پیشہ ور صاحبو تم بھکاری نہیں

شاید آپ کو یاد ہو لگ بھگ دو برس پہلے لاہور میں ایک ماں تین معصوم بچے لے کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔ ان بچوں کے گلے میں پڑے پلے کارڈز پر لکھا تھا ’غربت کے ہاتھوں مجبور برائے فروخت۔‘ اس کے بعد کئی شہروں میں پریس کلب یا مصروف چوک پر ہر چند روز بعد کوئی نہ کوئی مرد یا عورت اپنے بچوں کو ایسے ہی پلے کارڈز پہنا کر سڑک پر لانے لگا۔ شروع شروع میں تو میڈیا نے اس سٹوری کو کوریج بھی دی۔ کوریج بند ہوئی تو یہ بچے اور ان کے والدین بھی کہیں چلے گئے۔ بہت سی بسوں ویگنوں میں ایسے کردار بھی نظر آتے تھے جو سفر شروع ہوتے ہی مسافروں کی گود میں کارڈ پھینکنے لگتے۔ ان پر ایک ہی طرح کی عبارت درج ہوتی ’میں یتیم ہوں، پانچ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ گھر والی کو ٹی بی ہے، ایک بچی معذور ہے۔ اللہ کے نام پر کچھ امداد فرما دیجیے۔‘ کارڈ کے ایک کونے پر باریک سا لکھا ہوتا ہے ’مدینہ پرنٹنگ پریس۔‘

کچھ عرصے میں مسافر جب ان مجبوروں لاچاروں کو پہچاننے لگتے تو یہ کسی اور روٹ کی بس یا ویگن پکڑ لیتے۔ اب یہ کارڈ ہولڈر خاصے نایاب ہو چکے ہیں۔
ایک زمانے تک ایسے بھی کردار نظر آتے رہے کہ پرات میں چھولے بھرے ہیں اور سر پر اٹھائے چلے جا رہے ہیں۔ اچانک ٹھوکر لگنے سے گر پڑے یا چلتے چلتے گر کے بے ہوش ہو گئے یا پھر یکدم مرگی کا دورہ پڑا اور سڑک پر لیٹ کر تڑپنے لگے۔ چھولے زمین پر بکھر گئے۔ پانچ دس راہ گیر جمع ہو گئے۔ کوئی پانی پلاتا، کوئی پیٹھ سہلاتا، کوئی ترس کھا کر سو دو سو تھما دیتا اور تھوڑی دیر میں چھولے والا اٹھتا اور آہستہ آہستہ چل پڑتا۔ اگلے روز کی تیاری بھی تو کرنا تھی۔

کئی عورتیں یا مرد کسی ڈاکٹر کا نسخہ، دوا کا پیکٹ یا ایکسرے شیٹ لے کر چوک میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ گزرتے لوگ ان کی مدد بھی کر دیتے ہیں مگر اگلے روز پھر یہ مریض اسی جگہ اپنا ’طبی سامان‘ اٹھائے کھڑے ہوتے ہیں۔ یقیناً ان میں سے کچھ حقیقی ضرورت مند ہیں مگر لوگوں کی ہمدردی اور امداد حاصل کرنے کے یہ طریقے پیشہ ور حضرات اتنی تعداد میں نقل کرتے ہیں کہ اصل ضرورت مند نقلیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ انسان ہی نہیں کئی ریاستیں بھی اپنے مسائل، دکھ اور محرومیاں طرح طرح سے مارکیٹ کرتی ہیں تاکہ بغیر محنت کے ان حکمران طبقات کی روزی روٹی چلتی رہے جو اپنی قوم کو معذوری کے ریڑھے پر بٹھا کے دنیا بھر میں آواز لگانا قطعاً معیوب نہیں سمجھتے۔

آمدنی قرض کی شکل میں ہو کہ خیرات بس آتی رہے۔ مگر جو بھی مال آتا ہے وہ ریڑھا کھینچنے والا اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے۔ ریڑھے پر بٹھائی قوم کو دو وقت کی روٹی اور دلاسے کے سوا عموماً کچھ نہیں ملتا۔ چند ممالک نے ایک اور تکنیک ایجاد کی ہے۔ وہ دھمکی کی بنیاد پر امداد، خیرات و قرض اکھٹا کرتے ہیں۔ اگر تم نے ہماری مدد نہ کی تو ہمیں دہشت گرد کھا جائیں گے اس کے بعد تمہاری باری ہے۔ پھر مت کہنا کہ بروقت وارننگ نہیں دی۔ اگر تم نے ہمارا وظیفہ بند کیا تو بے روزگاری پھیلے گی اور مذہبی شدت پسند اس بے روزگار خام مال کو استعمال کرتے ہوئے اقتدار پر ووٹ یا بنا ووٹ قبضہ کر لیں گے۔ لہذا ہمیں ریاست چلاتے رہنے کے لیے پیسے بھی دو، سفارتی مدد بھی اور اسلحہ بھی۔ یہ تم ہم پر نہیں خود پر احسان کرو گے۔ خبردار جو کردار کشی کی۔

اگر تم نے یونہی ہاتھ روکے رکھا تو ہماری معیشت ڈوب جائے گی اور خانہ جنگی شروع ہو جائے گی اور یہ خانہ جنگی صرف ہماری چار دیواری تک ہی نہ رہے گی۔ اگر اس افراتفری سے فائدہ اٹھا کر کسی پاگل گروہ یا فرد نے ریاست کو یرغمال بنا لیا تو سوچو ہمارے ایٹمی ہتھیار کس کے ہاتھ میں ہوں گے؟ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے جلدی سے جیب ڈھیلی کرو۔ آج چار پانچ ارب ڈالر میں بھی کام چل جائے گا۔ کل کھربوں بھی خرچ کرو گے تو ہماری ریاست تحلیل ہونے کے بعد اردگرد پھیلنے والی تباہی پر قابو نہ پا سکو گے۔ کیا تم کروڑوں نئے پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھا پاؤ گے؟ ہم نے آج تک اپنی غیرت پر سمجھوتہ نہیں کیا، بس تمہارے بھلے کے لیے تمہیں آگاہ کر رہے ہیں۔

مگر یہ تحکمانہ کارڈ بھی دیگر طریقوں کی طرح زیادہ دیر نہیں چلتا۔ خیراتی رفتہ رفتہ جاننے لگتے ہیں کہ واقعی ریاست ڈوب رہی ہے یا ڈوبنے کی اداکاری کر رہی ہے۔ کوئی پاگل ہی ہو گا جو اپنے ریڑھے پے بیٹھے معذور یا ریاست کو مرنے دے۔ کمینہ خود نہ ترس جائے گا۔

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

Advertisements

کیا حکم ہے میرے آقا : وسعت اللہ خان

مبارک ہو۔ ایک اور دھرنا پرامن ختم ہو گیا۔ اب اگلا دھرنا ٹوٹ پڑنے تک بلا خوف و خطر رہا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد کی لال مسجد اور جامعہ حفصہ خالی کرانے کے آٹھ روزہ فوجی آپریشن میں دس کمانڈوز سمیت ایک سو دو لوگ جاں بحق اور ایک سو اٹھانوے زخمی ہوئے اور ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک روزہ پولیس کارروائی کے دوران چودہ افراد جاں بحق اور سو کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔ لال مسجد آپریشن یا ماڈل ٹاؤن میں طاقت کا استعمال کسی عدالت کے حکم پر نہیں بلکہ حکومت نے اپنی صوابدید پر کیا۔ فیض آباد آپریشن اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے کہنے پر دارلحکومت کے ڈپٹی کمشنر اور آئی جی نے کیا۔ ایسا وزیرِ داخلہ احسن اقبال کہتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اگر دھرنا کامیابی سے اکھاڑ پھینکا جاتا تب بھی احسن اقبال، ڈی سی اور آئی جی کو مکمل کریڈٹ دیتے کہ نہیں۔ البتہ اہلِ دھرنا کے ساتھ جو تحریری سمجھوتہ ہوا، اس پر ڈپٹی کمشنر یا آئی جی کے نہیں بلکہ لڑکی والوں کی طرف سے سیکریٹری اور وزیرِ داخلہ کے دستخط ہیں۔

اچھی بات ہے کہ جو ہونا تھا اکیس روز میں ہی ہو گیا۔ کسی کو یاد ہے دو ہزار چودہ کا ایک سو چھبیس دن والا دھرنا۔ جب پارلیمنٹ کے لان میں کپڑے دھو کے الگنیوں پر لٹکائے جا رہے تھے۔ پائپ لائن توڑ کر نہایا جا رہا تھا، اینٹوں کے چولہوں پر کھانے پک رہے تھے۔ آس پاس ہی مٹی کے قدمچوں پر بیٹھ کر حوائج سے فراغت پائی جا رہی تھی اور دھار کا رخ پارلیمنٹ کی طرف تھا۔ ججوں اور ارکانِ پارلیمان کو پتلی سڑکوں سے ہو کر دفتر پہنچنا پڑ رہا تھا۔ وزیرِ اغطم ہاؤس کا جنگلہ ، کئی پولیس افسروں کے سر اور سرکاری ٹیلی ویڑن کے دفاتر میں رکھے آلات توڑ دیے گئے تھے۔

کسی کو یاد ہے کہ کسی عدالت نے وہ والا دھرنا ختم کرنے کی ڈیڈ لائن دی ہو؟ اور جب ڈیڈ لائن پوری نہ ہوئی ہو تو حکومت کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری ہو گیا ہو ؟ کسی کو یاد ہے حکومت نے طاقت کا استعمال کر کے وہ دھرنا ختم کروانے کی کوشش کی ہو ؟ کسی کو یاد ہے کہ ایک سو چھبیس روز میں قانون نافذ کرنے والے دستوں کی گولی سے کوئی مرا ہو ؟ اس وقت بھی پھینٹی کس کی زیادہ لگی تھی ؟ پولیس کی کہ مظاہرین کی ؟ مقدمات تو تب بھی درج ہوئے تھے اور وہ بھی سنگین قانونی دفعات کے تحت۔ کیا کسی کو ریاستی رٹ چیلنج کرنے، حساس سرکاری عمارات پر حملہ کرنے، پولیس پر تشدد کرنے اور لاکھوں شہریوں کی زندگی اجیرن کرنے کے تعلق سے کسی بھی قانون کے تحت سزا ملی ؟ تو پھر فیض آباد کے اہلِ دھرنا نے بھی اگر اپنے زورِ بازو پر یہ رعائیتیں حاصل کر لیں تو کیا غلط ہو گیا۔

اٹھارویں صدی میں اورنگ زیب کی وفات کے بعد وہ طوائف الملوکی مچی کہ جس کا منہ اٹھتا دلی میں گھس کے شہر کو تلپٹ کر دیتا بھلے وہ سکھ ہوں کہ مراٹھا ، نادرشاہ ہو کہ احمد شاہ ابدالی۔اسی طرح پچھلے چند برس سے جس کا موڈ ہوتا ہے، ہزار دو ہزار بندے لے کر راجد ھانی اسلام آباد پر چڑھ دوڑتا ہے اور پھر سرکار کو کبھی ٹھوڑی میں ہاتھ دے کر،کبھی ہنس کر،کبھی آنکھوں میں آنسو بھر کے، کبھی خدا کا واسطہ دے کر،کبھی بند دروازوں کے پیچھے ترلے کر کے، تو کبھی کچھ مطالبات مان کے اور سارے پولیس پرچے واپس لے کے عزت سے اہلِ دھرنا کو واپس بھیجنا پڑتا ہے۔

مولانا طاہر القادری کے دو ہزار تیرہ کے انقلابی اور عمران خان کے دو ہزار چودہ کے نظام کی شفافی کے دھرنے کے بعد مولانا خادم حسین رضوی کا دھرنا تب تک یاد رہے گا جب تک اس سے بھی اعلیٰ اور فصیح و بلیغ دھرنا سامنے نہیں آتا۔مولانا بذاتِ خود ایک زندہ کرامت ہیں۔ چند برس پہلے تک وہ بس لاہور کی ایک سرکاری مسجد میں پیش امام تھے اور انھیں لاہور اور مضافات کے بریلوی بھائی ہی جانتے تھے۔ لیکن جب گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو توہینِ مذہب کے شبہے میں قتل کرنے والے ممتاز قادری کو عدالتی فیصلے کے تحت پھانسی دی گئی تو مولانا خادم حسین نے ممتاز قادری کے مشن کا بیڑہ اٹھا لیا۔ قادری صاحب کے گھر والوں کو آج بھلے زیادہ لوگ نہ جانتے ہوں مگر خادم حسین رضوی کا الحمدللہ صدرِ مملکت سے لے کر میرے محلے کے طفیلے ترکھان تک سب کو لگ پتہ گیا ہے۔
پاناما کیس میں نااہل ہونے کے بعد جب ’’ مجھے کیوں نکالا فیم ’’نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑنا پڑا اور ان کی خالی سیٹ پر بیگم کلثوم نواز نے ضمنی انتخاب جیتا تو ان کی جیت کو یہ خبر کھا گئی کہ الیکشن کمیشن سے منظور شدہ ایک نئی نئی پارٹی تحریک لبیک یا رسول اللہ کے امیدوار نے بھی لاہور کے حلقہ ایک سو بیس سے سات ہزار ووٹ لیے اور پھر اتنے ہی ووٹ این اے چار پشاور کے ضمنی انتخاب میں بھی حاصل کیے۔

اس کے بعد سے خادم حسین رضوی صاحب میں گویا جناتی طاقت آ گئی اور انھوں نے الیکشن ایکٹ دو ہزار سترہ کے حلف نامے کی غلطی کو پارلیمنٹ کی جانب سے فوری طور پر تسلیم کر کے درست کرنے کے باوجود اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر اپنے حامی بٹھا کر دونوں شہروں کے لاکھوں لوگوں کو اکیس روز تک ختمِ نبوت کے عقیدے کو لاحق خطرات سے بالتفصیل کما حقہہ نہایت آسان اور سلیس عوامی اندازِ بیاں میں آگاہ کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی ڈانٹ پھٹکار کے بعد سرکار نے سنیچر کو غیرت میں آ کر ڈنڈے، ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کے زور پر یہ دھرنا اٹھانے کی کوشش کی مگر رضوی صاحب کے پتھروں اور غلیلوں سے مسلح جانثاروں نے یہ کوشش ناکام بنا دی اور معاملہ کراچی تک پھیل گیا۔ حتیٰ کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی کہنا پڑا کہ مار سے نہیں پیار سے بات کی جائے اور پھر حکومت نے ’’ علاقہ معززین‘‘ کے کہنے پر دوسرا گال بھی آ گے کر دیا۔

اسلام آباد اورنگ زیب کے بعد کی دلی مفت میں نہیں بنا، اس کے لیے جنرل ضیا کے دور سے اب تک خوب گوڈی کی گئی۔ جب ہاتھوں میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کی شکل میں الہ دین کا چراغ آیا تو اسے رگڑ کر ہم نے تو پوری فیکٹری ڈال لی۔ ہر سائز، ہر ماڈل ہر نظریے کا آرڈر لے لیا گیا۔ نفرت کسی سے نہیں محبت سب سے کے اصول پر انکار کسی کو نہیں کیا گیا۔ پر مشکل یہ ہے کہ الہ دین کے جن کو ہر وقت کوئی نہ کوئی کام اور مصروفیت چاہئیے۔ اب بہت دنوں سے کوئی خاص کام ہی نہیں بچا، کوئی بڑا آرڈر بھی نہیں آیا۔ آپ کتنی دیر تک کسی جن کو درخت پر اترنے چڑھنے کا غیر دلچسپ کام دے کر مصروف رکھ سکتے ہیں۔ چنانچہ چراغ اب جن کے ہاتھ میں ہے اور پوچھنے کی باری الہ دین کی ہے ’’کیا حکم ہے میرے آقا ‘‘؟۔

وسعت اللہ خان

یہاں استعفیٰ دیا نہیں لیا جاتا ہے

پاکستان میں جب کوئی جماعت حزبِ اختلاف ہوتی ہے تو اسے فوراً سیاسی اخلاقیات کا بھولا ہوا سبق یاد آنے لگتا ہے اور وہ کرپشن، نااہلی اور بد عنوانی کے خلاف سینہ سپر ہو جاتی ہے۔ حزبِ اختلاف بات بات پر صدر سے تھانے دار تک ہر ایک سے استعفی مانگتی پھرتی ہے اور جب خود اقتدار میں آتی ہے تو سیاسی اخلاقیات بھول بھال کر ہر بد انتظامی اور کرپشن کے بارے میں وہی تاویلات پیش کرنا شروع کر دیتی ہے جو اس کی پیشرو حکومت پیش کرتی تھی اور پیشرو حکومت حزبِ اختلاف میں آ کر اسی سیاسی اخلاقیات کے منبر پر بیٹھ جاتی ہے جو گذشتہ حزبِ اختلاف کے حزبِ اقتدار بننے سے خالی ہوا تھا۔

یہ اخلاقی و تاویلاتی میوزیکل چیئر پچھلے 70 برس سے جاری ہے۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی منتخب یا سرکاری عہدیدار نے الزامات ثابت ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز پر استعفی دیا ہوتا آنکہ پشت پر قانونی و سیاسی لات نہ پڑے۔ اگر بہت دور چلے گئے تو بات بھی بہت دور نکل جائے گی۔ فوری یادداشت کا سہارا لیا جائے تو سابق وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کا دور یاد آتا ہے جب وزیرِ مواصلات پرنس محی الدین، وزیرِ بلدیات انور عزیز چوہدری اور پیداوار کے وزیرِ مملکت اسلام الدین شیخ کو بدعنوانی، غفلت یا خورد برد کے الزامات لگتے ہی وزیرِ اعظم نے خود برطرف کیا۔ وہ الگ بات کہ چھان بین کے نتیجے میں بعد ازاں صرف اسلام الدین شیخ پر ہی باضابطہ فردِ جرم عائد اور ثابت ہوئی مگر جونیجو کی اصول پسندی خود ان کے کسی کام نہ آ سکی۔

سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں چلتا کیا۔ مگر سنہ 2010 میں خود یوسف رضا گیلانی کو اپنے تین وزرا بدعنوانی یا ڈسپلن کی خلاف ورزی پر برطرف کرنا پڑے۔ وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار عبدالقیوم جتوئی نے اپنی ہی حکومت پر کرپشن اور پھر اس کرپشن میں حصہ داری نہ ملنے کا شکوہ کیا لہذا انھیں جانا ہی تھا۔ وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے اپنے ہی ہم کابینہ وزیرِ مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر حاجیوں کو لوٹنے اور حج کوٹے کی فروخت کا الزام لگایا تو یوسف رضا گیلانی نے دونوں وزرا کو کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا۔

اعظم سواتی جمیعت علماِ اسلام کے کوٹے پر وزیر تھے لہذا ان کی برطرفی پر مولانا فضل الرحمان احتجاجاً حکومت سے الگ ہو گئے۔ حامد سعید کاظمی کو کرپشن ثابت ہونے پر جیل جانا پڑا جہاں سے وہ ابھی پچھلے ماہ ہی رہا ہوئے ہیں۔ جہاں تک شریف دور کا معاملہ ہے توسنہ 2014 میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ہاتھوں پاکستان عوامی تحریک کے دس حامیوں کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ روکنے کے لیے وزیرِ اعلی شہباز شریف نے کچھ عرصے کے لیے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ سے قلمدان واپس لے لیا اور پھر موقع محل دیکھ کر واپس بھی کر دیا۔

جب وزیرِ تعلیم و سیاحت و امورِ نوجوانان رانا مشہود احمد خان کی ایک وڈیو سامنے آئی جس میں وہ رشوت لے رہے ہیں اور اسی دوران 20 ارب روپے کے ایک سکینڈل میں ملوث ہونے کے شبہے میں نیب نے رانا صاحب کے خلاف چھان بین شروع کردی تو وزیرِ اعلی شہباز شریف اور پارٹی کے ‘اخلاقی دباؤ’ کا احترام کرتے ہوئے رانا مشہود نے امورِ نوجوانان اور سیاحت کا قلمدان تو چھوڑ دیا مگر تعلیم کی وزارت پھر بھی رکھی۔ کچھ عرصے بعد رانا صاحب کو چھان بین کے نتیجے میں کلین چٹ مل گئی اورایک بار پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔ سنہ 2015 میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کو جب تک الیکشن کمیشن نے انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات کے نتیجے میں نشست سے محروم نہیں کر دیا تب تک انھوں نے بھی اخلاقاً پہل نہیں کی۔ اس کے بعد بھاری اکثریت سے دوبارہ انتخاب جیت کر دوبارہ اسپیکر کی کرسی سنبھال لی اور دوبارہ عمران خان کو غصہ دلایا۔

جب بھی ملک میں دہشت گردی کی بڑی واردات کے بعد حزبِ اختلاف سدا بہار وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے تو چوہدری صاحب اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اتنے جوابی وار کرتے ہیں کہ حزبِ اختلاف اگلے ایک ہفتے تک اپنے زخم سہلاتی رہتی ہے۔ چوہدری صاحب نے تو امن و امان کی ابتری اور کوئٹہ سول سپتال میں 50 سے زائد وکلا کی ہلاکت کے اسباب کی چھان بین کے لیے قائم سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کمیشن کی سفارشات کو ‘لیرو لیر’ کر دیا تو حزبِ اختلاف کیا بیچتی ہے۔ سنا ہے ایک آدھ بار چوہدری صاحب نے وزیرِ اعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینے کی بھی پیش کش کی مگر میاں صاحب نے ان کی یہ درخواست سختی سے مسترد کر دی۔ میاں صاحب گرم و سرد چشیدہ ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ کابینہ میں اس طرح کی بدعت اگر شروع ہو گئی تو بات جانے کہاں تک پہنچے۔

خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت نے نومبر سنہ 2013 میں گڈ گورننس اور شفاف سیاست کی خاطر دو صوبائی وزرا کو بدعنوانی اور ہیرا پھیری کے الزام میں کابینہ سے چلتا کر دیا مگر دونوں کا تعلق اتفاق سے اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی سے تھا۔ خود پی ٹی آئی کے وزیرِ مواصلات یوسف ایوب تب تک برطرف نہیں ہوئے جب تک وہ جعلی ڈگری کیس میں سپریم کورٹ میں آخری اپیل نہیں ہار گئے۔ البتہ خود تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان انتخابی دھاندلی چھان بین کمیشن میں سنہ 2013 کے انتخابات میں 35 پنکچر کیس ہارنے کے باوجود قومی اسمبلی کی نشست پر نئے عزم اور دلائل کے ساتھ براجمان رہے اور تقریریاتی کنٹینر بھی ساتھ میں رکھا۔

جعلی ڈگری سے یاد آیا کہ جب سنہ 2008 میں مظفر گڑھ سے رکنِ قومی اسمبلی بننے والے جمشید دستی کو جعلی ڈگری رکھنے کی پاداش میں نا اہل قرار دے کر نشست سے محروم کر دیا گیا تو ضمنی انتخاب میں وہ پہلے سے بھی زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی موجودہ نو سالہ حکومت کے دوران جہاں بہت کچھ ہوا وہاں یہ بھی ہوا کہ ایک وزیرِ باتدبیر شرجیل انعام میمن جب اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات سے گھبرا کر دوبئی ہجرت کر گئے تو وزارتی قلمدان بھی ساتھ لے گئے اور کئی ہفتوں بعد واپس کرنے پر رضامند ہوئے۔ پچھلے ماہ جب وہ اپنے خلاف ‘جھوٹے مقدمات’ کا سامنا کرنے کے لیے ہائی کورٹ کی پیشگی ضمانت سے مسلح ہو کر اسلام آباد اترے اور پھر فاتحانہ حیدر آباد لوٹے تو جیالوں نے صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے شرجیل میمن کی بے لوث خدمات پر گولڈن تاجپوشی کی۔

مگر ایسا نہیں کہ کوئی ضمیر کی آواز ہی نہیں سنتا۔ سنہ 1983 میں جب ضیا حکومت کے وزیرِ بلدیات سید فخر امام ضیا حکومت کے ہی ایک حامی یوسف رضا گیلانی سے ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کی چیئر مین شپ کا انتخاب ہار گئے تو انھوں نے وفاقی وزارت سے استعفی دے دیا۔ فخر امام کے اس قدم کو سب ہی نے سراہا اور بعد ازاں غیر جماعتی قومی اسمبلی کے پہلے سپیکر منتخب ہوئے۔ اسی طرح اگست سنہ 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یہ عندیہ ملنے پر کہ وہ دوسرا صدارتی انتخاب بھی وردی میں لڑیں گے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت اسحاق خاکوانی نے اپنے ضمیر کی سنتے ہوئے وزارت سے استعفی دے دیا۔ عدلیہ میں ایسے کئی جج ہیں جنھوں نے ضیا الحق اور پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم ناموں کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور گھر بیٹھ گئے۔ مگر اب تک ایک ہی ایسی مثال سامنے آئی ہے کہ اعلیٰ عدالت کے کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن کا ریفرنس دائر ہو اور وہ سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی اپنا عہدہ چھوڑ دے۔

یہ واقعہ اس سال فروری میں پیش آیا جب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظہر اقبال سندھو نے سماعت کا سامنا کرنے سے پہلے ہی جج کی کرسی سے استعفی دے دیا۔ جہاں تک فوج کا معاملہ ہے تو میجر جنرل سکندر مرزا نے عہدہِ صدارت سے تب رضاکارانہ استعفی دیا جب جنرل ایوب خان کے ساتھی جنرلوں نے ان کے سامنے ایک ٹائپ شدہ کاغذ اور اس پر ایک پستول بھی بطور پیپر ویٹ رکھ دیا۔

ایوب خان نے بھی 25 مارچ 1969 کو عہدۂ صدارت رضاکارانہ طور پر چھوڑا جب ان کے سپہ سالار جنرل یحییٰ خان نے آہستگی سے کہا ‘سر ہم آپ کو بہت مس کریں گے۔’ انہی یحییٰ خان نے 20 دسمبر سنہ 1971 کو ملک ٹوٹنے کے چار دن بعد اپنی مرضی سے استعفی دیا کیونکہ انھیں بتا دیا گیا تھا کہ بطور صدر اپنی مرضی استعمال کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔

18 اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد مطمئن رخصت ہوئے حالانکہ انھوں نے اپنے پیشرو رفیق تارڑ کو یہ اعزاز نہیں بخشا تھا۔ فوج میں صرف ایک مثال ایسی ہے جب بری فوج کے ایک سربراہ نے دھڑن تختہ کیے بغیر اپنے عہدے سے قبل از اختتامِ مدت استعفی دیا ہو۔ وہ تھے جنرل جہانگیر کرامت ۔ جب ان کی نواز شریف کی دوسری حکومت سے نہیں بنی تو پنجہ آزمائی کے بجائے کنارہ کش ہو گئے۔ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید 12 اکتوبر سنہ 1999 بھی نہ ہوتا۔

اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا. جہاں تک کرپشن کا معاملہ ہے تو فوج میں کسی نے ازخود استعفی نہیں دیا جب تک برطرف نہیں کیا گیا یا آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلا۔ بھلے وہ این ایل سی سکینڈل میں ماخوز لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل مظفر اور میجر جنرل خالد طاہر اختر ہوں یا ایف سی بلوچستان کے سابق کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل عبید اللہ خٹک، میجر جنرل اعجاز شاہد بریگیڈئیر اسد شہزاد، سیف اللہ، عامر اور کرنل حیدر ہوں یا پھر بحریہ کے سابق سربراہ ایڈ مرل منصور الحق ہوں جو گرفتاری کے بعد پلی بارگین کے تحت 7.5 ملین ڈالر نیب میں جمع کرا کے بری ہوئے۔

واپڈا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر نے گذشتہ برس خود پاکستان آ کر پلی بارگین کے تحت کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے 200 ملین روپے واپس کر کے کلین چٹ حاصل کر لی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان جیسی ترقی پذیر جمہوریتوں میں گڈ گورننس ہر شخص اور ادارہ چاہتا ہے مگر ضمیر کی گورنننس کا عادی ہونے کی عادت پڑتے پڑتے ہی پڑے گی۔ تب تک اپنے علاوہ سب کا احتساب جاری رہے گا۔

وسعت اللہ خان

تجزیہ کار

ایک بوڑھی فرسودہ سوچ

میری عمر ( پچاس پچپن برس اور اس سے اوپر) کے لوگ گواہی دیں گے کہ جب ہم بچے تھے تو ہمارے روز و شب کیسے تھے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم سورج غروب ہونے کے بعد باہر نہیں کھیل سکتے تھے۔ مغرب کے وقت ہر حال میں گھر کی چار دیواری میں موجودگی لازمی تھی۔ اس بارے میں کوئی بہانہ یا سفارش باپ کے ڈنڈے یا ماں کی چپل کے سامنے کارگر نہیں تھی۔ یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ کوئی بچہ رات دس بجے کے بعد بستر سے باہر ہو بھلے نیند آئے نہ آئے۔ اسکول ہوم ورک بھی رات کے کھانے کے بعد سونے سے پہلے مکمل کرنا ہوتا تھا۔ صرف اس رات دیر تک جاگنے کی اجازت تھی جب اگلے دن یا تو ہفتہ وار یا تہوار کی چھٹی ہو۔ مگر جاگنے کا یہ مطلب نہیں تھا کہ بچہ مسلسل ٹی وی کے سامنے بیٹھا رہے۔ ہمیں صرف بچوں کے ٹی وی پروگرام دیکھنے کی اجازت تھی اور یہ پروگرام رات آٹھ بجے سے پہلے پہلے ٹیلی کاسٹ ہو جایا کرتے تھے۔

اگر بیماری آزاری جیسی کوئی حقیقی مجبوری نہیں تو اسکول سے غیر حاضری تقریباً ناممکنات میں سے تھی اور ناغے کے بعد اسکول میں آمد پر غیر حاضری کے سبب سے متعلق درخواست بھی بستے میں ہونی ضروری تھی جس پر بچے کے سرپرست کے دستخط یا انگوٹھا لازمی تھا اور یہ درخواست تب تک موثر نہیں ہوتی تھی جب تک ہیڈ ماسٹر یا ہیڈ مسٹریس اس پر تصدیقی دستخط نہ کر دیں۔

اسکول کے اوقات کے بعد بھی بچے کی جان نہیں چھوٹتی تھی۔ جو بچہ بعد از عصر محلے یا اسکول کے گراؤنڈ میں کسی گیم یا سرگرمی میں حصہ نہیں لیتا تھا اس کے بارے میں عمومی رائے یہی ہوتی کہ یا تو یہ بیمار ہے یا پھر جسمانی طور سے کمزور ہے۔ اسکول میں پڑھنے والا کوئی بھی بچہ اگر شام کو ٹیوشن پڑھتا تھا تو اس کے بارے میں یہ تاثر بنتا چلا جاتا کہ شاید یہ اسکول کی پڑھائی میں پھسڈی ہے تب ہی تو اس کے والدین ٹیوشن دلواتے ہیں۔

والدین اور اساتذہ کے نزدیک جو باتیں کبیرہ گناہوں کی حیثیت رکھتی تھیں ان میں ہوم ورک مکمل نہ کرنا ، بچے سے گالم گلوچ سرزد ہونا، کسی بھی جاننے والے بڑے کو دیکھ کر سلام نہ کرنا ، دو بڑوں کی گفتگو کے بیچ بول پڑنا ، اکیلے یا ساتھی بچوں کے ساتھ کسی سینما گھر کے آس پاس پایا جانا ، کسی اجنبی سے مسلسل بات کرنا ، گلیوں میں بلا مقصد گھومتے پایا جانا، بازار سے کوئی شے بلا اجازت خرید کے وہیں کھڑے کھڑے کھا لینا ، پالتو جانوروں کو بلا جواز تنگ کرنا، پیسے یا کھانے پینے کی اشیا گھر میں یا گھر سے باہر چرانا۔ ان جرائم کی سزا میں سرزنش سے لے کر بول چال کی عارضی معطلی، دیوار کی جانب منہ کر  کے کھڑا کیا جانا یا پھر پٹائی۔ اس زمانے میں گھر یا اسکول میں سرزنشی پٹائی تربیت کا حصہ سمجھی جاتی تھی فوجداری جرم نہ بنی تھی۔ تب ہی تو والدین بچے کو اسکول میں داخل کرواتے وقت دھڑلے سے کہتے تھے ’’ماسٹر صاحب ہمارا لختِ جگر آپ کے حوالے۔ ہڈیاں آپ کی گوشت ہمارا‘‘۔ بچے کو اس وقت اپنا باپ قصائی محسوس ہوتا تھا۔ لیکن آج لگتا ہے کہ اس قصابی کے پیچھے کیسی محبت چھپی ہوئی تھی۔

جب میں آج اپنے یا دوسروں کے بچوں کے شب و روز دیکھتا ہوں تو اپنے بچپنے کی یادوں پر دکھ ہوتا ہے۔ ہمیں گھر میں اکثر کفایت شعاری یا فضول خرچی جیسے الفاظ سننے پڑتے تھے۔ آج کا بچہ دراصل اپنے والدین کا باپ یا ماں ہے۔ وہ باقاعدہ والدین کو اپنی ہر پسند نا پسند کے بارے میں حکماً درخواست کرتا ہے اور والدین بہ رضا و رغبت اس بچے کی فرمائشی غلامی پر رضامند رہتے ہیں۔ آج کے والدین یہ تصور ہی نہیں کر سکتے کہ بچے کی جا بے جا فرمائش دراصل محبت نہیں بلکہ اس کی زیرِ تعمیر شخصیت پر کتنا بڑا ظلم ہے۔ آج کا بچہ نہ کے مطلب سے ناواقف اور صرف ہاں کے مطلب سے واقف ہے۔ اس کے ناز و نعم کا اس کی اخلاقی و تعلیمی تربیت سے اگر کوئی لینا دینا ہے بھی تو واجبی سا۔

ہمیں اپنے والدین سے کپڑے گندے یا میلے کرنے پر خوب سننا پڑتی تھیں لیکن آج کے بچے کو اس بارے میں کوئی تشویش نہیں کیونکہ اسے کپڑے دھونے کے صابن یا ڈیٹرجنٹ کے اشتہارات سے یہ تعلیم مل رہی ہے کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔ اسے ہر ماہ نئے کپڑے دلانا والدین کا فرض ہے۔ اگر روزانہ نہیں تو ہر ہفتے ایک نیا کھلونا ضرور چاہئیے۔ کس بچے کو اپنی عمر کے اعتبار سے کون سا کھلونا چاہیے اس کا فیصلہ بچہ خود کرتا ہے اور آج کل وہ پلاسٹک کی بندوق یا پستول وغیرہ سے کم پر راضی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دیگر ہم عمروں سے کڑا مقابلہ ہے۔ وہ فٹ بال ، کرکٹ ، ہاکی یا بیڈ منٹن صرف ٹی وی پر دیکھتا ہے اور خود محلے یا خاندان کے بچوں کے ساتھ ’’ خود کش بمبار ’’ یا ڈاکو ڈاکو یا اغوا کار کھیلنا پسند ہے۔ بچوں کی دو ٹیموں میں سے ایک ظالم اور دوسری مظلوم بن جاتی ہے اور پھر پوزیشنیں بدل لی جاتی ہیں۔

باہر کب تک رہنا ہے اور رات کو کس وقت گھر لوٹنا ہے اس کا فیصلہ بھی بچے خود کرتے ہیں۔ گھر آ کر ماں کے ہاتھ کا کھانا کھانا ہے یا باہر کا برگر آرڈر کرنا ہے اس کا فیصلہ بھی بچہ خود کرتا ہے۔ آئس کریم خود خریدنے کے لیے بھی پیسے چاہئیں۔ رات کو وہ اپنے والدین کو سلا کر کمپیوٹر گیمز آف کر کے سوتا ہے اور صبح جب اسکول کے لیے روانہ ہوتا ہے تو آدھا سوتا جاگتا کلاس روم تک پہنچتا ہے۔ سرزنش ، سزا ، مار ، یہ اصطلاحات اس کے لیے اجنبی ہیں۔ ٹی وی ڈراموں یا فلموں سے لیے گئے ڈائیلاگ اس بچے کی لسانی ذہانت کے طور پر فخریہ انداز میں بتائے جاتے ہیں۔ ٹیوشن نہ پڑھنے کا سبب والدین کی غربت تو ہوسکتی ہے بچے کی تعلیمی کمزوری ہرگز نہیں۔ اسکول میں اگر گریڈ کم آرہا ہے تو یہ بچے کا نہیں ٹیچر یا اسکول کا قصور ہے۔ اگر محلے سے اس کی کوئی شکایت آئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمسائے اس سے جلتے ہیں۔

اب مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوتی جب میں ایک بارہ سالہ بچے کے ہاتھ میں موبائیل فون دیکھتا ہوں جو اسے سالگرہ پر آنٹی کی جانب سے تحفے میں ملا۔ اس کی میز پر کتاب کے بجائے ٹیبلٹ دیکھتا ہوں جس میں کتاب نہیں بلکہ گیمز اپ لوڈ ہوتے ہیں۔ اس کی کلائی پر گھڑی دیکھتا ہوں ، گویا کسی کارپوریٹ میٹنگ میں پہنچنے سے دیر نہ ہو جائے۔ ایک چودہ برس کے بچے کی ذاتی موٹر سائیکل دیکھتا ہوں اور حیرانی نہیں ہوتی کیونکہ اس کے ساتھ کے بچوں کے پاس تو اپنی ذاتی کاریں اور مسلح محافظ ہیں۔ اب اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں ایک سٹھیایا ہوا بڈھا ہوں جو اپنے دور کو اچھا اور آج کے دور کو حسبِ عادت برا کہہ رہا ہے تو ایسا نہیں ہے۔ ہر دور اپنی نسل کے لیے نئے مسائل اور نئے حل مع نئی اخلاقیات لاتا ہے۔ ہو سکتا ہے موجودہ دور کے لیے یہی ٹھیک ہو جو آج کے بچے کر رہے ہیں ، سیکھ رہے ہیں یا پڑھ رہے ہیں۔ البتہ مجھے ان میں سے بہت سی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ شاید آپ ٹھیک ہی سوچ رہے ہیں۔ شاید میری سوچ یا میں واقعی بوڑھا ہو گیا ہوں۔

وسعت اللہ خان

لاعلمی کا مداوا علم ہے مگر جہل کا کوئی کفارہ نہیں

میں جس سرکاری سیکنڈری سکول میں پڑھتا تھا اس کا رقبہ ایک ایکڑ تھا۔ ایک گراؤنڈ تھا جس میں ہاکی اور فٹ بال کھیلا جا سکتا تھا۔ سکاؤٹنگ تھی، ڈبیٹنگ کلب تھا اور مختلف کلاسوں کے مابین معلوماتِ عامہ کا سالانہ مقابلہ ہوتا تھا۔ یعنی کلاس روم کے باہر ذہنی و جسمانی نشوونما کا پورا انتظام تھا۔ میرے کلاس فیلوز میں ایک لڑکے کا باپ گدھا گاڑی چلاتا تھا۔ ایک کا باپ حلوائی، ایک بچہ تحصیلدار کا تھا اور ایک واپڈا کے ایگزیکٹو انجینیئر کا۔ چار لڑکے نواحی دیہاتوں میں رہنے والے مزارعوں کے تھے۔ اور باقیوں کے ابا کریانہ فروش، جلد ساز، دندان ساز، پیش امام، گلوکار، ٹیچر، وکیل، بینکر وغیرہ وغیرہ تھے۔

ڈسپلن برقرار رکھنے کے لیے استاد کے ہاتھ میں چھڑی بھی گھومتی رہتی تھی۔ فیس ساڑھے تیرہ روپے ماہانہ تھی۔ آج آدھے کلاس فیلوز کا کچھ پتہ نہیں۔ باقی آدھوں میں سے کوئی آرٹسٹ ہے، کوئی امریکہ میں ہے، کوئی ڈپٹی سیکرٹری ہے، ایک میجر جنرل ہے، کچھ کارپوریٹ سیکٹر میں ہیں، ایک انشورنس ایجنٹ اور ایک تعمیراتی ٹھیکیدار بنا پھر رہا ہے اور ایک کروڑ پتی مفرور ہیومن سمگلر ہے۔ میرا سکول کوئی خاص نہیں تھا۔ ہر تحصیل میں سرکاری سیکنڈری سکول ایسا ہی ہوتا تھا اور اس میں ایسے ہی طالبِ علم پڑھتے تھے۔ وہ شام کو پی ٹی وی پر بچوں کے لیے کارٹون فلمیں، بلیک اینڈ وائٹ ڈرامے اور سہیل رانا کا میوزک سکھانے کا پروگرام بھی دیکھتے تھے، ریڈیو پر گانے بھی سنتے تھے اور ان میں سے کچھ استاد کی غیر موجودگی میں ناچ بھی لیتے تھے۔

ہر مڈل کلاس گھرانے میں بچوں کا ایک آدھ رسالہ ضرور آتا تھا۔ اخبارات میں بچوں کی دنیا کی طرح کا ہفتہ وار صفحہ ضرور چھپتا تھا۔ ان صفحات میں نئے نونہال لکھاریوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ انہیں صفحات کے طفیل بعد میں کئی سکہ بند ادیب اور شاعر بھی بن گئے۔ آج میرا بچہ جس سکول میں پڑھتا ہے اس کا رقبہ چار سو مربع گز ہے۔ دو منزلہ عمارت میں صرف کلاس رومز ہیں۔ ایک چھوٹا سا لان ہے جس میں بس صبح کی اسمبلی ہونے کی گنجائش ہے۔ فیس اور متفرقات ملا کر چودہ ہزار روپے ماہانہ جاتا ہے۔ محلے میں جو گراؤنڈ تھا اس کے ایک حصے پر راتوں رات ایک مدرسہ بن گیا اور باقی حصہ ٹین کے بنے کیبنوں میں بٹ گیا جہاں سبزی، گوشت، کریانہ، نائی، پنواڑی اور گیرج کا راج ہے۔

چونکہ سکول میں بھی گراؤنڈ نہیں اور محلے کا گراؤنڈ بھی غائب ہوگیا لہذا وہ فٹ بال لیپ ٹاپ کے سافٹ ویئر پر کھیلتا ہے۔ ویک اینڈ پر کرکٹ سامنے کی سڑک پر کھیلتا ہے۔ ایک نگاہ گیند پر اور دوسری نگاہ آتی ہوئی کار اور جاتی موٹر سائیکل پر ہوتی ہے۔ شام کو وہ ٹی وی نہیں دیکھتا۔ کسی چینل پر اس کے مطلب کا کوئی پروگرام نہیں۔ کارٹون کب تک دیکھے؟ روتی دھوتی عورتوں کے ڈرامے اور جھگڑالو ٹاک شو اس کی سمجھ میں نہیں آتے۔ ہمارے محلے سے دو بلاک چھوڑ کے ایک تھیم پارک ہے۔ مگر یہاں پر جھولوں، سوئمنگ پول، ٹیبل ٹینس وغیرہ جیسی سہولتوں کے فی آئٹم پیسے دینے پڑتے ہیں۔ ایک دفعہ آنے جانے میں کم ازکم دو ہزار روپے کا خرچہ ہے۔ سمندر پر کبھی کبھار لے جاتا ہوں مگر ساحل کچرے سے اٹا پڑا ہے لہذا اب میرا بیٹا سمندر پر بھی نہیں جانا چاہتا۔

وہ اور اس جیسے لاکھوں بچے کھیلنا چاہتے ہیں مگر کہاں کھیلیں، اپنے مطلب کے ٹی وی پروگرام دیکھنا چاہتے ہیں مگر کس چینل پر؟ اپنی ہم عمر کتابیں پڑھنا چاہتے ہیں مگر سستی کتابیں اور رسالے کہاں تلاش کریں؟ لہذا ان میں سے جن کے والدین یہ خرچہ اٹھا سکتے ہیں انھوں نے اپنے بچوں کو لیپ ٹاپ دلا دیا ہے۔ وہ یہ لیپ ٹاپ کھاتے ہیں، پیتے ہیں اور جیتے ہیں۔ اور مجھ جیسے جعلی دانشور اخبار، ٹی وی اور سیمیناروں میں روتے ہیں کہ نئی نسل اپنے اردگرد سے اتنی بیگانہ کیوں ہے؟ وہ صحت مند ذہنی و جسمانی زندگی گذارنے میں دلچسپی کیوں نہیں رکھتی؟ اس کی ذہنی استعداد معیاری مہنگے طبقاتی سکولوں میں پڑھنے کے باوجود کیوں زوال پذیر ہے؟ یہ نسل عملی زندگی کے چیلنجوں کا کیسے مقابلہ کرے گی وغیرہ وغیرہ۔

پہلے ہم نے اپنی نسل سے سکول چھینے، ذہنی و جسمانی تربیت کا ماحول چھینا، ان کی آزادی سے اڑان بھرنے کی اجازت کے پر کترے اور اب جب یہ نسل ایک کمرے کی دنیا میں سمٹ رہی ہے تو ہم نوحہ گر ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ آخر ہم نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے؟ جنھیں اب تک یہی نہیں معلوم کہ ان سے کون سا گناہ سرزد ہوا، انھیں کیسے معلوم ہوگا کہ گناہ کا کفارہ کیا ہوتا ہے۔ لاعلمی کا مداوا علم ہے مگر جہل کا کوئی کفارہ نہیں۔

وسعت اللہ خان

تجزیہ کار

انجامِ گلستاں کیا ہو گا ؟

ہم جنھیں انتخابات میں بھاری اکثریت سے منتخب کرتے ہیں وہ کوئی معمولی لوگ تو نہیں۔ ہم انھیں اپنی قسمت کی باگ پکڑاتے ہیں۔ یہ ارکان ہمارے لیے قانون سازی کرتے ہیں ، صحت و صفائی ، روزگار ، دفاع ، داخلہ اور خارجہ امور وغیرہ سے متعلق پالیسیاں بناتے ہیں۔ اندرونِ ملک دہشت گردی سے نبرد آزمائی کے لیے گائیڈ لائن فراہم کرتے ہیں ، انھی میں سے کوئی اسپیکر ، وزیرِ اعظم ، وزیرِِ اعلی وزیر بنتا ہے۔ انھی میں سے پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے سربراہ اور ارکان نامزد ہوتے ہیں جو مختلف محکمہ جاتی پالیسیوں اور افعال کا محاسبہ کرتے ہیں۔انھی ارکانِ پارلیمان و صوبائی اسمبلیوں کو بیرونِ ملک نیلے پاسپورٹ پر اقوامِ متحدہ سے لے کر واشنگٹن اور بیجنگ تک دورے کر کے  کشمیر ، افغانستان ، سمیت خارجہ پالیسی کے مقاصد دنیا کو سمجھانے کا موقع ملتا ہے۔ یہی لوگ حکومتیں گراتے بناتے ہیں ، بجٹ منظور کرتے ہیں اور اپنے اپنے ووٹرز یا خاندان  کے لیے رول ماڈل بھی ہوتے ہیں۔

ان میں سے کوئی بھی انگوٹھا چھاپ نہیں۔ زیادہ نہیں تو کم ازکم پرائمری تک ضرور پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ بطور منتخب جمہوری نمایندہ تعلیمی اداروں میں مہمانِ خصوصی بنتے ہیں۔ طلبا کو اچھا پاکستانی بننے کا درس بھی دیتے ہیں۔ یہ بھی بتاتے ہیں کہ پاکستان کتنی قربانیوں سے حاصل ہوا اور اس ملک کو نئی نسل سے کیا کیا توقعات ہیں۔ یہ نمایندے اہم قومی دنوں پر منعقد ہونے والی شاندار تقاریب و پریڈوں میں مہمان ہوتے ہیں اور لمبی لمبی تقاریر سنتے اور کرتے ہیں۔

ان نمایندوں کو محمد علی جناح کے کچھ فرمودات اور علامہ اقبال کے کم ازکم دو شعر وزن میں بھی یاد ہوتے ہیں جو انھوں نے کبھی پہلی دوسری جماعت میں ہی سہی مگر پڑھے ضرور ہوں گے۔ ان ارکانِ اسمبلی نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر دس منٹ کے لیے سہی کسی نہ کسی چھوٹی موٹی لائبریری میں قدم رنجہ بھی فرمایا ہوگا۔ ہو سکتا ہے ان کے اپنے گھر یا دفتر میں پاکستان کے بارے میں کوئی نہ کوئی چھوٹی موٹی کتاب بھی شیلف پے دھری ہو جو انھیں کسی نے تحفے میں دی ہو۔ کبھی نہ کبھی اس کتاب پر ان کا ہاتھ پڑا بھی ہو گا۔

ہم جنھیں بطور نمایندہ اپنا حال سنوارنے کی آس میں ووٹنگ کی لائن لگا کر منتخب کرتے ہیں ان میں سے ننانوے فیصد ارب پتی نہیں تو کروڑ پتی یا کم ازکم لکھ پتی تو ہوتے ہیں۔ ان کے بچے اچھے نہ سہی درمیانے اسکولوں میں ضرور پڑھ رہے ہوں گے۔ ان بچوں کے ساتھ کبھی کبھی ان کی علمی ٹائپ مختصر بحث بھی ہوتی ہو گی۔ ان ارکانِ اسمبلی کے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ نہ سہی مگر اینڈورائڈ فون تو ہوتا ہی ہو گا اور انھیں یہ بھی معلوم ہو گا کہ اس فون پر حصولِ معلومات کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت بھی ہے۔ ہم جنھیں اپنے بہتر مستقبل کی آس میں منتخب کرتے ہیں ان کے لیے ہر اسمبلی بلڈنگ میں ایک عدد لائبریری بھی ہوتی ہے جو اس آس میں کھلی رہتی ہے کہ کبھی تو کوئی بھولا بھٹکا آئے گا اور چند منٹ میرے ساتھ گذارے گا۔

یہ نمایندے جن جماعتوں کی نمایندگی کرتے ہیں ان میں سے کوئی خود کو پاکستان کی وراثتی امین کہتی ہے ، کوئی نیا پاکستان تعمیر کرنا چاہتی ہے ، کوئی اس میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتی ہے ، کوئی اسے روشن خیال مساواتی وفاق بنانا چاہتی ہے۔ لہذا ہم توقع رکھتے ہیں کہ یہ جو کہہ رہے ہیں جانتے ہیں اور جو کر رہے ہیں اس کا پورا شعور رکھتے ہیں۔ انھیں کم ازکم اتنی بنیادی آگہی ضرور ہوگی کہ پاکستان کیوں بنا ، اس سفر میں کیا کیا مرحلے آئے ، کیا کیا غلطیاں ہوئیں تا کہ ان کا دوبارہ اعادہ نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کسی خوانچہ فروش کو یہ سب جاننے یا سمجھنے کی ضرورت نہ ہو مگر جسے ہم منتخب کر رہے ہیں کم ازکم اسے پاکستان کے بارے میں بنیادی باتیں ، اہم تاریخیں اور اہم شخصیات کے نام ہی معلوم ہوں۔ تا کہ جب وہ بطور ایم پی اے ، ایم این اے ، چیئرمین ، وزیر ، مندوب کسی سی ایس ایس پاس ماتحت بیوروکریٹ سے بات کر رہا ہو یا اسے احکامات دے رہا ہو یا پالیسی بنا رہا ہو یا کسی سفیر سے مل رہا ہو تو کوئی اسے بنیادی قومی حقائق کے بارے میں چیلنج نہ کر سکے۔

دوسری جماعت میں پڑھنے والے بچے سے بھی توقع ہوتی ہے کہ وہ تئیس مارچ چودہ اگست ، اقبال ، جناح  اور دیگر قومی اکابرین کے بارے میں بالکل بنیادی معلومات ضرور رکھتا ہو گا۔ اس کم ازکم توقع کے ساتھ ڈان نیوز نے تئیس مارچ کی اہمیت کے بارے میں ارکانِ اسمبلی کی علمیت سے فیض پانے کا سوچا۔ قرار دادِ پاکستان چونکہ لاہور کے منٹو پارک میں مولوی اے کے فضل الحق نے پیش کی اور چوبیس مارچ کو متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ لہذا اسی لاہور میں قائم پنجاب اسمبلی کے احاطے میں موجود ارکانِ اسمبلی کی جانب مائکروفون کر دیا گیا یہ سوچے بغیر کہ کس کا تعلق کس جماعت سے ہے۔ سوال صرف اتنا تھا کہ قرار داد ِ پاکستان کب ، کس نے  کہاں پیش کی اور اس میں کیا بنیادی مطالبہ کیا گیا تھا ؟ جوابات ملاحظہ فرمائیے۔

’’ دیکھئے یہ قرار داد تئیس مارچ کو منظور ہوئی اور یہ بہت بڑی قرار داد تھی ’’۔( شہزاد منشی۔ مسلم لیگ ن )۔

’’ مجھے ٹھیک طور سے تو یاد نہیں مگر میرا خیال ہے کہ یہ سرسید احمد خان نے پیش کی تھی ’’۔ ( شعیب صدیقی۔ پاکستان تحریکِ انصاف )۔

’’ تئیس مارچ کو قرار داد چوہدری رحمت علی نے پیش کی تھی اور سال تھا انیس سو چھیالیس’’۔ (کنول نعمان۔ مسلم لیگ ن )۔

’’ شائد انیس سو چالیس میں۔۔۔ایک منٹ۔۔ یہ مائک ہٹائیں ’’۔ ( سعدیہ سہیل۔ پاکستان تحریکِ انصاف)۔

’’ میرا خیال ہے قائدِ اعظم نے پیش کی تھی انیس سو تینتالیس یا بیالیس میں۔مجھے پتہ ہوتا تو تیاری کر کے آتی۔ ایسے نہ پوچھا کریں ’’۔( فرزانہ بٹ۔ مسلم لیگ ن)۔

چلیے صوبائی اسمبلی کے ارکان کو اور بہت سے کام ہوتے ہیں اگر یاد نہیں یا غلط یاد ہے تو کوئی بات نہیں۔ مگر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کو یقیناً آگہی ہوگی۔ کیونکہ سب اہم نظریاتی و تاریخی فیصلے تو بہرحال اسلام آباد میں ہی ہوتے ہیں۔ لہذا بچارا مائکروفون پارلیمنٹ کے پچھلے دروازے پر پارکنگ لاٹ میں اپنی اپنی گاڑیوں کے انتظار میں کھڑے ارکانِ پارلیمان کی جانب بڑھا۔ جی قرار داد پاکستان کب کہاں کس نے کیوں پیش کی تھی ؟

’’ مجھے یاد نہیں کہ کہاں پیش ہوئی تھی ’’۔( سینیٹر نعمان وزیر تحریکِ انصاف )۔

’’ اتنی تفصیل آپ کو کیسے بتاؤں۔ ہم ہسٹری کے طالبِ علم ہیں۔ لیکن آپ بہت چھوٹے ہیں اور سوال بہت بڑا ہے ’’۔ ( اکرم درانی سابق وزیرِ اعلی خیبر پختون خوا ، ایم این اے جمعیت علماِ اسلام )۔

’’ دیکھئے قرار دادِ پاکستان کا یہ تھا کہ جو ہمارا لاہور کا مینار بنا ہوا ہے مینارِ پاکستان۔ یہ ایک جگہ ہے جو ہم نے بنائی ہے۔ اور ہمارے جو اکابرین تھے تحریکِ پاکستان کے جن میں قائدِ اعظم محمد علی جناح اور دیگر لوگ تھے۔ انھوں نے تحریکِ پاکستان میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا ’’۔ ( شیخ صلاح الدین ایم این اے۔ ایم کیو ایم )۔

’’ بیٹے مجھے معلوم ہے۔ تئیس مارچ انیس سو چالیس کو ایک قرارداد پیش ہوئی تھی۔ اس میں قائدِ اعظم بھی تھے۔ علامہ اقبال تھے یا نہیں تھے مجھے یاد نہیں ’’۔( سینیٹر الیاس بلور۔ عوامی نیشنل پارٹی )۔

’’ یہ قرار داد جو آل پاکستان انڈیا مسلم لیگ نے پیش کی۔ اس کی کیا وجوہات تھیں ؟ اس کے لیے اس نے جدوجہد کی۔ اس جدوجہد کو آگے بڑھانا چاہیے‘‘۔ ( ڈاکٹر رمیش کمار ایم این اے مسلم لیگ ن )۔

’’ میں پوری ہسٹری تو نہیں جانتا لیکن مجھے یاد ہے کہ قرار دادِ پاکستان پیش کرنے والے پاکستان میں نہیں ہیں۔ ہمیں نیشنل ہیروز پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ وہ آج یوکے میں دفن ہیں۔ اگر ہم ان کو لے آتے تو تئیس مارچ دوبالا ہو جاتا۔ اب آپ کی سمجھ میں آ گیا‘‘۔ یہ تھی سابق وزیرِ داخلہ اور موجودہ سینیٹر رحمان ملک کی تحقیق جنھیں کراچی یونیورسٹی اعزازی ڈاکٹریٹ سے بھی نواز چکی ہے۔ ( غالباً رحمان ملک کا اشارہ چوہدری رحمت علی کی جانب تھا جو کیمبرج میں دفن ہیں کیونکہ قرار داد پیش کرنے والے مولوی فضل الحق تو ڈھاکے میں محوِ آرام ہیں )۔

یقیناً ہماری اسمبلیوں میں رضا ربانی ، ایاز صادق ، فرحت اللہ بابر ، اعتزاز احسن ، مشاہد حسین ، شیریں مزاری جیسے درجنوں بہت ہی پڑھے لکھے جان کار لوگ بھی موجود ہیں جن کے سبب یہ ملک چل رہا ہے۔ مگر ہر ایک علمی انجن کے پیچھے لاعلمی کے جو درجنوں ڈبے لگے ہوئے ہیں وہ کس گنتی شمار میں ہیں۔کیا وہ محض حق میں یا خلاف ہاتھ کھڑے کرنے والے روبوٹس ہی رہیں گے ؟ کیا قسمت پائی ہے تئیس مارچ کی قرار داد سے پیدا ہونے والے پاکستان نے۔

وسعت اللہ خان