پانامہ کیس : ’تحقیقاتی ٹیموں کا راستہ ایک بند گلی‘

’نواز شریف ایک جائز طور پر منتخب وزیر اعظم ہیں لیکن اب تک وہ قوم کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے ہیں کہ انھوں نے اور ان کے خاندان نے جو دولت جمع کی ہے وہ جائز طریقے سے کمائی ہوئی ہے۔‘ پاکستان کے سب سے مقتدر اخبار روزنامہ ڈان نے پاناما پیپرز پر سپریم کورٹ کے منقسم فیصلے پر اداریے کا اختتام مندرجہ بالا سطروں پر کیا ہے۔ پاناما پیپرز کے فیصلے پر جمعے کو پاکستان کے تمام اخبارات نے ادارتی صفحات پر عدالت عالیہ کے اس ‘تاریخی فیصلے’ پر اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے ایک اور اخبار ‘ڈیلی ایکسپریس’ نے اس موضوع پر اپنے اداریے کی ابتدائی سطروں میں کہا ہے کہ شریف فیملی کے علاوہ شاید چند ہی ایسے لوگ ہوں گے جو سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر شاد ہوں گے۔ انگریزی زبان کے ایک اور اخبار ’دی نیشن‘ نے اپنے اداریے کی ابتدا ہی میں یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک ایسا فیصلہ نہیں تھا جو 20 برس تک یاد رکھا جائے اور نہ ہی اس فیصلے نے وزیر اعظم کو الزامات سے بری کیا ہے۔ انگریزی زبان کے لاہور سے شائع ہونے والے اخبار ‘پاکستان ٹوڈے’ نے ‘منقسم فیصلے کے مضمرات’ کے عنوان سے اپنے ادارے کی پہلی سطر میں لکھا کہ جو فیصلہ تاریخی کہہ کر پیش کیا گیا اس نے بہت سے لوگوں کو حیران اور پریشان کر دیا ہے۔ تمام بڑے اخبارات اس بات پر متفق ہیں کہ یہ فیصلہ حکمران خاندان کے لیے خوشیاں منانے کا کوئی جواز فراہم نہیں کرتا اور ان پانچ ججوں نے وزیر اعظم کو کرپشن کے سنگین الزامات سے مکمل طور پر پاک نہیں کیا ہے۔

روزنامہ ڈان نے مشترکہ تحقیقاتی کمیشن میں فوج کے نمائندوں کو شامل کرنے کے اہم نکتے پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ روزنامہ ڈان کا کہنا ہے کہ ملٹری انٹیلیجنس اور پاکستان فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے نمائندوں کو اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا جانا ایک لحاظ سے سویلین اداروں پر عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے سویلین امور میں فوج کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے اور ہونا تو یہ چاہیے کہ سویلین امور سویلین ادارے ہی حل کریں۔

’مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل میں فوج کے نمائندوں کو شامل کیا جانا خاص طور پر ایک وزیر اعظم کے خلاف مالی اور قانونی امور کی تحقیقات کے لیے ایک غیر معمولی قدم ہے اور ایک ایسی مثال ہے جو کہ قائم نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘ اخبار کہتا ہے کہ ماضی میں سیاسی طور پر کشیدہ ماحول میں بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کا خاص طور پر ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے اور یہ راستہ ایک بند گلی میں ختم ہوتا ہے۔

اردو زبان کا روزنامہ جنگ اپنے اداریے کے آخر میں لکھتا ہے کہ یہ فیصلہ اس اعتبار سے یقیناً تاریخ ساز ہے کہ پاکستان میں بھی ملک کے سب سے بااختیار منصب پر فائز شخصیت کو ملک کے تحقیقاتی اداروں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا جس سے عدل و انصاف کی بالادستی کی نئی اور شاندار روایت قائم ہو گی۔ روزنامہ ڈیلی ایکسپریس نے اپنے اداریے کا اختتام بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس خزانے کے اصل ماخذ کا پتا چلنا ابھی باقی ہے لیکن اس ڈارمے کے ڈراپ سین کے لیے شاید فیوڈر ڈسٹووسکی کے مشہور ناول ’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘ سے کچھ نکالنا پڑے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

What are the Panama Papers?

A huge leak of documents has lifted the lid on how the rich and powerful use tax havens to hide their wealth. The files were leaked from one of the world’s most secretive companies, a Panamanian law firm called Mossack Fonseca.
What are the Panama Papers?
The files show how Mossack Fonseca clients were able to launder money, dodge sanctions and avoid tax. In one case, the company offered an American millionaire fake ownership records to hide money from the authorities. This is in direct breach of international regulations designed to stop money laundering and tax evasion. It is the biggest leak in history, dwarfing the data released by the Wikileaks organisation in 2010. For context, if the amount of data released by Wikileaks was equivalent to the population of San Francisco, the amount of data released in the Panama Papers is the equivalent to that of India. You can find our special report on the revelations here.
Who is in the papers?
There are links to 12 current or former heads of state and government in the data, including dictators accused of looting their own countries. More than 60 relatives and associates of heads of state and other politicians are also implicated. The files also reveal a suspected billion-dollar money laundering ring involving close associates of Russia’s President, Vladimir Putin.  Also mentioned are the brother-in-law of China’s President Xi Jinping; Ukraine President Petro Poroshenko; Argentina President Mauricio Macri; the late father of UK Prime Minister David Cameron and three of the four children of Pakistan’s Prime Minister Nawaz Sharif. The documents show that Iceland’s Prime Minister, Sigmundur Gunnlaugsson, had an undeclared interest linked to his wife’s wealth. He has now resigned. The scandal also touches football’s world governing body, Fifa. Part of the documents suggest that a key member of Fifa’s ethics committee, Uruguayan lawyer Juan Pedro Damiani, and his firm provided legal assistance for at least seven offshore companies linked to a former Fifa vice-president arrested last May as part of the US inquiry into football corruption. The leak has also revealed that more than 500 banks, including their subsidiaries and branches, registered nearly 15,600 shell companies with Mossack Fonseca.  Lenders have denied allegations that they are helping clients to avoid tax by using complicated offshore arrangements. Chart showing the ten banks that requested most offshore companies for clients
How do tax havens work?
Although there are legitimate ways of using tax havens, most of what has been going on is about hiding the true owners of money, the origin of the money and avoiding paying tax on the money. Some of the main allegations centre on the creation of shell companies, that have the outward appearance of being legitimate businesses, but are just empty shells. They do nothing but manage money, while hiding who owns it. One of the media partners involved in the investigation, McClatchy.
What do those involved have to say?
Mossack Fonseca says it has operated beyond reproach for 40 years and never been accused or charged with criminal wrong-doing. Mr Putin’s spokesman Dmitry Peskov said the reports were down to “journalists and members of other organisations actively trying to discredit Putin and this country’s leadership”. Publication of the leaks may be down to “former employees of the State Department, the CIA, other security services,” he said. In an interview with a Swedish television channel, Mr Gunnlaugsson said his business affairs were above board and broke off the interview. Fifa said it is now investigating Mr Damiani, who told Reuters  that he broke off relations with the Fifa member under investigation as soon as the latter had been accused of corruption.
 Who leaked the Panama Papers?
The 11.5m documents were obtained by the German newspaper Sueddeutsche Zeitung and shared with the International Consortium of Investigative Journalists (ICIJ). The ICIJ then worked with journalists from 107 media organisations in 76 countries, including UK newspaper the Guardian, to analyse the documents over a year. The BBC does not know the identity of the source but the firm says it has been the victim of a hack from servers based abroad. In all, the details of 214,000 entities, including companies, trusts and foundations, were leaked. The information in the documents dates back to 1977, and goes up to December last year. Emails make up the largest type of document leaked, but images of contracts and passports were also released.
How can I read the papers?
So far, a searchable archive is not available at the moment. There is a huge amount of data, and much of it reportedly includes personal information (including passport details), and does not necessarily include those suspected of criminal activity. Having said that, there is plenty of information out there. The ICIJ has put together a comprehensive list of the main figures implicated here – you can also search by country. You can sign up on the ICIJ’s website for any major updates on the Panama Papers.

پانامہ لیکس کا ممکنہ فیصلہ اور اثرات

پانامہ لیکس کا مقدمہ کئی حوالوں سے تاریخی اور منفرد مقدمہ ہے جس کی مثال گزشتہ کئی صدیوں میں نہیں ملتی۔ صحافیوں کی عالمی تنظیم آئی سی آئی جے نے دنیا بھر کے لاکھوں امیر ترین خاندانوں اور افراد کے پوشیدہ اثاثوں کا انکشاف کیا۔ ان خاندانوں میں پاکستان کا حکمران شریف خاندان بھی شامل ہے جس نے تسلیم کیا کہ لندن کے فلیٹس انکی ملکیت ہیں۔ پانامہ لیکس کی روشنی میں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے پانچ محترم باوقار، نیک نام اور سینئر ترین جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے شریف خاندان کی تین نسلوں کے اثاثوں کا جائزہ لینے کیلئے طویل، صبر آزما اور شفاف سماعت کی جس کے دوران فریقین کو اپنا مؤقف ثابت کرنے کیلئے پورا موقع دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے بنچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جس کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ کالم لکھنے سے قبل ایک سابق چیف جسٹس پاکستان ، ایک سابق سپیکر قومی اسمبلی چند ریٹائرڈ ججوں اور پاکستان کے پانچ سینئر ماہرین قانون سے مشاورت کی گئی۔ اکثریت کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیگی جو سپریم کورٹ کے ایک یا دو ججوں پر مشتمل ہو گا اور سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی گئی دستاویزات کا ٹرائیل کورٹ کی طرح جائزہ لیکر اور شہادتیں طلب کر کے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کریگا جس کی روشنی میں حتمی فیصلہ سنایا جائیگا۔ اس کمیشن کا بڑا مقصد شریف خاندان کو ایک موقع فراہم کرنا ہے تا کہ وہ منی ٹریل پیش کر کے اپنی صفائی پیش کر سکیں اور ثابت کریں کہ لندن فلیٹس جائز اور قانونی ہیں اور ان کو خریدنے کیلئے منی لانڈرنگ نہیں کی گئی۔332929_45354325

پاکستان کا کوئی ماہر قانون اس امکان کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ پانامہ لیکس کے مقدمے میں وزیراعظم کو کلین چٹ مل جائیگی۔ ایک ماہر قانون کی رائے ہے کہ اگر کمیشن تشکیل دیا گیا تو کمیشن کی تحقیقات مکمل ہونے تک وزیراعظم کے اختیارات اس حد تک معطل کر دئیے جائینگے کہ وہ تحقیقاتی اداروں پر دبائو نہ ڈال سکیں۔ ایک سینئر بیرسٹر نے بڑے وثوق کے ساتھ کہا کہ سپریم کورٹ کے بنچ کا فیصلہ شریفانہ نہیں بلکہ جارحانہ ہو گا۔ ایک نامور ریٹائرڈ جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کو پانامہ کیس کی سماعت ہی نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ پانامہ لیکس کے بعد کسی تھانے میں قومی خزانے کے غبن کی ایف آئی آر درج کرا دی جاتی۔ ماہرین قانون ججوں کے ان ریمارکس کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں کہ فیصلہ تاریخ ساز ہو گا اور بیس سال گزرنے کے بعد بھی اس فیصلے کی اہمیت، انفرادیت، جامعیت، شفافیت اور آئینیت کو تسلیم کیا جائیگا۔

ایک دانا اور بینا ماہر قانون کے مطابق پانامہ لیکس کے فیصلے میں قرآنی آیات، احادیث، خلیل جبران اور عالمی شہرت یافتہ ججوں کے فیصلوں کے حوالے شامل ہوں گے۔ میڈیا کیلئے یہ فیصلہ دلچسپ ہو گا اور عوام اسے پڑھ کر لطف اندوز ہونگے۔ اس فیصلے میں ایسی آبزرویشن شامل ہوں گی جن سے پی پی پی اور تحریک انصاف سیاسی فائدہ اُٹھا سکیں گی۔ پانامہ لیکس کی سماعت کے دوران جو دلیرانہ ریمارکس منظر عام پر آئے انکی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ’’منیر کورٹ‘‘، ’’ڈوگر کورٹ‘‘، ’’شریف کورٹ‘‘ کا دور ختم ہوا اور عدلیہ اب ’’پاکستان کورٹ‘‘ کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اقلیت کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کے جج طویل سماعت کے بعد فیصلے کے بارے میں ذہن بنا چکے ہیں اور سچ تک پہنچ چکے ہیں۔ شریف خاندان کے متضاد بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں اس لیے فیصلے میں ڈیکلریشن شامل ہو گا۔ الیکشن کمیشن پاکستان کو عدلیہ کے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم پاکستان کیخلاف آئین کے آرٹیکل نمبر 62 کے تحت کاروائی کر کے نااہلی کا فیصلہ کریگا۔

ایک جج نے سماعت کے دوران آبزرویشن دی تھی کہ ’’نیب کی وفات ہو گئی‘‘۔ اس آبزرویشن کی روشنی میں توقع کی جاتی ہے کہ تفصیلی فیصلے میں نیب کی فاتحہ پڑھی جائیگی۔ ایک محترم جج نے بے ساختہ کہا تھا ’’وہ بھی کم بخت تیرا چاہنے والا نکلا‘‘ اُمید کی جا سکتی ہے کہ فیصلہ متفقہ ہو گا اور سب محترم جج پاکستان، آئین اور ریاست کے چاہنے والے خوش بخت ثابت ہوں گے۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ امیر ترین جنگجو سیاستدان ہیں مگر ریاست کے ادارے بشمول عدلیہ چوں کہ مضبوط ہیں اس لیے وہ صدر کے بجائے ثابت قدمی کے ساتھ امریکی ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔ افسوس پاکستان کے ریاستی اداروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے ’’یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا‘‘۔ پی پی پی کے حامی بے چینی کے ساتھ پانامہ لیکس کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

عدلیہ کی افسوسناک تاریخ کی روشنی میں انکے تحفظات بے جا نہیں ہیں۔ پی پی پی کے بانی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے شکستہ پاکستان کا وقار اور شکست خوردہ فوج کا اعتماد بحال کیا۔ قوم کو مایوسی سے باہر نکالا، اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کر کے عالم اسلام کو متحد کیا۔ قوم کو پہلا متفقہ آئین دیا۔ عوام کی آزادی اور ملکی سلامتی کیلئے ایٹمی صلاحیت حاصل کی مگر سپریم کورٹ کے ججوں نے ان کا ’’عدالتی قتل‘‘ کر دیا۔ جب میاں نواز شریف پر طیارہ ہائی جیکنگ اور دو سو سے زیادہ مسافروں کو موت سے ہمکنار کرنے کا سنگین الزام تھا انہوں نے شاہراہیں اور موٹرویز کی تعمیر کے علاوہ ملک کی کوئی قابل ذکر خدمت نہ کی تھی مگر امریکہ اور سعودی عرب ان کو وی آئی پی طیارے پر پاکستان سے جدہ پیلس لے گئے اور سپریم کورٹ نے آنکھیں بند رکھیں۔ پانامہ لیکس میں وزیراعظم کی جان کو کوئی خطرہ نہیں وہ صرف نا اہل ہو سکتے ہیں۔ وہ اپنا جانشین کو خود نامزد کرینگے اور آصف زرداری کی طرح سیاسی اور حکومتی طاقت انکے ہاتھ میں رہے گی۔ البتہ اگلے انتخابات میں ان کو سیاسی نقصان اُٹھانا پڑیگا۔ وزیراعظم کے زیر احتساب آنے کے بعد احتساب کا بند دروازہ کھل جائیگا اور پاکستان کے بڑے لٹیرے احتساب کے شکنجے میں آ جائینگے جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے آب حیات ثابت ہو گا۔ مایوس اور بے حس عوام میں حوصلے اور اُمید کی نئی کرن پیدا ہوگی۔

سماعت کے دوران سامنے آنیوالے دلائل اور فاضل جج حضرات کے ریمارکس کے بعد بھی فیصلہ وزیراعظم کے حق میں آنے سے پورے ملک میں مایوسی، نااُمیدی اور بداعتمادی کی لہر پھیل جائے گی جو ریاست کیلئے زہر قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔ علیحدگی پسند، پاکستان دشمن خفیہ ایجنسیاں اور دہشت گرد اس نوعیت کے فیصلے کو اپنے مذموم مقاصد کی خاطر ہتھیار کے طور پر استعمال کرینگے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد خان نے کرپشن کے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کرپشن کی وجہ سے ملکی حالت مویشیوں کے باڑے جیسی ہو چکی ہے۔ ماضی میں جس فرد پر بدعنوانی کا الزام ہوتا اسکے بیٹے اور بیٹی کو کوئی رشتہ نہیں دیتا تھا۔

محترم جسٹس دوست محمد خان ایک کلرک احتشام الحق کی اپیل کی سماعت کر رہے تھے جسے ایک لاکھ 94 ہزار کی کرپشن کرنے کے الزام میں چار سال قید کی سزا ہو چکی تھی جس میں سے وہ دو سال قید کاٹ چکا تھا اور باقی سزا کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ سے التجا کر رہا تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ چھوٹے کرپٹ جیلوں میں بند ہیں جبکہ مہا کرپٹ بڑے منصبوں پر فائز ہیں۔ اب شاید عدل و انصاف کا نیا دور شروع ہونیوالا ہے۔ آئین اور قانون سب پر مساوی طور پر نافذ ہو گا اور کرپشن کرنیوالے بڑے لوگ بھی جیلوں میں بند نظر آئینگے۔ کرپشن کا زہر جسد ریاست میں پھیل چکا ہے جسے بچانے کیلئے آئینی اور قانونی آپریشن لازم ہے۔ رد کرپشن آپریشن کے بغیر ردالفساد آپریشن کی کامیابی ممکن نہیں ہو گی۔

پانامہ لیکس کی سماعت کے دوران وزیراعظم پاکستان کی اخلاقی ساکھ مجروح ہو چکی۔ فیصلہ آنے کے بعد اس پر شدید ضرب لگے گی اور حکومت مخالف جماعتیں وزیراعظم کے استعفے کیلئے تحریک چلائیں گی جو دراصل انتخابی مہم کا آغاز ہو گی۔ قومی اتحاد کی پرجوش تحریک کے دوران بھٹو نے ایک اعلیٰ سطحی حکومتی اجلاس میں اپنی عینک غصے کے ساتھ میز پر پھینکتے ہوئے کہا تم لوگوں نے میری اخلاقی ساکھ مجروح کر دی اگر وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کو بلا مقابلہ منتخب نہ کرایا جاتا تو قومی اتحاد کی تحریک کبھی کامیاب نہ ہوتی۔ افسوس موجودہ وزیراعظم اخلاقی ساکھ کو اہمیت دینے کیلئے ہی تیار نہیں ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کے ہاتھ میں نئے انتخابات کرانے کا ایک آئینی پتا باقی ہے کیا وہ یہ پتا مناسب وقت پر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاک فوج اور عدلیہ بہتر کارکردگی کی بناء پر ریاست پر کنٹرول بڑھا چکے ہیں جبکہ پارلیمنٹ اور حکومت بیڈ گورنینس کی وجہ سے اپنی رٹ محدود کربیٹھے ہیں۔

قیوم نظامی

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کی سماعت

پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پاناما لیکس پر میڈیا ذمے داری کا مظاہرہ کرے۔ وزیراعظم نوازشریف ، ان کے بچوں کے خلاف منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری کے الزامات اور پاناما لیکس میں سامنے آنے والی معلومات کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ کررہا ہے۔ حامد خان کے کیس لڑنے سے انکار کے بعد تحریک انصاف کی نئی لیگل ٹیم عدالت میں پیش ہوئی۔

دوران سماعت عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کےصاحبزادے کا این ٹی این ہی نہیں ہے،مریم نواز وزیر اعظم کی زیر کفالت ہیں اور وہ لندن فلیٹس کی بینی فشل اونر ہیں، وزیر اعظم کو یہ بات گوشواروں میں پیش کرنی چاہئے تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ قطری شہزادے کا خط وزیر اعظم کے موقف سے مختلف ہے، نیب اور دیگر ادارے اپنا کام کرنے میں ناکام رہے، نیب وزیر اعظم کو بچانے میں لگا رہا، نیب چیئرمین کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے،اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کیس میں اعترافی بیان دیا۔

نعیم بخاری نے گزشتہ سماعت پر ہونے والی تلخ کلامی پر معافی طلب کی اور کہا کہ انہیں اس عدالت پر مکمل یقین ہے۔ طارق اسد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ میڈیا میں حامد خان سے متعلق بہت باتیں آئی ہیں،تبصروں سے کیس پر اثر پڑے گا، میڈیا کو کیس پر تبصروں سے روکا جائے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان بہت سینئر اور اہل قانون دان ہیں، قانون پرکتب لکھ چکے ہیں، حامد خان سے متعلق میڈیا میں باتوں سے ان کے قد کاٹھ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ پاناما لیکس پر میڈیا ذمے داری کا مظاہرہ کرے۔ دوران سماعت جماعت اسلامی کے وکیل اسد منظور بٹ نےدرخواست کی کہ عدالت فریقین کو حکم دے، وہ کیس کو مختصر کریں ۔

 

 

 

سراج الحق اور عمران خان کی منزل ایک راستے فرق ہیں

امیر جماعت اسلامی سراج الحق ایک مکمل جمہوری جماعت کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے کسی قانون وراثت یا کسی بیک چینل ڈپلومیسی سے جماعت اسلامی کی سربراہی حاصل نہیں کی ہے۔ بلکہ انہوں نے ووٹ کی طاقت سے سربراہی حا صل کی ہے۔ اس لئے انہیں ووٹ کی طاقت اور جمہوریت کی قدر و قیمت اور اس کی اہمیت کا انداذہ ہے۔ شاید اسی لئے وہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام آباد میں جاری دنگل سے پورے ملک کے عوام پریشان ہیں اس کے حل کی چابی سپریم کورٹ کے پاس ہے ۔ پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ کو کسی نظریہ ضرورت کی ضرورت نہیں،سپریم کورٹ جرأت سے فیصلہ کرے ،قوم عدلیہ کے ساتھ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران عوام کے کندھوں پر سوار ہوکر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں ،کبھی ایک مظلوم اور دوسرا ظالم اور پھر پہلا ظالم اور دوسرا مظلوم بن جاتا ہے اور مصنوعی لڑائی لڑکر عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ یہ ایک ہی لٹیرا کلب کے ممبر ز ہیں ۔

سراج الحق نے سپریم کورٹ میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف پانامہ کے حوالہ سے درخواست دائر کی ہوئی ہے۔ لیکن وہ سپریم کورٹ پر چڑھائی نہیں کر رہے۔ وہ اسلام آباد پر چڑھائی نہیں کر رہے۔ وہ کرپشن کے خلاف عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے شہر شہر جا رہے ہیں لیکن موجودہ حکومت کو کسی احتجاج کے نتیجے میں ختم کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ سراج الحق اداروں کی کارکردگی سے خوش بھی نہیں ہیں لیکن وہ اداروں کو پامال کرنے کی مہم جوئی بھی نہیں کر رہے ہیں۔ ایک تاثر یہ ہے کہ سراج الحق میدان میں ہیں بھی اور میدان میں نہیں بھی ہیں۔ وہ موجودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو نکالنا بھی چاہتے ہیں لیکن نکالنے کے لئے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کو بھی تیار نہیں۔ وہ سپریم کورٹ میں پا نامہ کے حوالہ سے درخواست بھی دائر کر رہے ہیں لیکن سپریم کورٹ کو برا بھلا بھی نہیں کہہ رہے۔ بلکہ سب کو کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا انتظار کیا جائے۔ اس طرح جو لوگ حکومت اور میاں نواز شریف کو رات سے پہلے گھر بھیجنے کے خواہاں ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ سراج الحق سامنے آبھی نہیں رہے اور صاف چھپ بھی نہیں رہے ۔

لیکن میں سمجھ رہا ہوں کہ سراج الحق ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد کی سیاست کر رہے ہیں۔ وہ حکمرانوں کو اقتدار سے نکالنے کی جدو جہد بھی کر رہے ہیں لیکن انہیں خود اقتدار میں آنے کی جلدی نہیں ہے۔ وہ کرپشن کے خلاف مہم بھی چلا رہے ہیں لیکن نظام جمہوریت کو بھی بچا رہے ہیں۔ سراج الحق کی فوج کے حوالہ سے پالیسی بھی واضح ہے وہ کہتے ہیں ۔ فوج کو اپنے مقاصد کیلئے سیاست میں گھسیٹنے والے ملک و قوم سے مخلص ہیں نہ فوج سے ۔پاکستان اور فوج دونوں ضروری ہیں ،اس ادارے کو سرحدوں کی حفاظت سے ہٹا کر کسی دوسرے مقصد کیلئے استعمال کرنے کی قوم اجازت نہیں دے گی۔ میں حیران ہوں کہ سراج الحق کو سمجھ نہیں آرہی کہ ان کی فوج کے حوالہ سے یہ پالیسی نہ فوج کو پسند ہے اور نہ ہی ان کو پسند ہے کہ جو فوج کے ذریعے موجودہ حکمرانوں کو اقتدار سے نکالنا چاہتے ہیں۔ سراج الحق بار بار چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھو۔ لیکن ان کی کوئی نہیں سن رہا۔ نہ حکومت ان کی سن رہی ہے۔ اور نہ ہی وہ جو حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے ہر حد سے گزر جانے کے لئے بے تاب ہیں۔

سراج الحق کا دعویٰ ہے کہ ملک کو دیانتدار قیادت صرف جماعت اسلامی دے سکتی ہے ۔ اگر میں ملک سے کرپشن کے خاتمہ کیلئے نکلا ہوں تو میرے دائیں بائیں کوئی آف شور کمپنی کا مالک ،شوگر مافیا کا ڈان ،قرضے ہڑپ کرنے والا یا سمگلر نہیں قوم سے اپنی امانت ودیانت کا لوہا منوانے والے کھڑے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مغرب اور امریکہ کے ذہنی غلام مسجد و محراب اور قرآن و سنت کے احکامات کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں جبکہ ملک کے اسی فیصد عوام ملک میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں ۔ سراج الحق اور عمران خان ایک ہی بات کہہ رہے ہیں۔ لیکن ان کے لہجے اور انداز میں فرق ہے۔ دونوں کی سیاست کا محور کرپشن ہے۔ دونوں پانامہ میں میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نکالنے کی جدو جہد کر رہے ہیں۔ لیکن فرق صاف ظاہر ہے۔ایک ہوش قائم رکھنے کی بات کر رہا ہے۔ دوسرا جوش میں سب کچھ تباہ کرنے کا پیغام دے رہا ہے۔ لیکن شاید ہمارے ملک میں سلطان راہی سٹائل پسند کیا جا تا ہے۔ لوگ ایسے ہیرو کو پسند کرتے ہیں جو سب کچھ نیست و نابود کر دے۔

میں کنفیوژ ہوں کہ سراج الحق سپریم کورٹ پر یقین رکھنے کا پیغام دے رہے ہیں۔ لیکن عمران خان سپریم کورٹ سے بالا بالا ہی گیم کو ختم کرنے کا پیغام دے رہے ہیں۔ سراج الحق گیم کو پانامہ تک محدود رکھنے کی بات کر رہے ہیں عمران خان اسی میں سکیورٹی مسائل کو بھی ڈال رہے ہیں۔ وہ فوج کو اپنے ساتھ نتھی کر رہے ہیں۔ سراج الحق فوج سے فاصلہ برقرار رکھ رہے ہیں۔ لیکن یہ فرق شاید ابھی سیاسی شعور کے لئے مشکل ہے۔ عوام کو یہ فرق سمجھ نہیں آرہا۔ لیکن سراج الحق کا راستہ مشکل تو ہے لیکن صحیح راستہ یہی ہے۔ اور انہیں فخر ہونا چاہئے کہ وہ صحیح راستہ پر چل رہے ہیں۔

مزمل سہروردی