سعودی عرب اور امارات میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس لگے گا

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے 2018ء میں مصنوعات اور خدمات پر 5 ؍فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ کی منصوبہ بندی کی ہے۔ سعودی عرب میں جہاں تارکین ِوطن طویل عرصے سے ٹیکس فری زندگی گزار رہے تھے حکومت کا یہ اقدام ان افراد کے لئے مالی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق ٹیکس مختلف اشیاء پر لاگو کیا جائے گا جن میں خوراک، الیکٹرونک، گیس اور کپڑوں کی مصنوعات کے ساتھ فون، پانی اور بجلی کے بلز، اور ہوٹلز کی بکنگ شامل ہیں ۔

لعربیہ ڈاٹ نیٹ

Advertisements

دنیا بھر کی آبادی کا 48 فیصد حصہ انٹرنیٹ کا صارف ہے

عالمی ادارے یونیسف نے دنیا میں انٹرنیٹ کے صارفین کے حوالے سے رپورٹ جاری کر دی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی آبادی کا 48 فیصد حصہ انٹرنیٹ کا صارف ہے جن میں 71 فیصد بچے اور نو عمر نوجوان ہیں۔ بچوں کو باخبر محفوظ اور مصروف رکھنے کے لیے ڈیجٹل تعلیم ضروری ہے نوجوانوں نے بچوں کی انٹرنیٹ تک رسائی یقینی بنانے کے لیے قانون سازی کی بھی سفارش کر دی۔
پاکستانی حکومت کے لیے بھی کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کی انٹرنیٹ تک رسائی ممکن بنانے کے انتظامات کیے جائیں، انٹرنیٹ تک رسائی نہ ہونے کی صورت میں پاکستانی نوجوان اور بچے دنیا میں موجود اپنی عمر کے بچوں سے پیچھے رہنے کا خدشہ ہے۔

ہزاروں ہیکرز ایک چھت تلے جمع

’کچھ کر گزرو‘ کے عنوان سے جاری یہ کنوینشن Chaos Computer Club کی جانب سے معنقد کیا گیا ہے، جو چار دن تک جاری رہے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ ان چار دنوں میں انٹرنيٹ پر سکیورٹی سے متعلق کمزوریوں، ہیکرز کے حملوں، ڈیٹا کی حفاظت اور مصنوعی ذہانت جیسے مضوعات زیر غور آئیں گے۔
موضوعات ہی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی مباحثے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کنوینشن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس برس Chaos Communication Congress کے چونتیسویں کنویینشن کے تمام ٹکٹس فروخت ہو چکے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ چار روز تک جاری رہنے والے اس کنوینشن میں تقریبا 15000 افراد حصہ لیں گے۔

ڈھاکہ میں نے بھی ڈوبتے دیکھا ہے

ڈھاکہ میں نے بھی ڈوبتے دیکھا ہے۔ اس دن وہ ڈھاکہ مر گیا جہاں میں نے جنم لیا تھا، جہاں میں نے کرکٹ کے پہلے اور شاید آخری سبق لیے تھے کہ اسکے بعد کبھی کرکٹ کی فرصت ہی نہ ملی۔ اس دن میرا بچپن ایسا گیا کے پھر کبھی لوٹ کر نہ آیا اور زندگی بدل گئی۔ میرا شہر مجھ سے روٹھ گیا تھا اور ایسا روٹھا کہ میرا دشمن ٹھہرایا گیا۔ میں اسوقت سیکنڈ کیپیٹل اسکول میں ساتویں جماعت کا طالبعلم تھا۔ دسمبر میں امتحانات ہونے والے تھے سو اسکی تیاری بھی تھی۔ امتحانات کے بعد مجھے انعام بھی ملنے والا تھا اور میرے استاد کاظمی صاحب نے مجھے ملنے والی کتاب دکھائی بھی تھی۔ ابھی مجھے کتاب ملنے بھی نہ پائی تھیی کہ جنگ چھڑ گئی۔

جس دن جنگ چھڑی اس دن صدر یحییٰ خان کی تقریر کے دوران ہی مجھے دکان دوڑایا گیا تا کہ میں اپنے چھوٹے بھائی کیلیے دودھ کے ڈبے لا سکوں۔ جنگ چھڑنے سے کچھ پہلے ریڈیو پاکستان ڈھاکہ پر جنرل نیازی کو یہ پڑھتے سنا تھا اور میری والدہ اکثر گنگنایا کرتی تھیں اور شائد اب بھی گنگناتی ہوں کسے معلوم۔

ان سرحدوں کی جانب کبھی نظر اٹھا کر نہ دیکھنا
کہ یاں سنتری کھڑے ہیں
یاں بدر کا ہے عالم
یاں حیدری کھڑے ہیں
بعد ازاں میں عرصہ تک ان حیدریوں کو تلاشتا رہا پر کہیں نہ ملے۔

15 دسمبر کی شام مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس شام متحدہ پاکستان کا سورج آخری مرتبہ غروب ہوا تھا۔ 16 دسمبر کو بلاخر وہ کہانی ختم ھوئی جسکی ابتدا 14 اگست 1947 کو ہوئی تھی۔ گزشتہ کئی دنوں سے ڈھاکہ طرح طرح کی افواہوں کی زد میں تھا۔ ایک طرف خبر یہ اڑی تھی کہ بھارتی نیوی کا جہاز وکرم ڈوب گیا تھا تو دوسری طرف بھارتی سپہ سالار مانیک شا کا بھارتی ریڈیو پر بار بار یہ بیان نشر ہو رہا تھا جس میں پاکستانی افواج سے کہا جا رہا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں کہ اب ان کے پاس کوئی چارہ نہیں۔

میرے والد ڈھاکہ کے سب سے بڑے اخبار مارننگ نیوز میں کامرس ایڈیٹر تھے اور انہیں کچھ کچھ اندازہ تھا کہ کیا کچھ ہونے والا ہے۔ پر سرکاری پوزیشن ’اب بھی سب ٹھیک ہے تھا اور ہم ہر جگہ دشمنوں کے دانت کھٹے کر رہے ہیں۔ جنرل راؤ فرمان علی ان ہی دنوں ایک رات مارننگ نیوز آ پہنچے اور نیوز روم میں بیٹھ کر انہوں نے دل خوش کرنے والی باتیں کیں پر وہ باتیں ہی نکلیں۔ غالباً 15 کی صبح تھی۔ میرپور گیارہ نمبر میں لال میدان کے سامنے سول آرمڈ فورسیز کا ایک نوجوان آتا نظر آیا۔ اپنی صحافتی جبلت سے مجبور ھو کر ابا نے اس نوجوان کو روکا اور اس سے محاذ کی کیفیت پوچھی۔ اسکا جواب بہت حوصلہ افزا نہ تھا۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ فوج اپنی مقدور بھر کوشش کر رہی ہے پر اب گولہ بارود کم پڑ رہا ہے۔ 16 دسمبر کی صبح خونچکاں تھی۔

میرپور کے لوگ جو بڑی حد تک اردو بولتے تھے اور جنہیں عرف عام میں بہاری یا پاکستانی کہا جاتا تھا، شہر کے دوسرے علاقوں سے ہو کر آئے تھے اور یہ کہہ رھے تھے کہ انہوں نے خود فوج کو سفید جھنڈا لہراتے جاتے دیکھا ہے۔ کوئی ماننے کو تیار نہ تھا بلکہ بعض جگہ تو ان کی پٹائی بھی ھوئی۔ پر دوپہر تک یہ حقیقت سب پر آشکار تھی۔ میں نے شام کے لمبے ہوتے ھوئے سایوں کے درمیان میرپور گیارہ نمبر کے بازار کے سامنے پیپل کے بڑے درخت کے نیچے ایک فوجی جوان کو پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا تھا اور اسکی تصویر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے گھومتی ہے۔

اسکے بعد تو دنیا ہی بدل چکی تھی۔ شہر کے جانے پہچانے لوگ چھپتے پھر رہے تھے۔ خود ہمارے گھر میں تیرہ چودہ خاندان رہ رہے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان دنوں ھمارے گھر میں ابا کے دوست اور کولیگز بھی رہ رھے تھے۔ ان میں ایڈیٹر مارننگ نیوز ایس جی ایم بدرالدین اور ایڈیٹر پاسبان مصطفی صاحب بھی تھے۔ بدرالدین چچا کا انتقال گزشتہ ماہ کراچی میں ہوا۔ انہی دنوں بھٹو صاحب کی ایک تقریر نے میرپور اور محمد پور کے باسیوں کو بڑا حوصلہ دیا۔ بھٹو نے اپنی تقریر میں مجیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ’یاد رکھنا یہ غیر بنگالی پاکستانی ھیں‘۔

مئی 72 میں ہم میرپور سے نکل کر اپنے دادا کے گھر رام کرشنا مشن روڈ آگئے۔ انہی دنوں بھٹو صاحب مشرق وسطی کے طوفانی دورے پر نکلے ہوے تھے۔ آنے کے دوسرے تیسرے روز ابا سے ملنے طاہر الدین ٹھاکر جو مجیب کی کابینہ میں انفارمیشن منسٹر بھی ہوئے تھے عوامی لیگ کے سوشل سیکریٹری مصطفی سرور اور صحافی محمد علی آئے اور اپنے ساتھ آم کا ایک بڑا ٹوکرا بھی لائے۔ میں کہہ نہیں سکتا کے اس آم کو دیکھ کر ہم تمام بھائیوں اور بہن کو کتنی خوشی ہوئی تھی کہ وہ ھمارے لیے موسم کا پہلا آم تھا۔

مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ ابا سے بغلگیر ہوتے ہوے طاہر الدین ٹھاکر نے تقریباً روتے ھوئے بنگلہ میں کہا ’ارشد بھائی آپ بھی کچھ نہیں کر سکے‘۔ یہ سوال میری سمجھ سے باہر تھا۔ عرصہ بعد میں نے بابا سے اسکی تفصیل جاننی چاہی تو اسکا جواب دل کو خون کے آنسو رلانے کو کافی تھا۔ ہر عوامی لیگی شاید پاکستان کے خاتمے کا خواہشمند نھیں تھا۔

سید راشد حسین
الخبر، سعودی عرب

’’ کلبھوشن یادیو کی بیوی نے جوتے میں کیا چھپا رکھا تھا؟‘‘

پاکستان کے دفتر خارجہ نے سزا یافتہ جاسوس کلبھوشن یادیو کی اس کی ماں اور اہلیہ کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات کے حوالے سے بھارت کی تنقید کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کی بیوی کے جوتے میں کچھ تھا اور اس کو سکیورٹی کی بنیاد پر ضبط کر لیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ یادیو کی بیوی کے جوتے میں کچھ تھا اور اب اس کی تحقیقات کی جا رہی ہے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان کو متبادل جوتا مہیا کر دیا گیا تھا اور اس کے زیورات بھی ملاقات کے بعد لوٹا دیے گئے تھے۔ اس خاتون نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ اس کو جوتے کے سوا سب کچھ واپس کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر فیصل بھارتی حکومت کے ان الزامات کا جواب دے رہے تھے کہ یادیو کی ماں اور اہلیہ کی ملاقات کے دوران میں ثقافتی اور مذہبی حساسیت کو ملحوظ نہیں رکھا گیا تھا۔ سکیورٹی کے پیشگی حفاظتی اقدامات کے تحت ان کی بے توقیری کی گئی تھی۔ بھارت کی خارجہ امور کی وزارت نے یہ شکایت کی تھی۔ لیکن دفتر خارجہ نے اس دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ’’ اگر بھارت کو فی الواقع کوئی سنجیدہ تشویش لاحق تھی تو مہمان یا بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو اس ملاقات کے فوری بعد میڈیا کے سامنے اس کا اظہار کرنا چاہیے تھا‘‘۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’ پاکستان الفاظ کی بے مقصد جنگ میں الجھنا نہیں چاہتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یادیو کی والدہ نے میڈیا کے لیے جاری کردہ بیان میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا اور اپنے بیٹے سے ملاقات کو انسانی جذبہ خیر سگالی کا مظہر قرار دیا تھا۔ اس کے سوا کسی اور چیز ضرورت نہیں تھی‘‘۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے اس کی والدہ اور بیوی کی دفتر خارجہ، اسلام آباد میں سوموار کے روز قریباً چالیس منٹ تک ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے درمیان شیشے کی دیوار حائل تھی ۔ انھوں نے انٹرکام کے ذریعے ایک دوسرے سے بات چیت کی تھی۔ اس موقع پر بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ بھی موجود تھے۔

انھوں نے پاکستان سے واپسی کے بعد نئی دہلی میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے تین گھنٹے تک طویل ملاقات کی تھی اور انھوں نے مس سوراج کو یادیو سے اپنی بات چیت کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ اس کے بعد بھارتی وزارت برائے امور خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی خوف وہراس کے ماحول میں ملاقات ہوئی تھی اور انھیں ایک دوسرے سے کھل کر بات چیت کا موقع نہیں دیا گیا حتیٰ کہ جب یادیو کی والدہ نے اس سے مادری زبان میں بات کرنے کی کوشش کی تو انھیں روک دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس کلبھوشن سدھیر یادیو کو ایک فوجی عدالت نے پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔ اس نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل کی تھی کہ اس کو سنائی گئی سزائے موت معاف کر دی جائے ۔

اس نے ایک ویڈیو بیان میں اقرار کیا تھا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسیس ونگ ( را) نے اس کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں کو اسپانسر کیا تھا۔ اس نے خاص طور پر بلوچ علاحدگی پسندوں کو تشدد پر اکسایا تھا اور بلوچستان میں فرقہ ورانہ بنیاد پر دہشت گردی کے حملوں میں بھی اسی کا ہاتھ کار فرما تھا۔ اس علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا مقصد عدم استحکام پیدا کرنا اور پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں خوف پیدا کرنا تھا۔ مسٹر یادیو کے بہ قول کراچی میں سپرنٹنڈینٹ پولیس ( ایس پی) چودھری اسلم کے قتل میں بھی را ملوث تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ بلوچستان میں پاک فوج کے ایک ذیلی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن ( ایف ڈبلیو او) کے ورکروں پر حملوں، کوئٹہ، تربت اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں بلوچ قوم پرستوں کے بارودی سرنگوں یا دھماکا خیز مواد کے ذریعے حملوں میں براہ راست را کا ہاتھ کار فرما تھا۔

اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

کیا افغانستان کو سی پیک میں شامل کیا جا سکتا ہے ؟

بیجنگ حکومت کی طرف سے پیش کردہ پاکستان چین اقتصادی راہداری میں ممکنہ طور پر افغانستان کی شمولیت کی تجویز کو پاکستان میں کئی حلقوں کی طرف سے سراہا جا رہا ہے اور اسے علاقائی استحکام کے لیے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ بیجنگ میں پاکستان، افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ ان کا ملک اور پاکستان سی پیک کو افغانستان تک بڑھا دینے کے امکان کا جائزہ لیں گے۔ چینی وزیر خارجہ کے بقول ستاون بلین ڈالر مالیت کے اس منصوبے سے پورے خطے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور مجموعی ترقی کی رفتار بھی تیز تر بنائی جا سکتی ہے۔ اس ملاقات میں پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف اور ان کے افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی شریک ہوئے۔

پاکستان میں سیاسی مبصرین نے چینی وزیر خارجہ کی اس تجویزکا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم چند تجزیہ نگاروں کے خیال میں یہ کام اتنا آسان نہیں ہو گا۔ معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے اس تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کوبتایا، ’’خطے کے تمام ممالک امن چاہتے ہیں تا کہ معاشی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔ تاہم بھارت اور امریکی عزائم ان مقاصد کے حصول میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ پاکستان خلوص کے ساتھ افغانستان سے بہتر تعلقات چاہتا ہے اور اگر انٹیلیجنس شیئرنگ اور بارڈر مینجمنٹ سے متعلق کابل حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ طے ہو جائے اور دونوں ملکوں کے باہمی معاملات میں بھی واضح بہتری آ جائے، تو افغانستان اور خطے کے دوسرے ممالک باآسانی سی پیک کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اگر کابل حکومت طویل المدتی مفادات کو پیش نظر رکھے، تو اس منصوبے میں افغانستان کی شمولیت خود اس کے لیے بھی بہت بہتر رہے گی۔ آج انہیں امریکا پیسے دے رہا ہے، لیکن کل جب ایسا نہیں ہو گا، تو پھر افغان معیشت کیسے چلے گی؟‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’خطے کے سارے ممالک تعاون چاہتے ہیں۔ بیجنگ چاہتا ہے کہ افغانستان، وسطی ایشیا، ایران اور روس بھی سی پیک سے فائدہ اٹھائیں۔ چین کا فائدہ یہ ہے کہ گوادر میں بہت زیادہ کارگو کو ہینڈل کیا جا سکتا ہے۔ جتنے زیادہ ممالک ہوں گے، چین کو اتنا ہی زیادہ فائدہ ہو گا۔ اس لیے چین نہ صرف افغانستان کو بلکہ وسطی ایشیائی ممالک کو بھی اس منصوبے کا حصہ بنانے کا خواہش مند ہے۔ افغانستان میں داعش کے آنے سے طالبان، پاکستان، ایران، روس، چین اور وسطی ایشیائی ممالک مزید قریب آ گئے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ خطے میں استحکام کے لیے مل کر کام کریں اور سی پیک کے ذریعے مشترکہ معاشی ترقی میں بھی باہمی معاونت کریں۔‘‘

دوسری طرف افغانستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے معروف تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی کے خیال میں امریکا کی شمولیت کے بغیر یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’چین نے پہلے بھی لوگر میں سرمایہ کاری کی تھی، جو تین بلین ڈالر سے زیادہ تھی۔ لیکن تانبے کی کان کنی میں اس سرمایہ کاری کے نتائج کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں نکلے، کیونکہ افغانستان میں بد امنی کی وجہ سے وہاں سرمایہ کاری کا معاملہ بہت ہی مشکل ہے۔ اس کے علاوہ چین فریاب اور شمال کے کچھ اور صوبوں میں بھی تیل اور گیس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے لیکن افغانستان میں بد امنی اس کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ یہ بدامنی اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک امریکا چین کے ساتھ تعاون نہیں کرے گا اور سردست ایسے تعاون کے امکانات نظر نہیں آتے کیونکہ ٹرمپ پہلے طالبان کو لڑائی کے ذریعے کمزرو کرنا چاہتے ہیں اور پھر کوئی بات چیت۔‘‘

رحیم اللہ یوسف زئی کے خیال میں چین پہلے مرحلے میں افغانستان اور پاکستان کو قریب لانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کابل اور اسلام آباد کے درمیان بہت سی بدگمانیاں ہیں۔ ایسے ماحول میں مذاکرات کی بات کیسے ہو سکتی ہے؟ میرے خیال میں بیجنگ پہلے اسلام آباد اور کابل کو قریب لائے گا۔ ان کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر ے گا۔ پھر کسی مرحلے پر امریکا کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔ میرے خیال میں چار ملکی مذاکراتی عمل کو مزید فعال بنانا چاہیے اور اسی کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جانا چاہیے۔ لیکن یہ سب کچھ بہت جلد نہیں ہو گا۔ اس میں بھی بہت سے مسائل پیش آئیں گے اور بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

بشکریہ DW اردو

پرانے آئی فون جان بوجھ کر سست کرنے پر ایپل کے خلاف مقدمات

حال ہی میں ایپل کمپنی نے تصدیق کی تھی کہ اس نے نئے آپریٹنگ سسٹم کے ذریعے پرانے آئی فون جان بوجھ کر سست کیے تھے۔ ایپل کے مطابق اس کا مقصد پرانے آئی فون کی بیٹری کی زندگی طویل کرنا تھا تاہم اب ایپل کو مقدمات کا سامنا ہے۔ آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل کے صارفین اور ٹیکنالوجی ماہرین کافی مدت سے اس شبے کا اظہار کر رہے تھے کہ آئی فون کے نئے ماڈل جاری کیے جانے کے بعد پرانے فون سست کر دیے جاتے ہیں۔ اس شبے کا اظہار بھی کیا جا رہا تھا کہ ایپل کے نئے فون کی فروخت میں اضافے کے لیے ایپل کمپنی جان بوجھ کر پرانے فون سست کر دیتی ہے۔

ایپل نے حال ہی میں ان خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نئے آپریٹنگ سسٹم کی مدد سے جان بوجھ کر آئی فون کے پرانے ماڈل سست کیے جاتے ہیں تاہم کمپنی نے اپنے ان اقدامات کا جواز دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا اس کا مقصد ان پرانے فونوں کی بیٹری کی مدت بڑھانا ہے۔ فون میں استعمال کی جانے والی لیتھیم آئن بیٹریوں کی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ ایپل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا، ’’ہمارا مقصد اپنے صارفین کے لیے بہترین تجربہ فراہم کرنا ہے جس میں ڈیوائسز کی مجموعی کارکردگی اور بیٹری کی مدت بڑھانا بھی شامل ہے۔‘‘ کمپنی کے مطابق سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کی مدد سے آئی فون چھ اور سات سیریز اور آئی فون ایس ای جیسے ماڈلز کی کارکردگی متاثر ہوئی تھی۔ ایپل کی وضاحت کے باوجود صارفین اسے تسلیم کرنے میں اس لیے بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں کہ اگر یہ واقعی سچ ہے تو کمپنی اس معاملے میں اتنی رازداری سے کام نہ لیتی۔ کئی امریکی ریاستوں میں آئی فون صارفین ایپل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالت سے رجوع کر چکے ہیں۔

امریکی ریاست شکاگو میں پانچ آئی فون صارفین کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں ایسے ہی شکوک و شبہات کی بنا پر کہا گیا ہے کہ ’’ایپل کی جانب سے جان بوجھ کر ڈیواسز سست کرنے کا مقصد اس فراڈ کے ذریعے صارفین کو نیا فون خریدنے پر مجبور کرنا تھا۔‘‘ ایک صارف نے یہ موقف بھی اختیار کیا ہے کہ فون سست ہونے پر اس نے کسٹمر کیئر سے بارہا رابطہ کیا لیکن کسی نے اسے یہ نہیں بتایا کہ فون کی بیٹری تبدیل کرنے سے اس کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی۔‘‘ اسی وجہ سے تنگ آ کر آخر اس نے آئی فون ایٹ خرید لیا۔ ٹیکنالوجی کی تجزیہ نگار کیرولینا میلانیسی کا کہنا ہے کہ انہیں ایپل کی جانب سے فراہم کردہ وضاحت پر کوئی شبہ نہیں ہے لیکن اگر کمپنی رازداری اختیار کرنے کی بجائے اعلانیہ ایسا کرتی تو صارفین کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچتی۔