یہاں استعفیٰ دیا نہیں لیا جاتا ہے

پاکستان میں جب کوئی جماعت حزبِ اختلاف ہوتی ہے تو اسے فوراً سیاسی اخلاقیات کا بھولا ہوا سبق یاد آنے لگتا ہے اور وہ کرپشن، نااہلی اور بد عنوانی کے خلاف سینہ سپر ہو جاتی ہے۔ حزبِ اختلاف بات بات پر صدر سے تھانے دار تک ہر ایک سے استعفی مانگتی پھرتی ہے اور جب خود اقتدار میں آتی ہے تو سیاسی اخلاقیات بھول بھال کر ہر بد انتظامی اور کرپشن کے بارے میں وہی تاویلات پیش کرنا شروع کر دیتی ہے جو اس کی پیشرو حکومت پیش کرتی تھی اور پیشرو حکومت حزبِ اختلاف میں آ کر اسی سیاسی اخلاقیات کے منبر پر بیٹھ جاتی ہے جو گذشتہ حزبِ اختلاف کے حزبِ اقتدار بننے سے خالی ہوا تھا۔

یہ اخلاقی و تاویلاتی میوزیکل چیئر پچھلے 70 برس سے جاری ہے۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی منتخب یا سرکاری عہدیدار نے الزامات ثابت ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز پر استعفی دیا ہوتا آنکہ پشت پر قانونی و سیاسی لات نہ پڑے۔ اگر بہت دور چلے گئے تو بات بھی بہت دور نکل جائے گی۔ فوری یادداشت کا سہارا لیا جائے تو سابق وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کا دور یاد آتا ہے جب وزیرِ مواصلات پرنس محی الدین، وزیرِ بلدیات انور عزیز چوہدری اور پیداوار کے وزیرِ مملکت اسلام الدین شیخ کو بدعنوانی، غفلت یا خورد برد کے الزامات لگتے ہی وزیرِ اعظم نے خود برطرف کیا۔ وہ الگ بات کہ چھان بین کے نتیجے میں بعد ازاں صرف اسلام الدین شیخ پر ہی باضابطہ فردِ جرم عائد اور ثابت ہوئی مگر جونیجو کی اصول پسندی خود ان کے کسی کام نہ آ سکی۔

سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں چلتا کیا۔ مگر سنہ 2010 میں خود یوسف رضا گیلانی کو اپنے تین وزرا بدعنوانی یا ڈسپلن کی خلاف ورزی پر برطرف کرنا پڑے۔ وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار عبدالقیوم جتوئی نے اپنی ہی حکومت پر کرپشن اور پھر اس کرپشن میں حصہ داری نہ ملنے کا شکوہ کیا لہذا انھیں جانا ہی تھا۔ وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے اپنے ہی ہم کابینہ وزیرِ مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر حاجیوں کو لوٹنے اور حج کوٹے کی فروخت کا الزام لگایا تو یوسف رضا گیلانی نے دونوں وزرا کو کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا۔

اعظم سواتی جمیعت علماِ اسلام کے کوٹے پر وزیر تھے لہذا ان کی برطرفی پر مولانا فضل الرحمان احتجاجاً حکومت سے الگ ہو گئے۔ حامد سعید کاظمی کو کرپشن ثابت ہونے پر جیل جانا پڑا جہاں سے وہ ابھی پچھلے ماہ ہی رہا ہوئے ہیں۔ جہاں تک شریف دور کا معاملہ ہے توسنہ 2014 میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ہاتھوں پاکستان عوامی تحریک کے دس حامیوں کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ روکنے کے لیے وزیرِ اعلی شہباز شریف نے کچھ عرصے کے لیے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ سے قلمدان واپس لے لیا اور پھر موقع محل دیکھ کر واپس بھی کر دیا۔

جب وزیرِ تعلیم و سیاحت و امورِ نوجوانان رانا مشہود احمد خان کی ایک وڈیو سامنے آئی جس میں وہ رشوت لے رہے ہیں اور اسی دوران 20 ارب روپے کے ایک سکینڈل میں ملوث ہونے کے شبہے میں نیب نے رانا صاحب کے خلاف چھان بین شروع کردی تو وزیرِ اعلی شہباز شریف اور پارٹی کے ‘اخلاقی دباؤ’ کا احترام کرتے ہوئے رانا مشہود نے امورِ نوجوانان اور سیاحت کا قلمدان تو چھوڑ دیا مگر تعلیم کی وزارت پھر بھی رکھی۔ کچھ عرصے بعد رانا صاحب کو چھان بین کے نتیجے میں کلین چٹ مل گئی اورایک بار پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔ سنہ 2015 میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کو جب تک الیکشن کمیشن نے انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات کے نتیجے میں نشست سے محروم نہیں کر دیا تب تک انھوں نے بھی اخلاقاً پہل نہیں کی۔ اس کے بعد بھاری اکثریت سے دوبارہ انتخاب جیت کر دوبارہ اسپیکر کی کرسی سنبھال لی اور دوبارہ عمران خان کو غصہ دلایا۔

جب بھی ملک میں دہشت گردی کی بڑی واردات کے بعد حزبِ اختلاف سدا بہار وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے تو چوہدری صاحب اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اتنے جوابی وار کرتے ہیں کہ حزبِ اختلاف اگلے ایک ہفتے تک اپنے زخم سہلاتی رہتی ہے۔ چوہدری صاحب نے تو امن و امان کی ابتری اور کوئٹہ سول سپتال میں 50 سے زائد وکلا کی ہلاکت کے اسباب کی چھان بین کے لیے قائم سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کمیشن کی سفارشات کو ‘لیرو لیر’ کر دیا تو حزبِ اختلاف کیا بیچتی ہے۔ سنا ہے ایک آدھ بار چوہدری صاحب نے وزیرِ اعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینے کی بھی پیش کش کی مگر میاں صاحب نے ان کی یہ درخواست سختی سے مسترد کر دی۔ میاں صاحب گرم و سرد چشیدہ ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ کابینہ میں اس طرح کی بدعت اگر شروع ہو گئی تو بات جانے کہاں تک پہنچے۔

خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت نے نومبر سنہ 2013 میں گڈ گورننس اور شفاف سیاست کی خاطر دو صوبائی وزرا کو بدعنوانی اور ہیرا پھیری کے الزام میں کابینہ سے چلتا کر دیا مگر دونوں کا تعلق اتفاق سے اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی سے تھا۔ خود پی ٹی آئی کے وزیرِ مواصلات یوسف ایوب تب تک برطرف نہیں ہوئے جب تک وہ جعلی ڈگری کیس میں سپریم کورٹ میں آخری اپیل نہیں ہار گئے۔ البتہ خود تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان انتخابی دھاندلی چھان بین کمیشن میں سنہ 2013 کے انتخابات میں 35 پنکچر کیس ہارنے کے باوجود قومی اسمبلی کی نشست پر نئے عزم اور دلائل کے ساتھ براجمان رہے اور تقریریاتی کنٹینر بھی ساتھ میں رکھا۔

جعلی ڈگری سے یاد آیا کہ جب سنہ 2008 میں مظفر گڑھ سے رکنِ قومی اسمبلی بننے والے جمشید دستی کو جعلی ڈگری رکھنے کی پاداش میں نا اہل قرار دے کر نشست سے محروم کر دیا گیا تو ضمنی انتخاب میں وہ پہلے سے بھی زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی موجودہ نو سالہ حکومت کے دوران جہاں بہت کچھ ہوا وہاں یہ بھی ہوا کہ ایک وزیرِ باتدبیر شرجیل انعام میمن جب اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات سے گھبرا کر دوبئی ہجرت کر گئے تو وزارتی قلمدان بھی ساتھ لے گئے اور کئی ہفتوں بعد واپس کرنے پر رضامند ہوئے۔ پچھلے ماہ جب وہ اپنے خلاف ‘جھوٹے مقدمات’ کا سامنا کرنے کے لیے ہائی کورٹ کی پیشگی ضمانت سے مسلح ہو کر اسلام آباد اترے اور پھر فاتحانہ حیدر آباد لوٹے تو جیالوں نے صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے شرجیل میمن کی بے لوث خدمات پر گولڈن تاجپوشی کی۔

مگر ایسا نہیں کہ کوئی ضمیر کی آواز ہی نہیں سنتا۔ سنہ 1983 میں جب ضیا حکومت کے وزیرِ بلدیات سید فخر امام ضیا حکومت کے ہی ایک حامی یوسف رضا گیلانی سے ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کی چیئر مین شپ کا انتخاب ہار گئے تو انھوں نے وفاقی وزارت سے استعفی دے دیا۔ فخر امام کے اس قدم کو سب ہی نے سراہا اور بعد ازاں غیر جماعتی قومی اسمبلی کے پہلے سپیکر منتخب ہوئے۔ اسی طرح اگست سنہ 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یہ عندیہ ملنے پر کہ وہ دوسرا صدارتی انتخاب بھی وردی میں لڑیں گے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت اسحاق خاکوانی نے اپنے ضمیر کی سنتے ہوئے وزارت سے استعفی دے دیا۔ عدلیہ میں ایسے کئی جج ہیں جنھوں نے ضیا الحق اور پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم ناموں کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور گھر بیٹھ گئے۔ مگر اب تک ایک ہی ایسی مثال سامنے آئی ہے کہ اعلیٰ عدالت کے کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن کا ریفرنس دائر ہو اور وہ سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی اپنا عہدہ چھوڑ دے۔

یہ واقعہ اس سال فروری میں پیش آیا جب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظہر اقبال سندھو نے سماعت کا سامنا کرنے سے پہلے ہی جج کی کرسی سے استعفی دے دیا۔ جہاں تک فوج کا معاملہ ہے تو میجر جنرل سکندر مرزا نے عہدہِ صدارت سے تب رضاکارانہ استعفی دیا جب جنرل ایوب خان کے ساتھی جنرلوں نے ان کے سامنے ایک ٹائپ شدہ کاغذ اور اس پر ایک پستول بھی بطور پیپر ویٹ رکھ دیا۔

ایوب خان نے بھی 25 مارچ 1969 کو عہدۂ صدارت رضاکارانہ طور پر چھوڑا جب ان کے سپہ سالار جنرل یحییٰ خان نے آہستگی سے کہا ‘سر ہم آپ کو بہت مس کریں گے۔’ انہی یحییٰ خان نے 20 دسمبر سنہ 1971 کو ملک ٹوٹنے کے چار دن بعد اپنی مرضی سے استعفی دیا کیونکہ انھیں بتا دیا گیا تھا کہ بطور صدر اپنی مرضی استعمال کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔

18 اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد مطمئن رخصت ہوئے حالانکہ انھوں نے اپنے پیشرو رفیق تارڑ کو یہ اعزاز نہیں بخشا تھا۔ فوج میں صرف ایک مثال ایسی ہے جب بری فوج کے ایک سربراہ نے دھڑن تختہ کیے بغیر اپنے عہدے سے قبل از اختتامِ مدت استعفی دیا ہو۔ وہ تھے جنرل جہانگیر کرامت ۔ جب ان کی نواز شریف کی دوسری حکومت سے نہیں بنی تو پنجہ آزمائی کے بجائے کنارہ کش ہو گئے۔ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید 12 اکتوبر سنہ 1999 بھی نہ ہوتا۔

اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا. جہاں تک کرپشن کا معاملہ ہے تو فوج میں کسی نے ازخود استعفی نہیں دیا جب تک برطرف نہیں کیا گیا یا آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلا۔ بھلے وہ این ایل سی سکینڈل میں ماخوز لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل مظفر اور میجر جنرل خالد طاہر اختر ہوں یا ایف سی بلوچستان کے سابق کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل عبید اللہ خٹک، میجر جنرل اعجاز شاہد بریگیڈئیر اسد شہزاد، سیف اللہ، عامر اور کرنل حیدر ہوں یا پھر بحریہ کے سابق سربراہ ایڈ مرل منصور الحق ہوں جو گرفتاری کے بعد پلی بارگین کے تحت 7.5 ملین ڈالر نیب میں جمع کرا کے بری ہوئے۔

واپڈا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر نے گذشتہ برس خود پاکستان آ کر پلی بارگین کے تحت کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے 200 ملین روپے واپس کر کے کلین چٹ حاصل کر لی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان جیسی ترقی پذیر جمہوریتوں میں گڈ گورننس ہر شخص اور ادارہ چاہتا ہے مگر ضمیر کی گورنننس کا عادی ہونے کی عادت پڑتے پڑتے ہی پڑے گی۔ تب تک اپنے علاوہ سب کا احتساب جاری رہے گا۔

وسعت اللہ خان

تجزیہ کار

Advertisements

ایک بوڑھی فرسودہ سوچ

میری عمر ( پچاس پچپن برس اور اس سے اوپر) کے لوگ گواہی دیں گے کہ جب ہم بچے تھے تو ہمارے روز و شب کیسے تھے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم سورج غروب ہونے کے بعد باہر نہیں کھیل سکتے تھے۔ مغرب کے وقت ہر حال میں گھر کی چار دیواری میں موجودگی لازمی تھی۔ اس بارے میں کوئی بہانہ یا سفارش باپ کے ڈنڈے یا ماں کی چپل کے سامنے کارگر نہیں تھی۔ یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ کوئی بچہ رات دس بجے کے بعد بستر سے باہر ہو بھلے نیند آئے نہ آئے۔ اسکول ہوم ورک بھی رات کے کھانے کے بعد سونے سے پہلے مکمل کرنا ہوتا تھا۔ صرف اس رات دیر تک جاگنے کی اجازت تھی جب اگلے دن یا تو ہفتہ وار یا تہوار کی چھٹی ہو۔ مگر جاگنے کا یہ مطلب نہیں تھا کہ بچہ مسلسل ٹی وی کے سامنے بیٹھا رہے۔ ہمیں صرف بچوں کے ٹی وی پروگرام دیکھنے کی اجازت تھی اور یہ پروگرام رات آٹھ بجے سے پہلے پہلے ٹیلی کاسٹ ہو جایا کرتے تھے۔

اگر بیماری آزاری جیسی کوئی حقیقی مجبوری نہیں تو اسکول سے غیر حاضری تقریباً ناممکنات میں سے تھی اور ناغے کے بعد اسکول میں آمد پر غیر حاضری کے سبب سے متعلق درخواست بھی بستے میں ہونی ضروری تھی جس پر بچے کے سرپرست کے دستخط یا انگوٹھا لازمی تھا اور یہ درخواست تب تک موثر نہیں ہوتی تھی جب تک ہیڈ ماسٹر یا ہیڈ مسٹریس اس پر تصدیقی دستخط نہ کر دیں۔

اسکول کے اوقات کے بعد بھی بچے کی جان نہیں چھوٹتی تھی۔ جو بچہ بعد از عصر محلے یا اسکول کے گراؤنڈ میں کسی گیم یا سرگرمی میں حصہ نہیں لیتا تھا اس کے بارے میں عمومی رائے یہی ہوتی کہ یا تو یہ بیمار ہے یا پھر جسمانی طور سے کمزور ہے۔ اسکول میں پڑھنے والا کوئی بھی بچہ اگر شام کو ٹیوشن پڑھتا تھا تو اس کے بارے میں یہ تاثر بنتا چلا جاتا کہ شاید یہ اسکول کی پڑھائی میں پھسڈی ہے تب ہی تو اس کے والدین ٹیوشن دلواتے ہیں۔

والدین اور اساتذہ کے نزدیک جو باتیں کبیرہ گناہوں کی حیثیت رکھتی تھیں ان میں ہوم ورک مکمل نہ کرنا ، بچے سے گالم گلوچ سرزد ہونا، کسی بھی جاننے والے بڑے کو دیکھ کر سلام نہ کرنا ، دو بڑوں کی گفتگو کے بیچ بول پڑنا ، اکیلے یا ساتھی بچوں کے ساتھ کسی سینما گھر کے آس پاس پایا جانا ، کسی اجنبی سے مسلسل بات کرنا ، گلیوں میں بلا مقصد گھومتے پایا جانا، بازار سے کوئی شے بلا اجازت خرید کے وہیں کھڑے کھڑے کھا لینا ، پالتو جانوروں کو بلا جواز تنگ کرنا، پیسے یا کھانے پینے کی اشیا گھر میں یا گھر سے باہر چرانا۔ ان جرائم کی سزا میں سرزنش سے لے کر بول چال کی عارضی معطلی، دیوار کی جانب منہ کر  کے کھڑا کیا جانا یا پھر پٹائی۔ اس زمانے میں گھر یا اسکول میں سرزنشی پٹائی تربیت کا حصہ سمجھی جاتی تھی فوجداری جرم نہ بنی تھی۔ تب ہی تو والدین بچے کو اسکول میں داخل کرواتے وقت دھڑلے سے کہتے تھے ’’ماسٹر صاحب ہمارا لختِ جگر آپ کے حوالے۔ ہڈیاں آپ کی گوشت ہمارا‘‘۔ بچے کو اس وقت اپنا باپ قصائی محسوس ہوتا تھا۔ لیکن آج لگتا ہے کہ اس قصابی کے پیچھے کیسی محبت چھپی ہوئی تھی۔

جب میں آج اپنے یا دوسروں کے بچوں کے شب و روز دیکھتا ہوں تو اپنے بچپنے کی یادوں پر دکھ ہوتا ہے۔ ہمیں گھر میں اکثر کفایت شعاری یا فضول خرچی جیسے الفاظ سننے پڑتے تھے۔ آج کا بچہ دراصل اپنے والدین کا باپ یا ماں ہے۔ وہ باقاعدہ والدین کو اپنی ہر پسند نا پسند کے بارے میں حکماً درخواست کرتا ہے اور والدین بہ رضا و رغبت اس بچے کی فرمائشی غلامی پر رضامند رہتے ہیں۔ آج کے والدین یہ تصور ہی نہیں کر سکتے کہ بچے کی جا بے جا فرمائش دراصل محبت نہیں بلکہ اس کی زیرِ تعمیر شخصیت پر کتنا بڑا ظلم ہے۔ آج کا بچہ نہ کے مطلب سے ناواقف اور صرف ہاں کے مطلب سے واقف ہے۔ اس کے ناز و نعم کا اس کی اخلاقی و تعلیمی تربیت سے اگر کوئی لینا دینا ہے بھی تو واجبی سا۔

ہمیں اپنے والدین سے کپڑے گندے یا میلے کرنے پر خوب سننا پڑتی تھیں لیکن آج کے بچے کو اس بارے میں کوئی تشویش نہیں کیونکہ اسے کپڑے دھونے کے صابن یا ڈیٹرجنٹ کے اشتہارات سے یہ تعلیم مل رہی ہے کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔ اسے ہر ماہ نئے کپڑے دلانا والدین کا فرض ہے۔ اگر روزانہ نہیں تو ہر ہفتے ایک نیا کھلونا ضرور چاہئیے۔ کس بچے کو اپنی عمر کے اعتبار سے کون سا کھلونا چاہیے اس کا فیصلہ بچہ خود کرتا ہے اور آج کل وہ پلاسٹک کی بندوق یا پستول وغیرہ سے کم پر راضی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دیگر ہم عمروں سے کڑا مقابلہ ہے۔ وہ فٹ بال ، کرکٹ ، ہاکی یا بیڈ منٹن صرف ٹی وی پر دیکھتا ہے اور خود محلے یا خاندان کے بچوں کے ساتھ ’’ خود کش بمبار ’’ یا ڈاکو ڈاکو یا اغوا کار کھیلنا پسند ہے۔ بچوں کی دو ٹیموں میں سے ایک ظالم اور دوسری مظلوم بن جاتی ہے اور پھر پوزیشنیں بدل لی جاتی ہیں۔

باہر کب تک رہنا ہے اور رات کو کس وقت گھر لوٹنا ہے اس کا فیصلہ بھی بچے خود کرتے ہیں۔ گھر آ کر ماں کے ہاتھ کا کھانا کھانا ہے یا باہر کا برگر آرڈر کرنا ہے اس کا فیصلہ بھی بچہ خود کرتا ہے۔ آئس کریم خود خریدنے کے لیے بھی پیسے چاہئیں۔ رات کو وہ اپنے والدین کو سلا کر کمپیوٹر گیمز آف کر کے سوتا ہے اور صبح جب اسکول کے لیے روانہ ہوتا ہے تو آدھا سوتا جاگتا کلاس روم تک پہنچتا ہے۔ سرزنش ، سزا ، مار ، یہ اصطلاحات اس کے لیے اجنبی ہیں۔ ٹی وی ڈراموں یا فلموں سے لیے گئے ڈائیلاگ اس بچے کی لسانی ذہانت کے طور پر فخریہ انداز میں بتائے جاتے ہیں۔ ٹیوشن نہ پڑھنے کا سبب والدین کی غربت تو ہوسکتی ہے بچے کی تعلیمی کمزوری ہرگز نہیں۔ اسکول میں اگر گریڈ کم آرہا ہے تو یہ بچے کا نہیں ٹیچر یا اسکول کا قصور ہے۔ اگر محلے سے اس کی کوئی شکایت آئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمسائے اس سے جلتے ہیں۔

اب مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوتی جب میں ایک بارہ سالہ بچے کے ہاتھ میں موبائیل فون دیکھتا ہوں جو اسے سالگرہ پر آنٹی کی جانب سے تحفے میں ملا۔ اس کی میز پر کتاب کے بجائے ٹیبلٹ دیکھتا ہوں جس میں کتاب نہیں بلکہ گیمز اپ لوڈ ہوتے ہیں۔ اس کی کلائی پر گھڑی دیکھتا ہوں ، گویا کسی کارپوریٹ میٹنگ میں پہنچنے سے دیر نہ ہو جائے۔ ایک چودہ برس کے بچے کی ذاتی موٹر سائیکل دیکھتا ہوں اور حیرانی نہیں ہوتی کیونکہ اس کے ساتھ کے بچوں کے پاس تو اپنی ذاتی کاریں اور مسلح محافظ ہیں۔ اب اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں ایک سٹھیایا ہوا بڈھا ہوں جو اپنے دور کو اچھا اور آج کے دور کو حسبِ عادت برا کہہ رہا ہے تو ایسا نہیں ہے۔ ہر دور اپنی نسل کے لیے نئے مسائل اور نئے حل مع نئی اخلاقیات لاتا ہے۔ ہو سکتا ہے موجودہ دور کے لیے یہی ٹھیک ہو جو آج کے بچے کر رہے ہیں ، سیکھ رہے ہیں یا پڑھ رہے ہیں۔ البتہ مجھے ان میں سے بہت سی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ شاید آپ ٹھیک ہی سوچ رہے ہیں۔ شاید میری سوچ یا میں واقعی بوڑھا ہو گیا ہوں۔

وسعت اللہ خان

لاعلمی کا مداوا علم ہے مگر جہل کا کوئی کفارہ نہیں

میں جس سرکاری سیکنڈری سکول میں پڑھتا تھا اس کا رقبہ ایک ایکڑ تھا۔ ایک گراؤنڈ تھا جس میں ہاکی اور فٹ بال کھیلا جا سکتا تھا۔ سکاؤٹنگ تھی، ڈبیٹنگ کلب تھا اور مختلف کلاسوں کے مابین معلوماتِ عامہ کا سالانہ مقابلہ ہوتا تھا۔ یعنی کلاس روم کے باہر ذہنی و جسمانی نشوونما کا پورا انتظام تھا۔ میرے کلاس فیلوز میں ایک لڑکے کا باپ گدھا گاڑی چلاتا تھا۔ ایک کا باپ حلوائی، ایک بچہ تحصیلدار کا تھا اور ایک واپڈا کے ایگزیکٹو انجینیئر کا۔ چار لڑکے نواحی دیہاتوں میں رہنے والے مزارعوں کے تھے۔ اور باقیوں کے ابا کریانہ فروش، جلد ساز، دندان ساز، پیش امام، گلوکار، ٹیچر، وکیل، بینکر وغیرہ وغیرہ تھے۔

ڈسپلن برقرار رکھنے کے لیے استاد کے ہاتھ میں چھڑی بھی گھومتی رہتی تھی۔ فیس ساڑھے تیرہ روپے ماہانہ تھی۔ آج آدھے کلاس فیلوز کا کچھ پتہ نہیں۔ باقی آدھوں میں سے کوئی آرٹسٹ ہے، کوئی امریکہ میں ہے، کوئی ڈپٹی سیکرٹری ہے، ایک میجر جنرل ہے، کچھ کارپوریٹ سیکٹر میں ہیں، ایک انشورنس ایجنٹ اور ایک تعمیراتی ٹھیکیدار بنا پھر رہا ہے اور ایک کروڑ پتی مفرور ہیومن سمگلر ہے۔ میرا سکول کوئی خاص نہیں تھا۔ ہر تحصیل میں سرکاری سیکنڈری سکول ایسا ہی ہوتا تھا اور اس میں ایسے ہی طالبِ علم پڑھتے تھے۔ وہ شام کو پی ٹی وی پر بچوں کے لیے کارٹون فلمیں، بلیک اینڈ وائٹ ڈرامے اور سہیل رانا کا میوزک سکھانے کا پروگرام بھی دیکھتے تھے، ریڈیو پر گانے بھی سنتے تھے اور ان میں سے کچھ استاد کی غیر موجودگی میں ناچ بھی لیتے تھے۔

ہر مڈل کلاس گھرانے میں بچوں کا ایک آدھ رسالہ ضرور آتا تھا۔ اخبارات میں بچوں کی دنیا کی طرح کا ہفتہ وار صفحہ ضرور چھپتا تھا۔ ان صفحات میں نئے نونہال لکھاریوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ انہیں صفحات کے طفیل بعد میں کئی سکہ بند ادیب اور شاعر بھی بن گئے۔ آج میرا بچہ جس سکول میں پڑھتا ہے اس کا رقبہ چار سو مربع گز ہے۔ دو منزلہ عمارت میں صرف کلاس رومز ہیں۔ ایک چھوٹا سا لان ہے جس میں بس صبح کی اسمبلی ہونے کی گنجائش ہے۔ فیس اور متفرقات ملا کر چودہ ہزار روپے ماہانہ جاتا ہے۔ محلے میں جو گراؤنڈ تھا اس کے ایک حصے پر راتوں رات ایک مدرسہ بن گیا اور باقی حصہ ٹین کے بنے کیبنوں میں بٹ گیا جہاں سبزی، گوشت، کریانہ، نائی، پنواڑی اور گیرج کا راج ہے۔

چونکہ سکول میں بھی گراؤنڈ نہیں اور محلے کا گراؤنڈ بھی غائب ہوگیا لہذا وہ فٹ بال لیپ ٹاپ کے سافٹ ویئر پر کھیلتا ہے۔ ویک اینڈ پر کرکٹ سامنے کی سڑک پر کھیلتا ہے۔ ایک نگاہ گیند پر اور دوسری نگاہ آتی ہوئی کار اور جاتی موٹر سائیکل پر ہوتی ہے۔ شام کو وہ ٹی وی نہیں دیکھتا۔ کسی چینل پر اس کے مطلب کا کوئی پروگرام نہیں۔ کارٹون کب تک دیکھے؟ روتی دھوتی عورتوں کے ڈرامے اور جھگڑالو ٹاک شو اس کی سمجھ میں نہیں آتے۔ ہمارے محلے سے دو بلاک چھوڑ کے ایک تھیم پارک ہے۔ مگر یہاں پر جھولوں، سوئمنگ پول، ٹیبل ٹینس وغیرہ جیسی سہولتوں کے فی آئٹم پیسے دینے پڑتے ہیں۔ ایک دفعہ آنے جانے میں کم ازکم دو ہزار روپے کا خرچہ ہے۔ سمندر پر کبھی کبھار لے جاتا ہوں مگر ساحل کچرے سے اٹا پڑا ہے لہذا اب میرا بیٹا سمندر پر بھی نہیں جانا چاہتا۔

وہ اور اس جیسے لاکھوں بچے کھیلنا چاہتے ہیں مگر کہاں کھیلیں، اپنے مطلب کے ٹی وی پروگرام دیکھنا چاہتے ہیں مگر کس چینل پر؟ اپنی ہم عمر کتابیں پڑھنا چاہتے ہیں مگر سستی کتابیں اور رسالے کہاں تلاش کریں؟ لہذا ان میں سے جن کے والدین یہ خرچہ اٹھا سکتے ہیں انھوں نے اپنے بچوں کو لیپ ٹاپ دلا دیا ہے۔ وہ یہ لیپ ٹاپ کھاتے ہیں، پیتے ہیں اور جیتے ہیں۔ اور مجھ جیسے جعلی دانشور اخبار، ٹی وی اور سیمیناروں میں روتے ہیں کہ نئی نسل اپنے اردگرد سے اتنی بیگانہ کیوں ہے؟ وہ صحت مند ذہنی و جسمانی زندگی گذارنے میں دلچسپی کیوں نہیں رکھتی؟ اس کی ذہنی استعداد معیاری مہنگے طبقاتی سکولوں میں پڑھنے کے باوجود کیوں زوال پذیر ہے؟ یہ نسل عملی زندگی کے چیلنجوں کا کیسے مقابلہ کرے گی وغیرہ وغیرہ۔

پہلے ہم نے اپنی نسل سے سکول چھینے، ذہنی و جسمانی تربیت کا ماحول چھینا، ان کی آزادی سے اڑان بھرنے کی اجازت کے پر کترے اور اب جب یہ نسل ایک کمرے کی دنیا میں سمٹ رہی ہے تو ہم نوحہ گر ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ آخر ہم نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے؟ جنھیں اب تک یہی نہیں معلوم کہ ان سے کون سا گناہ سرزد ہوا، انھیں کیسے معلوم ہوگا کہ گناہ کا کفارہ کیا ہوتا ہے۔ لاعلمی کا مداوا علم ہے مگر جہل کا کوئی کفارہ نہیں۔

وسعت اللہ خان

تجزیہ کار

انجامِ گلستاں کیا ہو گا ؟

ہم جنھیں انتخابات میں بھاری اکثریت سے منتخب کرتے ہیں وہ کوئی معمولی لوگ تو نہیں۔ ہم انھیں اپنی قسمت کی باگ پکڑاتے ہیں۔ یہ ارکان ہمارے لیے قانون سازی کرتے ہیں ، صحت و صفائی ، روزگار ، دفاع ، داخلہ اور خارجہ امور وغیرہ سے متعلق پالیسیاں بناتے ہیں۔ اندرونِ ملک دہشت گردی سے نبرد آزمائی کے لیے گائیڈ لائن فراہم کرتے ہیں ، انھی میں سے کوئی اسپیکر ، وزیرِ اعظم ، وزیرِِ اعلی وزیر بنتا ہے۔ انھی میں سے پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے سربراہ اور ارکان نامزد ہوتے ہیں جو مختلف محکمہ جاتی پالیسیوں اور افعال کا محاسبہ کرتے ہیں۔انھی ارکانِ پارلیمان و صوبائی اسمبلیوں کو بیرونِ ملک نیلے پاسپورٹ پر اقوامِ متحدہ سے لے کر واشنگٹن اور بیجنگ تک دورے کر کے  کشمیر ، افغانستان ، سمیت خارجہ پالیسی کے مقاصد دنیا کو سمجھانے کا موقع ملتا ہے۔ یہی لوگ حکومتیں گراتے بناتے ہیں ، بجٹ منظور کرتے ہیں اور اپنے اپنے ووٹرز یا خاندان  کے لیے رول ماڈل بھی ہوتے ہیں۔

ان میں سے کوئی بھی انگوٹھا چھاپ نہیں۔ زیادہ نہیں تو کم ازکم پرائمری تک ضرور پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ بطور منتخب جمہوری نمایندہ تعلیمی اداروں میں مہمانِ خصوصی بنتے ہیں۔ طلبا کو اچھا پاکستانی بننے کا درس بھی دیتے ہیں۔ یہ بھی بتاتے ہیں کہ پاکستان کتنی قربانیوں سے حاصل ہوا اور اس ملک کو نئی نسل سے کیا کیا توقعات ہیں۔ یہ نمایندے اہم قومی دنوں پر منعقد ہونے والی شاندار تقاریب و پریڈوں میں مہمان ہوتے ہیں اور لمبی لمبی تقاریر سنتے اور کرتے ہیں۔

ان نمایندوں کو محمد علی جناح کے کچھ فرمودات اور علامہ اقبال کے کم ازکم دو شعر وزن میں بھی یاد ہوتے ہیں جو انھوں نے کبھی پہلی دوسری جماعت میں ہی سہی مگر پڑھے ضرور ہوں گے۔ ان ارکانِ اسمبلی نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر دس منٹ کے لیے سہی کسی نہ کسی چھوٹی موٹی لائبریری میں قدم رنجہ بھی فرمایا ہوگا۔ ہو سکتا ہے ان کے اپنے گھر یا دفتر میں پاکستان کے بارے میں کوئی نہ کوئی چھوٹی موٹی کتاب بھی شیلف پے دھری ہو جو انھیں کسی نے تحفے میں دی ہو۔ کبھی نہ کبھی اس کتاب پر ان کا ہاتھ پڑا بھی ہو گا۔

ہم جنھیں بطور نمایندہ اپنا حال سنوارنے کی آس میں ووٹنگ کی لائن لگا کر منتخب کرتے ہیں ان میں سے ننانوے فیصد ارب پتی نہیں تو کروڑ پتی یا کم ازکم لکھ پتی تو ہوتے ہیں۔ ان کے بچے اچھے نہ سہی درمیانے اسکولوں میں ضرور پڑھ رہے ہوں گے۔ ان بچوں کے ساتھ کبھی کبھی ان کی علمی ٹائپ مختصر بحث بھی ہوتی ہو گی۔ ان ارکانِ اسمبلی کے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ نہ سہی مگر اینڈورائڈ فون تو ہوتا ہی ہو گا اور انھیں یہ بھی معلوم ہو گا کہ اس فون پر حصولِ معلومات کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت بھی ہے۔ ہم جنھیں اپنے بہتر مستقبل کی آس میں منتخب کرتے ہیں ان کے لیے ہر اسمبلی بلڈنگ میں ایک عدد لائبریری بھی ہوتی ہے جو اس آس میں کھلی رہتی ہے کہ کبھی تو کوئی بھولا بھٹکا آئے گا اور چند منٹ میرے ساتھ گذارے گا۔

یہ نمایندے جن جماعتوں کی نمایندگی کرتے ہیں ان میں سے کوئی خود کو پاکستان کی وراثتی امین کہتی ہے ، کوئی نیا پاکستان تعمیر کرنا چاہتی ہے ، کوئی اس میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتی ہے ، کوئی اسے روشن خیال مساواتی وفاق بنانا چاہتی ہے۔ لہذا ہم توقع رکھتے ہیں کہ یہ جو کہہ رہے ہیں جانتے ہیں اور جو کر رہے ہیں اس کا پورا شعور رکھتے ہیں۔ انھیں کم ازکم اتنی بنیادی آگہی ضرور ہوگی کہ پاکستان کیوں بنا ، اس سفر میں کیا کیا مرحلے آئے ، کیا کیا غلطیاں ہوئیں تا کہ ان کا دوبارہ اعادہ نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کسی خوانچہ فروش کو یہ سب جاننے یا سمجھنے کی ضرورت نہ ہو مگر جسے ہم منتخب کر رہے ہیں کم ازکم اسے پاکستان کے بارے میں بنیادی باتیں ، اہم تاریخیں اور اہم شخصیات کے نام ہی معلوم ہوں۔ تا کہ جب وہ بطور ایم پی اے ، ایم این اے ، چیئرمین ، وزیر ، مندوب کسی سی ایس ایس پاس ماتحت بیوروکریٹ سے بات کر رہا ہو یا اسے احکامات دے رہا ہو یا پالیسی بنا رہا ہو یا کسی سفیر سے مل رہا ہو تو کوئی اسے بنیادی قومی حقائق کے بارے میں چیلنج نہ کر سکے۔

دوسری جماعت میں پڑھنے والے بچے سے بھی توقع ہوتی ہے کہ وہ تئیس مارچ چودہ اگست ، اقبال ، جناح  اور دیگر قومی اکابرین کے بارے میں بالکل بنیادی معلومات ضرور رکھتا ہو گا۔ اس کم ازکم توقع کے ساتھ ڈان نیوز نے تئیس مارچ کی اہمیت کے بارے میں ارکانِ اسمبلی کی علمیت سے فیض پانے کا سوچا۔ قرار دادِ پاکستان چونکہ لاہور کے منٹو پارک میں مولوی اے کے فضل الحق نے پیش کی اور چوبیس مارچ کو متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ لہذا اسی لاہور میں قائم پنجاب اسمبلی کے احاطے میں موجود ارکانِ اسمبلی کی جانب مائکروفون کر دیا گیا یہ سوچے بغیر کہ کس کا تعلق کس جماعت سے ہے۔ سوال صرف اتنا تھا کہ قرار داد ِ پاکستان کب ، کس نے  کہاں پیش کی اور اس میں کیا بنیادی مطالبہ کیا گیا تھا ؟ جوابات ملاحظہ فرمائیے۔

’’ دیکھئے یہ قرار داد تئیس مارچ کو منظور ہوئی اور یہ بہت بڑی قرار داد تھی ’’۔( شہزاد منشی۔ مسلم لیگ ن )۔

’’ مجھے ٹھیک طور سے تو یاد نہیں مگر میرا خیال ہے کہ یہ سرسید احمد خان نے پیش کی تھی ’’۔ ( شعیب صدیقی۔ پاکستان تحریکِ انصاف )۔

’’ تئیس مارچ کو قرار داد چوہدری رحمت علی نے پیش کی تھی اور سال تھا انیس سو چھیالیس’’۔ (کنول نعمان۔ مسلم لیگ ن )۔

’’ شائد انیس سو چالیس میں۔۔۔ایک منٹ۔۔ یہ مائک ہٹائیں ’’۔ ( سعدیہ سہیل۔ پاکستان تحریکِ انصاف)۔

’’ میرا خیال ہے قائدِ اعظم نے پیش کی تھی انیس سو تینتالیس یا بیالیس میں۔مجھے پتہ ہوتا تو تیاری کر کے آتی۔ ایسے نہ پوچھا کریں ’’۔( فرزانہ بٹ۔ مسلم لیگ ن)۔

چلیے صوبائی اسمبلی کے ارکان کو اور بہت سے کام ہوتے ہیں اگر یاد نہیں یا غلط یاد ہے تو کوئی بات نہیں۔ مگر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کو یقیناً آگہی ہوگی۔ کیونکہ سب اہم نظریاتی و تاریخی فیصلے تو بہرحال اسلام آباد میں ہی ہوتے ہیں۔ لہذا بچارا مائکروفون پارلیمنٹ کے پچھلے دروازے پر پارکنگ لاٹ میں اپنی اپنی گاڑیوں کے انتظار میں کھڑے ارکانِ پارلیمان کی جانب بڑھا۔ جی قرار داد پاکستان کب کہاں کس نے کیوں پیش کی تھی ؟

’’ مجھے یاد نہیں کہ کہاں پیش ہوئی تھی ’’۔( سینیٹر نعمان وزیر تحریکِ انصاف )۔

’’ اتنی تفصیل آپ کو کیسے بتاؤں۔ ہم ہسٹری کے طالبِ علم ہیں۔ لیکن آپ بہت چھوٹے ہیں اور سوال بہت بڑا ہے ’’۔ ( اکرم درانی سابق وزیرِ اعلی خیبر پختون خوا ، ایم این اے جمعیت علماِ اسلام )۔

’’ دیکھئے قرار دادِ پاکستان کا یہ تھا کہ جو ہمارا لاہور کا مینار بنا ہوا ہے مینارِ پاکستان۔ یہ ایک جگہ ہے جو ہم نے بنائی ہے۔ اور ہمارے جو اکابرین تھے تحریکِ پاکستان کے جن میں قائدِ اعظم محمد علی جناح اور دیگر لوگ تھے۔ انھوں نے تحریکِ پاکستان میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا ’’۔ ( شیخ صلاح الدین ایم این اے۔ ایم کیو ایم )۔

’’ بیٹے مجھے معلوم ہے۔ تئیس مارچ انیس سو چالیس کو ایک قرارداد پیش ہوئی تھی۔ اس میں قائدِ اعظم بھی تھے۔ علامہ اقبال تھے یا نہیں تھے مجھے یاد نہیں ’’۔( سینیٹر الیاس بلور۔ عوامی نیشنل پارٹی )۔

’’ یہ قرار داد جو آل پاکستان انڈیا مسلم لیگ نے پیش کی۔ اس کی کیا وجوہات تھیں ؟ اس کے لیے اس نے جدوجہد کی۔ اس جدوجہد کو آگے بڑھانا چاہیے‘‘۔ ( ڈاکٹر رمیش کمار ایم این اے مسلم لیگ ن )۔

’’ میں پوری ہسٹری تو نہیں جانتا لیکن مجھے یاد ہے کہ قرار دادِ پاکستان پیش کرنے والے پاکستان میں نہیں ہیں۔ ہمیں نیشنل ہیروز پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ وہ آج یوکے میں دفن ہیں۔ اگر ہم ان کو لے آتے تو تئیس مارچ دوبالا ہو جاتا۔ اب آپ کی سمجھ میں آ گیا‘‘۔ یہ تھی سابق وزیرِ داخلہ اور موجودہ سینیٹر رحمان ملک کی تحقیق جنھیں کراچی یونیورسٹی اعزازی ڈاکٹریٹ سے بھی نواز چکی ہے۔ ( غالباً رحمان ملک کا اشارہ چوہدری رحمت علی کی جانب تھا جو کیمبرج میں دفن ہیں کیونکہ قرار داد پیش کرنے والے مولوی فضل الحق تو ڈھاکے میں محوِ آرام ہیں )۔

یقیناً ہماری اسمبلیوں میں رضا ربانی ، ایاز صادق ، فرحت اللہ بابر ، اعتزاز احسن ، مشاہد حسین ، شیریں مزاری جیسے درجنوں بہت ہی پڑھے لکھے جان کار لوگ بھی موجود ہیں جن کے سبب یہ ملک چل رہا ہے۔ مگر ہر ایک علمی انجن کے پیچھے لاعلمی کے جو درجنوں ڈبے لگے ہوئے ہیں وہ کس گنتی شمار میں ہیں۔کیا وہ محض حق میں یا خلاف ہاتھ کھڑے کرنے والے روبوٹس ہی رہیں گے ؟ کیا قسمت پائی ہے تئیس مارچ کی قرار داد سے پیدا ہونے والے پاکستان نے۔

وسعت اللہ خان

اسرائیل بالکل بھی نسل پرست نہیں

APTOPIX Mideast Israel Palestinians

تین روز قبل اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونائٹڈ نیشنز اکنامک اینڈ سوشل کمیشن فار ویسٹرن ایشیا ( ایسکوا ) کی جانب سے ایک غیر معمولی رپورٹ شائع ہوئی جس میں یہ بم پھوڑا گیا کہ اسرائیل ایک نسل پرست ریاست ہے جس نے فلسطینیوں کو زیرِ نگیں رکھنے کے لیے اپارتھائیڈ ( نسلی تفریق) ڈھانچہ بنا رکھا ہے۔ بس پھر کیا تھا ایک طوفان آ گیا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس رپورٹ کو سفید جھوٹ اور نازی طرز کا پروپیگنڈہ قرار دیا۔ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلے نے رپورٹ کے ایک مرتب رچرڈ فاک کو متعصب بتایا (رچرڈ فاک فلسطین میں انسانی حقوق کے سلسلے میں اقوامِ متحدہ کے سابق مشاہدہ کار ہیں)۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈیرک نے وضاحت کی کہ یہ رپورٹ سیکرٹری جنرل کے نہیں بلکہ مرتبین کے خیالات ہیں۔ اس رپورٹ کی اشاعت سے پہلے ہیڈ کوارٹر سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کی ایک اور مصنف اقوامِ متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل اور ایسکوا کی ایگزیکٹو سیکرٹری ریما خلف نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔ اس سے قبل ریما نے سیکرٹری جنرل سے استدعا کی کہ وہ رپورٹ سے لاتعلقی نہ برتیں۔ بقول ریما خلف اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے نے یہ رپورٹ ایسکوا کے رکن ممالک کے کہنے پر مرتب کی تھی۔ ہمیں اندازہ تھا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی اس رپورٹ سے لاتعلقی کے لیے سیکرٹری جنرل پر زبردست دباؤ ڈالیں گے۔

یہ رپورٹ لگ بھگ تیس گھنٹے ایسکوا کی ویب سائٹ پر زندہ رہی۔ اقوامِ متحدہ کی تاریخ میں شاید ہی پہلے کبھی ہوا ہو کہ ایک شائع رپورٹ کو اس طریقے سے واپس لیا گیا ہو۔ یوں ایک بار پھر اندازہ ہو گیا کہ اقوامِ متحدہ کتنی آزاد اور کتنی مجبور ہے۔ مگر یہ زخم ایسے مندمل نہیں ہو گا جب تلک اقوامِ متحدہ ایک اور رپورٹ جاری نہیں کرتی جس میں لکھا ہو کہ مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کے لیے زمین پر اسرائیل نے جبری قبضہ نہیں کیا بلکہ فلسطینیوں نے ہاتھ جوڑ کر یہ کہتے ہوئے ان زمینوں کی ملکیت اسرائیل کے حوالے کی کہ صاحب ہمارے بس کا کام نہیں آپ ہی سنبھالئے اور پھر وہ اپنا اسباب سر پر اٹھائے اسرائیلی آبادکاروں سے آبدیدہ گلے مل کر وقت کی دھول میں گم ہو گئے۔

اور یہ جو ہر قدم پر فوجی چیک پوسٹیں ہیں ان پر فلسطینیوں کی طویل قطار اور بدسلوکی کی خبریں بھی نرا پروپیگنڈہ ہے۔ ان کا تو روزانہ وہ اسرائیلی فوجی سواگت کرتے ہیں جن کے ہاتھ میں رائفل نہیں گلدستے، چہرے پر کرختگی نہیں مسکراہٹ ہوتی ہے۔ یہ حاملہ خواتین کو بیٹھنے کے لیے اپنی کرسیاں پیش کر دیتے ہیں اور قطار میں کھڑے فلسطینی بچوں کو دودھ اور کھلونے سپلائی کرتے ہیں۔ حتٰی کہ جب فلسطینی غصے میں لال بھبوکے ہو کر سنگ باری کرتے ہیں تو بچارے اسرائیلی فوجی صرف ہوا میں گولی چلاتے ہیں۔ اگر کوئی فلسطینی بچہ اڑتا ہوا ان گولیوں کے سامنے آ جائے تو کوئی کیا کرے۔

اور یہ جو ہر فلسطینی شہری کو اپنی جیب میں شناختی کارڈ رکھنے کی نصیحت ہے۔ اس کا مقصد نسلی شناخت و حقارت تھوڑا ہے۔ یہ شناختی کارڈ تو اس بات کی ضمانت ہیں کہ ان کارڈ ہولڈرز کو مہمان ہونے کے ناطے اسرائیلی حکومت کی جانب سے تعلیم، صحت، رہائش، روزگار اور نقل و حرکت وغیرہ کے لیے جو اضافی مراعات و سہولتیں ملتی ہیں وہ کہیں کوئی یہودی شہری کسی فلسطینی کا روپ دھار کے نہ اچک لے۔ آنجہانی اسرائیلی وزیرِ اعظم گولڈا مئیر نے 1969 میں کیا اچھی بات کہی تھی۔ ’ایسا نہیں کہ یہاں کوئی فلسطینی تھے اور ان کی کوئی ریاست تھی اور ہم آئے اور انہیں باہر پھینک کر ان کے ملک پر قبضہ کر لیا۔ ان کا تو کوئی وجود ہی نہیں تھا۔۔۔‘

اب آپ ہی دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیے کہ ایسے لوگ جن کا کوئی وجود ہی نہیں۔ ان کے انسانی حقوق پر اقوامِ متحدہ سمیت کوئی بھی کیسے بات کر سکتا ہے؟ اگر اب بھی کسی کے دل میں کوئی اسرائیل مخالف وسوسہ ہے تو گولڈا مئیر کا ایک اور قول سن لے۔ ’ہم انہیں اپنے بچوں کے قتل پر تو معاف کر سکتے ہیں۔ مگر اس پر کبھی معاف نہیں کریں گے کہ وہ ہمیں ان کے بچوں کو قتل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔‘

وسعت اللہ خان

تجزیہ کار

غداری بذریعہ قرعہ اندازی

سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو جنرل ضیا الحق کے جنازے کی آبدیدہ رننگ کمنٹری کرنے کے بعد مردِ مومن  کی آنکھوں کے تارے وزیرِ اعلی پنجاب اور آئی جے آئی کے صدر میاں نواز شریف کے مشیرِ اطلاعات، سابق وفاقی سیکریٹری اطلاعات، سری لنکا میں نواز شریف حکومت اور امریکا میں زرداری حکومت کے سابق سفیر حسین حقانی کو غدار کہنے سے اگر مسئلہ حل ہو جاتا ہے تو میں بھی کہہ دیتا ہوں غدار غدار حقانی غدار۔ لیکن پھر ضیا دور سے آج تک حسین حقانی کی طرح حالات کی ہوا کا رخ دیکھ  کر ایک سے دوسرا پینترا اور چولا بدلنے والی اسٹیبلشمنٹ کو کیا کہوں جو اپنی بقا کے لیے کبھی شیر کے ساتھ دوڑتی ہے کبھی شکاری کے ساتھ اور کبھی بیک وقت دونوں کے ساتھ۔ جو یو ٹرن کو بھی خطِ مستقیم ثابت کرنے  کے فن میں طاق ہے۔ جسے ہر آڑھے ٹیڑھے موڑ پر کوئی نہ کوئی بکرا چاہیے جو ابنِ الوقتی کے چرنوں میں قربان کرنے کے بعد دوڑ جاری رکھی جا سکے۔

مثلاً ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو تب ہی کیوں ایٹمی راز غیر ملکیوں کو بانٹنے کے اعترافِ جرم کی خاطر ٹی وی پر پیش کیا گیا جب یہ اعتراف حاصل کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ رہا۔ کیا اسلام آباد میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ اعترافی بیان سے پہلے کے دس پندرہ برس میں ڈاکٹر قدیر کیا کر رہے تھے، کہاں جا رہے تھے، کس سے مل رہے تھے، کیوں مل رہے تھے؟  بینک اکاؤنٹس کا اسٹیٹس کیا تھا، املاک کی سرمایہ کاری کہاں کہاں ہو رہی تھی؟ کیا یہ بات کسی کو سمجھائی جا سکتی ہے کہ کہوٹہ کے اوپر سے تو پرندہ بھی بنا اجازت نہیں گزر سکتا اور ڈاکٹر قدیر تنِ تنہا شمالی کوریا سے ایران اور لیبیا تک ایٹمی بلیو پرنٹس ایسے بانٹ رہے تھے گویا فارمولے نہ ہوں بوجھے میں بھری ریوڑیاں ہوں؟

آج بھی یہ سوال گہری قبر میں دفن ہے کہ کیا ڈاکٹر قدیر نے یہ کام تنِ تنہا کیا جیسا کہ سرکاری ریکارڈ میں دعوی کیا گیا ہے یا پھر اس گروہ میں اور بھی کئی پردہ نشین تھے جن کے نام بتانا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ آج تک کس مائی کے لال کو جرات ہوئی کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے کمیشن تو کجا کمیشن کی تشکیل کی آواز ہی بلند کر سکے۔ کمیشن کچھ نہ بتائے سوائے یہ کہ اس ایٹمی سکینڈل میں سلطانی گواہ کون کون ہے؟ اب آئیے حسین حقانی کے ویزہ کیس کی طرف۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکا اور پاکستان کے ستر سالہ تعلقات کبھی بھی ایسے نہیں رہے جو محض حکومتوں کے درمیان ہوں۔  دونوں ممالک کے حساس اور عسکری ادارے براہ راست بھی ایک دوسرے سے تعاون کرتے اور رابطے میں رہتے ہیں۔

سیٹو اور سینٹو میں پاکستان کی شمولیت کے بعد پشاور کے بڈابیر ایر بیس کی سہولت سے اسٹرٹیجک قربت اور ہم آہنگی کا جو رشتہ شروع ہوا اور افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت کے بعد سے دونوں ممالک کے دفاعی اور سراغ رساں اداروں کے درمیان تعاون نے قربت کی جو نئی شکل اختیار کی وہ بین الاقوامی تعلقات کا پھٹیچر سے پھٹیچر طالبِ علم بھی جانتا ہے۔ کم و بیش اسی نوعیت کی قربت پاک سعودی اور پاک چائنا اسٹیبلشمنٹ کے بھی مابین ہے پھر بھی اگر دعوی کیا جائے کہ دو طرفہ نوعیت کا کوئی بھی حساس معاملہ ان میں سے کسی بھی ملک کی اسٹیلشمنٹ سے پوشیدہ ہے۔ تو یہ بات ماورائے عقل محسوس ہوتی ہے۔

ضیا الحق کے دور میں جب ریگن کی سی آئی اے کے سربراہ ولیم کیسی کا گلیکسی طیارہ رات کے اندھیرے میں چکلالہ ایر بیس پر اترتا تھا تو کون سا امیگریشن افسر ان سے بصدِ ادب پوچھتا تھا سر پاسپورٹ پلیز ؟؟ یا امریکی رکنِ کانگریس چارلی ولسن اپنے دوستوں کے ساتھ وقت بے وقت پاکستان کے چکر لگاتے تھے اور ہر طرح کے پروٹوکول اور تحفظ کے مستحق سمجھے جاتے تھے اور ہر شخص سے براہ راست ملنا اپنا حق سمجھتے تھے تب کسی کے ذہن میں شائبہ کیوں نہیں تھا کہ یہ امریکی یہاں کیا اور کیوں کر رہے ہیں اور ان کے کیا اور کیوں کا علم اور ریکارڈ کس ادارے کے پاس ہے یا نہیں ہے؟ بڈبیر سے لے کر نائن الیون کے بعد تک پوشید و اعلانیہ تعلقات و تعاون کی طویل زنجیر میں حسین حقانی تو محض ایک کمزور سی کڑی ہے جسے اب پوری زنجیر کے برابر بتایا جا رہا ہے۔

چلیے مان لیا حسین حقانی نے سیکیورٹی اداروں کی کلیرنس سے بالا بالا گیلانی زرداری حکومت کے کہنے پر مشکوک امریکیوں کو ویزے جاری کیے۔ مگر سفارتخانے میں جو ویزا افسر پاسپورٹ پر سٹیکر لگاتے ہیں ان کا ماتھا کسی بھی نام پر کیوں نہیں ٹھنکا؟ ہر حساس سفارتخانے کی طرح واشنگٹن کے پاکستانی سفارتخانے یا امریکی شہروں میں قائم قونصل خانوں میں کوئی تو ملٹری اتاشی ہو گا۔ کوئی تو تھرڈ سیکریٹری ہو گا جو کسی حساس ادارے کا نمایندہ ہوگا۔ (اس میں حیران ہونے کی کوئی بات نہیں۔ دنیا بھر کی انٹیلی جینس ایجنسیوں کی جانب سے سفارتی افسروں کے روپ میں اپنے اہلکار متعین رکھنا ایک معمول کا سفارتی راستہ ہے)۔

کیا ان خصوصی سفارتی اہلکاروں کے ہوتے ہوئے بھی قومی حساس ادارے اندھیرے میں رہ سکتے ہیں؟ اگر ایسا نہیں تھا تو درونِ خانہ کسی حساس ادارے نے کبھی سویلین اہلکاروں سے پوچھا بھائی صاحب یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ کن امریکیوں کو ویزے دے رہے ہیں؟ چلیے مان لیا سویلین حکومت نے حساس قومی اداروں کو اس بابت اعتماد میں لینا مناسب نہیں سمجھا۔ لیکن اگر حساس اداروں کو یہ پتہ چل گیا تھا کہ امریکا میں پاکستانی سفارت خانہ من مانی کرتے ہوئے مشکوک ویزے جاری کر رہا ہے تو پھر جب یہ ویزہ ہولڈرز کسی پاکستانی ایرپورٹ پر اترے تو ان کے پیچھے کارندے لگائے گئے یا نہیں؟ اگر لگائے گئے تو یقیناً ان کی نقل و حرکت متعلقہ اداروں کے علم میں مسلسل رہی ہو گی۔ اگر نہیں لگائے گئے تو کیوں نہیں لگائے گئے؟

اگر دو مئی دو ہزار گیارہ کو ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈو ایکشن نہ ہوتا تو کیا پراسرار ویزوں کی کہانی کی الماری کا پٹ کبھی کھلتا؟ چلیے ایک کمیشن اس پر بھی سہی کہ کیا حسین حقانی نے بند کمرے میں خود پاسپورٹوں پر ٹھپے لگائے یا دیگر اہلکاروں سے جبری طور پر لگوائے کہ یہ راز دو مئی دو ہزار گیارہ سے پہلے تک سوائے زرداری و گیلانی کسی کو بھی نہ پتہ چلے۔ اس کا اہتمام حسین حقانی نے کیسے کیا؟

ایبٹ آباد واقعہ کی تہہ تک اترنے کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ آج ہی میں جیئد سابق سفارتکار اور ایبٹ آباد کمیشن کے رکن اشرف جہانگیر قاضی کا تازہ مضمون پڑھ رہا تھا۔ لکھتے ہیں کہ اس وقت کے صدر ، وزیرِ اعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف نے کمیشن کے سامنے شہادت قلمبند کروانے سے معذرت کر لی۔ حسین حقانی نے کمیشن کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ ایک معزز رکن کے اختلافی نوٹ سمیت حکومت کو پیش کر دی۔ پچھلے پانچ برس کے دوران پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے متفقہ قراردادوں میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ کمیشن کی رپورٹ جاری کی جائے۔ مگر حکومت نے گویا سنا ہی نہیں۔ قاضی صاحب نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ رپورٹ جاری کی جائے۔

اشرف جہانگیر قاضی نے الجزیرہ کی جانب سے لیک ہونے والی ایبٹ آباد کمیشن کی عبوری رپورٹ کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اس رپورٹ کے حوالے گڈ گورننس کے لیے پاکستان میں کام کرنے والی تنظیم پلڈاٹ نے بھی دو ہزار تیرہ میں جاری کیے۔ لیک ہونے والی عبوری رپورٹ میں ایبٹ آباد ایکشن کو پورے حکومتی نظام کی ناکامی قرار دیا گیا اور حملے سے پہلے اور بعد کے سرکاری ادارتی ردِعمل کو سستی، لاعلمی، غفلت، نااہلی اور غیر ذمے داری پر محمول کرتے ہوئے کہا گیا کہ متعلقہ اداروں نے یا تو اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں پوری نہیں کیں یا پھر اپنے قانونی دائرہ کار سے باہر نکل کے دیگر اداروں کی ذمے داریاں بھی اٹھانے کی کوشش کی ان ذمے داریوں کو نبھانے کی اہلیت کے بغیر۔

کیا کسی بھی حکومت میں اتنی جرات ہے کہ آیندہ ایسے تباہ کن واقعات سے بچنے کے لیے قومی غفلتوں کے پانیوں پر تیرتے ہوئے ایبٹ آباد کے مردے کو مکمل پوسٹ مارٹم کے بعد خود احتسابی کے کفن میں باعزت دفنا سکے؟  جب تک یہ لمحہ نہیں آتا تب تک ایسے سانحات و واقعات کے تابوتوں پر طرح طرح کے کمیشنی پھولوں کی چادر چڑھاتے رہیئے اور قرعہ اندازی کے ذریعے کسی ایک کو پکڑ کر اس پر غداری کا بوجھ لاد شہر میں گھماتے رہیئے۔ ہم بھی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے واہ واہ پکارتے تالی بازوں میں شامل رہیں گے۔

وسعت اللہ خان

 

فوجی عدالتیں اور سویلین ٹسوے

Military-Courtsآثار یہی بتاتے ہیں کہ دو برس پہلے کی طرح اس بار بھی ارکانِ پارلیمان اور پارلیمانی لیڈر آنکھوں میں آنسو بھر کے گلوگیر تقاریر کے بعد انتہائی بوجھل دل سے اپنی آئینی و قانونی بلا  گلے سے اتار کے خصوصی فوجی عدالتوں کے سپرد کر دیں گے اور پھر پہلے کی طرح شکر بجا لاویں گے کہ کم ازکم مزید دو برس کے لیے سویلین عدالتی نظام اور تفتیش کاری کو انصاف کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے پہاڑ جیسے کام سے نجات مل گئی۔ پھر اگلے برس انتخابات کا غلغلہ شروع ہو جائے گا، نگراں حکومت آ جائے گی، پھر کوئی منتخب حکومت آ کر دیکھے گی کہ پھٹیچر عدالتی نظام کے لیے نئے کپڑے کے دنوں میں سلیں گے یا پرانے نو آبادیاتی دور کے کپڑوں پر ہی دکھاوے  کو کچھ پیوند اور توپے لگا کے کہا جائے دیکھو ہم نے عدالتی اصلاحات کا وعدہ پورا کر تو دیا۔ ساتھ ساتھ یہ رونا دھونا بھی چلتا رہے گا کہ کیا کریں؟ سویلین فوجی تعلقات کا پلڑا ایک جانب اتنا جھکا ہوا ہے کہ اسے راتوں رات برابر لانے کے لیے ہمارے پاس الہ دین کا چراغ نہیں۔ کیسی اچھی تکنیک ہے کہ پہلے کسی عمل پر تنقید کرو، پھر مشروط عشوے، غمزے دکھاو، بے بسی کی گلیسرین آنکھوں میں ڈال کر ٹسوے بہاؤ اور آخر میں مسائل کی دلہن یہ کہتے ہوئے بیاہ دو جا بنو رانی تیرا خدا ہی حافظ۔.27263-court-1429529881-702-640x480

کیا کسی پارلیمانی یا کابینہ کمیٹی یا آل پارٹیز ٹائپ کانفرنس کو توفیق ہوئی کہ فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کے معاملے کو قطعی شکل دینے سے پہلے ان کی پچھلی کارکردگی کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے؟ مگر بوجھ کو دوسرے کے کندھوں پر فٹافٹ لادنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دینے کے عادی اتنی محنت آخر کیوں کریں؟ گزشتہ فوجی عدالتیں اس نیئت سے وجود میں لائی گئی تھیں کہ وہ مذہب کے نام پر دہشتگردی کرنے والے جیٹ بلیک مجرموں کو جب تیزی سے کیفرکردار تک پہنچائیں گی تو ان کا انجام دیکھ کر نئے دہشتگرد اور ان کے ماسٹر مائنڈ  اگلی واردات  سے پہلے دس بار سوچیں گے۔ مگر بڈابیرکے رہائشی کمپلیکس، چارسدہ یونیورسٹی، چار سدہ کچہری، گلشنِ اقبال پارک لاہور، واہگہ بارڈر، شکار پور امام بارگاہ، کوئٹہ سول اسپتال، شاہ نورانی کے دربار پر خودکش حملے اور بیسیوں چھوٹی دہشتگرد کاروائیوں میں سینکڑوں شہریوں کو ہلاک کرنے اور سرحدی چیک پوسٹوں پر فوجیوں کو شہید کرنے والوں کو شاید کسی نے بروقت خبر نہیں پہنچائی کہ اس ملک میں نہ صرف آپریشن ضربِ عضب  جاری ہے بلکہ گیارہ فوجی عدالتیں بھی تمہاری اور تمہارے سہولت کاروں کی خبر لینے کے لیے متحرک ہیں۔

ان فوجی عدالتوں کے سامنے دو طرح کے ملزم لائے گئے۔ ایک وہ جن کے مقدمات سویلین انتظامیہ نے جیٹ بلیک قرار دے کر عام عدالتوں سے منتقل کیے۔ دوسرے وہ جو پہلے سے زیرِ حراست یا ایجنسیوں کی تحویل میں تھے۔ گزشتہ فوجی عدالتوں نے اپنی معیاد کے دوران دو سو چوہتر افراد کو سزائیں سنائیں۔ ان میں ایک سو اکسٹھ کو سزائے موت سنائی گئی۔ سترہ کی سزا پر عمل درآمد ہوا۔ باقی اعلی سول عدالتوں میں اپیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔ جب کہ ایک سو تیرہ کو مختلف المعیاد قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ حالانکہ مقدمات کی سماعت خفیہ طریقے سے ہوئی، دلائل، ثبوت، فردِ جرم اور فیصلے کی تفصیلات بھی عام ملاحظے کے لیے سامنے نہیں آئیں۔ ملزموں کو اپنی پیروی کے لیے سول وکلا کی خدمات بھی میسر نہ ہو سکیں۔ مگر پھر بھی عدالتِ عظمی نے فوجی عدالتوں کو چیلنج کرنے والی  پیٹیشنز یہ رولنگ دے کر نمٹا دیں کہ غیر معمولی حالات میں یہ عدالتیں انصاف کے تقاضے پورے کر رہی ہیں۔

عرض یہ کرنا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں اور معزز ارکانِ پارلیمان نے فوجی عدالتوں کے قیام کی یہ کہتے ہوئے بچشمِ نم دو برس پہلے بھی حمایت کی اور اب بھی کر رہی ہیں کہ یہ عدالتیں اگرچہ انصاف کے مروجہ تقاضے مکمل طور پر پورے نہیں کرتیں مگر غیر معمولی حالات کی مجبوری ہے۔ تو یہ آنسو کسی اور دلیل کے لیے بچا  رکھیں۔ ان فوجی عدالتوں پر اعتراض اور پھر حمایت ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی ٹینک کو تھریشر کے طور پر استعمال کریں اور پھر فصل کے کچلے جانے کا رونا پیٹنا بھی ڈال دیں۔ فوجی عدالتیں فیلڈ کورٹ مارشل کے لیے ہوتی ہیں اور ان کے قواعد و ضوابط بھی کورٹ مارشل کے تقاضوں کے حساب سے مرتب ہیں۔ اگر یہ عدالتیں ملزم فوجیوں کو انصاف دینے کے لیے موزوں ہیں تو پھر ان کے روبرو لائے جانے والے سویلینز کے لیے خصوصی سلوک کا مطالبہ کیوں؟ اگر آپ کو اتنا ہی درد ہے تو پھر سویلین عدالتوں پر اعتماد کیوں نہیں؟  کیا آپ میں سے کسی نے بھی ’’سو جوتے سو پیاز‘‘ والی کہانی نہیں سنی۔

کبھی قانون کی بالادستی و مکمل سویلین حکمرانی کے وکیل خود سے یہ بھی تو پوچھیں کہ فوجی و غیر فوجی عدالتوں کی کھکھیڑ سے قطع نظر کیا اس ملک کو واقعی کسی پائیدار مہذب عدالتی نظام کی ضرورت ہے بھی؟ ابھی کل ہی کی تو بات ہے جب سیہون خود کش حملے کے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر یہ اعلان ہوا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک کے طول و عرض میں سو سے زائد دہشتگردوں کو مار ڈالا۔

اگر اس ملک کا تفتیشی نظام اتنا ہی فرسودہ ہے جتنا بتایا جا رہا ہے تو پھر اڑتالیس گھنٹوں میں جن سو سے زائد افراد کو مارا گیا، ان کے بارے میں محض ڈیڑھ دو دن میں کیسے اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ یہ مجرم ہیں؟ مرنے سے بہتر گھنٹے پہلے تک وہ کہاں چھپے ہوئے تھے ؟ اگر پہلے سے قانون نافذ کرنے والوں کی تحویل میں تھے تو کب سے تھے؟ انھیں اس دوران کسی عدالت میں پیش کیا گیا؟ انھیں کسی عدالت کے حکم پر مارا گیا؟ جنھیں مارا گیا ان پر کوئی فردِ جرم تھی؟ تھی تو اب تفصیلات جاری کر دیں؟ ان دہشتگردوں کا نام، پتہ، سکونت، ولدیت، ہسٹری کچھ تو ہو گا۔ کچھ تو بتائیے؟ اگر بتانے کو کچھ بھی نہیں تو فوجی عدالتوں کی توسیع کے جواز، نتائج  وغیرہ وغیرہ پر اس قدر چپڑ چپڑ کیوں؟ اگر سرسری جعلی مقابلے اور لاشیں ڈمپ کرنا جائز ہیں تو کسی بھی نوعیت کی عدالت غنیمت کیوں نہیں؟

پولیس اور عدالت کی اصلاحات تو جب ہوں گی تب ہوں گی۔ لیکن اس سے پہلے پہلے جس روز واقعی آپ کا دہشتگردی ختم کرنے کا سنجیدگی سے موڈ ہو، اس روز بس دو کام کیجیے گا ایک تو ہر گلی محلے کی خبر رکھنے والے ایس ایچ او کو جان کی امان اور اس کے کام میں مکمل عدم مداخلت کی تحریری ضمانت دے دیجیے گا اور دوسرے اسے یقین دلا دیجے گا کہ فرض کی ادائی کے دوران اگر وہ یا اس کا کوئی سپاہی شہید ہو جاتا ہے تو ان سب کے بچوں کے مستقبل کی پوری ذمے داری ریاست پر ہو گی۔ اور تمام دیگر سیکیورٹی اداروں کو پابند کیجیے کہ پولیس سے مدد نہ مانگیں بلکہ پولیس کو جیسی بھی مدد اور معلومات کی ضرورت ہو ریئل ٹائم میں مہیا کریں۔ پھر دیکھئے ضربِ عضب اور ردِالفساد اور فوجی عدالت کی ضرورت باقی رہتی ہے کہ نہیں۔

وسعت اللہ خان

کاٹھ کباڑ کب کسی کے کام آیا ؟

 Trucks carrying Afghan Transit trade supply in Chamanبھلے آپ سرحد بند رکھیں کہ کھول دیں اور پھر بند کر کے کھول دیں۔ افغان کمبل سے آپ جان نہیں چھڑا سکتے۔ نہ افغانستان کو پاکستانی مطلوبہ دہشت گرد اپنے ہاں رکھ کے امن نصیب ہوگا نہ پاکستان کو افغان سرحد کھول بند کر کے کچھ ملے گا۔ اتنے برس سے تیسرے کے ہاتھوں لہولہان ہونے اور ایک دوسرے کے نیچے سے قالین کھینچ کھینچ کر گرانے سے پہلے کیا ملا جو اب مل جائے گا ؟ کاش ملکوں کو پہئیے ہوتے تو کم از کم تین ممالک (بھارت، پاکستان ، افغانستان) ایک دوسرے کو کبھی کا انٹارکٹیکا تک نہیں تو بحرِ ہند میں ضرور دھکیل چکے ہوتے۔مگر مشکل یہ ہے کہ رشتے دار اور ہمسائے جیسے بھی ہوں برداشت ہی مقدر ہے ورنہ بیچ کی دیوار ڈھینے سے دونوں ہی ایک دوسرے پر پورے پورے کھل جاتے ہیں۔ اگر اتنی سامنے کی بات بھی ان حکومتوں کی سمجھ میں آجائے تو یہ علاقہ جنت نہ ہو جائے۔

چلیے لاحاصل دھینگا مشتی جاری رکھئے مگر سانڈوں کی لڑائی میں جو گھاس عرف عوام کچلی جا رہی ہے اسے تو پرے کر دیں۔ اگر بقول افغان حکومت پچیس ہزار افغان شہری سرحد پار طبی و روزگاری و رشتہ داری وجوہات کے سبب اچانک سرحد بند ہونے کے فیصلے سے پھنس کے رہ گئے ہیں تو انھیں تو اسکریننگ کرنے کے بعد گھر واپس جانے دیجیے۔ جو مال بردار ٹرک اس سرحدی ناگہانی کے نتیجے میں دونوں جانب کھڑے کھڑے اپنی اجناس سمیت گل سڑ رہے ہیں ان کی گلو خلاصی کا تو راستہ نکالیے۔ اگر دونوں حکومتیں (پاک افغان) اپنے اپنے چھہتر اور پچاسی دہشت گردوں کی دو طرفہ حوالگی چاہتی ہیں تو اس کے لیے بات چیت ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے سامنے آج سے پہلے اکڑنے سے کیا حاصل ہوگیا جو اب ہو جائے گا۔ اس دنیا میں تو ہر ملک اپنے اپنے دہشت گردوں کی فہرستیں لیے دوسرے کے پیچھے گھوم رہا ہے مگر دوسرے پر رعب ڈالنے کے لیے اپنے پاؤں پر بار بار کلہاڑی مارنے کا فن پاکستان اور افغانستان نے جیسے طاق کیا ہے باقیوں کو سیکھنے کی حسرت ہی رہے گی۔pakafghanborder

ہاں معلوم ہے افغان حکمران ڈیورنڈ لائن نہیں مانتے مگر انھوں نے کبھی اس لکیر کو مٹانے کے لیے فوجیں بھی تو نہیں بھیجیں۔ ہاں معلوم ہے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک افغانستان سٹرٹیجک ڈیپتھ کا دوسرا نام ہے۔ لیکن سرحد سے چند میل پرے کیمپ سجائے دشمنوں کی گوشمالی کے لیے سرجیکل اسٹرائیکس کے بارے میں سوچا تو بہت گیا مگر کبھی ہوئی نہیں۔ تو پھر ایسی باتیں طعنوں کی طرح ایک دوسرے کے منہ پر مارنے اور طرح طرح کی سوئیاں طرح طرح سے چبھونے سے کیا حاصل اور تا بکہ ؟

اس بحث سے قطع نظر کہ افغانستان، پاکستان اور بھارت میں سے کون کسے زیادہ نچا رہا ہے اور کس کے کندھے پر کس کی بندوق ہے ، تینوں ممالک جب تک پانچ مرلے مکان کی پچھواڑہ ذہنیت سے نہیں نکلیں گے کچھ نہیں ہونے کا۔ اس ذہنیت کا پس منظر یوں ہے کہ ہمارے آپ کے گھروں میں عموماً بزرگ خواتین اس خیال سے چیزیں جمع کرتی رہتی ہیں کہ کبھی نہ کبھی کام آجاویں گی۔ بھلے وہ دیوار کی چنائی سے بچ جانے والی چار لاوارث اینٹیں ہوں کہ باتھ روم کا نیا فرش پڑنے کے بعد تنہا رہ جانے والی دو رنگین ٹائلیں یا ڈسٹمپر کا آدھا بچا ہوا ڈبہ۔ بچے کی حسرت ناک ٹوٹی سائیکل ، بنا چابی کا آوارہ تالہ ، لوہے کا یتیم سریہ ، متروک کار کا فاقہ زدہ ٹائر ، تین ٹانگوں کی پولیو زدہ کرسی ، غموں کی ماری ادھڑی پتلون وغیرہ وغیرہ اس خیال سے گھر کے پچھواڑے یا سیڑھی کے نیچے والے خلا میں رکھ دیے جاتے ہیں کہ کبھی ان کی مرمت کرالیں گے۔

پلاسٹک کے خالی شاپرز تہہ کر کر کے گدوں کے نیچے اس امید پر گھسا دیے جاتے ہیں کہ وقت بے وقت ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مگر ننانوے فیصد آزمائی بات ہے کہ ان اشیا کو جمع کرنے اور سینت سینت کے رکھنے والے ایک دن ضرور عزرائیل کے کام آ جاتے ہیں مگر یہ فضول نادر اشیا  کبھی کسی کام نہیں آتیں سوائے فالتو میں گھر کی جگہ گھیرنے کے۔ اگر ’’ کبھی کام آجائے گی‘‘ کی ذہنیت سے نجات حاصل کر لی جائے تو اسی دھول مٹی سے اٹے کاٹھ کباڑ کو گھیرنے والے پچھواڑے میں کیاری بنائی جا سکتی ہے ، دوپہر میں آرام کے لیے پلنگ ڈل سکتا ہے ، سیڑھیوں کے نیچے کے خلا کو ننھے میاں کے کھیلنے اور جھلانے کے کام میں لایا جا سکتا ہے۔

آپ کو نہیں لگتا کہ بھارت ہو کہ پاکستان کہ افغانستان یا ان جیسے دیگر ممالک۔ ہر جگہ ’’کبھی آڑے وقت میں کام آ جائیں گی ’’ ذہنیت رکھنے والے ہی حکمران ہیں جنہوں نے نوآبادیاتی دور کا کاٹھ کباڑ سینت سینت کے رکھا ہوا ہے۔ ان حکمرانوں کی نسلیں بدل جاتی ہیں مگر کاٹھ کباڑ اپنی جگہ سے نہیں ہلتا بلکہ ہر آنے والا اور اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دوسرے کی زندگی تنگ کرنے کے چکر میں اپنے رہنے کی جگہ بھی تنگ سے تنگ تر ہوتی جا رہی ہے۔ ان میں سے ہر کوئی دوسرے کو بے وقوف ثابت کرنے کے مشن میں خود کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ دنیا کی آنکھوں سے اپنا حال دیکھنے کے بجائے اپنی آنکھوں سے دنیا کو دیکھنا اور پھر یہ ضد کرنا کہ دنیا بھی وہی دیکھے جو ہمیں نظر آر ہا ہے۔ یہ قومی حکمتِ عملی نہیں نفسیاتی عارضہ ہے۔ یہ اکڑ نہیں علاج مانگتا ہے۔ ہر بار ایک ہی راستے پر چل کر بھٹکنا اور اگلی بار پھر یہ سوچ کر چلنا کہ اس بار نہیں بھٹکوں گا۔ اسے قصدِ سفر نہیں پاگل پن کہتے ہیں۔

کیا اسی دنیا میں تائیوان اور چین ، فرانس اور جرمنی ، ویتنام اور امریکا ، امریکا اور جاپان نہیں بستے جنہوں نے اپنی دشمنیوں کو ماضی کے برتن میں دائمی دودھ پلا پلا کر پالنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کاٹھ کباڑ جمع کرنے کی ذہنیت کو طلاق دے کر اپنے قومی ترقیاتی مقاصد کے حصول کے لیے یکسوئی خرید لی ؟ ان پر کیسے آشکار ہو گیا اور ہم پر کیوں نہیں ہو پایا کہ ماضی یاد رکھنے کی چیز ہے ، ماضی بدلا نہیں جا سکتا لہذا اسے حال میں گھسیڑ کر اپنا مستقبل کھدیڑنے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں۔ ہم جدید ریاستیں ہونے کے دعویدار تو ہیں مگر ہمارے دماغ آج بھی قبائلی و جاگیردارانہ ہیں۔ سر کٹ جائے پر مونچھ نیچی نہ ہو۔ بھلے اپنا گھر بھی جل گیا مگر ہمسائے کا گھر تو راکھ ہو  گیا نا۔ کبھی ایسی ذہنیت بھی عالمی سکہ رائج الوقت تھی۔ مگر اب دو ہزار سترہ ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے ؟ دنیا کو آپ کی پرواہ ہے ؟ دنیا آپ پر ترس کھائے گی ؟ دنیا آپ کے بیچ میں پڑ کے صلح صفائی کرائے گی ؟ یہ اگلے وقتوں میں ہوتا تھا۔آج کسی کے پاس فرصت نہیں کہ اپنی صلیب بھی اٹھائے اور آپ کی بھی۔ آج قافلے سے پیچھے رہ جانے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔ ممکن ہے آج بھی کچھ خدا ترس ممالک یا تنظیمیں ہوں جو آپ کے لیے کچھ دیر ٹھہر کر مدد کر کے آپ کو آگے بڑھ جانے والے ترقی کے قافلے کے ہم قدم لانا چاہتی ہوں۔ مگر آپ اپنی مدد کرنے والوں کی بھی کتنی مدد کر رہے ہیں۔ جہالت کا علاج ممکن ہے مگر مغرور جہالت کا علاج کسی کے بس میں نہیں۔ کم ازکم زمین پر تو نہیں۔

وسعت اللہ خان

کچھ نہ کچھ تو سڑ رہا ہے

عظیم شیکسپئر کے عظیم کھیل ہیملٹ کی ایک لائن ہے ’’ریاستِ ڈنمارک میں کچھ نہ کچھ ضرور گل سڑ رہا ہے‘‘۔ اور اگر کسی ریاست میں انصاف ہی متعفن ہو جائے تو پھر ریاست کا وجود ہی سوالیہ نشان بن جاتا ہے؟ انصاف کو اگر طاقت کا اتحادی ہی بننا ہے تو پھر جنگل کیا برا ہے؟ کم ازکم وہاں فطرت کی عدالت دائمی عدالت تو ہر لمحہ فعال ہے۔ آپ کو دس سالہ گھریلو ملازمہ طیبہ کا کیس تو یاد ہے نا؟ ایک ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ پر تشدد کا کیس۔ جب طیبہ کے والد محمد اعظم نے اپنی بیٹی پر تشدد کے تمام جسمانی و طبی ثبوت ہوتے ہوئے دونوں ملزموں کو ایک زیریں عدالت کے روبرو پہلی بار معاف کیا تو آنر ایبل سپریم کورٹ نے ازخود محسوس کیا کہ ’’ریاستِ ڈنمارک میں کچھ نہ کچھ گل سڑ رہا ہے‘‘۔

اعظم علی اپنے پچھلے بیان سے مکر گیا اور سپریم کورٹ کے روبرو کہا کہ اس نے ملزموں کو دراصل دباؤ پڑنے پر معاف کیا ہے۔ عدالت نے اسلام آباد پولیس کو دوبارہ تفتیش کا حکم دیا۔ رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ طیبہ کے جسم پر تشدد کے بائیس نشانات ہیں اور یہ نشانات حادثاتی نہیں ہیں۔ مقدمہ ایک بار پھر زیریں عدالت میں آیا اور گزشتہ روز اعظم علی ایک بار پھر اپنے سپریم کورٹ میں دیے گئے بیان سے بھی مکر گیا اور نئے بیان میں کہا کہ ملزم خرم علی خان اور ان کی اہلیہ قصور وار نہیں۔ اصل ملزم تو کوئی اور ہے جس کے خلاف پرچہ کٹوا دیا گیا ہے اور وہ راجہ صاحب اور ان کی اہلیہ کو معاف کرتا ہے۔ چنانچہ زیریں عدالت نے اعظم علی کے اس بیان کو بلا دباؤ با ہوش و حواس تسلیم کرتے ہوئے ملزموں کو تیس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے پر رہا کر دیا۔ مگر یہ سوال آج بھی پھولی ہوئی لاش کی طرح انصاف کے پانی پر تیر رہا ہے کہ اگر راجہ صاحب اور ان کی اہلیہ نے کچھ کیا ہی نہیں تو طیبہ کے والد اعظم علی نے انھیں کس بات پر معاف کیا؟ کیا کسی نے سنا ہے کہ بے قصور کو بھی معافی کی ضرورت ہو؟ اور یہ ہر بار کوئی غریب اور بے بس ہی کیوں معاف کرتا ہے؟ ریاستِ ڈنمارک میں کچھ نہ کچھ تو یقیناً گل سڑ رہا ہے۔

پچھلے چار ماہ کے دوران چار پانچ ایسے مقدمات سامنے آئے کہ سن کے طبیعت جھک ہو گئی۔ پہلا کیس دو بھائیوں غلام قادر اور غلام رسول کا ہے جنھیں اکتوبر دو ہزار سولہ میں سپریم کورٹ نے بری کر دیا۔ مگر کورٹ کو کسی نے نہیں بتایا کہ انھیں تو اکتوبر دو ہزار پندرہ میں بہاولپور جیل میں پھانسی دی جا چکی ہے۔ ملزم مظہر حسین کو انیس برس بعد بری کر دیا گیا۔ اس پر اسلام آباد میں ایک شخص کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ مگر کورٹ کو کسی نے نہیں بتایا کہ مظہر حسین تو دو برس پہلے جیل میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر چکا ہے۔ قصور کے مظہر کو چوبیس برس جیل میں رکھنے کے بعد بے گناہ قرار دے دیا گیا۔ اس پر بھی قتل کا الزام تھا۔ امداد علی کی سزائے موت برقرار ہے۔ کیونکہ عدالت نہیں سمجھتی کہ شیزو فرینیا ناقابلِ علاج مرض ہے اور اس مرض میں مبتلا قاتل اپنے قول و فعل کا ذمے دار نہیں ہوتا۔ میں نے جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود سے پوچھا  بے سہارا ملزموں کو اپنے دفاع کے لیے جو سرکاری وکیل فراہم کیا جاتا ہے وہ اپنے کیس میں کتنی دلچسپی لیتا ہے؟ جسٹس صاحب نے بتایا کہ یہ ضروری نہیں تصور کیا جاتا   کہ وہ اپنے موکل سے ایک بار بھی ملے۔ ریاست ڈنمارک میں کچھ نہ کچھ یقیناً گل سڑ رہا ہے۔

رینجرز حکام کہتے ہیں تین برس سے جاری کراچی آپریشن کے دوران ساڑھے سات ہزار ملزم پکڑے گئے۔ اب تک صرف بارہ ملزم عدالت کی نظر میں مجرم قرار پائے ہیں یعنی انھیں مختلف المعیاد و نوعیت سزائیں سنائی گئی ہیں۔ اب آپ قیامت تک بحث کرتے رہئے کہ قصور پراسکیوشن کا ہے کہ عدالت کا، جج کم ہیں یا کام کا بوجھ بے پناہ، سہولتیں کم ہیں یا انصاف کی طلب زیادہ؟ اس بحث  سے انصاف کے بھوکے عام آدمی کا کیا لینا دینا۔ شائد انھی حالات کو دیکھتے ہوئے پچھلے تین برس میں کچھ کام ہوئے۔ عدلیہ کا بوجھ بٹانے کے لیے انسدادِ دھشتگردی کی خصوصی عدالتوں کے ساتھ ساتھ دو برس کے لیے حضوصی فوجی عدالتیں بھی اس یقین دہانی کے ساتھ قائم کی گئیں کہ اس عرصے میں عدلیہ کو اصلاحات کے عمل سے گزارا جائے گا تا کہ بروقت، سقم سے پاک تیز رفتار انصاف کی فراہمی کا خواب تعبیر میں ڈھل سکے۔ اب فوجی عدالتیں بھی جرم اور انصاف کی صحت پر کوئی اثر ڈالے بغیر تحلیل ہو چکی ہیں۔ انسدادِ دھشتگردی کی عدالتیں انصاف تو دے دیں مگر انھیں دہشتگردوں کی دھمکیوں سے جسمانی تحفظ کون دے گا؟ ریاست آج بھی اس سیدھے سے سوال کی راکٹ سائنس میں الجھی ہوئی  ہچر مچر کر رہی ہے۔

دو برس میں عدلیہ میں تو خیر کیا اصلاحات آتیں الٹا قومی اسمبلی نے پچھلے ہفتے تنازعات کے متبادل حل کے ڈھانچے کا قانون بنا ڈالا۔ پونے چار سو کے ایوان میں سے تئیس ارکان ہال میں موجود تھے اور انھوں نے بعجلت یہ بل منظور کر لیا۔ اس قانون کا مقصدیہ ہے کہ اعلی عدالتی نگرانی میں ضلعی سطح پر باضابطہ جرگے اور پنچائتیں قائم ہوں۔ جنھیں گھریلو، املاکی اور مالی تنازعات سمیت تئیس اقسام کے جھگڑوں کی ثالثی کا اختیار حاصل ہو۔ ان جرگوں یا پنچائتوں میں ہائی کورٹس کی منظوری سے وکلا، ریٹائرڈ ججوں، سابق بیورو کریٹس، علما اور سوشل ورکرز وغیرہ کو نامزد کیا جائے۔ تا کہ جن چھوٹے چھوٹے تنازعات کے فیصلوں میں زیریں و اعلی عدالتوں کا قیمتی وقت خامخواہ برباد ہوتا ہے اسے اہم مقدمات میں لگایا جائے اور انفرادی نوعیت کے تنازعات غیر رسمی طور پر فریقین کی رضامندی سے نیچے ہی نمٹ جائیں۔ نیت تو اچھی ہے مگر ان پنچائتوں میں بیٹھنے والے کیا واقعی کسی بھی دباؤ، تعصب یا ذاتی مفاد سے بالا ہو کے  فیصلہ کر پائیں گے؟

کیا ان رسمی جرگوں اور پنچائتوں کے قیام سے قبائل و برادری کے روائیتی جرگے ختم ہوجائیں گے کہ جن کی مدد سے ان تمام خداؤں کی غیر رسمی عدالتی طاقت جوں کی توں برقرار ہے کہ جن کے آگے آج بھی چرندہ چر نہیں سکتا اور پرند پر نہیں مار سکتا۔ کیا سپریم کورٹ نے کئی برس پہلے ان روائیتی جرگوں کو غیر قانونی قرار نہیں دے دیا تھا؟ کیا سپریم کورٹ کے اس حکم کی کسی نے تعمیل کی، تعمیل چھوڑ ان جرگوں کی روائیتی قوتِ نافذہ میں کوئی کمی آئی؟ کیا ان جرگوں میں بیٹھنے والے وہی نہیں جو بار بار قومی و صوبائی اسمبلیوں میں منتخب ہو کر انصاف کے غیرمعیاری ہونے کا رونا بھی روتے ہیں اور پھر ہمارے نام پر قانون سازی بھی کرتے ہیں اور پولیس کو بھی اشاروں پر نچواتے ہیں؟

چلیے قائم کر لیجیے انصاف کے پر ہجوم بازار میں نئے رسمی جرگے اور پنچایتیں بھی۔ انصاف کے کنوئیں سے چالیس ڈول اور پانی نکال لیجیے۔ مگر تعفن کا کیا کیجیے گا۔ ریاست ڈنمارک میں کچھ نہ کچھ یقیناً گل سڑ رہا ہے۔ شیکسپیئر یونہی تو شیکسپیئر نہیں۔ اتنا  ہی آسان ہوتا تو میں بھی ہوتا۔

وسعت اللہ خان