کیا ٹیکنالوجی نے ملازمتیں ختم کر دیں ؟

ٹیکنالوجی کو عام طور پر اچھا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی مدد سے کام تیز اور کم افرادی قوت کے بل بوتے پر ممکن ہوتا ہے۔ یہ ملازمتوں پر اثر انداز بھی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں نچلے 50 فیصد ملازمین کی حقیقی آمدنی میں 1999ء سے مجموعی طور پر کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا ۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اجرتیں نہیں بڑھیں بلکہ ہوا یہ کہ ان میں اور مہنگائی میں اضافے کا تناسب ایک جیسا رہا۔ اس کی بہت سی وجوہ ہیں۔ کچھ ماہرین کے خیال میں ٹیکنالوجی اس کا سب سے بڑا سبب ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے کتنا تیار ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے افرادی قوت پر اثرات کے بارے میں ایک تحقیق کی گئی جس سے پتا چلا کہ کم و بیش ہر شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متاثر ہو گا۔ مثال کے طور پر عین ممکن ہے کہ کاروں، ٹرکوں اور بسوں کو چلانے کے لیے ڈرائیوروں کی ضرورت نہ رہے کیونکہ وہ خود کار ہو جائیں گی۔ اسی طرح تعلیم کے لیے اساتذہ اور سٹاف کی ضرورت کم ہو جائے گی کیوں آن لائن علم اور ڈگری حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کوایک نیا انقلاب کہا جاتا ہے لیکن تیز رفتا تبدیلیوں کے بارے میں پالیسی سازوں کے پاس اعدا د و شمار کی کمی ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلیوں سے کون سی ملازمتیں پیدا ہونے جا رہی ہیں اور کون سی ختم۔ اس کا ایک نتیجہ بے روزگاری کی صورت میں نکلتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی کے مطابق مہارتیں رکھنے والے افراد کی کمی ہو جاتی ہے اور جن ملازمتوں سے ان کے اخراج کا امکان ہوتا ہے اس کا متبادل بروقت تلاش نہیں کیا جاتا۔

پرانی ملازمتوں کے خاتمے اور نئی کے امکانات کے بارے میں تحقیق اور اعدادوشمار کم ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں اطلاعات کا سیلاب آیا ہوا ہے لیکن ان میں مطلوبہ معلومات نہیں ملتیں۔ کچھ بڑی کمپنیوں کے پاس اس بارے میں بہت سا ڈیٹا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایمازون اور نیٹ فلکس اپنی مصنوعات کی فروخت سے نئے رجحانات کا پتا لگاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ کیا چاہ رہے ہیں اور انہیں کیا کرنا چاہیے۔ لیکن ان اعداوشمار تک عام رسائی نہیں ہوتی اور نہ حکومتی پالیسی ساز اس بارے میں جان سکتے ہیں۔ اسی طرح جو ویب سائٹس ملازمتوں کی آفرز کے لیے بنائی جاتی ہیں ان کے پاس بھی نئے رجحانات اور ملازمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا اچھا خاصا ڈیٹا ہوتا ہے۔

انہیں پتا ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کن شعبوں کے طالبہ کے لیے کون سی ملازمتیں میسر ہیں۔ ان کے اعدادوشمار سے پالیسی ساز معلوم کر سکتے ہیں کہ کالج اور یونیورسٹی میں بدلتی ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھ کر کن نئے شعبوں کو متعارف کروانے کی ضرورت ہو گی۔ مثال کے طور پر پاکستان میں چند سال قبل تک ٹی وی پروڈکشن کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی لیکن اب متعدد کورسز متعارف کروائے گئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹی وی چینلز کے آنے کے بعد ایسا کیا گیا حالانکہ اسے پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے ثمرات سے زیادہ سے زیادہ افراد فائدہ اٹھائیں۔ اگر اس سے ملازمتیں ختم ہوتی جائیں اور بے روزگاری بڑھ جائے تو جرائم اور دیگر سماجی برائیاں پیدا ہوں گی۔

رضوان مسعود

Pakistan Missile Program

English: NELLIS AIR FORCE BASE, Nev.-- A Pakis...
 
پاکستان کے میزائل پروگرام کے بارے میں تمام دنیا حیران اور ششدر ہے۔ کسی بھی ترقی پذیر ملک کے پاس اس قسم کی دفاعی صلاحیت ہونا بلاشبہ حیران کن ہے اور اس ملک کے دفاعی اداروں کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حتف آٹھ رعد میزائل اسی میزائل پروگرام کا ایک حصہ ہے۔ یہ ایک کروز میزائل ہے جو فضاء سے جیٹ طیارے کے مدد سے داغا جا سکتا ہے۔ رعد کروز میزائل ہر قسم کے ایٹمی اور روایتی ہتھیار اپنے ساتھ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ساٹھے تین سو کلو میٹر تک اپنے ہدف کو کمال درستگی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ میزائل سٹیلتھ صلاحیت کا حامل ہے اور دشمن کے ریڈار اور دیگر باخبر رکھنے والے آلات کی نظروں میں آئے بغیر اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اسٹریٹجک نقطہ نگاہ سے اس میزائل کی بہت اہمیت ہے۔ کسی بھی جنگ کے دوران یہ میزائل آسانی سے دشمن کے آلات، ریڈار پوسٹ بالخصوص بحری بیڑے اور بحری جہازوں کو نہایت درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس وجہ سے رعد کروز میزائل کی بدولت پاکستان کو زمین اور سمندر پر “اسٹریٹجک سٹینڈ آف” استعداد حاصل ہو گئی ہے۔
رعد کی ایک نئی خوبی یہ ہے کہ اس میزائل کو نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مکمل خود کار نظام اسٹریٹجک کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ یہ نظام کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں موجو د اسٹریٹجک اور دفاعی فیصلہ سازوں کو دشمن کی اسٹریٹجک اثاثوں کی حقیقی صورتحال کے بارے میں اطلاع دیتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ داغے جانے کے بعد اور اپنے ہدف کو نشانہ بنانے تک اس میزائل کی پرواز کی مستقل نگرانی اور اس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
کروز میزائل ٹیکنالوجی انتہائی پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے اور دنیا کے صرف چند ممالک ہی اس ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ابتدائی مرحلہ کےوقت اس میزائل کو پاکستان ائر فورس کے میراج روز تھری طیارہ کی مدد سے داغا گیا تھا جو ایک کامیاب تجربہ تھا تاہم یہ میزائل جدید جے ایف سینوٹین تھنڈر طیارے سے بھی داغا جا سکتا ہے۔ جہاز سے داغے جانے کے فوراً بعد یہ میزائل اپنے پر کھول لیتا ہے اور سطح زمین اور سطح سمندر سے نہایت کم اونچائی پر پرواز کرتا ہوا اپنے اہداف کو “پن پوائنٹ ایکوریسی” سے نشانہ بناتا ہے۔ اس بیچ یہ زمینی اور سمندری اتار چڑھاؤ کو بھی نہایت درستگی سے عبور کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان اور پاکستان کی عوام کا حامی و ناصر ہو۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کے دفاعی اداروں اور دفاعی انجینئرز کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور اپنے فضل و کرم سے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دے۔ آمین
پاکستان زندہ باد
افواج پاکستان پائندہ باد
 

Diamer-Bhasha Dam

English: River Indus near Skardu (Pakistan) De...
Diamer-Bhasha Dam is an under-construction roller compacted concrete (RCC) dam on the River Indus in Gilgit-Baltistan, Pakistan. Its foundation stone was laid by Prime Minister Yusuf Raza Gilani of Pakistan on 18 October 2011. Upon completion, Diamer-Bhasha Dam would be the highest RCC dam in the world. The dam site is situated near a place called “Bhasha” in Gilgit-Baltistan’s Diamer District, hence the name.
Upon completion, Diamer-Bhasha Dam would (i) produce 4,500 megawatts of electricity through environmentally clean hydropower generation; (ii) store an extra 8,500,000 acre feet (10.5 km3) of water for Pakistan that would be used for irrigation and drinking; (iii) extend the life of Tarbela Dam located downstream by 35 years; and (iv) control flood damage by the River Indus downstream during high floods.
It will have a height of 272 meters spillway with fourteen (14) gates each 11.5 m x 16.24 m. The gross capacity of the reservoir will be 8,100,000 acre feet (10.0 km3), with a live storage of 6,400,000 acre feet (7.9 km3). Two (2) underground power houses are being proposed, one on each side of the main dam having six (6) turbines on each side with total installed capacity 4500 MW.
The estimated cost of the project, in 2011, was US $11.19 billion with an estimated completion time of 12 years.
 
Background
In January 2006, the Government of Pakistan announced the decision to construct 5 multi-purpose storage dams in the country during next 10-12 years. According to the plan, Diamer-Bhasha Dam project was proposed in the first phase. [1] In November 2008, the Executive Committee of National Economic Council formally approved the project. Council of Common Interests Pakistan, a constitutional body representing the provinces, also approved the construction of the dam. The Prime Minister of Pakistan laid the foundation stone of the project on 18 October 2011.

  Construction cost

The cost of the Diamer-Bhahsa dam is $12.6 billion (November,2008) and it will have a storage capacity of 8,100,000 acre feet (10.0 km3). However, it will have a power generation capacity of 4,500 megawatts.
An amount of Rs 27.824 billion is required for the acquisition of land and resettlement of the people to be affected in the wake of the construction of the dam. Under the proposed project, Rs 10.76 billion will be spent for the acquisition of agriculture-barren land, tree and nurseries and Rs 1.638 billion to be utilised for properties & infrastructure, Rs 8.8 billion for establishment of nine model villages, Rs 62.119 million for pay & allowances for administrative arrangements, and Rs.17.7 million for contingent administrative expenses. The project also includes an escalation cost of Rs 2.234 billion at the rate of 6 per cent per year for five years and interest of Rs 4.309 billion during the implementation at the rate of 9 per cent.
Detailed drawings of the dam were completed by March 2008 and the ground-breaking ceremony is expected to take place in May 2011.[2]
As of 2012 the project has faced several setbacks due to major sponsors backing out from financing the project.[3]

  Design

The project is located on Indus River, about 315 km upstream of Tarbela Dam, 165 km downstream of the Northern Area capital Gilgit and 40 km downstream of Chilas.
  • Main Dam:
  • Diversion System:
    • Tunnels: 02
    • Canals: 01
    • Cofferdam: Upstream and Downstream
  • Main Spillway:
    • Gates: 09
    • Size: 16.5×15.0 m
  • Reservoir Level: 1160 m
  • Min Operation Level Elevation: 1060 m
  • Gross Capacity: 7,300,000 acre feet (9.0 km3)
  • Live Capacity: 6,400,000 acre feet (7.9 km3)
  • Outlets:
    • Intermediate Level: 08
    • Low Level: 04
    • No. of Powerhouses: 02
    • Total Installed Capacity: 4,500 MW
    • Location of Powerhouses: one each on right and left side
    • No. of Generator Units: 08
    • Capacity/Unit: 560 MW
    • Average Power Generation; 16,500 GWh
  • Estimated Cost: US $13 Billion (2011 Estimate)

  Purpose and function

The main purpose of the dam is water storage, irrigation and power generation.
  • Production of 4,500 megawatts of electricity through environmentally clean hydropower generation
  • Storage of an extra 8,500,000 acre feet (10.5 km3) of water for Pakistan that would be used for irrigation and drinking
  • Extend the life of Tarbela Dam located downstream by 35 years
  • Control flood damage by the River Indus downstream during high floods
  • Availability of about 6,400,000 acre feet (7.9 km3) annual surface face water storage for supplementing irrigation supplies during low flow periods
  • Harnessing of renewable source of clean and cheap energy through installed capacity of 4500 MW
  • Reduction of dependence on environmentally damaging thermal power, thus saving environment and foreign exchange
  • Short and long term employment opportunities, particularly to locals, during the construction (15,000 jobs) and operation phase
  • Creation of massive infrastructure leading to overall socio-economic uplift of the area and standard of living of people

 Environmental impact and resettlement

Environmental Impact:
• Villages affected: 31
• Houses affected: 4,100
• Population affected: 35,000
• Agricultural land submerged: 1,500 acres (6.1 km2)
• Area under reservoir: 25,000 acres (100 km2)

Resettlement:
• Proposed new settlements: 9 model villages
• Population resettled: 28,000
• New infrastructure, roads, clean water supply schemes, schools, health centres, electricity supply, etc.
• Development of new tourism industry in area around reservoir (including hotels, restaurants, water sports, etc.)
• Development of hitherto non-existent fresh-water fishing industry based on newly created reservoir

Enhanced by Zemanta

List of Dams in Pakistan

English: Mangla Dam
English: Mangla Dam (Photo credit: Wikipedia)

Gomal Dam
Wali Tangi
Kalabagh Dam
Tarbela Dam
Mangla Dam
Shakidor Dam
Gomal Zam Dam
Ghazi Barotha Dam

English: Powerhouse at Mangla Dam.
English: Powerhouse at Mangla Dam. (Photo credit: Wikipedia)

Dohngi Dam
Khanpur Dam
Rawal lake
Guddu Barrage
Sukkur Barrage
Akhori Dam
Mirani Dam
Hub Dam
Simly Dam

Enhanced by Zemanta