امریکہ فوجی کارروائی کا نتیجہ مکمل جنگ ہو گا – شمالی کوریا

شمالی کوریا میں اعلیٰ حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی
کشیدگی اور بین الاقوامی مذمت کے باوجود شمالی کوریا اپنے میزائل تجربے جاری رکھے گا۔ شمالی کوریا کے نائب وزیرِ خارجہ ہان سونگ ریول کا کہنا تھا کہ ’ہم ہفتہ وار، ماہانہ، اور سالانہ بنیادوں پر اپنے تجربے جاری رکھیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اس قدر غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ فوجی کارروائی کرے تو اس کا نتیجہ مکمل جنگ ہو گا۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر مائیک پینس کا کہنا تھا کہ امریکہ کا شمالی کوریا کے حوالے سے سٹریٹیجک صبر کا دور ختم ہو گیا ہے۔

وہ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل کے تجربے کے چند ہی گھنٹوں بعد جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول پہنچے تھے۔ امریکہ اور شمالی کوریا کی جانب سے شعلہ بیان بازی کے بعد کوریائی جزیرہ نما پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کے اعلیٰ سکیورٹی مشیر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر بڑھتے تناؤ کے باعث امریکہ اور چین اس حوالے سے ‘کئی تجاویز’ پر غور کر رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر مک ماسٹر نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ چین کے ساتھ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ‘یہ وہ صورتحال ہے جسے مزید نہیں بڑھنا چاہیے۔’

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین اس مسلے پر ‘ہمارے ساتھ کام کر رہا ہے۔’ چین جو کہ شمالی کوریا کا سب سے بڑا اتحادی ہے اس وقت اپنے پڑوسی ملک پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی دباؤ میں آ گیا ہے۔

شمالی کوریا کی جنگی تیاریاں

خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس مختلف رینج کے 1000 میزائل ہیں جن
میں انتہائی طویل رینج کے ایسے میزائل بھی شامل ہیں جو مستقبل میں امریکہ کو نشانہ بنانے کے قابل ہو سکیں گے۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ٹیکٹیکل آرٹلری راکٹوں سے شروع ہونے والا شمالی کوریا کا میزائل پروگرام گذشتہ چند دہائیوں میں کافی پیشرفت کر چکا ہے اور اب پیانگ یانگ کے پاس شارٹ اور میڈیم رینج کے بلسٹک میزائل ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے اس سے بھی زیادہ رینج کے میزائلوں پر تحقیق اور تیاری کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں شمالی کوریا نے اعلان کیا تھا وہ بین البراعظمی رینج کے میزائل تیار کر رہا ہے جن میں مغربی ممالک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہو گی۔

میزائلوں کی رینج

شارٹ یا کم رینج میزائل: ایک ہزار کلومیٹر سے یا اس سے کم

میڈیم یا درمیانی رینج میزائل: ایک ہزار سے تین ہزار کلومیٹر

انٹرمیڈیٹ یا متوسط رینج: تین ہزار سے پانچ ہزار کلومیٹر

انٹر کانٹنینٹل یا بین البراعظمی رینج: ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر سے زیادہ

بذریعہ: فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹ

شارٹ یا کم رینج میزائل

شمالی کوریا کا جدید میزائل پروگرام سکڈ میزائلوں سے شروع ہوا تھا جن کی پہلی کھیپ مبینہ طور پر 1976 میں مصر سے منگائی گئی تھی۔ 1984 تک شمالی کوریا اسی طرز کے واسونگ نامی میزائل تیار کر رہا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کم رینج کے متعدد قسم کے میزائل ہیں جو کہ ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ دونوں کوریائی ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور قانونی طور پر دونوں ایک دوسرے کے خلاف حالتِ جنگ میں ہیں۔

امریکہ میں ’سنٹر فار نان پرولفریشن سٹڈیز‘ کے مطابق واسونگ ۔5 اور واسونگ 6 کی بالترتیب 300 اور 500 کلومیٹر کی رینج ہے۔ یہ میزائل روایتی وار ہیڈ استعمال کرتے ہیں مگر ان میں کیمیائی، بائیولوجیکل، اور جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ ان دونوں میزائلوں کو ٹیسٹ کیا جا چکا ہے اور واسونگ ۔6 ایران کو بھی بیچا جا چکا ہے۔

درمیانی رینج کے میزائل

1980 کی دہائی میں شمالی کوریا نے ایک نیا درمیانی رینج کا میزائل، نوڈانگ تیار کرنا شروع کیا جس کی رینج تقریباً 1000 کلومیٹر تھی۔ یہ میزائل بھی سکڈ میزائل کے ڈیزائن پر تیار کیا گیا مگر اس کا حجم 50 فیصد زیادہ تھا اور اس کا انجن زیادہ طاقتور تھا۔ انٹرنیشل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے اپریل 2016 کے جائزے میں کہا گیا کہ یہ میزائل ایک ٹیسٹ شدہ نظام کے تحت لائے گئے ہیں اور یہ جنوبی کوریا کے تمام اور جاپان کے بیشتر علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ شمالی کوریا نے اکتوبر 2010 میں انھیں میزائلوں میں جدت لا کر ان کی رینج 1600 کلومیٹر تک کر دی جس کے نتیجے میں یہ جاپانی جزیرے اوکیناوا میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نوڈنگ کو 2006، 2009، 2014، اور 2016 میں ٹیسٹ کیا گیا۔

متوسط رینج کے میزائل

شمالی کوریا کئی سالوں سے موسودان نامی میزائل کے تجربے کر رہا ہے اور آخری مرتبہ انھیں 2016 میں ٹیسٹ کیا گیا۔ ان میزائلوں کی رینج کے بارے میں اندازوں میں کافی تضاد ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ان کی رینج 2500 کلومیٹر ہے جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی رینج 3200 کلومیٹر ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق کے 4000 کلومیٹر تک نشانہ بنا سکتے ہیں۔

نوڈنگ۔ بی یا ٹیپوڈونگ۔ایکس نامی میزائل شمالی کوریا اور جاپان دونوں کے تمام علاقوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس کی رینج کی حد میں گوام میں امریکی فوجی اڈے بھی آتے ہیں۔ وار ہیڈ کے حوالے سے ان میزائلوں کی صلاحیتوں کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں مگر خیال کیا جاتا ہے کہ ایک سے سوا ایک ٹن کا وار ہیڈ لے جا سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’زمین سے زمین تک مار کرنے والا میڈیم ٹو لانج رینج کے بلسٹک‘ میزائل بھی تیار کیے ہیں۔ اس طرز کے پکگکسونگ کا اگشت 2016 میں تجربہ کیا گیا جسے ایک آبدوز سے لانچ کیا گیا۔

پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ انھوں اس کے لیے سالڈ ایندھن استعمال کیا جس کے ذریعے اسے لانچ کرنے کا عمل جلدی ہو سکے گا۔ تاہم اس کی رینج کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

بین البراعظمی بلسٹک میزائل

شمالی کوریا اپنا طویل ترین رینج کا میزائل تیار کر رہا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ موبائل لانچر سے داغا جا سکے گا اور اس کا نام کے این ۔ 08 ہو گا۔ اس پیشرفت کا ابتدائی اندازہ اس وقت لگایا گیا جب ستمبر 2016 میں شمالی کوریا نے ایک نیا راکٹ انجن ٹیسٹ کیا جو کہ ایک بین البراعظمی بلسٹک میزائل پر لگایا جا سکے گا۔ امریکی وزارتِ دفاع کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کم از کم چھ کے این_08 میزائل ہیں جو کہ امریکہ کے بیشتر علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا نے اس سے بھی زیادہ رینج والا کے این۔ 14 تیار کر لیا ہے مگر اسے کبھی عوامی سطح پر ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ جنوری 2017 میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک بین البراعظمی بلسٹک میزائل تیار کرنے کے آخری مراحل میں ہے۔

ایسا بم کیوں استعمال کیا گیا، اس وقت ہی کیوں؟

جب افغانستان کے شمالی ضلع شنوار کے پولیس افسر کریم نے دھماکے کی آواز سنی تو وہ اس کی شدت کی وجہ سے کچھ دیر کیلئے ششدر رہ گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ‘میں نے اس قبل ایسا کچھ نہیں سنا تھا’۔ وہ اور اس کے ساتھی یہ نہیں جاتے تھے کہ کس چیز کی آواز ہے لیکن انھیں یہ معلوم تھا کہ انھیں رد عمل ظاہر کرنا چاہیے۔ ‘ہم سمجھے کہ یہ خود کش دھماکا ہے’ لیکن یہ نہیں تھا۔ یہ آواز 300 ملین ڈالر کی رقم سے تیار ہونے والے 21600 پاؤنڈ وزنی بم ‘جی بی یو 43’ کی تھی جو امریکا نے ضلع اچن میں داعش کے تھکانے پر گرایا تھا۔ امریکی اور افغان حکام کے مطابق جمعرات کو ہونے والے بم حملے، اس بم کو ‘تمام بموں کی ماں’ کے نام سے پکارا جاتا ہے، کا مقصد دہشت گرد تنظیم داعش کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانا تھا۔

 

ننگرہار میں ہونے والے اس امریکی حملے کی خبر تیزی سے پورے افغانستان میں پھیل گئی، کابل اور صوبہ ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں مقامی افراد نے اس پر یقین کرنے سے انکار کیا۔ جلال آباد کے ایک رہائشی داؤد کا کہنا تھا کہ ‘میں اس پر یقین نہیں کر سکتا ہوں، ایسا بم کیوں استعمال کیا گیا، اس وقت کیوں؟’

دوسری جانب طالبان نے بم حملے کی مزمت کرتے ہوئے اسے غیر انسانی اور غیر ملکی فورسز کی ناقابل قبول کارروائی قرار دیا، یاد رہے کہ طالبان اور داعش ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں ان کے درمیان طویل جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ جس میں دونوں فریقین کو نقصان اٹھانا پڑا۔

گذشتہ 15 روز کے دوران ایک درجن سے زائد آپریشنز کے بعد امریکا کی جانب سے یہ بم حملہ کیا گیا جو داعش کیلئے ایک فیصلہ کن دھچکا ہو سکتا ہے۔ افغان اور امریکی فورسز نے گاؤں اسد خیل کے مذکورہ علاقے کو اس حملے سے قبل بند کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بم دھماکے سے قبل علاقے کو عام شہریوں سے خالی کرا لیا گیا تھا۔ نورجان، جس کے قریبی عزیز جن میں ایک 60 سالہ شخص اور 3 بچے شامل ہیں علاقے میں جاری آپریشن کے دوران ہلاک ہو گئے تھے، کا کہنا تھا کہ شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کیلئے خبردار کیا گیا تھا۔

انھوں نے اپنے موبائل پر موجود ایک کارڈ کی تصویر کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ‘سیکیورٹی فورسز نے لوگوں کو کارڈ نکال کر دیے اور علاقہ خالی کرنے کو کہا’۔ خیال رہے کہ گذشتہ 3 سال کے دوران ضلع اچن اور اس کے اطراف کے اضلاع میں موجود شہری، علاقہ خالی کرنے پر مجبور کیے گئے جیسا کہ داعش زمین حاصل کرنا چاہتی تھی۔ علاقے میں داعش کے خلاف دو ہفتوں سے جاری آپریشن میں شریک ایک سپاہی کا کہنا تھا کہ ‘داعش نے انھیں کہا تھا کہ اگر کوئی جائے گا تو وہ بھول جائے کہ کبھی اپنے علاقے میں واپس لوٹ پائے گا’۔ افغانستان میں امریکی فورسز کے کمانڈر جان نکلسن نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ واشنگٹن اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہا ہے کہ کسی شہری کو نقصان نہ پہنچے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘علاقے میں ہمارے پاس امریکی فورسز موجود ہیں اور ہمیں کسی شہری کی ہلاکت کے ثبوت نہیں ملے ہیں اور نہ ہی ایسا کچھ رپورٹ ہی ہوا ہے’۔ امریکی فورسز اب بھی لڑائی میں مصروف ہیں جیسا کہ دن بھر بم دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ مقامی افراد جو اس مقام کے قریب موجود ہیں میڈیا سے بات کرنے کیلئے تیار نہیں اور اس بات پر زور دے دہے ہیں کہ انھوں نے کچھ نہیں سنا اور نہ ہی کچھ دیکھا۔ تاہم مقامی اور غیر ملکی میڈیا سے تعلق رکھنے والے افغان صحافی اب بھی علاقے میں جانے کیلئے منتظر ہیں کیونکہ امریکی ہیلی کاپٹر اب بھی اس علاقے پر پرواز کر رہے ہیں اور بم حملے میں ہلاکتوں کی درست تعداد کے بارے میں اب بھی یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

(نوٹ: یہ رپورٹ ننگرہار کے ضلع اچن میں موجود علی محمد لطیفی نے تحریر کی)

یہودیوں میں دہشت پھیلانے والا یہودی لڑکا نکلا

امریکی میڈیا کے پروپیگنڈے نے مسلمانوں اور دہشت گردی کو لازم و ملزوم بنا رکھا ہے چناں چہ اکثر امریکی یہی دعویٰ کرنے لگے کہ شدت پسند مسلمان ایک قدامت پسند عیسائی کے صدر بننے سے ناراض ہیں لہٰذا اب وہ یہود پر اپنا غصّہ اتارنا چاہتے ہیں۔ امریکا میں کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ ایک یہودی بھی اپنے ہم مذہبوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کر سکتا ہے۔ آخر میں یہی سچائی طشت ازبام ہوئی۔ جب امریکی خفیہ ایجنسی نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ کالیں کرنے والا ’’سپوف کارڈ‘‘ (SpoofCard) کی مدد سے کال کرتا ہے۔ امریکا کی ایک کمپنی، ٹیل ٹیک سپوف کارڈ کی سروس فراہم کرتی ہے۔ اس سروس کی مدد سے فون کال کرنے والا اپنی شناخت چھپا سکتا ہے۔ چناں چہ یہ پتا نہیں چلتا کہ کال کہاں سے ہوئی۔

امریکی خفیہ اداروں نے عدالت سے حکم لیا اور ٹیلی ٹیک پہنچ  گئے تا کہ کالر کے حقیقی نمبر کا پتا چل سکے۔ وہاں نیا انکشاف ہوا کہ کالر گوگل وائس سروس سے کالیں کرتا ہے۔ اس عیار کالر نے جعلی نام سے سروس حاصل کر رکھی تھی اور یہ کہ وہ دو تین بار کالیں کرنے کے بعد نیا اکاؤنٹ کھول لیتا تھا۔ ٹیل ٹیک اور گوگل کی سرور لاگز بھی کالر تک پہنچنے کے سلسلے میں امریکی خفیہ اداروں کی کوئی مدد نہ کر سکیں۔ کالر دنیائے انٹرنیٹ میں انونیمس پراکسی سرور کے ذریعے گھومتا پھرتا تھا جو بیرون ممالک واقع تھے۔ کالر اتنا چالاک و کائیاں تھا کہ اس نے سپوف کارڈ کا ایک آپشن استعمال کرتے ہوئے اپنی آواز مردانہ سے نسوانی بنا لی ۔ سپوف کارڈ سروس پانے کی خاطر رقم خرچنا پڑتی ہے۔ اس معاملے میں بھی کالر اپنی شناخت عیاں کیے بغیر سروس پانے میں کامیاب رہا۔ اس نے اپنا کریڈٹ کارڈ استعمال نہیں کیا بلکہ سپوف کارڈ انٹرنیٹ کرنسی، بٹ کوائن خرچ کر کے خریدا۔

یہ عیاں تھا کہ کالر اپنے آپ کو چھپانے والی جدید ترین ٹیکنالوجیوں سے بخوبی آشنا ہے۔ مگر مجرم کتنا ہی عیار و مکار ہو، وہ جرم کرتے ہوئے ایسی کوئی چھوٹی غلطی ضرور کر جاتا ہے جو قانون کو اس تک پہنچا دیتی ہے۔ یہودی طبقے میں خوف کی لہر پھیلا دینے والے کالر سے بھی ایسی ہی کوتاہی سرزد ہو گئی۔ ایک بار کالر نے واشنگٹن کے جیوش کمیونٹی سینٹر میں دھمکی آمیز کال کی تو وہ انونیمس پراکسی سرور پر موجود نہ تھا۔ چناں چہ اس کا حقیقی آئی پی ایڈریس ریکارڈ ہو گیا۔ تبھی امریکی خفیہ اداروں کو علم ہوا کہ یہ ایڈریس اسرائیل کا ہے۔ چناں چہ انہوں نے اسرائیلی خفیہ اداروں سے رابطہ کر لیا۔

اسرائیل میں تفتیش ہوئی، تو انکشاف ہوا کہ یہ ایڈریس ساحلی شہر، عسقلان میں واقع ہے۔ خفیہ پولیس وہاں پہنچی، تو پتا چلا کہ مائیکل قیدار نامی انیس سالہ لڑکا ایک وائی فائی ایسیس پوائنٹ سے انٹرنیٹ چرا کر استعمال کر رہا ہے۔ اس نے انٹرنیٹ چرانے کی خاطر گھر کی کھڑکی پر دیوہیکل انٹینا لگا رکھا تھا۔ خفیہ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ جب امریکا میں یہود کو خبر ہوئی کہ ان کے کمیونٹی سینٹروں اور اسکولوں میں دھمکی آمیز کالیں کرنے اور خوف پھیلانے والا مجرم ایک یہودی ہے، تو دنگ رہ گئے۔ وہ تو یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ یہ شدت پسند مسلمانوں کی حرکت ہے۔

مائیکل قیدار سے اسرائیلی و امریکی خفیہ ادارے تحقیق کر رہے ہیں۔ اب تک واضح نہیں ہو سکا کہ انیس سالہ لڑکا اپنی ہی قوم کے خلاف کیوں ہو گیا؟ شاید معصوم فلسطینیوں پر اسرائیلی حکومت کے مظالم دیکھ کر اس کا ضمیر جاگ اٹھا اور وہ اپنے ہم وطنوں کے خلاف کارروائیاں کرنے لگا۔ ایک قوم جتنے مرضی مظالم ڈھالے، آخر اس کے اندر ہی سے حق و انصاف کی آوازیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ شاید مائیکل قیدار انہی آوازوں کا ایک نمائندہ بن گیا۔

ع ۔ محمود

این ایس اے نے پاکستانی موبائل نیٹ ورکس کیسے ہیک کیے ؟

کچھ عرصہ قبل رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ امریکا کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) نے پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کی جاسوسی کی اور اب وکی لیکس نے اس دعوے پر مہر ثبت کردی۔ اپنی ایک ٹوئیٹ میں وکی لیکس نے بد نام زمانہ ہیکر گروپ شیڈو بروکرز کی جانب سے لیک کیے گئے ڈیٹا کا حوالہ دیا، جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ کس طرح این ایس اے نے پوری دنیا میں ذرائع مواصلات کی جاسوسی کے طریقے استعمال کیے، جبکہ اس میں وہ کوڈ بھی بتایا گیا جس کے ذریعے پاکستان کے موبائل نیٹ ورک سسٹم کو ہیک کیا گیا۔

اصل ڈیٹا مذکورہ ہیکر گروپ کی جانب سے گذشتہ برس اگست میں ڈمپ کیا گیا تھا، جس میں وہ ٹولز بھی شامل تھے، جنھیں مبینہ طور پر این ایس اے نے جاسوسی کے لیے استعمال کیا، اس ڈیٹا میں خفیہ فائلز کا سیٹ بھی شامل تھا۔ اس سے قبل سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ ان معلومات کو پوسٹ کرنا بے چینی پیدا کر سکتا ہے۔   مبینہ طور پر ہیکر گروپ کی جانب سے استعمال ہونے والے اکاؤنٹ پر گروپ کا کہنا تھا کہ دلچسپی لینے والی پارٹیوں کو بِٹ کوئن کرنسی کے ذریعے نیلامی میں حصہ لینے کے لیے ایڈوانس میں فنڈ بھیجنا ہو گا اور ناکامی کی صورت میں انھیں رقم بھی واپس نہیں ملے گی۔

ہفتہ (8 اپریل) کو شیڈو بروکرز نے ان خفیہ فائلز کے لیے ایک پاس ورڈ بھی جاری کیا، جس کے ذریعے ڈیٹا بیس تک عوامی رسائی ممکن ہو سکے گی۔ اس سے قبل دی انٹرسیپٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) مبینہ طور پر پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت کی انٹرنیٹ کے ذریعے جاسوسی کرتی رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق این ایس اے نے ‘سیکنڈ ڈیٹ’ (SECONDDATE) نامی ٹول کے ذریعے پاکستان کے سول-ملٹری کمیونکیشن ذرائع کی مبینہ طور پر جاسوسی کی، واضح رہے کہ یہ کوڈ ہیکرز گروپ شیڈو برکروز کی جانب سے لیک کیا گیا تھا۔

اس سے قبل جولائی 2104 میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق سابق صدر براک اوباما نے امریکہ کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کو دنیا کے 193 ممالک کی جاسوسی کی اجازت دی تھی، جبکہ صرف برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو این ایس اے کی جاسوسی سے مثتثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔

امریکہ میں خواتین سے امتیازی سلوک

خواتین سے امتیازی سلوک پاکستان میں نہیں دنیا بھر میں عام ہے۔ باوجود کوشش کے اس امتیاز کو کوئی ملک ختم نہیں کرا سکتا۔ حتیٰ کہ امریکہ کے بعض حصوں میں شاید پاکستان سے بھی زیادہ امتیاز برتا جاتا ہے۔ بعض خواتین کو مردوں کے مقابلے میں آدھی سے کچھ زیادہ یعنی 56 فیصد تنخواہ دیتے ہیں۔ امریکہ کی کسی ریاست میں خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کے باوجود ان کے برابر تنخواہ نہیں ملتی ۔ امریکہ میں 15 لاکھ مرد غربت میں ہیں وہیں 46 لاکھ خواتین بھی غربت میں جکڑی ہوئی ہیں۔غریب خواتین کی تعداد غریب مردوں سے تین گنا ہے۔ یہ وہی خواتین ہے جو مردوں جیسے فرائض انجام دینے کے باوجود ان کے برابر تنخواہ سے محروم ہیں۔ 4 اپریل کو’’ برابر تنخواہ کا دن‘‘ منایا گیا۔

اسی تنخواہ کی مناسبت سے مردوں اور خواتین کی تنخواہوں کے تقابلی کا جائزے کا ایک ڈیٹا جمع کیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق خواتین کو مرد سے مجموعی طور پر760 ڈالر فی ہفتہ کم اجرت ملتی ہے۔ ملازم پیشہ خواتین کی تعداد کو اس سے ضرب دے کرخواتین کو پہنچنے والے اربوں ڈالر کے نقصان کاتخمینہ لگایا جا سکتا ہے۔ بیورو برائے شماریات نے سیاہ فام اور ہسپانوی عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گورے مرد کو ایک ڈالر اور ویسا ہی کام کرنے والی ہسپانوی عورت کو 54 سینٹ اور سیاہ فام عورت کو 63 سینٹ ملتے ہیں۔ ایشیائی اور دوسرے خطوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی زیادتیوں کا شکار ہیں اور یہ صورتحال 1960ء سے جاری ہے ۔

بیورو شماریات نے انکشاف کیا ہے کہ 1960ء میں ایک ڈالر کے مقابلے میں عورت کو 61 سینٹ ملتے تھے۔ اب بھی 64 سینٹ ملنے کا مطلب یہ ہے کہ صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ۔ یہ زیادتی کسی ریاست میں کم اور کسی ریاست میں زیادہ ہے۔ ہر شعبے کی صورتحال بھی مختلف ہے۔ بیس شعبوں میں خواتین سے امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے منصفانہ اصولوں کی عمل داری پر زور دیا جا رہا ہے۔ امریکی خواتین مردوں کی اجارہ داری والے شعبوں میں نوکری کرنے سے گریز کرتی ہے۔ صرف ساڑھے چھ فیصد خواتین ایسے شعبوں سے منسلک ہیں۔ اسی طرح مرد بھی خواتین کی اجارہ داری والے شعبے سے کتراتے ہیں۔ ان کا تناسب محض پانچ فیصد ہے ،بہت مجبوری کی صورت میں وہ خواتین کے ماتحت کام کرنا پسند کرتے ہیں۔

ٹاما ہاک کروز میزائل کیا ہے؟

امریکہ نے سات اپریل کو شام کے فضائی اڈے پر 59 ٹاما ہاک کروز میزائل داغے۔ اپنی رینج اور صحیح ہدف پر لگنے کے لیے مشہور ٹاما ہاک کروز میزائل امریکی اسلحے میں 1983 سے ہے اور کئی فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا جا چکا ہے۔

ٹاما ہاک کروز میزائل کی تاریخ

ٹاما ہاک میزائل امریکہ کا تیار کردہ میزائل ہے جو جی پی ایس گائیڈنس کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچتا ہے۔  یہ میزائل تقریباً 21 فٹ لمبا ہوتا ہے اور اس کا وزن تقریباً ڈیڑھ ٹن ہوتا ہے۔ ایک بار یہ میزائل داغ دیا جاتا ہے تو اس کا ٹربو انجن کام کرنا شروع کر دیتا ہے اور اس کے پّر کھل جاتے ہیں اور یہ 500 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتا ہے۔ اپنے ہدف کے قریب پہنچنے پر یہ میزائل 100 فٹ کی بلندی یا اس سے کم پر آ جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں ٹاما ہاک کروز میزائل دور مار کرنے، صحیح ہدف پر مار کرنے کے لیے مشہور ہے۔

ٹاما ہاک کروز میزائل منفرد کیوں؟

ٹاما ہاک کروز میزائل اپنے حجم، رفتار، فاصلے اور ٹریجیکٹری کے حوالے سے دوسرے میزائلوں سے منفرد ہے۔ روایتی طور پر جہاز سے گرائے جانے والے بم عین ہدف پر نہیں گرتے۔ دوسری جانب بیلسٹک میزائل جیسے کہ سکڈ دور مار کر سکتے ہیں اور زیادہ تیز رفتار ہوتے ہیں لیکن ان کو لانچ کرنے کے لیے بڑا لانچنگ پیڈ درکار ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیلسٹک میزائل کو خفیہ طور پر فائر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برعکس ٹاما ہاک کروز میزائل چھوٹا ہے اور دیگر میزائلوں کے مقابلے میں کم بلندی پر پرواز کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کی نشاندہی اور اس کو مار گرانا مشکل ہے۔

ٹاما ہاک کروز میزائل کی تیاری

ٹاما ہاک کروز میزائل کی تیاری کا کام 40 کی دہائی میں ہوا لیکن پولارس بیلسٹک میزائل پروگرام کے آغاز کے باعث اس کی تیاری کو روک دیا گیا۔ ٹیکنالوجی کے باعث ٹاما ہاک کروز میزائل کی تیاری کا کام دوبارہ 70 کی دہائی میں شروع ہوا اور دفاعی کانٹریکٹر مک ڈونل ڈگلس نے 1983 میں اس کو تیار کیا۔ ابتدا میں تین قسم کے ٹاما ہاک کروز میزائل بنائے گئے: بحری جہاز کو مارنے کے لیے جس پر روایتی وار ہیڈ تھا اور دو زمین پر مار کرنے والے میزائل جس میں سے ایک پر روایتی اور دوسرے پر ایٹمی وار ہیڈ تھا۔ تاہم آج کل روایتی وار ہیڈ والا زمین پر مار کرنے والا ٹاما ہاک کروز میزائل استعمال کیا جا رہا ہے۔

ٹاما ہاک کروز میزائل کا استعمال

ٹاما ہاک میزائل پہلے بار 1991 کی خلیجی جنگ میں استعمال کیا گیا۔ جنوری 17 کو یو ایس ایس پال ایف فوسٹر سے 300 میزائل داغے گئے اور بعد میں دیگر امریکی بحری جہازوں اور آبدوزوں سے مزید ٹاما ہاک کروز میزائل داغے گئے۔

پہلی خلیجی جنگ کے بعد اس میزائل کی تیاری تیز کر دی گئی اور 90 کی دہائی میں سینکڑوں ٹاما ہاک کروز میزائل استعمال کیے گئے۔ دسمبر 16 1998 میں آپریشن ڈیزرٹ فوکس کے دوران 415 ٹاما ہاک میزائل داغے گئے۔ سربیا اور مانٹونیگرو میں آپریشن کے دوران نیٹو نے یہ بھی میزائل استعمال کیے۔ 2003 میں عراقی پر حملے کے علاوہ صومالیہ، افغانستان اور لیبیا میں آپریشن کے دوران کم از کم 800 ٹاما ہاک کروز میزائل داغے گئے۔

تنازع

تاہم ٹاما ہاک کروز میزائل تنازعات سے نہیں بچ سکا۔ 17 دسمبر 2009 میں یمن پر فائر کیے گئے میزائل سے 41 شہری ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی تھی۔ اگرچہ امریکہ اور یمن دونوں ہی نے میزائل حملے کی تردید کی لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل اور بعد میں وکی لیکس میں انکشاف کیا گیا کہ یہ میزائل امریکی ٹاما ہاک کروز میزائل تھے جو امریکی بحری جہاز سے داغے گئے۔

ٹاما ہاک کی قیمت

ماہرین کے مطابق ایک ٹاما ہاک کروز میزائل کی قیمت 10 لاکھ ڈالر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ نے شام کے فضائی اڈے پر پانچ کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے میزائل داغے۔ ایک اندازے کے مطابق 1983 سے لے کر اب تک دو ہزار ٹاما ہاک کروز میزائل استعمال کیے جا چکے ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو

انفارمیشن اور میڈیا وار : آخر روس چاہتا کیا ہے؟

روس پر الزام ہے کہ اس نے گذشتہ سال ڈیمو کریٹ پارٹی کی ای میلز افشا کر کے اور سوشل میڈیا کے ذریعے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی۔ حالیہ برس یورپ کے کئی ملکوں میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ ایسے میں فرانس، جرمنی اور دوسرے ملکوں کے رہنماؤں کو تشویش ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی امریکہ جیسا حال نہ ہو۔ یورپ بھر کو فکر ہے کہ روس ریاستی اداروں پر سائبر حملوں، ‘جعلی خبریں’ پھیلانے اور مخالف دھڑوں کی فنڈنگ سے نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہ خطرہ کس قدر حقیقی ہے اور یہ کیا شکل اختیار کر سکتا ہے؟ کیا اس سوال کا جواب روس کے چیف آف جنرل سٹاف والیری گیراسیموف کے اس بیان میں مل سکتا ہے جو انھوں نے 2013 میں دیا تھا؟ ‘غیرفوجی ذرائع کی مدد سے سیاسی اور دفاعی اہداف کا حصول بڑھ رہا ہے، اور بسا اوقات اس کا اثر ہتھیاروں سے بڑھ کر ہوتا ہے۔’

انفارمیشن کی جنگ میں نیا کیا ہے؟

انفارمیشن یا معلومات کی جنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن تنازعات پر تحقیق کے ادارے کے کیر جائلز کہتے ہیں کہ روس کی جانب سے اس جنگ میں نئے ہتھکنڈے اختیار کیے گئے ہیں۔ ‘پہلی اور دوسری چیچن جنگ میں اور جارجیا کے خلاف 2008 کی جنگ میں روس کو معلوم ہوا کہ وہ آپریشنل یا سٹریٹیجک لحاظ سے عالمی رائے عامہ اور اپنے دشمنوں کے نقطۂ نظر کو تبدیل نہیں کر سکتا، اس لیے اس نے انفارمیشن کی جنگ میں بڑی پیمانے پر تبدیلیاں کیں۔ ‘جارجیا کی جنگ میں اسے معلوم ہوا کہ عالمی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے لیے اور انٹرنیٹ سے صحیح طور پر فائدہ اٹھانے کے لیے بہت بڑے پیمانے پر بھرتیوں کی ضرورت ہے تاکہ ماہرینِ لسانیات، صحافیوں، اور کسی بھی ایسے شخص کو بھرتی کیا جائے جو باہر کے ملکوں کے شہریوں سے براہِ راست بات کر سکے۔’

یورپ میں کئی سائبر حملوں کا الزام روس سے تعلق رکھنے والے گروہوں پر لگایا گیا ہے۔ 2015 میں فرانس کے ٹی وی 5 موند پر سائبر حملہ ہوا اور اس کے سسٹم تقریباً تباہ کر دیے گئے۔ اسی سال روس کے APT 28 نامی ہیکنگ گروپ نے جرمنی کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں کا بڑے پیمانے پر ڈیٹا چوری کر کے افشا کر دیا۔ جرمنی میں داخلی انٹیلی جنس کے سربراہ نے کہا ہے کہ ستمبر 2017 کے جرمن انتخابات کو روسی سائبر حملے کا خطرہ ہے۔ ان انتخابات میں انگیلا میرکل چوتھی بار کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اکتوبر 2016 میں بلغاریہ میں ایک سائبر حملہ ہوا جس کو اس کے صدر نے جنوب مشرقی یورپ کا شدید ترین حملہ قرار دیا۔ اس سے قبل ایسٹونیا پر ڈی ڈی ایس حملہ ہوا جسے وزارتِ دفاع کے ترجمان نے نائن الیون کے مترادف قرار دیا۔

مخالف دھڑوں کی پشت پناہی

روس کی سینیئر سیاسی شخصیات طویل مدت سے یورپ میں یورپی یونین مخالف دھڑوں سے تعلقات رکھتی چلی آئی ہیں۔ 2014 میں فرانس میں مرین لی پین کے کٹر دائیں بازو کے دھڑے نیشنل فرنٹ کو ایک روسی بینک نے 90 لاکھ یورو کا قرض دیا۔ اب جب کہ فرانس میں صدارتی انتخابات صرف ایک ماہ دور ہیں، گذشتہ ہفتے لی پین نے روسی صدر پوتن سے ملاقات کی۔ ادھر فروری میں جرمنی کے کٹر دائیں بازو کی جماعت ‘جرمنی کے لیے متبادل’ (اے ایف ڈی) کے سربراہ نے ماسکو میں صدر پوتن کے قریبی سمجھے جانے والے ارکانِ پارلیمان سے ملاقاتیں کی۔ معاملہ صرف دائیں بازو تک محدود نہیں ہے۔ فرانس اور جرمنی دونوں میں کٹر بائیں بازو والے دھڑوں کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے روس سے روابط ہیں۔

جعلی خبریں

دشمن کو گمراہ کرنے کے لیے جان بوجھ کر غلط اطلاعات فراہم کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن جو چیز نئی ہے وہ ‘جعلی’ خبریں ہیں۔ یہ غلط اور گمراہ کن خبریں چھوٹی ویب سائٹوں یا اخباروں کی جانب سے نشر کی جاتی ہیں جن کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ ‘جُھوٹے’ مین سٹریم میڈیا کے متبادل کے طور پر درست خبریں فراہم کر رہے ہیں۔ امریکی انتخابات کے دوران ایسی خبریں خاص طور پر پھیلائی گئیں، لیکن یورپی ملکوں میں بھی یہ عام ہیں۔ جب روسی فوجوں نے 2014 میں کرائمیا پر حملہ کیا تو یوکرین کے رہنماؤں کو فاشسٹ قرار دے کر مداخلت کی توجیہ فراہم کی گئی۔ اٹلی میں ریفرینڈم سے چند ہفتے قبل روس کے سرکاری ٹی وی رشیا ٹوڈے نے روم کے ایک چوک پر ہونے والا جلسہ فیس بک لائیو کے ذریعے نشر کیا۔ اس ریفرینڈم کے نتیجے میں وزیرِ اعظم میتیو رینزی کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے۔

رشیا ٹوڈے نے کہا: ‘اطالوی وزیرِ اعظم کے خلاف روم میں زبردست احتجاج۔’ حالانکہ یہ جلسہ رینزی کے حق میں تھا۔ جرمنی میں ایک 13 سالہ لڑکی نے دعویٰ کیا کہ اسے کچھ لوگوں نے ریپ کیا ہے۔ روسی سرکاری ٹیلی ویژن نے یہ خبر اٹھا لی اور اسے بار بار نشر کرتا رہا۔ جرمنی میں چانسلر میرکل کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ خبر جھوٹی تھی۔ یورپی یونین کو اس بات پر اتنی تشویش ہے کہ اس نے ماہرین کا ایک یونٹ تشکیل دیا ہے جسے یہ ٹاسک سونپا گیا ہے کہ وہ ‘روس کی مسلسل ڈس انفارمیشن کی مہم’ کا توڑ نکالے۔

کیا واقعی یہ سب کچھ روس کر رہا ہے؟

روس اس کی تردید کرتا ہے۔ صدر ولادی میر پوتن کہتے ہیں کہ امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے روسی مداخلت کے الزامات مضحکہ خیز اور غیرذمہ دارانہ ہیں۔ وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے تو یہ تک کہا ہے کہ یہ سب کچھ سی آئی اے کروا کر اس کا الزام روسی ہیکروں پر دھر دیتی ہے۔ لیکن کیر جائلز کہتے ہیں: ‘روس اب اپنے نقشِ قدم چھپانے میں بھی زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہا۔’ وہ کہتے ہیں کہ روس کی امریکی انتخابات میں مداخلت کسی حد تک کھلم کھلا تھی اور اس نے کئی درجن مغربی صحافیوں کو سینٹ پیٹرزبرگ کے مشہورِ زمانہ ٹرول فارم کا دورہ بھی کروایا تھا۔

یورپی یونین کے ایک عہدہ دار نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘لازمی نہیں ہے کہ ہر چیز کریملن ہی سے آتی ہو۔ لیکن ایک ایسا نظام بنا دیا گیا ہے جہاں مختلف حصے تقریباً خود مختارانہ انداز میں کام کر رہے ہیں۔’ اس کے علاوہ ایسے عناصر بھی ہیں جو مالی فائدے کی خاطر ہیکنگ کرتے ہیں۔ تاہم یہ بات معنی خیز ہے کہ پروپیگنڈا کرنے والے صحافیوں کو نوازا جاتا ہے۔ چنانچہ کرائمیا کے روس کے ساتھ الحاق کی خبریں نشر کرنے والے 300 صحافیوں کو تمغے دیے گئے تھے۔

روس آخر چاہتا کیا ہے؟

بعض ماہرین کے نزدیک اس کا جواب آسان ہے، مزید طاقت۔ کارنیگی ماسکو سینٹر کے آندرے کولیسنیکوف کہتے ہیں کہ صدر پوتن اور ان کے حامیوں نے ‘مغرب کا تاثر بطور دشمن بنا رکھا ہے۔ ان کا مقصد عالمی رہنما بننا ہے، اپنی شرائط پر۔’ دوسری جانب ماریا لپ مین کہتی ہیں کہ ویسے تو روس میں مغرب مخالف تاثر حکومت نے قائم کر رکھا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی روس کے بطور ‘محصور قلعے’ کا تاثر بالکل بے بنیاد بھی نہیں ہے۔ وہ امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے روس پر عائد پابندیوں کے بارے میں کہتی ہیں کہ ان کا مقصد ‘روسی معیشت کو سزا دینا ہے۔’

سٹاک ہوم یونیورسٹی کے گونزالو پوزو مارٹن کہتے ہیں کہ روس میں پابندیوں کی کاٹ محسوس ہونے لگی ہے اور ساتھ ہی تیل کی کم ہوتی ہوئی قیمتوں نے روسی معیشت کو مزید متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس یورپ کے دائیں بازو کے لیے نرم گوشہ اس لیے پیدا کر رہا ہے کہ اسے پابندیوں کے خلاف لیورج کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ تاہم ان کا یہ بھی خیال ہے کہ روس چاہتا ہے کہ یورپی یونین زیادہ نرم ہو اور اس کا جھکاؤ مغرب کی جانب کم ہو۔ اس سے نہ صرف روس کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو گا بلکہ ‘اس سے روس کو اپنے سابق سوویت پڑوسیوں کے ساتھ معاملات میں نسبتاً کھلی چھٹی مل جائے گی۔’

بیکی برینفرڈ

بی بی سی نیوز

جنگ ویت نام کچھ نئے حقائق

امریکہ اور جاپان کی دوستی دنیا میں ایک مثال ہے۔ ہمیں وہ وقت بھی یاد ہے جب اسی جاپان کے خوبصورت شہر ناگا ساکی اور ہیرو شیما ایٹم بم کا نشانہ بنے تھے حال ہی میں’’ نیشنل انٹرسٹ ‘‘نامی ایک ادارے نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کو جنگ ویٹ نام میں دھکیلنے والا کوئی اور نہیں، اس کا آج کا دوست جاپان ہی تھا۔ اس ادارے نے تاریخی حقائق پر مبنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جاپان نے ویٹ نام کے ساتھ ساتھ کمبوڈیا اور لائوس کو بھی زیر نگیں کر لیا تھا۔ یہ علاقے قبل ازیں فرانسیسی نوآبادیاتی نظام کا حصہ تھے۔ برٹش رائل نیوی بھی اس نوآبادیاتی نظام کی حفاظت پر مامور تھی جس کا واحد مقصدان ممالک کو ہٹلر کے توسیع پسندانہ عزائم سے بچانا تھا۔

فرانس کو ہٹلر اور جاپان کی شکل میں دو دشمنوں کا سامنا تھا۔ نیشنل انٹرسٹ کے مطابق فرانس ہتھیار ڈالنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ جاپان نے haifone کی بندرگاہ کو جنوبی چین سے ملانے والی ریلوے لائن بند کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ اس ریلوے لائن کے ذریعے امریکہ جاپان مخالف قوتوں کو اسلحہ مہیا کر رہا تھا۔ اس وقت امریکہ انڈوچائنا کے ساتھ تھا اور جاپان مخالف قوتوں کو اسلحہ سپلائی کرتا تھا ۔70 ہزار زمینی دستوں، 15 لڑاکا طیاروں اور چند ٹینکوں کے ساتھ فرانس کے لیے انڈوچائنا پر قبضہ برقرار رکھنا ممکن نہ تھا۔ اگرچہ کمزور فرانس کے پاس جاپانی مطالبے کے سامنے جھکنے کے سواکوئی چارہ نہ تھا۔ مگر حیرت انگیز طور پر اس نے ریلوے لائن بند کرنے سے انکار کر دیا۔ فرانس کا انکار خطے میں بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن گیا۔ جاپان نے جنگی طیاروں کی مدد سے فرانسیسی فوج پر دھاوا بول دیا۔

ہزاروں فرانسیسی فوجی مارے گئے۔ چند ماہ کی خوفناک جنگ کے بعد ستمبر میں فرانس ، انڈوچائنا کے کئی حصے جاپانی فوج کے حوالے کر نے پر آمادہ ہو گیا۔ ان اڈوں پر جاپان نے ہزاروں فوجی دستے اور جنگی جہاز کھڑے کر دئیے ۔ جولائی میں جاپان ، انڈو چائنا کے باقی ماندہ حصے پر بھی قابض ہو گیا۔ امریکہ اس وقت غلطی کر گیا، انٹیلی جنس نیٹ ورک کی ناکامی کے باعث وہ جاپان کی عسکری طاقت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ نہ لگا سکا، چنانچہ امریکہ نے جاپانی فوج کی نقل و حمل روکنے کی خاطر تیل کی فراہمی پر پابندی لگوا دی۔ اس طرح تیل کی سپلائی پر پابندیوں کا آغاز 1941 میں امریکہ نے کیا ۔ جاپان بھی ان دنوں طاقت کے نشے میں تھا۔ اس لئے اس نے پرل ہاربر کا محاذ کھو ل دیا۔ جہاں ایک بڑی جنگ لڑی گئی۔ اسی دوران ہوچی منہ علاقائی سیاست پر ابھرے ۔

انہوں نے ویٹ نام میں ’’ویٹ من‘‘ کے نام سے ایک نئی سیاسی تحریک کی بنیاد ڈالی۔ یہ تحریک فرانس اور جاپان ، دونوں کیخلاف تھی۔ امریکی سی آئی اے تو ان دنوں تھی نہیں، یہ دوسرے جنگ عظیم کے بعد معرض وجود میں آئی، اس وقت’’ آفس آف دی سٹرٹیجک سروسز‘‘ نے ہوچی منہ اور ویٹ من کو سہولتوں کی فراہمی کا طریق کار طے کرنے خفیہ معلومات کے تبادلے کے لئے ایک ٹیم انڈوچائنا بھیجی۔ جس کی رپورٹ کی روشنی میں امریکہ نے ویٹ نام میں اپنی حکمت عملی ترتیب دی ۔ مارچ 1945ء میں جاپان انڈو چائنا میں فرانس کی کٹھ پتلی حکومت کاخاتمہ کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ فرانس کے لئے یہ بڑا سیٹ بیک تھا۔ جاپان نے اس طرح 80 سالہ نو آبادیاتی نظام کو بھی ملیا میٹ کر نا شروع کردیا ۔

فرانس کی جانب سے ہتھیار پھینکنے کے بعد اگست 1945ء میں علاقے میں سیاسی خلاء پیدا ہو گیا۔ اسی طرح کا سیاسی خلاء ہم نے 1988ء میں روسی قبضے کے خاتمے کے بعد افغانستان میں دیکھا۔ روسی فوج نکل رہی تھی تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ذہن میں کوئی سیاسی ڈھانچہ سرے سے موجود ہی نہ تھا ، نہ ہی اس کے قیام کی کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ نتیجہ وہاں بھی ویٹ نام جیسا نکلا۔ ویٹ نامیوں نے قوم پرست گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔ یہ ایک منظم اور ملک گیر جنگ تھی۔ اتحادی فوجوں نے ’’تام دائو مونٹین ریزورٹ ‘‘ میں واقع ایک چھوٹی جاپانی چوکی پر حملہ کیا جو ناکام رہا ۔ ویٹ نامیوں کو کمیونسٹوں نے زبردست فوجی ٹریننگ دی تھی۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ گوریلا جنگ ہار جاتے۔

رفتہ رفتہ ویٹمن اور اس کی تحریک نے سائیگون جیسے بڑے شہروں میں قدم جمانا شروع کر دئیے۔ ستمبر 1945ء میں برطانیہ نے وہاں چھاتہ بردار فوج اتاری جن میں سے کچھ کو جاپانیوں نے حراست میں لے لیا۔ برطانیہ اور ویٹمن کے مابین کے ایک محدود جنگ کا آغازہوا جس میں برطانوی فوج کو فتح حاصل ہوئی اس سے فرانسیسی فوجوں کودوبارہ سنبھلنے کا موقع مل گیا۔ مارچ 1946ء میں برطانوی فوج وہاں سے واپس چلی گئی اور اب فرانسیسی اور کیمونسٹ پھر براہ راست آمنے سامنے تھے۔ جس کے بعد اگلے26 سال تک جنوب مشرق ایشیا ء کا یہ خطہ جنگ کی آگ میں جلتا رہا۔ یہ خونریز جنگ 1954ء میں فرانس کی جانب سے ہتھیار پھینکنے کے بعد ختم ہوئی۔ لیکن فرانس کے بعد امریکہ میدان جنگ میں کود پڑا۔ اس نے اپنے میرینز جنوبی ویٹ نام میں اتارے دئیے۔ اس طرح امریکہ نے یہ تکلیف دہ جنگ خود اپنے ذمہ لے لی جو مزید کئی سال چلی ۔

اسے کہتے ہیں آ بیل مجھے مار! نیشنل انٹرسٹ نے کئی سوال اٹھائے ہیں۔ اگر جاپان 1940ء میں فرانس کے زیر تسلط انڈو چائنا پر قبضہ نہ کرتا تو کیا ہوتا؟۔کیا جاپانی حملے نے اس عمل کو تیز کر دیا جس کے لیے فرانس اورامریکہ ہرگز تیار نہ تھے؟ اگر نازی فرانسیسیوں کو برباد نہ کرتے ،ان کی حکومت کو کمزور نہ کرتے تو پھر کیا ہوتا؟۔ اگرچین میں کمیونزم نہ ابھرتا تو شائد وہ ویٹ نام کوہتھیار نہ دیتا تو دنیا کا نقشہ کیسا ہوتا؟۔ جاپان اگر فرانسیسی نوآبادیاتی نظام کو نہ چھیڑتا تو شاید امریکہ بھی اس جنگ میں نہ کودتا اور شاید اس سے ویٹ من کی تحریک سست پڑ جاتی، شاید اس خطے میں غیر کیمونسٹ آزادی کی تحریک کامیاب ہو جاتی؟۔ مگریاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ 1939ء میں یورپی نوآبادیاتی نظام اندرونی خلفشار کا شکار تھا۔ ویٹمن ، گاندھی اور حضرت قائداعظمؒ پہلے ہی آزادی کی تحریکیں شروع کر چکے تھے۔

اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ فرانس اورویٹ نام کی جنگ میں امریکہ غیرجانبدار رہا۔ لیکن فرانس کی پسپائی اور جنوبی ویٹ نام میں کمیونسٹوں کی کامیابی اس کے لیے لمحہ فکریہ تھی۔ ’’نیشنل انٹرسٹ ‘‘کی رپورٹ میں درجنوں اگر مگر ہیں۔ اگر ویسا ہوتا تو ویسا ہوتا ، وغیرہ ۔ تاریخ اگر مگر پر یقین نہیں رکھتی جوہونا تھا وہ ہو گیا۔ جس ملک کی قسمت میں جو لکھا تھا اس کو وہ مل گیا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج ہم ویٹ نام ، افغانستان اورکشمیر جیسے خطوں سے سبق حاصل کریں اور کسی نئی جنگ میں کودنے سے گریز کریں۔ خطوں کے عوام کو ان کی سوچ کے مطابق نظام زندگی چلانے کا اختیار دیں اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں ان کی ان خواہشات کو اپنے اختیار سے بلڈوز نہ کریں۔

اکرم دیوان