Erdogan poses with Rouhani of Iran and Putin of Russia

Turkish President Tayyip Erdogan poses with his counterparts Hassan Rouhani of Iran and Vladimir Putin of Russia before their meeting in Ankara, Turkey.

 

 

 

 

 

Advertisements

روس نے بیلسٹک میزائل ’ شیطان 2 ‘ کا کامیاب تجربہ کر لیا

روس نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سرمت کا تجربہ کر لیا ہے اس میزائل کو نیٹو نے ’شیطان 2‘ کا نام دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس نے گزشتہ روز نیوکلیئر ٹیکنالوجی لے جانے والے بیلسٹک میزائل ’ آر ایس 28 سرمت ‘ کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے، یہ میزائل بیک وقت 24 وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کے ذریعے دنیا میں کسی بھی مقام کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ روس کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میزائل کا کامیاب تجربہ روس کے شمال مغربی علاقے آرکٹک سرکل کے نزدیک کیا گیا۔ کامیاب تجرنے کے بعد روس کے ذخیرہ ہتھیار میں ایک اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا اضافہ ہوا ہے جسے نیٹو نے شیطان 2 کا نام دیا ہے جو ایٹمی مواد اور ہتھیار کو لے جانے اور دور تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

روس کے صدر پیوٹن نے اپنے ایک خطاب میں اس میزائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ 200 ٹن وزنی جنگی ہتھیار 16 ہزار میل تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کی صلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے یہ میزائل قطب شمالی سے امریکا کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر پیوٹن نے امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد سب سے خطرناک میزائل کا تجربہ کیا ہے جسے روسی صدر سفارتی جوڑ توڑ میں بطور دباؤ استعمال کریں گے تاہم روس کی جانب سے کیے گئے میزائل تجربے سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں تیزی آئے گی۔

روس کا جوابی اقدام، 60 امریکی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

امریکہ کی جانب سے اپنے سفارتکاروں کی بے دخلی کے احکامات کے بعد روس نے بھی 60 امریکی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگی لاوروف کی جانب سے ماسکو میں متعین امریکی سفیر کو طلب کر کے سفارتکاروں کی بے دخلی کا حکم دے دیا گیا۔ روسی وزیر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ امریکی سفیر کو بتایا ہے کہ یہ اقدام روسی سفارتکاروں کی بے دخلی کا جواب ہے۔ اس کے علاوہ روس نے سینٹ پیٹرز برگ میں واقع امریکی قونصل خانے کو بند کرنے کا بھی اعلان کیا ہے.

چند روز قبل امریکہ نے برطانیہ میں رہائش پر سابق روسی جاسوس اور ان کی بیٹی پر اعصابی گیس کے حملے کے ردعمل میں 60 روسی سفارتکاروں کی بے دخلی کا حکم جاری کرتے ہوئے امریکی شہر سیئٹل میں واقع قونصل خانہ کو بند کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ امریکہ کے علاوہ کینیڈا اور کئی یورپی ممالک نے بھی روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا جس کے جواب میں روس نے بھی ہر ملک کو بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل برطانیہ نے بھی 23 روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے جواب میں روس نے بھی برطانیہ کے اتنے ہی سفارتی عملے کی بے دخلی کا حکم جاری کیا تھا۔

مغربی ممالک سے سفارت کاروں کی بے دخلیاں، پوٹن کے لیے ایک بحران

روسی صحافی کونسٹانٹین ایگرٹ کہتے ہیں کہ کریملن مغربی ممالک سے اپنی لڑائی جاری رکھے گا اور سفارت کاروں کی بے دخلی روس کو اس کے ارادوں سے باز نہیں رکھ سکے گی۔ ایگرٹ کے خیال میں پسپائی ماسکو کے لیے شکست ہو گی۔ ’’تم جھوٹے ہو‘‘، یہ وہ پیغام ہے، جو یورپی یونین، آسٹریلیا، امریکا اور کینیڈا نے روسی سفارت کاروں کو بے دخل کرتے ہوئے کریملن کو دیا ہے۔ روسی صحافی کونسٹانٹین ایگرٹ اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ اب بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں درج کر دیا جائے گا۔ ان کے بقول صدام حسین اور شمالی کوریا کے ’کِم‘ شاہی خاندان کو بھی عوامی سطح پر اس طرح کی ہزیمت نہیں اٹھانا پڑی۔ اسے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کی سیاسی اور سفارتی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ اس پوری کہانی کے دو پہلو ایسے ہیں، جنہوں نے انہیں اپنی جانب مائل کیا۔ ایک ہے کہ چھوٹی سی ریاست آئس لینڈ نے یورپی یونین کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی ماسکو کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ اس ملک کے امریکا، کینیڈا یا آسٹریلیا کی طرح برطانیہ کے ساتھ خصوصی تعلقات نہیں ہیں۔ دوسرا یہ کہ کریملن کے بہترین دوست ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان نے بھی ایک روسی سفارت کار کو بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ خوش دلی سے نہ کیا ہو تاہم اس موقع پر شاید انہوں نے اپنی اصل ترجیحات کو فوقیت دی ہے۔

کونسٹانٹین ایگرٹ لکھتے ہیں کہ یہ معاملہ ابھی یہیں تک محدود نہیں رہے گا۔ یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کہہ چکے ہیں کہ یورپی یونین کی رکن ریاستیں مزید اقدامات کر سکتی ہیں۔ یہاں پر شاید انہوں نے سلوواکیہ اور پرتگال کو مخاطب کیا ہے، جنہوں نے ابھی تک روس سفارت کاروں کو نکل جانے کے احکامات نہیں دیے ہیں۔ کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کی تنظیم کے ماہرین اس زہر کا جائزہ لے رہے ہیں، جسے سیرگئی سکریپل اور ان کی بیٹی ژولیا پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ کیمیائی مادہ روس میں تیار کیا جاتا ہے تو مزید ممالک روس کے خلاف اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی دوسری جانب امریکی اتحادی جاپان بھی نتائج کے انتظار میں ہے۔

ڈی ڈبلیو کے لیے لکھے جانے والے اس تبصرے میں ایگرٹ مزید کہتے ہیں کہ کسی بھی عام جمہوری ملک میں اتنے بڑے سفارتی تنازعے کے بعد حکمران طبقوں کی جانب سے استعفے سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ وزارت خارجہ اور خفیہ ادارے حرکت میں آجاتے ہیں اور پارلیمانی سطح پر تفتیشی کمیٹیاں بنا دی جاتی ہیں۔ لیکن روس میں جمہوریت نہیں ہے۔ روس نے امریکا سے ساٹھ سفارت کاروں کی بے دخلی پر مضحکہ خیز انداز میں ٹویٹر پر اپنے فالوآرز سے کہا کہ وہ آن لائن فیصلہ کریں کہ روس میں کون سے تین امریکی قونصل خانوں کو بند کیا جائے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کریملن ان بے دخلیوں کا جواب ضرور دے گا۔ کونسٹانٹین ایگرٹ کے مطابق ان کے خیال میں ماسکو نے رد عمل کی تیاری شروع کر دی ہے اور اس کے لیے روس کے پاس ہیکرز اور پروپگینڈا کرنے والوں کی کمی نہیں ہے اور اس کے علاوہ بھی اگر ضرورت پڑی تو روسی مسلح افواج بھی موجود ہیں۔

بشکریہ DW اردو

ولادی میر پیوٹن چوتھی بار روس کے صدر منتخب

روس کے صدارتی انتخاب میں ولادی میر پیوٹن چوتھی بار واضح برتری کے ساتھ صدر منتخب ہو گئے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق روس میں نئے صدر کے لیے انتخابی عمل منعقد کیا گیا جس میں موجودہ صدر ولادی میر پیوٹن کے علاوہ 7 امیدوار میدان میں موجود تھے تاہم اس بار بھی پیوٹن کا پلڑا بھاری رہا۔ ایگزٹ پول کے مطابق ولادی میر پیوٹن نے 73.9 فیصد ووٹ لے کر فیصلہ کن برتری حاصل کر کے چوتھی بار بھی روس کا صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

روس میں صدارتی انتخاب کے لیے دنیا بھر سے 1500 سے زائد عالمی مبصرین ماسکو پہنچے جب کہ ہزاروں مقامی مبصرین بھی الیکشن کی کوریج کے لیے موجود رہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ الیکشن کو شفاف بنانے کے مکمل انتظامات کیے گئے۔ واضح رہے کہ موجودہ صدر ولادی میر پیوٹن 18 سال سے برسراقتدار ہیں۔ وہ 7 مئی 2012ء سے تاحال روس کے صدر ہیں۔ پیوٹن اس سے پہلے بھی 2000ء سے 2008ء تک صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ 1999ء سے 2000ء تک اور پھر 2008ء سے 2012ء تک روس کے وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں۔

کیا برطانیہ میں روسی ڈبل ایجنٹ پر کیمیائی حملے کا ذمہ دار روس ہے ؟

امریکہ نے برطانوی شہر سیلیسبری میں سابق روسی انٹیلیجنس افسر اور ان کی بیٹی پر کیے جانے والے کیمیائی حملے کا ذمہ دار روس کو قرار دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے روس پر اس واقعے کے حوالے سے براہ راست الزام عائد کیا ہے۔ امریکہ کی اقوام متحدہ میں متعین سفیر نکی ہیلی نے سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں روس کے خلاف سخت الفاظ استمعال کرتے ہوئے ان پر یہ الزام عائد کیا لیکن روس نے مسلسل اس کی تردید کی ہے اور ان الزامات کے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ چار مارچ کو رونما ہونے والے واقعے کے بعد برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے برطانیہ روس کے 23 سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ کے علاوہ فرانس اور جرمنی نے بھی برطانیہ کے ساتھ اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے لیکن ساتھ ساتھ فرانس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ روس پر مزید الزامات سے پہلے ان کے خلاف ثبوت بھی پیش کیے جائیں۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک ہفتہ دیا گیا ہے اور یہ سفارتکار وہ انٹیلیجنس آفیسر ہیں جن کی شناخت مخفی رکھی گئی۔ ٹریزا مے نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو کو برطانیہ کا دورہ کرنے کی دعوت بھی منسوخ کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اعلان کیا گیا ہے کہ برطانوی شاہی خاندان روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کی تقریب میں شرکت نہیں کرے گا۔

روس نے سیلیسبری میں روس کے سابق انٹیلیجنس افسر 66 سالہ سرگئی اور ان کی 33 سالہ بیٹی یولیا کو زہر دینے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ یاد رہے کہ روس کو برطانیہ کی جانب سے ایک سابق ڈبل ایجنٹ (دو دشمن فریقوں کے لیے ایک ہی وقت میں کام کرنے والا جاسوس) پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملے کی وضاحت کے لیے منگل کی شب تک کا وقت دیا تھا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں سابق ایجنٹ کو دیا گیا جنگی نوعیت کا اعصاب شکن مواد روس میں بنا ہے جبکہ امریکہ نے بھی اس واقعے میں روس کے ملوث ہونے کی تائید کی ہے اور نیٹو نے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ ‘عین ممکن’ ہے کہ انگلینڈ میں سابق روسی ایجنٹ اور ان کی بیٹی کو روس میں تیار کردہ فوجی گریڈ کے اعصاب کو متاثر کرنے والی کیمیائی مواد دیا گیا ہو۔

روسی رد عمل
روسی وزیر خارجہ کو برطانیہ کا دورہ کرنے کی دعوت واپس لینے کے حوالے سے روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے ’مے نے لاوروو کو برطانیہ کا دورہ کرنے کی دعوت واپس لے لی ہے۔ لیکن انھوں (لاوروو) نے یہ دعوت قبول ہی نہیں کی تھی۔‘ روس نے برطانوی اقدام کی مذمت کی ہے۔ لندن میں واقع روسی سفارتخانے نے ایک بیان میں برطانیہ کے اعلان کو جارحانہ، ناقابل قبول، بلا جواز قرار دیا ہے۔ ’دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہونے کی ذمہ داری برطانوی رہنماؤں پر ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ‘عین ممکن’ ہے کہ سیلیسبری کے علاقے میں چار مارچ کو روس کے سابق ایجنٹ اور ان کی بیٹی یولیا کو اعصاب کو متاثر کرنے والی کیمیائی ایجنٹ دینے کا ذمہ دار روس ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ امریکہ اپنے برطانوی اتحادی کی تائید کرتا ہے کہ سابق روسی جاسوس اور ان کی بیٹی کو مارنے کے لیے اعصاب شکن مواد استعمال کرنے میں ممکنہ طور پر روس ملوث ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ حملہ انتہائی شرمناک ہے۔ ریٹائرڈ ملٹری انٹیلیجنس آفیسر سرگئی اور ان کی 33 سالہ بیٹی کو سیلیسبری کے سٹی سینٹر میں ایک بینچ پر نڈھال حالت میں پایا گیا۔ دونوں کی حالت نازک ہے۔ ان دونوں کی دیکھ بھال کرنے والے سارجنٹ نک بیلی بھی بیمار ہو گئے ہیں اور ہسپتال میں داخل ہیں۔

روسی صدر پوتن نے ایک مسافر طیارہ مار گرانے کا حکم دیا تھا

روسی صدر ولادی میر پوتن کے بارے میں ایک نئی دستاویزی فلم میں انکشاف ہوا ہے کہ انھوں نے ایک مسافر طیارے کو مار گرانے کا حکم دیا تھا جس میں مبینہ طور پر بم تھا اور اس کے بارے میں اطلاع تھی کہ سنہ 2014 کے سوچی سرمائی اولمپکس کی افتاحی تقریب کو نشانہ بنایا جائے گا۔ دو گھنٹے پر مشتمل اس دستاویزی فلم انٹرنیٹ پر ریلیز کیا گیا ہے، اس میں صدر پوتن کہتے ہیں انھیں بتایا گیا تھا کہ سرمائی اولمپکس کے آغاز سے کچھ ہی دیر قبل یوکرین سے ترکی جانے والے ایک طیارے کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ طیارے کی ہائی جیکنگ کے بارے میں اطلاع غلط تھی اور اس کو گرایا نہیں گیا تھا۔

یہ فلم روس میں 18 مارچ کو منعقد ہونے والے صدارتی انتخاب سے قبل ریلیز کی گئی جس میں ولادی میر پوتن کی فتح متوقع ہے۔ ولادی میر پوتن کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے کہ ان کے مقابل امیدواروں کو بڑی پیمانے پر حمایت حاصل نہیں جبکہ حزب مخالف کے سب سے اہم رہنما الیکسی ناوالنی کو انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر پوتن فلم میں کہتے ہیں کہ ’مجھے بتایا گیا تھا : یوکرین سے استبول جانے والی ایک پرواز کو اغوا کر لیا گیا ہے، اغوا کار اس کو سوچی میں اتارنا چاہتے ہیں۔

صحافی آندرے کوندراشوف کہتے ہیں کہ ترکش پیگاسس ائیرلائنز کی خرکیف سے استنبول جانے والی پرواز کے پائیلٹس نے کہا تھا کہ ایک مسافر کے پاس بم ہے اور اس نے انھیں جہاز کا رخ سوچی کی جانب موڑنے کو کہا ہے۔ اس طیارے میں 110 افراد سوار تھے۔  فلم میں صدر پوتن کہتے ہیں کہ سکیورٹی حکام نے انھیں بتایا تھا کہ ایسی صورتحال میں ہنگامی طریقہ کار یہ ہے کہ طیارے کو مار گرایا جائے۔ صدر پوتن نے کہا کہ ’میں نے انھیں بتایا : منصوبے کے مطابق عمل کریں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ چند منٹوں کے بعد انھیں ایک اور کال موصول ہوتی ہے اور انھیں بتایا جاتا ہے کہ یہ اطلاع غلط تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس کے کچھ ہی دیر بعد وہ اولمپکس حکام کے ہمراہ سوچی میں اولمپکس سٹیڈیم پہنچے تھے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کریملین کے ترجمان دمتری پیسکوف کے صدر پوتن کے اس بیان کی تصدیق کی ہے۔ ‘پوتن’ کے عنوان سے اس ڈاکومنٹری فلم کا پہلا حصہ سوشل میڈیا اکاونٹس کے ذریعے جاری کیا گیا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

روسی صدر پوتن فلوریڈا پر بم کیوں گرانا چاہتے ہیں ؟

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے روس کے نئے ناقابلِ تسخیر جوہری ہتھیار سے پردہ اٹھایا جس کی گرافک ویڈیو میں اسے فلوریڈا کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن کریملن کسی جوہری جنگ کی صوری میں سن شائن کہلانے والی ریاست کو کیوں نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ فلوریڈا میں سیاحتی مقامات ہیں جن میں والٹ ڈزنی ورلڈ اور ایوور گلیڈز نیشنل پارک شامل ہیں۔ یہاں کچھ بڑے اہم اہداف بھی ہیں جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مارے لاگو ریزورٹ بھی ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع پینٹا گون کی ترجمان کا کہنا تھا کہ انھیں صدر پوتن کی بیان بازی پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ پینٹا گون کی ترجمان ڈانا وائٹ نے روسی دھمکی کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا ’امریکی عوام اس بات کا یقین رکھیں کہ ہم پوری طرح سے تیار ہیں۔‘

روسی صدر کی اس ویڈیو میں اینیمیشن کے ذریعے دکھایا گیا ہے کہ اس کے نئے ہتھیار امریکہ کی جانب جا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی ریاست فلوریڈا میں جوہری ہتھیاروں سے محفوظ رہنے کے لیے کئی مورچے بنائے گئے ہیں جہاں وہ صدر بننے کے بعد کئی چھٹّیاں گزار چکے ہیں۔ مارے لاگو بنانے والوں نے تین مورچے سنہ 1927 میں کوریا کی جنگ کے دوران بنائے۔ صدر ٹرمپ کے گالف کورس میں بنا ایک دوسرا بم شلٹر مغربی پام بیچ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے۔ ایک اور بنکر سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے لیے بھی بنایا گیا جو مارے لاگو سے زیادہ دور نہیں ہے۔

یہ پام بیچ ہاؤس سے 10 منٹ کے فاصلہ پر ہے جہاں اکثر صدر جان ایف کینیڈی قیام کیا کرتے تھے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھر بنکر براہِ راست ایٹمی حملے کا مقابلہ کرنے کا اہل نہیں۔ ایک اور عسکری ہدف امریکی سنٹرل کمانڈ ہو سکتی ہے جس کا صدر دفتر ٹامبا میں میکڈل کا ہوائی اڈا ہو سکتا ہے۔ سینٹکام کہلانے والا یہ ادارہ مشرقِ وسطی، سنٹرل ایشیا اور نارتھ افریقہ میں کارروائیوں کا ذمہ دار ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کسی بھی جوہری لڑائی کی صورت میں فلوریڈا کو نشانہ بنائے جانے کا امکان کم ہے۔ میتھیو کروئنگ اپنی کتاب ’دی لاجک آف امریکن نیوکلیئر سٹریٹیجی‘ میں لکھتے ہیں کہ روس کی ترجیح یہ ہو گی کہ وہ امریکہ کی مزاحمت کی صلاحیت کو نشانہ بنائے۔

ان کا خیال ہے ’روس شاید امریکہ کے جوہری گوداموں کو نشانہ بنائے۔ موتانا کا مالسٹورم ہوائی اڈہ، شمالی ڈیکوٹا میں مینوٹ فوجی ہوائی اڈہ، اوماہا کی آفٹس ائیر فورسز بیس میں قائم امریکی سٹریٹیجک کمانڈ کا ٹھکانہ، نبراسکا، اور وارن میں فضائی فوج کا اڈہ جس کی سرحدیں ویامنگ، کولاراڈو اور نبراسکا سے ملتی ہیں اس کا نشانہ ہو سکتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کریملن امریکہ کی آبدوزوں کے آڈوں کو بھی نشانہ بنائے گا جن میں سے ایک بینگو بیس وانشگٹن میں ہے جبکہ دوسری کنگز بے، جارجیا میں ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ بھر میں 70 کے قریب فوجی اڈے ہیں۔

ان کے بقول بحیثیت مرکمِ کمانڈ اینڈ کنٹرول واشنگٹن تو مرکزی ہدف ہو گا ہی لیکن اس کے علاوہ روس امریکہ کے 131 گنجان شہروں کو نشانہ بنا سکتا ہے تاکہ اس کی صنعتی صلاحیت تباہ کی جا سکے اور زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلائی جائے۔
انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے مارک فٹز پیٹرک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فلوریڈا کو نشانہ بنانے والی ویڈیو نشر کرنا جنگی حکمتِ عمل کا حصہ نہیں ہے۔‘ ’یہ ایک پیغام ہے۔ یہ ویڈیو دراصل علامتی ہے۔ محض ایک آرایشی بیان بازی۔‘

بشکریہ بی بی سی اردو

روسی ’کرائے کے قاتل‘ شام میں کیا کر رہے تھے؟

شام میں امریکی اتحادیوں کے فضائی حملوں میں درجنوں روسی شہریوں کی ہلاکت کی خبر آئے دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ لیکن ان روسی ’کرائے کے قاتلوں‘ کے اہل خانہ اب تک لاشوں کے منتظر ہیں۔ سات فروری کے روز شامی شہر دیر الزور میں امریکی قیادت میں عالمی اتحاد کی فضائی کارروائیوں میں ‘واگنر گروپ‘ نامی روسی پیرا ملٹری تنظیم کے کتنے ’کرائے کے قاتل‘ ہلاک ہوئے تھے، اس بارے میں ابھی تک کوئی واضح اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ ایک روسی اخبار کے مطابق ان حملوں میں کم از کم پچاس روسی ہلاک جب کہ ستر سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اب تک ان حملوں میں ہلاک ہونے والے روسی شہریوں میں سے صرف نو افراد کے نام معلوم ہیں۔ روسی وزارت خارجہ نے ابتدائی طور پر پانچ روسی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی تاہم بعد ازاں ’کئی درجن‘ روسی اور سوویت یونین کی ریاستوں کے شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔

روسی ’کرائے کے قاتل‘ شام میں کیا کر رہے تھے؟
روسی حکام کے دعووں کے مطابق واگنر گروپ سے تعلق رکھنے والے یہ روسی شہری شام میں ’رضاکارانہ‘ طور پر گئے تھے اور وہاں مختلف حیثیتوں میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ واگنر گروپ سے تعلق رکھنے والے ان افراد کو ’کرائے کے قاتل‘ بھی کہا جاتا ہے اور یوکرائن کے ’ڈونباس‘ ریجن میں بھی ان میں سے کئی روسیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ روسی سپیشل فورسز سے ریٹائر ہونے والے افراد کی ایک تنظیم کے سربراہ ولادیمیر یفیموف کا کہنا ہے کہ ’کرائے کے قاتل‘ عام طور پر روسی فوج کے سابق افسران اور سپاہی ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ افراد روسی وزارت دفاع کے ساتھ معاہدے کے بعد شام بھیجے گئے تھے۔

ولادیمیر یفیموف کا کہنا ہے کہ شام بھیجے گئے بیس روسیوں کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔ شام جانے سے قبل ان افراد نے اپنے اہلِ خانہ کو زیادہ تفصیل نہیں بتائی تھی کیوں کہ وزارت دفاع کے ساتھ معاہدے میں رازداری کی شرط بھی تھی۔
یفیموف کا کہنا ہے کہ سن 2017 میں بھی بڑی تعداد میں روسی فوج کے سابق اہلکار چھ مہینوں کے لیے شام گئے تھے۔ ان میں سے کچھ زخمی بھی ہوئے لیکن سبھی زندہ واپس لوٹ آئے تھے۔ یفیموف کہتے ہیں کہ یہ افراد ’’شام سے امیر بن کر لوٹے تھے اور انہوں نے روس میں اپنے قرضے بھی چکا دیے تھے۔‘‘

روسی ’کرائے کے قاتلوں‘ کی لاشیں کہاں گئیں؟

’کرائے کے قاتلوں‘ کے اہل خانہ ان کی ہلاکت کی صورت میں وزارت دفاع سے رابطہ نہیں کر سکتے کیوں کہ یہ لوگ باقاعدہ فوج کا حصہ نہیں ہوتے۔ علاوہ ازیں پرائیویٹ کنٹریکٹر کے طور پر کام کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ یفیموف کے مطابق زیادہ تر ایسے جنگجو غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے اہل خانہ بھی ان کی ہلاکت پر اس لیے خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں کیوں کہ انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ نجی کمپنی کہیں انہیں ہرجانہ ادا کرنے سے روک نہ دے۔ ڈی ڈبلیو کی تحقیق کے مطابق اب تک شام میں ہلاک ہونے والے کسی ایک روسی شہری کی لاش بھی اس کے ورثا کے حوالے نہیں کی گئی ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم روسی کارکنوں کو خدشہ ہے کہ ان روسیوں کی لاشیں ’روستوف آن ڈان‘ نامی سرد خانے پہنچائی گئی ہیں جہاں ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں۔ روس میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی ماؤں کی ایک تنظیم کے سربراہ ویلینٹینا میلنیکوفا کا کہنا ہے کہ بیرون ملک ہلاک ہونے والے روسی شہریوں کے بارے میں وزارت داخلہ اور ان ممالک میں روسی سفارت خانوں سے معلومات ملتی ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ شام میں ہلاک ہونے والے روسیوں کی لاشیں شاید وہاں سے واپس روس لائی ہی نہیں گئیں اور ممکنہ طور پر انہیں شام ہی میں دفن کر دیا گیا ہے۔

بشکریہ DW اردو

کیا شام میں روسی اور امریکی فوجیں ایک دوسرے سے براہ راست ٹکرا سکتی ہیں؟

شام میں گزشتہ ہفتے ’ہلاک یا زخمی ہونے والے روسی شہریوں‘ کی تعداد تین سو کے قریب بنتی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ماسکو حکومت سے تعلق رکھنے والی نجی سکیورٹی کمپنی سے وابستہ قریب تین سو روسی گزشتہ ہفتے شام میں ہلاک یا زخمی ہو گئے۔  اس معاملے سے تعلق رکھنے والے ذرائع کے مطابق ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد شام میں سرگرم روسی نجی سکیورٹی کمپنی سے تعلق رکھنے والے جنگجو تھے۔ ایک روسی فوجی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ شام میں گزشتہ ہفتے قریب سو روسی فائٹر ہلاک ہوئے جب کہ ایک اور ذریعے نے ان ہلاکتوں کی تعداد 80 سے زائد بتائی ہے۔

اتنی بڑی تعداد میں ان ہلاکتوں کی اطلاعات ایک ایسے وقت پر سامنے آ رہی ہیں، جب اتفاقیہ طور پر قریب اسی وقت سات فروری کو شامی شہر دیرالزور میں امریکی فورسز کی جانب سے شامی حکومتی فورسز کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ دوسری جانب روسی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں ’شاید پانچ روسی شہری‘ ہلاک ہوئے ہیں تاہم ان کا تعلق روسی مسلح افواج سے نہیں تھا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگر یہ روسی ہلاکتیں امریکا کی جانب سے شامی فورسز کے خلاف کارروائی کے دوران ہوئی ہیں، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روس شامی تنازعے میں کس شدت کے ساتھ موجود ہے اور یہ خطرات بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے کہ روس اور امریکا شام میں ایک دوسرے کے براہ راست مدمقابل آ جائیں۔

شام میں یہ تازہ روسی ہلاکتیں سن 2014ء میں یوکرائن کے مشرقی حصے میں شروع ہونے والے تنازعے کے بعد سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ تب سو سے زائد روسی جنگجو مشرقی یوکرائن میں مارے گئے تھے۔ ماسکو حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے کہ اس کے فوجی یا رضاکار یوکرائن میں موجود ہیں اور اس حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار کی بھی ماسکو حکومت نے کبھی تصدیق نہیں کی۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی نے روسی عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حالیہ کچھ دنوں میں زخمی ہونے والے روسی جنگجوؤں کو شام سے نکالا گیا اور وہ اب مختلف فوجی ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

پوٹن 1975ء میں سابق سوویت یونین کی خفیہ سروس کے جی بی میں شامل ہوئے۔ 1980ء کے عشرے میں اُن کی پہلی غیر ملکی تعیناتی کمیونسٹ مشرقی جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں ہوئی۔ دیوارِ برلن کے خاتمے کے بعد پوٹن روس لوٹ گئے اور صدر بورس یلسن کی حکومت کا حصہ بنے۔ یلسن نے جب اُنہیں اپنا جانشین بنانے کا اعلان کیا تو اُن کے لیے ملکی وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی۔ ان مریضوں کا علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دن سے اب تک ان کے ہسپتال میں پچاس سے زائد زخمی منتقل کیے جا چکے ہیں اور یہ تمام زخمی ایسے ہیں، جنہیں شام سے روس پہنچایا گیا۔ اس ڈاکٹر کے مطابق ہسپتال منتقل کیے گئے زخمیوں میں سے تیس فیصد شدید زخمی ہیں۔

بشکریہ DW اردو