجھے اندازہ تھا کہ بہت کچھ بدل چکا ہو گا۔ ان بیس سالوں میں تو دنیا ہی بدل چکی ہے اور وہ بھی اس لیے نہیں کہ دنیا خود اس تباہی کا منظر دیکھنا چاہتی تھی۔ اسے شوق تھا کہ اس کے شہر کھنڈر اور بازار ویران ہو جائیں، لاکھوں انسان خاک و خون میں نہا کر منوں مٹی زمین تلے دفن ہو جائیں، فضاؤں سے برستے آگ کے شعلوں کی زد میں آکر بھسم ہوجائیں، بارود کے دھوئیں میں لہراتے تیز رفتار بموں کے ٹکڑوں سے ان کے جسم ٹکڑوں میں بٹ جائیں اور جو اس منظر سے بچنا چاہیں وہ دنیا بھر میں امان ڈھونڈھتے پھریں۔ خوفزدہ عورتیں، بچے، بوڑھے، سروں پر بچے کھچے سامان کی گٹھریاں اٹھائے ہوئے۔

یہ ایک چھوٹا سا منظر نامہ ہے۔ اس دنیا کا جو اس شہر نیویارک میں واقع دو بلند و بالا مینار نما عمارتوں کی تباہی اور تین ہزار کے قریب انسانوں کی موت کے بعد طاقت کے اندھے جنون نے تخلیق کیا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر جس کے ساتھ کھڑے ہوکر میں نے بیس سال قبل اپنے کیمرے سے تصویر بنوائی تھی کہ اس زمانے میں نہ موبائل ہوتے تھے اور نہ ہی سیلفی کا تصور، اب اس عمارت کی جگہ ایک یادگار تعمیر ہے جسے گراؤنڈ زیرو کہتے ہیں۔ جب ان دونوں مینار نما عمارتوں سے جہاز ٹکرائے تھے تو ان میں ایک عمارت کے ملبے کا ایسا ڈھیر بن گیا تھا جس میں سے مضبوط لوہے کے سریے کی شاخیں باہر نکل رہی تھیں۔ گراؤنڈ زیرو کی یادگار اسی ملبے کے ڈھیر کو سفید سیمنٹ کے ایک ایسے ڈیزائن میں تشکیل دیا گیا ہے کہ ایک تجریدی آرٹ کا نمونہ لگتا ہے، جب کہ اس کے ساتھ والی جگہ پر ایک اسی طرح کا بلند و بالا مینار کھڑا کر دیا گیا ہے جسے نیشنل ٹاور کہتے ہیں۔ سامنے ایک چھوٹا سا پارک ہے جس میں دن رات سیاح آتے اور ان تین ہزار کے قریب انسانوں کی موت کو یاد کرتے ہیں۔New-York-1_tcm233-2256848

ٹھیک اس جگہ کھڑے ہوکر جہاں میں نے بیس سال پہلے تصویر بنوائی تھی، میں سوچ رہا تھا کیا افغانستان کے دشت لیلیٰ کے اس صحرا میں بھی کوئی یادگار تعمیر ہو سکے گی جہاں اس ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا انتقام انسانی تاریخ کے بدترین ظلم کو جنم دے گیا تھا۔ گراؤنڈ زیرو، امریکی طاقت کی علامت ورلڈ ٹریڈ سینٹر، دنیا کی فوجی قوت کا اکیلا بے تاج بادشاہ ایک ایسے ملک پر چڑھ دوڑا تھا جہاں ٹیکنالوجی کے نام پر ریلوے، ٹیلی فون اور دیگر عام روزمرہ کی سہولیات تک میسر نہ تھیں اور اس نے پوری دنیا کے دوسو کے قریب ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ نیویارک جو دنیا کا معاشی دارالحکومت ہے، امریکی فوجی و معاشی طاقت کا چہرہ ہے، اس کی ایک عمارت کو زمین بوس کرنے کی سازش اس افغانستان میں تیار ہوکر پایہ تکمیل تک پہنچی۔

غصے میں تلملاتی ہوئی پوری دنیا نے امریکا اور اس کے چار درجن اتحادیوں کو یہ لائسنس دے دیا کہ وہ اس نہتے، کمزور، بے یارو مددگار ملک پر چڑھ دوڑیں۔کسی پڑوسی نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ کابل کا سقوط ہو گیا، لیکن ابھی قندوز کے علاقے میں طالبان موجود تھے۔ قندوز کے شمال میں تخار، جنوب میں مزار شریف، مشرق میں بغلان جب کہ مغرب میں تاجکستان ہے۔ تاجکستان وہی ملک ہے جہاں سے امریکی افواج افغانستان میں داخل ہوئی تھیں۔ قندوز کا محاصرہ کرلیا گیا۔ امریکی فوجی امن کا پیغام لے کر آگے بڑھے اور طالبان کو ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا۔ افغانستان کا یہ واحد شہر تھا جہاں طالبان امریکی سپاہیوں کے جھانسے میں آ گئے اور ہتھیار ڈال دیے۔ 23 نومبر 2001ء کو ہتھیار ڈالے گئے۔ ایک سڑک کھولی گئی۔

جہاں تلاشی کے لیے چار پوائنٹس بنائے گئے۔ چودہ ہزار طالبان ہتھیار جمع کراکر تلاشی کے بعد سامنے کھڑے ساٹھ کنٹینروں میں ایسے ٹھونس دیے گئے کہ سانس لینا بھی دشوار تھا۔ انھیں منزل شبرغان جیل بتائی گئی، لیکن شبرغان پہنچنے سے ذرا پہلے قافلے کو ایک تپتے ہوئے صحرا ’’دہشت لیلیٰ‘‘ میں پہنچا دیا گیا۔ امریکیوں کو یقین تھا کہ سانس گھٹنے اور شدید دھوپ کی وجہ سے اکثر لوگ پہلے ہی مرچکے ہوں۔ البتہ جس کنٹینر میں تھوڑی ہل جل محسوس ہوئی اس پر فائر کھول دیے گئے۔ چودہ ہزار انسانوں کو کنٹینروں سے نکال کر ریت میں دفن کردیا گیا۔ ریت تو اڑتی ہے اور تھوڑی دیر میں ایک ٹیلہ اڑ کر کئی ہزار فٹ دور جا کر ایک دوسرے ٹیلے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

وہی ہوا، چودہ ہزار میں سے بیس ایسے تھے جن میں ابھی سانس باقی تھی، وہ نکل بھاگے اور دنیا اس بدترین قتل عام سے آگاہ ہوئی۔ گراؤنڈ زیرو کے سامنے دنیا بھر کے سیاح گیارہ ستمبر کے سانحے کو یاد کرتے ہوئے تصویریں بنا رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ اس دنیا میں انسانی حقوق یا عالمی ضمیر کے نام پر ہی کوئی اپنی تحریر میں ہی دشت لیلیٰ کے قتل کی یاد گار تعمیر کردیتا، جسے پڑھ کر لوگ بے بسی کے آنسو بہا لیتے۔ بس اتنا ہوا کہ انسانی حقوق کے نام پر اخبارات میں خبر چھپی، بش انتظامیہ کو تحقیق کے لیے کہا گیا۔ اس نے انکار کیا، اوباما نے اسے الیکشن کا نعرہ بنایا۔ صدر بنا، اپنے افریقہ کے دورے کے دوران کہا، میں نے تحقیقات کا حکم دے دیا، لیکن شاید آج کے دور کا ادب بھی طاقتوروں کی موت کی کہانیاں تحریر کرتا ہے۔

ورنہ دشت لیلیٰ کے مسافروں کی اذیت ناک موت پر کوئی ایک نظم، ایک افسانہ یا ناول کسی مصنف کو امر کرچکا ہوتا۔ لیکن ایسا نہ ہوسکتا ہے اور نہ ہوگا، گراؤنڈ زیرو کے اردگرد گھومتے ہوئے میں اس شہر کے عالمی ضمیر کو یاد کررہا تھا۔ وہ شہر جو 1969ء میں اسٹون وال Stonewall نامی عمارت میں کھلی ہم جنس پرستوں کی ہار پر پولیس کے چھاپے کی یاد میں ہر سال ہم جنس پرستی کی پر غرور پریڈ Gay Pride Prade نامی جلوس نکالتا ہے اور ان کے حقوق کی آواز بلند کرتا ہے۔ ہر سال ہزاروں ہم جنس پرست مرد اور خواتین 57 سال پہلے ہونے والے معمولی تشدد کو یاد رکھتے ہیں۔ اسی شہر کے محلوں میں اس امریکی فوجی یونٹ کے آفیسران بھی محو عیش ہیں جنہوں نے رشید دوستم کے سپاہیوں کے ساتھ مل کر دشت لیلیٰ کا قتل عام کیا تھا۔ ففتھ ایونیو سے ہم جنس پرستوں کی پریڈ شروع ہوتی ہے اور اب اسی جگہ پر امریکا کا نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ رہتا ہے۔

سیکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند ہیں اور علاقے کے لوگ پریشان، رات گئے اس کے ٹرمپ ٹاور کے سامنے کھڑا میں سوچ رہا تھا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں اس نے امریکا کے میڈیا کے بڑے بڑے اینکروں اور کرتا دھرتاؤں کو بلا کر کہا تھا کہ آج میں دنیا کے جھوٹوں کے سب سے بڑے ہجوم کے درمیان کھڑا ہوں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا سچ کیا ہے، اس کا سچ یہ ہے کہ امریکی سفید فام عیسائی ہر سیاہ فام، ہسپانوی، مسلمان اور یہاں تک کہ آزاد خیال، معاشی طور پر خود مختار عورتوں سے بھی نفرت کرتا ہے۔ اس نفرت کا اظہار اس کی جیت ہے اور اس کی جیت سے پورا نیویارک شہر خوفزدہ ہے۔

اوریا مقبول جان

دہشت گردی کے خلاف جنگ، پاکستان کو 118 ارب ڈالر کا نقصان

cccccاسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث ملک کو اب تک 118 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور یہ رقم مجموعی سالانہ ملکی پیداوار کے تیسرے حصہ سے زائد ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے معاشی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ جاری کی، جس میں کہا گیا کہ 2002 سے 2016 تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بل واسطہ اور بلا واسطہ ملک کو 118 ارب 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔ پاکستان کے سینٹرل بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ‘دہشت گردی کے واقعات کے باعث ملک میں معاشی اور سماجی شعبے کی ترقی کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا’۔

خیال رہے کہ 11 ستمبر 2001 میں امریکا پر ہونے والے حملوں کے بعد انھوں نے افغانستان میں فوجیں اتاریں تھی اور اس کے بعد پاکستان انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں امریکا کا اہم اتحادی قرار دیا گیا۔ مذکورہ جنگ کے دوران پاکستان کیلئے امریکا نے امداد برائے اتحادی تعاون یا کولیشن سپورٹ فنڈ منظور کیا تھا جس کے تحت پاکستان کو سالانہ ایک ارب ڈالر دیئے جانے تھے۔ یاد رہے کہ گذشتہ سال تک پاکستان کو مذکورہ فنڈ کے تحت 14 ارب ڈالر حاصل ہوئے تاہم اس کے مقابلے میں ملک کا ہونے والا نقصان 118 ارب 30 کروڑ ڈالر ہے۔ امریکی جنگ کا حصہ بننے کے بعد پاکستانی 2004 سے اپنی ہی سرزمین پر انتہا پسندوں سے بھی جنگ کررہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ اپنی سرزمین پر جاری جنگ کے دوران نا صرف پاکستان کو بڑی تعداد میں جانی نقصان اٹھانا پڑا جس میں ہلاکتیں اور اندرونی طور پر نقل مکانی بھی شامل ہے بلکہ اس کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آئی اور ملکی سرمایہ کاری رک گئی، برآمدات منجمد ہوگئیں اور ملک کی تجارت کو شدید نقصان پہنچا۔ واضح رہے کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے افغانستان سے منسلک سرحدی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے جس سے عسکریت پسندوں کی طاقت میں کمی آئی ہے جبکہ حال ہی شائع ہونے والی کچھ رپورٹس کے مطابق 2015 سے 2016 کے دوران ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ ادھر ڈان نیوز کے مطابق اسٹیٹ بینک نے جاری کی جانے والی سالانہ رپورٹ میں معاشی کارکردگی پراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو تجویز دی کہ سرمایہ کاری میں اضافے پر توجہ دی جائے۔

رپورٹ کے مطابق 30 جون 2016 کو ختم ہونے والے سال کے اختتام پر مہنگائی کی اوسط شرح گھٹ کر 2.9 فیصد پر آگئی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے حکومت کو یہ تجویز بھی دی کہ وہ سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ رپورٹ کے مطابق بچت اسکیموں میں اضافے کی ضرورت ہے اور نجی شعبے کو ملک میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کے لیے سہولیات دینا ہونگی کیونکہ اب تک نجی شعبے کی سرمایہ کاری حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ اس کے علاوہ عارضی اقدامات پر ٹیکس نظام کا انحصار معیشت میں بگاڑ پیدا کررہا ہے۔ دوسری جانب آئی ایم ایف نے رواں سال اکتوبر میں کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری آرہی ہے اور وہ مشکلات سے نکل رہی ہے جبکہ بیل آؤٹ پروگرام کے بعد ملک میں معاشی استحکام آرہا ہے۔

شربت بی بی سے شربت قیدی تک

gula
Read saleem-saafi Column sharbat-bibi-se-sharbat-qaidi-tak published on 2016-11-01 in Daily JangAkhbar

 

سلیم صافی

 

سبز آنکھوں والی بارہ سالہ افغان بچی

منو بھائی