سہون کے بعد بھی ثابت قدم رہنا ہے

ذہن کو سن کر دینے والے اور روح کو تڑپا دینے والے سانحہ سہون نے کئی افراد کو نڈھال اور غمگین کر دیا ہے کہ اب غم و غصے کے اظہار کی بھی ہمت نہیں بچی ہے۔ لال شہباز قلندر کے مزار کو محبت اور عقیدت میں آنے والے زائرین کے خون نے سرخ رنگ سے رنگ دیا۔ ایسا تو نہیں ہونا تھا۔ مگر ہمارے محبوب مگر مرجھائے دیس میں یہ سب ایک حملے کو دعوت دینے کے لیے کافی تھا۔ میں اس حملے میں اپنے پیاروں کو کھو دینے والوں کے درد کا تصور کرنے کی بھی ہمت نہیں کر سکتا۔

اب جبکہ میں نے بیٹھ کر ہفتہ وار کالم لکھنے کی رسم ادا کرنے کی کوشش کی تو میرا بھی بہت ہی سادہ سا رد عمل تھا۔ لکھنے سے فائدہ کیا ہو گا؟ ہاں، آخر اس موضوع کو بار بار دہرانے سے کیا فائدہ جب کوئی بھی سن ہی نہ رہا ہو، جب آپ کی تجاویز پر کوئی غور کرنے والا ہی نہ ہو؟ یقین کریں، صرف میں ہی ایسا نہیں ہوں جس کے ذہن میں پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے حقیقی محرکات کے خلاف اقدامات میں ہچکچاہٹ دیکھ کر اس طرح کے سوال اٹھتے ہیں۔ میڈیا میں نظر آنے والا ذاتی مفاد اور حقائق کو مسخ کرنا، چاہے وہ حب الوطنی یا پھر عقیدے، یا دونوں کے نام پر ہو، میں بھی آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اصل خطرے سے خبردار کرنے والی اور تفصیلات بتانے والی آوازوں کی میڈیا میں کمی رہی ہے۔

جو لوگ غیر مقبول، کڑوا سچ بیان کر رہے ہیں ان پر اپنے پسندیدہ القاب یا لیبل چاہے وہ ‘غدار’، ‘گستاخ’، یا پھر ‘حقیقت سے فرار پسند سرپھرا’ کا لقب ہو لگانے کے بجائے کیا ہی بہتر ہو گا کہ ایک بار صرف ایک بار اس بات پر غور کر لیا جائے کہ آخر ان کی جانب سے کہا کیا جا رہا ہے۔ حقیقی علم تو کہیں اور موجود ہے، ہم میں سے کسی کے پاس موجود نہیں، پھر آپ کیوں پورا ہفتہ دیوانہ وار شور مچاتے ہیں؟ یہی وہ پیغام ہے جو لگتا ہے کہ ہمیں دیا جا رہا ہے۔ میں بھی چپ ہو جاتا اگر اس ٹائٹینک، چاہے اس کے راستے میں جو کچھ بھی حائل ہو، پر کوئی بھی سوار نہ ہوتا۔

آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں کیوں خاموش نہیں ہو سکتا اور کیوں کہنے کا ابھی بھی کوئی فائدہ ہو سکتا ہے۔ سہون سانحے کے بعد میرا دل پوری طرح سے غم میں ڈوب گیا اور جس وقت میڈیا (اور اسی جتنا زہریلا سوشل میڈیا بھی) دہشتگردوں کے سوائے ہر کسی پر الزام تراشی پر توجہ مرکوز کیے ہوا تھا، اس وقت میں نے ایسی بھی تصاویر دیکھیں جنہوں نے میرا ذہن کو ہی بدل دیا۔ کسی نے ان افراد کی تصاویر ٹوئیٹ کیں جو خون کے عطیات کی اپیلیں نشر ہونے کے بعد خون عطیہ کر رہے تھے۔ خون کا عطیہ کرنے والے سندھ کے ہسپتالوں میں بینچوں اور کرسیوں کو ساتھ ملا کر ان پر لیٹے ہوئے تھے اور کچھ افراد ویٹنگ رومز میں بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ان کے بازؤں میں ٹیوب لگی ہوئی تھے اور بوتل ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ لوگ وہاں ہجوم کی صورت میں پہنچے ہوئے تھے۔ دھمال کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 100 کے قریب ہلاک شدگان اور سینکڑوں زخمیوں کے لیے خون کا عطیہ دینے کے لیے آنے والوں کو ہسپتالوں میں لالچ یا غصہ یا نفرت نہیں کھینچ لائی تھی، بلکہ وہ محبت تھی جو انہیں وہاں لے آئی تھی۔ وہ ایک خالص انسانیت کا جذبہ تھا۔

پھر میں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی تصویریں دیکھیں جن میں وہ لاہور میں ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے پنجاب پولیس کے کانسٹیبلز کے لواحقین کو خود چیکس دینے کے لیے آئے تھے۔ ایک تصویر میں ایک نوجوان ماں اپنی بانہوں میں ایک بچے کو تھامے ہوئے تھی اور اس کے چہرے پر آنسو بہہ رہے تھے۔ اگلی تصویر میں وزیر اعلیٰ ایک غمگین باپ کے ساتھ موجود تھے، ان کی سفید ہلکی داڑھی تھی، اور وہ غم سے جھکے ہوئے تھے۔ آئی ایس پی آر نے بھی تصاویر جاری کیں جس میں آرمی چیف لاہور ڈی آئی جی ٹریفک کے اہل خانہ کے پاس آئے تھے اور ان کی والدہ اور چھوٹی بیٹی سے اظہار تعزیت کر رہے تھے۔ ان کے غم کی برابری صرف ان کی صابرانہ عظمت ہی کر سکتی تھی۔

پھر کسی نے مجھے رواں ہفتے مہمند ایجنسی میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے تین خاصہ داروں کے بارے میں لکھ بھیجا اور مجھے بتایا کہ یہ لوگ، دہشتگردوں کے خلاف اگلی صفوں پر کھڑے یہ بہادر لوگ تھوڑی سی تنخواہ پر کام کرتے ہیں؛ انہیں کسی قسم کی پینشن یا مراعات بھی حاصل نہیں ہیں۔ ان کے گھر والوں کو کم از کم مالی معاوضہ تو ادا کیا جانا چاہیے۔ بم ناکارہ بنانے کے دوران ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں مارے جانے والے دو پولیس اہلکاروں میں سے ایک کوئٹہ بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) کے ‘کمانڈر’ عبدالرزاق بھی تھے۔ ‘کمانڈر’ کے بارے میں حقیقت ایکسپریس ٹربیون کی ایک خبر سے افشا ہوئی.

وہ درحقیقت ہیڈ کانسٹیبل تھے جنہیں ایک بار اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی، پھر کچھ وجوہات کی بنا پر جو کہ منظر عام پر نہ آسکیں، ان کی تنزلی کر دی گئی۔ خبر کے مطابق وہ اپنے 23 سالہ کریئر کے دوران کوئٹہ اور آس پاس کے علاقوں میں 500 کے قریب بم ناکارہ بنا چکے تھے۔ “ان کی دلیری اور بہادری پر انہیں 2007 میں پاکستان پولیس میڈل اور 2010 میں قائد اعظم میڈل سے نوازا گیا تھا۔ ان کے ایک پڑوسی ایڈووکیٹ زاہد ملک نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ بی ڈی ایس انتہائی حساس شعبہ ہے مگر رزاق کو جدید آلات فراہم نہیں کیے گئے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے پاس وردی تک نہیں تھی۔” ایسے کئی دیگر اور بھی ہیں۔ میں دہشتگردی سے متاثر ہونے والے 50 ہزار سے زائد افراد کا حساب بھی نہیں لگا سکتا؛ میں ان ہزاروں فوجیوں، فوج کے افسران، نیم عسکری افواج اور پولیس اہلکاروں میں سے چند کے علاوہ نام بھی نہیں بتا سکتا جو سہون جیسے واقعوں سے ہمیں محفوظ رکھنے کی کوشش میں اپنی زندگی کھو چکے ہیں۔

ان کے پیارے جس کرب سے گزرے اور ابھی تک گزر رہے ہیں ان کے درد اور اس خلا کا تصور کرنا بھی مشکل ہے جو ایسے دہشتگردی کے واقعات سے ان کی زندگیوں میں پیدا ہوا ہے — اس چھوٹے بچے کا سوچیں جس نے لاہور میں اپنے والد کو کھو دیا، وہ کبھی یہ جان نہیں پائے گا کہ اس کے والد کیسے تھے اور نہ ہی وہ کبھی ان کی محبت اور شفقت کو محسوس نہیں کر پائے گا۔ ان ڈی آئی جی کے پیاروں کا کیا ہو گا کہ جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے ٹریفک وارڈنز پر جتنی زیادہ سختی کرتے تھے اتنا ہی ان کا والد کی طرح خیال بھی رکھتے تھے؛ بی ڈی ایس کے اس کمانڈر کے بہن بھائیوں اور بھانجے بھانجیوں کا سوچا ہے جن کے ساتھی انہیں “استاد” کہہ کر پکارتے تھے۔ انہوں نے شادی بھی اسی لیے نہیں کی تھی کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ کبھی بم ناکارہ بناتے ہوئے ان کی جان بھی جاسکتی ہے۔ ان کا یہ خدشہ درست ثابت ہوا۔

عباس ناصر

یہ مضمون ڈان اخبار میں 18 فروری 2017 میں شائع ہوا۔

Advertisements

رمیش کمار نے پاکستانی پارلیمینٹرینز کے لیے مشکل کھڑی کر دی

انصار عباسی

 

سندھ سوچ سے بدلے گا

اس سے پہلے کہ اپنا مدعا بیان کروں سندھی سیاست  میں پیپلز پارٹی کے کردار کے بارے میں کچھ دیومالائی تاثراتی ریکارڈ کی درستگی ضروری ہے۔ پہلا عمومی تاثر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ پر سب سے زیادہ عرصے تک حکومت کی مگر سندھ وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ عرض یہ ہے کہ اٹھائیس اپریل انیس سو سینتیس کو سر غلام حسین ہدایت اللہ کی پہلی مسلم لیگی حکومت سے لے کر انیس نومبر دو ہزار سات کو ارباب غلام رحیم حکومت  کے خاتمے تک سندھ پر مسلم لیگ کے تیرہ وزرائے اعلیٰ  نے کل ملا  کے بائیس سال حکومت کی۔ مگر یکم مئی انیس سو بہتر سے آج تک کے چوالیس برس میں تو سب سے زیادہ پیپلز پارٹی کا دورِ حکومت رہا ہے نا؟

جی نہیں۔ان چوالیس برسوں میں ممتاز بھٹو سے مراد علی شاہ تک پیپلز پارٹی کے چھ وزرائے اعلیٰ نے مجموعی طور پر اب تک انیس سال حکومت کی ہے۔ باقی پچیس برس فوجی ، مسلم لیگی یا جوڑ توڑ والی حکومتیں رہی ہیں۔ لیکن سندھ کا مسئلہ یہ نہیں کہ یہاں کس نے کتنی بار ، کم زیادہ حکومت کی ہے۔ سندھ کا مسئلہ انیس سو سینتیس سے لے کر اب تک یہ رہا ہے کہ اقتداری میوزیکل چیر گیم میں جتنی کرسیاں روزِ اول سے موجود ہیں آج تک ان میں کوئی اضافہ یا کمی نہیں ہوئی اور اس گیم میں حصہ لینے والوں کی تعداد بھی اتنی ہی ہے۔  لہذا تماشائی ( جسے آپ اپنی سہولت کے لیے ووٹر کہہ سکتے ہیں ) کے لیے اس میوزیکل چئیر گیم میں کوئی کشش نہیں۔ تماشائی ایک عرصے سے کھلی فضا میں خود کھیلنا چاہتا ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ اس کے کھیلنے کے لیے کوئی گراؤنڈ ہی نہیں اور آنکھوں  کے لیے صرف یہی فرسودہ میوزیکل چئیر گیم میسر ہے۔ (یوں سمجھئے کہ سندھ کی اقتداری سیاست اور کراچی کا سندھ کلب ایک ہی اصول کے قیدی ہیں).

اگر بات کچھ زیادہ ہی دانشورانہ ہو گئی ہے تو اسے ذرا آسان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پچھلے اناسی برس کے دوران برٹش سندھ ہو کہ پاکستانی سندھ ، لیگی حکومت ہو کہ پی پی حکومت کہ کوئی تیسری حکومت۔ سب وزرائے اعلی اور ان کے وزیروں مشیروں کو دیکھ لیں۔ ذوالفقار علی بھٹو دور کی صوبائی کابینہ میں شامل چند ناموں کے سوا سب کے سب روایتی بالادست روحانی و سیاسی طبقات سے تعلق رکھتے تھے اور رکھتے ہیں۔ اور جو لوگ پچھلے چوالیس برس کے دوران روایتی طبقات سے باہر کے بھی تھے وہ ایک یا دو اقتداری باریاں ملنے کے بعد ایسے بدل گئے جیسے حکمرانی سات نسلوں سے ان کے گھر کی دہلیز پر بیٹھی ہو۔

ایسے سیاسی و سماجی خام مال کے ہوتے ہوئے کسی نئی اور جدید سیاسی پروڈکٹ کا انتظار کرنا اپنا وقت برباد کرنے جیسا ہے۔ مگر ہماری اور آپ کی قسمت کو وراثت در وراثت منتقل ہونے والا یہ خام مال بھلے فائدہ مند نہ بھی ہو لیکن انگریز دور کی نوآبادیاتی اسٹیبلشمنٹ سے آج کی عسکری سیاسی اسٹیبلشمنٹ تک سب کو ایسا ہی خام مال چاہیے کہ جسے حسب ِ ضرورت کسی بھی پروڈکٹ میں بار بار ڈھال کر مجھے اور آپ کو ہر بار نیا کہہ کربیچا جا سکے۔ کبھی لیگی لیبل تو کبھی پی پی لیبل تو کبھی قوم پرست لیبل لگا لگا کر۔ ایسے خام مال سے تیار ہر پروڈکٹ میں ایک چپ بھی لگایا جاتا ہے۔ اس چپ میں پروڈکٹ کا تمام اگلا پچھلا ریکارڈ درج ہوتا ہے اور اس چپ کو ریموٹ کنٹرول سے حرکت میں لانے ، ساکت کردینے اور پھر حرکت میں لانے کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔

یہ تو ہو گئیں سندھ پر طاری جمود کی برائیاں۔ مگر کوئی بھی نظام جتنا بھی برا ہو وہ تب تک ہی چل سکتا ہے جب تک اس میں چند اچھائیاں بھی ہوں۔ سندھ کے عام لوگ بہت پہلے ہتھیار ڈال کر اپنی ہمتوں کا استعفیٰ پیش کر چکے ہوتے اگر ان کے اندر کڑا سے کڑا وقت سہنے کی وہ شکتی نہ ہوتی جو صرف صوفیوں کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔ پچھلے چوالیس برس میں بالخصوص سندھیوں کے لیے تعلیم ، روزگار ، سیاحت اور دنیا سے جڑنے کے راستے پہلے سے زیادہ کھلے اور اگر پاکستان کی دیگر قومیتوں سے تقابل کیا جائے توسندھیوں کی پچھلی کم ازکم دو پیڑھیوں کو آگے بڑھانے میں انیسویں صدی سے مسلسل جاری جدید تعلیمی و صحافتی روایت نے لگاتار مثبت کردار ادا کیا ہے۔ گذشتہ نسلوں کے برعکس آج کے سندھی مڈل کلاس لڑکے لڑکیاں سرکاری نوکری کے نفسیاتی چنگل سے تقریباً نکل آئے ہیں۔ مجھے پچیس برس پہلے ہیھترو ایرپورٹ پر کبھی کبھار سندھی بولی سنائی دیتی تھی مگر آج سانتیاگو سے ٹوکیو تک شائد ہی کوئی جگہ ہو جہاں ڈیپارچر یا ارائیول لاؤنج سے نکلتے ہوئے سندھی کا کوئی جملہ کان میں نہ پڑے۔

( یہ میں بھارتی سندھیوں کی نہیں پاکستانیوں کی بات کر رہا ہوں)۔

مگر تین ماہ پہلے حیدرآباد میں ہونے والے لاہوتی میوزیکل لٹریری فیسٹیول میں جا کر مجھے اندازہ ہوا کہ میں سندھ کی نئی نسل کے بارے میں کتنا کم جانتا ہوں۔میں نے پہلی بار بیس پچیس سال تک کے ہزاروں لڑکے لڑکیاں دیکھے جو یا سندھی بول رہے تھے یا انگریزی۔ ان سے گفتگو کے دوران لگا کہ ان کے کندھے سے لٹکے بیک پیک میں ایک دنیا بند ہے۔ اس مشاہدے کے بعد سے مجھے سندھ کے روایتی احساسِ محرومی کے مرثئے کو سننے کی حسرت نہیں رہی۔ چند سال ہی کی تو بات ہے۔ یہ بیک پیک نسل سب کچھ ٹیک اوور کر لے گی۔ کوئی چاہے نہ چاہے حالات کو ٹھیک ہونا ہی ہے۔ آپ حالات کو ٹھیک نہیں کریں گے تو حالات آپ کو ٹھیک کر دیں گے۔ میں آج  جو بھی بات کر رہا ہوں وہ اندرونِ سندھ کے تعلق سے ہے۔ میں جان بوجھ کر کراچی کو بیچ میں نہیں لا رہا۔ کیونکہ اکثریت بھی کراچی سے باہر بستی ہے اور میوزیکل چئیر کے کھلاڑیوں کا تعلق بھی تاریخی و سیاسی اعتبار سے اندرونِ سندھ سے ہے۔ ویسے بھی کراچی ڈھائی سو سال سے ہے اور اندرونِ سندھ آٹھ ہزار سال سے ہے۔

ہو سکتا ہے کچھ دوست میری یہ وضاحت تسلیم نہ کریں مگر پنجاب کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ لاہور کے بارے میں مت سوچیں۔ پشاور خیبر پختون خواہ کو سمجھنے کی چابی نہیں ہے ، کوئٹہ میں بیٹھ کر بلوچستان اتنا ہی سمجھ میں آ سکتا ہے جتنا کراچی میں بیٹھ کر اندرونِ سندھ۔ ویسے کمیونکیشن کی تیز رفتاری کے سبب اندرونِ سندھ ایک بے معنی اصطلاح ہو گئی ہے۔ آج کے حساب سے تیز رفتار سندھ اور سست سندھ ، نیا سندھ اور پرانا سندھ ، جوان سندھ اور بوڑھا سندھ جیسی اصطلاحات حقیقت سے زیادہ قریب تر ہیں۔ بعض اوقات اصطلاحات بدلنے سے بھی سوچ اور پھر حالات بدلنے لگتے ہیں۔

وسعت اللہ خان

انٹرنیٹ اور وقت کا ضیاع…..

دنیا میں سائنس جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے اسی طرح اس کے ساتھ منفی پہلو بھی اجاگر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس وقت انٹرنیٹ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس کی مددسے دنیا کہنے کو نہیں بلکہ واقعی ’’گلوبل ویلج‘‘ بن چکی ہے۔ ہزاروں میل دور بسنے والے انسان اپنے آپ کو ایک دوسرے کے اتنے قریب ہو چکے ہیں کہ دوریوں کا احساس ختم ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ معلومات کا تبادلہ، پوری پوری فائلیں، تصاویر اور بڑے سے بڑا ڈیٹا چند سیکنڈوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بھیجا جا سکتا ہے۔ کروڑوں اور اربوں ڈالر کے کاروبار انٹرنیٹ کی بدولت منٹوں میں طے پا رہے ہیں۔
 انٹر نیٹ پر معلومات کا ایک بڑا خزانہ موجود ہے جس سے ہر شخص اپنی ضرورت کے مطابق مستفید ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے گھر بیٹھے بڑی بڑی لائبریریوں اور معلومات سنٹرز تک رسائی حاصل ہے۔ بعض ملکوں میں حکومتوں نے اپنے عوام کی سہولت کے لیے الیکٹرانک حکومتی نظام رائج کر دیے ہیں اور عوام ہر قسم کی معلومات اور رابطے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کر سکتے ہیں ۔ انہیں بذات خود کسی بھی سرکاری دفتر میں جانے کی ضرورت نہیں۔ پرانے وقتوں میں کالم نگار کالم لکھ کر یا تو بذریعہ فیکس بھجواتے تھے یا کوئی قاصد بذات خود اخبار کے دفتر پہنچا کر آتا تھا۔ 
اب کالم لکھ کر دنیا کے کسی کونے سے بذریعہ ای میل اخبار کے دفتر بھیجا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کسی کونے میں چھپنے والے اخبار کو بذریعہ انٹرنیٹ دنیا کے کسی کونے میں پڑھا جا سکتا ہے غرضیکہ اس نے زندگی اتنی سہل کر دی ہے کہ حقیقتاً اب زندگی اس کے بغیر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو گئی ہے۔ جہاں انٹرنیٹ کے اتنے فوائد ہیں وہاں اس کے بہت سے منفی پہلو بھی موجود ہیں۔ اگرچہ اس کے مثبت پہلو اتنے زیادہ ہیں کہ اس کے منفی پہلوؤں کی وجہ سے اس کے استعمال کو روکا نہیں جا سکتا۔ اس کے منفی پہلوؤں میں سب سے خطرناک منفی پہلو یہ ہے کہ لوگ اب اس پر کثیر وقت صرف کر کے بعض اوقات وقت ضائع کرتے ہیں اور بعض اوقات اپنی صحت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں یہ تحقیق ہو چکی ہے کہ انٹرنیٹ پر وقت کا ضیاع کیسے ہوتا ہے۔ کیوں ہوتا ہے اور اسے کیسے روکا جا سکتا ہے۔
 بعض تحقیقات میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بطور خاص نوجوان بہت زیادہ وقت انٹرنیٹ پر ضائع کرتے ہیں۔ اس سے ان کی تعلیم کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور ان کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ وہ جسمانی ورزش سے کنی کتراتے ہیں اور کھیل بھی انٹرنیٹ پر ہی بیٹھے بیٹھے کھیلتے نظر آتے ہیں۔ یورپ میں پوپ نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ نوجوان لوگ انٹرنیٹ، سمارٹ فون اور ٹیلی ویژن پر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ ایسا لائحہ عمل بنائیں کہ انٹرنیٹ صرف اچھے مقاصد کے لیے استعمال ہو تا کہ ان کا وقت برباد نہ ہو اور ان کا مستقبل بھی داؤ پر نہ لگ جائے۔ اگر وقت کے اس ضیاع کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں یہ خطرات بہت زیادہ ہو سکتے ہیں۔
انٹرنیٹ پر وقت کے ضیاع کی اہمیت کو امریکی یورنیورسٹیوں نے بھی محسوس کیا ہے اور اس کے خلاف خصوصی ترسیل کے نظام رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یونیورسٹی آف پینسلوینیا جو کہ امریکہ کی ایک بہت اہم اور اعلیٰ درجے کی یونیورسٹی ہے اس کے انگریزی کے ڈیپارٹمنٹ نے اگلے سمسٹر میں ایک نیا کورس متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا نام \”Wasting time on Internet\” یا ’’انٹرنیٹ پر وقت کا ضیاع‘‘ ہو گا۔ اس کورس میں طلباء کو کمپیوٹر کی سکرین پر تین گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعے صرف یہ دیکھنا ہو گا کہ کیسے مختلف طریقوں سے وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کورس کے اختتام سے قبل طلباء سے یہ توقع کی جائے گی کہ کیا اس طریقے سے ضائع ہونے والے وقت کو کسی طرح کار آمد بنایا جا سکتا ہے۔
 اس سے نوع انسان کے لیے کوئی مفید کام لیا جا سکتا ہے۔ اس کورس کی حدود صرف انٹرنیٹ پر وقت کا ضیاع تک ہی محدود نہیں ہوں گی بلکہ طلباء سے یہ توقع بھی ہو گی کہ وہ تاریخ کے دریچوں میں بھی جھانکیں اور یہ بھی مطالعہ کریں کہ انسان کے بور ہونے اور وقت کے ضیاع کی تاریخ کیا کہتی ہے۔ ماضی میں اس کے کیا اسباب تھے اور ان کا سدباب کرنے کے لیے کیا طریق کار اپنائے گئے۔ یونیورسٹی کا خیال ہے کہ اس کورس کے بعد ایسے ماہرین تیار کیے جائیں گے جو بنیادی علم حاصل کرنے کے بعد اس شعبے میں مزید تحقیق کریں گے اور اس کے دیگر چھپے ہوئے پہلوؤں کو بھی اجاگر کریں گے۔
اگرچہ اس وقت تک اس سلسلے میں کوئی مستند تحقیق سامنے نہیں آئی کہ انٹرنیٹ پر وقت کے ضیاع کو کیسے روکا جا سکتا ہے لیکن بعض اہل علم نے اس سلسلے میں چند ٹوٹکے ضرور بتائے ہیں۔ جن پر عمل کر کے انٹرنیٹ پر وقت کے ضیاع سے بچا جا سکتا ہے۔ ماہرین یہ کہتے ہیں کہ اپنے آپ کو کل کے کام کے لیے تیار کریں۔ ان کاموں کی فہرست مرتب کریں جو آپ نے کل سر انجام دینے ہیں۔ کمپیوٹر کھولنے سے پہلے آپ کے پاس اگر یہ لسٹ تیار ہو گی تو وقت کے ضیاع کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔
 وہ ویب سائٹس جو کہ وقت کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں ان کو بند کر دیں اس طرح غیر ضروری سائٹس نہ آنے سے وقت بچایا جا سکتاہے۔ انٹرنیٹ پر جو بھی کام کرنا ہو اس کے لیے وقت مختص کر لیں۔ اس طرح اس مخصوص وقت کے لیے ہی ضروری کام کی خاطر وقت استعمال کریں۔ اس طرح غیر ضروری چیزیں خود بخود کم ہو جائیں گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر آپ کو انٹرنیٹ پر وقت کے ضیاع کی عادت ہے تو پھر اس بات پر کسی دوست، بھائی، استاد یا کسی شخص کو اعتماد میں لیں۔ ان سے اس پر بحث کریں وہ آپ کی ضرورت کے
مطابق آپ کو کوئی بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔ اپنے آپ پر کنٹرول کرنے کی کوشش کریں اور وقت ضائع کرنے سے پچیں۔ اس کے لیے مختصر عرصے کے لیے اگر ضروری کام کی قربانی دینی پڑے تو دینی چاہیے۔ اس امر کا واضح طریقے سے اظہار کرنا چاہیے کہ میں مصروف ہوں اور انٹرنیٹ کے ذریعے رابطے، سوالات، گپ شپ یا کسی ایسے امر کے لیے میسر نہیں ہوں۔ اس طرح آپ اپنا وقت بہتر طریقے سے بچا پائیں گے۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مسلسل آن لائن رہنے یا انٹرنیٹ سے منسلک رہنے سے آپ کے وقت پر بوجھ پڑتا ہے یا ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ آپ وقت ضائع کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں تو اپنے آپ کو انٹرنیٹ سے منقطع کر لیں۔
 صرف اس وقت دوبارہ منسلک ہو جائیں جب ضروری ہو اور ضروری امور سر انجام دینے ہوں۔ اگرچہ اپنے حالات کے مطابق اس کے علاوہ اور بھی طریقے ہو سکتے ہیں لیکن ان کے استعمال سے وقت بچایا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب پوری دنیا اس امر پر خائف ہے کہ انٹرنیٹ پر اگر اس طرح دانستہ یا غیر دانستہ وقت ضائع ہوتا رہا تو اس سے شدید خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔
 
حسن اقبال

Kashmir Solidarity Day

Kashmir Solidarity Day, or Kashmir Day, is a national holiday in Pakistan and also observed by Kashmiri nationalists on 5 February each year. It is in observance of Pakistan’s support and unity with the people of Indian-administered Kashmir, their ongoing freedom struggle, and to pay homage to Kashmiri martyrs who lost their lives fighting for Kashmir’s freedom. Solidarity rallies are held inAzad Kashmir, Pakistan and by Kashmiri diaspora in United Kingdom. The day often marks unrest in Indian controlled Kashmir. The major protests and incidents include 2010 Kashmir unrest, Doodhipora killing, 2006, 2009 Shopian rape and murder case and the Bomai Incident. Kashmir Day was first proposed by Jamaat-e-Islami party in Pakistan in 1990.

Africa Cup of Nations: Semi-final was ‘war zone’, says Ghana FA

A police helicopter hovers over Equitorial Guinea fans as they throw objects during the 2015 African Cup of Nations semi-final soccer match against Ghana in Malabo, Equatorial Guinea

Fighting intensifies in eastern Ukraine

Members of the armed forces of the separatist self-proclaimed Donetsk People’s Republic ride on a tank in Vuhlehirsk, Donetsk region. The rebels have been concentrating on Debaltseve, a rail hub where a government garrison has held out despite being nearly encircled. The rebels appeared to have captured Vuhlehirsk, a nearby small town where government troops had also been holding out. The army said it was still contesting the town, but Reuters journalists saw no sign of areas under army control.