پیر نے جو کیا ٹھیک کیا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ضلع سرگودھا ایک زرعی علاقہ ہے جہاں زیادہ تر آبادی دیہاتوں میں مقیم ہے۔ دیہاتی آبادی پر مشتمل اس ضلع میں پنجابی زبان کا لہجہ بدلتا رہتا ہے مگر ایک چیز جو ہر جگہ مشترک ہے وہ یہاں کے لوگوں کی درباروں، درگاہوں اور صوفیا سے عقیدت ہے۔ سرگودھا شہر سے ذرا باہر نکلیں تو محض پانچ سے چھ کلو میٹر شمال کی جانب سلانوالی روڈ پر چھوٹے دیہاتوں کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ ان ہی میں سے ایک گاؤں چک 95 شمالی بھی ہے جہاں اتوار کو 20 افراد کے قتل کا واقعہ پیش آیا۔ گاؤں میں داخل ہوتے ہی پہلی ہی گلی میں ایک گھر کے باہر چٹائیاں بچھی ہیں جن پر لوگ قتل ہونے والے افراد کے ورثا سے تعزیت کر رہے ہیں۔ ان افراد کو یہاں واقع دربار کے ایک متولی عبدالوحید نے مبینہ طور پر اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ ملکر ڈنڈوں اور چاقوؤں کے وار کر کے قتل کیا تھا۔

سڑک سے دو کلو میٹر دور واقع اس گاؤں میں تا حدِ نظر گندم کے کھیت دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے درمیان کھڑے اینٹوں کے بھٹے اور دربار نمایاں ہیں۔ چند گھروں پر مشتمل اس گاؤں اور اس جیسے قریبی دیہاتوں میں پانچ سے چھ دربار دیکھنے کو ملتے ہیں۔ گاؤں کے ایسے درباروں پر لوگ اپنے مالی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے منتیں ماننے آتے ہیں۔ سالانہ عرس اور میلوں میں مریدین کی طرف سے اپنے پیر یا روحانی پیشوا کی خدمت میں نقد رقوم اور دیگر اجناس کی شکل میں چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں۔ ایسے کسی دربار کے گدی نشینی یا متولی کا عہدہ انتہائی پر کشش ہوتا ہے۔ لوگ عموماٌ اپنے پیر کے احکامات اور باتوں کی سختی سے پیروی کرتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ جب بات دربار کے متولی عبدالوحید کے خلاف مدعی بننے یا اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروانے کی آئی تو مرنے والوں کے ورثا میں سے کوئی سامنے نہیں آیا۔ گھنٹوں انتظار کے بعد مقدمہ سرگودھا تھانہ صدر پولیس کی مدیت میں درج کیا گیا۔ پولیس کے مطابق 20 لوگوں کے قتل کے پیچھے بظاہر گدی کا معاملہ لگتا ہے۔ پولیس کے سامنے اعترافِ جرم کرتے ہوئے متولی عبدالوحید کا کہنا تھا کہ اس نے ان لوگوں کو اس لیے قتل کیا کہ وہ سب اس کو زہر دے کر مارنے کی سازش کر رہے تھے اور دربار کی گدی پر قابض ہونا چاہتے تھے۔ اس واقعے میں زندہ بچ جانے والے محمد توقیر نے بی بی سی کو بتایا کہ متولی عبدالوحید نے ایک ایک کر کے تمام لوگوں کو بہانے سے وہاں اکٹھا کیا اور ان کو ڈنڈے مار کر قتل کر دیا۔

سرگودھا کے ریجنل پولیس آفیسر ذولفقار حمید کا کہنا تھا کہ پولیس کی مدیت میں مقدمہ اس لیے درج کیا گیا کہ مقتولین کے ورثا میں سے کوئی مدعی بننے کے لیے سامنے نہیں آیا۔ ‘مقدمہ تو اب درج ہو چکا مگر میں ان لوگوں کو تاکید کروں گا کہ وہ آگے آئیں اور اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ تفتیش کے بعد ایک مکمل کیس عدالت میں جا سکے اور اس میں کوئی جھول نہ ہو۔’ ایک پولیس اہلکار کے مطابق متولی عبدالوحید نے یہ بھی کہا ‘میں نے ان افراد پر تشدد ان کی مرضی اور اصرار پر کیا۔ ڈنڈے لگنے سے ان کے گناہ معاف ہوئے اور وہ جنت میں چلے گئے۔’ چک 90 سے تعلق رکھنے والی کراچی کے رہائشی محمد اقبال گجر نے بی بی سی کو بتایا کہ قتل ہونے والے لوگوں کے لواحقین میں زیادہ تر ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ ‘اس کے سارے عقیدت مند یہ سمجھ رہے ہیں کہ مرنے والے امر ہو گئے۔ اللہ کو یہی منظور تھا۔ پیر نے جو کیا ٹھیک کیا ہے۔’

عمر دراز ننگیانہ

بی بی سی اردو ڈاٹ کام

ہمارا عدالتی انصاف : انیس سال بعد بَری ہونے والا بے گناہ مظہر حسین دو سال قبل فوت

سپریم کورٹ نے 2 روز قبل ناکافی شواہد کی بنیاد پر 19 سال سے قید سزائے موت کے ملزم مظہر حسین کو بری کرنے کا حکم تو جاری کیا لیکن یہ حکم نامہ قیدی کے گھر والوں کو مزید اذیت میں مبتلا کرگیا۔ مظہر حسین کو 1997 میں اسماعیل نامی ایک شخص کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی، جو 2 سال قبل دوران قید وفات پاچکے ہیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران کئی سال سے پابند سلاسل قتل کے ملزم مظہر حسین پر جرم ثابت نہ ہوسکا۔ سماعت کے بعد جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار کیا کہ ملزم کے 19 سال ضائع ہونے کا ذمہ دار کون ہے؟

انہوں نے کہا کہ ‘ فلموں میں سنا کرتے تھے جج صاحب میری زندگی کے 12 سال لوٹا دیں’۔ جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس میں کہا کہ نظام عدل سچ کے بغیر نہیں چل سکتا، سب سے پہلے جھوٹی گواہی دینے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور ججز کو بھی حقائق کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ بعدازاں سپریم کورٹ نے ناکافی شواہد پر مظہر حسین کو بری کرنے کا حکم دے دیا، لیکن بعد میں انکشاف ہوا کہ مذکورہ قیدی کا 2 سال قبل انتقال ہوچکا ہے، تاہم عدالت کو اس سے مطلع نہیں کیا گیا۔

اسلام آباد کے قریب ڈھوک حیدر علی سہالہ کے رہائشی مظہر حسین پر 1997 میں اسماعیل نامی ایک شخص کے قتل کا الزام لگایا گیا، جنھیں 3 اکتوبر 2003 میں جیل بھیجا گیا۔ 21 اپریل 2004 کو مظہر حسین کو اسلام آباد کی سیشن عدالت کے جج اسد رضا نے سزائے موت اور 3 لاکھ روپے جرمانہ یا 6 ماہ قید کی سزا سنائی، جسے بعدازاں ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ جیل میں قید کے دوران مظہر حسین کو 21 جون 2005 کو ایک اور قیدی ملازم حسین کے قتل کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بعدازاں مظہر حسین کو 5 فروری 2013 میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے جہلم کی ڈسٹرکٹ جیل بھیج دیا گیا، جہاں مارچ 2014 میں ان کا انتقال ہوگا۔

عدالتی فیصلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مظہر حسین کے اکلوتے بیٹے خواجہ شہباز نے بتایا کہ ان کے خاندان نے گذشتہ 19 سال انتہائی تکلیف میں گزارے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری دو نسلیں تباہ ہوگئیں، حتیٰ کہ ہمارے چاچا اور تایا بھی کیس کی پیروی کرتے کرتے فوت ہوگئے۔’ خواجہ شہباز نے کہا کہ ‘انھیں افسوس ہے کہ ان کے والد اپنی بے گناہی ثابت ہونے کے موقع پر اس دنیا میں نہیں، لیکن ساتھ ہی اس بات کی بھی خوشی ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے باقی قیدیوں کے لیے بھی امید کی ایک کرن پیدا ہوگی جو بغیر کسی جرم کے جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیں’۔ مظہر حسین کے اہلخانہ کے مطابق ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا تھا، لیکن عدالت کو کسی نے مطلع نہیں کیا۔ دوسری جانب اس عرصے کے دوران کیس کا مدعی بھی وفات پاچکا ہے۔

خانہ بدوش : جن کی زندگی ایک مستقل سفر ہے

‘ہمارے باپ دادا بھی یہی کام کرتے آ رہے ہیں، ہم نسلوں سے ایسے ہی خانہ بدوشی کی زندگی جی رہے ہیں۔ ہمیں اب کہیں مستقل ٹھہر جانا اچھا نہیں لگتا۔’ یہ کہنا تھا کشمیر کے راستے گلگت سے واپس نقل مکانی کر کے پاکستان کے میدانی علاقوں کی طرف جا نے والے ایک خانہ بدوش کا۔ سینکڑوں بھیڑ بکریوں کو ہانکتے میلوں پیدل سفر کرتے گجر قبیلے کے ان لوگوں کا زیادہ تر انحصار انہی مال مویشیوں پر ہوتا ہے اور ان کی کوچے کوچے نگر نگر ہجرت کی وجہ بھی یہی ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگلت بلتستان کے سبزہ زار ان خانہ بدوشوں کے مویشیوں کی چراہ گاہیں بن جاتے ہیں۔ وہیں مختصر مال و اسباب سمیت خمیے گاڑے یہ خاندان مقامی لوگوں کو دودھ اور مویشی فروخت کرکے ضرورت کا سامان خرید لیتے ہیں۔ سردیوں کی آمد پر ریوڑ ہانکتے، گھوڑوں پر ساز و سامان لادے، بیوی بچوں کے ہمراہ ان خانہ بدوشوں کی منزل کھاریاں ہے۔

ایک خانہ بدوش کا کہنا تھا ‘سردیوں کے موسم میں ہم پنجاب کے میدانوں میں سرکاری زمین پر خیمے لگا لیتے ہیں وہاں کھلے میدانوں میں لگا سبزہ مویشیوں کا چارہ بن جاتا ہے۔ چھ ماہ بعد جب پھول کھلنے لگیں گے ہم واپس پہاڑی علاقوں کو لوٹ آئیں گے۔’ مویشیوں کا ریوڑ جگہ جگہ چرتا اور سڑکوں پر گاڑیوں کے شور میں کبھی بھٹکتا کبھی راستہ بناتا آگے بڑھ رہا تھا، کچھ دور گھوڑوں پر سوار عورتیں اور بچے شام ڈھلنے پر پڑاؤ ڈال چکے ہیں۔ یہاں رات کا کھانا بن رہا ہے۔ کچھ عورتیں قریبی آبادی سے پانی بھر کر لا رہی ہیں۔

کہیں لمبا سفر کرکے آنے والے گھوڑوں کے نال بدلے جا رہے ہیں۔ خانہ بدوشوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھوڑے دن میں اوسطاً چالیس کلو میٹر سفر کرتے ہیں۔ ان کا دعوی ہے اتنے سفر کے بعد بھی ان کے گھوڑے کم از کم تیس برس تک جیتے ہیں اور ان کی عمر عام گھوڑوں سے زیادہ ہی ہوتی ہے۔ ان خانہ بدوشوں کے گھوڑے اور خچر بھی ان کی کمائی کا ذریعہ ہیں۔ پہاڑی علاقوں پر جہاں گاڑی نہیں جا سکتی وہاں ان کے جانوروں کی مدد سے مال لے جایا جاتا ہے۔ حتی کے فوج کو بھی اپنی رسد آگے پہنچانی ہو تو انہیں خانہ بدوشوں کے خچروں پر لاد کر لے جاتے ہیں اور اس کے بدلے انہیں اجرت دی جاتی ہے۔

خانہ بدوشوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھوڑے دن میں اوسطاً چالیس کلو میٹر سفر کرتے ہیں۔ موتیوں سے کی گئی آرائش گجروں کی پہچان ہے۔ ان کے کپڑوں، زیور، سامان کے بڑے بڑے تھیلوں، چٹائیوں حتیٰ کے مسالوں کے ڈبوں کو بھی اس خاص آرائش سے سجایا گیا ہے۔ کچھ ہی دیر میں بھیڑ بکریوں کا ریوڑ بھی آن پہنچا۔ جس کا رخ قریب ہی موجود دریائے جہلم کی طرف تھا۔ مویشی پیاس بجھانے کے لیے پانی کی جانب دوڑ رہے تھے۔ چھوٹے بچے خوش ہیں ریوڑ کے ساتھ آنے والے اپنے اپنے والد کو پکارتے وہ کافی پر جوش ہیں۔ کیا عورتیں اور بچے کسی ایک جگہ رک کر گھر بنانے کو نہیں کہتے۔ ‘ہم 1947 کے مہاجر ہیں ، ہمیں اس کام میں مزہ آتا ہے۔ پنجاب میں زمین لے کر گھر بھی بنائیں ہیں لیکن گھر والے بھی کہتے ہیں کہ پہاڑوں پر گزرا وقت جنت سے کم نہیں اس لیے ہم کہیں ٹک نہیں سکتے۔’

یہ کہتے ہیں زمین اور گھر تو خریدے ہیں لیکن اس زندگی میں زیادہ لطف ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں کوئی ڈر نہیں اور نہ کبھی سکیورٹی کا کوئی خطرہ ہوا۔ انہیں کبھی کہیں بھی کوئی نہیں روکتا۔ ان میں سے بعض بچے سکول بھی جاتے ہیں۔ سردیوں کے دنوں میں وہ سکولوں میں داخلہ لے لیتے ہیں۔ لیکن اکثریت کا کہنا ہے کہ بچے بھی اس آزاد ماحول کے عادی ہیں۔ انہیں سکول جانا پسند ہی نہیں۔ لیکن ان کے قبیلے کے کچھ لوگ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور وہ راولپنڈی میں مقیم ہیں۔ ‘وہ نوکریاں بھی کرتے ہیں اور ہم سے بھی وہاں رہنے کو کہتے ہیں لیکن ہمیں اس زندگی میں زیادہ مزہ آتا ہے۔’

عورتوں یا بچوں کے بیمار ہونے کی صورت میں کچھ لوگ راستے میں رک جاتے ہیں لیکن باقی سب کا سفر جاری رہتا ہے۔ فی زمانہ موبائل فون کی سہولت نے ان کا رابطہ تو آسان بنا دیا ہے لیکن ماضی میں کیا کرتے تھے؟ یہ لوگ بتاتے ہیں کہ ہم نسل در نسل یہی کام کرتے اور سفر کرتے آ رہے ہیں۔ ہم نے طے کر رکھا ہوتا ہے کہ شام ہونے پر رکنا ہے اور خیمہ لگانے ہیں۔

تابندہ کوکب

بی بی سی اردو ڈاٹ کام

چوکوں پر چوراہوں پر لٹکا دو : انصار عباسی

انصار عباسی

 

انٹرنیٹ اور وقت کا ضیاع…..

دنیا میں سائنس جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے اسی طرح اس کے ساتھ منفی پہلو بھی اجاگر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس وقت انٹرنیٹ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس کی مددسے دنیا کہنے کو نہیں بلکہ واقعی ’’گلوبل ویلج‘‘ بن چکی ہے۔ ہزاروں میل دور بسنے والے انسان اپنے آپ کو ایک دوسرے کے اتنے قریب ہو چکے ہیں کہ دوریوں کا احساس ختم ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ معلومات کا تبادلہ، پوری پوری فائلیں، تصاویر اور بڑے سے بڑا ڈیٹا چند سیکنڈوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بھیجا جا سکتا ہے۔ کروڑوں اور اربوں ڈالر کے کاروبار انٹرنیٹ کی بدولت منٹوں میں طے پا رہے ہیں۔
 انٹر نیٹ پر معلومات کا ایک بڑا خزانہ موجود ہے جس سے ہر شخص اپنی ضرورت کے مطابق مستفید ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے گھر بیٹھے بڑی بڑی لائبریریوں اور معلومات سنٹرز تک رسائی حاصل ہے۔ بعض ملکوں میں حکومتوں نے اپنے عوام کی سہولت کے لیے الیکٹرانک حکومتی نظام رائج کر دیے ہیں اور عوام ہر قسم کی معلومات اور رابطے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کر سکتے ہیں ۔ انہیں بذات خود کسی بھی سرکاری دفتر میں جانے کی ضرورت نہیں۔ پرانے وقتوں میں کالم نگار کالم لکھ کر یا تو بذریعہ فیکس بھجواتے تھے یا کوئی قاصد بذات خود اخبار کے دفتر پہنچا کر آتا تھا۔ 
اب کالم لکھ کر دنیا کے کسی کونے سے بذریعہ ای میل اخبار کے دفتر بھیجا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کسی کونے میں چھپنے والے اخبار کو بذریعہ انٹرنیٹ دنیا کے کسی کونے میں پڑھا جا سکتا ہے غرضیکہ اس نے زندگی اتنی سہل کر دی ہے کہ حقیقتاً اب زندگی اس کے بغیر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو گئی ہے۔ جہاں انٹرنیٹ کے اتنے فوائد ہیں وہاں اس کے بہت سے منفی پہلو بھی موجود ہیں۔ اگرچہ اس کے مثبت پہلو اتنے زیادہ ہیں کہ اس کے منفی پہلوؤں کی وجہ سے اس کے استعمال کو روکا نہیں جا سکتا۔ اس کے منفی پہلوؤں میں سب سے خطرناک منفی پہلو یہ ہے کہ لوگ اب اس پر کثیر وقت صرف کر کے بعض اوقات وقت ضائع کرتے ہیں اور بعض اوقات اپنی صحت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں یہ تحقیق ہو چکی ہے کہ انٹرنیٹ پر وقت کا ضیاع کیسے ہوتا ہے۔ کیوں ہوتا ہے اور اسے کیسے روکا جا سکتا ہے۔
 بعض تحقیقات میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بطور خاص نوجوان بہت زیادہ وقت انٹرنیٹ پر ضائع کرتے ہیں۔ اس سے ان کی تعلیم کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور ان کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ وہ جسمانی ورزش سے کنی کتراتے ہیں اور کھیل بھی انٹرنیٹ پر ہی بیٹھے بیٹھے کھیلتے نظر آتے ہیں۔ یورپ میں پوپ نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ نوجوان لوگ انٹرنیٹ، سمارٹ فون اور ٹیلی ویژن پر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ ایسا لائحہ عمل بنائیں کہ انٹرنیٹ صرف اچھے مقاصد کے لیے استعمال ہو تا کہ ان کا وقت برباد نہ ہو اور ان کا مستقبل بھی داؤ پر نہ لگ جائے۔ اگر وقت کے اس ضیاع کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں یہ خطرات بہت زیادہ ہو سکتے ہیں۔
انٹرنیٹ پر وقت کے ضیاع کی اہمیت کو امریکی یورنیورسٹیوں نے بھی محسوس کیا ہے اور اس کے خلاف خصوصی ترسیل کے نظام رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یونیورسٹی آف پینسلوینیا جو کہ امریکہ کی ایک بہت اہم اور اعلیٰ درجے کی یونیورسٹی ہے اس کے انگریزی کے ڈیپارٹمنٹ نے اگلے سمسٹر میں ایک نیا کورس متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا نام \”Wasting time on Internet\” یا ’’انٹرنیٹ پر وقت کا ضیاع‘‘ ہو گا۔ اس کورس میں طلباء کو کمپیوٹر کی سکرین پر تین گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعے صرف یہ دیکھنا ہو گا کہ کیسے مختلف طریقوں سے وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کورس کے اختتام سے قبل طلباء سے یہ توقع کی جائے گی کہ کیا اس طریقے سے ضائع ہونے والے وقت کو کسی طرح کار آمد بنایا جا سکتا ہے۔
 اس سے نوع انسان کے لیے کوئی مفید کام لیا جا سکتا ہے۔ اس کورس کی حدود صرف انٹرنیٹ پر وقت کا ضیاع تک ہی محدود نہیں ہوں گی بلکہ طلباء سے یہ توقع بھی ہو گی کہ وہ تاریخ کے دریچوں میں بھی جھانکیں اور یہ بھی مطالعہ کریں کہ انسان کے بور ہونے اور وقت کے ضیاع کی تاریخ کیا کہتی ہے۔ ماضی میں اس کے کیا اسباب تھے اور ان کا سدباب کرنے کے لیے کیا طریق کار اپنائے گئے۔ یونیورسٹی کا خیال ہے کہ اس کورس کے بعد ایسے ماہرین تیار کیے جائیں گے جو بنیادی علم حاصل کرنے کے بعد اس شعبے میں مزید تحقیق کریں گے اور اس کے دیگر چھپے ہوئے پہلوؤں کو بھی اجاگر کریں گے۔
اگرچہ اس وقت تک اس سلسلے میں کوئی مستند تحقیق سامنے نہیں آئی کہ انٹرنیٹ پر وقت کے ضیاع کو کیسے روکا جا سکتا ہے لیکن بعض اہل علم نے اس سلسلے میں چند ٹوٹکے ضرور بتائے ہیں۔ جن پر عمل کر کے انٹرنیٹ پر وقت کے ضیاع سے بچا جا سکتا ہے۔ ماہرین یہ کہتے ہیں کہ اپنے آپ کو کل کے کام کے لیے تیار کریں۔ ان کاموں کی فہرست مرتب کریں جو آپ نے کل سر انجام دینے ہیں۔ کمپیوٹر کھولنے سے پہلے آپ کے پاس اگر یہ لسٹ تیار ہو گی تو وقت کے ضیاع کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔
 وہ ویب سائٹس جو کہ وقت کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں ان کو بند کر دیں اس طرح غیر ضروری سائٹس نہ آنے سے وقت بچایا جا سکتاہے۔ انٹرنیٹ پر جو بھی کام کرنا ہو اس کے لیے وقت مختص کر لیں۔ اس طرح اس مخصوص وقت کے لیے ہی ضروری کام کی خاطر وقت استعمال کریں۔ اس طرح غیر ضروری چیزیں خود بخود کم ہو جائیں گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر آپ کو انٹرنیٹ پر وقت کے ضیاع کی عادت ہے تو پھر اس بات پر کسی دوست، بھائی، استاد یا کسی شخص کو اعتماد میں لیں۔ ان سے اس پر بحث کریں وہ آپ کی ضرورت کے
مطابق آپ کو کوئی بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔ اپنے آپ پر کنٹرول کرنے کی کوشش کریں اور وقت ضائع کرنے سے پچیں۔ اس کے لیے مختصر عرصے کے لیے اگر ضروری کام کی قربانی دینی پڑے تو دینی چاہیے۔ اس امر کا واضح طریقے سے اظہار کرنا چاہیے کہ میں مصروف ہوں اور انٹرنیٹ کے ذریعے رابطے، سوالات، گپ شپ یا کسی ایسے امر کے لیے میسر نہیں ہوں۔ اس طرح آپ اپنا وقت بہتر طریقے سے بچا پائیں گے۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مسلسل آن لائن رہنے یا انٹرنیٹ سے منسلک رہنے سے آپ کے وقت پر بوجھ پڑتا ہے یا ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ آپ وقت ضائع کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں تو اپنے آپ کو انٹرنیٹ سے منقطع کر لیں۔
 صرف اس وقت دوبارہ منسلک ہو جائیں جب ضروری ہو اور ضروری امور سر انجام دینے ہوں۔ اگرچہ اپنے حالات کے مطابق اس کے علاوہ اور بھی طریقے ہو سکتے ہیں لیکن ان کے استعمال سے وقت بچایا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب پوری دنیا اس امر پر خائف ہے کہ انٹرنیٹ پر اگر اس طرح دانستہ یا غیر دانستہ وقت ضائع ہوتا رہا تو اس سے شدید خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔
 
حسن اقبال

Kashmir Solidarity Day

Kashmir Solidarity Day, or Kashmir Day, is a national holiday in Pakistan and also observed by Kashmiri nationalists on 5 February each year. It is in observance of Pakistan’s support and unity with the people of Indian-administered Kashmir, their ongoing freedom struggle, and to pay homage to Kashmiri martyrs who lost their lives fighting for Kashmir’s freedom. Solidarity rallies are held inAzad Kashmir, Pakistan and by Kashmiri diaspora in United Kingdom. The day often marks unrest in Indian controlled Kashmir. The major protests and incidents include 2010 Kashmir unrest, Doodhipora killing, 2006, 2009 Shopian rape and murder case and the Bomai Incident. Kashmir Day was first proposed by Jamaat-e-Islami party in Pakistan in 1990.

Africa Cup of Nations: Semi-final was ‘war zone’, says Ghana FA

A police helicopter hovers over Equitorial Guinea fans as they throw objects during the 2015 African Cup of Nations semi-final soccer match against Ghana in Malabo, Equatorial Guinea

Fighting intensifies in eastern Ukraine

Members of the armed forces of the separatist self-proclaimed Donetsk People’s Republic ride on a tank in Vuhlehirsk, Donetsk region. The rebels have been concentrating on Debaltseve, a rail hub where a government garrison has held out despite being nearly encircled. The rebels appeared to have captured Vuhlehirsk, a nearby small town where government troops had also been holding out. The army said it was still contesting the town, but Reuters journalists saw no sign of areas under army control.