چین میں آئی فون کا چہرہ پہچاننے والا فیچر ناکام ہو گیا

چین میں ایپل کمپنی کے نئے ماڈل آئی فون ایکس میں متعارف کرائی جانے والی چہرہ پہچاننے کی خصوصیت (فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی) ناکام ہو گئی ہے اور معلوم ہوا ہے کہ لوگ کسی کے بھی موبائل کا لاک آسانی سے کھول سکتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی کنزیومر مارکیٹ کی جانب سے ایپل پر تعصب کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک خاتون کو ان کے شوہر نے آئی فون ایکس کا نیا ورژن خرید کر دیا لیکن موبائل پر لاک لگانے کے باوجود خاتون کے بیٹے نے اپنے چہرے کے ذریعے فون کا لاک کھول لیا۔

یہ صرف ایک ہی واقعہ نہیں بلکہ شنگھائی میں کئی لوگوں نے یہی شکایت کی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے آئی فون استعمال کرنے والے چینی شہریوں نے فون کی سیکورٹی اور پرائیوسی کے فیچرز پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا ہے۔ خاتون کے شوہر کا نام صرف ’’لیو‘‘ کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے، جیسے ہی انہیں اس مسئلے کا علم ہوا انہوں نے ایپل کے کسٹمر سروس سینٹر پر فون کر کے شکایت درج کرائی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیس آئی ڈی موبائل کا سامنے والا کیمرا ’ٹروُ ڈیپتھ‘ استعمال کرتی ہے جس کے بعد ایک ڈاٹ پروجیکٹر چہرے کے 30؍ ہزار پوائنٹس کے ذر یعے A11 پراسیسر استعمال کرتے ہوئے چہرہ  شناخت  کرتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایپل نے اس شکایت پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

Advertisements

چین روبوٹس کے میدان میں جاپان کو مات دینے کے قریب پہنچ گیا

چین میں 19ویں سالانہ ٹیکنالوجی فیئر کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا بھر سے لاکھوں شائقین نے شرکت کی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اشیا دیکھ کر خوب محظوظ ہوئے۔ تین ہزار سے زائد کمپنیز نے اپنے سٹال لگائے جہاں جدید ترین کمپیوٹرز، الیکٹرانک گاڑیوں کے علاوہ جدید ترین روبوٹس بھی پیش کئے گئے جن کو دیکھ کر ماہرین نے خوشگوار حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین روبوٹس کے میدان میں صف اول کے ملک جاپان کو مات دینے کے قریب پہنچ چکا ہے ۔

کیا ٹیکنالوجی نے ملازمتیں ختم کر دیں ؟

ٹیکنالوجی کو عام طور پر اچھا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی مدد سے کام تیز اور کم افرادی قوت کے بل بوتے پر ممکن ہوتا ہے۔ یہ ملازمتوں پر اثر انداز بھی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں نچلے 50 فیصد ملازمین کی حقیقی آمدنی میں 1999ء سے مجموعی طور پر کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا ۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اجرتیں نہیں بڑھیں بلکہ ہوا یہ کہ ان میں اور مہنگائی میں اضافے کا تناسب ایک جیسا رہا۔ اس کی بہت سی وجوہ ہیں۔ کچھ ماہرین کے خیال میں ٹیکنالوجی اس کا سب سے بڑا سبب ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے کتنا تیار ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے افرادی قوت پر اثرات کے بارے میں ایک تحقیق کی گئی جس سے پتا چلا کہ کم و بیش ہر شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متاثر ہو گا۔ مثال کے طور پر عین ممکن ہے کہ کاروں، ٹرکوں اور بسوں کو چلانے کے لیے ڈرائیوروں کی ضرورت نہ رہے کیونکہ وہ خود کار ہو جائیں گی۔ اسی طرح تعلیم کے لیے اساتذہ اور سٹاف کی ضرورت کم ہو جائے گی کیوں آن لائن علم اور ڈگری حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کوایک نیا انقلاب کہا جاتا ہے لیکن تیز رفتا تبدیلیوں کے بارے میں پالیسی سازوں کے پاس اعدا د و شمار کی کمی ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلیوں سے کون سی ملازمتیں پیدا ہونے جا رہی ہیں اور کون سی ختم۔ اس کا ایک نتیجہ بے روزگاری کی صورت میں نکلتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی کے مطابق مہارتیں رکھنے والے افراد کی کمی ہو جاتی ہے اور جن ملازمتوں سے ان کے اخراج کا امکان ہوتا ہے اس کا متبادل بروقت تلاش نہیں کیا جاتا۔

پرانی ملازمتوں کے خاتمے اور نئی کے امکانات کے بارے میں تحقیق اور اعدادوشمار کم ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں اطلاعات کا سیلاب آیا ہوا ہے لیکن ان میں مطلوبہ معلومات نہیں ملتیں۔ کچھ بڑی کمپنیوں کے پاس اس بارے میں بہت سا ڈیٹا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایمازون اور نیٹ فلکس اپنی مصنوعات کی فروخت سے نئے رجحانات کا پتا لگاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ کیا چاہ رہے ہیں اور انہیں کیا کرنا چاہیے۔ لیکن ان اعداوشمار تک عام رسائی نہیں ہوتی اور نہ حکومتی پالیسی ساز اس بارے میں جان سکتے ہیں۔ اسی طرح جو ویب سائٹس ملازمتوں کی آفرز کے لیے بنائی جاتی ہیں ان کے پاس بھی نئے رجحانات اور ملازمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا اچھا خاصا ڈیٹا ہوتا ہے۔

انہیں پتا ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کن شعبوں کے طالبہ کے لیے کون سی ملازمتیں میسر ہیں۔ ان کے اعدادوشمار سے پالیسی ساز معلوم کر سکتے ہیں کہ کالج اور یونیورسٹی میں بدلتی ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھ کر کن نئے شعبوں کو متعارف کروانے کی ضرورت ہو گی۔ مثال کے طور پر پاکستان میں چند سال قبل تک ٹی وی پروڈکشن کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی لیکن اب متعدد کورسز متعارف کروائے گئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹی وی چینلز کے آنے کے بعد ایسا کیا گیا حالانکہ اسے پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے ثمرات سے زیادہ سے زیادہ افراد فائدہ اٹھائیں۔ اگر اس سے ملازمتیں ختم ہوتی جائیں اور بے روزگاری بڑھ جائے تو جرائم اور دیگر سماجی برائیاں پیدا ہوں گی۔

رضوان مسعود