شام کی جنگ میں ترکی اور امریکی افواج آمنے سامنے

ترک فوج کی ممکنہ طورپر شمالی شام کے علاقے منبج میں آمد کے پیش نظر وہاں پر تعینات امریکی فوج نے بھی دفاعی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ عربی ٹی وی کے مطابق منبج میں 300 امریکی فوجی تعینات کیے گئے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ بکتر بند گاڑیاں اوربھاری ہتھیار بھی پہنچائے گئے ہیں، منبج میں یہ امریکی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں ترکی نے عفرین شہر کے بعد منبج میں بھی فوج داخل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

عفرین میں ترکی نے جنوری میں ’شاخ زیتون‘ کےعنوان سے کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ واضح رہے کہ عفرین کے برعکس منبج میں امریکی فوجی اڈہ اور امریکی فوجیوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے جو ترک فوج کے لیے ایک مسئلہ بن سکتی ہے۔ گزشتہ ہفتے ترکی کی قومی سلامتی کمیٹی نے کہا تھا کہ اگر منبج سے کرد عسکریت پسند نکل نہیں نکلتے تو ترک فوج کو اس شہر میں داخل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

Advertisements

ایک پاکستانی نے مشرقی غوطہ میں کیا دیکھا ؟

مشرقی غوطہ شدید بمباری سے دوچار ہے اور ایسے میں وہاں پاکستانی شہری محمد فضل اکرم ان افراد میں شامل تھے، جو سب سے پہلے اس علاقے سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ محمد فضل اکرم مشرقی غوطہ کی یادیں بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ اس نے وہاں ایک ہسپتال میں اعضاء کھو چکی بچی کو دیکھا۔ شامی فورسز نے ایک طویل عرصے سے اس علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہاں بڑی تعداد میں لوگ خوراک اور پینے کے پانی کی شدید قلت کے ساتھ ساتھ ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کے متلاشی ہیں، جب کہ آسمان سے آگ برس رہی ہے۔ اکرم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا، ’’ہم یہ تک نہیں جان پا رہے تھے کہ ہمیں کون قتل کر رہا ہے اور کون قاتل نہیں ہے۔‘‘

اکرم، جو اب پاکستان پہنچ چکے ہیں، نے کہا، ’’ہمیں صرف ایک چیز کا علم تھا اور وہ یہ کہ ہمارا شہر برباد ہو رہا ہے۔‘‘ مشرقی غوطہ میں طبی امداد فراہم کرنے والی تنظیم سیرئین سول ڈیفنس نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر اسد کی حامی فورسز نے بمباری کے دوران کلورین گیس کا استعمال کیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں بچے ہلاک ہو رہے ہیں اور متاثرہ افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔ محمد فضل اکرم سن 1974 میں مشرقی غوطہ منتقل ہوئے تھے۔ ان کی دو بیویاں ہیں، جن میں سے ایک کا تعلق غوطہ ہی سے ہے جب کہ دوسری ان کی پاکستانی کزن ہیں۔ اکرم کے مطابق پھر شہر میں بیرونی عسکریت پسند آ گئے، اس کے دو بیٹوں کو عسکریت پسند گروہ میں بھرتی کر لیا گیا جب کہ تیسرا بیٹا سن 2013ء میں تشدد کی نذر ہو گیا۔

اکرم نے بتایا کہ گلی کوچے میں پھیل جانے والے پرتشدد واقعات کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ شام ڈھلنے پر اپنے بیٹے کی واپسی کا انتظام کرتے رہے، مگر اسے ایک ایمبولنس گھر لائی اور وہ بھی مردہ حالت میں۔ اپنی شامی بیوی ربع جرد کا نیلا پاسپورٹ لہراتے ہوئے اکرم نے بتایا، ’’وہ یہ دکھ برداشت نہ کر سکی اور اسے دل کا دورہ پڑ گیا۔‘‘ سن 2015ء میں اکرم نے اپنے خاندان کے ساتھ مشرقی غوطہ سے نکلنے کی کوشش کی تھی، ’’مسلح گروپوں نے پہلے تو ہم پر گولی چلائی، پھر حکومتی فورسز نے۔ ہم شہر سے نکل نہ پائے۔‘‘

اس زیرمحاصر شہر کے باسی نے بتایا کہ اس علاقے کی تمام آبادی رفتہ رفتہ مٹتی چلی گئی، کچھ علاقے سے نکل گئے کچھ مارے گئے۔ اکرم نے بتایا کہ اس نے پورے علاقے میں ہر طرف بری طرح زخمی لوگ دیکھے اور کئی مقامات پر ملبے تلے انسانی لاشیں گلتی سڑتی نظر آئیں۔ اکرم کے مطابق وہ ہسپتال میں بازوؤں اور ٹانگوں کے بغیر پڑی اس بچی کی یاد اپنے دماغ سے محو نہیں کر پایا، ’’میں نے خدا سے دعا کی تھی کہ وہ کسی کو یہ مناظر کبھی نہ دکھائے۔‘‘

بشکریہ DW اردو

اسرائیل نے شامی جوہری پلانٹ تباہ کرنے کی وڈیو جاری کر دی

اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ 2007ء میں شامی علاقے دیرالزور کے قریب واقع جوہری پلانٹ کی تباہی دراصل اس کے طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں ہوئی تھی، جس کا مقصد ایران کو ایک واضح پیغام دینا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے عوامی سطح پر پہلی مرتبہ تصدیق کی گئی ہے کہ 10 برس سے زائد عرصہ قبل شامی جوہری پلانٹ کو تباہ کر کے ایران کو ایک واضح پیغام دیا گیا تھا کہ اسرائیل خطے میں جوہری ہتھیار قبول نہیں کرے گا۔ اسرائیل کے محکمہ سراغ رسانی کے وزیر اسرائیل کاٹس نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں اعتراف کیا کہ یہ کارروائی اور اس کی کامیابی نے واضح کر دیا تھا کہ اسرائیل جوہری ہتھیار ان ہاتھوں میں قبول نہیں کرے گا، جو دوسروں کی بقا کو خطرے سے دوچار کرتے ہیں۔

شامی علاقے دیرالزور کے قریب الکبار نامی جوہری تنصیب پر اسرائیلی ایف 16 طیاروں کی مدد سے حملہ کیا گیا تھا، جب کہ اسرائیل نے اس حملے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ اسرائیلی قانون کے مطابق 10 برس سے زائد عرصہ بیت جانے کے بعد خفیہ معلومات کو افشا کرنے پر عائد پابندی ختم ہوئی، جس کے بعد یہ تصدیق کی گئی۔ یہ شامی جوہری تنصیب اس وقت تباہ کی گئی تھی، جب وہ ابھی جزوی طور پر ہی تعمیر ہوئی تھی۔

عفرین میں لہرا تا ترک پرچم

شام جو گزشتہ آٹھ سالوں سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے اور یہ خانہ جنگی ہمسایہ ممالک کے لئے دردِ سر بنی ہوئی ہے کیونکہ خانہ جنگی کی وجہ سے شام کی آبادی کا بڑا حصہ ہمسایہ ممالک میں پناہ لئے ہوئے ہے۔ جن کی تعداد ساڑھے تین ملین سے تجاوز کر چکی ہے اور مزید پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی سے سب سے زیادہ متاثر ملک ترکی ہی ہے کیونکہ شام میں برسر پیکار دہشت گرد تنظیموں جن میں پی کے کے، پی وائی جی اور وائی پی جی شامل ہیں کو امریکہ شام میں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔

جدید اسلحے کی جب فوٹیج اور تصاویر عالمی میڈیا میں جگہ پانا شروع ہوئیں اور امریکی کمانڈرز کی جانب سے کھلے عام ان کی ٹریننگ جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا تو ترکی نے امریکہ کی دوغلی پالیسی پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ اگر دہشت گردوں کو اسلحہ پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو پھر ترکی خاموش تماشائی نہیں رہے گا اور ان دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرے گا۔ ترکی کے بار بار انتباہ کے بعد امریکہ نے سابق وزیر خارجہ ٹلرسن کو ترکی کے دورے پر روانہ کیا جنہوں نے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کی۔ جس میں صدر ایردوان نے شام سے متعلق حکومتی پالیسی کے بارے میں اپنی ترجیحات اور توقعات سے امریکا کو باخبر کیا اور امریکہ سے فوری طور پر شامی اپوزیشن اتحاد سیرین ڈیموکریٹک فورسز سے دہشت گرد تنظیم وائی پی جی اور پی وا ئی ڈی کو نکال دینے کا مطالبہ کیا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ترک فوجی دستوں کی جانب سے علاقے میں فوجی کارروائی کرنے سے آگاہ کر دیا۔

امریکہ کی جانب سے اگرچہ ہمیشہ کی طرح ترک خدشات دور کرنے کا وعدہ کیا گیا اور اس سلسلے میں ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا لالی پاپ دیا گیا۔ جس پر ترکی نے بیس جنوری سے شام میں برسر پیکار دہشت گردوں کے خلاف ’’شاخِ زیتون‘‘ کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا اور یہ آپریشن سویلین کو نقصان پہنچائے بغیر بڑی آہستگی سے جاری رکھا گیا اور آخر کار 58 روز کے بعد شام کی ڈسٹرکٹ ’’عفرین‘‘ کے مرکزی علاقے تک پہنچنے میں رسائی حاصل کی اور عفرین شہر کے مرکزی علاقے جہاں پر دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کے سرغنہ عبداللہ اوجالان کے بینرز، تنظیم کے جھنڈے لہرا رہے تھے کو ہٹاتے ہوئے ترکی کے پرچم گاڑ دئیے۔ گزشتہ دو ماہ سے جاری اس لڑائی میں ترک افواج کو فری سیرین آرمی کا تعاون بھی حاصل تھا۔ عفرین کی اس لڑائی کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ شہری متاثر ہوئے ۔

ترک صدر ایردوان نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے روز جب فتح چناق قلعے کی 103 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے عفرین کی فتح بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ ترک مسلح افواج نے صبح ساڑھے پانچ بجے ڈسٹرکٹ عفرین سے اپنی فوجی کارروائی کا آغاز کیا اور صبح ساڑھے آٹھ بجے شہر کے مرکزی علاقے میں ترک پرچم لہرانے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے شمالی شام کے دیگر علاقوں میں جہاں دہشت گرد موجود ہیں کی مکمل صفائی تک فوجی کارروائی جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔ ترکی علاقے کو بفر زون قائم کرتے ہوئے ان تمام مہاجرین یا پناہ گزینوں کو آباد کرنا چاہتا ہے جو اسد انتظامیہ کے ظلم و ستم سے فرار ہو کر ترکی آ گئے تھے اور اب ترکی ان پناہ گزینوں کو ترکی میں نہیں بلکہ شام ہی کی حدود کے اندر جو ان کی اپنی سرزمین ہے مستقل طور پر آباد کرنا چاہتا ہے اور اسی وجہ سے اس نے اس پورے علاقے میں امریکہ کے شدید دبائو کے باوجود فوجی آپریشن کو جاری رکھا ہوا ہے۔

حکومت کے ترجمان اور نائب وزیراعظم بیکر بوزداع نے کہا ہے کہ ترک مسلح افواج کے عفرین میں آپریشن کے دوران کسی بھی شہری کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔ عفرین پر کنٹرول قائم کرنے کے بعد استحکام قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے بعد ترک دستے مقامی باشندوں کو انتظامی اختیارات سونپتے ہوئے اپنا انخلا شروع کر دیں گے۔ اس فوجی آپریشن کے بارے میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود چائوش اولو نے کہا ہے کہ شام کے کرد علاقوں میں جاری یہ عسکری کارروائی مئی سے پہلے ہی ختم ہو جائے گی۔ اولو کے مطابق ترکی جلد از جلد اس آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتا ہے تاکہ عفرین کے حالات مستحکم ہوں اور شہری اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔ ہم یہاں پر شہریوں کو نہ صرف دہشت گردوں سے بلکہ اسد قوتوں کے حملوں سے بھی تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

ترکی کے فوجی آپریشن کے خلاف امریکہ کے علاوہ یورپی یونین نے بھی شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہو ئے آپریشن جلد از جلد روکنے کا مطالبہ کیا ہے جس پر ترک صدر ایردوان نے کہا کہ’’آپ نے کب سے ترکی پر اپنے فیصلے مسلط کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ آپ پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ ہم ساڑھے تین ملین شامی باشندوں کی گزشتہ سات سالوں سے میزبانی کر رہے ہیں اور آپ نے ان پناہ گزینوں کو اپنے ہاں آنے سے روکنے کے لئے ہر طریقہ کار اپنایا اور ہم سے ان پناہ گزینوں کو ترکی ہی میں پناہ دینے کے لئے منت سماجت کی۔ اب آپ کیسے ہمیں شام میں فوجی کارروائی کرنے سے روکتے ہیں؟ ہم نے مسلمان ہونے کے ناتے ان کے ساتھ انصار جیسا برتائو کیا ہے لیکن آپ لوگ انسانیت ہی سے عاری ہیں۔ اس لئے آپ کو ترکی کو ڈکٹیٹ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہمیں آپ کے فیصلوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔ ‘‘

ترکی کے عفرین پر قبضےکے بعد اب چار اپریل کو ترکی، روس اور ایران کے رہنماؤں کا اجلاس دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہو گا جس میں شام کے بحران پر بات چیت کی جائے گی۔ کانفرنس جس کی میزبانی کے فرا ئض صدر رجب طیب ایردوان انجام دیں گے، میں روس کے صدر پیوٹن اور ایران کے صدر حسن روحانی شرکت کریں گے۔ یہ کانفرنس دو نومبر کو روس کے شہر سوچی میں منعقد ہونے والے سہ فریقی سربراہی اجلاس کے دوسرے مرحلے کی حیثیت رکھتی ہے۔ تینوں رہنما سوچی میں کیے جانے والے فیصلوں کے علاوہ شام کی موجودہ صورتِ حال پر بھی بات چیت کریں گے۔ کانفرنس میں ترکی کے فوجی آپریشن ’’شاخِ زیتون‘‘ پر بھی بات چیت کیے جانے اور اس کے بعد ترکی کے شمالی شام میں پیش قدمی کے بارے میں بھی بات چیت کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر فر قان حمید

کیا قیامت قریب آگئی ہے؟

اس وقت میں ترکی کے شہر استنبول میں ہوں ابھی کچھ ہی دیر قبل مجھے میرے ایک شناسا آفاق احمد شمسی نے ایک طویل مضمون واٹس ایپ پر بھیجا ہے میں اس مضمون کو اختصار کے ساتھ یہاں پیش کر رہا ہوں۔ کیا ہم نے بحیثیت مسلمان اور پاکستانی سوچا ہے کہ آخر شام، یمن میں یہ خون ریزی کیوں ہو رہی ہے کیوں شام میں خصوصاً مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے آخر یہ کون لوگ ہیں کیوں یہ دہشت گردی کر رہے ہیں حیرت اس بات پر بھی ہے کہ مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں مروایا جا رہا ہے۔ افغانستان میں اور عراق میں جو لوگ قتل و غارت میں مصروف ہیں ان میں بھی صرف طالبان کو دہشت گرد کہا جاتا ہے جبکہ شام میں جو لڑائی لڑی جا رہی ہے وہ بھی دو مسلمان فرقوں کے درمیان لڑی جا رہی ہے۔

یوں تو پورا شام گزشتہ سات سالوں سے بربریت کی علامت بنا ہوا ہے، لیکن غوطہ ایک ایسا شہر ہے جس کا محاصرہ کبھی بھی نہیں ٹوٹا. شامی حکومت کے اس قتل عام میں دوعالمی دہشت گرد ملیشیا اس کے ساتھ شریک ہیں جبکہ انہیں روسی افواج اور فضائیہ کی مدد حاصل ہے تمام عالمی طاقتوں کی ایک سازش ہے کہ نہ صرف مشرق وسطیٰ کو بلکہ تمام مسلم امہ کو مسلکی بنیاد پر تقسیم کیا جائے اور پھر اس تقسیم کی بنیاد پر پیدا ہونے والی نفرتوں کو زندہ رکھا جائے. اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ عراق کی منظم فوجی طاقت تھی جو ایران اورعرب ممالک کے درمیان ایک بفرزون کا کام کرتی تھی.

ایران اور عراق دونوں برابر کی فوجی صلاحیت رکھتے تھے. امریکی افواج کے ذریعے ایک جھوٹے بیانیہ پر کہ صدام کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں، حملہ کیا گیا اور عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی. امریکی افواج قابض ہوئیں تو ایران نے عراق کی ایک مکتب فکر آبادی کو مزاحمت کرنے سے روک دیا جس کے نتیجے میں امریکہ نے انہیں اپنی سرپرستی میں عراق کا اقتدار سونپ دیا. یہی نہیں بلکہ اس حکومت کے ساتھ مل کر فلوجہ سے لے کر تکریت اور موصل میں القاعدہ کا نام لے کر دوسرے مکتب فکر کی آبادی کا قتل عام کیا گیا. یوں جنوب میں وہ تمام آبادیاں جہاں ایک فرقے کی اکثریت تھی وہاں سے دوسرے مکتب فکر کے لوگ ہجرت کر کے شمال کی جانب چلے گئے.

وہاں انہیں ایک اور عفریت کا سامنا کرنا پڑا جسے دولت اسلامیہ اور داعش کہتے ہیں. مسلمانوں کے جذبہ انتقام سے جنم لینے والی یہ دہشتگرد تنظیم داعش جسے ہر مسلمان دہشت گرد کہتا ہے، اس تنظیم کا اثرو رسوخ شام کے علاقے رقہ اور دیرالزور تک بھی پھیل گیا تھا. اس تنظیم کو تو مسلم امہ نے دہشت گرد کہا لیکن کسی نے شام میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والی تنظیموں کو کبھی قاتل اور دہشت گرد نہیں کہا۔ حالانکہ یہ دونوں تنظیمیں بیرون ملک سے القاعدہ کی طرح شام میں آ کر مسلمانوں کو قتل کر رہی ہیں. جب عراق کا جنوبی علاقہ زیر اثر آگیا تواب شام سے لبنان تک ایک پورا خطہ ‘‘کاریڈور’’ چاہئے تھا ، اس مقصد کے لیے شام کے دیگر مسلمانوں کو شمال کی جانب دھکیلنا شروع کیا گیا. ادلب چار لاکھ آبادی کا شہر ہے وہاں اس وقت چالیس لاکھ مسلمان ہجرت کر کے آچکے ہیں.

شام کے چار بڑے شہر تھے جن میں ایک فرقے کے لوگ آباد تھے. کفریا اور فواء میں دوسرے مکتب فکر کی اکثریت تھی اور مدایا اور زبدانی میں ایک معاہدہ عمل میں آیا، جس کے تحت مدایا اور زبدانی سے ایک مکتب فکر کی آبادی کو ادلب منتقل کیا گیا اور کفریا اور فواء سے دوسرے مکتب فکر کے لوگوں کو حلب بھیجا گیا. حلب کا کنٹرول اس سے پہلے ہی حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا تھا. اب لبنان، شام، عراق اور ایران کے کاریڈور میں صرف ایک ہی رکاوٹ بچی تھی اور وہ ہے غوطہ. اس شہر کا گزشتہ پانچ سالوں سے محاصرہ جاری ہے.

اس شہر کے مکینوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مصداق ‘‘ جب پیلے جھنڈوں والے مصر میں داخل ہو جائیں تو اہل شام کو زمیں دوز سرنگیں کھود لینی چاہئیں’’ (السنن الواردہ فی الفتن)، غوطہ کے شہریوں نے ہر گھر میں زیر زمین پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں اور پورا شہر زیر زمین سرنگوں کی مدد سے شامی فوج اور اس کے اتحادیوں اور روسی افواج کے محاصرے کا پانچ سال سے توڑ کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ بم باری سے بچے اور خواتین نشانہ بن رہے ہیں جو زیر زمین اپنی رہائشگاہوں سے گھبرا کر باہر نکل جاتے ہیں ان کی مائیں انہیں واپس لانے کے لیے انہیں پکڑنے کے لیے ان کے پیچھے جاتی ہیں جو پھر کبھی واپس نہیں آتیں۔

ان ظالم قوتوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مقامی آبادی کو یہاں سے نکلنے پرمجبور کیا جائے یا پھر اسی شہر میں ہی ان سب کو موت دے دی جائے. محاصرے سے تو موت واقع نہ ہو سکی اب روزانہ روسی اور شامی ایئر فورس کی بمباری جاری ہے، لیکن اس شہر کے لوگوں نے رسول اکرمؐ کی حدیث کے مطابق چونکہ ہر گھر میں زیر زمین پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں اس لیے اب اچانک زد میں آنے والے بچے اور عورتیں یا گھر میں سوئے ہوئے لوگ ہی جام شہادت نوش کر رہے ہیں. اس قدر بمباری کے باوجود شامی حکومت اور اس کے اتحادی شہر میں داخل نہیں ہو سکے. یہ وہ سرزمین ہے جہاں آخری معرکے میں مسلمانوں کا ہیڈ کوارٹر ہو گا، جس کے قرب و جوار میں سیدنا امام مہدی کی قیادت میں مسلمانوں نے دجالی طاقتوں سے جنگ کرنا ہے، جہاں سیدنا حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ہو گا. وہاں کے مسلمانوں کے قتل عام میں جو کوئی روس اور شامی حکومت کا ساتھ دیتا ہے وہ بھی دہشت گرد ہے کہ ان کے ہاتھوں سے بھی بے گناہ مسلمان قتل ہو رہے ہیں۔

مشتاق احمد قریشی

شامی جنگ میں مغرب نے کیا غلطیاں کیں؟

شام میں سات برس سے جاری خانہ جنگی میں مغربی ممالک نے مداخلت کرنے کے کئی مواقع گنوائے۔ ایسے تنازعات کے حل میں موثر کردار ادا کرنے کے لیے مغرب کو اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا۔ ڈی ڈبلیو کے کیرسٹن کِنپ کا تبصرہ۔

شامی جنگ سے متعلق ’اگر یوں یوتا تو۔۔۔‘ کے ساتھ کئی سوالات جڑے ہوئے ہیں اور ان میں اکثر کا تعلق مغربی ممالک کے اس جنگ میں کردار سے متعلق ہیں۔ اگر مغرب اس تنازعے میں پہلے مداخلت کرتا تو شامی جنگ کیا رخ اختیار کرتی؟
موجودہ صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو ماضی میں مغرب نے شامی تنازعہ حل کرنے کے کئی سنہری مواقع گنوائے۔ مثال کے طور پر سن 2013 میں جب یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ شامی صدر بشار الاسد اپنے عوام کے خلاف طاقت کے استعمال میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی کر سکتے ہیں، تب امریکی صدر اوباما نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو ’سرخ لکیر‘ قرار دیتے ہوئے اسد حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ایسی صورت میں مغرب ان کے خلاف طاقت کا استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ اسد حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے اور امریکا اور مغربی ممالک نے پھر بھی شام میں عسکری مداخلت سے گریز کیا۔

’اوباما کی سرخ لکیر‘
اب یوں لگتا ہے کہ اس وقت امریکا اور مغربی اتحادیوں نے شام میں مداخلت نہ کر کے اسد حکومت کو محدود کرنے کا موقع گنوا دیا۔ اس وقت اسد کو روس اور ایران کا ویسا تحفظ اور حمایت حاصل نہیں تھی، جیسی کہ اب ہے اور تب شام میں مغرب کی مداخلت ممکنہ طور پر کارگر ثابت ہو سکتی تھی۔ لیکن اوباما نے یہ موقع ضائع کر دیا۔ اوباما کے شام میں مداخلت نہ کرنے کے اس فیصلے کی وجوہات بھی تھیں۔ امریکا افغانستان اور بعد ازاں عراق میں جنگ شروع کر چکا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری مداخلت کی بنیاد دانستہ طور پر بولے گئے جھوٹ پر مبنی تھی جس کی وجہ سے امریکا کا تشخص بری طرح سے مجروح تھا اور شام میں عسکری مداخلت اخلاقی اور سیاسی طور پر امریکا کی عالمی ساکھ کو مزید خراب کر سکتی تھی۔

علاوہ ازیں عسکری مداخلت سے وابستہ اسٹریٹجگ خطروں کا اندازہ لگانا بھی مشکل کام تھا۔ مغربی اتحادیوں کی عسکری مداخلت کے اسد پر کیا اثرات مرتب ہوتے؟ روس اور ایران کا ردِ عمل اس وقت کیسا ہوتا؟ ایسے فیصلے کے بعد مسلم اکثریتی ممالک میں امریکا مخالف جذبات کتنے بڑھتے، شیعہ اور سنی مسلمانوں کا ردِ عمل کیا ہوتا ؟ اور پھر عسکری مداخلت کے بعد امریکا اور یورپ میں دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ بھی کس قدر بڑھ جاتا؟

‘جمود کی قیمت‘
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شام میں مغربی عسکری مداخلت کے ممکنہ طور پر بھیانک نتائج نکل سکتے تھے۔ لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو مداخلت نہ کرنے کے نتائج بھی کوئی اچھے نہیں نکلے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ روس اور ایران شامی تنازعے میں کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ روس کے فریق بننے کے بعد اب مغرب کے لیے تصادم سے بچے بغیر مداخلت کرنے کا کوئی راستہ نہیں بچا۔
اسی لیے اب واشنگٹن اور یورپی رہنماؤں کے اسد کے اقتدار سے الگ ہو جانے کے مطالبے زبانی جمع خرچ سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ مغرب شام میں کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں چاہتا، اب ان باتوں کا شام کے زمینی حقائق پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

’باغیوں کی مدد یا جہادیوں کی‘
امریکا نے شامی خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے ہی مبینہ طور پر بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا جس سے شام افراتفری کا شکار ہو سکتا تھا۔ اس مبینہ منصوبے کے باعث بھی شام میں امریکی مداخلت کی نیت مشکوک ہو چکی تھی۔  سن 2010ء میں ابھی اُس باغیانہ انقلابی تحریک نے حلب کی جامع الاموی کے دروازوں پر دستک نہیں دی تھی، جو تب پوری عرب دُنیا میں بھڑک اٹھی تھی۔ یہ خوبصورت مسجد سن 715ء میں تعمیر کی گئی تھی اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔

شامی تنازعے کے شروع میں بھی انہی وجوہات کے باعث امریکا اور مغربی اتحادی متذبب دکھائی دے رہے تھے۔ یہ ممالک شامی باغیوں کی حمایت اور معاونت بھی کرنا چاہتے تھے لیکن ساتھ میں یہ خطرہ بھی تھا کہ کہیں غلطی سے وہ جہادیوں کو اسلحہ نہ فراہم کر بیٹھیں۔ اسی پالیسی کے باعث شام میں ایک نہیں کئی اپوزیشن اور باغی گروہوں نے جنم لیا جس کے باعث خانہ جنگی ختم ہونے کے بجائے پھیلتی چلی گئی۔ جس کے نتیجے میں صرف باغی اور جہادی ہی نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں عام شہری بھی مارے گئے۔ شام میں ایسی تباہی اور ایسے بھیانک مناظر سامنے آئے جن کی مثال حالیہ عالمی تاریخ کسی اور جنگ میں نہیں ملتی۔

‘محض بیان بازی سے کام نہیں چلے گا‘
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان غلطیوں سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ مغرب کی ناپختہ عسکری مداخلت کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، وہ ہم لیبیا اور عراق میں دیکھ چکے ہیں۔ یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ مغرب اب کسی طویل مدتی اور تعمیری عسکری کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ مغربی ممالک شام میں عسکری کارروائیوں کو روس اور ایران کے ہاتھوں میں بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ اب شامی صورت حال میں بہتری کے لیے مغرب کے کردار کا قصہ ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔

مغرب کو لیکن اب یہ ضرور سیکھنا ہو گا کہ آئندہ کسی تنازعے میں جب وہ کسی ملک یا آمر کو خبردار کریں تو اس کے ساتھ ساتھ انہیں عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں کیا ردِ عمل دکھانا ہے، اس بات پر بھی پوری تیاری کے ساتھ ایک جامع لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ یا دوسری صورت میں انہیں کسی بھی معاملے میں مداخلت کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ محض بیان جاری کرنے کا زمانہ گزر چکا، ان باتوں سے تنازعات حل نہیں ہوتے، مزید بگڑ جاتے ہیں۔

بشکریہ DW اردو

نیٹو آو ہمارے ساتھ مل کر شام میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرو، رجب طیب ایردوان

ترکی سے دوہرے معیار کا مظاہرہ کرنے والے نیٹو پر صدر رجب طیب ایردوان نے رد عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ صدر ِ ترکی نے کہا کہ نیٹو نے شام میں انسداد دہشت گردی کے معاملے میں کوئی مدد نہیں دی حتی اس نے رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے نیٹو سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ تم کہاں ہو؟ ہم یہاں پر جنگ لڑ رہے ہیں۔ کیا ترکی نیٹو کا رکن نہیں ہے؟ تم نے اپنے اتحادیوں کو افغانستان طلب کیا تھا ، لیکن اب شام میں ایسا کیوں نہیں کیا گیا ؟ شام میں نیٹو کے رکن ممالک اگر ان کے پاس طاقت ہو تو یہ ترکی کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں گے۔ لیکن ترکی کے سامنے یہ آواز بلند کرنے کی جرات نہیں کر پا رہے۔ اب میں انہیں دعوت دیتے ہوئے کہتا ہوں کہ آؤ شام میں مل کر کاروائی کرو۔

عفرین کے بڑے حصے پر ترک افواج کا قبضہ

شامی علاقے عفرین کے ایک بڑے حصے پر ترک فوج نے قبضہ کر لیا ہے۔ اسے ترک افواج کے لیے ایک بڑی کامیابی اور کرد جنگجوؤں کے لیے ایک بڑے دھچکے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ شامی حالات پر نظر رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ترک فضائیہ کی شدید بمباری کے بعد ترک زمینی دستے اور فری سیریئن آرمی کے جنگجو علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔ ترک فوجوں نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے جندریس پر قبضہ کر لیا ہے۔ ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق اس دوران علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ جندریس کا شمار عفرین کے بڑی آبادی والے علاقوں میں ہوتا ہے۔

عسکری حوالے سے اہم ترین شمال مغربی شامی شہر عفرین کو کُرد جنگجوؤں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ دوگان نے خبر دی ہے کہ ترک دستوں اور کرد جنگجوؤں کے مابین جندریس کے قبضے کے لیے تقریباً ایک دن تک شدید لڑائی جاری رہی۔ شہر کے مرکز میں ترک پرچم بھی لہرا دیا گیا ہے۔ ترکی نے رواں برس بیس جنوری کو شام میں موجود کرد جنگجوؤں کے خلاف عسکری کارروائی شروع کی تھی۔ انقرہ ان جنگجوؤں کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ ترکی کا الزام ہے کہ ان جنگجوؤں کا کالعدم کرد تنظیم کردستان ورکز پارٹی ’پی کے کے‘ سے بھی تعلق ہے۔

اس موقع پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے فریقین سے بلاتفریق حملوں سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچنے اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ شام کے کرد علاقوں میں جاری یہ عسکری کارروائی مئی سے پہلے ہی ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بیان آسٹریا کے دورے کے موقع پر دیا۔ اولو کے مطابق ترکی جلد از جلد اس آپریشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتا ہے تاکہ عفرین کے حالات مستحکم ہوں اور شہری اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔

بشکریہ DW اردو

شام میں باغیوں نے روس کی پیشکش مسترد کر دی

باغیوں نے روس کی جانب سے پیش کی جانے والی محفوظ راستہ دینے کی تجویز مسترد کر دی جب کہ مشرقی شہر غوطہ میں فضائی بمباری کے دوران مزید 24 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ایک باغی رہنما حمزہ برقدر نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ روس کی طرف سے پیش کردہ اس منصوبے پر مذاکرات نہیں کیے جائیں گے جس کے تحت شورش زدہ علاقے غوطہ سے باغیوں کے محفوظ انخلا کی تجویز دی گئی ہے۔ حمزہ کے مطابق مشرقی غوطہ کے تمام گروہ اپنی سرزمین کے تحفظ کی خاطر متحد ہیں۔ جبکہ غیر ملکی میڈیا کے مطابق دمشق کے نزدیک مشرقی غوطہ باغیوں کا آخری مضبوط گڑھ ہے اور وہ اس سے قبل بھی ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

روسی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ باغی اپنے خاندانوں اور ذاتی ہتھیاروں کے ہمراہ مشرقی غوطہ سے محفوظ راستے کے ذریعے سے نکل سکتے ہیں۔ روس کی مدد سے شامی فوج نے مشرقی غوطہ میں طوفانی حملوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
روسی تجویز میں یہ نہیں بتایا گیا کہ باغی جائیں تو جائیں کہاں تاہم لگتا یہی ہے کہ پہلے کی طرح اب روسی پیشکش کا مطلب یہ ہے کہ باغی شامی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال کر ترکی کی سرحد کے نزدیک حزب اختلاف کے علاقوں میں چلے جائیں۔ غوطہ کیلیے اقوام متحدہ کی پہلی امداد بے سود ثابت ہوئی اقوام متحدہ نے پھر غوطہ میں امداد بھیجنے کا اعلان کیا ہے جب کہ شام کی صورت حال پر فرانس اور برطانیہ کی جانب سے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا۔

جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو ان کا حساب ہو گا

آسمان سے برستے مارٹر گولوں کی دہشت، طیاروں کی گرج، میزائلوں کا شور، رائفلوں کی تڑتڑاہٹ، مکانات سے اٹھتا دھواں، روتی چلاتی عورتیں، افسردہ بوڑھے، خوفزدہ نوجوان، تڑپتے چیختے معصوم بچے، جلی کٹی لاشیں، ویران شہر، تباہ حال گاؤں اور زیر عتاب الغوطہ۔ یہ کائناتِ ارضی کے خطہ شام کی حالت زار ہے جہاں بدستور کشت و خون جاری ہے۔ کونسا ایسا ظلم ہے جو شامیوں پر روا نہ رکھا گیا ہو۔ بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو تڑپا تڑپا کر مارا جا رہا ہے۔
مظلوم شامی ماؤں، بہنوں اور بچوں کے ویڈیو پیغامات سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچ رہے ہیں۔ یہ پیغامات اتنے دردناک ہیں کہ نہ پورے سنے جاتے ہیں اور نہ ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔ زخموں سے چور ایک بچی کی ویڈیو نے تو تڑپا کر رکھ دیا جس میں وہ کہتی ہے کہ میں یہ سب الله کو جا کر بتاؤں گی۔ بچے رو رو کر مسلم امہ کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا یہ درد اور یہ چیخیں مسلم امّہ کی بے حسی پر نوحہ کناں ہیں۔

ذرا سوچیے کہ آپ کا کوئی عزیز یا رشتہ دار فوت ہو جائے تو اس صدمے کو بھلانے میں آپ کو مہینے اور سال لگ جاتے ہیں لیکن جہاں دن رات بچے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہوں اور جہاں پورے کے پورے خاندان شہید ہو رہے ہوں، ان پر کیا بیت رہی ہو گی۔ اس وقت سوشل میڈیا پر جہاں شام کی حالت زار کے تذکرے ہو رہے ہیں وہیں ایران و عرب کے حامی بھی ایک دوسرے پر لعنت ملامت کرتے نظر آرہے ہیں۔ لیکن آپ اگر اس جنگ کا پس منظر دیکھیں تو آپ کو دونوں برابر کے قصوروار نظر آئیں گے۔ اسد جیسا ڈکٹیٹر ہو یا داعش جیسی تنظیمیں، دونوں ہی ناسور ہیں۔

آپ کو اس جنگ میں کئی عالمی اور علاقائی طاقتیں دخل اندازی کرتی دکھائی دیں گی اور درجنوں مسلح گروہ بھی برسرپیکار نظر آئیں گے۔ اسدی فوج کے پیاسے درندے ہوں، روسی فوج کے سفید بھیڑیئے ہوں یا ایران و عرب کے حمایت یافتہ بیرونی حملہ آور، سب اپنے اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہے ہیں اور امریکہ و اسرائیل اس کھیل سے خوب محظوظ ہو رہے ہیں۔ کوئی اقتدار پر قابض رہنا چاہتا ہے تو کوئی اپنے مفاد کی خاطر اس جنگ سے وابستہ ہے اور ایسی صورتحال میں ان سامراجی قوتوں کے معاہدے بھی شام کا امن بحال کرنے سے قاصر ہیں۔

اگر آپ کو شامی عوام کے ساتھ ہمدردی اور جنگ سے نفرت ہے تو آپ ایران و عرب کی بحث میں الجھے بغیر اس آگ کو بجھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے؛ جس آگ نے شامی عوام کی نسلوں کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ آگ تب تک نہیں بجھے گی جب تک شام سے تمام بیرونی قوتوں کا عمل دخل ختم نہیں ہو جاتا۔
آپ بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ایک حالیہ رپورٹ ملاحظہ کیجیے جس کے مطابق گزشتہ چھ سال سے شامی فوج کے سفاک حملوں میں ساڑھے سات لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں، بے شمار بچے یتیم اور بے سہارا ہو کر انتہائی ابتر حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پانچ سو سے زائد مسلمان شہید ہو چکے ہیں جن میں دو سو کے قریب معصوم بچے ہیں۔

بچوں پر اتنا ظلم چہ معنی دارد؟
بچے تو جنت کے پھول ہوتے ہیں، بچے تو معصوم ہوتے ہیں، بچوں کو کیا معلوم کہ شیعہ کون ہوتا ہے اور سنی کسے کہتے ہیں؟ بچے تو دہشت گرد بھی نہیں ہوتے۔ تو پھر ایسے معصوم پھولوں کو مسلنے والے کون ہو سکتے ہیں؟ وہ کوئی بھی ہوں، ان کا تعلق کسی بھی فرقے سے کیوں نہ ہو، وہ ہمیشہ سفاک درندے ہی کہلائیں گے۔ کبھی تو ان درندوں کا حساب ہو گا، کبھی تو ان سے پوچھا جائے گا کہ دھول میں اٹے اور سہمے ہوئے ان بچوں کا کیا قصور تھا؟ کبھی تو ان سے سوال ہو گا کہ ایک کے بعد ایک بستی تم کیوں اجاڑتے چلے گئے؟

الله کی عدالت میں ان فرعونوں کا حساب تو ہوگا ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ اگر ہم سے بھی پوچھ لیا گیا کہ آپ یہ سب ظلم دیکھ کر بھی خاموش تماشائی بنے رہے تو ہم کیا جواب دیں گے؟ ہم اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو اپنے شامی مسلمانوں کا دکھ اور درد تو محسوس کر سکتے ہیں۔ اگر ہم بے بس ہیں تو ان کے ساتھ مالی تعاون تو کر سکتے ہیں۔ پاکستان سے کئی ادارے شامی مسلمانوں تک مالی امداد پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ہم ان میں سے کسی بھی ادارے کا انتخاب کر کے شامی بہن بھائیوں کی کفالت میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اگر اور کچھ نہیں تو کم از کم دعا تو ضرور کر سکتے ہیں:

الله ہمارے شامی مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو۔

ڈاکٹر عثمان کاظمی