کھوپڑیاں اور چوہے : بھارتی کسان سراپا احتجاج

گذشتہ ہفتے انڈیا میں ایک کسان نے زندہ چوہا دانتوں میں پکڑ کر انوکھا احتجاج
ریکارڈ کروایا۔ 65 سالہ چناگو ڈانگی پالانیسامی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے کسانوں کی حالتِ زار کی طرف حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے قریب جنتر منتر کے علاقے میں ایک خیمے میں مجھے بتایا : ‘میں اور میرے کسان ساتھی یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر حالات میں تبدیلی نہ ہوئی تو ہم چوہے کھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔’ پالانیسامی اور ان کے سو کے قریب ساتھی اس عارضی پناہ گاہ میں گذشتہ 40 روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق تمل ناڈو کے ان علاقوں سے ہے جو حالیہ برسوں میں شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے انڈیا نے اس خشک سالی کو بھلا دیا ہے۔ اس لیے پالانیسامی اور ان کے ساتھی نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا یہ انوکھا طریقہ سوچا ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں حکومت کی جانب سے قحط زدہ علاقوں کے لیے مختص رقوم دی جائیں جب کہ معمر کسانوں کو پنشنیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ وہ قرضوں کی معافی، فصلوں کی بہتر قیمت اور اپنی زمینوں کی آبپاشی کے لیے مزید نہروں کی مانگ بھی کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے روایتی لباس پہن رکھے ہیں اور وہ انسانی کھوپڑیاں لہرا رہے ہیں جو ان کے بقول مردہ کسانوں کی ہیں۔ انھوں نے آدھے سر منڈوا رکھے ہیں اور منھ میں زندہ چوہے پکڑ رکھے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ہاتھ کاٹ کر ‘احتجاجی خون’ بہا رہے ہیں، جب کہ کچھ گرم بجری پر لوٹ رہے ہیں۔ کچھ لوگ فرضی جنازوں کی رسمیں بھی ادا کر رہے ہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ مطالبے تسلیم نہ ہونے تک دہلی میں ڈٹے رہیں گے. جب ان لوگوں کو وزیرِ اعظم سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تو انھوں نے ایوانِ وزیرِ اعظم کے قریب اپنے کپڑے اتار لیے۔ جب ان میں سے ایک احتجاجی نے چوہا منھ میں پکڑ کر خود کو ایک درخت سے لٹک کر پھانسی دینے کی کوشش کی تو آگ بجھانے والے عملے کو بلانا پڑا۔ ان میں سے کئی افراد کو علاج کے لیے ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔ انھیں میڈیا کی جانب سے توجہ تو ملی ہے لیکن بعض مظاہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کا میڈیا انھیں کرتب باز سمجھتا ہے اور ان کے احتجاج کے پیچھے درد و کرب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔

ایک مبصر نے لکھا کہ یہ احتجاج ‘مضحکہ خیز حد تک بڑھ گیا ہے جہاں اس کا مقصد احتجاج سے زیادہ پرفارمنس بن کر رہ گیا ہے۔’ تمل ناڈو کے 40 فیصد سے زیادہ لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ وہاں خشک سالی، فصلوں کی کم قیمتوں اور زرعی قرضے حاصل کرنے میں مشکلات نے اس ریاست میں کئی عشروں کا بدترین بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس بات کا تعین ہونا ابھی باقی ہے کہ آیا اس احتجاج کا کوئی فائدہ ہو گا یا نہیں۔ انڈیا میں ناکام احتجاجی مظاہرے کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم ان مظاہروں میں حصہ لینے والے منفرد طریقے سے اپنے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انڈیا میں زراعت کی شرحِ نمو سکڑ کر 1.2 فیصد رہ گئی ہے، جہاں لاکھوں کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

پالانیسامی کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل تک ان کے پاس ساڑھے چار ایکڑ زمین تھی جہاں چاول، گنا، دالیں اور کپاس بکثرت اگتی تھیں۔ لیکن برسوں کی خشک سالی نے ان کی زمین کو بنجر بنا دیا ہے۔ ان کے دو بیٹے چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، ان پر چھ لاکھ روپے قرض چڑھ گیا اور ان کے گھر پر موجود سونا گروی پڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ‘یہ میری زندگی کا بدترین زرعی بحران ہے۔ میں نے ایسا بحران پہلے کبھی نہیں دیکھا۔’ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تمل ناڈو کے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک 58 کسان خودکشیاں کر چکے ہیں۔ تاہم ایک مقامی تنظیم کے مطابق اصل تعداد ڈھائی سو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ جنتر منتر میں موجود یہ کسان اپنی بنجر زمینوں اور مردہ درختوں کی کہانیاں سناتے ہیں، جب کہ درجۂ حرارت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پالانیسامی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر اپنی ڈائری میں کچھ تحریر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حال میں کچھ شاعری بھی کی ہے جس میں وہ اپنے گھر کو یاد کرتے ہیں۔

مر چکی ہے، مر چکی ہے، زراعت مر چکی ہے

اذیت ہے، اذیت ہے، زراعت کی موت

جل رہے ہیں، جل رہے ہیں

کسانوں کے دل اور پیٹ

روکو، اسے روکو

کسانوں کی موت کو

سوتک بسواس

بی بی سی نیوز، انڈیا

Advertisements

یہاں استعفیٰ دیا نہیں لیا جاتا ہے

پاکستان میں جب کوئی جماعت حزبِ اختلاف ہوتی ہے تو اسے فوراً سیاسی اخلاقیات کا بھولا ہوا سبق یاد آنے لگتا ہے اور وہ کرپشن، نااہلی اور بد عنوانی کے خلاف سینہ سپر ہو جاتی ہے۔ حزبِ اختلاف بات بات پر صدر سے تھانے دار تک ہر ایک سے استعفی مانگتی پھرتی ہے اور جب خود اقتدار میں آتی ہے تو سیاسی اخلاقیات بھول بھال کر ہر بد انتظامی اور کرپشن کے بارے میں وہی تاویلات پیش کرنا شروع کر دیتی ہے جو اس کی پیشرو حکومت پیش کرتی تھی اور پیشرو حکومت حزبِ اختلاف میں آ کر اسی سیاسی اخلاقیات کے منبر پر بیٹھ جاتی ہے جو گذشتہ حزبِ اختلاف کے حزبِ اقتدار بننے سے خالی ہوا تھا۔

یہ اخلاقی و تاویلاتی میوزیکل چیئر پچھلے 70 برس سے جاری ہے۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی منتخب یا سرکاری عہدیدار نے الزامات ثابت ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز پر استعفی دیا ہوتا آنکہ پشت پر قانونی و سیاسی لات نہ پڑے۔ اگر بہت دور چلے گئے تو بات بھی بہت دور نکل جائے گی۔ فوری یادداشت کا سہارا لیا جائے تو سابق وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کا دور یاد آتا ہے جب وزیرِ مواصلات پرنس محی الدین، وزیرِ بلدیات انور عزیز چوہدری اور پیداوار کے وزیرِ مملکت اسلام الدین شیخ کو بدعنوانی، غفلت یا خورد برد کے الزامات لگتے ہی وزیرِ اعظم نے خود برطرف کیا۔ وہ الگ بات کہ چھان بین کے نتیجے میں بعد ازاں صرف اسلام الدین شیخ پر ہی باضابطہ فردِ جرم عائد اور ثابت ہوئی مگر جونیجو کی اصول پسندی خود ان کے کسی کام نہ آ سکی۔

سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں چلتا کیا۔ مگر سنہ 2010 میں خود یوسف رضا گیلانی کو اپنے تین وزرا بدعنوانی یا ڈسپلن کی خلاف ورزی پر برطرف کرنا پڑے۔ وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار عبدالقیوم جتوئی نے اپنی ہی حکومت پر کرپشن اور پھر اس کرپشن میں حصہ داری نہ ملنے کا شکوہ کیا لہذا انھیں جانا ہی تھا۔ وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے اپنے ہی ہم کابینہ وزیرِ مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر حاجیوں کو لوٹنے اور حج کوٹے کی فروخت کا الزام لگایا تو یوسف رضا گیلانی نے دونوں وزرا کو کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا۔

اعظم سواتی جمیعت علماِ اسلام کے کوٹے پر وزیر تھے لہذا ان کی برطرفی پر مولانا فضل الرحمان احتجاجاً حکومت سے الگ ہو گئے۔ حامد سعید کاظمی کو کرپشن ثابت ہونے پر جیل جانا پڑا جہاں سے وہ ابھی پچھلے ماہ ہی رہا ہوئے ہیں۔ جہاں تک شریف دور کا معاملہ ہے توسنہ 2014 میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ہاتھوں پاکستان عوامی تحریک کے دس حامیوں کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ روکنے کے لیے وزیرِ اعلی شہباز شریف نے کچھ عرصے کے لیے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ سے قلمدان واپس لے لیا اور پھر موقع محل دیکھ کر واپس بھی کر دیا۔

جب وزیرِ تعلیم و سیاحت و امورِ نوجوانان رانا مشہود احمد خان کی ایک وڈیو سامنے آئی جس میں وہ رشوت لے رہے ہیں اور اسی دوران 20 ارب روپے کے ایک سکینڈل میں ملوث ہونے کے شبہے میں نیب نے رانا صاحب کے خلاف چھان بین شروع کردی تو وزیرِ اعلی شہباز شریف اور پارٹی کے ‘اخلاقی دباؤ’ کا احترام کرتے ہوئے رانا مشہود نے امورِ نوجوانان اور سیاحت کا قلمدان تو چھوڑ دیا مگر تعلیم کی وزارت پھر بھی رکھی۔ کچھ عرصے بعد رانا صاحب کو چھان بین کے نتیجے میں کلین چٹ مل گئی اورایک بار پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔ سنہ 2015 میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کو جب تک الیکشن کمیشن نے انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات کے نتیجے میں نشست سے محروم نہیں کر دیا تب تک انھوں نے بھی اخلاقاً پہل نہیں کی۔ اس کے بعد بھاری اکثریت سے دوبارہ انتخاب جیت کر دوبارہ اسپیکر کی کرسی سنبھال لی اور دوبارہ عمران خان کو غصہ دلایا۔

جب بھی ملک میں دہشت گردی کی بڑی واردات کے بعد حزبِ اختلاف سدا بہار وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے تو چوہدری صاحب اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اتنے جوابی وار کرتے ہیں کہ حزبِ اختلاف اگلے ایک ہفتے تک اپنے زخم سہلاتی رہتی ہے۔ چوہدری صاحب نے تو امن و امان کی ابتری اور کوئٹہ سول سپتال میں 50 سے زائد وکلا کی ہلاکت کے اسباب کی چھان بین کے لیے قائم سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کمیشن کی سفارشات کو ‘لیرو لیر’ کر دیا تو حزبِ اختلاف کیا بیچتی ہے۔ سنا ہے ایک آدھ بار چوہدری صاحب نے وزیرِ اعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینے کی بھی پیش کش کی مگر میاں صاحب نے ان کی یہ درخواست سختی سے مسترد کر دی۔ میاں صاحب گرم و سرد چشیدہ ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ کابینہ میں اس طرح کی بدعت اگر شروع ہو گئی تو بات جانے کہاں تک پہنچے۔

خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت نے نومبر سنہ 2013 میں گڈ گورننس اور شفاف سیاست کی خاطر دو صوبائی وزرا کو بدعنوانی اور ہیرا پھیری کے الزام میں کابینہ سے چلتا کر دیا مگر دونوں کا تعلق اتفاق سے اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی سے تھا۔ خود پی ٹی آئی کے وزیرِ مواصلات یوسف ایوب تب تک برطرف نہیں ہوئے جب تک وہ جعلی ڈگری کیس میں سپریم کورٹ میں آخری اپیل نہیں ہار گئے۔ البتہ خود تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان انتخابی دھاندلی چھان بین کمیشن میں سنہ 2013 کے انتخابات میں 35 پنکچر کیس ہارنے کے باوجود قومی اسمبلی کی نشست پر نئے عزم اور دلائل کے ساتھ براجمان رہے اور تقریریاتی کنٹینر بھی ساتھ میں رکھا۔

جعلی ڈگری سے یاد آیا کہ جب سنہ 2008 میں مظفر گڑھ سے رکنِ قومی اسمبلی بننے والے جمشید دستی کو جعلی ڈگری رکھنے کی پاداش میں نا اہل قرار دے کر نشست سے محروم کر دیا گیا تو ضمنی انتخاب میں وہ پہلے سے بھی زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی موجودہ نو سالہ حکومت کے دوران جہاں بہت کچھ ہوا وہاں یہ بھی ہوا کہ ایک وزیرِ باتدبیر شرجیل انعام میمن جب اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات سے گھبرا کر دوبئی ہجرت کر گئے تو وزارتی قلمدان بھی ساتھ لے گئے اور کئی ہفتوں بعد واپس کرنے پر رضامند ہوئے۔ پچھلے ماہ جب وہ اپنے خلاف ‘جھوٹے مقدمات’ کا سامنا کرنے کے لیے ہائی کورٹ کی پیشگی ضمانت سے مسلح ہو کر اسلام آباد اترے اور پھر فاتحانہ حیدر آباد لوٹے تو جیالوں نے صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے شرجیل میمن کی بے لوث خدمات پر گولڈن تاجپوشی کی۔

مگر ایسا نہیں کہ کوئی ضمیر کی آواز ہی نہیں سنتا۔ سنہ 1983 میں جب ضیا حکومت کے وزیرِ بلدیات سید فخر امام ضیا حکومت کے ہی ایک حامی یوسف رضا گیلانی سے ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کی چیئر مین شپ کا انتخاب ہار گئے تو انھوں نے وفاقی وزارت سے استعفی دے دیا۔ فخر امام کے اس قدم کو سب ہی نے سراہا اور بعد ازاں غیر جماعتی قومی اسمبلی کے پہلے سپیکر منتخب ہوئے۔ اسی طرح اگست سنہ 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یہ عندیہ ملنے پر کہ وہ دوسرا صدارتی انتخاب بھی وردی میں لڑیں گے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت اسحاق خاکوانی نے اپنے ضمیر کی سنتے ہوئے وزارت سے استعفی دے دیا۔ عدلیہ میں ایسے کئی جج ہیں جنھوں نے ضیا الحق اور پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم ناموں کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور گھر بیٹھ گئے۔ مگر اب تک ایک ہی ایسی مثال سامنے آئی ہے کہ اعلیٰ عدالت کے کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن کا ریفرنس دائر ہو اور وہ سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی اپنا عہدہ چھوڑ دے۔

یہ واقعہ اس سال فروری میں پیش آیا جب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظہر اقبال سندھو نے سماعت کا سامنا کرنے سے پہلے ہی جج کی کرسی سے استعفی دے دیا۔ جہاں تک فوج کا معاملہ ہے تو میجر جنرل سکندر مرزا نے عہدہِ صدارت سے تب رضاکارانہ استعفی دیا جب جنرل ایوب خان کے ساتھی جنرلوں نے ان کے سامنے ایک ٹائپ شدہ کاغذ اور اس پر ایک پستول بھی بطور پیپر ویٹ رکھ دیا۔

ایوب خان نے بھی 25 مارچ 1969 کو عہدۂ صدارت رضاکارانہ طور پر چھوڑا جب ان کے سپہ سالار جنرل یحییٰ خان نے آہستگی سے کہا ‘سر ہم آپ کو بہت مس کریں گے۔’ انہی یحییٰ خان نے 20 دسمبر سنہ 1971 کو ملک ٹوٹنے کے چار دن بعد اپنی مرضی سے استعفی دیا کیونکہ انھیں بتا دیا گیا تھا کہ بطور صدر اپنی مرضی استعمال کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔

18 اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد مطمئن رخصت ہوئے حالانکہ انھوں نے اپنے پیشرو رفیق تارڑ کو یہ اعزاز نہیں بخشا تھا۔ فوج میں صرف ایک مثال ایسی ہے جب بری فوج کے ایک سربراہ نے دھڑن تختہ کیے بغیر اپنے عہدے سے قبل از اختتامِ مدت استعفی دیا ہو۔ وہ تھے جنرل جہانگیر کرامت ۔ جب ان کی نواز شریف کی دوسری حکومت سے نہیں بنی تو پنجہ آزمائی کے بجائے کنارہ کش ہو گئے۔ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید 12 اکتوبر سنہ 1999 بھی نہ ہوتا۔

اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا. جہاں تک کرپشن کا معاملہ ہے تو فوج میں کسی نے ازخود استعفی نہیں دیا جب تک برطرف نہیں کیا گیا یا آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلا۔ بھلے وہ این ایل سی سکینڈل میں ماخوز لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل مظفر اور میجر جنرل خالد طاہر اختر ہوں یا ایف سی بلوچستان کے سابق کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل عبید اللہ خٹک، میجر جنرل اعجاز شاہد بریگیڈئیر اسد شہزاد، سیف اللہ، عامر اور کرنل حیدر ہوں یا پھر بحریہ کے سابق سربراہ ایڈ مرل منصور الحق ہوں جو گرفتاری کے بعد پلی بارگین کے تحت 7.5 ملین ڈالر نیب میں جمع کرا کے بری ہوئے۔

واپڈا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر نے گذشتہ برس خود پاکستان آ کر پلی بارگین کے تحت کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے 200 ملین روپے واپس کر کے کلین چٹ حاصل کر لی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان جیسی ترقی پذیر جمہوریتوں میں گڈ گورننس ہر شخص اور ادارہ چاہتا ہے مگر ضمیر کی گورنننس کا عادی ہونے کی عادت پڑتے پڑتے ہی پڑے گی۔ تب تک اپنے علاوہ سب کا احتساب جاری رہے گا۔

وسعت اللہ خان

تجزیہ کار

پانامہ کیس : ’تحقیقاتی ٹیموں کا راستہ ایک بند گلی‘

’نواز شریف ایک جائز طور پر منتخب وزیر اعظم ہیں لیکن اب تک وہ قوم کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے ہیں کہ انھوں نے اور ان کے خاندان نے جو دولت جمع کی ہے وہ جائز طریقے سے کمائی ہوئی ہے۔‘ پاکستان کے سب سے مقتدر اخبار روزنامہ ڈان نے پاناما پیپرز پر سپریم کورٹ کے منقسم فیصلے پر اداریے کا اختتام مندرجہ بالا سطروں پر کیا ہے۔ پاناما پیپرز کے فیصلے پر جمعے کو پاکستان کے تمام اخبارات نے ادارتی صفحات پر عدالت عالیہ کے اس ‘تاریخی فیصلے’ پر اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے ایک اور اخبار ‘ڈیلی ایکسپریس’ نے اس موضوع پر اپنے اداریے کی ابتدائی سطروں میں کہا ہے کہ شریف فیملی کے علاوہ شاید چند ہی ایسے لوگ ہوں گے جو سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر شاد ہوں گے۔ انگریزی زبان کے ایک اور اخبار ’دی نیشن‘ نے اپنے اداریے کی ابتدا ہی میں یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک ایسا فیصلہ نہیں تھا جو 20 برس تک یاد رکھا جائے اور نہ ہی اس فیصلے نے وزیر اعظم کو الزامات سے بری کیا ہے۔ انگریزی زبان کے لاہور سے شائع ہونے والے اخبار ‘پاکستان ٹوڈے’ نے ‘منقسم فیصلے کے مضمرات’ کے عنوان سے اپنے ادارے کی پہلی سطر میں لکھا کہ جو فیصلہ تاریخی کہہ کر پیش کیا گیا اس نے بہت سے لوگوں کو حیران اور پریشان کر دیا ہے۔ تمام بڑے اخبارات اس بات پر متفق ہیں کہ یہ فیصلہ حکمران خاندان کے لیے خوشیاں منانے کا کوئی جواز فراہم نہیں کرتا اور ان پانچ ججوں نے وزیر اعظم کو کرپشن کے سنگین الزامات سے مکمل طور پر پاک نہیں کیا ہے۔

روزنامہ ڈان نے مشترکہ تحقیقاتی کمیشن میں فوج کے نمائندوں کو شامل کرنے کے اہم نکتے پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ روزنامہ ڈان کا کہنا ہے کہ ملٹری انٹیلیجنس اور پاکستان فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے نمائندوں کو اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا جانا ایک لحاظ سے سویلین اداروں پر عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے سویلین امور میں فوج کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے اور ہونا تو یہ چاہیے کہ سویلین امور سویلین ادارے ہی حل کریں۔

’مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل میں فوج کے نمائندوں کو شامل کیا جانا خاص طور پر ایک وزیر اعظم کے خلاف مالی اور قانونی امور کی تحقیقات کے لیے ایک غیر معمولی قدم ہے اور ایک ایسی مثال ہے جو کہ قائم نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘ اخبار کہتا ہے کہ ماضی میں سیاسی طور پر کشیدہ ماحول میں بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کا خاص طور پر ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے اور یہ راستہ ایک بند گلی میں ختم ہوتا ہے۔

اردو زبان کا روزنامہ جنگ اپنے اداریے کے آخر میں لکھتا ہے کہ یہ فیصلہ اس اعتبار سے یقیناً تاریخ ساز ہے کہ پاکستان میں بھی ملک کے سب سے بااختیار منصب پر فائز شخصیت کو ملک کے تحقیقاتی اداروں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا جس سے عدل و انصاف کی بالادستی کی نئی اور شاندار روایت قائم ہو گی۔ روزنامہ ڈیلی ایکسپریس نے اپنے اداریے کا اختتام بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس خزانے کے اصل ماخذ کا پتا چلنا ابھی باقی ہے لیکن اس ڈارمے کے ڈراپ سین کے لیے شاید فیوڈر ڈسٹووسکی کے مشہور ناول ’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘ سے کچھ نکالنا پڑے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

رجب طیب اردوآن : خوابوں کا صورت گر

حال ہی میں ملک گیر ریفرنڈم کے ذریعے ترک قوم نے اپنے سیاسی نظام میں تبدیلی کا فیصلہ کیا، اب وہ پارلیمانی کے بجائے صدارتی نظام کے سائے تلے زندگی بسر کرے گی۔ اگرچہ مغربی حکمرانوں نے ترک قوم کو صدر رجب طیب اردوآن کی حمایت سے باز رکھنے کی ہزار ہا کوششیں کیں لیکن قوم اپنے رہنما کے ساتھ کھڑی ہے۔ آخر اس شخص میں کیا ہے جو قوم اس کی محبت میں مبتلا ہے، اُس نے کیسے دیوالیہ ہوجانے والے ترکی کو بلندوبالا مقام عطا کیا، اس کا جواب صدر اردوآن کے زیر نظر خاکہ سے بخوبی ملتا ہے، جو ممتاز صحافی اور مصنف محمد فاروق عادل کی زیرطبع کتاب’’ جو صورت نظرآئی‘‘ کا حصہ ہے۔ (ادارہ)

شام کے سائے ڈھلتے ڈھلتے سارا سامان فروخت ہوچکا تھا، میں نے حساب لگایا تو پتہ چلا کہ میری دن بھر کی آمدنی بھی ہمارے ایک دن کے اخراجات کے لیے ناکافی ہے، میں دکھی ہو گیا اور میں نے سوچا:

’’محنت کش کو اس کی محنت کا حق ملے گا کبھی ؟‘‘

میں نے یہ سوچا پھر میری آنکھیں بھر آئیں۔ میری آنکھوں کے سامنے پہلے میرے والد کی تصویر ابھری پھر کچھ دوسرے چہرے۔ میرے والد نے اپنی زندگی دفتر کو دے ڈالی تھی اور اب ان کے بال سفید اور جسم کمزور ہو چلا تھا لیکن ان کی زندگی بھر کی کمائی ہمارے لیے ناکافی تھی۔ پھر میری آنکھوں کے سامنے محمت کی شبیہ ابھری، قاسم پاشا کا نان بائی، زندہ دل اور یار باش لیکن رات کوگھر جانے سے پہلے اس کی ساری شوخی ہوا ہوجاتی کیوں کہ کام ختم کرنے کے بعد جب وہ غلے سے نکال کر لیرے گنتا تو سوچتا کہ اتنے تھوڑے پیسوں سے گھر کاخرچہ کیسے چلے گا؟

میری آنکھوں کے سامنے اس روز گلی صاف کرنے والے چپ چو (çöpçüبہ معنی خاکروب)، گاؤں میں غلہ اگانے والے چٹ چی (çiftçi بہ معنی کسان)، اسکول میں پڑھانے والے اورٹ من (ögretmen بہ معنی استاد) اور جانے کن کن لوگوں کی تصاویر ابھریں اور میں نے سوچا کہ ان لوگوں کی قسمت شاید کبھی نہ بدلے پھر ایک جذبہ میرے دل کے نہاں خانے سے ابھرا اور میں نے سوچا کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھٹکنا کیسا؟ یہ جھنڈا کیوں نہ میں خودہی اٹھا لوں۔ میں نے یہ سوچا اور میری تھکن دور ہو گئی۔ اس روز رات کا کھانا میں نے بے دھیانی سے کھایا کیوں کہ قسمت بدلنے کے کئی منصوبے میرے ذہن میں کلبلا رہے تھے۔ اس کیفیت کو آنے (anne یعنی ماں) نے میری لاپروائی جانا اور گوشمالی کی۔ کہا کہ یہ لڑکا جانے کن خیالوں میں کھویا رہتا ہے؟ کبھی سدھرے گا نہیں۔ میں خاموش رہا اور سوچا کہ جو بات میرے دل میں ہے، اسے میں زبان پہ کیسے لاؤں؟

لیکن بابا نے اس قضئے پر ہمیشہ کی طرح در گزر سے کام لیا اور میں نے سوچا کہ مردوں کو اسی طرح متحمل اور مستقل مزاج ہونا چاہئے پھر سوچا: ’’ جو عزم میں نے کیا ہے، مستقل مزاجی اس کے لیے ضروری ہوگی‘‘۔ میرے ذہن میں ایک اور خیال نے جگہ بنائی۔ اپنے معمول کی طرح میں اب بھی اوکل (Okul یعنی اسکول) جاتا اور ہر شام ساحل پر مزدوری بھی کرتا لیکن میرا ذہن ہمیشہ ایک ہی بات سوچتا کہ کب بدلے گی یہ دنیا؟‘‘۔ یہ طیب کی کہانی ہے جو استنبول کے غریب خاندان میں پیدا ہوا اور محنت مزدوری کے دوران اس نے ایک بڑا خواب دیکھا، آنے والے برسوں میں جس کی تعبیر اس نے اپنے ہاتھوں سے تراشنی تھی۔ لڑکپن میں معصوم خواب دیکھنے والے اس بچے کو میں نے لاہور میں اس زمانے میں دیکھا جب اپنے خوابوں کی بے رنگ تصویروں میں رنگ بھرنے کی طاقت وہ بڑی حد تک حاصل کر چکا تھا اور دنیا اسے استنبول کے مئیر رجب طیب ایردوآن کے نام سے جاننے لگی تھی۔ اْس روز وہ لاہور میں تھا اور پرشکوہ مینار پاکستان کے سائے میں اسے خطاب کرنا تھا، وہ نسبتاً سبک روی سے چلتا ہوا چبوترے پر پہنچا، آسمان کو چھوتے ہوئے مینار کی عظمت پر ایک نگاہ ڈالی اور مسکرایا:

’’خواب کیسے حقیقت بنتے ہیں اور کیسے ان کی عظمت کو جلا بخشنے کے لیے عمارتیں وجود میں آتی ہیں‘‘۔ مسکراہٹ نے اس کے دل کا حال بیان کر دیا۔ ممکن ہے، اس روز اس شخص نے سوچا ہو کہ اپنے وطن کی لولی لنگڑی معیشت کو توانا کرنے کے لیے مجھے بھی اسی عزم سے کام کرنا ہے جس عزم کی کہانی یہ عظیم الشان مینار بیان کرتا ہے۔ اس روز جب اس شخص نے زباں کھولی تو اس کا طرز بیاں اپنی شہرہ آفاق شعلہ بیانی سے کوسوں دور تھا، اس دن اس مقرر نے اپنے دل کا حال ایسے بیاں کیا جیسے کوئی کیفیت اس پہ طاری ہو، اس نے کہا:

’’ ہماری جو بھی کوشش ہو، عوام کی خاطر ہو، یہ کرلیا تو سمجھو وہ کر لیا جس کے لیے یہ امت صدیوں سے بھٹکتی پھر رہی ہے’’۔

مینار پاکستان کے سائے میں اس روز بہت تقریریں ہوئیں لیکن یہ تقریر لوگوں کے دلوں کو چھو گئی اسلام کے بارے میں مغرب کے تعصبات اور افغانستان کا جہاد اس زمانے کا محبوب موضوع تھا لیکن اس شخص نے زمانے کے چلن سے ہٹ کر ایک نیا خیال پیش کیا کہ طاقت محض بندوق اور اس کی گولی میں نہیں بلکہ قومی خزانے میں ہے جس کی مددسے لوگوں کی زندگی آسان بنائی جا سکے۔

رجب طیب ایردوان استنبول کے مئیر بنے تو یہ شہر ہمارے کراچی کی طرح بے یار و مدد گار اور اہل اقتدار کی عدم توجہی کا شاہکار تھا، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر پڑے رہتے جو آتے جاتوں کو منہ لپیٹ کر چلنے پر مجبور کرتے اور ان کے جسم و جاں کے لیے مسائل پیدا کرتے۔ مشہور تھا کہ سفید قمیص پہن کر شہر میں جاؤ تو اپنی ضمانت پر جاؤ۔ بیکریوں کے سامنے لوگوں کی قطاریں لگی رہتیں مگر وہ روٹی سے محروم رہتے اور بیمار دواخانوں پر ہجوم کیے رکھتے مگر صحت ان کی قسمت میں کم ہی ہوتی۔ کہیں جانے کے لیے لوگ وقت سے کہیں پہلے گھروں سے نکلتے مگر اکثر تاخیر سے بھی منزل پر پہنچ نہ پاتے۔ برس ہا برس سے استنبول کے ایسے ہی شب و روز تھے، شہر کے حکمراں بدلتے ضرور مگر شہر والوں کی قسمت کبھی نہ بدلتی۔ کچھ اس طرح کے حالات تھے جن میں رجب طیب ایردوآن مئیر منتخب ہوئے اور دہائیوں سے ناسور کی طرح بدبو دیتے ہوئے مسائل سے نمٹنے میں مصروف ہو گئے۔

مسائل پرانے بھی تھے اور پیچیدہ بھی مگر ان کے اندازِ کار سے پتہ چلا کہ بہت سوچ سمجھ کر انھوں نے یہ ذمہ داری قبول کی ہو گی اور اس کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے وہ پہلے سے ہی تیار تھے۔ یہ طرز عمل آگے چل کر ان کے بہت کام آیا۔ میئر بننے کے بعد وہ دفتر کے ہو کر ہی نہیں رہ گئے، ان کا بیشتر وقت دفتر سے باہر گزرتا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ وہ گھر سے نکل کر کسی ایسی جگہ جا پہنچتے جو کسی کے سان گمان میں بھی نہ ہوتی۔ اپنے اسی معمول کے تحت ایک روز وہ ایوپ سلطان ( حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مزار کا علاقہ) کی طرف جا نکلے جس کے قریب ہی ایک مقام پر گندگی کے بڑے بڑے ڈھیر پڑے رہتے تھے۔ میئر کو اس طرف جاتا دیکھ کر عملے کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، کسی نے کہا:

اے فندم! گٹ مک اچن یاشک تر(Efendim, oraya gitmek yasaktir

یعنی سر!اس طرف جانا مناسب نہیں)

’’اسی لیے تو میں وہاں جانا چاہتا ہوں‘‘

میئر نے بلا تامل جواب دیا۔

’’سر، گندگی اور بدبوکے سبب وہاں ذرا سی دیر رکنا بھی مشکل ہو گا‘‘

’’لیکن ہزاروں لوگ وہاں رہتے ہیں‘‘

مشورہ دینے والا لاجواب ہو گیا۔ اس روز شام سے پہلے پہلے یہ جگہ صاف ہو گئی اس کے بعد شہرکے بہت سے دوسرے علاقے بھی آئینے کی طرح چمکنے لگے۔ اپنی اس کامیابی پر وہ مسرور تھے اور شہر والے بھی:

’’بو ہا ریکا ‘‘(bu harika یعنی یہ تو کمال ہو گیا)۔

لوگ عام طور پر کہا کرتے لیکن انکے ذہن میں ابھی ایک منصوبہ اور بھی تھا۔ ایک روز büyüksehir belediyesi (یعنی میٹرو پولیٹن میونسپلٹی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بڑے دکھ کے ساتھ انھوں نے کہا: ’’لوگ ہماری تعریف کرتے ہیں کہ شہر صاف ہو گیا مگر خرابی کی ایک جڑ تو اب بھی موجود ہے‘‘۔

یہ ایک نئی مہم کی ابتدا تھی جس کا مقصد شہر کو آلودگی سے پاک کرنا تھا۔ انھوں نے کہا: ’’ میں چاہتا ہوں، دنیا کے جدید شہروں کی طرح میرا شہر بھی پھول پودوں کی خوشبو سے مہکنے لگے‘‘۔

استنبول میں صدیوں پرانے بڑے خوب صورت درخت پائے جاتے ہیں لیکن آلودگی کے سبب ان درختوں کا حسن ماند پڑ چکا تھا اور دن پر دن وہ کمزور ہوئے جاتے تھے لہٰذا ایک جامع منصوبے کے تحت پرانے درختوں کو تحفظ دیا گیا اور ایک خیال (Theme) کے تحت نئے درخت لگائے گئے۔ اگلے چند ہی برسوں میں شہر کا حلیہ بدل گیا، فٹ پاتھ پرچلنے والے لوگوں کو سایہ بھی میسر آ گیا اورصاف ستھرا ماحول بھی لیکن مئیر صاحب شاید اب بھی مطمئن نہ تھے۔ ایک روز ائیر پورٹ کے راستے میں ایک ایسے موڑ پر انھوں نے گاڑی رکوا دی جہاں سامنے سے ڈھلوان کی طرح اترتی ہوئی ایک پہاڑی پراگا ہوا گھاس پھوس راہ چلتوں کو متوجہ کرتا تھا۔ مئیر صاحب کچھ دیر وہاں کھڑے یہ منظر دیکھتے اور کچھ سوچتے رہے پھر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔

یہ ایک نئی مہم کی ابتدا تھی جس کے نتیجے میں یہ جگہ ایک نیا اور دل خوش کن منظر پیش کرنے لگی۔ مٹی اور پتھرکی اس دیو ہیکل چٹان پر اس ترتیب سے پھول پودے لگائے گئے کہ لوگوں کو دور ہی سے مولانا روم کا درویش محو رقص نظر آتا۔ دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں ثقافتی مظاہر کی نمائش کے لیے ہورڈنگ اور بل بورڈ لگائے جاتے ہیں مگر یہاں یہ کام پھول بوٹوں سے لیا گیا جس سے شہر والوں کی خوش ذوقی کا اظہار ہوا، ترک شناخت نمایاں ہوئی اور ماحول دوستی کا حق بھی ادا ہو گیا۔ آئندہ چند برسوں کے دوران یہ شہر جس میں کبھی خاک اڑا کرتی تھی، اس طرح کے دل کو موہ لینے والے مناظر سے بھر گیا۔ یہ مرحلہ طے ہوا تو ایک روز مئیر نے کہا:

’’یہ جوشہر کی سڑکوں اور ان کے بیچ خالی قطعوں (Dividers) میں خاک اڑتی نظر آتی ہے،مجھے پسند نہیں‘‘

’’پھر؟‘‘

کئی سوالیہ آوازیں ایک ساتھ ابھریں تو مئیر نے کہا:

’’انھیں پھولوں سے بھر دیا جائے‘‘۔

’’مگر کس پھول سے؟‘‘

یہ سوال اٹھا تو بحث کا دروازہ کھل گیا لیکن ایردوآن نے چند لفظوں میں موضوع سمیٹ دیا، انھوں نے کہا:

’’تمھارا خیال لالے(lale یعنی ٹیولپ کے پھول) کی طرف کیوں نہیں جاتا؟‘‘

’’لالے؟‘‘

کسی نے حیرت سے کہا تو انھوں نے کہا کہ ہاں لالے جو ہماری تہذیب کا نمائندہ، آبا واجداد کی نشانی اور مشرق اور مغرب کے درمیان ثقافت کا سفیر ہے۔ ایردوآن کے فیصلوں میں تاریخ، ثقافت اور تہذیبی شعور کی جھلکیاں ہمیشہ ایسے نظر آتیں جیسے انگشتری میں نگینہ۔ آج جب کوئی اجنبی استنبول میں داخل ہوتا ہے تو لالے یعنی ٹیولپ کے رنگا رنگ حسن میں ڈوب ڈوب جاتا ہے۔ پروفیسر نجم الدین اربکان کی حکومت کے خاتمے کے بعد رفاہ پارٹی سخت آزمائش میں تھی، کارکن پریشان تھے اور کسی قدر بے حوصلہ، اس موقع پر طیب ایردوآن نتائج کی پروا نہ کرتے ہوئے میدان عمل میں کودے۔ یہ بالکل اسی زمانے کی بات ہے جب انھوں نے اپنی تقریر میں ایک نظم پڑھی جس میں انھوں نے مساجد کو چھاونی، گنبدوں کو خود (Helmet) اور میناروں کو اسلحہ قرار دیا تھا۔ اس نظم نے گویا بھس کو چنگاری دکھا دی اور ان کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کر کے عمر بھر کے لیے انھیں کسی سرکاری منصب کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ ’’اب یہ شخص کبھی کسی قصبے کا مئیر بھی بن سکے تو جانیں!‘‘

طیب ایردوآن کے مستقبل کے بارے میں یہ بات زبان زدعام تھی لیکن اس شخص کے ذہن میں تو ایک اور ہی منصوبہ تھا۔ انھوں نے اپنی متنازع تقریر میں مسجدوں اور میناروں کی بات کر کے صرف سلطنت عثمانیہ کی یاد تازہ نہ کی تھی بلکہ نظریاتی طور پر اپنے ہم خیال لوگوں کے سامنے ایک نیا نظریہ بھی پیش کیا تھا تا کہ مذہب اورسیکیولرزم کی بحث سے آگے بڑھ کر ملک کو ترقی کی منزل کی جانب گامزن کیا جاسکے مگر یہ بات ایسی ہے جسے ان کے ناقدوں نے نظر انداز کر دیا۔ طیب ایردوآن کا یہ نظریہ ترکی کے مخصوص سیاسی پس منظر سے ہی مختلف نہ تھا بلکہ یہ زاویہ نگاہ ان کے اپنے قائد اور استاد پروفیسر نجم الدین اربکان کی سیاسی حکمت عملی سے بھی ایک جرات مندانہ اختلاف تھا۔اس نئے سیاسی تصور کوسمجھنے کے لیے اسلامی تحریکوں کے ذہن کو سمجھنا ضروری ہے ۔

جس کے تحت مغرب کو مسائل کی جڑ قرار دے کر اس کے خلاف توپوں کے دہانے کھول دیے جاتے ہیں جس کے سبب اسلام اور مغرب کے درمیان کشیدگی کا ایسا شور اٹھ جاتا ہے جس میں اعتدال کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔ ایردوآن نے فرد کے لیے عقیدے،عبادت اور رسم و رواج (ترکی کے پس منظر میں حجاب یعنی اسکارف پابندی) کی آزادی کے مغربی تصورات کی تحسین کی اور کہا کہ اپنی قومی ترقی کے لیے کیوں نہ ہم بھی یہی حکمت عملی اختیار کریں۔ ترکی کے دائیں بازو یا یوں کہیے کہ خود ان کی اپنی جماعت (رفاہ پارٹی) نے اس تصور کو مسترد کر دیا لیکن ان کا ساتھ دینے والے بھی کم نہ تھے جن میں سابق صدر عبداللہ گل اور سابق وزیر اعظم احمت داؤد اولو موجودہ رکن پارلیمنٹ برہان کیاترک سمیت کئی اہم قائدین شامل تھے۔

اسلام اور سیکیولرزم کے حوالے سے ترکی کے مخصوص ماحول میں یہ اعتدال کی راہ تھی جسے بھرپور پزیرائی ملی کیوں کہ ماضی میں مغربی سیکیولرزم کو مثالی قراردینے کے باوجود فرد کی رائے اور خواہش کو نظر انداز کردیا جاتا تھا لیکن ایردوآن نے اسی مغربی تصور کو کامیابی کے ساتھ عام آدمی کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا دیا۔ گویا طیب ایردوآن ایک کامیاب سیاست دان ہی نہیں ذہین نظریہ ساز بھی ہیں جس کے سبب ان کی نوزائدہ جماعت اقتدار کے ایوانوں میں ہی نہیں جا پہنچی بلکہ عوامی حمایت کے زور پر ان کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں بھی دم توڑ گئیں اور عوام نے ہر بار پہلے سے زیادہ ووٹ دے کر انھیں منتخب کیا۔ یہاں تک کہ ریفرنڈم میں ان کی حمایت کر کے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بھی بدل دیا۔

نظریاتی سیاست میں اکثر ہوتا ہے کہ کسی سیاست داں نے کوئی نیا تصور پیش کیا اور اقتدار کے دروازے اس پر کھل گئے لیکن اس مقبولیت کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا، طیب ایردوآن نے یہ مشکل کام بھی آسانی کے ساتھ کر دکھایا۔ اقتدار میں آنے کے بعد طیب ایردوآن نے نہایت منظم طریقے سے کام کا آغاز کیا۔ اپنی پرانی عادت کے مطابق ایک روز وہ دفتر جانے کی بہ جائے شہر کے مضافات میں جا نکلے اور ایک نشیبی علاقے کی پسماندہ بستی میں پہنچ کر لوگوں سے پوچھا:

’’بو یور دستنی اولان؟‘‘(Bu yor distiny olan یعنی کیا یہی تمھاری قسمت ہے؟)

پھر کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ غریب آبادیوں کے حالات بدلیں اور ایسے علاقوں کے لوگ بھی پرآسائش زندگی بسر کریں۔ ان کے ذہن میں مضافات میں عظیم الشان رہائشی عمارتوں کا ایک منصوبہ جنم لے چکا تھا۔ تیسری دنیا کے ملکوں میں قبضہ مافیا اسی طرح غریب آبادیوں پر قبضہ کرکے انھیں بے دخل کیا کرتی ہے، اس منصوبے پر بھی شک و شبہے کا اظہار کیا گیا لیکن ایردوآن کی ساکھ یہاں بھی کام آئی ہے۔ پہلے ایک رہائشی منصوبہ پروان چڑھا پھر دوسرا، اس کے بعد ایسے کامیاب منصوبوں کی قطار لگ گئی،غریب ترکوں کو اعلیٰ معیار کی رہائش ہی میسر نہیں آئی بلکہ ایسے علاقوں کے باسیوں کو روزگار کے بہتر مواقع بھی میسر آگئے۔

اسی طرح ایک جامع حکمت عملی کے تحت انھوں نے ملک کے دور دراز علاقوں میں تعلیم، صحت اور روز گار کی فراہمی کے منصوبوں کا جال بچھا دیا۔ قومی سیاست میں یہ ایک انقلابی تبدیلی تھی جس کے نتیجے میں ملک کی معیشت نے بھی تیزی سے ترقی کی۔ اس سے قبل قومی وسائل سے بڑے بڑے شہروں اور ان میں بھی مراعات یافتہ طبقہ ہی مستفید ہوا کرتا تھا۔ ایردوآن کی پالیسی نے قومی سیاست کارخ ہی بدل دیا،یوں ان کی مقبولیت میں اضافے کی ایسی تاریخ رقم ہوئی جس کی مثال نہیں ملتی۔

جولائی 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کے پس منظر میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ طیب ایردوآن اور فوج ایک دوسرے کے مدمقابل آکھڑے ہوئے تھے لیکن ایک متوازی خیال یہ بھی ہے کہ فوج اور طیب ایردوآن تو شانہ بہ شانہ کھڑے تھے، اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا وہ جیل میں نہ ہوتے؟ جدید ترکی میں پہلی بار یہ دیکھنے میں آیا کہ عوام، حکومت اور فوج کے مفادات میں یکسانیت پیدا ہوئی جس کے سبب فوج نے بھی باغیوں کو مسترد کیا اور عوام نے بھی۔ اس کارنامے کا کریڈٹ اسی شخص کو جاتا ہے جس نے ایک شام آبنائے باسفورس سے لوٹتے ہوئے ملک کی قسمت بدلنے کا خواب دیکھا تھا۔

کیا میڈیا کچھ چھپا رہا ہے؟

  جب میں کہتا تھا کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول نہ کیا گیا تو شرانگیزی، فتنہ و فساد بڑھے گا تو free speech اور آزادی رائے کے چیمپئین مجھے کوستے تھے اور کہتے تھے کہ کسی کی سوچ پر تالے کیسے ڈالے جا سکتے ہیں۔ کہا جاتا تھا کہ اگر mainstream میڈیا میں کھل کر بات نہیں ہو سکتی تو کم از کم سوشل میڈیا پر تو کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی جانی چاہیے۔ مردان واقعہ اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ایم بی بی ایس کی طالبہ (جس نے داعش میں شمولیت اختیار کر کے خودکش حملہ کرنا تھا) کے پکڑے جانے کے بعد کیے گئے انکشافات نے آزادی رائے کے چیمپئنز کو عجیب مخمسہ میں ڈال دیا۔ ان بچاروں کو سمجھ نہیں آتی کیا کریں۔ لے دے کر اب سارا ملبہ مرحوم ضیاء الحق پر ڈال کر ہی اپنا دل خوش کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں اس سے دوسروں کو بے وقوف بھی بنایا جا سکتا ہے۔

لیکن اب free speech اور free thought کی بات کرنے والے بھی میڈیا اور سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ابھی دو دن پہلے امریکا میں ایک شخص نے اپنے کسی عزیز کو قتل کیا اُس کی وڈیو بنائی اور اُسے فیس بک پر لوڈ کر دیا۔ اس واقعہ پر امریکا و یورپ میں شور اٹھا اور متعلقہ وڈیو کو بلاک کر دیا گیا جبکہ فیس بک کی انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا کہ فیس بک کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کچھ نہ کچھ اب کرنا ہو گا۔ افسوس کہ یہی امریکا اور یہی یورپ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام مخالف فتنہ انگیزی جو کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بن چکی ہے اُسے آزادی رائے اور free speech کے بہانے تحفظ دیتے ہیں۔ البتہ آجکل امریکا و یورپ کی اس نام نہاد آزادی رائے سے مرعوب ہمارے کچھ دیسی لبرل کنفیوژڈ نظر آتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ hate speech پر پابندی لگائو تو کوئی مطالبہ کر رہا ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے توہین مذہب کے جھوٹے الزامات لگانے کے رجحانات کو نہ صرف سختی سے روکا جائے بلکہ ایسا کرنے والوں کو بھی کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔

جب حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی طرف سے سوشل میڈیا کو توہین مذہب سے متعلق مواد سے پاک کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے تو اس مخصوص طبقہ نے ان اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے یا تو مکمل خاموشی اختیار کی یا حوصلہ شکنی کی باتیں کی۔ حالیہ واقعات کے بعد اب یہی طبقہ میڈیا اور سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی سے تنگ دکھائی دے رہا ہے اور اس فکر میں لاحق ہے کہ نوجوانوں کو غلط راستے پر چلنے سے کیسے روکا جائے۔ سوشل میڈیا کی فتنہ انگیزی اور انتشار کی تو کوئی حد ہی نہیں ہمارے کچھ لبرل اور سیکولر دوست میڈیا اور سوشل میڈیا کی فتنہ انگیزی کے معاملہ میں selective ہیں۔ لیکن یہ معاملہ selective approach سے حل نہیں ہو گا۔

اگر میڈیا اور سوشل میڈیا کو فتنہ بازی، شر انگیزی سے روکنا ہے تو پھر اس کے لیے ان ذرائع ابلاغ کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ریاست کو ضروری اقدامات کرنے ہوں گے جس کا ساتھ ہم سب کو دینا ہو گا۔ ایک مربوط لائحہ عمل کے تحت سختی سے توہین مذہب سے متعلقہ ہر قسم کے مواد کو روکنا ہو گا کیوں کہ گستاخانہ مواد فتنہ اور شر کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اسی طرح توہین مذہب کے جھوٹے الزامات کے لیے بھی میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال سے سختی سے روکا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسا مواد جو ہمارے بچوں کو دہشتگردوں کی طرف راغب کرے یا اُن کے اخلاق، کردار کو تباہ کرے اور انہیں فحاشی و عریانیت کے راستے پر چلانے کا ذریعہ بنے تو اُسے بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر روکا جانا چاہیے۔

انصار عباسی

کیا ٹیکنالوجی نے ملازمتیں ختم کر دیں ؟

ٹیکنالوجی کو عام طور پر اچھا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی مدد سے کام تیز اور کم افرادی قوت کے بل بوتے پر ممکن ہوتا ہے۔ یہ ملازمتوں پر اثر انداز بھی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں نچلے 50 فیصد ملازمین کی حقیقی آمدنی میں 1999ء سے مجموعی طور پر کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا ۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اجرتیں نہیں بڑھیں بلکہ ہوا یہ کہ ان میں اور مہنگائی میں اضافے کا تناسب ایک جیسا رہا۔ اس کی بہت سی وجوہ ہیں۔ کچھ ماہرین کے خیال میں ٹیکنالوجی اس کا سب سے بڑا سبب ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے کتنا تیار ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے افرادی قوت پر اثرات کے بارے میں ایک تحقیق کی گئی جس سے پتا چلا کہ کم و بیش ہر شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متاثر ہو گا۔ مثال کے طور پر عین ممکن ہے کہ کاروں، ٹرکوں اور بسوں کو چلانے کے لیے ڈرائیوروں کی ضرورت نہ رہے کیونکہ وہ خود کار ہو جائیں گی۔ اسی طرح تعلیم کے لیے اساتذہ اور سٹاف کی ضرورت کم ہو جائے گی کیوں آن لائن علم اور ڈگری حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کوایک نیا انقلاب کہا جاتا ہے لیکن تیز رفتا تبدیلیوں کے بارے میں پالیسی سازوں کے پاس اعدا د و شمار کی کمی ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلیوں سے کون سی ملازمتیں پیدا ہونے جا رہی ہیں اور کون سی ختم۔ اس کا ایک نتیجہ بے روزگاری کی صورت میں نکلتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی کے مطابق مہارتیں رکھنے والے افراد کی کمی ہو جاتی ہے اور جن ملازمتوں سے ان کے اخراج کا امکان ہوتا ہے اس کا متبادل بروقت تلاش نہیں کیا جاتا۔

پرانی ملازمتوں کے خاتمے اور نئی کے امکانات کے بارے میں تحقیق اور اعدادوشمار کم ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں اطلاعات کا سیلاب آیا ہوا ہے لیکن ان میں مطلوبہ معلومات نہیں ملتیں۔ کچھ بڑی کمپنیوں کے پاس اس بارے میں بہت سا ڈیٹا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایمازون اور نیٹ فلکس اپنی مصنوعات کی فروخت سے نئے رجحانات کا پتا لگاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ کیا چاہ رہے ہیں اور انہیں کیا کرنا چاہیے۔ لیکن ان اعداوشمار تک عام رسائی نہیں ہوتی اور نہ حکومتی پالیسی ساز اس بارے میں جان سکتے ہیں۔ اسی طرح جو ویب سائٹس ملازمتوں کی آفرز کے لیے بنائی جاتی ہیں ان کے پاس بھی نئے رجحانات اور ملازمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا اچھا خاصا ڈیٹا ہوتا ہے۔

انہیں پتا ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کن شعبوں کے طالبہ کے لیے کون سی ملازمتیں میسر ہیں۔ ان کے اعدادوشمار سے پالیسی ساز معلوم کر سکتے ہیں کہ کالج اور یونیورسٹی میں بدلتی ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھ کر کن نئے شعبوں کو متعارف کروانے کی ضرورت ہو گی۔ مثال کے طور پر پاکستان میں چند سال قبل تک ٹی وی پروڈکشن کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی لیکن اب متعدد کورسز متعارف کروائے گئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹی وی چینلز کے آنے کے بعد ایسا کیا گیا حالانکہ اسے پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے ثمرات سے زیادہ سے زیادہ افراد فائدہ اٹھائیں۔ اگر اس سے ملازمتیں ختم ہوتی جائیں اور بے روزگاری بڑھ جائے تو جرائم اور دیگر سماجی برائیاں پیدا ہوں گی۔

رضوان مسعود

ہمارا نظام بینکاری بھی گیم چینجر ہو سکتا ہے؟ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

پچھلی کئی دہائیوں سے مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے پاکستان میں قومی بچتوں کی شرحیں انتہائی پست رہی ہیں جبکہ گزشتہ 13 برسوں میں یہ شرح مزید گری ہے۔ مالی سال 2002-3ء میں بچتوں کی شرح 20.8 فیصد تھی جو 2015-16ء میں گر کر 14.3 فیصد رہ گئی۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ چین میں قومی بچتوں کا تناسب 46 فیصد، تھائی لینڈ میں 33 فیصد، بھارت میں 31 فیصد اور بنگلہ دیش میں 28 فیصد ہے۔ فوجی حکومت کے دور میں 2002ء اور 2004ء میں حکومتی شعبے کے دو بڑے بینکوں کو نجکاری کے نام پر غیر ملکیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بینکوں نے اجارہ داری قائم کر کے نفع و نقصان میں شراکت کی بنیاد پر لئے گئے کھاتے داروں کو اپنے منافع میں شریک کرنے کے بجائے ان کو دی جانے والی شرح منافع میں کٹوتی کر کے اپنا منافع بڑھانا شروع کر دیا۔ چند حقائق پیش ہیں:۔

(1) 1999ء میں بینکوں کا ٹیکس سے قبل مجموعی منافع 7؍ارب روپے تھا جبکہ بینکوں نے بچت کھاتے داروں کو اوسطاً 7 فیصد سالانہ منافع دیا تھا۔

(2) 2009ء میں 81؍ ارب روپے کا منافع ہوا مگر شرح منافع 5.1 فیصد رہی۔

(3) 2013ء میں منافع 162؍ارب روپے مگر شرح منافع 6.5 فیصد رہی۔

(4) 2016ء میں منافع 314؍ ارب روپے مگر شرح منافع 3.75 فیصد رہی۔

فرینڈز آف پاکستان کے 26؍ستمبر 2008ء کے اعلامیہ کے تحت آئی ایم ایف نے تباہ کن شرائط پر نومبر 2008ء میں پاکستان کے لئے 7.6؍ارب ڈالر کا قرضہ منظور کیا۔ اس کے فوراً بعد بینکوں نے گٹھ جوڑ کرکے صنعت، تجارت، زراعت اور برآمدات وغیرہ کے لئے بڑے پیمانے پر قرضے فراہم کرنے کے اپنے اصل کام کو جاری رکھنے کے بجائے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے حکومت کو بڑے پیمانے پر قرضے دینا شروع کر دئیے۔ اس فیصلے سے بھی معیشت کی شرح نمو متاثر ہوئی، روزگار کے کم مواقع میسر آئے، قومی بچتوں کی شرح گری اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ آگے چل کر اس بات کے شواہد اور زیادہ واضح ہو گئے کہ اس تباہ کن پالیسی کو آئی ایم ایف کی آشیر باد حاصل تھی جس سے بینکوں کا منافع تو یقیناً بڑھا مگر معیشت کو نقصان پہنچا۔ بینکوں کے مجموعی قرضوں اور مجموعی سرمایہ کاری کا تقابلی جائزہ نذر قارئین ہے:

(ارب روپے)

2008ء

2016ء

اضافہ

مجموعی سرمایہ کاری

1087

7509

6422

مجموعی قرضے

3173

5499

2326

مندرجہ بالا اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ 8؍ برسوں میں بینکوں کے مجموعی قرضوں میں صرف 2326؍ ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ سرمایہ کاری میں اضافے کا حجم 6422؍ ارب روپے رہا۔ واضح رہے کہ اسی مدت میں بینکوں کے ڈپازٹس میں 8186؍ ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔ اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ حکومت کو دئیے گئے قرضوں پر مشتمل تھا جو ٹیکسوں کی بڑے پیمانے پر چوری ہونے دینے سے پیدا ہونے والے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے دئیے گئے تھے۔ اس قسم کے تباہ کن فیصلے کی پاکستان تو کیا دنیا بھر میں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں جو پریشان کن پیش رفت شعبہ بینکاری میں ہوئی ہیں ان میں سے دو یہ ہیں:

(1) مارچ 2017ء میں شائع ہونے والے سندھ بینک کے سالانہ گوشواروں سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت سندھ کی ملکیت اور زیرانتظام سندھ بینک حیران کن طور پر زبردست مشکلات اور نقصان کا شکار نجی شعبے کے ’’سمٹ بینک‘‘ کو خرید کر اپنے اندر ضم کرنے کے لئے پرتول رہا ہے۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو اس سے صوبہ سندھ اور اس کے عوام کا نقصان ہو گا اور اس کا فائدہ سمٹ بینک کے مالکان کو ہو گا جن کے دور میں سمٹ بینک کو زبردست نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سمٹ بینک پہلے پاکستان میں بنگلہ دیش کا روپالی بینک تھا۔ یہ بینک بعد میں عارف حبیب بینک بنا اور پھر پیپلز پارٹی کے دور میں اکتوبر 2010ء میں اس وقت کی وفاقی حکومت کی آشیر باد اور اسٹیٹ بینک کی منظوری سے اس بینک کے اکثریتی حصص ماریشس کی ایک پارٹی کے حوالے کر دئیے گئے اور اس طرح سمٹ بینک معرض وجود میں آیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد پاکستان میں بینک گاجر مولی کی طرح فروخت ہو رہے تھے چنانچہ مائی بینک اور اٹلس بینک بھی سمٹ بینک میں ضم ہو گئے۔ یہ بات بھی نوٹ کرنا اہم ہے کہ سندھ بھر میں سمٹ بینک کی شاخوں کی تعداد سے کہیں زیادہ اس بینک کی شاخیں ملک کے دوسرے صوبوں میں ہیں اور اس کی شاخوں، قرضوں اور پھنسے ہوئے قرضوں کا حجم سندھ بینک سے کہیں زیادہ ہے۔ سندھ بینک کو حکومتی شعبے میں قائم کرنے کا بنیادی مقصد صوبہ سندھ کی معیشت کی ترقی اور صوبے کے عوام کو بینکاری کی خدمات فراہم کر کے ان کی حالت بہتر بنانا ہے چنانچہ اس بات کا کوئی جواز نہیں ہے کہ سندھ کے مالی وسائل سمٹ بینک کے ’’نجاتی پیکیج‘‘ پر صرف کئے جائیں۔

(2) یہ بات حیرت سے پڑھی جائے گی کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے حکومتی شعبے کے فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کی سفارش اس بنیاد پر کی ہے اس کی کارکردگی ناقص ہے۔ فرسٹ ویمن بینک دنیا کا واحد ویمن بینک ہے اور اس کی شاخوں کی تعداد صرف 42 ہے۔ قائمہ کمیٹی کی یہ سفارش بنیادی حقائق کا ادراک کئے بغیر کی گئی ہے۔ فرسٹ ویمن بینک حکومتی شعبے میں رہتے ہوئے ملک کی لاکھوں خواتین کا ملک کی معاشی ترقی میں کردار بڑھانے اور ان کو ہنرمند بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ فرسٹ ویمن بینک کی خراب کارکردگی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے وفاقی حکومت نے وعدہ کرنے کے باوجود اس بینک کو 500 ملین روپے کا سرمایہ فراہم نہیں کیا حالانکہ اسٹیٹ بینک نے کسب بینک کو بینک اسلامی کے ہاتھ نہ صرف ایک ہزار روپے میں فروخت کیا بلکہ بینک اسلامی کو لمبی مدت کے لئے 20؍ ارب روپے کا سرمایہ بھی فراہم کیا۔ یہ فیصلہ متنازع اور غیر شفاف تھا۔ اگر کسب بینک ملک میں کام کرنے والے کسی بڑے بینک کو فروخت کیا جاتا تو بہتر قیمت ملتی اور اسٹیٹ بینک کو سرمایہ فراہم کرنے کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔

آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر نے اکتوبر 2016ء میں کہا تھا کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں خواتین کا کردار گیم چینجر ہو سکتا ہے۔ اگر ملک کے تیسرے بڑے بینک یونائیٹڈ بینک میں ایک خاتون کو صدر مقرر کیا جا سکتا ہے تو فرسٹ ویمن بینک میں بھی کسی لائق اور تجربہ کار خاتون بینکار کو صدر مقرر کیا جا سکتا ہے۔ انہیں ذمہ داری دی جائے کہ دسمبر 2018ء تک فرسٹ ویمن بینک کی ملک بھر میں 300 مزید شاخیں کھولی جائیں اور خواتین کو ہنرمند بنانے کے لئے ٹریننگ پروگرام شروع کئے جائیں۔ حکومت کو اس بینک کو مرحلہ وار چند ارب روپے کا سرمایہ بھی فراہم کرنا ہو گا اور خواتین کے لئے بڑے پیمانے پر ووکیشنل ٹریننگ کی رفتار تیز کرنا ہو گی۔ سندھ بینک کے لئے بھی موقع ہے کہ سمٹ بینک میں اپنا سرمایہ لگانے کے بجائے بے نظیر شہید کے وژن کی روشنی میں قائم کئے گئے فرسٹ ویمن بینک کی تیز رفتار ترقی کے لئے کردار ادا کرے۔

اگر مندرجہ بالا گزارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور سی پیک منصوبے سے رونما ہونے والے سنہری مواقع سے استفادہ کرنے کے لئے شعبہ بینکاری میں بھی بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی جائیں تو بینکاری کا شعبہ بھی جس کے مجموعی ڈپازٹس کا حجم 11؍ ہزار ارب روپے سے زائد ہے، یقیناً گیم چینجر ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

What are the Panama Papers?

A huge leak of documents has lifted the lid on how the rich and powerful use tax havens to hide their wealth. The files were leaked from one of the world’s most secretive companies, a Panamanian law firm called Mossack Fonseca.
What are the Panama Papers?
The files show how Mossack Fonseca clients were able to launder money, dodge sanctions and avoid tax. In one case, the company offered an American millionaire fake ownership records to hide money from the authorities. This is in direct breach of international regulations designed to stop money laundering and tax evasion. It is the biggest leak in history, dwarfing the data released by the Wikileaks organisation in 2010. For context, if the amount of data released by Wikileaks was equivalent to the population of San Francisco, the amount of data released in the Panama Papers is the equivalent to that of India. You can find our special report on the revelations here.
Who is in the papers?
There are links to 12 current or former heads of state and government in the data, including dictators accused of looting their own countries. More than 60 relatives and associates of heads of state and other politicians are also implicated. The files also reveal a suspected billion-dollar money laundering ring involving close associates of Russia’s President, Vladimir Putin.  Also mentioned are the brother-in-law of China’s President Xi Jinping; Ukraine President Petro Poroshenko; Argentina President Mauricio Macri; the late father of UK Prime Minister David Cameron and three of the four children of Pakistan’s Prime Minister Nawaz Sharif. The documents show that Iceland’s Prime Minister, Sigmundur Gunnlaugsson, had an undeclared interest linked to his wife’s wealth. He has now resigned. The scandal also touches football’s world governing body, Fifa. Part of the documents suggest that a key member of Fifa’s ethics committee, Uruguayan lawyer Juan Pedro Damiani, and his firm provided legal assistance for at least seven offshore companies linked to a former Fifa vice-president arrested last May as part of the US inquiry into football corruption. The leak has also revealed that more than 500 banks, including their subsidiaries and branches, registered nearly 15,600 shell companies with Mossack Fonseca.  Lenders have denied allegations that they are helping clients to avoid tax by using complicated offshore arrangements. Chart showing the ten banks that requested most offshore companies for clients
How do tax havens work?
Although there are legitimate ways of using tax havens, most of what has been going on is about hiding the true owners of money, the origin of the money and avoiding paying tax on the money. Some of the main allegations centre on the creation of shell companies, that have the outward appearance of being legitimate businesses, but are just empty shells. They do nothing but manage money, while hiding who owns it. One of the media partners involved in the investigation, McClatchy.
What do those involved have to say?
Mossack Fonseca says it has operated beyond reproach for 40 years and never been accused or charged with criminal wrong-doing. Mr Putin’s spokesman Dmitry Peskov said the reports were down to “journalists and members of other organisations actively trying to discredit Putin and this country’s leadership”. Publication of the leaks may be down to “former employees of the State Department, the CIA, other security services,” he said. In an interview with a Swedish television channel, Mr Gunnlaugsson said his business affairs were above board and broke off the interview. Fifa said it is now investigating Mr Damiani, who told Reuters  that he broke off relations with the Fifa member under investigation as soon as the latter had been accused of corruption.
 Who leaked the Panama Papers?
The 11.5m documents were obtained by the German newspaper Sueddeutsche Zeitung and shared with the International Consortium of Investigative Journalists (ICIJ). The ICIJ then worked with journalists from 107 media organisations in 76 countries, including UK newspaper the Guardian, to analyse the documents over a year. The BBC does not know the identity of the source but the firm says it has been the victim of a hack from servers based abroad. In all, the details of 214,000 entities, including companies, trusts and foundations, were leaked. The information in the documents dates back to 1977, and goes up to December last year. Emails make up the largest type of document leaked, but images of contracts and passports were also released.
How can I read the papers?
So far, a searchable archive is not available at the moment. There is a huge amount of data, and much of it reportedly includes personal information (including passport details), and does not necessarily include those suspected of criminal activity. Having said that, there is plenty of information out there. The ICIJ has put together a comprehensive list of the main figures implicated here – you can also search by country. You can sign up on the ICIJ’s website for any major updates on the Panama Papers.

Panama Papers

The Panama Papers are 11.5 million leaked documents that detail financial and attorney–client information for more than 214,488 offshore entities.  The documents, which belonged to the Panamanian law firm and corporate service provider Mossack Fonseca, were leaked in 2015 by an anonymous source, some dating back to the 1970s. The leaked documents contain personal financial information about wealthy individuals and public officials that had previously been kept private. While offshore business entities are legal, reporters found that some of the Mossack Fonseca shell corporations were used for illegal purposes, including fraud, tax evasion, and evading international sanctions.

“John Doe”, the whistleblower who leaked the documents to German journalist Bastian Obermayer from the newspaper Süddeutsche Zeitung (SZ), remains anonymous, even to the journalists on the investigation. “My life is in danger”, he told them.  In a May 6 statement, John Doe cited income inequality as the reason for his action, and said he leaked the documents “simply because I understood enough about their contents to realise the scale of the injustices they described”. He added that he has never worked for any government or intelligence agency. He expressed willingness to help prosecutors if immune to prosecution. After SZ verified that the statement did come from the Panama Papers source, the International Consortium of Investigative Journalists (ICIJ) posted the full document on its website.
Because of the amount of data, SZ asked the ICIJ for help. Journalists from 107 media organizations in 80 countries analyzed documents detailing the operations of the law firm. After more than a year of analysis, the first news stories were published on April 3, 2016, along with 150 of the documents themselves. The project represents an important milestone in the use of data journalism software tools and mobile collaboration. The documents were quickly dubbed the Panama Papers. The Panamanian government strongly objects to the name; so do other entities in Panama and elsewhere. Some media outlets covering the story have used the name “Mossack Fonseca papers”.

 

In addition to the much-covered business dealings of British prime minister David Cameron and Icelandic prime minister Sigmundur Davíð Gunnlaugsson, the leaked documents also contain identity information about the shareholders and directors of 214,000 shell companies set up by Mossack Fonseca, as well as some of their financial transactions. Much of this information does not show anything more than prudent financial management. It is generally not against the law (in and of itself) to own an offshore shell company, although offshore shell companies may sometimes be used for illegalities.
The journalists on the investigative team found business transactions by many important figures in world politics, sports and art, and many of these transactions are quite legal. Since the data is incomplete, questions remain in many other cases; still others seem to clearly indicate ethical if not legal impropriety. Some disclosures – tax avoidance in very poor countries by very wealthy entities and individuals for example – lead to questions on moral grounds. According to The Namibian for instance, a shell company registered to Beny Steinmetz, Octea, owes more than $700,000 US in property taxes to the city of Koidu in Sierra Leone, and is $150 million in the red, even though its exports were more than twice that in an average month 2012–2015. Steinmetz himself has personal worth of $6 billion. Other offshore shell company transactions described in the documents do seem to have broken exchange laws, violated trade sanctions or stemmed from political corruption, according to ICIJ reporters. For example:
Uruguay has arrested five people and charged them with money-laundering through Mossack Fonseca shell companies for a Mexican drug cartel. Ouestaf, an ICIJ partner in the investigation, reported that it had discovered new evidence that Karim Wade received payments from DP World (DP). He and his long-time friend were convicted of this in a trial that the United Nations and Amnesty International said was unfair and violated the defendants’ rights. The Ouestaf article does not address the conduct of the trial, but does say that Ouestaf journalists found Mossack Fonseca documents showing payments to Wade via a DP subsidiary and a shell company registered to the friend. Named in the leak were 12 current or former world leaders, 128 other public officials and politicians, and hundreds of other members of the elites of over 200 countries.Customers may open offshore accounts for any number of reasons, some of which are entirely legal but ethically questionable. A Canadian lawyer based in Dubai noted, for example, that businesses might wish to avoid falling under Islamic inheritance jurisprudence if an owner dies. Businesses in some countries may wish to hold some of their funds in dollars also, said a Brazilian lawyer. Estate planning is another example of legal tax avoidance.

American film-maker Stanley Kubrick had an estimated personal worth of $20 million when he died in 1999, much of it invested in the 18th-century English manor he bought in 1978. He lived in that manor the rest of his life, filming scenes from The Shining, Full Metal Jacket and Eyes Wide Shut there as well. Three holding companies set up by Mossack Fonseca now own the property, and are in turn held by trusts set up for his children and grandchildren. Since Kubrick was an American living in Britain, his estate would otherwise have had to pay taxes to both governments and might have been forced to sell the property to have the liquid assets to do so. Kubrick is buried on the grounds along with one of his daughters and the rest of his family still lives there.

Source : Wikipedia

امریکہ فوجی کارروائی کا نتیجہ مکمل جنگ ہو گا – شمالی کوریا

شمالی کوریا میں اعلیٰ حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی
کشیدگی اور بین الاقوامی مذمت کے باوجود شمالی کوریا اپنے میزائل تجربے جاری رکھے گا۔ شمالی کوریا کے نائب وزیرِ خارجہ ہان سونگ ریول کا کہنا تھا کہ ’ہم ہفتہ وار، ماہانہ، اور سالانہ بنیادوں پر اپنے تجربے جاری رکھیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اس قدر غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ فوجی کارروائی کرے تو اس کا نتیجہ مکمل جنگ ہو گا۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر مائیک پینس کا کہنا تھا کہ امریکہ کا شمالی کوریا کے حوالے سے سٹریٹیجک صبر کا دور ختم ہو گیا ہے۔

وہ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل کے تجربے کے چند ہی گھنٹوں بعد جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول پہنچے تھے۔ امریکہ اور شمالی کوریا کی جانب سے شعلہ بیان بازی کے بعد کوریائی جزیرہ نما پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کے اعلیٰ سکیورٹی مشیر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر بڑھتے تناؤ کے باعث امریکہ اور چین اس حوالے سے ‘کئی تجاویز’ پر غور کر رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر مک ماسٹر نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ چین کے ساتھ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ‘یہ وہ صورتحال ہے جسے مزید نہیں بڑھنا چاہیے۔’

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین اس مسلے پر ‘ہمارے ساتھ کام کر رہا ہے۔’ چین جو کہ شمالی کوریا کا سب سے بڑا اتحادی ہے اس وقت اپنے پڑوسی ملک پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی دباؤ میں آ گیا ہے۔