ایک پاکستانی نے مشرقی غوطہ میں کیا دیکھا ؟

مشرقی غوطہ شدید بمباری سے دوچار ہے اور ایسے میں وہاں پاکستانی شہری محمد فضل اکرم ان افراد میں شامل تھے، جو سب سے پہلے اس علاقے سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ محمد فضل اکرم مشرقی غوطہ کی یادیں بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ اس نے وہاں ایک ہسپتال میں اعضاء کھو چکی بچی کو دیکھا۔ شامی فورسز نے ایک طویل عرصے سے اس علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہاں بڑی تعداد میں لوگ خوراک اور پینے کے پانی کی شدید قلت کے ساتھ ساتھ ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کے متلاشی ہیں، جب کہ آسمان سے آگ برس رہی ہے۔ اکرم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا، ’’ہم یہ تک نہیں جان پا رہے تھے کہ ہمیں کون قتل کر رہا ہے اور کون قاتل نہیں ہے۔‘‘

اکرم، جو اب پاکستان پہنچ چکے ہیں، نے کہا، ’’ہمیں صرف ایک چیز کا علم تھا اور وہ یہ کہ ہمارا شہر برباد ہو رہا ہے۔‘‘ مشرقی غوطہ میں طبی امداد فراہم کرنے والی تنظیم سیرئین سول ڈیفنس نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر اسد کی حامی فورسز نے بمباری کے دوران کلورین گیس کا استعمال کیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں بچے ہلاک ہو رہے ہیں اور متاثرہ افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔ محمد فضل اکرم سن 1974 میں مشرقی غوطہ منتقل ہوئے تھے۔ ان کی دو بیویاں ہیں، جن میں سے ایک کا تعلق غوطہ ہی سے ہے جب کہ دوسری ان کی پاکستانی کزن ہیں۔ اکرم کے مطابق پھر شہر میں بیرونی عسکریت پسند آ گئے، اس کے دو بیٹوں کو عسکریت پسند گروہ میں بھرتی کر لیا گیا جب کہ تیسرا بیٹا سن 2013ء میں تشدد کی نذر ہو گیا۔

اکرم نے بتایا کہ گلی کوچے میں پھیل جانے والے پرتشدد واقعات کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ شام ڈھلنے پر اپنے بیٹے کی واپسی کا انتظام کرتے رہے، مگر اسے ایک ایمبولنس گھر لائی اور وہ بھی مردہ حالت میں۔ اپنی شامی بیوی ربع جرد کا نیلا پاسپورٹ لہراتے ہوئے اکرم نے بتایا، ’’وہ یہ دکھ برداشت نہ کر سکی اور اسے دل کا دورہ پڑ گیا۔‘‘ سن 2015ء میں اکرم نے اپنے خاندان کے ساتھ مشرقی غوطہ سے نکلنے کی کوشش کی تھی، ’’مسلح گروپوں نے پہلے تو ہم پر گولی چلائی، پھر حکومتی فورسز نے۔ ہم شہر سے نکل نہ پائے۔‘‘

اس زیرمحاصر شہر کے باسی نے بتایا کہ اس علاقے کی تمام آبادی رفتہ رفتہ مٹتی چلی گئی، کچھ علاقے سے نکل گئے کچھ مارے گئے۔ اکرم نے بتایا کہ اس نے پورے علاقے میں ہر طرف بری طرح زخمی لوگ دیکھے اور کئی مقامات پر ملبے تلے انسانی لاشیں گلتی سڑتی نظر آئیں۔ اکرم کے مطابق وہ ہسپتال میں بازوؤں اور ٹانگوں کے بغیر پڑی اس بچی کی یاد اپنے دماغ سے محو نہیں کر پایا، ’’میں نے خدا سے دعا کی تھی کہ وہ کسی کو یہ مناظر کبھی نہ دکھائے۔‘‘

بشکریہ DW اردو

Advertisements

شامی جنگ میں مغرب نے کیا غلطیاں کیں؟

شام میں سات برس سے جاری خانہ جنگی میں مغربی ممالک نے مداخلت کرنے کے کئی مواقع گنوائے۔ ایسے تنازعات کے حل میں موثر کردار ادا کرنے کے لیے مغرب کو اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا۔ ڈی ڈبلیو کے کیرسٹن کِنپ کا تبصرہ۔

شامی جنگ سے متعلق ’اگر یوں یوتا تو۔۔۔‘ کے ساتھ کئی سوالات جڑے ہوئے ہیں اور ان میں اکثر کا تعلق مغربی ممالک کے اس جنگ میں کردار سے متعلق ہیں۔ اگر مغرب اس تنازعے میں پہلے مداخلت کرتا تو شامی جنگ کیا رخ اختیار کرتی؟
موجودہ صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو ماضی میں مغرب نے شامی تنازعہ حل کرنے کے کئی سنہری مواقع گنوائے۔ مثال کے طور پر سن 2013 میں جب یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ شامی صدر بشار الاسد اپنے عوام کے خلاف طاقت کے استعمال میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی کر سکتے ہیں، تب امریکی صدر اوباما نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو ’سرخ لکیر‘ قرار دیتے ہوئے اسد حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ایسی صورت میں مغرب ان کے خلاف طاقت کا استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ اسد حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے اور امریکا اور مغربی ممالک نے پھر بھی شام میں عسکری مداخلت سے گریز کیا۔

’اوباما کی سرخ لکیر‘
اب یوں لگتا ہے کہ اس وقت امریکا اور مغربی اتحادیوں نے شام میں مداخلت نہ کر کے اسد حکومت کو محدود کرنے کا موقع گنوا دیا۔ اس وقت اسد کو روس اور ایران کا ویسا تحفظ اور حمایت حاصل نہیں تھی، جیسی کہ اب ہے اور تب شام میں مغرب کی مداخلت ممکنہ طور پر کارگر ثابت ہو سکتی تھی۔ لیکن اوباما نے یہ موقع ضائع کر دیا۔ اوباما کے شام میں مداخلت نہ کرنے کے اس فیصلے کی وجوہات بھی تھیں۔ امریکا افغانستان اور بعد ازاں عراق میں جنگ شروع کر چکا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری مداخلت کی بنیاد دانستہ طور پر بولے گئے جھوٹ پر مبنی تھی جس کی وجہ سے امریکا کا تشخص بری طرح سے مجروح تھا اور شام میں عسکری مداخلت اخلاقی اور سیاسی طور پر امریکا کی عالمی ساکھ کو مزید خراب کر سکتی تھی۔

علاوہ ازیں عسکری مداخلت سے وابستہ اسٹریٹجگ خطروں کا اندازہ لگانا بھی مشکل کام تھا۔ مغربی اتحادیوں کی عسکری مداخلت کے اسد پر کیا اثرات مرتب ہوتے؟ روس اور ایران کا ردِ عمل اس وقت کیسا ہوتا؟ ایسے فیصلے کے بعد مسلم اکثریتی ممالک میں امریکا مخالف جذبات کتنے بڑھتے، شیعہ اور سنی مسلمانوں کا ردِ عمل کیا ہوتا ؟ اور پھر عسکری مداخلت کے بعد امریکا اور یورپ میں دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ بھی کس قدر بڑھ جاتا؟

‘جمود کی قیمت‘
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شام میں مغربی عسکری مداخلت کے ممکنہ طور پر بھیانک نتائج نکل سکتے تھے۔ لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو مداخلت نہ کرنے کے نتائج بھی کوئی اچھے نہیں نکلے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ روس اور ایران شامی تنازعے میں کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ روس کے فریق بننے کے بعد اب مغرب کے لیے تصادم سے بچے بغیر مداخلت کرنے کا کوئی راستہ نہیں بچا۔
اسی لیے اب واشنگٹن اور یورپی رہنماؤں کے اسد کے اقتدار سے الگ ہو جانے کے مطالبے زبانی جمع خرچ سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ مغرب شام میں کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں چاہتا، اب ان باتوں کا شام کے زمینی حقائق پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

’باغیوں کی مدد یا جہادیوں کی‘
امریکا نے شامی خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے ہی مبینہ طور پر بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا جس سے شام افراتفری کا شکار ہو سکتا تھا۔ اس مبینہ منصوبے کے باعث بھی شام میں امریکی مداخلت کی نیت مشکوک ہو چکی تھی۔  سن 2010ء میں ابھی اُس باغیانہ انقلابی تحریک نے حلب کی جامع الاموی کے دروازوں پر دستک نہیں دی تھی، جو تب پوری عرب دُنیا میں بھڑک اٹھی تھی۔ یہ خوبصورت مسجد سن 715ء میں تعمیر کی گئی تھی اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔

شامی تنازعے کے شروع میں بھی انہی وجوہات کے باعث امریکا اور مغربی اتحادی متذبب دکھائی دے رہے تھے۔ یہ ممالک شامی باغیوں کی حمایت اور معاونت بھی کرنا چاہتے تھے لیکن ساتھ میں یہ خطرہ بھی تھا کہ کہیں غلطی سے وہ جہادیوں کو اسلحہ نہ فراہم کر بیٹھیں۔ اسی پالیسی کے باعث شام میں ایک نہیں کئی اپوزیشن اور باغی گروہوں نے جنم لیا جس کے باعث خانہ جنگی ختم ہونے کے بجائے پھیلتی چلی گئی۔ جس کے نتیجے میں صرف باغی اور جہادی ہی نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں عام شہری بھی مارے گئے۔ شام میں ایسی تباہی اور ایسے بھیانک مناظر سامنے آئے جن کی مثال حالیہ عالمی تاریخ کسی اور جنگ میں نہیں ملتی۔

‘محض بیان بازی سے کام نہیں چلے گا‘
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان غلطیوں سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ مغرب کی ناپختہ عسکری مداخلت کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، وہ ہم لیبیا اور عراق میں دیکھ چکے ہیں۔ یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ مغرب اب کسی طویل مدتی اور تعمیری عسکری کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ مغربی ممالک شام میں عسکری کارروائیوں کو روس اور ایران کے ہاتھوں میں بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ اب شامی صورت حال میں بہتری کے لیے مغرب کے کردار کا قصہ ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔

مغرب کو لیکن اب یہ ضرور سیکھنا ہو گا کہ آئندہ کسی تنازعے میں جب وہ کسی ملک یا آمر کو خبردار کریں تو اس کے ساتھ ساتھ انہیں عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں کیا ردِ عمل دکھانا ہے، اس بات پر بھی پوری تیاری کے ساتھ ایک جامع لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ یا دوسری صورت میں انہیں کسی بھی معاملے میں مداخلت کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ محض بیان جاری کرنے کا زمانہ گزر چکا، ان باتوں سے تنازعات حل نہیں ہوتے، مزید بگڑ جاتے ہیں۔

بشکریہ DW اردو

شام کی وہ دوزخ، جس کا ایندھن بچے ہیں

شامی صدر بشار الاسد کی حامی افواج، باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے مشرقی غوطہ پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں چار لاکھ سے زائد شہری محصور ہیں اور تقریبا ساڑھے پانچ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

شام میں مشرقی غوطہ : زمین پر دوزخ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئی روزہ کوششوں کے بعد شام میں فائر بندی سے متعلق ایک قرارداد پر اتفاق رائے ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق اس قرارداد میں جلد ہی تیس روزہ فائر بندی کی بات کی گئی ہے۔ اس دوران امدادی سامان کی ترسیل اور شدید زخمیوں کو متاثرہ علاقوں سے باہر نکالا جائے گا۔ اس قرارداد میں شامی باغیوں کے گڑھ مشرقی غوطہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سیریئن آبزرویٹری کے مطابق اس اتفاق رائے کے باوجود روسی طیاروں نے مشرقی غوطہ پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا۔ آبزرویٹری نے مزید بتایا کہ ہلاک شدگان میں 127 بچے بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں روسی سربراہ مملکت ولادیمیر پوٹن سے شامی تنازعے کے موضوع پر بات کریں گے۔ ٹیلیفون پر ہونے والی اس بات چیت میں امن معاہدے پر فوری عمل درآمد پر زور دیا جائے گا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں اِیو لادریاں اسی سلسلے میں ماسکو بھی جائیں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے مشرقی غوطہ کی صورتحال کو ’زمین پر دوزخ ‘ سے تعبیر کرتے ہوئے وہاں قتل و غارت اور ہلاکتیں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مشرقی غوطہ دو مسلم گروپوں میں منقسم ہے اور وہاں شام میں القاعدہ کی مقامی شاخ بھی سرگرم ہے۔

روس نے باغیوں کے ساتھ بات چیت کی پیشکش کی تھی تاکہ وہاں موجود باغی اپنے اہل خانہ کے ساتھ شہر سے باہر نکل جائیں، بالکل اسی طرح جیسا 2016ء میں حلب میں بھی دیکھنے میں آیا تھا۔ تاہم غوطہ میں تمام باغی تنظیموں نے اس روسی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔ نیو یارک میں جس قرارداد پر اتفاق رائے ہوا، اس میں روس اپنا یہ مطالبہ منوانے میں کامیاب ہو گیا کہ روسی اور شامی افواج دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔ تاہم یہ امر ابھی واضح نہیں کہ اس ممکنہ فائر بندی پر عمل درآمد کب سے ہو گا۔

ہم مرنے کا انتظار کر رہے ہیں، مشرق غوطہ پر ظلم وستم نہ تھما

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گیوٹرز کی جانب سے باغیوں کے علاقوں کو ’زمین پر جہنم‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شام میں مشرقی غوطہ میں جاری لڑائی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ مشرقی غوطہ کو انتظار نہیں کرنا چاہیے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کونسل کو شام میں 30 روز کے سیز فائر کے لیے پیش کردہ قرار داد کو منظور کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں کویت اور سوڈان کی جانب سے پیش کردہ قرار داد میں لوگوں کو طبی امداد اور انسانی حقوق کی امداد دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ مشرقی غوطہ گزشتہ کئی عرصے سے روس فضائیہ کی حمایت یافتہ شامی حکومتی فورسز کے نشانے پر ہے اور یہاں شدید بمباری کی جارہی ہے۔
شامی فوج کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس علاقے کو دہشت گردوں سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن ان پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا بھی الزام لگایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ’ یہ ایک انسانی تنازع ہے جو ہماری نظروں کے سامنے ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں اس خطرناک طریقے کو جاری رہنے دینا چاہیے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس لڑائی کے ختم ہونے سے ہزاروں لوگوں کو انخلاء کی اجازت ملے گی جو فوری امداد چاہتے ہیں ساتھ ہی اس خطے میں انسانی حقوق کی امداد بھی پہنچائی جا سکے گی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ شام میں وحشیانہ حکومت سے شہریوں کو بچانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم بی بی سی کا کہنا تھا کہ روس اس قرار داد کو پاس کرنے کی اجازت نہیں دے گا، روس کا کہنا تھا کہ وہ سیکیورٹی کونسل کا فوری اجلاس چاہتا ہے تاکہ اس معاملے پر بات چیت کی جا سکے جبکہ مغربی سفارتکاروں کے خیال میں یہ ایک سازش ہے تاکہ شامی فوج کو وقت مل سکے اور وہ اپنا مقصد جاری رکھ سکیں۔ اس حوالے سے شامی حکومت کی حمایت کرنے والے روس کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز باغیوں کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات ناکام ہو گئے۔ اس کے علاوہ شامی حکومت کے ایک اور اتحادی ایران کا کہنا تھا کہ وہ مشرقی غوطہ میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے اور اس سلسلے میں شام، روس اور ترکی سے رابطے میں ہے۔ اس بارے میں ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عرقچی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران کا ماننا ہے کہ اس تنازع کا فوجی حل نہیں بلکہ سیاسی حل ہے۔

مشرقی غوطہ کی بدترین صورتحال
شام میں جاری تنازع کے بعد مشرقی غوطہ میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال انتہائی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے اور روسی حمایت یافتہ شامی فورسز کی جانب سے باغیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس خطے میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر بسام کا کہنا تھا کہ مشرقی غوطہ میں صورتحال تباہ کن ہے اور لگتا ہے کہ بین الاقوامی برادری نے یہاں موجود لوگوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ دکانوں، مارکیٹوں، ہسپتالوں، اسکولوں اور مساجد یہاں تک کہ ہر چیز کو نشانہ بناتے ہیں اور ہر منٹ میں 10 یا 20 فضائی حملے کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ میں نے ایک شخص کا علاج کیا اور ایک یا دو دن بعد وہ دوبارہ زخمی ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں بین الاقوامی برادری کہاں ہے، کہاں ہے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل؟ ان سب نے ہمیں یہاں مرنے کو چھوڑ دیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں تقریباً 346 شہری ہلاک اور 878 زخمی ہوئے اور ان میں سے زیادہ تر فضائی حملے سے متاثر ہوئے جبکہ یہ اعداد و شمار برقرار رکھنا بہت مشکل ہے۔ دریں اثناء غیر ملکی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ شامی حکومت کی جانب سے جاری بمباری پر مشرقی غوطہ کے رہائشیوں کا کہنا تھا وہ لوگ ’مرنے کا انتظار‘ کر رہے ہیں۔ اگر مشرقی غوطہ کے حالات کے بارے میں تصور کیا جائے تو دمشق کے قریب باغیوں کے علاقوں میں شامی حکومت کی جانب سے بدترین اور وحشیانہ بمباری کی جا رہی ہے۔

گزشتہ روز ہونے والے حملے میں تقریباً 38 افراد ہلاک ہوئے جبکہ اتوار سے جاری بمباری کے دوران ہلاک ہونے والے شامیوں کی تعداد 310 سے تجاوز کر چکی ہے اور 1550 سے زائد زخمی ہوئے۔ 8 ویں سال میں داخل ہونے والی شامی خانہ جنگی میں یہ حملے بدترین حملوں کے طور پر تصور کیے جا رہے ہیں اور اس شدید بمباری کے دوران راکٹ، شیلنگ، فضائی حملے اور ہیلی کاپٹر سے فضائی بمباری بھی کی جا رہی ہے۔ مشرقی غوطہ میں جاری اس شدید بمباری پر وہاں کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم صرف ایک چیز کہہ سکتے ہیں کہ ’ہم مرنے کا انتظار کررہے ہیں‘۔

ریڈ کراس کا مطالبہ
شام میں جاری اس جنگ کے بعد ریڈ کراس کی بین الاقوامی برادری (آئی سی آر سی) نے مطالبہ کیا کہ انہیں غوطہ میں انسانی حقوق کی خدمات فراہم کرنے کی اجازت دی جائے، خاص طور پر حملوں میں زخمی ہونے والوں کو علاج معالجے کی فوری ضرورت ہے۔ شام میں آئی سی آر سی کی سربراہ میریان گیسر کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں مزید لوگ اس لڑائی سے متاثر ہوں گے اور یہ ایک پاگل پن ہے جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ طبی امداد فراہم کرنے والی ایک رضا کار کا کہنا تھا کہ گزشتہ 3 روز میں 13 ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جس میں کچھ ہسپتال مکمل تباہ ہو گئے ہیں۔ علاوہ ازیں اس طرح کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ بمباری کے بعد شام میں ترکی کے حمایت یافتہ باغیوں نے عفرین شہر کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے، جہاں انہیں امریکی اور شامی حکومت کی حمایت یافتہ وائی پی جی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Eastern Ghouta is another Srebrenica, we are looking away again

With every child who dies, with every act of brutality that goes unpunished, eastern Ghouta more closely resembles what Kofi Annan once called the worst crime committed on European soil since 1945. Eastern Ghouta is turning into Syria’s Srebrenica. Like the Bosnian Muslim enclave in 1995, eastern Ghouta, on the outskirts of Damascus, has been besieged by regime forces since the early stages of the Syrian war. Years of attrition have failed to dislodge rebel factions that control it. As was the case in Srebrenica, food supplies, aid and medical assistance have been cut off. In 1993, the UN designated Srebrenica a “safe area”. Last year, as part of Moscow’s abortive Astana peace process, the Russians declared eastern Ghouta a “de-escalation zone”.
To no avail. As in Bosnia, nobody attempted to protect the civilian population when a regime offensive began there in December after negotiations failed. The airstrikes and bombardments are carried out with impunity by Syrian forces and their Russian backers. The UN has almost begged the pro-Assad coalition, which includes Iranian-led militias, to agree to an immediate humanitarian ceasefire. Its appeals have been ignored. Relief agencies’ pleas for access have also gone unanswered.
But for the residents of eastern Ghouta, it is about survival. Record numbers have died in the past 36 hours in an area where the overall death toll since 2011, when the war began, runs into uncounted thousands. And there is no escape. More than 100 dead, over 500 wounded and five hospitals bombed. The violence is relentless and unbearably cruel.
In Srebrenica, about 8,000 Muslim men and boys were massacred in a few days. Between 25,000 and 30,000 Bosniak women, children and elderly people were subject to forcible displacement and abuse. The international criminal tribunal for the former Yugoslavia later decreed that these crimes constituted genocide.
 At the time, the world stood back and watched as Gen Ratko Mladic’s Bosnian Serb army and Scorpion paramilitaries closed in, overrunning Dutch peacekeepers. The international community knew full well what Mladic might do, that a massacre was imminent. It looked the other way. The agony of eastern Ghouta, already infamous as the scene of a 2013 chemical weapons attack using sarin gas, is slower but similarly ignored. Once again civilians, including large numbers of children, are being killed. Once again, the western powers, with forces deployed in the country, refuse to intervene. Once again, the UN is helpless, the security council rendered impotent by Russian vetoes.
“This could be one of the worst attacks in Syrian history, even worse than the siege on Aleppo … To systematically target and kill civilians amounts to a war crime and the international community must act to stop it,” said Zaidoun al-Zoabi of the independent Union of Medical Care and Relief Organisations. But for now at least, Syria’s president, Bashar al-Assad – like Mladic in 1995 – appears to be impervious to reason or outside pressure. The evidence implicating Assad in war crimes and crimes against humanity is plentiful. So far no charges have been brought, and he carries on regardless. Today, in eastern Ghouta, like Srebrenica in 1995, vile crimes that could constitute genocide are being committed. In November, Mladic was finally convicted of genocide in The Hague. That took 22 years. How many more children will die before justice is served in Syria?

 

 

 

 

کوئی الفاظ ان بچوں کو انصاف نہیں دلا سکتے

اقوام متحدہ کے ادارے بین الاقوامی چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) نے شام میں بچوں کی ہلاکتوں پر ایک خالی اعلامیہ جاری کر دیا جس کے نیچے لکھا تھا کہ ’کوئی الفاظ ان بچوں کو انصاف نہیں دلا سکتے‘۔ واضح رہے کہ یونیسیف کی جانب سے یہ اعلامیہ شام میں جاری جنگ میں باغیوں کے مقبوضہ علاقے مشرقی غوطۃ میں بمباری کے نتیجے میں 39 بچوں سمیت 250 افراد کی ہلاکت کے بعد جاری کیا گیا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا کہنا تھا کہ ’الفاظ مرنے والے بچوں ان کے ماں، باپ اور پیاروں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتے‘۔

ان الفاظ کے ساتھ اعلامیے میں ایک خالی صفحہ شامل تھا۔ یونیسیف نے ’شام میں بچوں پر جنگ، مشرقی غوطۃ اور دمشق میں بچوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی رپورٹ‘ پر پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے غصے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیسیف کی جانب سے یہ ایک خالی اعلامیہ جاری کیا جا رہا ہے، ہمارے پاس اُن بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے لیے کوئی الفاظ نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جو اس گھناؤنے کام میں ملوث ہیں ان کے پاس اس کی وضاحت کے لیے اب بھی کوئی الفاظ ہیں؟ خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے گزشتہ روز بھی شام میں شہریوں کی ہلاکت کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم آج شامی نگہداشت برائے انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق تقریباً 13 بچوں سمیت 50 شہریوں کو مشرقی غوطۃ کے قریب فضائی بمباری میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ 2012 سے باغیوں کے قبضے میں رہنے والا مشرقی غوطۃ کا علاقہ باغیوں کے زیر اثر آخری جگہ ہے جسے شامی صدر بشار الاسد واپس لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔

شام کی سرزمین سے انسانیت کے نام

کرامہ مہاجر کیمپ کے انچارج کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ ادلب کے قریب  شامی سرحد کے اندر یہ کیمپ ترکی کی ایک رفاعی تنظیم انسانی حقوق و حریت (IHH) نے قائم کیا تھا۔ یہ کیمپ اس وقت سے قائم ہے جب سے جنگ کا آغاز ہوا اور ایسے کئی کیمپوں میں دن بدن اضافی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس وقت نو لاکھ شامی بارڈر پر موجود ان کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ان کے لیے ترک سکولوں میں داخلہ مفت ہے اور اسپتالوں میں علاج بھی مفت۔ یہ وہ خوش قسمت ہیں جو تھوڑی بہت جمع پونجی بچا کے ترکی آ گئے، کوئی ہنر جانتے تھے، یا تعلیم تھی اور یہاں کسی روزگار سے منسلک ہو گئے۔

یہ لوگ جس طرح کی رہائشوں میں رہ رہے ہیں وہ اذیت ناک ہیں۔ مثلا ایک برگیڈئیر کی بیوہ جس کے سامنے اس کے بھائی، خاوند اور باپ کو بشار الاسد کے فوجیوں نے اذیت دے کر مارا، اپنی بچیوں کے ساتھ ایک دوکان کرائے پر لیکر اس میں رہ رہی ہے لیکن کیمپوں میں رہنے والوں کی حالت انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اگر باپ کو کپڑے بدلنا ہوں تو پورے گھر کو باہر نکلنا ہوتا ہے اور یہی کچھ کسی دوسرے فرد کے کپڑے بدلنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ ان کیمپوں میں گذشتہ پانچ سال سے رہ رہے ہیں۔ یعنی جو بچہ جنگ شروع ہوتے پانچ سال کا تھا اب گیارہ کا ہو چکا ہے اور جو گیارہ کا تھا وہ سترہ کا۔ اس دوران یہ بچے نہ کسی سکول پڑھنے کے لیے گئے اور نہ ہی کوئی ہنر سیکھا۔ یوں اگر کچھ برسوں کے بعد شام میں امن آبھی جائے تو یہ نسل نہ تعلیم یافتہ ہو گی اور نہ ہی کسی ہنر سے آشنا۔ ان کے برعکس نا ڈاکٹر ہوں گے نا انجنیئر بلکہ نا ہئیر کٹنگ والے ہوں گے نہ ڈرائی کلین کرنے والے۔ ایک المیہ پروان چڑھ رہا ہے۔

کرامہ کے مہاجر کیمپ کا انچارج رو رہا تھا اور اس سے واقعہ بیان نہیں ہو رہا تھا۔ ہمت باندہ کر اس نے کہا کہ میں ڈاکٹر کے پاس ہسپتال میں گیا۔ اس وقت وہ ایک جنگی زخمی کے بدن سے بم کے ٹکڑے نکالنے جا رہا تھا۔ میں نے کہا آپ اپنا کا م کر لیں۔ اس نے کہا نہیں تم میرے ساتھ چلو گے، میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس بیہوش کرنے والی دوا Anesthesia نہیں ہے اور ہم مستقل آپریشن کر رہے ہیں۔ میں گھبرا گیا لیکن وہ میرا بازو پکڑ کر ساتھ لے گیا۔ جب اس نے اوزار تھامے تو ڈاکٹر بھی رو رہا تھا اور مریض کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔ اس بار اس نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر چھری سے جسم کا کاٹنا شروع کیا اور ساتھ ہی سورہ اخلاص پڑھتا رہا۔ مہاجر کیمپ کا انچارج کہتا ہے کہ میں میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس دوران مریض نے زبان سے اف تک نا نکالی بلکہ وہ مستقل حسبی اللہ و نعم الوکیل بڑھتا رہا۔ جب جسم سے بموں کے ٹکڑے نکال کر اسے سی دیا گیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ تم نے دیکھ لیا اس وقت سورہ اخلاص ہی ہمارا Anesthesia ہے۔

یہ صرف ادلب کے قریب ایک کیمپ کا ذکر ہے۔ یہ وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو بھاگ کر ان کیمپوں میں پناہ لینے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ یوں تو ان لوگوں کی داستانیں خون کے آنسو رلاتی ہیں لیکن ان کو اپنے ان بھائیوں کی فکر کھائے جاتی ہے جو شام کے شہروں میں محصور ہیں۔ دمشق اور حمص کے علاقوں سے آنے والے مہاجرین بتاتے ہیں کہ بشار الاسد کی فوج کا محاصرہ اس قدر اذیت ناک تھا کہ بچوں پر کئی کئی دن فاقے آتے تھے۔ ایک شخص نے ایک بوری چاول کے عوض اپنا پورا باغ بیچ دیا کہ اس سے بچوں کی بھوک نہیں دیکھی جا رہی تھی۔ جب سب کچھ ختم ہو گیا اور کھانے کے لیے کچھ بیچنے کو بھی باقی نہ تھا تو علماء نے فتویٰ دیا تھا کہ اب جان بچانے کے لیے بلیاں اور کتے بھی ذبح کر کے کھائے جا سکتے ہیں اور لوگوں نے وہ بھی کھائے۔

ترکی کی سرحد کے ساتھ آپ سفر کریں تو آپکو ہر شہر کے مقابل ایک شہر ملے گا۔ جیسے ریحان علی کے سامنے ادلب اور اس کے قرب و جوار ہیں۔ غازی انتب کے سامنے حلب کا علاقہ ہے۔ اب تک نو لاکھ افراد اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں اور اس وقت گیارہ لاکھ شامی بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ ترکی کی سرحد کے اندر جو دارالیتامیٰ یعنی یتیم خانے کھولے گئے ہیں، ان کے اندر جانا بھی ایک تکلیف دہ تجربہ ہے۔ بچے آپ سے ایسے لپٹ جاتے ہیں جیسے کوئی بچھڑا ہوا باپ یا بھائی گھر آ گیا ہو۔ ایک یتیم خانے میں داخلہ ہوا تو میرے ہاتھ میں مائیک دیکھ کر بچیاں اس سے کھیلنے لگ گئیں۔ کبھی کچھ کبھی کچھ اچانک ایک ساتھ کھڑی ہو کر خوبصورت قرات کے ساتھ سورہ کہف پڑھنے لگ گئیں۔ ان پانچ چھ سال کی بچیوں کو کیا علم کہ اس سورت کو آج کے دور میں پڑھنے کی کس قدر اہمیت ہے۔ رسول اللہ نے اسے فتنہ دجال سے حفاظت کے لیے پڑھنے کی تلقین کی ہے۔

ادلب میں کچھ دن پہلے بشار الاسد نے کیمیکل ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا، میں کیمپ کے اس ہسپتال بھی گیا جہاں وہ بچے لائے گئے تھے اور ان بچوں سے بھی ملا ہوں۔ ان کی تکلیف کی کہانیاں اس قدر درد واذیت سے بھرپور ہیں کہ کوئی پتھر دل والا بھی ایک کہانی کے بعد دوسری سننے کی تاب نہیں لا سکتا۔ ریحان علی کا وہ ہسپتال جس میں ان کا علاج ہوا وہاں کسی نے ان بچوں سے پوچھا کہ یہ کس نے کروایا؟ بچے پکارتے تھے بشار الاسد۔ ایک بچہ جو ذرا بڑا تھا اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رہا تھا، ابھی کیمیائی ہتھیاروں کے اثر سے پوری طرح باہر نہیں نکلا تھا۔ ایک دم غصے سے تلملا اٹھا اور سانس بحال کر کے بولنے لگا۔ جہاز بشار الاسد کے پاس ہیں یا پھر روس اور امریکہ۔ پھر اس بچے نے عالمی سیاست کی گھتی سلجھاتے ہوئے کہا کہ روس اور امریکہ تو بشار کے یار ہیں۔

غازی انتب کا شہر حلب کے ساتھ جڑا ہے۔ پہلے یہ بھی حلب کا حصہ ہوتا تھا لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد جب خلافت عثمانیہ ٹوٹی تو حصہ فرانسیسی شام میں چلا گیا۔ غازی انتب سے حلب کے علاقے میں داخل ہوں تو پہلے جرابولس کا شہر آتا ہے۔ یہاں پر”احرار الشام” کا کنٹرول ہے اور پورا شہر برباد ہو چکا تھا لیکن اب کسی حد تک واپسی کی جانب لوٹ رہا ہے۔ شہر کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا مہاجر کیمپ ہے جس کے رہنے والے خوبصورت بچے ایسے لگتا ہے انہوں نے کئی ماہ سے منہ نہیں دھویا۔ یہ علاقہ پہلے داعش کے پاس تھا ، یہاں پہ کردوں کی PKK اور پیش مرکہ بھی مورچہ زن تھے۔ اب یہ علاقہ ایک گروہ کے کنٹرول میں ہے اس لیے یہاں امن ہے لیکن اس کے ہسپتال میں روزانہ سو سے زیادہ عورتیں اور بچے لائے جاتے ہیں جو اس خوفناک جنگ کے زخمی ہیں اور انہیں علاج کی فوری ضرورت ہے۔ ان میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہوتی ہے۔ مرد، یوں لگتا ہے کہ امریکہ، روس، ایرانی پاسداران، بشار الاسد کا نشانہ ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کی شام مہں ان کا کوئی مخالف مرد زندہ نہ رہے۔

  بشکریہ روزنامہ 92 نیوز

اوریا مقبول جان

بیروت کا ٹیکسی ڈرائیور اور او آئی سی

ابو جعفر بیروت کا ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا جو مجھے بیروت سے دمشق چھوڑنے
جا رہا تھا ۔ ہماری ٹیکسی لبنان سے شام میں داخل ہوئی تو ابوجعفر نے دور سے نظر آنے والی پہاڑیوں کی طرف مجھے متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ گولان کا علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ابو جعفر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر بیروت اور بغداد کو تباہ کر دیا اب وہ دمشق اور تہران سے ہوتا ہوا مکہ پہنچنے کی تیاری کر رہا ہے اور بدقسمتی سے اسے صرف امریکہ کی نہیں بلکہ بہت سے مسلمانوں کی حمایت بھی حاصل ہو گی ۔ میں کافی دیر سے اسکی عربی لہجے میں انگریزی تقریر سن رہا تھا اور خاموش تھا۔

لیکن جب اس نے کہا کہ اسرائیل نے بیروت اور بغداد کے بعد دمشق کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے تو میں نے ابوجعفر سے پوچھا کہ دمشق میں اسرائیل کو کیا چاہئے ؟ ابوجعفر نے فوراً بلند آواز میں کہا کہ مسلمان اپنی تاریخ بھول چکے ہیں لیکن صیہونی تاریخ کو نہیں بھولتے وہ صلاح الدین ایوبی کے مزار تک پہنچنا چاہتے ہیں ۔ صلاح الدین ایوبی نے صلیبی جنگوں کے دوران بیت المقدس پر اسلامی جھنڈا لہرایا تھا، صیہونی صلاح الدین ایوبی کے مزار پر اپنا جھنڈا لہرانا چاہتے ہیں ۔ یہ سن کر میں خاموش رہا ۔ ابو جعفر کو شک گزرا کہ شاید میں اس کے ساتھ اتفاق نہیں کر رہا ۔ اس نے اپنے بائیں ہاتھ کی انگلی سینے پر رکھی اور کہا کہ میں ابو جعفر ہوں، جب اسرائیلی فوج بیروت میں گھس گئی تو میں اسے پتھر مارنے والے نوجوانوں میں شامل تھا مجھے گرفتار کر کے اسرائیل کی جیل میں بند کر دیا گیا میں نے صیہونیت کو اسرائیل کی جیلوں میں بہت قریب سے دیکھا ہے جو مجھے نظر آ رہا ہے وہ تمہیں اور بہت سے مسلم ممالک کے حکمرانوں کو نظر نہیں آ سکتا ۔

باتیں کرتے کرتے ہم دمشق کے قریب پہنچ گئے۔ ابو جعفر کا اصرار تھا کہ میں سیدھا دمشق ایئرپورٹ جائوں اور جلد از جلد شام سے نکل جائوں لیکن میں دمشق میں ایک دن کیلئے رکنا چاہتا تھا تا کہ سیدہ زینبؓ بنت علی ؓ اور صلاح الدین ایوبی کے مزارات پر فاتحہ خوانی کر سکوں ۔ لبنان اور اسرائیل کی جنگ کے دوران تین ہفتوں تک ابو جعفر نے میرے لئے ٹیکسی ڈرائیور کے علاوہ مترجم اور گائیڈ کا کام کیا تھا ۔ اس نے مجھے بڑے ہمدردانہ انداز میں سمجھاتے ہوئے کہا کہ دمشق ایئرپورٹ دنیا کے دیگر ایئرپورٹوں سے مختلف ہے یہاں بہت زیادہ غیر ضروری سوالات کئے جاتے ہیں تمہارے پاس ریزرویشن بھی نہیں ہے تمہارا پاسپورٹ بھی پاکستانی ہے میری گزارش ہے کہ دمشق میں ایک رات رکنے کی بجائے سیدھے ایئرپورٹ جائو اور یہاں سے نکلنے کی کوشش کرو۔

میں نے پوچھا یہاں پاکستانی پاسپورٹ پر کیا اعتراض کیا جاتا ہے؟ ابو جعفر نے کہا اعتراض پاکستان پر نہیں پاکستان کے صدر پرویز مشرف پر ہے جسے اسرائیل کا دوست سمجھا جاتا ہے کیونکہ شمعون پیریز اسکی بہت تعریف کرتا ہے ۔ میں نے ابو جعفر کے مشورے پر اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مجھے سیدہ زینب ؓ کے مزار کے پاس واقع ہوٹل پہنچا دو اور تم واپس بیروت جائو ۔ اس نے مجھے ہوٹل اتارا، کرایہ وصول کیا اور جاتے جاتے انگریزی میں کہنے لگا کہ صلاح الدین ایوبی کے مزار پر یہ دعا ضرور کرنا کہ اس مزار تک صیہونیوں کے قدم کبھی نہ پہنچیں ۔ ابوجعفر کے ساتھ میری یہ گفتگو 2006ء میں ہوئی جب میں لبنان اور اسرائیل کی جنگ میں تین ہفتے گزار کر واپس آ رہا تھا۔ 2011ء میں شام کے مختلف علاقوں میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو مجھے ابوجعفر کی باتیں یاد آئیں لیکن پھر میں نے سوچا کہ یہ خانہ جنگی جلد ختم ہو جائے گی ۔

چھ سال گزر گئے یہ خانہ جنگی ختم نہ ہوئی اور لاکھوں معصوم لوگ مارے گئے ۔جمعہ کی رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکہ نے شام پر 59 توماہاک میزائل داغ دیئے ۔ یہ وہی میزائل ہیں جو 1998ء میں طالبان کے خلاف افغانستان میں استعمال کئے گئے تھے ۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے شام کے صدر بشار الاسد کی طرف سے باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کیلئے میزائلوں سے حملہ کیا جبکہ بشار الاسد کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے انکار کر رہا ہے ۔

 یہ وہی سرزمین ہے جہاں کسی زمانے میں حضرت خالدؓ بن ولید کی قیادت میں مسلمانوں نے اپنے سے کئی گنا بڑی ہرقل کی فوج کو شکست دی تھی اور اسی جنگ میں حضرت ضرار ؓاپنی شجاعت کے جوہر دکھاتے ہوئے دشمنوں کی فوج کے اندر گھس گئے اور گرفتار ہو گئے ۔ پھر انکی رہائی کیلئے ہونے والی جنگ میں انکی بہن حضرت خولہؓ نے بھی بہادری کے جوہر دکھائے ۔ اس جنگ میں اسلامی لشکر کے پرچم پر عقاب بھی موجود تھا ۔ یہ عقاب آج بھی متعدد عرب ممالک کے پرچم پر نظر آتا ہے لیکن افسوس کہ کچھ عرب قائدین عقاب کی نظر سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہیں دوست اور دشمن کی پہچان نہیں رہی ۔

بشار الاسد نے اپنے مخالفین پر ظلم وستم کیا تو اسلامی ممالک کی تنظیم اوآئی سی نے یہ معاملہ اپنے فورم پر طے کرنے کی بجائے شام کی رکنیت معطل کر دی ۔ شام پر امریکی میزائلوں کے حملے کی نیٹو کے علاوہ جاپان، سعودی عرب، ترکی اور اسرائیل نے حمایت کی ہے جبکہ روس، چین، عراق اور ایران نے اس حملے کی مذمت کی ہے ۔ انڈونیشیا نے شام اور امریکہ دونوں کی جارحیت کو قابل مذمت قرار دیا ۔ شام پر امریکی حملے کے بعد مسلم ممالک میں تقسیم واضح ہو چکی ہے اور مجھے بار بار ابوجعفر کے الفاظ یاد آ رہے ہیں ۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ شام کی خانہ جنگی میں پاکستان اور افغانستان کے نوجوان دونوں فریقوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں ۔ بشار الاسد کے حامی نوجوانوں کو ایران کے راستے شام بھیجا جاتا ہے اور بشارالاسد مخالف نوجوانوں کو ترکی کے راستے شام بھیجا جا رہا ہے ۔

پاکستان کو شام اور امریکہ کے اس تنازع میں بہت محتاط رہنا ہو گا کیونکہ جنرل راحیل شریف کی طرف سے 39 رکنی فوجی اتحاد کی سربراہی کو پاکستان کی ریاستی پالیسی قرار دیئے جانے کے بعد امریکہ کے جنگی جرائم کا ملبہ پاکستان اور سعودی عرب پر گرنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب یہ واضح کریں کہ 39 ممالک کا فوجی اتحاد شام کے خلاف کسی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا ۔ سعودی عرب نے امریکی حملے کی حمایت کر دی ہے تاہم پاکستان کو امریکی حملے کے ساتھ ساتھ بشار ا لاسد کی طرف سے اپنے مخالفین پر کئے جانے والے ظلم کی کھل کر مذمت کرنی چاہئے اور او آئی سی کے ذریعے اس خانہ جنگی کے خاتمے کا راستہ اختیار کرنا چاہئے ۔

اس خانہ جنگی کی طوالت پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دیگی جس کا فائدہ صرف اور صرف مسلمانوں کے دشمنوں کو ہو گا۔ مجھے ابوجعفر سے کئی سال بعد اتفاق کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر مسلمانوں نے اپنے فرقہ وارانہ اختلافات کی بنیاد پر آپس میں لڑنا بند نہ کیا تو ٹرمپ کا امریکہ اور مودی کا ہندوستان مل کر ہمیں ایک دوسرے کے ہاتھوں (خدانخواستہ) برباد کرائے گا جس کی مثال بھارت اور بنگلہ دیش کا دفاعی معاہدہ ہے جو امریکہ نے کرایا ہے ۔

حامد میر