یہاں استعفیٰ دیا نہیں لیا جاتا ہے

پاکستان میں جب کوئی جماعت حزبِ اختلاف ہوتی ہے تو اسے فوراً سیاسی اخلاقیات کا بھولا ہوا سبق یاد آنے لگتا ہے اور وہ کرپشن، نااہلی اور بد عنوانی کے خلاف سینہ سپر ہو جاتی ہے۔ حزبِ اختلاف بات بات پر صدر سے تھانے دار تک ہر ایک سے استعفی مانگتی پھرتی ہے اور جب خود اقتدار میں آتی ہے تو سیاسی اخلاقیات بھول بھال کر ہر بد انتظامی اور کرپشن کے بارے میں وہی تاویلات پیش کرنا شروع کر دیتی ہے جو اس کی پیشرو حکومت پیش کرتی تھی اور پیشرو حکومت حزبِ اختلاف میں آ کر اسی سیاسی اخلاقیات کے منبر پر بیٹھ جاتی ہے جو گذشتہ حزبِ اختلاف کے حزبِ اقتدار بننے سے خالی ہوا تھا۔

یہ اخلاقی و تاویلاتی میوزیکل چیئر پچھلے 70 برس سے جاری ہے۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی منتخب یا سرکاری عہدیدار نے الزامات ثابت ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز پر استعفی دیا ہوتا آنکہ پشت پر قانونی و سیاسی لات نہ پڑے۔ اگر بہت دور چلے گئے تو بات بھی بہت دور نکل جائے گی۔ فوری یادداشت کا سہارا لیا جائے تو سابق وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کا دور یاد آتا ہے جب وزیرِ مواصلات پرنس محی الدین، وزیرِ بلدیات انور عزیز چوہدری اور پیداوار کے وزیرِ مملکت اسلام الدین شیخ کو بدعنوانی، غفلت یا خورد برد کے الزامات لگتے ہی وزیرِ اعظم نے خود برطرف کیا۔ وہ الگ بات کہ چھان بین کے نتیجے میں بعد ازاں صرف اسلام الدین شیخ پر ہی باضابطہ فردِ جرم عائد اور ثابت ہوئی مگر جونیجو کی اصول پسندی خود ان کے کسی کام نہ آ سکی۔

سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں چلتا کیا۔ مگر سنہ 2010 میں خود یوسف رضا گیلانی کو اپنے تین وزرا بدعنوانی یا ڈسپلن کی خلاف ورزی پر برطرف کرنا پڑے۔ وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار عبدالقیوم جتوئی نے اپنی ہی حکومت پر کرپشن اور پھر اس کرپشن میں حصہ داری نہ ملنے کا شکوہ کیا لہذا انھیں جانا ہی تھا۔ وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے اپنے ہی ہم کابینہ وزیرِ مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر حاجیوں کو لوٹنے اور حج کوٹے کی فروخت کا الزام لگایا تو یوسف رضا گیلانی نے دونوں وزرا کو کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا۔

اعظم سواتی جمیعت علماِ اسلام کے کوٹے پر وزیر تھے لہذا ان کی برطرفی پر مولانا فضل الرحمان احتجاجاً حکومت سے الگ ہو گئے۔ حامد سعید کاظمی کو کرپشن ثابت ہونے پر جیل جانا پڑا جہاں سے وہ ابھی پچھلے ماہ ہی رہا ہوئے ہیں۔ جہاں تک شریف دور کا معاملہ ہے توسنہ 2014 میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ہاتھوں پاکستان عوامی تحریک کے دس حامیوں کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ روکنے کے لیے وزیرِ اعلی شہباز شریف نے کچھ عرصے کے لیے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ سے قلمدان واپس لے لیا اور پھر موقع محل دیکھ کر واپس بھی کر دیا۔

جب وزیرِ تعلیم و سیاحت و امورِ نوجوانان رانا مشہود احمد خان کی ایک وڈیو سامنے آئی جس میں وہ رشوت لے رہے ہیں اور اسی دوران 20 ارب روپے کے ایک سکینڈل میں ملوث ہونے کے شبہے میں نیب نے رانا صاحب کے خلاف چھان بین شروع کردی تو وزیرِ اعلی شہباز شریف اور پارٹی کے ‘اخلاقی دباؤ’ کا احترام کرتے ہوئے رانا مشہود نے امورِ نوجوانان اور سیاحت کا قلمدان تو چھوڑ دیا مگر تعلیم کی وزارت پھر بھی رکھی۔ کچھ عرصے بعد رانا صاحب کو چھان بین کے نتیجے میں کلین چٹ مل گئی اورایک بار پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔ سنہ 2015 میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کو جب تک الیکشن کمیشن نے انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات کے نتیجے میں نشست سے محروم نہیں کر دیا تب تک انھوں نے بھی اخلاقاً پہل نہیں کی۔ اس کے بعد بھاری اکثریت سے دوبارہ انتخاب جیت کر دوبارہ اسپیکر کی کرسی سنبھال لی اور دوبارہ عمران خان کو غصہ دلایا۔

جب بھی ملک میں دہشت گردی کی بڑی واردات کے بعد حزبِ اختلاف سدا بہار وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے تو چوہدری صاحب اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اتنے جوابی وار کرتے ہیں کہ حزبِ اختلاف اگلے ایک ہفتے تک اپنے زخم سہلاتی رہتی ہے۔ چوہدری صاحب نے تو امن و امان کی ابتری اور کوئٹہ سول سپتال میں 50 سے زائد وکلا کی ہلاکت کے اسباب کی چھان بین کے لیے قائم سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کمیشن کی سفارشات کو ‘لیرو لیر’ کر دیا تو حزبِ اختلاف کیا بیچتی ہے۔ سنا ہے ایک آدھ بار چوہدری صاحب نے وزیرِ اعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینے کی بھی پیش کش کی مگر میاں صاحب نے ان کی یہ درخواست سختی سے مسترد کر دی۔ میاں صاحب گرم و سرد چشیدہ ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ کابینہ میں اس طرح کی بدعت اگر شروع ہو گئی تو بات جانے کہاں تک پہنچے۔

خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت نے نومبر سنہ 2013 میں گڈ گورننس اور شفاف سیاست کی خاطر دو صوبائی وزرا کو بدعنوانی اور ہیرا پھیری کے الزام میں کابینہ سے چلتا کر دیا مگر دونوں کا تعلق اتفاق سے اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی سے تھا۔ خود پی ٹی آئی کے وزیرِ مواصلات یوسف ایوب تب تک برطرف نہیں ہوئے جب تک وہ جعلی ڈگری کیس میں سپریم کورٹ میں آخری اپیل نہیں ہار گئے۔ البتہ خود تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان انتخابی دھاندلی چھان بین کمیشن میں سنہ 2013 کے انتخابات میں 35 پنکچر کیس ہارنے کے باوجود قومی اسمبلی کی نشست پر نئے عزم اور دلائل کے ساتھ براجمان رہے اور تقریریاتی کنٹینر بھی ساتھ میں رکھا۔

جعلی ڈگری سے یاد آیا کہ جب سنہ 2008 میں مظفر گڑھ سے رکنِ قومی اسمبلی بننے والے جمشید دستی کو جعلی ڈگری رکھنے کی پاداش میں نا اہل قرار دے کر نشست سے محروم کر دیا گیا تو ضمنی انتخاب میں وہ پہلے سے بھی زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی موجودہ نو سالہ حکومت کے دوران جہاں بہت کچھ ہوا وہاں یہ بھی ہوا کہ ایک وزیرِ باتدبیر شرجیل انعام میمن جب اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات سے گھبرا کر دوبئی ہجرت کر گئے تو وزارتی قلمدان بھی ساتھ لے گئے اور کئی ہفتوں بعد واپس کرنے پر رضامند ہوئے۔ پچھلے ماہ جب وہ اپنے خلاف ‘جھوٹے مقدمات’ کا سامنا کرنے کے لیے ہائی کورٹ کی پیشگی ضمانت سے مسلح ہو کر اسلام آباد اترے اور پھر فاتحانہ حیدر آباد لوٹے تو جیالوں نے صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے شرجیل میمن کی بے لوث خدمات پر گولڈن تاجپوشی کی۔

مگر ایسا نہیں کہ کوئی ضمیر کی آواز ہی نہیں سنتا۔ سنہ 1983 میں جب ضیا حکومت کے وزیرِ بلدیات سید فخر امام ضیا حکومت کے ہی ایک حامی یوسف رضا گیلانی سے ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کی چیئر مین شپ کا انتخاب ہار گئے تو انھوں نے وفاقی وزارت سے استعفی دے دیا۔ فخر امام کے اس قدم کو سب ہی نے سراہا اور بعد ازاں غیر جماعتی قومی اسمبلی کے پہلے سپیکر منتخب ہوئے۔ اسی طرح اگست سنہ 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یہ عندیہ ملنے پر کہ وہ دوسرا صدارتی انتخاب بھی وردی میں لڑیں گے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت اسحاق خاکوانی نے اپنے ضمیر کی سنتے ہوئے وزارت سے استعفی دے دیا۔ عدلیہ میں ایسے کئی جج ہیں جنھوں نے ضیا الحق اور پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم ناموں کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور گھر بیٹھ گئے۔ مگر اب تک ایک ہی ایسی مثال سامنے آئی ہے کہ اعلیٰ عدالت کے کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن کا ریفرنس دائر ہو اور وہ سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی اپنا عہدہ چھوڑ دے۔

یہ واقعہ اس سال فروری میں پیش آیا جب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظہر اقبال سندھو نے سماعت کا سامنا کرنے سے پہلے ہی جج کی کرسی سے استعفی دے دیا۔ جہاں تک فوج کا معاملہ ہے تو میجر جنرل سکندر مرزا نے عہدہِ صدارت سے تب رضاکارانہ استعفی دیا جب جنرل ایوب خان کے ساتھی جنرلوں نے ان کے سامنے ایک ٹائپ شدہ کاغذ اور اس پر ایک پستول بھی بطور پیپر ویٹ رکھ دیا۔

ایوب خان نے بھی 25 مارچ 1969 کو عہدۂ صدارت رضاکارانہ طور پر چھوڑا جب ان کے سپہ سالار جنرل یحییٰ خان نے آہستگی سے کہا ‘سر ہم آپ کو بہت مس کریں گے۔’ انہی یحییٰ خان نے 20 دسمبر سنہ 1971 کو ملک ٹوٹنے کے چار دن بعد اپنی مرضی سے استعفی دیا کیونکہ انھیں بتا دیا گیا تھا کہ بطور صدر اپنی مرضی استعمال کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔

18 اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد مطمئن رخصت ہوئے حالانکہ انھوں نے اپنے پیشرو رفیق تارڑ کو یہ اعزاز نہیں بخشا تھا۔ فوج میں صرف ایک مثال ایسی ہے جب بری فوج کے ایک سربراہ نے دھڑن تختہ کیے بغیر اپنے عہدے سے قبل از اختتامِ مدت استعفی دیا ہو۔ وہ تھے جنرل جہانگیر کرامت ۔ جب ان کی نواز شریف کی دوسری حکومت سے نہیں بنی تو پنجہ آزمائی کے بجائے کنارہ کش ہو گئے۔ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید 12 اکتوبر سنہ 1999 بھی نہ ہوتا۔

اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا. جہاں تک کرپشن کا معاملہ ہے تو فوج میں کسی نے ازخود استعفی نہیں دیا جب تک برطرف نہیں کیا گیا یا آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلا۔ بھلے وہ این ایل سی سکینڈل میں ماخوز لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل مظفر اور میجر جنرل خالد طاہر اختر ہوں یا ایف سی بلوچستان کے سابق کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل عبید اللہ خٹک، میجر جنرل اعجاز شاہد بریگیڈئیر اسد شہزاد، سیف اللہ، عامر اور کرنل حیدر ہوں یا پھر بحریہ کے سابق سربراہ ایڈ مرل منصور الحق ہوں جو گرفتاری کے بعد پلی بارگین کے تحت 7.5 ملین ڈالر نیب میں جمع کرا کے بری ہوئے۔

واپڈا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر نے گذشتہ برس خود پاکستان آ کر پلی بارگین کے تحت کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے 200 ملین روپے واپس کر کے کلین چٹ حاصل کر لی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان جیسی ترقی پذیر جمہوریتوں میں گڈ گورننس ہر شخص اور ادارہ چاہتا ہے مگر ضمیر کی گورنننس کا عادی ہونے کی عادت پڑتے پڑتے ہی پڑے گی۔ تب تک اپنے علاوہ سب کا احتساب جاری رہے گا۔

وسعت اللہ خان

تجزیہ کار

Advertisements

پانامہ کیس : ’تحقیقاتی ٹیموں کا راستہ ایک بند گلی‘

’نواز شریف ایک جائز طور پر منتخب وزیر اعظم ہیں لیکن اب تک وہ قوم کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے ہیں کہ انھوں نے اور ان کے خاندان نے جو دولت جمع کی ہے وہ جائز طریقے سے کمائی ہوئی ہے۔‘ پاکستان کے سب سے مقتدر اخبار روزنامہ ڈان نے پاناما پیپرز پر سپریم کورٹ کے منقسم فیصلے پر اداریے کا اختتام مندرجہ بالا سطروں پر کیا ہے۔ پاناما پیپرز کے فیصلے پر جمعے کو پاکستان کے تمام اخبارات نے ادارتی صفحات پر عدالت عالیہ کے اس ‘تاریخی فیصلے’ پر اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے ایک اور اخبار ‘ڈیلی ایکسپریس’ نے اس موضوع پر اپنے اداریے کی ابتدائی سطروں میں کہا ہے کہ شریف فیملی کے علاوہ شاید چند ہی ایسے لوگ ہوں گے جو سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر شاد ہوں گے۔ انگریزی زبان کے ایک اور اخبار ’دی نیشن‘ نے اپنے اداریے کی ابتدا ہی میں یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک ایسا فیصلہ نہیں تھا جو 20 برس تک یاد رکھا جائے اور نہ ہی اس فیصلے نے وزیر اعظم کو الزامات سے بری کیا ہے۔ انگریزی زبان کے لاہور سے شائع ہونے والے اخبار ‘پاکستان ٹوڈے’ نے ‘منقسم فیصلے کے مضمرات’ کے عنوان سے اپنے ادارے کی پہلی سطر میں لکھا کہ جو فیصلہ تاریخی کہہ کر پیش کیا گیا اس نے بہت سے لوگوں کو حیران اور پریشان کر دیا ہے۔ تمام بڑے اخبارات اس بات پر متفق ہیں کہ یہ فیصلہ حکمران خاندان کے لیے خوشیاں منانے کا کوئی جواز فراہم نہیں کرتا اور ان پانچ ججوں نے وزیر اعظم کو کرپشن کے سنگین الزامات سے مکمل طور پر پاک نہیں کیا ہے۔

روزنامہ ڈان نے مشترکہ تحقیقاتی کمیشن میں فوج کے نمائندوں کو شامل کرنے کے اہم نکتے پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ روزنامہ ڈان کا کہنا ہے کہ ملٹری انٹیلیجنس اور پاکستان فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے نمائندوں کو اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا جانا ایک لحاظ سے سویلین اداروں پر عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے سویلین امور میں فوج کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے اور ہونا تو یہ چاہیے کہ سویلین امور سویلین ادارے ہی حل کریں۔

’مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل میں فوج کے نمائندوں کو شامل کیا جانا خاص طور پر ایک وزیر اعظم کے خلاف مالی اور قانونی امور کی تحقیقات کے لیے ایک غیر معمولی قدم ہے اور ایک ایسی مثال ہے جو کہ قائم نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘ اخبار کہتا ہے کہ ماضی میں سیاسی طور پر کشیدہ ماحول میں بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کا خاص طور پر ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے اور یہ راستہ ایک بند گلی میں ختم ہوتا ہے۔

اردو زبان کا روزنامہ جنگ اپنے اداریے کے آخر میں لکھتا ہے کہ یہ فیصلہ اس اعتبار سے یقیناً تاریخ ساز ہے کہ پاکستان میں بھی ملک کے سب سے بااختیار منصب پر فائز شخصیت کو ملک کے تحقیقاتی اداروں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا جس سے عدل و انصاف کی بالادستی کی نئی اور شاندار روایت قائم ہو گی۔ روزنامہ ڈیلی ایکسپریس نے اپنے اداریے کا اختتام بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس خزانے کے اصل ماخذ کا پتا چلنا ابھی باقی ہے لیکن اس ڈارمے کے ڈراپ سین کے لیے شاید فیوڈر ڈسٹووسکی کے مشہور ناول ’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘ سے کچھ نکالنا پڑے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

کیا میڈیا کچھ چھپا رہا ہے؟

  جب میں کہتا تھا کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول نہ کیا گیا تو شرانگیزی، فتنہ و فساد بڑھے گا تو free speech اور آزادی رائے کے چیمپئین مجھے کوستے تھے اور کہتے تھے کہ کسی کی سوچ پر تالے کیسے ڈالے جا سکتے ہیں۔ کہا جاتا تھا کہ اگر mainstream میڈیا میں کھل کر بات نہیں ہو سکتی تو کم از کم سوشل میڈیا پر تو کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی جانی چاہیے۔ مردان واقعہ اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ایم بی بی ایس کی طالبہ (جس نے داعش میں شمولیت اختیار کر کے خودکش حملہ کرنا تھا) کے پکڑے جانے کے بعد کیے گئے انکشافات نے آزادی رائے کے چیمپئنز کو عجیب مخمسہ میں ڈال دیا۔ ان بچاروں کو سمجھ نہیں آتی کیا کریں۔ لے دے کر اب سارا ملبہ مرحوم ضیاء الحق پر ڈال کر ہی اپنا دل خوش کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں اس سے دوسروں کو بے وقوف بھی بنایا جا سکتا ہے۔

لیکن اب free speech اور free thought کی بات کرنے والے بھی میڈیا اور سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ابھی دو دن پہلے امریکا میں ایک شخص نے اپنے کسی عزیز کو قتل کیا اُس کی وڈیو بنائی اور اُسے فیس بک پر لوڈ کر دیا۔ اس واقعہ پر امریکا و یورپ میں شور اٹھا اور متعلقہ وڈیو کو بلاک کر دیا گیا جبکہ فیس بک کی انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا کہ فیس بک کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کچھ نہ کچھ اب کرنا ہو گا۔ افسوس کہ یہی امریکا اور یہی یورپ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام مخالف فتنہ انگیزی جو کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بن چکی ہے اُسے آزادی رائے اور free speech کے بہانے تحفظ دیتے ہیں۔ البتہ آجکل امریکا و یورپ کی اس نام نہاد آزادی رائے سے مرعوب ہمارے کچھ دیسی لبرل کنفیوژڈ نظر آتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ hate speech پر پابندی لگائو تو کوئی مطالبہ کر رہا ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے توہین مذہب کے جھوٹے الزامات لگانے کے رجحانات کو نہ صرف سختی سے روکا جائے بلکہ ایسا کرنے والوں کو بھی کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔

جب حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی طرف سے سوشل میڈیا کو توہین مذہب سے متعلق مواد سے پاک کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے تو اس مخصوص طبقہ نے ان اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے یا تو مکمل خاموشی اختیار کی یا حوصلہ شکنی کی باتیں کی۔ حالیہ واقعات کے بعد اب یہی طبقہ میڈیا اور سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی سے تنگ دکھائی دے رہا ہے اور اس فکر میں لاحق ہے کہ نوجوانوں کو غلط راستے پر چلنے سے کیسے روکا جائے۔ سوشل میڈیا کی فتنہ انگیزی اور انتشار کی تو کوئی حد ہی نہیں ہمارے کچھ لبرل اور سیکولر دوست میڈیا اور سوشل میڈیا کی فتنہ انگیزی کے معاملہ میں selective ہیں۔ لیکن یہ معاملہ selective approach سے حل نہیں ہو گا۔

اگر میڈیا اور سوشل میڈیا کو فتنہ بازی، شر انگیزی سے روکنا ہے تو پھر اس کے لیے ان ذرائع ابلاغ کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ریاست کو ضروری اقدامات کرنے ہوں گے جس کا ساتھ ہم سب کو دینا ہو گا۔ ایک مربوط لائحہ عمل کے تحت سختی سے توہین مذہب سے متعلقہ ہر قسم کے مواد کو روکنا ہو گا کیوں کہ گستاخانہ مواد فتنہ اور شر کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اسی طرح توہین مذہب کے جھوٹے الزامات کے لیے بھی میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال سے سختی سے روکا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسا مواد جو ہمارے بچوں کو دہشتگردوں کی طرف راغب کرے یا اُن کے اخلاق، کردار کو تباہ کرے اور انہیں فحاشی و عریانیت کے راستے پر چلانے کا ذریعہ بنے تو اُسے بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر روکا جانا چاہیے۔

انصار عباسی

ہمارا نظام بینکاری بھی گیم چینجر ہو سکتا ہے؟ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

پچھلی کئی دہائیوں سے مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے پاکستان میں قومی بچتوں کی شرحیں انتہائی پست رہی ہیں جبکہ گزشتہ 13 برسوں میں یہ شرح مزید گری ہے۔ مالی سال 2002-3ء میں بچتوں کی شرح 20.8 فیصد تھی جو 2015-16ء میں گر کر 14.3 فیصد رہ گئی۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ چین میں قومی بچتوں کا تناسب 46 فیصد، تھائی لینڈ میں 33 فیصد، بھارت میں 31 فیصد اور بنگلہ دیش میں 28 فیصد ہے۔ فوجی حکومت کے دور میں 2002ء اور 2004ء میں حکومتی شعبے کے دو بڑے بینکوں کو نجکاری کے نام پر غیر ملکیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بینکوں نے اجارہ داری قائم کر کے نفع و نقصان میں شراکت کی بنیاد پر لئے گئے کھاتے داروں کو اپنے منافع میں شریک کرنے کے بجائے ان کو دی جانے والی شرح منافع میں کٹوتی کر کے اپنا منافع بڑھانا شروع کر دیا۔ چند حقائق پیش ہیں:۔

(1) 1999ء میں بینکوں کا ٹیکس سے قبل مجموعی منافع 7؍ارب روپے تھا جبکہ بینکوں نے بچت کھاتے داروں کو اوسطاً 7 فیصد سالانہ منافع دیا تھا۔

(2) 2009ء میں 81؍ ارب روپے کا منافع ہوا مگر شرح منافع 5.1 فیصد رہی۔

(3) 2013ء میں منافع 162؍ارب روپے مگر شرح منافع 6.5 فیصد رہی۔

(4) 2016ء میں منافع 314؍ ارب روپے مگر شرح منافع 3.75 فیصد رہی۔

فرینڈز آف پاکستان کے 26؍ستمبر 2008ء کے اعلامیہ کے تحت آئی ایم ایف نے تباہ کن شرائط پر نومبر 2008ء میں پاکستان کے لئے 7.6؍ارب ڈالر کا قرضہ منظور کیا۔ اس کے فوراً بعد بینکوں نے گٹھ جوڑ کرکے صنعت، تجارت، زراعت اور برآمدات وغیرہ کے لئے بڑے پیمانے پر قرضے فراہم کرنے کے اپنے اصل کام کو جاری رکھنے کے بجائے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے حکومت کو بڑے پیمانے پر قرضے دینا شروع کر دئیے۔ اس فیصلے سے بھی معیشت کی شرح نمو متاثر ہوئی، روزگار کے کم مواقع میسر آئے، قومی بچتوں کی شرح گری اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ آگے چل کر اس بات کے شواہد اور زیادہ واضح ہو گئے کہ اس تباہ کن پالیسی کو آئی ایم ایف کی آشیر باد حاصل تھی جس سے بینکوں کا منافع تو یقیناً بڑھا مگر معیشت کو نقصان پہنچا۔ بینکوں کے مجموعی قرضوں اور مجموعی سرمایہ کاری کا تقابلی جائزہ نذر قارئین ہے:

(ارب روپے)

2008ء

2016ء

اضافہ

مجموعی سرمایہ کاری

1087

7509

6422

مجموعی قرضے

3173

5499

2326

مندرجہ بالا اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ 8؍ برسوں میں بینکوں کے مجموعی قرضوں میں صرف 2326؍ ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ سرمایہ کاری میں اضافے کا حجم 6422؍ ارب روپے رہا۔ واضح رہے کہ اسی مدت میں بینکوں کے ڈپازٹس میں 8186؍ ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔ اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ حکومت کو دئیے گئے قرضوں پر مشتمل تھا جو ٹیکسوں کی بڑے پیمانے پر چوری ہونے دینے سے پیدا ہونے والے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے دئیے گئے تھے۔ اس قسم کے تباہ کن فیصلے کی پاکستان تو کیا دنیا بھر میں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں جو پریشان کن پیش رفت شعبہ بینکاری میں ہوئی ہیں ان میں سے دو یہ ہیں:

(1) مارچ 2017ء میں شائع ہونے والے سندھ بینک کے سالانہ گوشواروں سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت سندھ کی ملکیت اور زیرانتظام سندھ بینک حیران کن طور پر زبردست مشکلات اور نقصان کا شکار نجی شعبے کے ’’سمٹ بینک‘‘ کو خرید کر اپنے اندر ضم کرنے کے لئے پرتول رہا ہے۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو اس سے صوبہ سندھ اور اس کے عوام کا نقصان ہو گا اور اس کا فائدہ سمٹ بینک کے مالکان کو ہو گا جن کے دور میں سمٹ بینک کو زبردست نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سمٹ بینک پہلے پاکستان میں بنگلہ دیش کا روپالی بینک تھا۔ یہ بینک بعد میں عارف حبیب بینک بنا اور پھر پیپلز پارٹی کے دور میں اکتوبر 2010ء میں اس وقت کی وفاقی حکومت کی آشیر باد اور اسٹیٹ بینک کی منظوری سے اس بینک کے اکثریتی حصص ماریشس کی ایک پارٹی کے حوالے کر دئیے گئے اور اس طرح سمٹ بینک معرض وجود میں آیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد پاکستان میں بینک گاجر مولی کی طرح فروخت ہو رہے تھے چنانچہ مائی بینک اور اٹلس بینک بھی سمٹ بینک میں ضم ہو گئے۔ یہ بات بھی نوٹ کرنا اہم ہے کہ سندھ بھر میں سمٹ بینک کی شاخوں کی تعداد سے کہیں زیادہ اس بینک کی شاخیں ملک کے دوسرے صوبوں میں ہیں اور اس کی شاخوں، قرضوں اور پھنسے ہوئے قرضوں کا حجم سندھ بینک سے کہیں زیادہ ہے۔ سندھ بینک کو حکومتی شعبے میں قائم کرنے کا بنیادی مقصد صوبہ سندھ کی معیشت کی ترقی اور صوبے کے عوام کو بینکاری کی خدمات فراہم کر کے ان کی حالت بہتر بنانا ہے چنانچہ اس بات کا کوئی جواز نہیں ہے کہ سندھ کے مالی وسائل سمٹ بینک کے ’’نجاتی پیکیج‘‘ پر صرف کئے جائیں۔

(2) یہ بات حیرت سے پڑھی جائے گی کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے حکومتی شعبے کے فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کی سفارش اس بنیاد پر کی ہے اس کی کارکردگی ناقص ہے۔ فرسٹ ویمن بینک دنیا کا واحد ویمن بینک ہے اور اس کی شاخوں کی تعداد صرف 42 ہے۔ قائمہ کمیٹی کی یہ سفارش بنیادی حقائق کا ادراک کئے بغیر کی گئی ہے۔ فرسٹ ویمن بینک حکومتی شعبے میں رہتے ہوئے ملک کی لاکھوں خواتین کا ملک کی معاشی ترقی میں کردار بڑھانے اور ان کو ہنرمند بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ فرسٹ ویمن بینک کی خراب کارکردگی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے وفاقی حکومت نے وعدہ کرنے کے باوجود اس بینک کو 500 ملین روپے کا سرمایہ فراہم نہیں کیا حالانکہ اسٹیٹ بینک نے کسب بینک کو بینک اسلامی کے ہاتھ نہ صرف ایک ہزار روپے میں فروخت کیا بلکہ بینک اسلامی کو لمبی مدت کے لئے 20؍ ارب روپے کا سرمایہ بھی فراہم کیا۔ یہ فیصلہ متنازع اور غیر شفاف تھا۔ اگر کسب بینک ملک میں کام کرنے والے کسی بڑے بینک کو فروخت کیا جاتا تو بہتر قیمت ملتی اور اسٹیٹ بینک کو سرمایہ فراہم کرنے کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔

آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر نے اکتوبر 2016ء میں کہا تھا کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں خواتین کا کردار گیم چینجر ہو سکتا ہے۔ اگر ملک کے تیسرے بڑے بینک یونائیٹڈ بینک میں ایک خاتون کو صدر مقرر کیا جا سکتا ہے تو فرسٹ ویمن بینک میں بھی کسی لائق اور تجربہ کار خاتون بینکار کو صدر مقرر کیا جا سکتا ہے۔ انہیں ذمہ داری دی جائے کہ دسمبر 2018ء تک فرسٹ ویمن بینک کی ملک بھر میں 300 مزید شاخیں کھولی جائیں اور خواتین کو ہنرمند بنانے کے لئے ٹریننگ پروگرام شروع کئے جائیں۔ حکومت کو اس بینک کو مرحلہ وار چند ارب روپے کا سرمایہ بھی فراہم کرنا ہو گا اور خواتین کے لئے بڑے پیمانے پر ووکیشنل ٹریننگ کی رفتار تیز کرنا ہو گی۔ سندھ بینک کے لئے بھی موقع ہے کہ سمٹ بینک میں اپنا سرمایہ لگانے کے بجائے بے نظیر شہید کے وژن کی روشنی میں قائم کئے گئے فرسٹ ویمن بینک کی تیز رفتار ترقی کے لئے کردار ادا کرے۔

اگر مندرجہ بالا گزارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور سی پیک منصوبے سے رونما ہونے والے سنہری مواقع سے استفادہ کرنے کے لئے شعبہ بینکاری میں بھی بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی جائیں تو بینکاری کا شعبہ بھی جس کے مجموعی ڈپازٹس کا حجم 11؍ ہزار ارب روپے سے زائد ہے، یقیناً گیم چینجر ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

سابق پاکستانی کرنل کس کے قبضے میں؟

پاکستان کے سابق لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) محمد حبیب ظاہر کی گذشتہ ہفتے پراسرار گمشدگی کے بعد انڈیا اور پاکستان کے میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ کرنل ظاہر کو انڈین ایجینسیوں نے نیپال سے اغوا کر لیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کرنل ظاہر کسی نوکری کے سلسلے میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو آئے اور وہاں سے وہ انڈیا اور نیپال کے بارڈر پر لمبینی کے علاقے میں گئے جہاں انھیں آخری بار دیکھا گیا۔ لمبینی ایک بڑا خطہ ہے جس میں بھیروا، بوٹول اور لومبینی کے علاقے شامل ہیں۔ لمیبنی وہ جگہ ہے جہاں بودھ مذہب کے بانی گوتم بودھ کی پیدائش ہوئی تھی۔ اسی خطے میں سونولی کی سرحدی چوکی ہے۔ یہ نیپال اور انڈیا کے درمیان سب سے بڑی چوکیوں میں سے ایک ہے۔

اس سرحد ی راستے سے ہزاروں نیپالی اور انڈین شہری ایک دوسرے کے علاقے میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ بڑا حساس ہے اور یہاں ہر طرف سکیورٹی ایجینسیوں کی نظر رہتی ہے۔ انڈین سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیاں مقامی نیپالی ہوائی اڈے اور قریبی علاقوں سے بلا روک ٹوک نیپال کی جانب سے انڈین علاقے میں آ جا سکتی ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کے میڈیا کی قیاس آرائیوں کے برعکس نیپال میں کرنل ظاہر کی پراسرار گمشدگی کے بارے میں میڈیا میں بہت زیادہ خبریں نہیں آئی ہیں۔ نیپال کی پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے لیکن اس کے بارے میں کچھ بتایا نہیں گیا ہے۔

لمبینی کے قریبی ہوائی اڈے سے باہر نکلتے ہوئے اور ہوائی اڈے کے باہر ایک شخص کی ملاقات کی جو مبینہ فوٹیج پولیس کے پاس ہے وہ بھی ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ فوٹیج اس تفتیش کا حصہ ہے اور وہ اس میں نظر آنے والے شخص کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ نیبالی میڈیا انڈیا کے کسی معاملے میں ہمیشہ محتاط طریقے سے تبصرہ کرتا ہے۔ اس نے کسی طرح کی قیاس آرائی سے گریز کیا ہے لیکن یہاں کے صحافی اور سکیورٹی کے پہلوؤں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار عموماً یہی نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ کرنل ظاہر کو انڈین ایجنسیوں نے پکڑا ہے جب کہ عام لوگوں کا بھی یہی خیال ہے۔

انڈیا کی خفیہ ایجنسیاں ماضی میں بھی کشمیری علیحدگی پسندوں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے لوٹنے والے سابق عسکریت پسندوں اور سعودی عرب اور دبئ وغیرہ سے نکالے جانے والے شدت پسندوں کو نیپال پہنچنے پر حراست میں لیتیں اور پھر دکھایا جاتا کہ انھیں انڈیا، پاکستان سرحد کے نزدیک انڈیا میں داخل ہوتے ہوئے پکڑا گیا۔ سنہ 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن اور ان کی فیملی کو بھی خفیہ ایجنٹوں نے پاکستان سے نیپال پہنچنے پر ہی گرفتار کیا تھا۔ کرنل ظاہر کی گمشدگی کا معاملہ عین اس وقت سامنے آیا جب پاکستان میں انڈین بحریہ کے سابق کمانڈو کلبھوشن جادھو کو جاسوسی اور دہشت گردی کے مبینہ جرم کی پاداش میں موت کی سزا سنائی گئی۔ کرنل ظاہر جس جگہ سے غائب ہوئے ہیں وہ نسبتآ کوئی بڑی جگہ نہیں ہے لیکن وہ انڈیا کی سرحد سے بالکل نزدیک واقع ہے۔

کچھ ہی فاصلے پر انڈیا کے ضلع گورکھپور کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ سرحد پر انڈیا کی جانب سکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کی نقل و حرکت بہت زیادہ ہے۔ چونکہ نیپالی اور انڈین کسی ویزے کے بغیر ایک دوسرے کے یہاں آ جا سکتے ہیں اس لیے ہر مشتبہ شخص اور حرکت پر نظر رہتی ہے۔ کرنل ظاہر کی گمشدگی کے تقریبا دس دن بعد بھی ان کا غائب ہونا سربستہ راز سے کم نہیں۔ جس نوعیت کا یہ واقعہ ہے اس کے پیش نظر نیپال کی تفتیش سے بھی کسی بڑی کامیابی کی توقع بہت کم ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اگر وہ کسی کے قبضے یا گرفت میں ہیں تو انھیں کسی نہ کسی مرحلے پر سامنے لانا ہی ہو گا۔ لیکن جب تک وہ سامنے نہیں آتے تب تک قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور ان کی گمشدگی پراسرار بنی رہے گی۔

شکیل اختر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لمبینی

کلبھوشن یادو، ہم کب سیکھیں گے؟

عبداللہ شیخ میرے بُرے وقتوں کے دوست ہیں، میرے اِس بندے سے خواہ کتنے ہی نظریاتی، علمی اور سیاسی اختلاف ہوجائیں لیکن میرا اور اِس کا تعلق خراب نہیں ہوتا۔ اِس میں عبداللہ کا بڑا پن بھی ہے اور درگزر کرنے کی عادت بھی۔ میں جب دبئی میں تھا اور مجھے حالات کی سمجھ نہیں آرہی تھی تو اُس وقت عبداللہ بھائی بھی دبئی میں تھے۔ اُن کو جب یہ پتہ چلا کہ میں دبئی ہوں تو پہلے ناراض ہوئے کہ بتایا کیوں نہیں اور پھر ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ میرے ساتھ اُس وقت تک رہے جب تک میں پاکستان نہیں آگیا۔

وہاں میں نے اُن میں ایک عجیب بات نوٹ کی، اور وہ یہ کہ عبداللہ بھائی خطرناک حد تک جذباتی ہیں۔ یہ پاکستان کے معاملے میں کسی کی نہیں سنتے تھے۔ انگریزی میں اتنے ماہر نہیں ہیں لیکن دماغ میں فوری ترجمہ کرتے ہوئے مخالف کو مناسب ’شٹ اپ کال‘ ضرور دے دیتے ہیں۔ جس فلیٹ میں وہ اور میں ساتھ رہ رہے تھے، وہاں اکثریت بھارتیوں کی تھی جبکہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے صرف ہم دو ہی تھے۔ لیکن آپ یقین کیجئے کہ اِس قلیل تعداد کے باوجود بھی ہمارا اُن پر ایک عجیب رعب تھا۔

اِس رعب میں عبداللہ بھائی کا کردار بھی اہم تھا کہ اُنہوں نے فلیٹ میں شفٹ ہوتے ساتھ ہی اپنی دھاک بٹھا دی تھی۔ ایک دو کو اپنے طریقے سے دبایا تو باقیوں کی بولتی بند ہو گئی تھی۔ سب سے زیادہ اثر اُس وقت ہوا جب چند لڑکے بالکونی میں بیٹھ کر شراب نوشی کر رہے تھے، عبداللہ نے اُن کو دو دفعہ وارننگ دی اور جب وہ نہیں مانے تو تیسری وارننگ ہاتھ میں چھڑی پکڑ کر دی اور یہ وارننگ اتنی زبردست تھی کہ سب لڑکے چپ چاپ تتر بتر ہو گئے، میں نے اُن سے حیرانی سے کہا کہ یار انسان بنیں، کیوں پردیس میں اپنے لئے مصیبت مول لے رہے ہیں؟ عبداللہ بھائی نے کِھلکھِلا کر جواب دیا کہ اگر میں اِن کو چاقو مار دیتا تب بھی اِن میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کسی سے میری شکایت لگاتے، یہ بزدل لوگ ہیں اور ایک دھمکی میں دبک جاتے ہیں۔ میں جتنے ماہ وہاں رہا میں نے عبداللہ بھائی کی باتوں میں سچائی محسوس کی۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی جانب، کلبھوشن یادو کو پاکستان نے بلوچستان سے گرفتار کیا، یہ گرفتاری بلوچستان میں سیکیورٹی ایجنسیوں کی بہت بڑی کامیابی تھی جس نے بعد ازاں بلوچستان میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اِس بھارتی ایجنٹ نے آن ریکارڈ ہنستے مسکراتے اپنے تمام گناہ تسلیم بھی کئے، اب جب پاکستان میں فوجی عدالت نے اُس کو سزائے موت سنا دی تو اچانک بھارت میں ایک بھونچال اُٹھ گیا۔ وہ بندہ جس نے زندگی میں کبھی مچھر بھی نہیں مارا تھا وہ بھی کلبھوشن کے لئے پاکستان سے ٹکر لینے کی بات کرنے لگا۔ گزشتہ روز بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کلبھوشن کو دھرتی کا بیٹا قرار دیتے ہوئے راجیا سبھا میں پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ آنے والے وقت کیلئے تیار رہے۔ یہ وہی سشما سوراج ہیں جنہوں نے 2016ء میں ہمیں سفارت کاری سکھائی تھی اور میں نے اِن کا طرزِ عمل قریب سے دیکھا تھا کہ راقم اُس وقت ایک بھارتی چینل کا نمائندہ خصوصی تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم شروع دن سے چیخ رہے ہیں کہ بھارت بلوچستان میں بدامنی کا ذمہ دار ہے، وہ وہاں صوبائیت کا زہر پھیلا رہا ہے، وہ وہاں فرقہ واریت کو زہریلی ہوا دے رہا ہے اور وہ بلوچستان کو الگ کرنے کی سازش بُن رہا ہے لیکن دنیا نہ تو ہمیں سنجیدہ لے رہی ہے اور نہ ہی ہماری بات کو سنجیدگی سے سُن رہی ہے۔ دنیا ہماری بات کو ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے نکال دیتی ہے، لیکن دوسری طرف بھارت ہے جسے دنیا سنجیدہ بھی لیتی ہے اور اُس کی بات کو اہمیت بھی دیتی ہے۔ کیوں؟ کلبھوشن کے معاملے میں دیکھ لیں، ہمارے پاس بندہ بھی ہے اور ثبوت بھی ہیں، یہاں تک کہ اُس کے جعلی دستاویزات اور اُس کا سروس نمبر بھی ہے لیکن اِس کے باوجود ہم کہیں بھی یہ بات ثابت نہیں کرسکے۔

ہم نے اِس کو کہیں موثر انداز میں نہیں اٹھایا، حتیٰ کہ سشما سوراج بھی یہ نہیں بتا سکتی ہیں کہ 41885z کے سروس کوڈ کا حامل بندہ پاکستان میں کس سے ملنے آیا تھا، اور اُس کا اعترافی بیان کس تاریخ کا اپریل فول تھا؟ ہم نے اُس کو انٹرنیشنل فورمز میں بھی نہیں اُٹھایا لیکن دوسری طرف بھارت کو دیکھیں کہ اُس نے کلبھوشن کو معصوم کہہ دیا، اُس کو دھرتی کا بیٹا قرار دے دیا اور راجیا سبھا کے پلیٹ فارم سے ہمیں دھمکیاں بھی دے ڈالیں۔ پاکستان کے بھارت میں ہائی کمشنر عبدالباسط کو بُلا کر احتجاج ریکارڈ کروایا تو اُنہوں نے بہت اچھا جواب دیا کہ دہشت گردی بھی آپ کرتے ہیں اور معصوم بھی آپ بنتے ہیں، یہ کیا تماشا ہے؟

ہم آپ کا احتجاج مسترد کرتے ہیں لیکن اُس کے باوجود میڈیا میں کلبھوشن گونج رہا ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ ہوش مندی ہے، یہ پراپیگنڈہ ٹول کا زبردست استعمال ہے۔ ہم سب کچھ ہوتے ہوئے کچھ بھی نہیں کرسکے، آج بھی ہم دنیا کی بیڈ بُکس میں ہیں اور بھارت صرف سفارت کاری اور پراپیگنڈہ ٹولز کا درست استعمال کرکے دنیا بھر کی نظروں میں گڈ بکس میں ہے۔ آپ عبداللہ شیخ کی طرح ایک مرتبہ جرات کر کے بھارت کو جواب تو دیں، یہ چوں چراں بھی نہیں کر سکے گا۔ بھارت کو بغیر کسی اگر مگر کے، قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر شیٹ اپ کالز دیں یہ دوبارہ اونچی آواز میں بات نہیں کرے گا۔ دنیا آج بھی 2016ء میں سب سے زیادہ دھماکوں اور ریپ کے واقعات کے بعد بھی بھارت پر اعتماد کرتی ہے اور ہم کامیاب فوجی آپریشنز اور 85 فیصد دہشت گردی میں کمی کے باوجود بھی بد اعتماد ٹھہرتے ہیں۔ ہم کب سیکھیں گے؟

سالار سلیمان

بجلی کا مسئلہ اور جماعت اسلامی

بجلی کا مسئلہ گزشتہ کئی عشروں سے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن کر رہا ہے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (K.E.S.C) آزادی سے قبل قائم ہوئی تھی۔ کے ای ایس سی نے بجلی کی پیداوار اور صارفین کو بجلی کی فراہمی کا فریضہ 60 سال سے زیادہ عرصہ تک انجام دیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے 80ء کی دہائی تک یہ کمپنی اپنے فرائض تسلی بخش طور پر انجام دیتی رہی۔ نئی آباد ہونے والی بستیوں کو بجلی فراہم کی گئی اور صارفین کی مانگ پوری کرنے کے لیے بجلی کی پیداوار کا ہدف پورا کیا گیا۔ پھر کے ای ایس سی کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں وفاق کے حوالے کیا گیا۔ اب یہ ادارہ اسلام آباد سے کنٹرول ہونے لگا۔ سیاسی بھرتیاں شروع ہوئیں، بجلی کی چوری بھی بڑھی، پہلے صرف میٹر میں ٹیمپرنگ ہوتی تھی، پھر کنڈا سسٹم آ گیا۔

یہ کنڈا سسٹم امرا کے علاقوں، متوسط طبقے اور نچلے متوسط طبقے کی بستیوں میں آیا۔ کنڈا لگانے کا طریقہ  عملے نے لوگوں کو سکھایا۔ میٹر میں ہیر پھیر، بل میں کمی اور نئے کنکشن کی فراہمی کے ریٹ ہر علاقے کے الگ الگ طے ہوئے۔ اس طرح کے ای ایس سی میں خسارے کا آغاز ہوا۔ 90ء کی دہائی کے آخری برسوں میں کراچی میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے اثرات کے ای ایس سی پر پڑنے لگے۔ لسانی بنیادوں پر بھرتیاں ہونے لگیں، انتظامیہ کو مفلوج کیا جانے لگا اور مزدور تنظیمیں لسانی رنگ میں ڈھل گئیں۔ کے ای ایس سی کا خسارہ خطرناک حد تک پہنچ گیا۔

پرویز مشرف حکومت نے 2003ء میں ایماندار سی ایس پی افسر ملک شاہد حامد کو کے ای ایس سی کا سربراہ مقرر کیا۔ شاہد حامد انجنیئر نہیں تھے مگر ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ انھوں نے کے ای ایس سی میں بنیادی اصلاحات کے نفاذ کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ کچھ افسران نکالے گئے اور کچھ کے نام وفاقی تحقیقاتی اداروں کو بھیجے گئے۔ کے ای ایس سی کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے منصوبہ بندی کا آغاز ہوا۔ کارکنوں کے لیے سخت شرائط کے لیے ملازمت کا نیا طریقہ کار وضح کیا گیا۔ پھر ایک روز موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے شاہد حامد کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ صبح اپنے گھر سے دفتر جا رہے تھے۔ تحقیقاتی ایجنسیوں نے طویل جدوجہد کے بعد ایم کیو ایم کے کارکن صولت مرزا کو اس قتل کے الزام میں گرفتار کیا اور انھیں سزائے موت دی گئی اور کے ای ایس سی کی تنظیمِ نو کا سلسلہ رک گیا۔ پھر کے ای ایس ا ی کو فوجی افسروں کے حوالے کیا گیا۔

ان افسروں نے بجلی کی چوری روکنے، بجلی کی پیداوار کو بڑھانے اور غیر حاضر کارکنوں کے احتساب کے لیے اہم اقدامات کیے جس کی بنا پر کے ای ایس سی کے حالات میں تبدیلی رونما ہوئی۔ جنرل مشرف کے دور میں کے ای ایس سی کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا۔ کے ای ایس سی کی مزدور انجمنوں نے اس فیصلے کے خلاف زبردست مزاحمت کی۔ مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم نے مزدوروں کی اس تحریک کی حمایت نہیں کی۔ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں مزدوروں کے ساتھ تھیں مگر عوامی حمایت نہ ہونے کی بنا پر مزدوروں کی یہ تحریک ناکام ہو گئی۔ پھر مزدور انجمنوں نے زرداری دور میں احتجاجی تحریک چلائی مگر  یہ تحریک بھی ناکامی سے دوچار ہوئی۔

کمپنی نے بجلی کی مانگ پوری کرنے کے لیے  اقدامات کیے۔ شہر کو طبقاتی طور پر تقسیم کر دیا گیا۔ امراء کے علاقے لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیدیے گئے، متوسط طبقے اور نچلی متوسط طبقے کی بستیوں میں 4 سے 6 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جانے لگی اور غریبوں کی بستیوں میں 8 سے 10 گھنٹوں تک لوڈ شیڈنگ ہونے لگی جو آج تک جاری ہے۔ پھر بجلی کے ٹیرف میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا۔ اضافی سرچارج عوام  پر ڈال دیا گیا ۔ دو کمرے کا مکان جس میں صرف ایک ٹی وی، ریفریجریٹر اور کپڑے دھونے کی مشین ہوتی ہے، وہاں دس ہزار سے زائد کا بل بھیجا جانے لگا۔ بعض لوگوں کو تو ایک کمرے کے مکان کا بل دس ہزار روپے سے زائد آنے لگا۔

شکایات درج کرانا بھی خاصا مشکل ہو گیا ۔ پی ای سی ایچ ایس سمیت کئی علاقے جو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں وہ بھی بجلی کے نئے بحران کا شکار ہوئے۔ ان علاقوں میں بغیر کوئی وجہ بتائے 10 ،10 گھنٹے تک بجلی کی فراہمی معطل رہی ۔ کنڈا سسٹم کے تدارک کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں کاپر کے تار تبدیل کر کے المونیم کے تار نصب کر دئیے۔ مگر دو سال پہلے جب کراچی گرمی کی شدید لہر کا شکار ہوا تو المونیم کے تار اس گرمی کو برداشت نہ کر سکے جس پر شہر میں بجلی کا شدید بحران پیدا ہوا۔ بجلی کے نرخ مزید  بڑھا دیئے گئے۔

سول سوسائٹی کے فعال اراکین حاجی ناظم اور کرامت علی وغیرہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے لیے ہمیشہ متحرک رہتے ہیں۔ یہ صاحبان بنیادی حقوق کے لیے جلسہ جلوس، مظاہرے اور عدالتوں سے رجوع کرنے کے تمام طریقوں کو استعمال کرتے ہیں۔ حاجی ناظم اور ان کے ساتھیوں نے سرچارج یا شہریوں کے ساتھ ہونے والی دیگر زیادتیوں کے ازالہ کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

شہریوں کو امید ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کراچی کے شہریوں کے بنیادی حق کے تحفظ کے لیے جامع فیصلہ دے گی۔ مگر شہریوں کے اس حق کا تحفظ محض غیر سرکاری تنظیموں کی کوششوں سے ہی ممکن نہیں، جب تک سیاسی جماعتیں ان حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد نہیں کرتیں مسائل حل نہیں ہوں گے۔ دائیں بازو کی مذہبی جماعت جماعت اسلامی کراچی کی قیادت نے اس معاملہ کی گہرائی کو محسوس کیا۔ جماعت کے کراچی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں ایک منظم مہم شروع کی گئی۔

اس مہم کے دوران پولیس نے جماعت اسلامی کے دفتر کا گھیراؤ کیا، اس دوران کچھ کارکن گرفتار بھی ہوئے۔ جماعت کی قیادت نے عوامی کلچر کو اپناتے ہوئے اپنے مظاہرے میں بھینسوں کو بھی استعمال کیا اور اردو کے محاورے ’’بھینس کے آگے بین بجانا‘‘ کی مشق کی۔ 70ء کی دہائی میں جماعت اسلامی کے اکابرین ذاتی ملکیت کے تحفظ کے نظریہ کے اسیر تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ  ریاست کو حق نہیں کہ صنعتی اداروں اور بینکوں وغیرہ کو قومی تحویل میں لے مگر سرمایہ دارانہ نظام کی جیرہ دستی اور پھر فری مارکٹ اکانومی کے دور میں شہری کی حیثیت محض ’’جنس‘‘ میں تبدیل ہوئی۔

اب صورتحال کے ادراک کے بعد جماعت کی قیادت بنیادی سہولتوں کے اداروں کو قومی ملکیت میں لینے کے حق میں ہے جو مسائل کا بنیادی حل ہے۔ پھر تنقید نگار یہ کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ صرف ان شہریوں کے لیے جدوجہد کی ہے جو مسلمان ہیں جس کی بناء پر غیر مسلم شہری اس طرح کی جدوجہد سے متاثر نہیں ہوئے مگر ایک مثبت بات یہ ہے کہ اب جماعت اسلامی کی قیادت ان تمام مسائل پر جدوجہد کرنے لگی ہے جو پاکستان کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ پہلے حافظ نعیم اور ان کے ساتھیوں نے چین کے تیار کردہ چنگ چی رکشوں پر پابندی کے خلاف جدوجہد کی تھی اور اب بجلی کے مسئلے پر جدوجہد کر کے تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کی ہر شہری کو سستی اور بلا رکاوٹ بجلی کی فراہمی کی جدوجہد ایک خوشگوار تبدیلی ہے۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

ایک بوڑھی فرسودہ سوچ

میری عمر ( پچاس پچپن برس اور اس سے اوپر) کے لوگ گواہی دیں گے کہ جب ہم بچے تھے تو ہمارے روز و شب کیسے تھے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم سورج غروب ہونے کے بعد باہر نہیں کھیل سکتے تھے۔ مغرب کے وقت ہر حال میں گھر کی چار دیواری میں موجودگی لازمی تھی۔ اس بارے میں کوئی بہانہ یا سفارش باپ کے ڈنڈے یا ماں کی چپل کے سامنے کارگر نہیں تھی۔ یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ کوئی بچہ رات دس بجے کے بعد بستر سے باہر ہو بھلے نیند آئے نہ آئے۔ اسکول ہوم ورک بھی رات کے کھانے کے بعد سونے سے پہلے مکمل کرنا ہوتا تھا۔ صرف اس رات دیر تک جاگنے کی اجازت تھی جب اگلے دن یا تو ہفتہ وار یا تہوار کی چھٹی ہو۔ مگر جاگنے کا یہ مطلب نہیں تھا کہ بچہ مسلسل ٹی وی کے سامنے بیٹھا رہے۔ ہمیں صرف بچوں کے ٹی وی پروگرام دیکھنے کی اجازت تھی اور یہ پروگرام رات آٹھ بجے سے پہلے پہلے ٹیلی کاسٹ ہو جایا کرتے تھے۔

اگر بیماری آزاری جیسی کوئی حقیقی مجبوری نہیں تو اسکول سے غیر حاضری تقریباً ناممکنات میں سے تھی اور ناغے کے بعد اسکول میں آمد پر غیر حاضری کے سبب سے متعلق درخواست بھی بستے میں ہونی ضروری تھی جس پر بچے کے سرپرست کے دستخط یا انگوٹھا لازمی تھا اور یہ درخواست تب تک موثر نہیں ہوتی تھی جب تک ہیڈ ماسٹر یا ہیڈ مسٹریس اس پر تصدیقی دستخط نہ کر دیں۔

اسکول کے اوقات کے بعد بھی بچے کی جان نہیں چھوٹتی تھی۔ جو بچہ بعد از عصر محلے یا اسکول کے گراؤنڈ میں کسی گیم یا سرگرمی میں حصہ نہیں لیتا تھا اس کے بارے میں عمومی رائے یہی ہوتی کہ یا تو یہ بیمار ہے یا پھر جسمانی طور سے کمزور ہے۔ اسکول میں پڑھنے والا کوئی بھی بچہ اگر شام کو ٹیوشن پڑھتا تھا تو اس کے بارے میں یہ تاثر بنتا چلا جاتا کہ شاید یہ اسکول کی پڑھائی میں پھسڈی ہے تب ہی تو اس کے والدین ٹیوشن دلواتے ہیں۔

والدین اور اساتذہ کے نزدیک جو باتیں کبیرہ گناہوں کی حیثیت رکھتی تھیں ان میں ہوم ورک مکمل نہ کرنا ، بچے سے گالم گلوچ سرزد ہونا، کسی بھی جاننے والے بڑے کو دیکھ کر سلام نہ کرنا ، دو بڑوں کی گفتگو کے بیچ بول پڑنا ، اکیلے یا ساتھی بچوں کے ساتھ کسی سینما گھر کے آس پاس پایا جانا ، کسی اجنبی سے مسلسل بات کرنا ، گلیوں میں بلا مقصد گھومتے پایا جانا، بازار سے کوئی شے بلا اجازت خرید کے وہیں کھڑے کھڑے کھا لینا ، پالتو جانوروں کو بلا جواز تنگ کرنا، پیسے یا کھانے پینے کی اشیا گھر میں یا گھر سے باہر چرانا۔ ان جرائم کی سزا میں سرزنش سے لے کر بول چال کی عارضی معطلی، دیوار کی جانب منہ کر  کے کھڑا کیا جانا یا پھر پٹائی۔ اس زمانے میں گھر یا اسکول میں سرزنشی پٹائی تربیت کا حصہ سمجھی جاتی تھی فوجداری جرم نہ بنی تھی۔ تب ہی تو والدین بچے کو اسکول میں داخل کرواتے وقت دھڑلے سے کہتے تھے ’’ماسٹر صاحب ہمارا لختِ جگر آپ کے حوالے۔ ہڈیاں آپ کی گوشت ہمارا‘‘۔ بچے کو اس وقت اپنا باپ قصائی محسوس ہوتا تھا۔ لیکن آج لگتا ہے کہ اس قصابی کے پیچھے کیسی محبت چھپی ہوئی تھی۔

جب میں آج اپنے یا دوسروں کے بچوں کے شب و روز دیکھتا ہوں تو اپنے بچپنے کی یادوں پر دکھ ہوتا ہے۔ ہمیں گھر میں اکثر کفایت شعاری یا فضول خرچی جیسے الفاظ سننے پڑتے تھے۔ آج کا بچہ دراصل اپنے والدین کا باپ یا ماں ہے۔ وہ باقاعدہ والدین کو اپنی ہر پسند نا پسند کے بارے میں حکماً درخواست کرتا ہے اور والدین بہ رضا و رغبت اس بچے کی فرمائشی غلامی پر رضامند رہتے ہیں۔ آج کے والدین یہ تصور ہی نہیں کر سکتے کہ بچے کی جا بے جا فرمائش دراصل محبت نہیں بلکہ اس کی زیرِ تعمیر شخصیت پر کتنا بڑا ظلم ہے۔ آج کا بچہ نہ کے مطلب سے ناواقف اور صرف ہاں کے مطلب سے واقف ہے۔ اس کے ناز و نعم کا اس کی اخلاقی و تعلیمی تربیت سے اگر کوئی لینا دینا ہے بھی تو واجبی سا۔

ہمیں اپنے والدین سے کپڑے گندے یا میلے کرنے پر خوب سننا پڑتی تھیں لیکن آج کے بچے کو اس بارے میں کوئی تشویش نہیں کیونکہ اسے کپڑے دھونے کے صابن یا ڈیٹرجنٹ کے اشتہارات سے یہ تعلیم مل رہی ہے کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔ اسے ہر ماہ نئے کپڑے دلانا والدین کا فرض ہے۔ اگر روزانہ نہیں تو ہر ہفتے ایک نیا کھلونا ضرور چاہئیے۔ کس بچے کو اپنی عمر کے اعتبار سے کون سا کھلونا چاہیے اس کا فیصلہ بچہ خود کرتا ہے اور آج کل وہ پلاسٹک کی بندوق یا پستول وغیرہ سے کم پر راضی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دیگر ہم عمروں سے کڑا مقابلہ ہے۔ وہ فٹ بال ، کرکٹ ، ہاکی یا بیڈ منٹن صرف ٹی وی پر دیکھتا ہے اور خود محلے یا خاندان کے بچوں کے ساتھ ’’ خود کش بمبار ’’ یا ڈاکو ڈاکو یا اغوا کار کھیلنا پسند ہے۔ بچوں کی دو ٹیموں میں سے ایک ظالم اور دوسری مظلوم بن جاتی ہے اور پھر پوزیشنیں بدل لی جاتی ہیں۔

باہر کب تک رہنا ہے اور رات کو کس وقت گھر لوٹنا ہے اس کا فیصلہ بھی بچے خود کرتے ہیں۔ گھر آ کر ماں کے ہاتھ کا کھانا کھانا ہے یا باہر کا برگر آرڈر کرنا ہے اس کا فیصلہ بھی بچہ خود کرتا ہے۔ آئس کریم خود خریدنے کے لیے بھی پیسے چاہئیں۔ رات کو وہ اپنے والدین کو سلا کر کمپیوٹر گیمز آف کر کے سوتا ہے اور صبح جب اسکول کے لیے روانہ ہوتا ہے تو آدھا سوتا جاگتا کلاس روم تک پہنچتا ہے۔ سرزنش ، سزا ، مار ، یہ اصطلاحات اس کے لیے اجنبی ہیں۔ ٹی وی ڈراموں یا فلموں سے لیے گئے ڈائیلاگ اس بچے کی لسانی ذہانت کے طور پر فخریہ انداز میں بتائے جاتے ہیں۔ ٹیوشن نہ پڑھنے کا سبب والدین کی غربت تو ہوسکتی ہے بچے کی تعلیمی کمزوری ہرگز نہیں۔ اسکول میں اگر گریڈ کم آرہا ہے تو یہ بچے کا نہیں ٹیچر یا اسکول کا قصور ہے۔ اگر محلے سے اس کی کوئی شکایت آئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمسائے اس سے جلتے ہیں۔

اب مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوتی جب میں ایک بارہ سالہ بچے کے ہاتھ میں موبائیل فون دیکھتا ہوں جو اسے سالگرہ پر آنٹی کی جانب سے تحفے میں ملا۔ اس کی میز پر کتاب کے بجائے ٹیبلٹ دیکھتا ہوں جس میں کتاب نہیں بلکہ گیمز اپ لوڈ ہوتے ہیں۔ اس کی کلائی پر گھڑی دیکھتا ہوں ، گویا کسی کارپوریٹ میٹنگ میں پہنچنے سے دیر نہ ہو جائے۔ ایک چودہ برس کے بچے کی ذاتی موٹر سائیکل دیکھتا ہوں اور حیرانی نہیں ہوتی کیونکہ اس کے ساتھ کے بچوں کے پاس تو اپنی ذاتی کاریں اور مسلح محافظ ہیں۔ اب اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں ایک سٹھیایا ہوا بڈھا ہوں جو اپنے دور کو اچھا اور آج کے دور کو حسبِ عادت برا کہہ رہا ہے تو ایسا نہیں ہے۔ ہر دور اپنی نسل کے لیے نئے مسائل اور نئے حل مع نئی اخلاقیات لاتا ہے۔ ہو سکتا ہے موجودہ دور کے لیے یہی ٹھیک ہو جو آج کے بچے کر رہے ہیں ، سیکھ رہے ہیں یا پڑھ رہے ہیں۔ البتہ مجھے ان میں سے بہت سی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ شاید آپ ٹھیک ہی سوچ رہے ہیں۔ شاید میری سوچ یا میں واقعی بوڑھا ہو گیا ہوں۔

وسعت اللہ خان

این ایس اے نے پاکستانی موبائل نیٹ ورکس کیسے ہیک کیے ؟

کچھ عرصہ قبل رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ امریکا کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) نے پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کی جاسوسی کی اور اب وکی لیکس نے اس دعوے پر مہر ثبت کردی۔ اپنی ایک ٹوئیٹ میں وکی لیکس نے بد نام زمانہ ہیکر گروپ شیڈو بروکرز کی جانب سے لیک کیے گئے ڈیٹا کا حوالہ دیا، جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ کس طرح این ایس اے نے پوری دنیا میں ذرائع مواصلات کی جاسوسی کے طریقے استعمال کیے، جبکہ اس میں وہ کوڈ بھی بتایا گیا جس کے ذریعے پاکستان کے موبائل نیٹ ورک سسٹم کو ہیک کیا گیا۔

اصل ڈیٹا مذکورہ ہیکر گروپ کی جانب سے گذشتہ برس اگست میں ڈمپ کیا گیا تھا، جس میں وہ ٹولز بھی شامل تھے، جنھیں مبینہ طور پر این ایس اے نے جاسوسی کے لیے استعمال کیا، اس ڈیٹا میں خفیہ فائلز کا سیٹ بھی شامل تھا۔ اس سے قبل سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ ان معلومات کو پوسٹ کرنا بے چینی پیدا کر سکتا ہے۔   مبینہ طور پر ہیکر گروپ کی جانب سے استعمال ہونے والے اکاؤنٹ پر گروپ کا کہنا تھا کہ دلچسپی لینے والی پارٹیوں کو بِٹ کوئن کرنسی کے ذریعے نیلامی میں حصہ لینے کے لیے ایڈوانس میں فنڈ بھیجنا ہو گا اور ناکامی کی صورت میں انھیں رقم بھی واپس نہیں ملے گی۔

ہفتہ (8 اپریل) کو شیڈو بروکرز نے ان خفیہ فائلز کے لیے ایک پاس ورڈ بھی جاری کیا، جس کے ذریعے ڈیٹا بیس تک عوامی رسائی ممکن ہو سکے گی۔ اس سے قبل دی انٹرسیپٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) مبینہ طور پر پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت کی انٹرنیٹ کے ذریعے جاسوسی کرتی رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق این ایس اے نے ‘سیکنڈ ڈیٹ’ (SECONDDATE) نامی ٹول کے ذریعے پاکستان کے سول-ملٹری کمیونکیشن ذرائع کی مبینہ طور پر جاسوسی کی، واضح رہے کہ یہ کوڈ ہیکرز گروپ شیڈو برکروز کی جانب سے لیک کیا گیا تھا۔

اس سے قبل جولائی 2104 میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق سابق صدر براک اوباما نے امریکہ کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کو دنیا کے 193 ممالک کی جاسوسی کی اجازت دی تھی، جبکہ صرف برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو این ایس اے کی جاسوسی سے مثتثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔

ادبیات مولانا ابوالاعلیٰ مودودی

پروفیسر خورشید احمد اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا ذکر ایک مذہبی عالم اور مفکرکی حیثیت سے تو اس قدر کیا جاتا ہے لیکن ایک ادبی شخصیت کی حیثیت سے انھیں قطعی نظرانداز کیا گیا ہے۔ اپنی کتاب ’’ادبیات مودودی‘‘ میں لکھتے ہیں ’’مودودی صاحب بنیادی طور پر نثر نگار ہیں۔انھوں نے سنجیدہ علمی، سیاسی اور تمدنی مسائل سے کلام کیا ہے اور اردو کو ہر قسم کے مسائل کے لیے ذریعہ اظہار بنایا ہے۔ ان کی نثر میں وہ تمام خوبیاں ہیں جن سے اردو نثرکا بنیادی اسلوب عبارت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ جدید دور میں اردو نثر کے بہترین نمایندے ہیں۔ انھوں نے ماضی کی بہترین روایات کو اپنی تحریر میں سمو لیا ہے اور ان کو نیا حسن اور رعنائی عطا کی ہے۔‘‘

’’ادبیات مودودی‘‘ کے تین حصے ہیں۔ ایک میں برصغیر کے چند اہل قلم کے مضامین ہیں جن میں مودودی کے ادیب اور ان کے طرز نگارش کا تنقیدی مطالعہ کیا گیا ہے۔ دوسرے حصے میں مولانا کے لکھے ہوئے تبصرے ہیں جو علمی اور ادبی تنقید کے باب میں ان کے اسلوب اور ان کے مسلک کے عکاس ہیں۔ یہ تنقیدات فلسفیانہ، دینی اور عمرانی موضوعات کے ایک وسیع کینوس پر پھیلی ہوئی ہیں۔ کتاب کے تیسرے حصے میں مولانا کی کچھ تحریریں ہیں جو اگرچہ مختصر ہیں لیکن معنویت کے اعتبار سے وزنی ہیں۔ پروفیسر خورشید احمد مولانا مودودی کی نثرکی بنیادی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ زندگی کے ایک دور میں مودودی صاحب نے شاعری بھی کی ہے اگرچہ ان کی شاعری کا یہ دور بہت مختصر ہے جو خود ان کے بقول انھیں جلد ہی یہ اندازہ ہو گیا کہ ان کی طبیعت کا فطری میلان اس طرف نہیں ہے۔ تاہم اپنی تحریروں میں جن مقامات پر وہ جذبات اور قلبی کیفیت کا اظہار کرتے ہیں وہاں ان کی نثر میں شعری حسن پیدا ہو جاتا ہے۔

خورشید احمد لکھتے ہیں ’’مودودی صاحب کی نثرکی پہلی خصوصیت مقصدیت ہے۔ وہ اپنے سامنے زندگی کا ایک واضح اور متعین تصور رکھتے ہیں اور جس موضوع پر بھی وہ قلم اٹھاتے ہیں مقصد کا شعور کہیں ماند پڑنے نہیں پاتا۔ وہ نہ عباسی دور کے احیاء کے مدعی ہیں اور نہ مغلیہ جاہ کے اور نہ وکٹورین کلچر کے۔ وہ بیسویں صدی میں اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی کا نقشہ ازسر نو تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اس چیز نے ان کے ادب کو مقصدیت کے ساتھ جدت اور جدیدیت سے مالا مال کیا ہے۔‘‘ پروفیسر صاحب نے مولانا کی نثر نگاری کی دوسری خصوصیات ابہام سے پاک تحریر، فکرکا نظم اور منطقی ربط وضبط، زبان کی صحت (وہ دلی کی شرفا کی زبان بولتے تھے)، سادگی، مشکل الفاظ اور ترکیبوں سے اجتناب اور ادبیت اور نفاست ہیں۔ پروفیسر ضیا احمد صدیقی فارسی کے مستند عالم تھے، وہ فرماتے ہیں۔ ’’مولانا مودودی کی نثر کی پہلی خصوصیت ان کی قوت استدلال ہے، دوسری ان کا تجزیہ مسائل اور جزئیات پر نظر ہے، اور تیسری خصوصیت ان کا دل نشیں ادیبانہ انداز ہے۔ ان کی عبارت میں زور، چستی اور روانی ہے۔ انھوں نے ہماری زبان کو نئے حیات بخش خیالات سے مالا مال کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ایک موثر دلکش اسلوب بھی دیا ہے۔‘‘

ماہر القادری لکھتے ہیں ’’مولانا مودودی کی تحریروں میں دلی کی ٹکسالی زبان اور روز مرہ کا رچاؤ پایا جاتا ہے۔ وہ جو بات کہتے ہیں اس میں زبان و اظہارکی کتنی ہی خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ بڑے بڑے جملے میں جھول نام کو نہیں اورمختصر سا مختصر فقرہ چٹکتی کلی کی طرح دلنواز ہے۔ مودودی صاحب کی زبان ادب کی زبان ہے۔ اس زبان میں عام طور پر تو شاعری کی گئی ہے یا افسانے اور کہانیاں لکھی گئی ہیں۔ مولانا مودودی نے اس زبان سے حقائق کی تبلیغ کا کام لیا ہے جس میں فلسفہ و کلام کے نازک مقامات بھی آئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودی نے نازک اور دقیق مسائل کو سلجھاؤ اورشگفتگی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کی تحریروں میں الفاظ نگینوں کی طرح جڑے ہیں۔

ڈاکٹر محمد احسن فاروقی نے مولانا مودودی کی نثرکو اردو ادب میں مذہبی نثر کا کمال قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’انگریزی ادب میں مذہبی نثر بھی نثر کے اہم اصناف میں گنی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں، ایسا نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہبی امور کے لیے جن لوگوں نے نثر کو استعمال کیا انھوں نے اس بات کا خیال نہ رکھا کہ ان موضوعات کے لیے کیسے رنگ کی ضرورت ہے۔ مولانا نے اس نثر کو کمال پر پہنچا دیا۔ ان کی نثر کی سب سے بڑی تعریف یہ ہے کہ وہ مکمل نثر ہے، نمایندہ نثر ہے اور ان کی ہستی نمایندہ نثر نگار کی ہستی ہے۔ ہماری نثر میں ان کو وہی مقام ملنا چاہتا ہے جو شاعری میں اقبال کو دیا جاتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر سید محمد یوسف لکھتے ہیں ’’طالب علمی کے زمانے میں اور اس کے بعد سے برابر میں نے مولانا مودودی کی کتابوں کا مطالعہ کیا اور ان کے ناخن فکر سے اپنے ذہن کی بہت سی گتھیاں حل کیں لیکن ان کی شخصیت کے اس پہلو پر کہ وہ ایک ادیب بھی ہیں کبھی توجہ نہ کی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ہم حسن معنی میں محو رہے اور پیراہن پر نظر جمانے کی فرصت نہ پائی۔ اب رنگ محفل یہی ہے کہ جو لیلیٰ کے نظارے کی تاب نہیں لا سکتے وہ محمل کا تماشا کریں۔

کم نظر بے تابیٔ جانم ندید

آشکارم دید و پنہانم ندید

سید ابوالخیر کشفی فرماتے ہیں۔ ’’مولانا مودودی کے اسلوب کی بنیاد اول ان کی ذات ہے۔ شخصیت کا اظہار نہ ہو تو کوئی تحریر ادبی تحریر نہیں بن سکتی۔ شخصیت کی اسی نمود کو اقبال نے ’خون جگر‘ کہا ہے۔ ملٹن نے اسے فن کا ’لائف بلڈ‘ کہا تھا اور میر امن نے اسے ’خون دل‘ سے تعبیر کیا تھا۔ ان کے ہاں جو وضاحت اور قوت ہے، اس کا سرچشمہ ان کی نثر نگاری کی صلاحیت کے علاوہ ان کی ذات کی جلوہ گری اور حس جماعتی ہے۔ مولانا مودودی کی نثر میں جذبہ، حسن اور رعنائی بھی ہے۔ مشاہدہ کی رعنائی صفحہ قرطاس پر مناسب الفاظ کے ذریعے ہی پیش کی جا سکتی ہے۔ یہی ادبی تخلیق ہے۔ کائنات اور تحریری اظہار کے درمیان فن کار کی ذات بھی تو ہوتی ہے۔ ’آئینہ فطرت‘ میں اپنی ’خودی‘ کی نمود کے بغیر ادیب فطرت کے عکس کو پیش نہیں کر سکتا۔ مودودی صاحب الفاظ کے انتخاب میں بھی حسن ذوق سے کام لیتے ہیں اور محل گفتگو کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔ وہ ہر چیز کے لیے اچھے اور سبک الفاظ لاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں بیش تر الفاظ مانوس ہوتے ہیں۔ اجنبی الفاظ سے وہ پرہیز کرتے ہیں۔ انھوں نے گفتگو اور روزمرہ کے بعض اہم الفاظ کو تحریر میں صرف کر کے ان کے معنوی پہلوؤں کو روشن کر دیا ہے۔ مودودی صاحب کی ادبی شخصیت کا ایک عمومی پہلو ان کی متانت اور اسلوب کی سنجیدگی ہے۔ ان کے طنزیہ انداز نگارش میں جو ان کی ادبی تحریر کا ایک اور پہلو ہے، بڑا رکھ رکھاؤ ہے۔‘‘

رشید احمد صدیقی نے اچھی نثرکی خصوصیات یہ بتائی ہیں۔ ’’اس کا درو بست منطقیانہ ہو اور براہ راست اور بے کم و کاست۔ سوچنے اوراظہار مطالیب کا وسیلہ ہو۔ جو کچھ بیان کیا گیا ہو وہ کانٹے پر نپا تلا ہو۔ جتنے اور جو الفاظ آئے ہوں وہی اور اتنے ہی معنی ہوں، نہ کم نہ بیش۔ ٹھنڈے دل سے سارے نشیب و فراز پر نظر رکھ کر لکھی گئی ہو۔ ذاتی ردعمل سے پاک ہو۔ جامد نہ ہو متحرک و بے ساختہ ہو۔ شعر اور شاعری کی مانند نہ ہو جہاں عدم تسلسل اور منطقیانہ نکتے ملتے ہیں۔ نثر میں جذبات کی گنجائش سطح کے نیچے ہو سکتی ہے لیکن اس کو فکر سلیم کی گرفت سے باہر نہ ہونے دینا چاہیے۔‘‘

کیا مولانا مودودی کی نثر اس پیمانے پر نہیں اترتی؟

رفیع الزمان زبیری