کھوپڑیاں اور چوہے : بھارتی کسان سراپا احتجاج

گذشتہ ہفتے انڈیا میں ایک کسان نے زندہ چوہا دانتوں میں پکڑ کر انوکھا احتجاج
ریکارڈ کروایا۔ 65 سالہ چناگو ڈانگی پالانیسامی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے کسانوں کی حالتِ زار کی طرف حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے قریب جنتر منتر کے علاقے میں ایک خیمے میں مجھے بتایا : ‘میں اور میرے کسان ساتھی یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر حالات میں تبدیلی نہ ہوئی تو ہم چوہے کھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔’ پالانیسامی اور ان کے سو کے قریب ساتھی اس عارضی پناہ گاہ میں گذشتہ 40 روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق تمل ناڈو کے ان علاقوں سے ہے جو حالیہ برسوں میں شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے انڈیا نے اس خشک سالی کو بھلا دیا ہے۔ اس لیے پالانیسامی اور ان کے ساتھی نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا یہ انوکھا طریقہ سوچا ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں حکومت کی جانب سے قحط زدہ علاقوں کے لیے مختص رقوم دی جائیں جب کہ معمر کسانوں کو پنشنیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ وہ قرضوں کی معافی، فصلوں کی بہتر قیمت اور اپنی زمینوں کی آبپاشی کے لیے مزید نہروں کی مانگ بھی کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے روایتی لباس پہن رکھے ہیں اور وہ انسانی کھوپڑیاں لہرا رہے ہیں جو ان کے بقول مردہ کسانوں کی ہیں۔ انھوں نے آدھے سر منڈوا رکھے ہیں اور منھ میں زندہ چوہے پکڑ رکھے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ہاتھ کاٹ کر ‘احتجاجی خون’ بہا رہے ہیں، جب کہ کچھ گرم بجری پر لوٹ رہے ہیں۔ کچھ لوگ فرضی جنازوں کی رسمیں بھی ادا کر رہے ہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ مطالبے تسلیم نہ ہونے تک دہلی میں ڈٹے رہیں گے. جب ان لوگوں کو وزیرِ اعظم سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تو انھوں نے ایوانِ وزیرِ اعظم کے قریب اپنے کپڑے اتار لیے۔ جب ان میں سے ایک احتجاجی نے چوہا منھ میں پکڑ کر خود کو ایک درخت سے لٹک کر پھانسی دینے کی کوشش کی تو آگ بجھانے والے عملے کو بلانا پڑا۔ ان میں سے کئی افراد کو علاج کے لیے ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔ انھیں میڈیا کی جانب سے توجہ تو ملی ہے لیکن بعض مظاہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کا میڈیا انھیں کرتب باز سمجھتا ہے اور ان کے احتجاج کے پیچھے درد و کرب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔

ایک مبصر نے لکھا کہ یہ احتجاج ‘مضحکہ خیز حد تک بڑھ گیا ہے جہاں اس کا مقصد احتجاج سے زیادہ پرفارمنس بن کر رہ گیا ہے۔’ تمل ناڈو کے 40 فیصد سے زیادہ لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ وہاں خشک سالی، فصلوں کی کم قیمتوں اور زرعی قرضے حاصل کرنے میں مشکلات نے اس ریاست میں کئی عشروں کا بدترین بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس بات کا تعین ہونا ابھی باقی ہے کہ آیا اس احتجاج کا کوئی فائدہ ہو گا یا نہیں۔ انڈیا میں ناکام احتجاجی مظاہرے کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم ان مظاہروں میں حصہ لینے والے منفرد طریقے سے اپنے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انڈیا میں زراعت کی شرحِ نمو سکڑ کر 1.2 فیصد رہ گئی ہے، جہاں لاکھوں کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

پالانیسامی کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل تک ان کے پاس ساڑھے چار ایکڑ زمین تھی جہاں چاول، گنا، دالیں اور کپاس بکثرت اگتی تھیں۔ لیکن برسوں کی خشک سالی نے ان کی زمین کو بنجر بنا دیا ہے۔ ان کے دو بیٹے چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، ان پر چھ لاکھ روپے قرض چڑھ گیا اور ان کے گھر پر موجود سونا گروی پڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ‘یہ میری زندگی کا بدترین زرعی بحران ہے۔ میں نے ایسا بحران پہلے کبھی نہیں دیکھا۔’ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تمل ناڈو کے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک 58 کسان خودکشیاں کر چکے ہیں۔ تاہم ایک مقامی تنظیم کے مطابق اصل تعداد ڈھائی سو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ جنتر منتر میں موجود یہ کسان اپنی بنجر زمینوں اور مردہ درختوں کی کہانیاں سناتے ہیں، جب کہ درجۂ حرارت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پالانیسامی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر اپنی ڈائری میں کچھ تحریر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حال میں کچھ شاعری بھی کی ہے جس میں وہ اپنے گھر کو یاد کرتے ہیں۔

مر چکی ہے، مر چکی ہے، زراعت مر چکی ہے

اذیت ہے، اذیت ہے، زراعت کی موت

جل رہے ہیں، جل رہے ہیں

کسانوں کے دل اور پیٹ

روکو، اسے روکو

کسانوں کی موت کو

سوتک بسواس

بی بی سی نیوز، انڈیا

Advertisements

انڈیا میں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں نوے فیصد مزدوروں کو ’غلامی‘ کا سامنا

بھارت کی جنوبی ریاستوں کی بڑی صنعت ‘سپنگ انڈرسٹری’ میں جو مغربی ممالک کے بڑے بڑے برانڈ کے لیے دھاگہ یا یارن تیار کرتی ہیں ان میں کام کرنے والے مزدوروں اور ہنرمندوں میں سے نوے فیصد کو غلامی کی مختلف اقسام جن میں ‘چائلڈ لیبر’ بھی شامل ہے کا سامنا ہے۔ خبر رساں ادارے روائٹر کی ایک تحقیقاتی رپوٹ کے مطابق اس سنگین صورتحال پر ماہرین نے ملوں کی نگرانی کے نظام اور آڈٹ کو مزید سخت کرنے کی تجویز دی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم انڈین کمیٹی آف نیدرلینڈ (آئی سی این) نے بھارتی ریاست تمل ناڈو میں جو بھارت میں سوتی دھاگہ بنانے والی صنعت کا سب سے بڑا مرکز ہے وہاں قائم آدھی ملوں میں کام کرنے والے مزدوروں سے بات کی ہے۔

تمل ناڈو میں قائم ڈیڑھ ہزار سے زیادہ ملوں میں سے سات سو چونتیس 734 ملوں میں کام کرنے والی خواتین جن سے اس تحقیق کے دوران بات کی گئی ان میں اکثریت کی عمریں چودہ سے اٹھارہ برس کے درمیان تھیں اور تقریباً بیس فیصد خواتین کی عمر چودہ سال سے کم تھیں۔ اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان مزدور خواتین اور مردوں کو طویل اوقات تک کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اکثر مل مالکان ان غریب مزدوروں کی تنخواہیں روک لیتے ہیں اور انھیں کمپنی کے ہاسٹلوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ ان میں بہت سے مزدوروں کو جنسی طور پر ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ آئی سی این ڈائریکٹر جیراڈ اونک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو پانچ سال سے اٹھا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود نئی تحقیق میں اس مسئلہ کی جو سنگینی سامنے آئی ہے وہ ان کے لیے بھی حیران کن ہے۔ تمل ناڈ میں سپنگ ملز ایسوسی ایشن کے مشیر اعلیٰ کے وینکٹاچالم کا کہنا ہے کہ انھیں کسی ایسی تحقیق کے بارے میں علم نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے حال ہی میں مدراس ہائی کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اب اس صنعت میں ایسے مسائل اب موجود نہیں ہیں۔ وینکٹاچالم نے روائٹرز کو بتایا کہ ‘یہ معاملہ اب ختم ہو گیا ہے۔’

بھارت دنیا میں ٹیکسٹائل اور کپڑے بنانے والے بڑے ملکوں میں شامل ہے۔ جنوبی ریاست تمل ناڈو میں سولہ سو ملیں قائم ہیں جن میں دو لاکھ سے چار لاکھ کے درمیان مزدور کام کرتے ہیں۔ روایتی طور پر ‘ڈائنگ یونٹس، سپنگ ملوں اور تولیے بنانے والی فیکٹریوں میں تمل ناڈو کے دیہات سے لوگ کم اجرتوں پر آ کر کام کرتے ہیں جو کپاس سے دھاگہ اور کپڑے بناتی ہیں جو مغربی ملکوں کے بڑے بڑے سٹور میں فروخت ہوتے ہیں۔ ان میں اکثریت نچلی ذات کی دلت کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی نوجوان دیہاتی ناخواندہ خواتین کی ہوتی ہے ۔ انھیں اکثر زور زبردستی، نامناسب جارحانہ لب و لہجے اور بدکلامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کو جنسی طور پر ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔

آئی سی این نے کہا کہ اس تحقیق میں جن ملوں کا انھوں نے احاطہ کیا ان میں مزدوروں کو کام کے اوقات کے بعد کمپنی کے ہاسٹلوں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان میں سے صرف انتالیس ملیں اجرتیں کم از کم مزدوری کے مطابق ادا کر رہیں تھیں اور آدھے سے زیادہ ملوں میں مزدوروں کو ہر ہفتے میں مجموعی طور پر ساٹھ گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنا پڑتا تھا. آئی سی این کو ایک اٹھارہ سالہ مزدو لڑکی نے بتایا کہ ان ملوں میں سپروائزر لڑکیوں پر تشدد کرتے ہیں تا کہ ان سے زیادہ سے زیادہ کام کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔  ایک اور کم عمر لڑکی کلیاچولی نے جو ہر ماہ اٹھ ہزار اجرت وصول کر رہی تھی بتایا کہ اسے بارہ گھنٹے مسلسل کام کرنے پر مجبور کیا جاتا اور اس دوران انھیں کھانے اور حتی کہ یبت الخلا جانے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے انھیں صحت کے بہت سے مسائل پیش آ رہے ہیں جن میں آنکھوں میں مستقل جلن، بخار، پیروں میں درد اور معدے کی خرابی شامل ہیں۔