رجب طیب اردوآن : خوابوں کا صورت گر

حال ہی میں ملک گیر ریفرنڈم کے ذریعے ترک قوم نے اپنے سیاسی نظام میں تبدیلی کا فیصلہ کیا، اب وہ پارلیمانی کے بجائے صدارتی نظام کے سائے تلے زندگی بسر کرے گی۔ اگرچہ مغربی حکمرانوں نے ترک قوم کو صدر رجب طیب اردوآن کی حمایت سے باز رکھنے کی ہزار ہا کوششیں کیں لیکن قوم اپنے رہنما کے ساتھ کھڑی ہے۔ آخر اس شخص میں کیا ہے جو قوم اس کی محبت میں مبتلا ہے، اُس نے کیسے دیوالیہ ہوجانے والے ترکی کو بلندوبالا مقام عطا کیا، اس کا جواب صدر اردوآن کے زیر نظر خاکہ سے بخوبی ملتا ہے، جو ممتاز صحافی اور مصنف محمد فاروق عادل کی زیرطبع کتاب’’ جو صورت نظرآئی‘‘ کا حصہ ہے۔ (ادارہ)

شام کے سائے ڈھلتے ڈھلتے سارا سامان فروخت ہوچکا تھا، میں نے حساب لگایا تو پتہ چلا کہ میری دن بھر کی آمدنی بھی ہمارے ایک دن کے اخراجات کے لیے ناکافی ہے، میں دکھی ہو گیا اور میں نے سوچا:

’’محنت کش کو اس کی محنت کا حق ملے گا کبھی ؟‘‘

میں نے یہ سوچا پھر میری آنکھیں بھر آئیں۔ میری آنکھوں کے سامنے پہلے میرے والد کی تصویر ابھری پھر کچھ دوسرے چہرے۔ میرے والد نے اپنی زندگی دفتر کو دے ڈالی تھی اور اب ان کے بال سفید اور جسم کمزور ہو چلا تھا لیکن ان کی زندگی بھر کی کمائی ہمارے لیے ناکافی تھی۔ پھر میری آنکھوں کے سامنے محمت کی شبیہ ابھری، قاسم پاشا کا نان بائی، زندہ دل اور یار باش لیکن رات کوگھر جانے سے پہلے اس کی ساری شوخی ہوا ہوجاتی کیوں کہ کام ختم کرنے کے بعد جب وہ غلے سے نکال کر لیرے گنتا تو سوچتا کہ اتنے تھوڑے پیسوں سے گھر کاخرچہ کیسے چلے گا؟

میری آنکھوں کے سامنے اس روز گلی صاف کرنے والے چپ چو (çöpçüبہ معنی خاکروب)، گاؤں میں غلہ اگانے والے چٹ چی (çiftçi بہ معنی کسان)، اسکول میں پڑھانے والے اورٹ من (ögretmen بہ معنی استاد) اور جانے کن کن لوگوں کی تصاویر ابھریں اور میں نے سوچا کہ ان لوگوں کی قسمت شاید کبھی نہ بدلے پھر ایک جذبہ میرے دل کے نہاں خانے سے ابھرا اور میں نے سوچا کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھٹکنا کیسا؟ یہ جھنڈا کیوں نہ میں خودہی اٹھا لوں۔ میں نے یہ سوچا اور میری تھکن دور ہو گئی۔ اس روز رات کا کھانا میں نے بے دھیانی سے کھایا کیوں کہ قسمت بدلنے کے کئی منصوبے میرے ذہن میں کلبلا رہے تھے۔ اس کیفیت کو آنے (anne یعنی ماں) نے میری لاپروائی جانا اور گوشمالی کی۔ کہا کہ یہ لڑکا جانے کن خیالوں میں کھویا رہتا ہے؟ کبھی سدھرے گا نہیں۔ میں خاموش رہا اور سوچا کہ جو بات میرے دل میں ہے، اسے میں زبان پہ کیسے لاؤں؟

لیکن بابا نے اس قضئے پر ہمیشہ کی طرح در گزر سے کام لیا اور میں نے سوچا کہ مردوں کو اسی طرح متحمل اور مستقل مزاج ہونا چاہئے پھر سوچا: ’’ جو عزم میں نے کیا ہے، مستقل مزاجی اس کے لیے ضروری ہوگی‘‘۔ میرے ذہن میں ایک اور خیال نے جگہ بنائی۔ اپنے معمول کی طرح میں اب بھی اوکل (Okul یعنی اسکول) جاتا اور ہر شام ساحل پر مزدوری بھی کرتا لیکن میرا ذہن ہمیشہ ایک ہی بات سوچتا کہ کب بدلے گی یہ دنیا؟‘‘۔ یہ طیب کی کہانی ہے جو استنبول کے غریب خاندان میں پیدا ہوا اور محنت مزدوری کے دوران اس نے ایک بڑا خواب دیکھا، آنے والے برسوں میں جس کی تعبیر اس نے اپنے ہاتھوں سے تراشنی تھی۔ لڑکپن میں معصوم خواب دیکھنے والے اس بچے کو میں نے لاہور میں اس زمانے میں دیکھا جب اپنے خوابوں کی بے رنگ تصویروں میں رنگ بھرنے کی طاقت وہ بڑی حد تک حاصل کر چکا تھا اور دنیا اسے استنبول کے مئیر رجب طیب ایردوآن کے نام سے جاننے لگی تھی۔ اْس روز وہ لاہور میں تھا اور پرشکوہ مینار پاکستان کے سائے میں اسے خطاب کرنا تھا، وہ نسبتاً سبک روی سے چلتا ہوا چبوترے پر پہنچا، آسمان کو چھوتے ہوئے مینار کی عظمت پر ایک نگاہ ڈالی اور مسکرایا:

’’خواب کیسے حقیقت بنتے ہیں اور کیسے ان کی عظمت کو جلا بخشنے کے لیے عمارتیں وجود میں آتی ہیں‘‘۔ مسکراہٹ نے اس کے دل کا حال بیان کر دیا۔ ممکن ہے، اس روز اس شخص نے سوچا ہو کہ اپنے وطن کی لولی لنگڑی معیشت کو توانا کرنے کے لیے مجھے بھی اسی عزم سے کام کرنا ہے جس عزم کی کہانی یہ عظیم الشان مینار بیان کرتا ہے۔ اس روز جب اس شخص نے زباں کھولی تو اس کا طرز بیاں اپنی شہرہ آفاق شعلہ بیانی سے کوسوں دور تھا، اس دن اس مقرر نے اپنے دل کا حال ایسے بیاں کیا جیسے کوئی کیفیت اس پہ طاری ہو، اس نے کہا:

’’ ہماری جو بھی کوشش ہو، عوام کی خاطر ہو، یہ کرلیا تو سمجھو وہ کر لیا جس کے لیے یہ امت صدیوں سے بھٹکتی پھر رہی ہے’’۔

مینار پاکستان کے سائے میں اس روز بہت تقریریں ہوئیں لیکن یہ تقریر لوگوں کے دلوں کو چھو گئی اسلام کے بارے میں مغرب کے تعصبات اور افغانستان کا جہاد اس زمانے کا محبوب موضوع تھا لیکن اس شخص نے زمانے کے چلن سے ہٹ کر ایک نیا خیال پیش کیا کہ طاقت محض بندوق اور اس کی گولی میں نہیں بلکہ قومی خزانے میں ہے جس کی مددسے لوگوں کی زندگی آسان بنائی جا سکے۔

رجب طیب ایردوان استنبول کے مئیر بنے تو یہ شہر ہمارے کراچی کی طرح بے یار و مدد گار اور اہل اقتدار کی عدم توجہی کا شاہکار تھا، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر پڑے رہتے جو آتے جاتوں کو منہ لپیٹ کر چلنے پر مجبور کرتے اور ان کے جسم و جاں کے لیے مسائل پیدا کرتے۔ مشہور تھا کہ سفید قمیص پہن کر شہر میں جاؤ تو اپنی ضمانت پر جاؤ۔ بیکریوں کے سامنے لوگوں کی قطاریں لگی رہتیں مگر وہ روٹی سے محروم رہتے اور بیمار دواخانوں پر ہجوم کیے رکھتے مگر صحت ان کی قسمت میں کم ہی ہوتی۔ کہیں جانے کے لیے لوگ وقت سے کہیں پہلے گھروں سے نکلتے مگر اکثر تاخیر سے بھی منزل پر پہنچ نہ پاتے۔ برس ہا برس سے استنبول کے ایسے ہی شب و روز تھے، شہر کے حکمراں بدلتے ضرور مگر شہر والوں کی قسمت کبھی نہ بدلتی۔ کچھ اس طرح کے حالات تھے جن میں رجب طیب ایردوآن مئیر منتخب ہوئے اور دہائیوں سے ناسور کی طرح بدبو دیتے ہوئے مسائل سے نمٹنے میں مصروف ہو گئے۔

مسائل پرانے بھی تھے اور پیچیدہ بھی مگر ان کے اندازِ کار سے پتہ چلا کہ بہت سوچ سمجھ کر انھوں نے یہ ذمہ داری قبول کی ہو گی اور اس کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے وہ پہلے سے ہی تیار تھے۔ یہ طرز عمل آگے چل کر ان کے بہت کام آیا۔ میئر بننے کے بعد وہ دفتر کے ہو کر ہی نہیں رہ گئے، ان کا بیشتر وقت دفتر سے باہر گزرتا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ وہ گھر سے نکل کر کسی ایسی جگہ جا پہنچتے جو کسی کے سان گمان میں بھی نہ ہوتی۔ اپنے اسی معمول کے تحت ایک روز وہ ایوپ سلطان ( حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مزار کا علاقہ) کی طرف جا نکلے جس کے قریب ہی ایک مقام پر گندگی کے بڑے بڑے ڈھیر پڑے رہتے تھے۔ میئر کو اس طرف جاتا دیکھ کر عملے کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، کسی نے کہا:

اے فندم! گٹ مک اچن یاشک تر(Efendim, oraya gitmek yasaktir

یعنی سر!اس طرف جانا مناسب نہیں)

’’اسی لیے تو میں وہاں جانا چاہتا ہوں‘‘

میئر نے بلا تامل جواب دیا۔

’’سر، گندگی اور بدبوکے سبب وہاں ذرا سی دیر رکنا بھی مشکل ہو گا‘‘

’’لیکن ہزاروں لوگ وہاں رہتے ہیں‘‘

مشورہ دینے والا لاجواب ہو گیا۔ اس روز شام سے پہلے پہلے یہ جگہ صاف ہو گئی اس کے بعد شہرکے بہت سے دوسرے علاقے بھی آئینے کی طرح چمکنے لگے۔ اپنی اس کامیابی پر وہ مسرور تھے اور شہر والے بھی:

’’بو ہا ریکا ‘‘(bu harika یعنی یہ تو کمال ہو گیا)۔

لوگ عام طور پر کہا کرتے لیکن انکے ذہن میں ابھی ایک منصوبہ اور بھی تھا۔ ایک روز büyüksehir belediyesi (یعنی میٹرو پولیٹن میونسپلٹی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بڑے دکھ کے ساتھ انھوں نے کہا: ’’لوگ ہماری تعریف کرتے ہیں کہ شہر صاف ہو گیا مگر خرابی کی ایک جڑ تو اب بھی موجود ہے‘‘۔

یہ ایک نئی مہم کی ابتدا تھی جس کا مقصد شہر کو آلودگی سے پاک کرنا تھا۔ انھوں نے کہا: ’’ میں چاہتا ہوں، دنیا کے جدید شہروں کی طرح میرا شہر بھی پھول پودوں کی خوشبو سے مہکنے لگے‘‘۔

استنبول میں صدیوں پرانے بڑے خوب صورت درخت پائے جاتے ہیں لیکن آلودگی کے سبب ان درختوں کا حسن ماند پڑ چکا تھا اور دن پر دن وہ کمزور ہوئے جاتے تھے لہٰذا ایک جامع منصوبے کے تحت پرانے درختوں کو تحفظ دیا گیا اور ایک خیال (Theme) کے تحت نئے درخت لگائے گئے۔ اگلے چند ہی برسوں میں شہر کا حلیہ بدل گیا، فٹ پاتھ پرچلنے والے لوگوں کو سایہ بھی میسر آ گیا اورصاف ستھرا ماحول بھی لیکن مئیر صاحب شاید اب بھی مطمئن نہ تھے۔ ایک روز ائیر پورٹ کے راستے میں ایک ایسے موڑ پر انھوں نے گاڑی رکوا دی جہاں سامنے سے ڈھلوان کی طرح اترتی ہوئی ایک پہاڑی پراگا ہوا گھاس پھوس راہ چلتوں کو متوجہ کرتا تھا۔ مئیر صاحب کچھ دیر وہاں کھڑے یہ منظر دیکھتے اور کچھ سوچتے رہے پھر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔

یہ ایک نئی مہم کی ابتدا تھی جس کے نتیجے میں یہ جگہ ایک نیا اور دل خوش کن منظر پیش کرنے لگی۔ مٹی اور پتھرکی اس دیو ہیکل چٹان پر اس ترتیب سے پھول پودے لگائے گئے کہ لوگوں کو دور ہی سے مولانا روم کا درویش محو رقص نظر آتا۔ دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں ثقافتی مظاہر کی نمائش کے لیے ہورڈنگ اور بل بورڈ لگائے جاتے ہیں مگر یہاں یہ کام پھول بوٹوں سے لیا گیا جس سے شہر والوں کی خوش ذوقی کا اظہار ہوا، ترک شناخت نمایاں ہوئی اور ماحول دوستی کا حق بھی ادا ہو گیا۔ آئندہ چند برسوں کے دوران یہ شہر جس میں کبھی خاک اڑا کرتی تھی، اس طرح کے دل کو موہ لینے والے مناظر سے بھر گیا۔ یہ مرحلہ طے ہوا تو ایک روز مئیر نے کہا:

’’یہ جوشہر کی سڑکوں اور ان کے بیچ خالی قطعوں (Dividers) میں خاک اڑتی نظر آتی ہے،مجھے پسند نہیں‘‘

’’پھر؟‘‘

کئی سوالیہ آوازیں ایک ساتھ ابھریں تو مئیر نے کہا:

’’انھیں پھولوں سے بھر دیا جائے‘‘۔

’’مگر کس پھول سے؟‘‘

یہ سوال اٹھا تو بحث کا دروازہ کھل گیا لیکن ایردوآن نے چند لفظوں میں موضوع سمیٹ دیا، انھوں نے کہا:

’’تمھارا خیال لالے(lale یعنی ٹیولپ کے پھول) کی طرف کیوں نہیں جاتا؟‘‘

’’لالے؟‘‘

کسی نے حیرت سے کہا تو انھوں نے کہا کہ ہاں لالے جو ہماری تہذیب کا نمائندہ، آبا واجداد کی نشانی اور مشرق اور مغرب کے درمیان ثقافت کا سفیر ہے۔ ایردوآن کے فیصلوں میں تاریخ، ثقافت اور تہذیبی شعور کی جھلکیاں ہمیشہ ایسے نظر آتیں جیسے انگشتری میں نگینہ۔ آج جب کوئی اجنبی استنبول میں داخل ہوتا ہے تو لالے یعنی ٹیولپ کے رنگا رنگ حسن میں ڈوب ڈوب جاتا ہے۔ پروفیسر نجم الدین اربکان کی حکومت کے خاتمے کے بعد رفاہ پارٹی سخت آزمائش میں تھی، کارکن پریشان تھے اور کسی قدر بے حوصلہ، اس موقع پر طیب ایردوآن نتائج کی پروا نہ کرتے ہوئے میدان عمل میں کودے۔ یہ بالکل اسی زمانے کی بات ہے جب انھوں نے اپنی تقریر میں ایک نظم پڑھی جس میں انھوں نے مساجد کو چھاونی، گنبدوں کو خود (Helmet) اور میناروں کو اسلحہ قرار دیا تھا۔ اس نظم نے گویا بھس کو چنگاری دکھا دی اور ان کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کر کے عمر بھر کے لیے انھیں کسی سرکاری منصب کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ ’’اب یہ شخص کبھی کسی قصبے کا مئیر بھی بن سکے تو جانیں!‘‘

طیب ایردوآن کے مستقبل کے بارے میں یہ بات زبان زدعام تھی لیکن اس شخص کے ذہن میں تو ایک اور ہی منصوبہ تھا۔ انھوں نے اپنی متنازع تقریر میں مسجدوں اور میناروں کی بات کر کے صرف سلطنت عثمانیہ کی یاد تازہ نہ کی تھی بلکہ نظریاتی طور پر اپنے ہم خیال لوگوں کے سامنے ایک نیا نظریہ بھی پیش کیا تھا تا کہ مذہب اورسیکیولرزم کی بحث سے آگے بڑھ کر ملک کو ترقی کی منزل کی جانب گامزن کیا جاسکے مگر یہ بات ایسی ہے جسے ان کے ناقدوں نے نظر انداز کر دیا۔ طیب ایردوآن کا یہ نظریہ ترکی کے مخصوص سیاسی پس منظر سے ہی مختلف نہ تھا بلکہ یہ زاویہ نگاہ ان کے اپنے قائد اور استاد پروفیسر نجم الدین اربکان کی سیاسی حکمت عملی سے بھی ایک جرات مندانہ اختلاف تھا۔اس نئے سیاسی تصور کوسمجھنے کے لیے اسلامی تحریکوں کے ذہن کو سمجھنا ضروری ہے ۔

جس کے تحت مغرب کو مسائل کی جڑ قرار دے کر اس کے خلاف توپوں کے دہانے کھول دیے جاتے ہیں جس کے سبب اسلام اور مغرب کے درمیان کشیدگی کا ایسا شور اٹھ جاتا ہے جس میں اعتدال کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔ ایردوآن نے فرد کے لیے عقیدے،عبادت اور رسم و رواج (ترکی کے پس منظر میں حجاب یعنی اسکارف پابندی) کی آزادی کے مغربی تصورات کی تحسین کی اور کہا کہ اپنی قومی ترقی کے لیے کیوں نہ ہم بھی یہی حکمت عملی اختیار کریں۔ ترکی کے دائیں بازو یا یوں کہیے کہ خود ان کی اپنی جماعت (رفاہ پارٹی) نے اس تصور کو مسترد کر دیا لیکن ان کا ساتھ دینے والے بھی کم نہ تھے جن میں سابق صدر عبداللہ گل اور سابق وزیر اعظم احمت داؤد اولو موجودہ رکن پارلیمنٹ برہان کیاترک سمیت کئی اہم قائدین شامل تھے۔

اسلام اور سیکیولرزم کے حوالے سے ترکی کے مخصوص ماحول میں یہ اعتدال کی راہ تھی جسے بھرپور پزیرائی ملی کیوں کہ ماضی میں مغربی سیکیولرزم کو مثالی قراردینے کے باوجود فرد کی رائے اور خواہش کو نظر انداز کردیا جاتا تھا لیکن ایردوآن نے اسی مغربی تصور کو کامیابی کے ساتھ عام آدمی کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا دیا۔ گویا طیب ایردوآن ایک کامیاب سیاست دان ہی نہیں ذہین نظریہ ساز بھی ہیں جس کے سبب ان کی نوزائدہ جماعت اقتدار کے ایوانوں میں ہی نہیں جا پہنچی بلکہ عوامی حمایت کے زور پر ان کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں بھی دم توڑ گئیں اور عوام نے ہر بار پہلے سے زیادہ ووٹ دے کر انھیں منتخب کیا۔ یہاں تک کہ ریفرنڈم میں ان کی حمایت کر کے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بھی بدل دیا۔

نظریاتی سیاست میں اکثر ہوتا ہے کہ کسی سیاست داں نے کوئی نیا تصور پیش کیا اور اقتدار کے دروازے اس پر کھل گئے لیکن اس مقبولیت کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا، طیب ایردوآن نے یہ مشکل کام بھی آسانی کے ساتھ کر دکھایا۔ اقتدار میں آنے کے بعد طیب ایردوآن نے نہایت منظم طریقے سے کام کا آغاز کیا۔ اپنی پرانی عادت کے مطابق ایک روز وہ دفتر جانے کی بہ جائے شہر کے مضافات میں جا نکلے اور ایک نشیبی علاقے کی پسماندہ بستی میں پہنچ کر لوگوں سے پوچھا:

’’بو یور دستنی اولان؟‘‘(Bu yor distiny olan یعنی کیا یہی تمھاری قسمت ہے؟)

پھر کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ غریب آبادیوں کے حالات بدلیں اور ایسے علاقوں کے لوگ بھی پرآسائش زندگی بسر کریں۔ ان کے ذہن میں مضافات میں عظیم الشان رہائشی عمارتوں کا ایک منصوبہ جنم لے چکا تھا۔ تیسری دنیا کے ملکوں میں قبضہ مافیا اسی طرح غریب آبادیوں پر قبضہ کرکے انھیں بے دخل کیا کرتی ہے، اس منصوبے پر بھی شک و شبہے کا اظہار کیا گیا لیکن ایردوآن کی ساکھ یہاں بھی کام آئی ہے۔ پہلے ایک رہائشی منصوبہ پروان چڑھا پھر دوسرا، اس کے بعد ایسے کامیاب منصوبوں کی قطار لگ گئی،غریب ترکوں کو اعلیٰ معیار کی رہائش ہی میسر نہیں آئی بلکہ ایسے علاقوں کے باسیوں کو روزگار کے بہتر مواقع بھی میسر آگئے۔

اسی طرح ایک جامع حکمت عملی کے تحت انھوں نے ملک کے دور دراز علاقوں میں تعلیم، صحت اور روز گار کی فراہمی کے منصوبوں کا جال بچھا دیا۔ قومی سیاست میں یہ ایک انقلابی تبدیلی تھی جس کے نتیجے میں ملک کی معیشت نے بھی تیزی سے ترقی کی۔ اس سے قبل قومی وسائل سے بڑے بڑے شہروں اور ان میں بھی مراعات یافتہ طبقہ ہی مستفید ہوا کرتا تھا۔ ایردوآن کی پالیسی نے قومی سیاست کارخ ہی بدل دیا،یوں ان کی مقبولیت میں اضافے کی ایسی تاریخ رقم ہوئی جس کی مثال نہیں ملتی۔

جولائی 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کے پس منظر میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ طیب ایردوآن اور فوج ایک دوسرے کے مدمقابل آکھڑے ہوئے تھے لیکن ایک متوازی خیال یہ بھی ہے کہ فوج اور طیب ایردوآن تو شانہ بہ شانہ کھڑے تھے، اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا وہ جیل میں نہ ہوتے؟ جدید ترکی میں پہلی بار یہ دیکھنے میں آیا کہ عوام، حکومت اور فوج کے مفادات میں یکسانیت پیدا ہوئی جس کے سبب فوج نے بھی باغیوں کو مسترد کیا اور عوام نے بھی۔ اس کارنامے کا کریڈٹ اسی شخص کو جاتا ہے جس نے ایک شام آبنائے باسفورس سے لوٹتے ہوئے ملک کی قسمت بدلنے کا خواب دیکھا تھا۔

شام کی سرزمین سے انسانیت کے نام

کرامہ مہاجر کیمپ کے انچارج کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ ادلب کے قریب  شامی سرحد کے اندر یہ کیمپ ترکی کی ایک رفاعی تنظیم انسانی حقوق و حریت (IHH) نے قائم کیا تھا۔ یہ کیمپ اس وقت سے قائم ہے جب سے جنگ کا آغاز ہوا اور ایسے کئی کیمپوں میں دن بدن اضافی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس وقت نو لاکھ شامی بارڈر پر موجود ان کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ان کے لیے ترک سکولوں میں داخلہ مفت ہے اور اسپتالوں میں علاج بھی مفت۔ یہ وہ خوش قسمت ہیں جو تھوڑی بہت جمع پونجی بچا کے ترکی آ گئے، کوئی ہنر جانتے تھے، یا تعلیم تھی اور یہاں کسی روزگار سے منسلک ہو گئے۔

یہ لوگ جس طرح کی رہائشوں میں رہ رہے ہیں وہ اذیت ناک ہیں۔ مثلا ایک برگیڈئیر کی بیوہ جس کے سامنے اس کے بھائی، خاوند اور باپ کو بشار الاسد کے فوجیوں نے اذیت دے کر مارا، اپنی بچیوں کے ساتھ ایک دوکان کرائے پر لیکر اس میں رہ رہی ہے لیکن کیمپوں میں رہنے والوں کی حالت انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اگر باپ کو کپڑے بدلنا ہوں تو پورے گھر کو باہر نکلنا ہوتا ہے اور یہی کچھ کسی دوسرے فرد کے کپڑے بدلنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ ان کیمپوں میں گذشتہ پانچ سال سے رہ رہے ہیں۔ یعنی جو بچہ جنگ شروع ہوتے پانچ سال کا تھا اب گیارہ کا ہو چکا ہے اور جو گیارہ کا تھا وہ سترہ کا۔ اس دوران یہ بچے نہ کسی سکول پڑھنے کے لیے گئے اور نہ ہی کوئی ہنر سیکھا۔ یوں اگر کچھ برسوں کے بعد شام میں امن آبھی جائے تو یہ نسل نہ تعلیم یافتہ ہو گی اور نہ ہی کسی ہنر سے آشنا۔ ان کے برعکس نا ڈاکٹر ہوں گے نا انجنیئر بلکہ نا ہئیر کٹنگ والے ہوں گے نہ ڈرائی کلین کرنے والے۔ ایک المیہ پروان چڑھ رہا ہے۔

کرامہ کے مہاجر کیمپ کا انچارج رو رہا تھا اور اس سے واقعہ بیان نہیں ہو رہا تھا۔ ہمت باندہ کر اس نے کہا کہ میں ڈاکٹر کے پاس ہسپتال میں گیا۔ اس وقت وہ ایک جنگی زخمی کے بدن سے بم کے ٹکڑے نکالنے جا رہا تھا۔ میں نے کہا آپ اپنا کا م کر لیں۔ اس نے کہا نہیں تم میرے ساتھ چلو گے، میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس بیہوش کرنے والی دوا Anesthesia نہیں ہے اور ہم مستقل آپریشن کر رہے ہیں۔ میں گھبرا گیا لیکن وہ میرا بازو پکڑ کر ساتھ لے گیا۔ جب اس نے اوزار تھامے تو ڈاکٹر بھی رو رہا تھا اور مریض کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔ اس بار اس نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر چھری سے جسم کا کاٹنا شروع کیا اور ساتھ ہی سورہ اخلاص پڑھتا رہا۔ مہاجر کیمپ کا انچارج کہتا ہے کہ میں میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس دوران مریض نے زبان سے اف تک نا نکالی بلکہ وہ مستقل حسبی اللہ و نعم الوکیل بڑھتا رہا۔ جب جسم سے بموں کے ٹکڑے نکال کر اسے سی دیا گیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ تم نے دیکھ لیا اس وقت سورہ اخلاص ہی ہمارا Anesthesia ہے۔

یہ صرف ادلب کے قریب ایک کیمپ کا ذکر ہے۔ یہ وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو بھاگ کر ان کیمپوں میں پناہ لینے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ یوں تو ان لوگوں کی داستانیں خون کے آنسو رلاتی ہیں لیکن ان کو اپنے ان بھائیوں کی فکر کھائے جاتی ہے جو شام کے شہروں میں محصور ہیں۔ دمشق اور حمص کے علاقوں سے آنے والے مہاجرین بتاتے ہیں کہ بشار الاسد کی فوج کا محاصرہ اس قدر اذیت ناک تھا کہ بچوں پر کئی کئی دن فاقے آتے تھے۔ ایک شخص نے ایک بوری چاول کے عوض اپنا پورا باغ بیچ دیا کہ اس سے بچوں کی بھوک نہیں دیکھی جا رہی تھی۔ جب سب کچھ ختم ہو گیا اور کھانے کے لیے کچھ بیچنے کو بھی باقی نہ تھا تو علماء نے فتویٰ دیا تھا کہ اب جان بچانے کے لیے بلیاں اور کتے بھی ذبح کر کے کھائے جا سکتے ہیں اور لوگوں نے وہ بھی کھائے۔

ترکی کی سرحد کے ساتھ آپ سفر کریں تو آپکو ہر شہر کے مقابل ایک شہر ملے گا۔ جیسے ریحان علی کے سامنے ادلب اور اس کے قرب و جوار ہیں۔ غازی انتب کے سامنے حلب کا علاقہ ہے۔ اب تک نو لاکھ افراد اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں اور اس وقت گیارہ لاکھ شامی بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ ترکی کی سرحد کے اندر جو دارالیتامیٰ یعنی یتیم خانے کھولے گئے ہیں، ان کے اندر جانا بھی ایک تکلیف دہ تجربہ ہے۔ بچے آپ سے ایسے لپٹ جاتے ہیں جیسے کوئی بچھڑا ہوا باپ یا بھائی گھر آ گیا ہو۔ ایک یتیم خانے میں داخلہ ہوا تو میرے ہاتھ میں مائیک دیکھ کر بچیاں اس سے کھیلنے لگ گئیں۔ کبھی کچھ کبھی کچھ اچانک ایک ساتھ کھڑی ہو کر خوبصورت قرات کے ساتھ سورہ کہف پڑھنے لگ گئیں۔ ان پانچ چھ سال کی بچیوں کو کیا علم کہ اس سورت کو آج کے دور میں پڑھنے کی کس قدر اہمیت ہے۔ رسول اللہ نے اسے فتنہ دجال سے حفاظت کے لیے پڑھنے کی تلقین کی ہے۔

ادلب میں کچھ دن پہلے بشار الاسد نے کیمیکل ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا، میں کیمپ کے اس ہسپتال بھی گیا جہاں وہ بچے لائے گئے تھے اور ان بچوں سے بھی ملا ہوں۔ ان کی تکلیف کی کہانیاں اس قدر درد واذیت سے بھرپور ہیں کہ کوئی پتھر دل والا بھی ایک کہانی کے بعد دوسری سننے کی تاب نہیں لا سکتا۔ ریحان علی کا وہ ہسپتال جس میں ان کا علاج ہوا وہاں کسی نے ان بچوں سے پوچھا کہ یہ کس نے کروایا؟ بچے پکارتے تھے بشار الاسد۔ ایک بچہ جو ذرا بڑا تھا اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رہا تھا، ابھی کیمیائی ہتھیاروں کے اثر سے پوری طرح باہر نہیں نکلا تھا۔ ایک دم غصے سے تلملا اٹھا اور سانس بحال کر کے بولنے لگا۔ جہاز بشار الاسد کے پاس ہیں یا پھر روس اور امریکہ۔ پھر اس بچے نے عالمی سیاست کی گھتی سلجھاتے ہوئے کہا کہ روس اور امریکہ تو بشار کے یار ہیں۔

غازی انتب کا شہر حلب کے ساتھ جڑا ہے۔ پہلے یہ بھی حلب کا حصہ ہوتا تھا لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد جب خلافت عثمانیہ ٹوٹی تو حصہ فرانسیسی شام میں چلا گیا۔ غازی انتب سے حلب کے علاقے میں داخل ہوں تو پہلے جرابولس کا شہر آتا ہے۔ یہاں پر”احرار الشام” کا کنٹرول ہے اور پورا شہر برباد ہو چکا تھا لیکن اب کسی حد تک واپسی کی جانب لوٹ رہا ہے۔ شہر کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا مہاجر کیمپ ہے جس کے رہنے والے خوبصورت بچے ایسے لگتا ہے انہوں نے کئی ماہ سے منہ نہیں دھویا۔ یہ علاقہ پہلے داعش کے پاس تھا ، یہاں پہ کردوں کی PKK اور پیش مرکہ بھی مورچہ زن تھے۔ اب یہ علاقہ ایک گروہ کے کنٹرول میں ہے اس لیے یہاں امن ہے لیکن اس کے ہسپتال میں روزانہ سو سے زیادہ عورتیں اور بچے لائے جاتے ہیں جو اس خوفناک جنگ کے زخمی ہیں اور انہیں علاج کی فوری ضرورت ہے۔ ان میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہوتی ہے۔ مرد، یوں لگتا ہے کہ امریکہ، روس، ایرانی پاسداران، بشار الاسد کا نشانہ ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کی شام مہں ان کا کوئی مخالف مرد زندہ نہ رہے۔

  بشکریہ روزنامہ 92 نیوز

اوریا مقبول جان

ترک عوام کا ریفرنڈم میں تاریخی فیصلہ

ترک سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق صدارتی اختیارات سے متعلق ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج آ چکے ہیں جس میں 51.4 فیصد ووٹرز نے صدر رجب طیب اردوان کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ریفرینڈم کے سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد صدر رجب طیب اردوان 2029 تک عہدے پر فائز رہیں گے اور انہیں وہ اختیارات حاصل ہو جائیں گے جو اس وقت وزیراعظم کو حاصل ہیں جن میں کابینہ کے وزرا کا انتخاب، سینیئر ججوں کے چناؤ اور پارلیمان کو برخاست کرنے کے وسیع اختیارات شامل ہیں۔

ریفرینڈم کے لیے ایک لاکھ 67 ہزار پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے جہاں ساڑھے 5 کروڑ رجسٹرڈ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم بن علی یلدرم کو فون کر کے نتائج پر مبارکباد دی اور کہا ہے کہ ترک ریفرنڈم میں عوام نے صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دیدیا ہے۔ ترکی کے صدر کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کے لیے تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

ترک پارلیمان نے جنوری میں آئین کے آرٹیکل 18 کی منظوری دی تھی ۔ صدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کے استحکام کے لیے تبدیلیاں ضروری ہیں۔ نئی اصلاحات کے تحت ملک کے وزیراعظم کا عہدہ ختم ہو جائیگا اس کی جگہ نائب صدر لیں گے۔ اسکے علاوہ پارلیمنٹ میں اراکین کی تعداد 550 سے بڑھکر 600 ہو جائیگی جبکہ رکن پارلیمنٹ بننے کیلئے عمرکی حد 25 سال سے کم کرکے 18 سال ہو جائیگی۔

یورپ کا ایردوان کے خلاف اتحاد

ترکی اور یورپی یونین کے تعلقات روز بروز سرد مہری کا شکار ہوتے جا رہے ہیں حالانکہ یورپ اور ترکی کا ایک دوسرے کے بغیر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ ترکی اگرچہ یورپی یونین کا مستقل رکن نہیں ہے لیکن یورپی یونین اسے اپنی مستقل رکنیت عطا کرنے کے لئے ہمیشہ ہی مختلف شرائط عائد کرتی رہی ہے اور ترکی کی جانب سے ان شرائط کو پورا کرنے کے باوجود یورپی یونین نے مختلف حیلوں اور بہانوں سے ترکی کو ٹالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ترکی اس وقت 2.9 فیصد شرح ترقی سے یورپی ممالک اورOECD کے ممالک کو پیچھے چھوڑ چکا ہے اور ملک میں صدارتی نظام قائم ہونے اورمضبوط سیاسی استحکام کے بعد یورپی یونین کے رکن ممالک اس کوشش میں ہیں کہ وہ ترکی کو کیسے روکیں۔

یورپی یونین کےترکی سے متعلق منفی روئیے کے بارے میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اپنی انقرہ میں صدارتی مہم کے دوران شدید مذمت کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’’ ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت صرف صلیبی اتحاد کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے نہیں دی جا رہی ‘‘ ترکی نیٹو میں متحدہ امریکہ کے بعد اپنی فوجی قوت کے لحاظ سے دوسرے بڑے اتحادی ملک کی حیثیت رکھتا ہے لیکن نیٹو کے ساتھ بھی ترکی کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں کیونکہ ترکی اس وقت روس کے زیادہ قریب ہوتا جا رہا ہے۔ ترکی اور روس کے تعلقات اگرچہ ترکی کی جانب سے روسی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد خراب ہو گئے تھے لیکن یہ تعلقات اس وقت نیا رخ اختیار کر گئے جب روس نے ترکی کی 15 جولائی کی ناکام بغاوت سے قبل ہی ترکی کواس بغاوت کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا جس پر دہشت گرد تنظیم فیتو نے مقررہ وقت سے چند گھنٹے قبل بغاوت برپا کر دی۔

میں اپنے کالموں میں اس بغاوت سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کر چکا ہوں لیکن موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بغاوت کے ایسے گوشے پر سے پردہ اٹھانا چاہتا ہوں جو آج تک پاکستانی قارئین کی نظروں سے اوجھل رہا ہے۔ جیسا کہ عرض کر چکا ہوں روس کو اپنی خفیہ سروس کے ذریعے ترکی میں بغاوت کی اطلاع پہلے ہی سے مل چکی تھی جس پر روس کے صدر پیوٹن نے فوری طور پر اپنے ایک مشیر الیکسنڈر دوگین کو انقرہ روانہ کیا اور مغربی ممالک کو اس کی کانوں کان خبر تک نہ ہوئی ۔ روسی مشیر دوگین نے بغاوت میں شامل اہم ناموں کی فہرست حکومتِ ترکی کو پیش کی ۔ بغاوت کے روز صدر ایردوان کے طیارے کو ترکی کے ایف سولہ طیاروں نے نشانہ بنانا تھا لیکن حکومتِ روس کی اس بغاوت کی خبر کے حکومتِ ترکی سے شیئر کرنے کے بعد روس کے سات طیاروں اور ایس 400 میزائلوں نے صدر ایردوان کے طیارے کو نشانہ بنانے کے لئے تیار ایف سولہ طیاروں کے پائلٹوں کو وارننگ جاری کرتے ہوئے روکا۔

متحدہ امریکہ میں تیار ہونے والی بغاوت کے اس پلان کے مطابق ایک امریکی نشریاتی ادارے کی ٹیم امان پور کی قیادت میں ایک روز قبل ہی کوریج کے لئے انقرہ اور استنبول پہنچ چکی تھی۔ علاوہ ازیں ترکی میں امریکہ کے فوجی ہوائی اڈے انجرلیک سے پرواز کرنے والے 45 ہیلی کاپٹر باغیوں کے آپریشن میں شمولیت اختیار کر چکے تھے جس پر ترک پولیس کے ڈھائی ہزار اہلکاروں نے فوری طور پر انجیرلیک کے ہوائی اڈے کا محاصرہ کرتے ہوئے بجلی منقطع کر دی اور امریکہ کو واضح طور پر پیغام دے دیا گیا کہ’’ ہوائی اڈے کے تحفظ کی خاطر حکومتِ ترکی نےاسے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے ‘‘حکومت ِ ترکی کے اس پیغام کے بعد اوباما انتظامیہ نے فوری طور پر کئی ملکی فوجی آپریشن ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

امریکہ اور یورپ کو پختہ یقین تھا کہ ایردوان کسی بھی صورت دہشت گرد تنظیم فیتو کی برپا کردہ بغاوت سے جانبر نہیں ہو سکیں گے اور اس طرح ترکی جو کہ گزشتہ چودہ سال سے مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن اور دنیا کی عظیم قوت بننے کی دہلیز پر آن پہنچا ہے اور ایردوان کے 2023ء کے اہداف جس میں ترکی کو دنیا کی دسویں بڑی طاقت بنانا مقصود ہے کو لگام دی جا سکے گی۔ یورپی ممالک اور امریکہ اس بغاوت کے ذریعے ترکی میں آق پارٹی کو اقتدار سے ہٹا کر ملک میں پہلے کی طرح کوالیشن حکومتوں کا دور واپس لانے کے خواہاں تھے تا کہ ترکی کا سیاسی استحکام ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے لیکن ان ممالک کو اس بات کی ہر گز توقع نہ تھی کہ ترک عوام ، صدر ایردوان کے ایک پیغام پر سڑکوں اور گلیوں میں نکل کر اور اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر ملک میں ڈیموکریسی مضبوط بنانے کا ایک ایسا کارنامہ سر انجام دیں گے جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

یورپ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ صدر ایردوان کوئی ڈکٹیٹر نہیں بلکہ انہیں باون فیصد عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ صدر ایردوان کو ملک میں 16 اپریل کو ہونے والے ریفرنڈم میں کامیابی کا پختہ یقین ہے اور کامیابی کی صورت میں یورپ کو سبق دینے کی توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ کسی بھی یورپی رہنما کو انہیں ’’آمر‘‘کہنے کی جرات نہ ہو ۔ جرمنی، ہالینڈ آسٹریا، سوئٹزر لینڈ ، ناروے اور ڈنمارک میں صدر ایردوان کے حق میں مہم کی ریلیوں کی اجازت نہ دئیے جانے کی وجہ سے ترکی اور ان یورپی ممالک کے مابین جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ صدر ایردوان نے یورپی ممالک کے اس روئیے پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان تمام ممالک پر نازی ازم اور فاشزم کے الزامات عائد کئے ہیں۔ ان یورپی ممالک میں بڑی تعداد میں ترک باشندے آباد ہیں جن کی واضح اکثریت صدر ایردوان کی مکمل حمایت کرتی ہے اور ان ممالک میں ترکی کے سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں ووٹنگ بھی کرائی جائے گی جس سے صدر ایردوان بھر پور طریقے سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں یورپی یونین میں آباد یہ ترک باشندے ملک کی قسمت بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ترکی میں ان دنوں بھر پور طریقے سے ریفرنڈم کی مہم کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صدارتی مہم کے دوران ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے یورپ کو واضح پیغام دیا ہے کہ یورپ نے ان کے حق میں مہم کو روک کر اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا ہے۔ ترک صدر ایردوان نےاپنی صدارتی مہم کے دوران اس بات کا برملا اظہار کیا ہے کہ16اپریل کے ریفرنڈم کے بعد ترکی یورپی یونین کے ساتھ اپنے باہمی تعلقات پر نظر ثانی کرے گا۔ علاوہ ازیں ترکی اور یورپی یونین کے مابین عراقی اور شامی پناہ گزینوں کے بارے میں طے پانے والے سمجھوتے کے بارے میں بھی صدر ایردوان واضح طور پر یورپی یونین کو خبر دار کر چکے ہیں اگر یورپی یونین کے ممالک نے ان پناہ گزینوں سے متعلق عائد ہونے والے فرائض ادا نہ کئے تو پھر حکومتِ ترکی اس سمجھوتے پر نظر ثانی کرنے کا پورا پورا حق رکھتی ہے۔

ڈاکٹر فر قان حمید

شامی مہاجرین کی حالتِ زار

شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے شام کی آدھی سے زیادہ آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ ان میں سے آدھے لوگ تو شام ہی میں آئی ڈی پیز بن کر زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 50 لاکھ سے زائد لوگ ترکی، لبنان، سعودی عرب، یونان اور چند ہزار مغربی ممالک میں مہاجرین بن کر زندگی گزار رہے ہیں۔ لبنان اور مغربی ممالک میں رہنے والے شامی مہاجرین کو اس حد تک مجبور کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے کچھ اپنے مذہب کو چھوڑ کر عیسائی بننے پر مجبور ہو گئے ہیں جس کی مغربی ممالک خوب تشہیر کر رہے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر تشہیر کی جا رہی ہے کہ اتنے مسلمان مذہب تبدیل کر چکے ہیں۔ پوری دنیا میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کے ہوتے ہوئے ان کے کلمہ گو مسلمان بھائی بھوک، پیاس اور امن کی خاطر اپنا دین چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک نے شامی مہاجرین کے بارے میں ابھی تک صحیح لائحہ عمل اختیار ہی نہیں کیا۔

روشن کردار برادر ملک ترکی نے ادا کیا ہے جس نے اپنے ملک میں نامساعد حالات کے باوجود 30 لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین کو بسایا ہوا ہے۔ انہوں نے شامی مہاجرین کو اپنے شہروں میں رکھا ہوا ہے۔ مہاجرین کو ملازمتیں بھی دی ہوئی ہیں۔ زیادہ تر شامی مہاجرین شام ترکی بارڈر پر مختلف کیمپوں میں رہ رہے ہیں جہاں وہ خراب حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان میں شامی مہاجرین کے ریلیف کے لیے ابھی تک کوئی خاص کام نہیں ہوا۔ چند تنظیمیں اپنے طور پر کام کر رہی ہیں۔ پاکستان میں شامی مہاجرین کے لیے کام کرنے کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان کے لئے ترپالیں، گرم کپڑے، بچوں اور عورتوں کے کپڑے، بچوں کے لیے دودھ تحائف اور دوسری اشیاء بھجوا دی گئی ہیں ۔

یہ تمام اشیاء ترکی پہنچ گئی ہیں اور استنبول میں ترکی کی این جی او ’’حیرات فائونڈیشن‘‘ کے تحت شامی مہاجرین میں تقسیم کی جائینگی۔ وہاں مہاجرین کے لیے ایک منی ہسپتال قائم کر کے اس کے علاوہ ایک روٹی پلانٹ بھی لگایا جائے گا۔ شامی مہاجرین کی حالتِ زار تمام مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ آپ ﷺکے ارشاد مبارک کے مطابق تو تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ ایک حصہ میں تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔ اس وقت شام کے مسلمانوں کو ہمدردی، سہارے اور ہر قسم کی ریلیف اشیاء کی ضرورت ہے۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ شام کے مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے آگے آئیں۔

ڈاکٹر آصف محمود جاہ (ستارئہ امتیاز)

ترکی کی سرحد پر مہاجرین کی مشکلات

ایک وقت تھا جب ترکی یورپی یونین کی رکنیت کے لیے اس کی ایک ہاں کا منتظر تھا۔ بقول ایک ترک رہنما وہ یورپی یونین میں شرکت کے لیے اس کے دروازے پر کھڑا رہا لیکن یورپی یونین یہ دروازہ کھولنے کو تیار نہیں۔ جبکہ 1953ء میں ترکی نے یورپی یونین کے ساتھ امیگرنٹس کی روک تھام کا بڑا معاہدہ کر کے اس کے ساتھ بہتر تعلقات کی بنیاد رکھی لیکن شاید اسے دل سے یورپی تسلیم نہ کرنے کے باعث یورپی یونین کا دروازہ ترکی پر نہ کھل سکا۔ اب جرمنی اور نیدر لینڈ کیخلاف کشیدگی کے ماحول میں ترکی نے یہ دروازہ خود ہی بند کر دیا ہے۔ صدر طیب اردگان نے 16 اپریل کو ریفرنڈم کے بعد ترکی میں ایک اور ریفرنڈم کروانے کاعندیہ دیا ہے۔ یہ ریفرنڈم ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت یا عدم شمولیت کے حوالے سے ہو گا۔

اس ریفرنڈم کا صدارت سے کوئی تعلق نہیں۔ صدر کو اختیارات ملیں یا نہ ملیں یہ لازماً ہو گا۔ 16 اپریل کے ریفرنڈم سے طیب اردگان کو 2026ء تک ترکی کا صدر رہنے میں مدد ملے گی لیکن یہ ریفرنڈم تو اگلے چند ماہ میں ہی ہونے والا ہے۔ 2015ء میں ترکی نے یورپی یونین کے ساتھ امیگرنٹس کا معاہدہ کیا ۔ یہ وہ وقت تھا جب مختلف ممالک سے لوگ قبرض اور یونان کے راستے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں سے اکثر کی منزل برطانیہ اور امریکہ ہوتی ہے اور اب بھی ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ترکی نے غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے والوں کو روکنا شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں امریکہ اور یورپ سے ترکی کو 2ارب 60 کروڑ ڈالر سالانہ خطیر رقم بھی دی گئی۔ لیکن یہ رقم انہی امیگرنٹس پر خرچ بھی ہو گئی۔

ہزاروں امیگرنٹس کو روکنے پر ترکی کے قیام و طعام سمیت دیگر سہولیات سمیت اس سے کہیں زیادہ ڈالر خرچ ہوئے، ہزاروں کی تعداد میں ہونے کے باعث مہاجرین کی اکثریت اب بھی بدحالی کا شکار ہے۔ یورپ اور امریکہ کی اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ صدر ٹرمپ سرے سے اس کو کوئی اہمیت ہی نہیں دینا چاہتے ۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی نے مئی میں اس سلسلے میں امریکہ سے امیگرنٹس کے معاملے پر معاہدہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جہاں امریکہ کے ساتھ پناہ گزین رہنما گولن کی واپسی پر مذاکرات ہو رہے ہیں وہاں ایجنڈے پر امیگرنٹس کی روک تھام کا معاہدہ بھی دوسرے نمبر پر ہو گا۔ یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ امریکہ کے ساتھ معاملات کس سطح پر ہوں گے لیکن بقول ترک رہنما ان مذاکرات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ سال دسمبر اور اکتوبر میں انتخابات سے پہلے ترک رہنمائوں سے مذاکرات ہوئے تھے۔ ان مذاکرات میں سی آئی اے کے وولسے نے بھی شرکت کی تھی۔ اس ملاقات کا مقصد گولن کو ترکی کے حوالے کرنا نہیں تھا بلکہ ترکی کے حوالے کرنے کے راستے تلاش کرنا تھا۔ بقول وولسے مذاکرات میں ترکی کو یہ بتا دیا گیا تھا کہ امریکی قانون میں گولن کی واپسی کا کوئی طریقہ درج نہیں۔ بغیر کسی ٹھوس جواز کے ان کی واپسی امریکی قانون شکنی کے مترادف ہوگی۔ امریکہ نے ترکی سے ٹھوس ثبوت مانگے ہیں۔ ترکی اور یورپی ممالک کے مابین کشیدگی نا صرف گولن کے لیے مشکلات کا باعث بنیں گی بلکہ ان سے امیگرنٹس کی مشکلا ت میں بھی اضافہ ہو گا۔ یورپ میں غیر قانونی آمد بھی بڑھنے کا امکان ہے۔ ترکی نے اگر اپنے بارڈر پر سکیورٹی نرم کر دی تو یورپ کے لیے مشکلات بے انتہا بڑھ سکتی ہیں۔

ڈاکٹر سید فیصل عثمان

روسی سفیر کے قتل کی تصویر نے ورلڈ پریس فوٹو مقابلہ جیت لیا

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے فوٹوگرافرر برہان اوزبلیسی نے ورلڈ پریس فوٹو مقابلہ 2017 اپنے نام کر لیا۔ اے پی فوٹوگرافر برہان اوزبلیسی نے یہ مقابلہ ترکی میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے روسی سفیر کے حملہ آور کی تصویر کھینچنے پر حاصل کیا۔ جیتنے والی تصویر میں حملہ آور جس کا تعلق ترک پولیس سے تھا روسی سفیر کو ہلاک کرنے کے بعد فاتحانہ انداز میں لاش کے برابر میں اپنا ہاتھ ہوا میں بلند کیے کھڑا دکھائی دیتا ہے، حملہ آور کا سیدھا ہاتھ زمین کی جانب ہے جبکہ اس کا منہ تصویر میں کھلا ہوا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ چیخ کر کچھ کہہ رہا ہے۔ ساتھ ہی حملہ آور کے پس منظر میں زمین پر روسی سفیر کی لاش کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق فوٹوگرافر کی یہ تصویر ‘ترکی میں ایک قتل’ نامی سلسلے کا حصہ تھی جو اسپاٹ نیوز کی اسٹوری کیٹگری میں بھی ایوارڈ حاصل کر چکی ہے۔ اس سلسلے میں شامل تصاویر 19 دسمبر کو ترک دارالحکومت انقرہ میں آرٹ نمائش کے افتتاح کے موقع پر مسلح شخص کی روسی سفیر آندرے کارلوف پر فائرنگ سے لے کر زخمی سفیر کے ہلاک ہونے تک کی ہیں۔ گذشتہ سال 19 دسمبر کو آرٹ گیلری میں معمول کی سرگرمی کے دوران پیش آنے والا یہ حادثہ یقیناً وہاں موجود تمام افراد کے لیے اچانک حیرت کا سبب بنا ہوگا تا ہم فوٹوگرافر برہان اوزبلیسی کے مطابق ان کی پیشہ وارانہ جبلت نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ اس منظر کو کیمرے کی آنکھ سے عکس بند کر لیں۔

اس وقت کے احساسات کا احاطہ کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں فوٹوگرافر کا کہنا تھا کہ ‘مجھے اچانک ایسا لگا جیسے بہت گرمی ہو، کسی نے ابلتا ہوا پانی میرے سر پہ ڈال دیا ہو اور اگلے ہی لمحے بہت ٹھنڈ لگنے لگی، خطرناک حد تک، لیکن اسی لمحے مجھے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے، ایک بہت بہت اہم واقعہ’۔ یہ سوچ کر 30 سال سے کیمرے کی آنکھ سے دنیا کو دیکھنے والے برہان نے اپنی ذمہ داری نبھانے کا سوچا، ان کے مطابق ‘یہ میری نوکری تھی، چاہے میں مر جاؤں یا ہلاک ہوجاؤں لیکن کم از کم میں اچھی صحافت کا مظاہرہ کروں’۔

خیال رہے کہ جیتنے والی تصویر نے 125 ممالک کے 5 ہزار 34 فوٹوگرافرز کی جمع کرائی گئی 80 ہزار 408 تصاویر کو ہرا کر یہ انعام اپنے نام کیا۔ مقابلے کی جیوری نے 25 ممالک کے 45 فوٹوگرافرز کو 8 مختلف کٹیگریز میں انعامات دیے۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر سیلی بزبی کے مطابق ‘برہان کی تصویر صلاحیت اور تجربے کا امتزاج ہے جسے شدید دباؤ میں نہایت محنت سے بنایا گیا’۔