شمالی کوریا کی جنگی تیاریاں

خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس مختلف رینج کے 1000 میزائل ہیں جن
میں انتہائی طویل رینج کے ایسے میزائل بھی شامل ہیں جو مستقبل میں امریکہ کو نشانہ بنانے کے قابل ہو سکیں گے۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ٹیکٹیکل آرٹلری راکٹوں سے شروع ہونے والا شمالی کوریا کا میزائل پروگرام گذشتہ چند دہائیوں میں کافی پیشرفت کر چکا ہے اور اب پیانگ یانگ کے پاس شارٹ اور میڈیم رینج کے بلسٹک میزائل ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے اس سے بھی زیادہ رینج کے میزائلوں پر تحقیق اور تیاری کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں شمالی کوریا نے اعلان کیا تھا وہ بین البراعظمی رینج کے میزائل تیار کر رہا ہے جن میں مغربی ممالک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہو گی۔

میزائلوں کی رینج

شارٹ یا کم رینج میزائل: ایک ہزار کلومیٹر سے یا اس سے کم

میڈیم یا درمیانی رینج میزائل: ایک ہزار سے تین ہزار کلومیٹر

انٹرمیڈیٹ یا متوسط رینج: تین ہزار سے پانچ ہزار کلومیٹر

انٹر کانٹنینٹل یا بین البراعظمی رینج: ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر سے زیادہ

بذریعہ: فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹ

شارٹ یا کم رینج میزائل

شمالی کوریا کا جدید میزائل پروگرام سکڈ میزائلوں سے شروع ہوا تھا جن کی پہلی کھیپ مبینہ طور پر 1976 میں مصر سے منگائی گئی تھی۔ 1984 تک شمالی کوریا اسی طرز کے واسونگ نامی میزائل تیار کر رہا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کم رینج کے متعدد قسم کے میزائل ہیں جو کہ ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ دونوں کوریائی ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور قانونی طور پر دونوں ایک دوسرے کے خلاف حالتِ جنگ میں ہیں۔

امریکہ میں ’سنٹر فار نان پرولفریشن سٹڈیز‘ کے مطابق واسونگ ۔5 اور واسونگ 6 کی بالترتیب 300 اور 500 کلومیٹر کی رینج ہے۔ یہ میزائل روایتی وار ہیڈ استعمال کرتے ہیں مگر ان میں کیمیائی، بائیولوجیکل، اور جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ ان دونوں میزائلوں کو ٹیسٹ کیا جا چکا ہے اور واسونگ ۔6 ایران کو بھی بیچا جا چکا ہے۔

درمیانی رینج کے میزائل

1980 کی دہائی میں شمالی کوریا نے ایک نیا درمیانی رینج کا میزائل، نوڈانگ تیار کرنا شروع کیا جس کی رینج تقریباً 1000 کلومیٹر تھی۔ یہ میزائل بھی سکڈ میزائل کے ڈیزائن پر تیار کیا گیا مگر اس کا حجم 50 فیصد زیادہ تھا اور اس کا انجن زیادہ طاقتور تھا۔ انٹرنیشل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے اپریل 2016 کے جائزے میں کہا گیا کہ یہ میزائل ایک ٹیسٹ شدہ نظام کے تحت لائے گئے ہیں اور یہ جنوبی کوریا کے تمام اور جاپان کے بیشتر علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ شمالی کوریا نے اکتوبر 2010 میں انھیں میزائلوں میں جدت لا کر ان کی رینج 1600 کلومیٹر تک کر دی جس کے نتیجے میں یہ جاپانی جزیرے اوکیناوا میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نوڈنگ کو 2006، 2009، 2014، اور 2016 میں ٹیسٹ کیا گیا۔

متوسط رینج کے میزائل

شمالی کوریا کئی سالوں سے موسودان نامی میزائل کے تجربے کر رہا ہے اور آخری مرتبہ انھیں 2016 میں ٹیسٹ کیا گیا۔ ان میزائلوں کی رینج کے بارے میں اندازوں میں کافی تضاد ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ان کی رینج 2500 کلومیٹر ہے جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی رینج 3200 کلومیٹر ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق کے 4000 کلومیٹر تک نشانہ بنا سکتے ہیں۔

نوڈنگ۔ بی یا ٹیپوڈونگ۔ایکس نامی میزائل شمالی کوریا اور جاپان دونوں کے تمام علاقوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس کی رینج کی حد میں گوام میں امریکی فوجی اڈے بھی آتے ہیں۔ وار ہیڈ کے حوالے سے ان میزائلوں کی صلاحیتوں کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں مگر خیال کیا جاتا ہے کہ ایک سے سوا ایک ٹن کا وار ہیڈ لے جا سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’زمین سے زمین تک مار کرنے والا میڈیم ٹو لانج رینج کے بلسٹک‘ میزائل بھی تیار کیے ہیں۔ اس طرز کے پکگکسونگ کا اگشت 2016 میں تجربہ کیا گیا جسے ایک آبدوز سے لانچ کیا گیا۔

پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ انھوں اس کے لیے سالڈ ایندھن استعمال کیا جس کے ذریعے اسے لانچ کرنے کا عمل جلدی ہو سکے گا۔ تاہم اس کی رینج کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

بین البراعظمی بلسٹک میزائل

شمالی کوریا اپنا طویل ترین رینج کا میزائل تیار کر رہا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ موبائل لانچر سے داغا جا سکے گا اور اس کا نام کے این ۔ 08 ہو گا۔ اس پیشرفت کا ابتدائی اندازہ اس وقت لگایا گیا جب ستمبر 2016 میں شمالی کوریا نے ایک نیا راکٹ انجن ٹیسٹ کیا جو کہ ایک بین البراعظمی بلسٹک میزائل پر لگایا جا سکے گا۔ امریکی وزارتِ دفاع کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کم از کم چھ کے این_08 میزائل ہیں جو کہ امریکہ کے بیشتر علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا نے اس سے بھی زیادہ رینج والا کے این۔ 14 تیار کر لیا ہے مگر اسے کبھی عوامی سطح پر ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ جنوری 2017 میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک بین البراعظمی بلسٹک میزائل تیار کرنے کے آخری مراحل میں ہے۔

Advertisements

شام کی سرزمین سے انسانیت کے نام

کرامہ مہاجر کیمپ کے انچارج کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ ادلب کے قریب  شامی سرحد کے اندر یہ کیمپ ترکی کی ایک رفاعی تنظیم انسانی حقوق و حریت (IHH) نے قائم کیا تھا۔ یہ کیمپ اس وقت سے قائم ہے جب سے جنگ کا آغاز ہوا اور ایسے کئی کیمپوں میں دن بدن اضافی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس وقت نو لاکھ شامی بارڈر پر موجود ان کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ان کے لیے ترک سکولوں میں داخلہ مفت ہے اور اسپتالوں میں علاج بھی مفت۔ یہ وہ خوش قسمت ہیں جو تھوڑی بہت جمع پونجی بچا کے ترکی آ گئے، کوئی ہنر جانتے تھے، یا تعلیم تھی اور یہاں کسی روزگار سے منسلک ہو گئے۔

یہ لوگ جس طرح کی رہائشوں میں رہ رہے ہیں وہ اذیت ناک ہیں۔ مثلا ایک برگیڈئیر کی بیوہ جس کے سامنے اس کے بھائی، خاوند اور باپ کو بشار الاسد کے فوجیوں نے اذیت دے کر مارا، اپنی بچیوں کے ساتھ ایک دوکان کرائے پر لیکر اس میں رہ رہی ہے لیکن کیمپوں میں رہنے والوں کی حالت انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اگر باپ کو کپڑے بدلنا ہوں تو پورے گھر کو باہر نکلنا ہوتا ہے اور یہی کچھ کسی دوسرے فرد کے کپڑے بدلنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ ان کیمپوں میں گذشتہ پانچ سال سے رہ رہے ہیں۔ یعنی جو بچہ جنگ شروع ہوتے پانچ سال کا تھا اب گیارہ کا ہو چکا ہے اور جو گیارہ کا تھا وہ سترہ کا۔ اس دوران یہ بچے نہ کسی سکول پڑھنے کے لیے گئے اور نہ ہی کوئی ہنر سیکھا۔ یوں اگر کچھ برسوں کے بعد شام میں امن آبھی جائے تو یہ نسل نہ تعلیم یافتہ ہو گی اور نہ ہی کسی ہنر سے آشنا۔ ان کے برعکس نا ڈاکٹر ہوں گے نا انجنیئر بلکہ نا ہئیر کٹنگ والے ہوں گے نہ ڈرائی کلین کرنے والے۔ ایک المیہ پروان چڑھ رہا ہے۔

کرامہ کے مہاجر کیمپ کا انچارج رو رہا تھا اور اس سے واقعہ بیان نہیں ہو رہا تھا۔ ہمت باندہ کر اس نے کہا کہ میں ڈاکٹر کے پاس ہسپتال میں گیا۔ اس وقت وہ ایک جنگی زخمی کے بدن سے بم کے ٹکڑے نکالنے جا رہا تھا۔ میں نے کہا آپ اپنا کا م کر لیں۔ اس نے کہا نہیں تم میرے ساتھ چلو گے، میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس بیہوش کرنے والی دوا Anesthesia نہیں ہے اور ہم مستقل آپریشن کر رہے ہیں۔ میں گھبرا گیا لیکن وہ میرا بازو پکڑ کر ساتھ لے گیا۔ جب اس نے اوزار تھامے تو ڈاکٹر بھی رو رہا تھا اور مریض کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔ اس بار اس نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر چھری سے جسم کا کاٹنا شروع کیا اور ساتھ ہی سورہ اخلاص پڑھتا رہا۔ مہاجر کیمپ کا انچارج کہتا ہے کہ میں میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس دوران مریض نے زبان سے اف تک نا نکالی بلکہ وہ مستقل حسبی اللہ و نعم الوکیل بڑھتا رہا۔ جب جسم سے بموں کے ٹکڑے نکال کر اسے سی دیا گیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ تم نے دیکھ لیا اس وقت سورہ اخلاص ہی ہمارا Anesthesia ہے۔

یہ صرف ادلب کے قریب ایک کیمپ کا ذکر ہے۔ یہ وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو بھاگ کر ان کیمپوں میں پناہ لینے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ یوں تو ان لوگوں کی داستانیں خون کے آنسو رلاتی ہیں لیکن ان کو اپنے ان بھائیوں کی فکر کھائے جاتی ہے جو شام کے شہروں میں محصور ہیں۔ دمشق اور حمص کے علاقوں سے آنے والے مہاجرین بتاتے ہیں کہ بشار الاسد کی فوج کا محاصرہ اس قدر اذیت ناک تھا کہ بچوں پر کئی کئی دن فاقے آتے تھے۔ ایک شخص نے ایک بوری چاول کے عوض اپنا پورا باغ بیچ دیا کہ اس سے بچوں کی بھوک نہیں دیکھی جا رہی تھی۔ جب سب کچھ ختم ہو گیا اور کھانے کے لیے کچھ بیچنے کو بھی باقی نہ تھا تو علماء نے فتویٰ دیا تھا کہ اب جان بچانے کے لیے بلیاں اور کتے بھی ذبح کر کے کھائے جا سکتے ہیں اور لوگوں نے وہ بھی کھائے۔

ترکی کی سرحد کے ساتھ آپ سفر کریں تو آپکو ہر شہر کے مقابل ایک شہر ملے گا۔ جیسے ریحان علی کے سامنے ادلب اور اس کے قرب و جوار ہیں۔ غازی انتب کے سامنے حلب کا علاقہ ہے۔ اب تک نو لاکھ افراد اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں اور اس وقت گیارہ لاکھ شامی بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ ترکی کی سرحد کے اندر جو دارالیتامیٰ یعنی یتیم خانے کھولے گئے ہیں، ان کے اندر جانا بھی ایک تکلیف دہ تجربہ ہے۔ بچے آپ سے ایسے لپٹ جاتے ہیں جیسے کوئی بچھڑا ہوا باپ یا بھائی گھر آ گیا ہو۔ ایک یتیم خانے میں داخلہ ہوا تو میرے ہاتھ میں مائیک دیکھ کر بچیاں اس سے کھیلنے لگ گئیں۔ کبھی کچھ کبھی کچھ اچانک ایک ساتھ کھڑی ہو کر خوبصورت قرات کے ساتھ سورہ کہف پڑھنے لگ گئیں۔ ان پانچ چھ سال کی بچیوں کو کیا علم کہ اس سورت کو آج کے دور میں پڑھنے کی کس قدر اہمیت ہے۔ رسول اللہ نے اسے فتنہ دجال سے حفاظت کے لیے پڑھنے کی تلقین کی ہے۔

ادلب میں کچھ دن پہلے بشار الاسد نے کیمیکل ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا، میں کیمپ کے اس ہسپتال بھی گیا جہاں وہ بچے لائے گئے تھے اور ان بچوں سے بھی ملا ہوں۔ ان کی تکلیف کی کہانیاں اس قدر درد واذیت سے بھرپور ہیں کہ کوئی پتھر دل والا بھی ایک کہانی کے بعد دوسری سننے کی تاب نہیں لا سکتا۔ ریحان علی کا وہ ہسپتال جس میں ان کا علاج ہوا وہاں کسی نے ان بچوں سے پوچھا کہ یہ کس نے کروایا؟ بچے پکارتے تھے بشار الاسد۔ ایک بچہ جو ذرا بڑا تھا اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رہا تھا، ابھی کیمیائی ہتھیاروں کے اثر سے پوری طرح باہر نہیں نکلا تھا۔ ایک دم غصے سے تلملا اٹھا اور سانس بحال کر کے بولنے لگا۔ جہاز بشار الاسد کے پاس ہیں یا پھر روس اور امریکہ۔ پھر اس بچے نے عالمی سیاست کی گھتی سلجھاتے ہوئے کہا کہ روس اور امریکہ تو بشار کے یار ہیں۔

غازی انتب کا شہر حلب کے ساتھ جڑا ہے۔ پہلے یہ بھی حلب کا حصہ ہوتا تھا لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد جب خلافت عثمانیہ ٹوٹی تو حصہ فرانسیسی شام میں چلا گیا۔ غازی انتب سے حلب کے علاقے میں داخل ہوں تو پہلے جرابولس کا شہر آتا ہے۔ یہاں پر”احرار الشام” کا کنٹرول ہے اور پورا شہر برباد ہو چکا تھا لیکن اب کسی حد تک واپسی کی جانب لوٹ رہا ہے۔ شہر کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا مہاجر کیمپ ہے جس کے رہنے والے خوبصورت بچے ایسے لگتا ہے انہوں نے کئی ماہ سے منہ نہیں دھویا۔ یہ علاقہ پہلے داعش کے پاس تھا ، یہاں پہ کردوں کی PKK اور پیش مرکہ بھی مورچہ زن تھے۔ اب یہ علاقہ ایک گروہ کے کنٹرول میں ہے اس لیے یہاں امن ہے لیکن اس کے ہسپتال میں روزانہ سو سے زیادہ عورتیں اور بچے لائے جاتے ہیں جو اس خوفناک جنگ کے زخمی ہیں اور انہیں علاج کی فوری ضرورت ہے۔ ان میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہوتی ہے۔ مرد، یوں لگتا ہے کہ امریکہ، روس، ایرانی پاسداران، بشار الاسد کا نشانہ ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کی شام مہں ان کا کوئی مخالف مرد زندہ نہ رہے۔

  بشکریہ روزنامہ 92 نیوز

اوریا مقبول جان

ترک عوام کا ریفرنڈم میں تاریخی فیصلہ

ترک سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق صدارتی اختیارات سے متعلق ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج آ چکے ہیں جس میں 51.4 فیصد ووٹرز نے صدر رجب طیب اردوان کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ریفرینڈم کے سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد صدر رجب طیب اردوان 2029 تک عہدے پر فائز رہیں گے اور انہیں وہ اختیارات حاصل ہو جائیں گے جو اس وقت وزیراعظم کو حاصل ہیں جن میں کابینہ کے وزرا کا انتخاب، سینیئر ججوں کے چناؤ اور پارلیمان کو برخاست کرنے کے وسیع اختیارات شامل ہیں۔

ریفرینڈم کے لیے ایک لاکھ 67 ہزار پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے جہاں ساڑھے 5 کروڑ رجسٹرڈ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم بن علی یلدرم کو فون کر کے نتائج پر مبارکباد دی اور کہا ہے کہ ترک ریفرنڈم میں عوام نے صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دیدیا ہے۔ ترکی کے صدر کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کے لیے تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

ترک پارلیمان نے جنوری میں آئین کے آرٹیکل 18 کی منظوری دی تھی ۔ صدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کے استحکام کے لیے تبدیلیاں ضروری ہیں۔ نئی اصلاحات کے تحت ملک کے وزیراعظم کا عہدہ ختم ہو جائیگا اس کی جگہ نائب صدر لیں گے۔ اسکے علاوہ پارلیمنٹ میں اراکین کی تعداد 550 سے بڑھکر 600 ہو جائیگی جبکہ رکن پارلیمنٹ بننے کیلئے عمرکی حد 25 سال سے کم کرکے 18 سال ہو جائیگی۔

ایسا بم کیوں استعمال کیا گیا، اس وقت ہی کیوں؟

جب افغانستان کے شمالی ضلع شنوار کے پولیس افسر کریم نے دھماکے کی آواز سنی تو وہ اس کی شدت کی وجہ سے کچھ دیر کیلئے ششدر رہ گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ‘میں نے اس قبل ایسا کچھ نہیں سنا تھا’۔ وہ اور اس کے ساتھی یہ نہیں جاتے تھے کہ کس چیز کی آواز ہے لیکن انھیں یہ معلوم تھا کہ انھیں رد عمل ظاہر کرنا چاہیے۔ ‘ہم سمجھے کہ یہ خود کش دھماکا ہے’ لیکن یہ نہیں تھا۔ یہ آواز 300 ملین ڈالر کی رقم سے تیار ہونے والے 21600 پاؤنڈ وزنی بم ‘جی بی یو 43’ کی تھی جو امریکا نے ضلع اچن میں داعش کے تھکانے پر گرایا تھا۔ امریکی اور افغان حکام کے مطابق جمعرات کو ہونے والے بم حملے، اس بم کو ‘تمام بموں کی ماں’ کے نام سے پکارا جاتا ہے، کا مقصد دہشت گرد تنظیم داعش کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانا تھا۔

 

ننگرہار میں ہونے والے اس امریکی حملے کی خبر تیزی سے پورے افغانستان میں پھیل گئی، کابل اور صوبہ ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں مقامی افراد نے اس پر یقین کرنے سے انکار کیا۔ جلال آباد کے ایک رہائشی داؤد کا کہنا تھا کہ ‘میں اس پر یقین نہیں کر سکتا ہوں، ایسا بم کیوں استعمال کیا گیا، اس وقت کیوں؟’

دوسری جانب طالبان نے بم حملے کی مزمت کرتے ہوئے اسے غیر انسانی اور غیر ملکی فورسز کی ناقابل قبول کارروائی قرار دیا، یاد رہے کہ طالبان اور داعش ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں ان کے درمیان طویل جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ جس میں دونوں فریقین کو نقصان اٹھانا پڑا۔

گذشتہ 15 روز کے دوران ایک درجن سے زائد آپریشنز کے بعد امریکا کی جانب سے یہ بم حملہ کیا گیا جو داعش کیلئے ایک فیصلہ کن دھچکا ہو سکتا ہے۔ افغان اور امریکی فورسز نے گاؤں اسد خیل کے مذکورہ علاقے کو اس حملے سے قبل بند کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بم دھماکے سے قبل علاقے کو عام شہریوں سے خالی کرا لیا گیا تھا۔ نورجان، جس کے قریبی عزیز جن میں ایک 60 سالہ شخص اور 3 بچے شامل ہیں علاقے میں جاری آپریشن کے دوران ہلاک ہو گئے تھے، کا کہنا تھا کہ شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کیلئے خبردار کیا گیا تھا۔

انھوں نے اپنے موبائل پر موجود ایک کارڈ کی تصویر کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ‘سیکیورٹی فورسز نے لوگوں کو کارڈ نکال کر دیے اور علاقہ خالی کرنے کو کہا’۔ خیال رہے کہ گذشتہ 3 سال کے دوران ضلع اچن اور اس کے اطراف کے اضلاع میں موجود شہری، علاقہ خالی کرنے پر مجبور کیے گئے جیسا کہ داعش زمین حاصل کرنا چاہتی تھی۔ علاقے میں داعش کے خلاف دو ہفتوں سے جاری آپریشن میں شریک ایک سپاہی کا کہنا تھا کہ ‘داعش نے انھیں کہا تھا کہ اگر کوئی جائے گا تو وہ بھول جائے کہ کبھی اپنے علاقے میں واپس لوٹ پائے گا’۔ افغانستان میں امریکی فورسز کے کمانڈر جان نکلسن نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ واشنگٹن اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہا ہے کہ کسی شہری کو نقصان نہ پہنچے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘علاقے میں ہمارے پاس امریکی فورسز موجود ہیں اور ہمیں کسی شہری کی ہلاکت کے ثبوت نہیں ملے ہیں اور نہ ہی ایسا کچھ رپورٹ ہی ہوا ہے’۔ امریکی فورسز اب بھی لڑائی میں مصروف ہیں جیسا کہ دن بھر بم دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ مقامی افراد جو اس مقام کے قریب موجود ہیں میڈیا سے بات کرنے کیلئے تیار نہیں اور اس بات پر زور دے دہے ہیں کہ انھوں نے کچھ نہیں سنا اور نہ ہی کچھ دیکھا۔ تاہم مقامی اور غیر ملکی میڈیا سے تعلق رکھنے والے افغان صحافی اب بھی علاقے میں جانے کیلئے منتظر ہیں کیونکہ امریکی ہیلی کاپٹر اب بھی اس علاقے پر پرواز کر رہے ہیں اور بم حملے میں ہلاکتوں کی درست تعداد کے بارے میں اب بھی یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

(نوٹ: یہ رپورٹ ننگرہار کے ضلع اچن میں موجود علی محمد لطیفی نے تحریر کی)

مالدیپ : پانیوں میں گھرا ایک خوبصورت ملک

مالدیب بحر ہند کے پانیوں میں گھرا ایک چھوٹا اور خوبصورت ملک ہے۔ یہ بہت سے جزائر پرمشتمل ہے جس میں سے بیشتر غیر آباد ہیں۔ دو سو کے قریب جزائر پر انسان آباد ہیں لیکن بیشتر آبادی دارالحکومت مالے میں رہتی ہے۔ مالدیپ پاکستان سے بہت زیادہ دور نہیں۔ یہ ایک خوبصورت ملک ہے۔ یہاں کے سمندری ساحلوں سے لطف اندوز ہونے کی چاہ رکھنے والے سیاحوں کے لیے اس میں بہت کشش ہے۔ ملک کا ویزا لینا بھی آسان ہے۔ مالدیپ کا موسم سال کے بیشتر حصے میں خوش گوار رہتا ہے۔ نومبر سے اپریل تک کا موسم سیاحت کے لیے انتہائی موزوں سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد مون سون کی بارشیں شروع ہو جاتی ہیں جن کا سلسلہ مئی سے اکتوبر تک رہتا ہے۔

ان بارشوں میں زیاہ گھومنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس ملک کو قدرت نے صاف اور شفاف پانیوں سے نوازا ہے۔ ان پانیوں کے قریب آتے ہی سمندری حیات صاف نظر آنے لگتی ہے اور سیکڑوں اقسام کی مچھلیوں اور نباتات کو عام آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ مالدیپ کے پانیوں میں انواع و اقسام کی آبی حیات پائی جاتی ہے۔ ان پانیوں میں خوطہ خوری کرنے کے لیے بولی ساؤتھ کارنر بہت اچھا مقام ہے جہاں شفاف پانیوں میں متنوع آبی حیات کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ مالدیپ کے لوگوں کی خوراک میں مچھلی اور ناریل خاص طور پر شامل ہیں اور دونوں سے انواع و اقسام کے لذیذ کھانے تیار کیے جاتے ہیں جن سے سیاح لطف اٹھاتے ہیں۔ ملک میں چند مقامات پر مچھلیوں کو کھانا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مختلف اقسام کی مچھلیاں وہاں جمع ہو جاتی ہیں۔ ان میں شارک کی دو اقسام بھی شامل ہیں۔ سیاح اس کا نظارہ کرنا نہیں بھولتے۔ مالدیپ آنے والے بڑی بڑی کشتیوں پر سمندر کی سیر کا لطف ضرور اٹھاتے ہیں۔

لبنان میں خانہ جنگی کے پندرہ سال

لبنان 1975ء سے 1990ء تک خانہ جنگی کا شکار رہا۔ اس خانہ جنگی کا آغاز اپریل کے وسط میں ہوا۔ طویل خانہ جنگی کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ دوسرے الفاظ میں اس لڑائی میں لبنان کی تقریباً سات فیصد آبادی ماری گئی۔ اس خانہ جنگی کے نتیجے میں اندازاً دس لاکھ افراد کو ملک چھوڑنا پڑا۔ خانہ جنگی کا آغاز موارنہ مسیحی اور فلسطینیوں تنظیموں کے درمیان مسلح لڑائی سے ہوا۔ لبنانی حکومت ابتدائی طور پر اس لڑائی کو روکنے کے لیے فوج کے استعمال پر مخمصے کا شکار رہی جس کے باعث یہ پھیلتی گئی۔

1960ء کی دہائی تک سرزمین فلسطین سے باہر تحریکِ آزادیٔ فلسطین کا اہم مرکز اردن تھا۔ لیکن وہاں ’بلیک ستمبر‘ کی کارروائی کے بعد لبنان نے اس تحریک کے لیے مرکزی حیثیت حاصل کر لی۔ اسرائیل کے قیام اور پالیسیوں کے نتیجے میں کثیر تعداد میں فلسطینی لبنان ہجرت کر چکے تھے۔ 1970ء کی دہائی میں لبنان کی بعض سیاسی قوتیں فلسطینیوں کی آمد اور سیاسی و عسکری سرگرمیوں سے خوش نہیں تھیں۔ اس کی وجہ سے ملک کے اندر تناؤ موجود تھا۔ سرد جنگ نے بھی لبنان کی سیاست پر بہت اثر ڈالا۔ اس عرصے میں موارنہ تنظیموں کا جھکاؤ مغرب کی جانب جبکہ فلسطینیوں اور عرب قوم پرستوں کا جھکاؤ سوویت یونین کی جانب تھا۔ عرب دنیا میں عرب قوم پرستی عروج پر تھی۔ فلسطینیوں میں آزادی پسند تنظیم پی ایل او اور فتح بہت مقبول تھیں۔ یہ خانہ جنگی میں شامل رہیں ۔

موارنہ کے ساتھ 1975ء میں جب لڑائی کا آغاز ہوا تو قوم پرست عرب اور مسلم گروہوں نے فلسطینیوں کا ساتھ دیا۔ لیکن طویل خانہ جنگی کے دوران ان کے مابین اتحاد بنتے اور بگڑتے رہے۔ بیرونی طاقتیں بشمول اسرائیل، امریکا اور شام نے بھی اس خانہ جنگی میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور دخل اندازی بھی کی۔ وہ مختلف گروہوں کی حمایت کرتے رہے۔ 1989ء میں سعودی عرب کے معروف شہر طائف میں متحرب فریقین کے مابین ایک معاہدے کے نتیجے میں خانہ جنگی کے خاتمے کا آغاز ہوا اور لبنان سیاسی استحکام کی جانب بڑھنے لگا۔ اس معاہدے میں سیاسی اصلاحات، خانہ جنگی کے خاتمے، لبنان اور شام کے تعلقات اور شامی افواج کے انخلا پر اتفاق کیا گیا۔

محمد شعیب

سابق پاکستانی کرنل کس کے قبضے میں؟

پاکستان کے سابق لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) محمد حبیب ظاہر کی گذشتہ ہفتے پراسرار گمشدگی کے بعد انڈیا اور پاکستان کے میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ کرنل ظاہر کو انڈین ایجینسیوں نے نیپال سے اغوا کر لیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کرنل ظاہر کسی نوکری کے سلسلے میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو آئے اور وہاں سے وہ انڈیا اور نیپال کے بارڈر پر لمبینی کے علاقے میں گئے جہاں انھیں آخری بار دیکھا گیا۔ لمبینی ایک بڑا خطہ ہے جس میں بھیروا، بوٹول اور لومبینی کے علاقے شامل ہیں۔ لمیبنی وہ جگہ ہے جہاں بودھ مذہب کے بانی گوتم بودھ کی پیدائش ہوئی تھی۔ اسی خطے میں سونولی کی سرحدی چوکی ہے۔ یہ نیپال اور انڈیا کے درمیان سب سے بڑی چوکیوں میں سے ایک ہے۔

اس سرحد ی راستے سے ہزاروں نیپالی اور انڈین شہری ایک دوسرے کے علاقے میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ بڑا حساس ہے اور یہاں ہر طرف سکیورٹی ایجینسیوں کی نظر رہتی ہے۔ انڈین سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیاں مقامی نیپالی ہوائی اڈے اور قریبی علاقوں سے بلا روک ٹوک نیپال کی جانب سے انڈین علاقے میں آ جا سکتی ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کے میڈیا کی قیاس آرائیوں کے برعکس نیپال میں کرنل ظاہر کی پراسرار گمشدگی کے بارے میں میڈیا میں بہت زیادہ خبریں نہیں آئی ہیں۔ نیپال کی پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے لیکن اس کے بارے میں کچھ بتایا نہیں گیا ہے۔

لمبینی کے قریبی ہوائی اڈے سے باہر نکلتے ہوئے اور ہوائی اڈے کے باہر ایک شخص کی ملاقات کی جو مبینہ فوٹیج پولیس کے پاس ہے وہ بھی ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ فوٹیج اس تفتیش کا حصہ ہے اور وہ اس میں نظر آنے والے شخص کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ نیبالی میڈیا انڈیا کے کسی معاملے میں ہمیشہ محتاط طریقے سے تبصرہ کرتا ہے۔ اس نے کسی طرح کی قیاس آرائی سے گریز کیا ہے لیکن یہاں کے صحافی اور سکیورٹی کے پہلوؤں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار عموماً یہی نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ کرنل ظاہر کو انڈین ایجنسیوں نے پکڑا ہے جب کہ عام لوگوں کا بھی یہی خیال ہے۔

انڈیا کی خفیہ ایجنسیاں ماضی میں بھی کشمیری علیحدگی پسندوں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے لوٹنے والے سابق عسکریت پسندوں اور سعودی عرب اور دبئ وغیرہ سے نکالے جانے والے شدت پسندوں کو نیپال پہنچنے پر حراست میں لیتیں اور پھر دکھایا جاتا کہ انھیں انڈیا، پاکستان سرحد کے نزدیک انڈیا میں داخل ہوتے ہوئے پکڑا گیا۔ سنہ 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن اور ان کی فیملی کو بھی خفیہ ایجنٹوں نے پاکستان سے نیپال پہنچنے پر ہی گرفتار کیا تھا۔ کرنل ظاہر کی گمشدگی کا معاملہ عین اس وقت سامنے آیا جب پاکستان میں انڈین بحریہ کے سابق کمانڈو کلبھوشن جادھو کو جاسوسی اور دہشت گردی کے مبینہ جرم کی پاداش میں موت کی سزا سنائی گئی۔ کرنل ظاہر جس جگہ سے غائب ہوئے ہیں وہ نسبتآ کوئی بڑی جگہ نہیں ہے لیکن وہ انڈیا کی سرحد سے بالکل نزدیک واقع ہے۔

کچھ ہی فاصلے پر انڈیا کے ضلع گورکھپور کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ سرحد پر انڈیا کی جانب سکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کی نقل و حرکت بہت زیادہ ہے۔ چونکہ نیپالی اور انڈین کسی ویزے کے بغیر ایک دوسرے کے یہاں آ جا سکتے ہیں اس لیے ہر مشتبہ شخص اور حرکت پر نظر رہتی ہے۔ کرنل ظاہر کی گمشدگی کے تقریبا دس دن بعد بھی ان کا غائب ہونا سربستہ راز سے کم نہیں۔ جس نوعیت کا یہ واقعہ ہے اس کے پیش نظر نیپال کی تفتیش سے بھی کسی بڑی کامیابی کی توقع بہت کم ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اگر وہ کسی کے قبضے یا گرفت میں ہیں تو انھیں کسی نہ کسی مرحلے پر سامنے لانا ہی ہو گا۔ لیکن جب تک وہ سامنے نہیں آتے تب تک قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور ان کی گمشدگی پراسرار بنی رہے گی۔

شکیل اختر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لمبینی

کلبھوشن یادو، ہم کب سیکھیں گے؟

عبداللہ شیخ میرے بُرے وقتوں کے دوست ہیں، میرے اِس بندے سے خواہ کتنے ہی نظریاتی، علمی اور سیاسی اختلاف ہوجائیں لیکن میرا اور اِس کا تعلق خراب نہیں ہوتا۔ اِس میں عبداللہ کا بڑا پن بھی ہے اور درگزر کرنے کی عادت بھی۔ میں جب دبئی میں تھا اور مجھے حالات کی سمجھ نہیں آرہی تھی تو اُس وقت عبداللہ بھائی بھی دبئی میں تھے۔ اُن کو جب یہ پتہ چلا کہ میں دبئی ہوں تو پہلے ناراض ہوئے کہ بتایا کیوں نہیں اور پھر ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ میرے ساتھ اُس وقت تک رہے جب تک میں پاکستان نہیں آگیا۔

وہاں میں نے اُن میں ایک عجیب بات نوٹ کی، اور وہ یہ کہ عبداللہ بھائی خطرناک حد تک جذباتی ہیں۔ یہ پاکستان کے معاملے میں کسی کی نہیں سنتے تھے۔ انگریزی میں اتنے ماہر نہیں ہیں لیکن دماغ میں فوری ترجمہ کرتے ہوئے مخالف کو مناسب ’شٹ اپ کال‘ ضرور دے دیتے ہیں۔ جس فلیٹ میں وہ اور میں ساتھ رہ رہے تھے، وہاں اکثریت بھارتیوں کی تھی جبکہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے صرف ہم دو ہی تھے۔ لیکن آپ یقین کیجئے کہ اِس قلیل تعداد کے باوجود بھی ہمارا اُن پر ایک عجیب رعب تھا۔

اِس رعب میں عبداللہ بھائی کا کردار بھی اہم تھا کہ اُنہوں نے فلیٹ میں شفٹ ہوتے ساتھ ہی اپنی دھاک بٹھا دی تھی۔ ایک دو کو اپنے طریقے سے دبایا تو باقیوں کی بولتی بند ہو گئی تھی۔ سب سے زیادہ اثر اُس وقت ہوا جب چند لڑکے بالکونی میں بیٹھ کر شراب نوشی کر رہے تھے، عبداللہ نے اُن کو دو دفعہ وارننگ دی اور جب وہ نہیں مانے تو تیسری وارننگ ہاتھ میں چھڑی پکڑ کر دی اور یہ وارننگ اتنی زبردست تھی کہ سب لڑکے چپ چاپ تتر بتر ہو گئے، میں نے اُن سے حیرانی سے کہا کہ یار انسان بنیں، کیوں پردیس میں اپنے لئے مصیبت مول لے رہے ہیں؟ عبداللہ بھائی نے کِھلکھِلا کر جواب دیا کہ اگر میں اِن کو چاقو مار دیتا تب بھی اِن میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کسی سے میری شکایت لگاتے، یہ بزدل لوگ ہیں اور ایک دھمکی میں دبک جاتے ہیں۔ میں جتنے ماہ وہاں رہا میں نے عبداللہ بھائی کی باتوں میں سچائی محسوس کی۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی جانب، کلبھوشن یادو کو پاکستان نے بلوچستان سے گرفتار کیا، یہ گرفتاری بلوچستان میں سیکیورٹی ایجنسیوں کی بہت بڑی کامیابی تھی جس نے بعد ازاں بلوچستان میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اِس بھارتی ایجنٹ نے آن ریکارڈ ہنستے مسکراتے اپنے تمام گناہ تسلیم بھی کئے، اب جب پاکستان میں فوجی عدالت نے اُس کو سزائے موت سنا دی تو اچانک بھارت میں ایک بھونچال اُٹھ گیا۔ وہ بندہ جس نے زندگی میں کبھی مچھر بھی نہیں مارا تھا وہ بھی کلبھوشن کے لئے پاکستان سے ٹکر لینے کی بات کرنے لگا۔ گزشتہ روز بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کلبھوشن کو دھرتی کا بیٹا قرار دیتے ہوئے راجیا سبھا میں پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ آنے والے وقت کیلئے تیار رہے۔ یہ وہی سشما سوراج ہیں جنہوں نے 2016ء میں ہمیں سفارت کاری سکھائی تھی اور میں نے اِن کا طرزِ عمل قریب سے دیکھا تھا کہ راقم اُس وقت ایک بھارتی چینل کا نمائندہ خصوصی تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم شروع دن سے چیخ رہے ہیں کہ بھارت بلوچستان میں بدامنی کا ذمہ دار ہے، وہ وہاں صوبائیت کا زہر پھیلا رہا ہے، وہ وہاں فرقہ واریت کو زہریلی ہوا دے رہا ہے اور وہ بلوچستان کو الگ کرنے کی سازش بُن رہا ہے لیکن دنیا نہ تو ہمیں سنجیدہ لے رہی ہے اور نہ ہی ہماری بات کو سنجیدگی سے سُن رہی ہے۔ دنیا ہماری بات کو ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے نکال دیتی ہے، لیکن دوسری طرف بھارت ہے جسے دنیا سنجیدہ بھی لیتی ہے اور اُس کی بات کو اہمیت بھی دیتی ہے۔ کیوں؟ کلبھوشن کے معاملے میں دیکھ لیں، ہمارے پاس بندہ بھی ہے اور ثبوت بھی ہیں، یہاں تک کہ اُس کے جعلی دستاویزات اور اُس کا سروس نمبر بھی ہے لیکن اِس کے باوجود ہم کہیں بھی یہ بات ثابت نہیں کرسکے۔

ہم نے اِس کو کہیں موثر انداز میں نہیں اٹھایا، حتیٰ کہ سشما سوراج بھی یہ نہیں بتا سکتی ہیں کہ 41885z کے سروس کوڈ کا حامل بندہ پاکستان میں کس سے ملنے آیا تھا، اور اُس کا اعترافی بیان کس تاریخ کا اپریل فول تھا؟ ہم نے اُس کو انٹرنیشنل فورمز میں بھی نہیں اُٹھایا لیکن دوسری طرف بھارت کو دیکھیں کہ اُس نے کلبھوشن کو معصوم کہہ دیا، اُس کو دھرتی کا بیٹا قرار دے دیا اور راجیا سبھا کے پلیٹ فارم سے ہمیں دھمکیاں بھی دے ڈالیں۔ پاکستان کے بھارت میں ہائی کمشنر عبدالباسط کو بُلا کر احتجاج ریکارڈ کروایا تو اُنہوں نے بہت اچھا جواب دیا کہ دہشت گردی بھی آپ کرتے ہیں اور معصوم بھی آپ بنتے ہیں، یہ کیا تماشا ہے؟

ہم آپ کا احتجاج مسترد کرتے ہیں لیکن اُس کے باوجود میڈیا میں کلبھوشن گونج رہا ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ ہوش مندی ہے، یہ پراپیگنڈہ ٹول کا زبردست استعمال ہے۔ ہم سب کچھ ہوتے ہوئے کچھ بھی نہیں کرسکے، آج بھی ہم دنیا کی بیڈ بُکس میں ہیں اور بھارت صرف سفارت کاری اور پراپیگنڈہ ٹولز کا درست استعمال کرکے دنیا بھر کی نظروں میں گڈ بکس میں ہے۔ آپ عبداللہ شیخ کی طرح ایک مرتبہ جرات کر کے بھارت کو جواب تو دیں، یہ چوں چراں بھی نہیں کر سکے گا۔ بھارت کو بغیر کسی اگر مگر کے، قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر شیٹ اپ کالز دیں یہ دوبارہ اونچی آواز میں بات نہیں کرے گا۔ دنیا آج بھی 2016ء میں سب سے زیادہ دھماکوں اور ریپ کے واقعات کے بعد بھی بھارت پر اعتماد کرتی ہے اور ہم کامیاب فوجی آپریشنز اور 85 فیصد دہشت گردی میں کمی کے باوجود بھی بد اعتماد ٹھہرتے ہیں۔ ہم کب سیکھیں گے؟

سالار سلیمان

وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس نے کیا کہہ دیا

گزشتہ منگل کے روز جنگ اخبارمیں شائع ہونے والی خبر کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس ریاض احمد خان نے سود کے متعلق کیس کو سنتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جس وقت سود کی ممانعت کا حکم ہوا اُس وقت کی معیشت آج سے مختلف ہے۔ چیف جسٹس شرعی عدالت نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اُس وقت کے نظام کو آج کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ interest کی تعریف سود نہیں، بلکہ نقصان کا ازالہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ خبر پڑھ کر یقین نہیں آیا کہ یہ سوال شرعی عدالت کے چیف جسٹس نے اٹھائے!!! ہو سکتا ہے کہ وہ سود کے متعلق ایک خاص طبقہ فکر کے ذہن میں موجود سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لیے ایسے سوال اٹھا رہے ہوں ورنہ ایک شرعی عدالت میں ایسی بات کیسے کی جاسکتی ہے کہ سود کے متعلق احکام کا تعلق اُس دور کی معیشت سے تھا جب قرآن پاک نازل ہوا۔

یہ تو وہی بات ہوئی جو مغرب اورمغرب زدہ دیسی ترقی پسند اور ’’روشن خیال‘‘ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام کو نئے دور کے ساتھ اپنے آپ کو بدلنا چائیے۔ یہ وہی طبقہ ہے جس کے لیے کہا گیا کہ خود بدلتے نہیں ،قرآن کو بدلتے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے شرعی احکامات کی حیثیت اٹل ہے۔ جو حکم اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے واضح طور پر آ گیا وہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اُسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے،اُسی کے مطابق ہمیں ایک اسلامی معاشرہ تشکیل دینا ہے اور اس کے لیے وقت یا دور کی کوئی اہمیت نہیں۔ سود کے متعلق اسلام کے احکامات واضح ہیں اور اسی بنا پر وفاقی شرعی عدالت نے 1991 میں اپنے فیصلہ میں پاکستان میں رائج سود کی تمام اقسام کو قرآن اور سنت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمہ کا حکم دیا تھا۔

اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا لیکن سپریم کورٹ نے بھی شرعی عدالت کے حکم کی تائید کرتے ہوئے حکومت کو سود کے خاتمہ کا حکم دیا۔ بعدازاں جنرل مشرف دور میں سپریم کورٹ نے یہ معاملہ دوبارہ وفاقی شرعی عدالت کے سپرد کر دیا اور ہدایت دی کہ اس معاملہ کو دوبارہ دیکھا جائے۔ شرعی عدالت کے 1991 کے فیصلہ کو لٹکانے اور پھر اِدھر سے اُدھر بھیجنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ کوئی حکومت سودی نظام کے خاتمہ کے لیے سنجیدہ نہ تھی۔ سال 2002 میں یہ معاملہ شرعی عدالت کے سپرد کیا گیا اور آج سال 2017 میں اسی کیس کو ابھی تک سنا جا رہا ہے۔ ان پندرہ سالوں میں شاہد اس کیس کو پندرہ بار بھی نہیں سنا گیا اور معاملات جیسے چل رہے ہیں اگر ایسے ہی چلتے رہے تو محسوس ایسا ہوتا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ آنے میں شاید ایک آدھ صدی انتظار کرنا پڑے۔

کیس کس سست روی سے چل رہا ہے وہ ایک الگ بحث ہے لیکن ماضی میں اس کیس سے جڑے ایک اہم فرد سے آج بات ہوئی تو اُن کا کہنا تھا کہ سود کے متعلق شرعی عدالت اور پھر سپریم کورٹ میں نوے کی دہائی میں طویل بحث ہوئی اُس میں ہر زاویے سے اس معاملہ کو گہرائی سے دیکھا گیا جس کے نتیجہ میں ملک کی اعلیٰ عدلیہ اس نتیجہ پر پہنچی کہ سودی نظام کو ختم کیا جائے کیوں کہ یہ نظام معیشت اسلامی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان صاحب کا کہنا تھا کہ شرعی عدالت کو چاہیے کہ اپنے پرانے فیصلہ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ اپیلیٹ بنچ کے فیصلے کو پڑھ لیں تو بہت سے سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔ ورنہ اگر ہم مغرب یا مغرب سے مرعوب یہاں موجود ایک طبقہ کی سوچ کو اہمیت دینے بیٹھ جائیں گے تو سود کے ساتھ ساتھ دوسرے شرعی احکامات کے تقدس کی بھی پامالی ہو گی۔ کیا اسی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد یہ بات نہیں کرتے کہ مسلمان خواتین کے لیے پردہ کا حکم تو اُسی دور کے لیے تھا؟ یہ طبقہ تو اسلامی ریاست کو مانتا ہی نہیں اور ریاست کے سیکولر ہونے کی بات کرتا ہے تاکہ شرعی احکامات کے نفاذ کا کوئی سوال ہی نہ اُٹھائے۔

انصار عباسی

یہودیوں میں دہشت پھیلانے والا یہودی لڑکا نکلا

امریکی میڈیا کے پروپیگنڈے نے مسلمانوں اور دہشت گردی کو لازم و ملزوم بنا رکھا ہے چناں چہ اکثر امریکی یہی دعویٰ کرنے لگے کہ شدت پسند مسلمان ایک قدامت پسند عیسائی کے صدر بننے سے ناراض ہیں لہٰذا اب وہ یہود پر اپنا غصّہ اتارنا چاہتے ہیں۔ امریکا میں کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ ایک یہودی بھی اپنے ہم مذہبوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کر سکتا ہے۔ آخر میں یہی سچائی طشت ازبام ہوئی۔ جب امریکی خفیہ ایجنسی نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ کالیں کرنے والا ’’سپوف کارڈ‘‘ (SpoofCard) کی مدد سے کال کرتا ہے۔ امریکا کی ایک کمپنی، ٹیل ٹیک سپوف کارڈ کی سروس فراہم کرتی ہے۔ اس سروس کی مدد سے فون کال کرنے والا اپنی شناخت چھپا سکتا ہے۔ چناں چہ یہ پتا نہیں چلتا کہ کال کہاں سے ہوئی۔

امریکی خفیہ اداروں نے عدالت سے حکم لیا اور ٹیلی ٹیک پہنچ  گئے تا کہ کالر کے حقیقی نمبر کا پتا چل سکے۔ وہاں نیا انکشاف ہوا کہ کالر گوگل وائس سروس سے کالیں کرتا ہے۔ اس عیار کالر نے جعلی نام سے سروس حاصل کر رکھی تھی اور یہ کہ وہ دو تین بار کالیں کرنے کے بعد نیا اکاؤنٹ کھول لیتا تھا۔ ٹیل ٹیک اور گوگل کی سرور لاگز بھی کالر تک پہنچنے کے سلسلے میں امریکی خفیہ اداروں کی کوئی مدد نہ کر سکیں۔ کالر دنیائے انٹرنیٹ میں انونیمس پراکسی سرور کے ذریعے گھومتا پھرتا تھا جو بیرون ممالک واقع تھے۔ کالر اتنا چالاک و کائیاں تھا کہ اس نے سپوف کارڈ کا ایک آپشن استعمال کرتے ہوئے اپنی آواز مردانہ سے نسوانی بنا لی ۔ سپوف کارڈ سروس پانے کی خاطر رقم خرچنا پڑتی ہے۔ اس معاملے میں بھی کالر اپنی شناخت عیاں کیے بغیر سروس پانے میں کامیاب رہا۔ اس نے اپنا کریڈٹ کارڈ استعمال نہیں کیا بلکہ سپوف کارڈ انٹرنیٹ کرنسی، بٹ کوائن خرچ کر کے خریدا۔

یہ عیاں تھا کہ کالر اپنے آپ کو چھپانے والی جدید ترین ٹیکنالوجیوں سے بخوبی آشنا ہے۔ مگر مجرم کتنا ہی عیار و مکار ہو، وہ جرم کرتے ہوئے ایسی کوئی چھوٹی غلطی ضرور کر جاتا ہے جو قانون کو اس تک پہنچا دیتی ہے۔ یہودی طبقے میں خوف کی لہر پھیلا دینے والے کالر سے بھی ایسی ہی کوتاہی سرزد ہو گئی۔ ایک بار کالر نے واشنگٹن کے جیوش کمیونٹی سینٹر میں دھمکی آمیز کال کی تو وہ انونیمس پراکسی سرور پر موجود نہ تھا۔ چناں چہ اس کا حقیقی آئی پی ایڈریس ریکارڈ ہو گیا۔ تبھی امریکی خفیہ اداروں کو علم ہوا کہ یہ ایڈریس اسرائیل کا ہے۔ چناں چہ انہوں نے اسرائیلی خفیہ اداروں سے رابطہ کر لیا۔

اسرائیل میں تفتیش ہوئی، تو انکشاف ہوا کہ یہ ایڈریس ساحلی شہر، عسقلان میں واقع ہے۔ خفیہ پولیس وہاں پہنچی، تو پتا چلا کہ مائیکل قیدار نامی انیس سالہ لڑکا ایک وائی فائی ایسیس پوائنٹ سے انٹرنیٹ چرا کر استعمال کر رہا ہے۔ اس نے انٹرنیٹ چرانے کی خاطر گھر کی کھڑکی پر دیوہیکل انٹینا لگا رکھا تھا۔ خفیہ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ جب امریکا میں یہود کو خبر ہوئی کہ ان کے کمیونٹی سینٹروں اور اسکولوں میں دھمکی آمیز کالیں کرنے اور خوف پھیلانے والا مجرم ایک یہودی ہے، تو دنگ رہ گئے۔ وہ تو یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ یہ شدت پسند مسلمانوں کی حرکت ہے۔

مائیکل قیدار سے اسرائیلی و امریکی خفیہ ادارے تحقیق کر رہے ہیں۔ اب تک واضح نہیں ہو سکا کہ انیس سالہ لڑکا اپنی ہی قوم کے خلاف کیوں ہو گیا؟ شاید معصوم فلسطینیوں پر اسرائیلی حکومت کے مظالم دیکھ کر اس کا ضمیر جاگ اٹھا اور وہ اپنے ہم وطنوں کے خلاف کارروائیاں کرنے لگا۔ ایک قوم جتنے مرضی مظالم ڈھالے، آخر اس کے اندر ہی سے حق و انصاف کی آوازیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ شاید مائیکل قیدار انہی آوازوں کا ایک نمائندہ بن گیا۔

ع ۔ محمود