جنگ ویت نام جو امریکہ کی شکست پر ختم ہوئی

جنگ ویت نام 1955ء سے 30 اپریل 1975ء تک جاری رہنے والا ایک عسکری تنازع تھا ۔ کہنے کو یہ جنگ شمالی ویت نام اور جنوبی ویت نام کے مابین لڑی گئی لیکن اس جنگ میں متعدد قوتوں نے حصہ لیا۔ اس جنگ کو کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے جنگ ویت نام کے علاوہ اسے دوسری انڈوچائنا جنگ اور امریکا کے خلاف مزاحمتی جنگ بھی کہا جاتا ہے۔ شمالی ویت نام کو سوویت یونین، چین اور دیگر کمیونسٹ اتحادیوں کی حمایت حاصل تھی۔ جنوبی ویت نام کی فوج کو امریکا، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، تھائی لینڈ اور کمیونسٹ مخالف ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ اس لیے اس جنگ کو ’’سرد جنگ‘‘ یا پراکسی جنگ بھی کہا جاتا ہے۔

اس جنگ میں ویت کانگ جسے قومی محاذ آزادی بھی کہا جاتا تھا جنوبی ویت نام سمیت علاقے میں کمیونسٹ مخالف قوتوں کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں کرتا رہا۔ اسی دوران شمالی ویت نام کی فوج جسے ویت نام عوامی فوج بھی کہا جاتا تھا روایتی مخالفین سے روایتی جنگ لڑتی رہی جس میں بڑی تعداد میں افواج آمنے سامنے لڑتی ہیں۔ جنوبی ویت نام کی افواج کو امریکی مدد کے سبب فضائی برتری حاصل رہی۔ اس دوران امریکا نے شمالی ویت نام میں بڑے پیمانے پر بمباری کی۔ شمالی ویت نام اور اس کے اتحادیوں نے بالخصوص امریکا کے خلاف ایک کامیاب جنگ لڑی اور ویت نام کو ایک متحدہ ریاست کے طور پر قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔

جنگ میں شمولیت کے بعد امریکا نے بڑی تعداد میں اپنے فوجی ویت نام میں اتارے۔ امریکی عسکری مشیر پہلی بار 1950ء کی دہائی میں ویت نام میں ملوث ہوئے جب انہوں نے فرانسیسی نو آبادیاتی افواج کی مدد کا آغاز کیا۔ 1956ء میں ان مشیران نے جمہوریہ ویت نام کی افواج کی تربیت کی مکمل ذمہ داری لے لی۔ 1965ء میں امریکی جنگی دستے بڑی تعداد میں ویت نام پہنچے اور 1973ء تک موجود رہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکا نے اس جنگ میں اپنے ساڑھے 5 لاکھ فوجی ویت نام میں اتارے۔ اس خونریز جنگ میں سب سے زیادہ نقصان شمالی ویت نام اور ویت کانگ کا ہوا جن کی کل ہلاکتوں و گمشدگیوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق گیارہ لاکھ سے زائد ہے۔ جبکہ ان کے 6 لاکھ سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب اتحادیوں کی جانب سے زیادہ جانی نقصان جنوبی ویت نام کا ہوا،ان کا جانی نقصان 2 لاکھ کے لگ بھگ تھا جبکہ گیارہ لاکھ سے زائد فوجی زخمی ہوئے۔ اس جنگ میں جنوبی ویت نام کی حمایت کرنے والے امریکہ کے 58 ہزار سے زائد فوجی مارے گئے۔ امریکا میں اس جنگ کے خلاف شہریوں کی جانب سے بڑی مزاحمتی تحریک شروع ہوئی۔ 30 اپریل 1975ء کو جنوبی ویت نام کے دارالحکومت سائیگون پر شمالی ویت نام کے سپاہیوں نے قبضہ کر لیا جس کے بعد جنگ ختم ہو گئی اور بعدازاں ویت نام ایک متحدہ ملک بن گیا۔ یہ سرد جنگ کے دوران امریکا کی ایک بڑی عسکری و سیاسی شکست تھی۔

وقار احمد

Advertisements

شام کی جنگ میں ترکی اور امریکی افواج آمنے سامنے

ترک فوج کی ممکنہ طورپر شمالی شام کے علاقے منبج میں آمد کے پیش نظر وہاں پر تعینات امریکی فوج نے بھی دفاعی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ عربی ٹی وی کے مطابق منبج میں 300 امریکی فوجی تعینات کیے گئے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ بکتر بند گاڑیاں اوربھاری ہتھیار بھی پہنچائے گئے ہیں، منبج میں یہ امریکی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں ترکی نے عفرین شہر کے بعد منبج میں بھی فوج داخل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

عفرین میں ترکی نے جنوری میں ’شاخ زیتون‘ کےعنوان سے کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ واضح رہے کہ عفرین کے برعکس منبج میں امریکی فوجی اڈہ اور امریکی فوجیوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے جو ترک فوج کے لیے ایک مسئلہ بن سکتی ہے۔ گزشتہ ہفتے ترکی کی قومی سلامتی کمیٹی نے کہا تھا کہ اگر منبج سے کرد عسکریت پسند نکل نہیں نکلتے تو ترک فوج کو اس شہر میں داخل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

روس نے بیلسٹک میزائل ’ شیطان 2 ‘ کا کامیاب تجربہ کر لیا

روس نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سرمت کا تجربہ کر لیا ہے اس میزائل کو نیٹو نے ’شیطان 2‘ کا نام دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس نے گزشتہ روز نیوکلیئر ٹیکنالوجی لے جانے والے بیلسٹک میزائل ’ آر ایس 28 سرمت ‘ کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے، یہ میزائل بیک وقت 24 وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کے ذریعے دنیا میں کسی بھی مقام کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ روس کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میزائل کا کامیاب تجربہ روس کے شمال مغربی علاقے آرکٹک سرکل کے نزدیک کیا گیا۔ کامیاب تجرنے کے بعد روس کے ذخیرہ ہتھیار میں ایک اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا اضافہ ہوا ہے جسے نیٹو نے شیطان 2 کا نام دیا ہے جو ایٹمی مواد اور ہتھیار کو لے جانے اور دور تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

روس کے صدر پیوٹن نے اپنے ایک خطاب میں اس میزائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ 200 ٹن وزنی جنگی ہتھیار 16 ہزار میل تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کی صلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے یہ میزائل قطب شمالی سے امریکا کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر پیوٹن نے امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد سب سے خطرناک میزائل کا تجربہ کیا ہے جسے روسی صدر سفارتی جوڑ توڑ میں بطور دباؤ استعمال کریں گے تاہم روس کی جانب سے کیے گئے میزائل تجربے سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں تیزی آئے گی۔

ایمزون کو ٹرمپ کی وجہ سے 53 ارب ڈالر کا نقصان

امریکی کمپنی ایمزون امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ محاز آرائی کا نشانہ ہے ، جو کہ آمدنی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی آن لائن خوردہ کمپنی ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی کی وجہ سے ایمزون کی مارکیٹ قدر میں 53 ارب ڈالر کمی واقع ہوئی اور اُس کے حصص کی قیمت 7ا عشاریہ 4 فیصد گر گئی۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایمزون سے متعلق ٹیکس قواعد تبدیل کر کے اُسے قابو کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں پریشانی ہے کہ آن لائن خوردہ فروشی کی وجہ سے چھوٹے خوردہ کاروبار ختم ہو رہے ہیں۔

اس حوالے سے ایمزون کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ ایمزون کو اس لیے نشانہ بنانا چاہتے ہیں کیونکہ ایمزون کے سی ای او جیف بیزوس معروف امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ کے مالک بھی ہیں اور یہ اخبار اکثر صدر ٹرمپ پر تنقید کرتا ہے۔ یہ ایسے وقت پر ہوا ہے کہ جب کیمبرج انالیٹیکا اور فیس بک ڈیٹا چوری اسکینڈل کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص دباؤ کا شکار ہیں۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ فیس بک کے خلاف کارروائی چاہتی ہے لیکن صدر ٹرمپ کے نشانے پر اس وقت صرف ایمزون ہے۔

 

چین اور امریکہ کی تجارتی جنگ، چین کے جوابی اقدامات

چین کی وزارتِ خزانہ نے امریکہ کی طرف سے چین سے درآمد شدہ اسٹیل اور الومینیم پر درآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کے رد عمل میں امریکی سے چین درآمد کی جانے والی مصنوعات پر تین ارب ڈالر کے ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چین کی وزارتِ خزانہ سے جاری ہونے والے اعلان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ سے چین درآمد کی جانے والی ایک سو اٹھائیس اقسام کی مصنوعات پر ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔

اس میں سے ایک سو بیس اقسام کی اشیاء اور مصنوعات جن میں پھل، خشک میوا، شراب ، بغیر جوڑ کی ٹیوبیں اور دیگر اشیا شامل ہیں اور جن کی کل مالیت ستانوے کروڑ ڈالر بنتی ہے ان پر چین پندرہ فیصد ڈیوٹی وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ گوشت اور ری سائیکل الیومینیم پر چین نے پچیس فیصد ڈیوٹی وصول کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ چین کے سرکاری خبررساں اداروں میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی طرف سے شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ امریکہ قومی سلامتی کا بہانہ بنا کر چین سے درآمد کی جانے والے سٹیل اور الومینیم پر پچیس اور دس فیصد ڈیوٹی عائد کر رہا ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اگر چین اور امریکہ کس تجاری معاہدے پر نہیں پہنچتے تو چین پہلے مرحلے میں مصنوعات کی ایک فہرست میں شامل اشیا پر ڈیوٹیاں عائد کرے گا اور دوسرے مرحلے میں امریکہ کی طرف سے عائد کردہ ڈیوٹیوں کے مالی اثرات کا مکمل طور پر اندازہ لگانے کے بعد مزید اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے درآمد کی جانے والی اشیا پر پچاس ارب ڈالر کی ڈیوٹیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے رد عمل میں واشنگٹن میں چینی سفارت خانے سے جاری ہونے والے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس یک طرفہ اقدام قرار دیا تھا۔ چین نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیش کے تحت امریکہ کے اس یک طرفہ اعلان پر قانونی چارہ جوئی کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق چین روائتی طور پر بڑا سوچ سمجھ کر اپنے نفع اور نقصان کا مکل طور پر اندازہ لگانے کے بعد کوئی کارروائی کرتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

ٹرمپ کے اقدامات سے عالمی تجارتی جنگ چھڑنے کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی درآمدات پر اربوں ڈالر کی ڈیوٹیز لگانے کے اقدامات سے دنیا میں تجارتی جنگ چھڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا جب کہ یورپ بھی امریکی اقدامات پر انتقامی کارروائی کرنے کے لیے غور کر رہا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پہلے اسٹیل اور ایلومینیم درآمدات پر ٹیرف عائد کیے گئے اور اس کے بعد چین کی 60 ارب ڈالر کی درآمدات پر 25 فیصد تک ٹیرف لگا دیے گئے۔ امریکا نے ان چینی شعبوں کو ہدف بنایا جس میں واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ ان میں چین نے امریکی ٹیکنالوجی چرائی ہے۔

جواب میں بیجنگ نے بھی امریکا کو اس کی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی ہے اور اس سلسلے میں چینی وزارت تجارت نے 128 اشیا پر ایک فہرست بھی تیار کر لی ہے۔ ان امریکی اشیا پر 10 سے 25 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری طرف یورپ بھی امریکی اقدامات پر انتقامی کارروائی کرنے کے لیے غور کر رہا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے متنبہ کیا ہے کہ یورپ کمزوری دکھائے بغیر واشنگٹن کی دھمکیوں کا جواب دے گا تاہم تجارتی کشیدگی کم ہونے کے بھی اشارے ملے ہیں، امریکا اور چین نے تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق چینی نائب وزیراعظم اور انچارج معیشت لیو ہی اور امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، چینی نائب وزیراعظم نے امریکی وزیر سے کہا کہ بیجنگ اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہے مگر امید ہے کہ دونوں ممالک ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساتھ کام کریں گے۔ انھوں نے حقوق ملکیت دانش سے متعلق چینی پریکٹسز میں امریکی تحقیقات کو تجارتی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ قبل ازیں چین نے امریکا کو 3 ارب ڈالرکی مصنوعات پر انتقامی ڈیوٹیوں کی دھمکی بھی دی۔

امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی محاذ آرائی میں اضافہ

صدر ٹرمپ نے چین سے ہونے والی درآمدات پر 60 ارب ڈالر کے محصولات عائد کرتے ہوئے چین سے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے 375 ارب ڈالر کے تجارتی سرپلس میں کم سے کم 100 ارب ڈالر کی کمی کرے۔ تاہم جواب میں چین نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ اگر امریکہ ہائی ٹیک اشیاء کی چین کو برآمد پر پابندیاں عائد کرتا رہے گا تو چین کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ کم نہیں ہو گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین نے امریکی کمپنیوں کو مجبور کیا ہے کہ اگر وہ چین میں کاروبار کرنا چاہتی ہیں تو اپنے دانشورانہ ملکیت کے حقوق چین منتقل کریں۔

تاہم چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن یِنگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکہ چین کو وہ اشیاء برآمد کرنے سے انکار کرتا ہے جو چین خریدنے کا خواہش مند ہے تو پھر چین کے تجارتی سرپلس کے بارے میں امریکی تنقید غیر مناسب ہے۔ چین امریکہ سے ہائی ٹیک اشیاء خریدنے کی خواہش رکھتا ہے تاہم امریکہ اس سے کتراتا رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا، ’’چین امریکہ سے کتنی مقدار میں سویابین خریدے جو ایک بوئنگ جہاز کے برابر ہو؟ اور پھر اگر چین امریکہ سے چند بوئنگ جہاز خرید لیتا ہے تو کیا امریکہ بھی چین سے اتنے ہی C919 جہاز خریدے گا؟‘‘ C919 چین کا خود تیار کردہ مسافر جہاز ہے۔

تجارتی محاذ آزائی کے باوجود چین نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ اس مسئلے کا باوقار حل تلاش کرنے کے لئے چین سے بات چیت پر آمادہ ہو گا جو باہمی احترام کی بنیاد پر ہو۔ گزشتہ سال امریکہ کی چین کے لئے زرعی برآمدات 19.6 ارب ڈالر تھیں جن میں سے صرف سویابین کی برآمدات کی مالیت 12.4 ارب ڈالر تھی۔ امریکہ میں بوئنگ طیارے بنانے والی کمپنی نے گزشتہ سال چین کو 7000 سے زائد بوئنگ طیارے فروخت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جن کی مالیت 11 کھرب ڈالر ہے۔ بوئنگ کمپنی یہ طیارے اگلے 20 برس کے دوران چین کو فروخت کرنا چاہتی ہے۔

امریکہ کی طرف سے چینی درآمدات پر محصولات عائد کرنے کے جواب میں چینی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین ایسے یک طرفہ اقدامات کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ چینی وزارت نے بیان میں مزید کہا، ’’ اگر چین کے جائز حقوق متاثر ہوئے تو وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ہمیں اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے تمام ضروری اقدامات اُٹھانے ہوں گے۔‘‘ امریکہ کے تجارتی نمائندے رابرٹ لائیٹ ھائیزر کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے چینی درآمدات پر عائد ہونے والے محصولات سے چین کا اعلیٰ ٹکنالوجی کا حامل شعبہ زیادہ متاثر ہو گا اور امریکہ میں چین کی سرمایہ کاری پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ اس کے علاوہ چین کی امریکہ کو سلے سلائے کپڑوں کی برآمد بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

بیجنگ میں قائم تھنک ٹینک مرکز برائے چین اور عالمگیریت کے سینئر فیلو ہی وائی وین کا کہنا ہے کہ فی الحال امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات کا کوئی امکان نہیں کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ چینی درآمدات پر محصولات عائد کرتے ہوئے چین پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی جاری رکھنے پر مصر دکھائی دیتی ہے۔ خدشہ ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی محاذ آرائی میں شدت کے ساتھ اضافہ ہو جائے جس کے اثرات دیگر ملکوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

سی آئی اے کے سربراہ کے طور پر جینا ہاسپل کی نامزدگی پر تنقید

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی نئے سربراہ کے طور پر جینا ہاسپل کی نامزدگی پر تنقید کی جا رہی ہے۔ اگر وہ اس عہدے کے لیے منتخب کر لی گئیں تو پہلی مرتبہ اس اہم امریکی ادارے کی کمان ایک خاتون کے ہاتھوں میں آ سکے گی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے امریکی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ جینا ہاسپل کو خفیہ اینٹلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کا سربراہ نامزد کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جینا ہاسپل کو فروری سن دو ہزار سترہ میں سی آئی اے کی نائب ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا، تب بھی کئی حلقوں نے ان کی مخالفت کی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو برطرف کرنے کے بعد سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو کو نیا وزیر خارجہ بنایا جا رہا ہے، اس لے سی آئی اے کے سربراہ کی پوزیشن خالی ہو گئی ہے۔ دوسری طرف کئی حلقے پومپیو کو وزیر خارجہ بنائے جانے کے فیصلے کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔ ہاسپل تھائی لینڈ میں سی آئی اے کی ’بلیک سائٹ‘ کی نگران بھی رہی ہیں۔ گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کو امریکا میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد تھائی لینڈ میں یہ خفیہ حراستی مرکز قائم کیا گیا تھا، جہاں مشتبہ افراد کے خلاف تحقیقات کے متنازعہ طریقوں کا انتخاب کیا گا تھا۔ سن دو ہزار تین تا پانچ اس مرکز میں ’واٹر بورڈنگ‘ کا طریقہ کار بھی استعمال کیا گیا۔

ہاسپل نے سن انیس سو پچاسی میں سی آئی اے میں کام کرنا شروع کیا تھا۔ وہ اپنے طویل کیریئر میں ’انڈر کور ایجنٹ‘ کے طور پر بھی خدمات سر انجام دے چکی ہیں، اس لیے ان کے بارے میں زیادہ معلومات عام نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی صدر سی آئی اے کے سربراہ کی تعیناتی نہیں کر سکتا بلکہ صرف نامزد ہی کر سکتا ہے۔ اس لیے نامزدگی کے بعد ہاسپل کو سینیٹ کے سامنے خود کو بہترین امیدوار ثابت کرنا ہو گا۔ ری پبلکن سینیٹر جان مککین نے کہا ہے کہ جینا ہاسپل کو بہترین امیدوار ثابت کرنے کی خاطر کئی اہم سوالات کے جوابات دینا ہوں گے، جن میں ان کی مبینہ طور پر ’تشدد کے پروگرام‘ میں شمولیت بھی ہے۔ جان مککین کے مطابق، ’’ہاسپل کو بتانا ہو گا کہ سی آئی اے کے اس تحققاتی پروگرام میں ان کا کردار کیا تھا۔ سینیٹ نہ صرف اس ملازمت کے کے لیے ہاسپل کی تمام صلاحیتوں کا جائزہ لے گی بلکہ یہ جاننے کی کوشش بھی کرے گی کہ تشدد اور موجود قوانین کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے۔‘‘

شامی جنگ میں مغرب نے کیا غلطیاں کیں؟

شام میں سات برس سے جاری خانہ جنگی میں مغربی ممالک نے مداخلت کرنے کے کئی مواقع گنوائے۔ ایسے تنازعات کے حل میں موثر کردار ادا کرنے کے لیے مغرب کو اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا۔ ڈی ڈبلیو کے کیرسٹن کِنپ کا تبصرہ۔

شامی جنگ سے متعلق ’اگر یوں یوتا تو۔۔۔‘ کے ساتھ کئی سوالات جڑے ہوئے ہیں اور ان میں اکثر کا تعلق مغربی ممالک کے اس جنگ میں کردار سے متعلق ہیں۔ اگر مغرب اس تنازعے میں پہلے مداخلت کرتا تو شامی جنگ کیا رخ اختیار کرتی؟
موجودہ صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو ماضی میں مغرب نے شامی تنازعہ حل کرنے کے کئی سنہری مواقع گنوائے۔ مثال کے طور پر سن 2013 میں جب یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ شامی صدر بشار الاسد اپنے عوام کے خلاف طاقت کے استعمال میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی کر سکتے ہیں، تب امریکی صدر اوباما نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو ’سرخ لکیر‘ قرار دیتے ہوئے اسد حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ایسی صورت میں مغرب ان کے خلاف طاقت کا استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ اسد حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے اور امریکا اور مغربی ممالک نے پھر بھی شام میں عسکری مداخلت سے گریز کیا۔

’اوباما کی سرخ لکیر‘
اب یوں لگتا ہے کہ اس وقت امریکا اور مغربی اتحادیوں نے شام میں مداخلت نہ کر کے اسد حکومت کو محدود کرنے کا موقع گنوا دیا۔ اس وقت اسد کو روس اور ایران کا ویسا تحفظ اور حمایت حاصل نہیں تھی، جیسی کہ اب ہے اور تب شام میں مغرب کی مداخلت ممکنہ طور پر کارگر ثابت ہو سکتی تھی۔ لیکن اوباما نے یہ موقع ضائع کر دیا۔ اوباما کے شام میں مداخلت نہ کرنے کے اس فیصلے کی وجوہات بھی تھیں۔ امریکا افغانستان اور بعد ازاں عراق میں جنگ شروع کر چکا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری مداخلت کی بنیاد دانستہ طور پر بولے گئے جھوٹ پر مبنی تھی جس کی وجہ سے امریکا کا تشخص بری طرح سے مجروح تھا اور شام میں عسکری مداخلت اخلاقی اور سیاسی طور پر امریکا کی عالمی ساکھ کو مزید خراب کر سکتی تھی۔

علاوہ ازیں عسکری مداخلت سے وابستہ اسٹریٹجگ خطروں کا اندازہ لگانا بھی مشکل کام تھا۔ مغربی اتحادیوں کی عسکری مداخلت کے اسد پر کیا اثرات مرتب ہوتے؟ روس اور ایران کا ردِ عمل اس وقت کیسا ہوتا؟ ایسے فیصلے کے بعد مسلم اکثریتی ممالک میں امریکا مخالف جذبات کتنے بڑھتے، شیعہ اور سنی مسلمانوں کا ردِ عمل کیا ہوتا ؟ اور پھر عسکری مداخلت کے بعد امریکا اور یورپ میں دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ بھی کس قدر بڑھ جاتا؟

‘جمود کی قیمت‘
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شام میں مغربی عسکری مداخلت کے ممکنہ طور پر بھیانک نتائج نکل سکتے تھے۔ لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو مداخلت نہ کرنے کے نتائج بھی کوئی اچھے نہیں نکلے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ روس اور ایران شامی تنازعے میں کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ روس کے فریق بننے کے بعد اب مغرب کے لیے تصادم سے بچے بغیر مداخلت کرنے کا کوئی راستہ نہیں بچا۔
اسی لیے اب واشنگٹن اور یورپی رہنماؤں کے اسد کے اقتدار سے الگ ہو جانے کے مطالبے زبانی جمع خرچ سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ مغرب شام میں کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں چاہتا، اب ان باتوں کا شام کے زمینی حقائق پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

’باغیوں کی مدد یا جہادیوں کی‘
امریکا نے شامی خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے ہی مبینہ طور پر بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا جس سے شام افراتفری کا شکار ہو سکتا تھا۔ اس مبینہ منصوبے کے باعث بھی شام میں امریکی مداخلت کی نیت مشکوک ہو چکی تھی۔  سن 2010ء میں ابھی اُس باغیانہ انقلابی تحریک نے حلب کی جامع الاموی کے دروازوں پر دستک نہیں دی تھی، جو تب پوری عرب دُنیا میں بھڑک اٹھی تھی۔ یہ خوبصورت مسجد سن 715ء میں تعمیر کی گئی تھی اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔

شامی تنازعے کے شروع میں بھی انہی وجوہات کے باعث امریکا اور مغربی اتحادی متذبب دکھائی دے رہے تھے۔ یہ ممالک شامی باغیوں کی حمایت اور معاونت بھی کرنا چاہتے تھے لیکن ساتھ میں یہ خطرہ بھی تھا کہ کہیں غلطی سے وہ جہادیوں کو اسلحہ نہ فراہم کر بیٹھیں۔ اسی پالیسی کے باعث شام میں ایک نہیں کئی اپوزیشن اور باغی گروہوں نے جنم لیا جس کے باعث خانہ جنگی ختم ہونے کے بجائے پھیلتی چلی گئی۔ جس کے نتیجے میں صرف باغی اور جہادی ہی نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں عام شہری بھی مارے گئے۔ شام میں ایسی تباہی اور ایسے بھیانک مناظر سامنے آئے جن کی مثال حالیہ عالمی تاریخ کسی اور جنگ میں نہیں ملتی۔

‘محض بیان بازی سے کام نہیں چلے گا‘
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان غلطیوں سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ مغرب کی ناپختہ عسکری مداخلت کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، وہ ہم لیبیا اور عراق میں دیکھ چکے ہیں۔ یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ مغرب اب کسی طویل مدتی اور تعمیری عسکری کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ مغربی ممالک شام میں عسکری کارروائیوں کو روس اور ایران کے ہاتھوں میں بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ اب شامی صورت حال میں بہتری کے لیے مغرب کے کردار کا قصہ ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔

مغرب کو لیکن اب یہ ضرور سیکھنا ہو گا کہ آئندہ کسی تنازعے میں جب وہ کسی ملک یا آمر کو خبردار کریں تو اس کے ساتھ ساتھ انہیں عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں کیا ردِ عمل دکھانا ہے، اس بات پر بھی پوری تیاری کے ساتھ ایک جامع لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ یا دوسری صورت میں انہیں کسی بھی معاملے میں مداخلت کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ محض بیان جاری کرنے کا زمانہ گزر چکا، ان باتوں سے تنازعات حل نہیں ہوتے، مزید بگڑ جاتے ہیں۔

بشکریہ DW اردو

ٹرمپ نے وزیر خارجہ کو بھی فارغ کر دیا

امریکی صدر نے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو اُن کے منصب سے ہٹا دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اب سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو امریکا کے نئے وزیر خارجہ ہوں گے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ چند پالیسی معاملات پر اختلافات گزشتہ برس سے جاری تھے۔ امریکی میڈیا نے انہی کے تناظر میں کہنا شروع کر دیا تھا کہ ٹلرسن کسی بھی وقت منصب سے ہٹائے جا سکتے ہیں یا وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ ان خبروں پر ہمیشہ ٹلرسن کا کہنا تھا کہ ان کا صدر سے کوئی اختلاف نہیں اور وہ بدستور اپنے ملک کے وزیر خارجہ ہیں لیکن ساری صورت حال واضح ہو گئی ہے۔

ٹلرسن کی جگہ اگلے وزیر خارجہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو کو مقرر کیا گیا ہے۔ پومپیو کے وزیر خارجہ بنائے جانے کی بھی رپورٹیں ذرائع ابلاغ پر آتی رہی تھیں۔ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ سے تمام سابقہ رپورٹوں کو تصدیق کر دی۔ ٹرمپ کے مطابق پومپیو اس منصب پر اپنے فرائض شاندار انداز میں سرانجام دیں گے۔ امریکی صدر نے ریکس ٹلرسن کی بطور وزیر خارجہ خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے اُن کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے خفیہ ادارے سی آئی اے کی سربراہ کے طور پر ایک خاتون جینا ہاسپل کو نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہاسپل پہلی امریکی خاتون ہوں گی جو اِس اہم ادارے کی سربراہی سنبھالیں گی۔

ٹلرسن کو منصب سے ہٹانے اور سی آئی اے کی سربراہی میں تبدیلی کو امریکی صدر کی انتظامیہ میں ایک بہت بڑے تبدیل شدہ منظرنامے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سابق وزیر خارجہ اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات کی ابتدائی خبریں گزشتہ برس اکتوبر میں گردش کرنا شروع ہو گئی تھیں۔ ٹلرسن منصب وزارت خارجہ سنبھالنے سے قبل ایکسون موبیل ادارے کے چیف ایگزیکٹو تھے۔ یہ امر اہم ہے کہ ٹرمپ نے چند مرتبہ کھلے عام سبکدوش ہونے والے وزیر خارجہ کی سرگرمیوں اور اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ اس میں خاص طور پر روس کے حوالے سے جاری پالیسی پر اختلافات کا امریکی میڈیا ذکر کرتا رہا تھا۔ مائیک پومپیو امریکا کے سترویں وزیر خارجہ ہوں گے۔ انہوں نے جنوری سن 2017 میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر کا منصب سنبھالا تھا۔ پچپن سالہ پومپیو کا تعلق ریاست کنساس سے ہے اور وہیں سے وہ ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے تھے۔