امریکا کا اقوام متحدہ کی امداد میں کمی کا اعلان

امریکا نے اقوام متحدہ کے بجٹ میں کٹوتی کا اعلان کر دیا ہے ، اقوام متحدہ میں امریکی مشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق واشنگٹن اقوام متحدہ کے بجٹ میں 28 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کٹوتی کرے گا، اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکلی ہیلی نے کہا ہے اقوام متحدہ میں امداد میں کمی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ٹھیک سمت میں بڑا اقدام ہے، ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی نااہلیت اور فضولی خرچی کے چرچے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکی عوام کی فراخدلی کا ناجائز فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے اور اسے بغیر چیک کئے نہیں چھوڑ سکتے، انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس سال کے بجٹ میں کٹوتی کے فیصلے سے خوش ہیں، آپ کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ ہم اپنے مفادات کا تحفط کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی اہلیت کو بڑھانے کیلئے طریقہ کار تلاش کرتے رہیں گے، واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا تھا۔

Advertisements

دو تہائی امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر بنائے جانے پر پشیمان

امریکا میں ایک سروے کے مطابق دو تہائی امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے پر پشیمان ہیں۔ واضح رہے کہ امریکیوں کا کہنا تھا کہ ارب پتی امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر امریکا بننے کے بعد امریکا تقسیم ہو کر رہ گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے سے قبل اتنی مشکلات نہیں تھیں جتنی انہیں اب جھیلنی پڑتی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بھی بڑی تیزی سے تنزلی کا شکار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں چین نے امریکی صدر پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہا کہ اب سرد جنگ کی ذہنیت سے چھٹکارا پانا ہو گا۔ دوسری طرف روس نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیکیورٹی پالیسی سامراجیت ہے۔

امریکہ : کون سے ممالک ہیں جن پر امداد بند کر دینے کی دھمکی کارگر ثابت نہیں ہوئی

سب سے زیادہ امریکی امداد وصول کرنے والے 12 ملکوں کی فہرست میں اسرائیل کے علاوہ ایک بھی ملک ایسا نہیں جس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف پیش ہونے والی قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیا ہو۔ امریکی دفترِ خارجہ کی طرف سے کانگریس کو سال 2018 کے بحٹ کے لیے بین الاقوامی امداد کے بارے میں جو درخواست دی گئی ہے اس کے تحت اسرائیل بدستور امریکی امداد وصول کرنے والے ملکوں کی فہرست میں اول نمبر پر ہے۔ اسرائیل کے بعد اسلامی ملکوں میں سب سے زیادہ امداد مصر کو دی جاتی ہے جو اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی قرارداد کا محرک بھی تھا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کے بارے میں قرارداد پیش ہونے سے قبل امریکی سفیر نکی ہیلی نے اقوام متحدہ کے 193 ملکوں میں سے ایک سو اسی ملکوں کو خطوط ارسال کیے تھے جس میں اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ نکی ہیلی کی طرف سے سفارتی آداب سے ہٹ کر دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے یہ بات بھی کہی گئی تھی کہ جو ملک امریکی امداد وصول کرتے ہیں ان کی طرف سے قرارداد کے حق میں ووٹ دیے جانے کی صورت میں امداد پر نظر ثانی بھی کی جا سکتی ہے۔

امریکہ کی طرف سے دی جانے والی دھمکی کتنی کارگر ثابت ہوئی اور کون سے ایسے ممالک ہیں جن پر امریکی دھمکی کا کوئئ خاص اثر نہیں ہوا اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 35 ملک جنھوں نے مذکورہ قرارداد پر ہونے والی رائے شماری میں شرکت نہیں کی ان میں صرف یوگینڈا ایسا ملک ہے جو سب سے زیادہ امریکی امداد وصول کرنے والے ملکوں کی فہرست میں ساتویں نمبر پر ہے۔ کینیا اور زیمبیا بھی امداد وصول کرنے والے ملکوں میں ہیں اور یہ دونوں ملک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس اہم اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے۔

اسرائیل کو اور دنیا کے دیگر ملکوں کو دی جانے والی امریکی امداد کی ترسیل کے طریقہ کار میں بہت واضح بنیادی نوعیت کا فرق ہے۔ کانگریس سے منظوری کے بعد اسرائیل کو دی جانے والی امداد امریکہ میں اسرائیلی حکومت کے کھاتوں میں منتقل کر دی جاتی ہے اور اسرائیل کی حکومت کو اس بارے میں بھی پورا اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اسے جہاں چاہے اور جس مد میں چاہے استعمال کرے۔ امداد کی رقم پر ملنے والے سود پر بھی اسرائیلی حکومت کو مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ دوسری طرف دنیا کے دیگر ملکوں کو اس نوعیت کی رعایت اور سہولت حاصل نہیں ہوتی۔

امدادی رقم امریکی حکومت کے اکاؤنٹس میں ہی رہتی ہے اور امداد وصول کرنے والی حکومتیں امریکی انتظامیہ کی مرضی اور منشا سے پہلے سے متعین کردہ مدوں میں ہی اس رقم کو استعمال کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کو ہر سال تین ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دی جاتی ہے جس کے بعد مصر کا نمبر آتا ہے جس کو وصول ہونے والی سالانہ امداد ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر کے قریب ہے۔ یہ امداد مصر کو سنہ 1978 میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سے بغیر کسی تعطل کے مل رہی ہے۔

فراز ہاشمی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام

موسمیاتی تبدیلی , کروڑوں انسانوں کے بے گھرہونے کا خدشہ

جنوبی کیلی فورنیا (امریکا) میں لگنے والی آگ کی وجہ سے ہزاروں افراد کو اپنے گھر سے نکال کر دوسرے مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ اس سے بھی زیادہ افراد رواں سال کے اوائل میں ٹیکساس اور فلوریڈا میں آنے والے سمندری طوفانوں سے قبل اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جس سے شاہراہوں پر ٹریفک پھنسی رہی اور دوسرے علاقوں کے ہوٹل بھر گئے۔ سوشل میڈیا پر اس بارے میں ایک فضا سے لی گئی ویڈیو جاری ہوئی جس میں لوگوں کو فلوریڈا سے جان بچا کر جاتے ہوئے دکھایا گیا اور ساتھ ہی فکر مند کرنے والا سوال پوچھا گیا: اگر ہمسایہ امریکی ریاستیں کوئی دوسرا ملک ہوتیں اور وہ مہاجرین کو نہ آنے دیتیں تو کیا ہوتا؟

ماہرین کے مطابق رواں صدی کے نصف تک دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی سے بے گھر ہونے والوں کی تعداد 15 سے 30 کروڑ ہو جائے گی۔ اگر بالفرض ان تمام افراد کو کسی ملک کی آبادی تصور کر لیا جائے تو آبادی کے لحاظ سے یہ دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہو گا جس کی آبادی ریاست ہائے متحدہ کے لگ بھگ ہو گی۔ اس کے باوجود کسی ملک نے یا عالمی برادری نے ’’موسمیاتی مہاجرین‘‘ کے اس نئے گروہ کی مدد کے لیے پوری طرح تیاری نہیں کی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں گرمی کی لہروں میں شدت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ موسمیاتی تبدیلی سے مہاجر ہونے والوں یا نقل مکانی کرنے والوں کے لیے ملکی، علاقائی اور عالمی سطح پر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے لوگ پہلے ہی نقل مکانی کرنے یا مہاجر بننے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ میکسیکو میں جنگلات میں ہونے والی کمی سے ہر سال سات لاکھ افراد کو دوسرے مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ جنوبی بحرالکاہل میں ٹووالو (چند جزائرپر مشتمل چھوٹا ساملک) اور کیربئین میں پورٹوریکو تک موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والے سمندری طوفانوں نے ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا۔ ماہرین کا اتفاق ہے کہ شام میں خانہ جنگی کو تیز کرنے میں وہاں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے آنے والی طویل مدت قحط سالی کا کردار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2008ء سے 2015ء تک سالانہ اوسطاً دو کروڑ 64 لاکھ افراد موسمیاتی یا ماحولیاتی آفات سے بے گھر ہوئے۔

موسمیات سے متعلق سائنسی تحقیقات سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ رجحان برقرار رہے گا۔ درجہ حرارت میں ایک سینٹی گریڈ اضافے کا مطلب ہے کہ فضا میں نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت میں سات فیصد اضافہ، اور شدید طوفان۔ 2100ء تک سطح سمندر میں تین فٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے ساحلی علاقے اور آباد جزائر زیرآب آ جائیں گے۔ بحرالکاہل میں واقع جزائر کی صورت حال سب سے زیادہ تشویش ناک ہے۔ اسی طرح امریکا سمیت دنیا کے 410 شہر خطرے میں ہیں۔ ان میں ایمسٹرڈیم، ہیمبرگ، لزبن اور ممبئی شامل ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافے سے مغربی ایشیا کے کچھ علاقوں میں زندگی گزارنا دشوار ہو جائے گا۔

ستمبر میں جس دن فلوریڈا میں سمندر ی طوفان ’’ارما‘‘ آیا اسی دن دور دراز واقع ایک اور خطے میں بھاری بارشوں نے ایک تہائی بنگلہ دیش اور انڈیا کے مشرقی حصوں کو ڈبو کر رکھ دیا۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے یوں تو ہر خطہ کسی نہ کسی حد تک متاثر ہو گا لیکن اس کا سب سے زیادہ اثر ترقی پذیر ممالک کے غریب لوگوں پر پڑے گا۔ یہاں موسم کی شدت اور وبائیں بہت نقصان کریں گی۔ کم وسائل اور خوراک کی کمی کا شکار افراد زیادہ متاثر ہوں گے۔ حکومتوں اور تنظیموں جیسا کہ اقوام متحدہ کو قوانین بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلوں کے نتیجے میں ہجرت کرنے والوں کے لیے گنجائش پیدا کی جا سکے۔ ان متاثرین کے لیے انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کو اخلاقی اور سماجی موضوع بنانے کی ضرورت ہے۔

موسمیاتی تبدیلی میں سب سے زیادہ کردار امیر ممالک کی طرف سے پھیلائی گئی آلودگی کا ہے لیکن اس کے زیادہ تباہ کن نتائج غریب ممالک کو بھگتنا پڑیں گے۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ جو ممالک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں انہیں مہاجرین یا نقل مکانی کرنے والوں کی بھی زیادہ ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔ موسمیاتی تبدیلی پر ہونے والے ’’پیرس معاہدہ‘‘ میں ’’موسمیاتی مہاجرین‘‘ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم کچھ تنظیموں اور حکومتوں کی جانب سے کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔ موسمیاتی مہاجرین کی تعریف و توضیح کرنا آسان نہیں اور یہ نئی پالیسیاں بنانے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مہاجرین کے بارے میں مختلف ممالک کی پالیسیاں مختلف رہی ہیں۔ کہیں انہیں خوش آمدید کہا گیا تو کہیں انہیں قید خانوں میں رکھا گیا۔ کچھ ممالک جوانوں اور کام کرنے کے قابل افراد کو تو داخلے کی اجازت آسانی سے دیتے ہیں لیکن عمر رسیدہ اورناتواں لوگوں کو نہیں۔

 (تلخیص و ترجمہ: رضوان عطا)

چین میں آئی فون کا چہرہ پہچاننے والا فیچر ناکام ہو گیا

چین میں ایپل کمپنی کے نئے ماڈل آئی فون ایکس میں متعارف کرائی جانے والی چہرہ پہچاننے کی خصوصیت (فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی) ناکام ہو گئی ہے اور معلوم ہوا ہے کہ لوگ کسی کے بھی موبائل کا لاک آسانی سے کھول سکتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی کنزیومر مارکیٹ کی جانب سے ایپل پر تعصب کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک خاتون کو ان کے شوہر نے آئی فون ایکس کا نیا ورژن خرید کر دیا لیکن موبائل پر لاک لگانے کے باوجود خاتون کے بیٹے نے اپنے چہرے کے ذریعے فون کا لاک کھول لیا۔

یہ صرف ایک ہی واقعہ نہیں بلکہ شنگھائی میں کئی لوگوں نے یہی شکایت کی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے آئی فون استعمال کرنے والے چینی شہریوں نے فون کی سیکورٹی اور پرائیوسی کے فیچرز پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا ہے۔ خاتون کے شوہر کا نام صرف ’’لیو‘‘ کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے، جیسے ہی انہیں اس مسئلے کا علم ہوا انہوں نے ایپل کے کسٹمر سروس سینٹر پر فون کر کے شکایت درج کرائی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیس آئی ڈی موبائل کا سامنے والا کیمرا ’ٹروُ ڈیپتھ‘ استعمال کرتی ہے جس کے بعد ایک ڈاٹ پروجیکٹر چہرے کے 30؍ ہزار پوائنٹس کے ذر یعے A11 پراسیسر استعمال کرتے ہوئے چہرہ  شناخت  کرتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایپل نے اس شکایت پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

فلپائن کو سمندری طوفان نے سوگوار کر دیا

فلپائن کے جنوبی علاقوں کو سمندری طوفان ٹیمبِن نے تاراج کر کے رکھ دیا ہے۔ اس طوفان سے ہونے والی ہلاکتیں دو سو تک پہنچ گئی ہیں جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ امدادی کارکنوں کے مطابق جنوبی فلپائنی علاقے کے جزائر کو سمندری طوفان نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق ان جزائر پر ہر طًرف بربادی پھیلی ہوئی ہے اور متاثرہ افراد امداد کے طلب گار ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں میں اضافہ اور لاپتہ افراد کی بڑی تعداد کی وجہ مقامی باشندوں کی جانب سے حکومتی انتباہی ہدایات کا نہ ماننا خیال کیا گیا ہے۔

سمندری طوفان ٹیمبِن کی زد میں آ کر فلپائنی علاقوں میں ہونے والی ہلاکتیں 200 تک پہنچ گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد 144 ہے۔ زیادہ تر ہلاکتیں منڈاناؤ اور قریب کے چھوٹے چھوٹے جزائر پر ہوئی ہیں۔ طوفان کے ساتھ آنے والی شدید بارشیں اور تیز رفتار جھکڑوں نے زندگی کا نظام درہم برہم کر دیا ہے۔ فلپائن کے دوسرے بڑے جزیرے منڈاناؤ کی پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ طوفان سے ہونے والی ہلاکتوں میں اضافے کا قوی امکان ہے کیونکہ امدادی عمل کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے توں توں تباہ شدہ مکانات میں سے نعشیں دستیاب ہو رہی ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ اہلکار کا کہنا ہے کہ مٹی تلے دبے ہوئے کئی افراد کے بچنے کے امکانات بھی بتدریج معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

لینڈ سلائیڈنگ اور موسمی دریاؤں میں آنے والے اچانک سیلابوں کی وجہ سے ہزاروں افراد عارضی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ کئی دیہاتی علاقوں کو سمندری طوفان نے تقریباً تباہ کر دیا ہے۔ انٹرنیشنل ریڈ کراس نے بے گھر ہونے والوں کی تعداد ستر ہزار بتائی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں فوج، پولیس اور شہری دفاع کے اہلکار دوسرے امدادی رضاکاروں کے ساتھ تلاش اور لوگوں کو محفوظ علاقوں تک لانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انتظامی حکام کے مطابق طوفان سے متاثرہ علاقوں میں امدادی عمل کے ساتھ ساتھ بجلی اور مواصلات کے نظام کو بحال کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ فلپائن کو اوسطاً ایک سال کے دوران کم از کم بیس سمندری طوفانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مختلف علاقوں کے رہائشیوں کے لیے خصوصی اطلاعات اور انتباہ بھی جاری کرنا معمول ہے لیکن اکثر لوگ ان اطلاعات پر پوری طرح عمل کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی دھمکی بے اثر، امریکی امداد بند ہونے کا کوئی خطرہ نہیں

تمام عرب ممالک سمیت دنیا کے 120 ملکوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹ ڈالتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ واپس لے۔ امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ وہ اُن تمام ممالک کیلئے امریکی امداد بند کر دیں گے جنہوں نے مصر کی طرف سے تیار کردہ قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ اس سے قبل سلامتی کونسل کے کل 15 میں سے 14 ارکان نے امریکی اقدام کے خلاف ووٹ دیا تھا جسے امریکہ نے ویٹو کر دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے بعد اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے، ’’مشرق وسطیٰ میں احمقانہ طور پر 70 کھرب ڈالر خرچ کرنے کے بعد وقت آ گیا ہے کہ اب ہم یہ رقم اپنے ملک کی تعمیر نو پر خرچ کریں۔‘‘

مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ امریکی امداد مصر اور اُردن کو فراہم کی جاتی ہے لیکن ان دونوں ممالک میں صدر ٹرمپ کی دھمکی کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اُردن کے ایک وزیر کا کہنا ہے کہ امریکی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ مستحکم اُردن اس خطے میں امریکی مفادات کیلئے کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔
اُردن کو ہر سال امریکہ سے فوجی اور دیگر شعبوں کیلئے ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی امداد ملتی ہے۔ مذکورہ وزیر نے کہا کہ اس بات کی توقع نہیں ہے کہ امریکی انتظامیہ یہ امداد بند کر دے گی۔ تاہم اگر اُس نے ایسا کیا تو یہ اُردن کی معیشت کیلئے تباہ کن ہو گا۔

اُردن کے سابق وزیر اعظم طاہر المسری نے کہا ہے کہ مسائل کے شکار اس خطے میں امریکی اتحادی ہونے کی حیثیت سے غالباً اُردن کیلئے امریکی امداد برقرار رہے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکہ یہ امداد خیرات کے طور پر نہیں دے رہا بلکہ یہ اُردن کی طرف سے علاقے میں استحکام برقرار رکھنے کے اقدامات کا معاوضہ ہے۔ طاہر المسری نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمان اور عرب ملک صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے اقدام کو مکمل طور پر رد کرنے سے کم کسی بات پر رضامند نہ ہوتے۔

یروشلم میں مسلمانوں، یہودیوں اور مسیحیوں کی مقدس مذہبی عمارات موجود ہیں اور اس کی حیثیت کے بارے میں عرصہ دراز سے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعہ جاری رہا ہے جسے طے کرنے کی لاتعداد کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ اُردن کا شاہی خاندان یروشلم میں موجود مسلمانوں کے قبلہ اول کا محافظ ہے اور یروشلم کی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کے خیال سے اُردن میں تناؤ بڑھ جاتا ہے۔ اُدھر مصر میں ایٹلانٹک کونسل کے ایک ماہر ایچ اے ہیلیئر کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی دھمکی کے باوجود مصر کیلئے ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی امریکی امداد بند ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔