یہاں استعفیٰ دیا نہیں لیا جاتا ہے

پاکستان میں جب کوئی جماعت حزبِ اختلاف ہوتی ہے تو اسے فوراً سیاسی اخلاقیات کا بھولا ہوا سبق یاد آنے لگتا ہے اور وہ کرپشن، نااہلی اور بد عنوانی کے خلاف سینہ سپر ہو جاتی ہے۔ حزبِ اختلاف بات بات پر صدر سے تھانے دار تک ہر ایک سے استعفی مانگتی پھرتی ہے اور جب خود اقتدار میں آتی ہے تو سیاسی اخلاقیات بھول بھال کر ہر بد انتظامی اور کرپشن کے بارے میں وہی تاویلات پیش کرنا شروع کر دیتی ہے جو اس کی پیشرو حکومت پیش کرتی تھی اور پیشرو حکومت حزبِ اختلاف میں آ کر اسی سیاسی اخلاقیات کے منبر پر بیٹھ جاتی ہے جو گذشتہ حزبِ اختلاف کے حزبِ اقتدار بننے سے خالی ہوا تھا۔

یہ اخلاقی و تاویلاتی میوزیکل چیئر پچھلے 70 برس سے جاری ہے۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی منتخب یا سرکاری عہدیدار نے الزامات ثابت ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز پر استعفی دیا ہوتا آنکہ پشت پر قانونی و سیاسی لات نہ پڑے۔ اگر بہت دور چلے گئے تو بات بھی بہت دور نکل جائے گی۔ فوری یادداشت کا سہارا لیا جائے تو سابق وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کا دور یاد آتا ہے جب وزیرِ مواصلات پرنس محی الدین، وزیرِ بلدیات انور عزیز چوہدری اور پیداوار کے وزیرِ مملکت اسلام الدین شیخ کو بدعنوانی، غفلت یا خورد برد کے الزامات لگتے ہی وزیرِ اعظم نے خود برطرف کیا۔ وہ الگ بات کہ چھان بین کے نتیجے میں بعد ازاں صرف اسلام الدین شیخ پر ہی باضابطہ فردِ جرم عائد اور ثابت ہوئی مگر جونیجو کی اصول پسندی خود ان کے کسی کام نہ آ سکی۔

سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں چلتا کیا۔ مگر سنہ 2010 میں خود یوسف رضا گیلانی کو اپنے تین وزرا بدعنوانی یا ڈسپلن کی خلاف ورزی پر برطرف کرنا پڑے۔ وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار عبدالقیوم جتوئی نے اپنی ہی حکومت پر کرپشن اور پھر اس کرپشن میں حصہ داری نہ ملنے کا شکوہ کیا لہذا انھیں جانا ہی تھا۔ وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے اپنے ہی ہم کابینہ وزیرِ مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر حاجیوں کو لوٹنے اور حج کوٹے کی فروخت کا الزام لگایا تو یوسف رضا گیلانی نے دونوں وزرا کو کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا۔

اعظم سواتی جمیعت علماِ اسلام کے کوٹے پر وزیر تھے لہذا ان کی برطرفی پر مولانا فضل الرحمان احتجاجاً حکومت سے الگ ہو گئے۔ حامد سعید کاظمی کو کرپشن ثابت ہونے پر جیل جانا پڑا جہاں سے وہ ابھی پچھلے ماہ ہی رہا ہوئے ہیں۔ جہاں تک شریف دور کا معاملہ ہے توسنہ 2014 میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ہاتھوں پاکستان عوامی تحریک کے دس حامیوں کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ روکنے کے لیے وزیرِ اعلی شہباز شریف نے کچھ عرصے کے لیے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ سے قلمدان واپس لے لیا اور پھر موقع محل دیکھ کر واپس بھی کر دیا۔

جب وزیرِ تعلیم و سیاحت و امورِ نوجوانان رانا مشہود احمد خان کی ایک وڈیو سامنے آئی جس میں وہ رشوت لے رہے ہیں اور اسی دوران 20 ارب روپے کے ایک سکینڈل میں ملوث ہونے کے شبہے میں نیب نے رانا صاحب کے خلاف چھان بین شروع کردی تو وزیرِ اعلی شہباز شریف اور پارٹی کے ‘اخلاقی دباؤ’ کا احترام کرتے ہوئے رانا مشہود نے امورِ نوجوانان اور سیاحت کا قلمدان تو چھوڑ دیا مگر تعلیم کی وزارت پھر بھی رکھی۔ کچھ عرصے بعد رانا صاحب کو چھان بین کے نتیجے میں کلین چٹ مل گئی اورایک بار پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔ سنہ 2015 میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کو جب تک الیکشن کمیشن نے انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات کے نتیجے میں نشست سے محروم نہیں کر دیا تب تک انھوں نے بھی اخلاقاً پہل نہیں کی۔ اس کے بعد بھاری اکثریت سے دوبارہ انتخاب جیت کر دوبارہ اسپیکر کی کرسی سنبھال لی اور دوبارہ عمران خان کو غصہ دلایا۔

جب بھی ملک میں دہشت گردی کی بڑی واردات کے بعد حزبِ اختلاف سدا بہار وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے تو چوہدری صاحب اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اتنے جوابی وار کرتے ہیں کہ حزبِ اختلاف اگلے ایک ہفتے تک اپنے زخم سہلاتی رہتی ہے۔ چوہدری صاحب نے تو امن و امان کی ابتری اور کوئٹہ سول سپتال میں 50 سے زائد وکلا کی ہلاکت کے اسباب کی چھان بین کے لیے قائم سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کمیشن کی سفارشات کو ‘لیرو لیر’ کر دیا تو حزبِ اختلاف کیا بیچتی ہے۔ سنا ہے ایک آدھ بار چوہدری صاحب نے وزیرِ اعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینے کی بھی پیش کش کی مگر میاں صاحب نے ان کی یہ درخواست سختی سے مسترد کر دی۔ میاں صاحب گرم و سرد چشیدہ ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ کابینہ میں اس طرح کی بدعت اگر شروع ہو گئی تو بات جانے کہاں تک پہنچے۔

خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت نے نومبر سنہ 2013 میں گڈ گورننس اور شفاف سیاست کی خاطر دو صوبائی وزرا کو بدعنوانی اور ہیرا پھیری کے الزام میں کابینہ سے چلتا کر دیا مگر دونوں کا تعلق اتفاق سے اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی سے تھا۔ خود پی ٹی آئی کے وزیرِ مواصلات یوسف ایوب تب تک برطرف نہیں ہوئے جب تک وہ جعلی ڈگری کیس میں سپریم کورٹ میں آخری اپیل نہیں ہار گئے۔ البتہ خود تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان انتخابی دھاندلی چھان بین کمیشن میں سنہ 2013 کے انتخابات میں 35 پنکچر کیس ہارنے کے باوجود قومی اسمبلی کی نشست پر نئے عزم اور دلائل کے ساتھ براجمان رہے اور تقریریاتی کنٹینر بھی ساتھ میں رکھا۔

جعلی ڈگری سے یاد آیا کہ جب سنہ 2008 میں مظفر گڑھ سے رکنِ قومی اسمبلی بننے والے جمشید دستی کو جعلی ڈگری رکھنے کی پاداش میں نا اہل قرار دے کر نشست سے محروم کر دیا گیا تو ضمنی انتخاب میں وہ پہلے سے بھی زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی موجودہ نو سالہ حکومت کے دوران جہاں بہت کچھ ہوا وہاں یہ بھی ہوا کہ ایک وزیرِ باتدبیر شرجیل انعام میمن جب اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات سے گھبرا کر دوبئی ہجرت کر گئے تو وزارتی قلمدان بھی ساتھ لے گئے اور کئی ہفتوں بعد واپس کرنے پر رضامند ہوئے۔ پچھلے ماہ جب وہ اپنے خلاف ‘جھوٹے مقدمات’ کا سامنا کرنے کے لیے ہائی کورٹ کی پیشگی ضمانت سے مسلح ہو کر اسلام آباد اترے اور پھر فاتحانہ حیدر آباد لوٹے تو جیالوں نے صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے شرجیل میمن کی بے لوث خدمات پر گولڈن تاجپوشی کی۔

مگر ایسا نہیں کہ کوئی ضمیر کی آواز ہی نہیں سنتا۔ سنہ 1983 میں جب ضیا حکومت کے وزیرِ بلدیات سید فخر امام ضیا حکومت کے ہی ایک حامی یوسف رضا گیلانی سے ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کی چیئر مین شپ کا انتخاب ہار گئے تو انھوں نے وفاقی وزارت سے استعفی دے دیا۔ فخر امام کے اس قدم کو سب ہی نے سراہا اور بعد ازاں غیر جماعتی قومی اسمبلی کے پہلے سپیکر منتخب ہوئے۔ اسی طرح اگست سنہ 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یہ عندیہ ملنے پر کہ وہ دوسرا صدارتی انتخاب بھی وردی میں لڑیں گے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت اسحاق خاکوانی نے اپنے ضمیر کی سنتے ہوئے وزارت سے استعفی دے دیا۔ عدلیہ میں ایسے کئی جج ہیں جنھوں نے ضیا الحق اور پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم ناموں کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور گھر بیٹھ گئے۔ مگر اب تک ایک ہی ایسی مثال سامنے آئی ہے کہ اعلیٰ عدالت کے کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن کا ریفرنس دائر ہو اور وہ سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی اپنا عہدہ چھوڑ دے۔

یہ واقعہ اس سال فروری میں پیش آیا جب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظہر اقبال سندھو نے سماعت کا سامنا کرنے سے پہلے ہی جج کی کرسی سے استعفی دے دیا۔ جہاں تک فوج کا معاملہ ہے تو میجر جنرل سکندر مرزا نے عہدہِ صدارت سے تب رضاکارانہ استعفی دیا جب جنرل ایوب خان کے ساتھی جنرلوں نے ان کے سامنے ایک ٹائپ شدہ کاغذ اور اس پر ایک پستول بھی بطور پیپر ویٹ رکھ دیا۔

ایوب خان نے بھی 25 مارچ 1969 کو عہدۂ صدارت رضاکارانہ طور پر چھوڑا جب ان کے سپہ سالار جنرل یحییٰ خان نے آہستگی سے کہا ‘سر ہم آپ کو بہت مس کریں گے۔’ انہی یحییٰ خان نے 20 دسمبر سنہ 1971 کو ملک ٹوٹنے کے چار دن بعد اپنی مرضی سے استعفی دیا کیونکہ انھیں بتا دیا گیا تھا کہ بطور صدر اپنی مرضی استعمال کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔

18 اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد مطمئن رخصت ہوئے حالانکہ انھوں نے اپنے پیشرو رفیق تارڑ کو یہ اعزاز نہیں بخشا تھا۔ فوج میں صرف ایک مثال ایسی ہے جب بری فوج کے ایک سربراہ نے دھڑن تختہ کیے بغیر اپنے عہدے سے قبل از اختتامِ مدت استعفی دیا ہو۔ وہ تھے جنرل جہانگیر کرامت ۔ جب ان کی نواز شریف کی دوسری حکومت سے نہیں بنی تو پنجہ آزمائی کے بجائے کنارہ کش ہو گئے۔ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید 12 اکتوبر سنہ 1999 بھی نہ ہوتا۔

اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا. جہاں تک کرپشن کا معاملہ ہے تو فوج میں کسی نے ازخود استعفی نہیں دیا جب تک برطرف نہیں کیا گیا یا آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلا۔ بھلے وہ این ایل سی سکینڈل میں ماخوز لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل مظفر اور میجر جنرل خالد طاہر اختر ہوں یا ایف سی بلوچستان کے سابق کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل عبید اللہ خٹک، میجر جنرل اعجاز شاہد بریگیڈئیر اسد شہزاد، سیف اللہ، عامر اور کرنل حیدر ہوں یا پھر بحریہ کے سابق سربراہ ایڈ مرل منصور الحق ہوں جو گرفتاری کے بعد پلی بارگین کے تحت 7.5 ملین ڈالر نیب میں جمع کرا کے بری ہوئے۔

واپڈا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر نے گذشتہ برس خود پاکستان آ کر پلی بارگین کے تحت کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے 200 ملین روپے واپس کر کے کلین چٹ حاصل کر لی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان جیسی ترقی پذیر جمہوریتوں میں گڈ گورننس ہر شخص اور ادارہ چاہتا ہے مگر ضمیر کی گورنننس کا عادی ہونے کی عادت پڑتے پڑتے ہی پڑے گی۔ تب تک اپنے علاوہ سب کا احتساب جاری رہے گا۔

وسعت اللہ خان

تجزیہ کار

پانامہ کیس : ’تحقیقاتی ٹیموں کا راستہ ایک بند گلی‘

’نواز شریف ایک جائز طور پر منتخب وزیر اعظم ہیں لیکن اب تک وہ قوم کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے ہیں کہ انھوں نے اور ان کے خاندان نے جو دولت جمع کی ہے وہ جائز طریقے سے کمائی ہوئی ہے۔‘ پاکستان کے سب سے مقتدر اخبار روزنامہ ڈان نے پاناما پیپرز پر سپریم کورٹ کے منقسم فیصلے پر اداریے کا اختتام مندرجہ بالا سطروں پر کیا ہے۔ پاناما پیپرز کے فیصلے پر جمعے کو پاکستان کے تمام اخبارات نے ادارتی صفحات پر عدالت عالیہ کے اس ‘تاریخی فیصلے’ پر اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے ایک اور اخبار ‘ڈیلی ایکسپریس’ نے اس موضوع پر اپنے اداریے کی ابتدائی سطروں میں کہا ہے کہ شریف فیملی کے علاوہ شاید چند ہی ایسے لوگ ہوں گے جو سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر شاد ہوں گے۔ انگریزی زبان کے ایک اور اخبار ’دی نیشن‘ نے اپنے اداریے کی ابتدا ہی میں یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک ایسا فیصلہ نہیں تھا جو 20 برس تک یاد رکھا جائے اور نہ ہی اس فیصلے نے وزیر اعظم کو الزامات سے بری کیا ہے۔ انگریزی زبان کے لاہور سے شائع ہونے والے اخبار ‘پاکستان ٹوڈے’ نے ‘منقسم فیصلے کے مضمرات’ کے عنوان سے اپنے ادارے کی پہلی سطر میں لکھا کہ جو فیصلہ تاریخی کہہ کر پیش کیا گیا اس نے بہت سے لوگوں کو حیران اور پریشان کر دیا ہے۔ تمام بڑے اخبارات اس بات پر متفق ہیں کہ یہ فیصلہ حکمران خاندان کے لیے خوشیاں منانے کا کوئی جواز فراہم نہیں کرتا اور ان پانچ ججوں نے وزیر اعظم کو کرپشن کے سنگین الزامات سے مکمل طور پر پاک نہیں کیا ہے۔

روزنامہ ڈان نے مشترکہ تحقیقاتی کمیشن میں فوج کے نمائندوں کو شامل کرنے کے اہم نکتے پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ روزنامہ ڈان کا کہنا ہے کہ ملٹری انٹیلیجنس اور پاکستان فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے نمائندوں کو اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا جانا ایک لحاظ سے سویلین اداروں پر عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے سویلین امور میں فوج کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے اور ہونا تو یہ چاہیے کہ سویلین امور سویلین ادارے ہی حل کریں۔

’مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل میں فوج کے نمائندوں کو شامل کیا جانا خاص طور پر ایک وزیر اعظم کے خلاف مالی اور قانونی امور کی تحقیقات کے لیے ایک غیر معمولی قدم ہے اور ایک ایسی مثال ہے جو کہ قائم نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘ اخبار کہتا ہے کہ ماضی میں سیاسی طور پر کشیدہ ماحول میں بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کا خاص طور پر ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے اور یہ راستہ ایک بند گلی میں ختم ہوتا ہے۔

اردو زبان کا روزنامہ جنگ اپنے اداریے کے آخر میں لکھتا ہے کہ یہ فیصلہ اس اعتبار سے یقیناً تاریخ ساز ہے کہ پاکستان میں بھی ملک کے سب سے بااختیار منصب پر فائز شخصیت کو ملک کے تحقیقاتی اداروں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا جس سے عدل و انصاف کی بالادستی کی نئی اور شاندار روایت قائم ہو گی۔ روزنامہ ڈیلی ایکسپریس نے اپنے اداریے کا اختتام بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس خزانے کے اصل ماخذ کا پتا چلنا ابھی باقی ہے لیکن اس ڈارمے کے ڈراپ سین کے لیے شاید فیوڈر ڈسٹووسکی کے مشہور ناول ’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘ سے کچھ نکالنا پڑے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

کیا دہشتگردی کے خاتمے کا کوئی شارٹ کٹ ہے؟

دہشتگرد چھوٹے گروہوں کی صورت میں کام کرتے ہیں، اور کبھی کبھی انفرادی طور پر بھی، اور آرام سے عوام میں گھل مل سکتے ہیں۔ چوں کہ انہیں زمان و مکان کی پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اس لیے وہ آسان اہداف کی ایک وسیع رینج سے اپنے اہداف کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے جیسے دوسروں کے ساتھ نیٹ ورک بنا سکتے ہیں، اور اکثر اوقات ان کی امداد وہ ملکی و غیر ملکی قوتیں کرتی ہیں جو ریاست اور اس کے نظام کو اپنا دشمن تصور کرتی ہیں۔ ان تمام اثاثوں، اور جدید ٹیکنالوجی اور مواصلات کے ذرائع آج کے دہشتگردوں کو کافی لچکدار بناتے ہیں اور قانون کی گرفت سے بچ نکلنے میں مدد دیتے ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی اور انٹیلیجنس بیورو جیسے خفیہ ادارے ایک مناسب حد تک درست بڑا پس منظر سمجھنے میں کامیاب ہو جائیں، مگر دہشتگردوں پر لمحہ بہ لمحہ نظر رکھنا بہت مشکل ہے۔ (پولیس کی اسپیشل برانچ کی ملک بھر میں موجودگی مدد کر سکتی ہے مگر اسے ایک عرصے سے نظرانداز کیا گیا ہے۔) ان اکا دکا واقعات میں جہاں ہمیں ‘قابلِ عمل معلومات’ ملتی بھی ہیں، وہاں پر ذمہ داران کو پکڑنے کے لیے صرف خفیہ طریقے ہی سب سے زیادہ کام آ سکتے ہیں۔ مگر اس طرح کے آپریشنز میں عرق ریز منصوبہ بندی، نہایت غور و خوض کے بعد عملی اقدام، اور ڈھیر سارا صبر درکار ہوتا ہے۔ اور اگر یہ آپریشنز کامیاب ہو بھی جائیں، تب بھی یہ کچھ افراد کو تو ختم کر سکتے ہیں، مگر انہیں دہشتگردی پر اکسانے والے عوامل کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔

دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے سیاسی اور انتظامی اقدامات کے علاوہ شہریوں کی باقاعدہ سرگرمی بھی درکار ہے۔ اگر ہمیں یہ پتہ بھی ہو کہ یہ کام کیسے کیا جائے گا، تب بھی یہ نہایت طویل مرحلہ ہو گا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی دہشتگردی کا ایک بڑا واقعہ یا سلسلے وار واقعات ہوتے ہیں، جیسے کہ یہاں اکثر ہوتے ہی رہتے ہیں، تو عوام کو فوراً ‘ایکشن’ چاہیے ہوتا ہے۔ پھر اس وقت ریاست کو یا تو کچھ کرنا پڑتا ہے، یا کم از کم یہ دکھانا ضرور پڑتا ہے کہ وہ کچھ کر رہی ہے۔ ایسے واقعات کے رونما ہونے پر انسدادِ دہشتگردی کے اصولوں کو (ہر ملک میں) شارٹ سرکٹ کر دیا جاتا ہے۔ ہماری اپنی مثال لیتے ہیں۔ شمالی وزیرستان کو خالی کروانا اس لیے ضروری تھا کہ دہشتگرد عوام میں گہرائی تک گھل مل چکے تھے (افسوس کی بات ہے کہ کراچی اور لاہور کو ایسے ہی خالی نہیں کروایا جا سکتا۔)

یہ یقینی بنانے کا کوئی راستہ نہیں تھا کہ دہشتگرد نکلنے میں کامیاب نہ ہوں اور ایک اور جنگ لڑنے کے لیے باقی نہ رہیں۔ پھر جب وہ نکلنے میں کامیاب ہو گئے، تو کچھ نہ کچھ کرنا ضروری تھا۔ چنانچہ ہم نے افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا۔ ہم نے چار دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کو سنبھالا تھا۔ انسانی ہمدردی کے علاوہ یہ پڑوسی ملک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی ایک کوشش بھی تھی۔ مگر جب ہمارے پاس آسان آپشنز ختم ہونے لگے تو ہمیں ان کو ملک بدر کر دینا ہی واحد حل لگا۔ اور بھلے ہی ان کے درمیان موجود دہشتگرد (اگر تھے تو) اس دوران ادھر ادھر منتقل ہو گئے ہوں، پھر بھی مقتدر قوتیں اسے ‘سخت ایکشن’ ضرور قرار دے سکتی تھیں۔

ہم امریکا، اسرائیل اور انڈیا کو عسکریت پسند پیدا کرنے والی آبادیوں کے خلاف طاقت کے بہیمانہ استعمال پر تنقید کا نشانہ بنا سکتے ہیں، مگر اپنے قبائلی علاقوں پر بمباری کرتے وقت ‘کولیٹرل ڈیمیج’ کا نام لینا بھی شجرِ ممنوعہ تھا۔

کیا اس سے فرق پڑتا ہے کہ مندرجہ بالا ولنز کے برعکس ہم اپنے ہی لوگوں پر بمباری کر رہے تھے، اور کیا کسی کو معلوم ہے کہ ان میں سے کتنوں نے اپنے خاندان کے افراد اور اپنے دوستوں کو اور اپنی تمام تر جائیداد کو گنوایا ہے؟

صرف اس لیے کہ ہمارے پاس انسدادِ دراندازی کے پہلو اصول پر عمل کرنے کے لیے نہ وقت تھا نہ صبر، اور وہ اصول یہ ہے کہ طاقت صرف غیر عسکری طریقوں کا استعمال ممکن بنانے کے لیے استعمال کی جائے۔

یہ ماننا ہوگا کہ ‘پختونوں کے خلاف نسلی تعصب’ پر مچنے والا شور کافی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا، مگر کسی خام شکل میں کسی مقامی سطح پر ایسا ضرور ہوا تھا، شاید کسی کی ‘ایکشن’ کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے۔ اگر اس سے کچھ دہشتگرد پکڑے گئے تو مجھے معلوم نہیں، مگر اس نے تمام غلط حلقوں کو درست ایندھن فراہم کیا۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ کتنے ممکنہ خودکش بمبار ہمارے ملک میں ہر جگہ نظر آنے والے ناکوں پر پکڑے گئے، مگر مجھے خوشی ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی اپنے آپ کو اس وقت نہیں اڑایا جب سینکڑوں گاڑیاں ان بیریئرز میں سے گزر رہی ہوتی ہیں۔

کم از کم آپ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر ‘کچھ نہ کرنے’ کا الزام نہیں عائد کر سکتے۔

افغان مہاجرین کے ہمارا پسندیدہ نشانہ بننے سے قبل یہ مدارس تھے جو ‘دہشتگردوں کی نرسریاں’ کہلوا کر ہمارے نشانے پر آتے تھے۔ سیاسی سائنسدان رابرٹ پیپ جیسے محققین کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق دہشتگرد حملوں میں ملوث افراد کا پانچویں سے بھی کم حصہ مدارس گیا تھا، جبکہ دو تہائی سے زیادہ نے کالجوں یا اس سے زیادہ تک کی تعلیم حاصل کی تھی۔ مگر کیوں کہ ہم یونیورسٹیاں بند نہیں کر سکتے، اس لیے ‘عسکریت پسند ذہنیت’ کا ذمہ دار مدارس کو ہی ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ دہشتگردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے کوئی بھی حل اتنا ناپائیدار نہیں ہوسکتا جتنا کہ ہمارا تازہ ترین نعرہ — ‘دہشتگرد کی برین واشنگ کی گئی ہے، انہیں متبادل بیانیہ پڑھانا ہو گا۔’

کوئی بھی شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ خود کو اڑا دینے کی حد تک اپنے مقصد سے سچے لوگوں کو صرف کچھ باتیں پڑھا کر درست کیا جا سکتا ہے، اسے یہ معلوم ہی نہیں کہ انتہا پسندی سے اعتدال پسندی تک لانے کے لیے مستقل مزاج اور غور و خوض سے بھرپور ایکشن کی بہتات درکار ہوتی ہے۔ مگر جب نیشنل ایکشن پلان بھی وہاں کوئی تحرک پیدا نہیں کر سکا ہے جہاں کرنا چاہیے تھا، یعنی کہ سول سوسائٹی میں، تو وہاں ہمارے پاس صرف بیانیہ ہی رہ جاتا ہے۔

اور اگر وہ بھی کام نہ کرے، تو ہم دہشتگردی کے خلاف کامیابی کے ثبوت کے طور پر کرکٹ میچ تو کبھی بھی کروا سکتے ہیں۔

اسد درانی

انجامِ گلستاں کیا ہو گا ؟

ہم جنھیں انتخابات میں بھاری اکثریت سے منتخب کرتے ہیں وہ کوئی معمولی لوگ تو نہیں۔ ہم انھیں اپنی قسمت کی باگ پکڑاتے ہیں۔ یہ ارکان ہمارے لیے قانون سازی کرتے ہیں ، صحت و صفائی ، روزگار ، دفاع ، داخلہ اور خارجہ امور وغیرہ سے متعلق پالیسیاں بناتے ہیں۔ اندرونِ ملک دہشت گردی سے نبرد آزمائی کے لیے گائیڈ لائن فراہم کرتے ہیں ، انھی میں سے کوئی اسپیکر ، وزیرِ اعظم ، وزیرِِ اعلی وزیر بنتا ہے۔ انھی میں سے پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے سربراہ اور ارکان نامزد ہوتے ہیں جو مختلف محکمہ جاتی پالیسیوں اور افعال کا محاسبہ کرتے ہیں۔انھی ارکانِ پارلیمان و صوبائی اسمبلیوں کو بیرونِ ملک نیلے پاسپورٹ پر اقوامِ متحدہ سے لے کر واشنگٹن اور بیجنگ تک دورے کر کے  کشمیر ، افغانستان ، سمیت خارجہ پالیسی کے مقاصد دنیا کو سمجھانے کا موقع ملتا ہے۔ یہی لوگ حکومتیں گراتے بناتے ہیں ، بجٹ منظور کرتے ہیں اور اپنے اپنے ووٹرز یا خاندان  کے لیے رول ماڈل بھی ہوتے ہیں۔

ان میں سے کوئی بھی انگوٹھا چھاپ نہیں۔ زیادہ نہیں تو کم ازکم پرائمری تک ضرور پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ بطور منتخب جمہوری نمایندہ تعلیمی اداروں میں مہمانِ خصوصی بنتے ہیں۔ طلبا کو اچھا پاکستانی بننے کا درس بھی دیتے ہیں۔ یہ بھی بتاتے ہیں کہ پاکستان کتنی قربانیوں سے حاصل ہوا اور اس ملک کو نئی نسل سے کیا کیا توقعات ہیں۔ یہ نمایندے اہم قومی دنوں پر منعقد ہونے والی شاندار تقاریب و پریڈوں میں مہمان ہوتے ہیں اور لمبی لمبی تقاریر سنتے اور کرتے ہیں۔

ان نمایندوں کو محمد علی جناح کے کچھ فرمودات اور علامہ اقبال کے کم ازکم دو شعر وزن میں بھی یاد ہوتے ہیں جو انھوں نے کبھی پہلی دوسری جماعت میں ہی سہی مگر پڑھے ضرور ہوں گے۔ ان ارکانِ اسمبلی نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر دس منٹ کے لیے سہی کسی نہ کسی چھوٹی موٹی لائبریری میں قدم رنجہ بھی فرمایا ہوگا۔ ہو سکتا ہے ان کے اپنے گھر یا دفتر میں پاکستان کے بارے میں کوئی نہ کوئی چھوٹی موٹی کتاب بھی شیلف پے دھری ہو جو انھیں کسی نے تحفے میں دی ہو۔ کبھی نہ کبھی اس کتاب پر ان کا ہاتھ پڑا بھی ہو گا۔

ہم جنھیں بطور نمایندہ اپنا حال سنوارنے کی آس میں ووٹنگ کی لائن لگا کر منتخب کرتے ہیں ان میں سے ننانوے فیصد ارب پتی نہیں تو کروڑ پتی یا کم ازکم لکھ پتی تو ہوتے ہیں۔ ان کے بچے اچھے نہ سہی درمیانے اسکولوں میں ضرور پڑھ رہے ہوں گے۔ ان بچوں کے ساتھ کبھی کبھی ان کی علمی ٹائپ مختصر بحث بھی ہوتی ہو گی۔ ان ارکانِ اسمبلی کے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ نہ سہی مگر اینڈورائڈ فون تو ہوتا ہی ہو گا اور انھیں یہ بھی معلوم ہو گا کہ اس فون پر حصولِ معلومات کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت بھی ہے۔ ہم جنھیں اپنے بہتر مستقبل کی آس میں منتخب کرتے ہیں ان کے لیے ہر اسمبلی بلڈنگ میں ایک عدد لائبریری بھی ہوتی ہے جو اس آس میں کھلی رہتی ہے کہ کبھی تو کوئی بھولا بھٹکا آئے گا اور چند منٹ میرے ساتھ گذارے گا۔

یہ نمایندے جن جماعتوں کی نمایندگی کرتے ہیں ان میں سے کوئی خود کو پاکستان کی وراثتی امین کہتی ہے ، کوئی نیا پاکستان تعمیر کرنا چاہتی ہے ، کوئی اس میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتی ہے ، کوئی اسے روشن خیال مساواتی وفاق بنانا چاہتی ہے۔ لہذا ہم توقع رکھتے ہیں کہ یہ جو کہہ رہے ہیں جانتے ہیں اور جو کر رہے ہیں اس کا پورا شعور رکھتے ہیں۔ انھیں کم ازکم اتنی بنیادی آگہی ضرور ہوگی کہ پاکستان کیوں بنا ، اس سفر میں کیا کیا مرحلے آئے ، کیا کیا غلطیاں ہوئیں تا کہ ان کا دوبارہ اعادہ نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کسی خوانچہ فروش کو یہ سب جاننے یا سمجھنے کی ضرورت نہ ہو مگر جسے ہم منتخب کر رہے ہیں کم ازکم اسے پاکستان کے بارے میں بنیادی باتیں ، اہم تاریخیں اور اہم شخصیات کے نام ہی معلوم ہوں۔ تا کہ جب وہ بطور ایم پی اے ، ایم این اے ، چیئرمین ، وزیر ، مندوب کسی سی ایس ایس پاس ماتحت بیوروکریٹ سے بات کر رہا ہو یا اسے احکامات دے رہا ہو یا پالیسی بنا رہا ہو یا کسی سفیر سے مل رہا ہو تو کوئی اسے بنیادی قومی حقائق کے بارے میں چیلنج نہ کر سکے۔

دوسری جماعت میں پڑھنے والے بچے سے بھی توقع ہوتی ہے کہ وہ تئیس مارچ چودہ اگست ، اقبال ، جناح  اور دیگر قومی اکابرین کے بارے میں بالکل بنیادی معلومات ضرور رکھتا ہو گا۔ اس کم ازکم توقع کے ساتھ ڈان نیوز نے تئیس مارچ کی اہمیت کے بارے میں ارکانِ اسمبلی کی علمیت سے فیض پانے کا سوچا۔ قرار دادِ پاکستان چونکہ لاہور کے منٹو پارک میں مولوی اے کے فضل الحق نے پیش کی اور چوبیس مارچ کو متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ لہذا اسی لاہور میں قائم پنجاب اسمبلی کے احاطے میں موجود ارکانِ اسمبلی کی جانب مائکروفون کر دیا گیا یہ سوچے بغیر کہ کس کا تعلق کس جماعت سے ہے۔ سوال صرف اتنا تھا کہ قرار داد ِ پاکستان کب ، کس نے  کہاں پیش کی اور اس میں کیا بنیادی مطالبہ کیا گیا تھا ؟ جوابات ملاحظہ فرمائیے۔

’’ دیکھئے یہ قرار داد تئیس مارچ کو منظور ہوئی اور یہ بہت بڑی قرار داد تھی ’’۔( شہزاد منشی۔ مسلم لیگ ن )۔

’’ مجھے ٹھیک طور سے تو یاد نہیں مگر میرا خیال ہے کہ یہ سرسید احمد خان نے پیش کی تھی ’’۔ ( شعیب صدیقی۔ پاکستان تحریکِ انصاف )۔

’’ تئیس مارچ کو قرار داد چوہدری رحمت علی نے پیش کی تھی اور سال تھا انیس سو چھیالیس’’۔ (کنول نعمان۔ مسلم لیگ ن )۔

’’ شائد انیس سو چالیس میں۔۔۔ایک منٹ۔۔ یہ مائک ہٹائیں ’’۔ ( سعدیہ سہیل۔ پاکستان تحریکِ انصاف)۔

’’ میرا خیال ہے قائدِ اعظم نے پیش کی تھی انیس سو تینتالیس یا بیالیس میں۔مجھے پتہ ہوتا تو تیاری کر کے آتی۔ ایسے نہ پوچھا کریں ’’۔( فرزانہ بٹ۔ مسلم لیگ ن)۔

چلیے صوبائی اسمبلی کے ارکان کو اور بہت سے کام ہوتے ہیں اگر یاد نہیں یا غلط یاد ہے تو کوئی بات نہیں۔ مگر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کو یقیناً آگہی ہوگی۔ کیونکہ سب اہم نظریاتی و تاریخی فیصلے تو بہرحال اسلام آباد میں ہی ہوتے ہیں۔ لہذا بچارا مائکروفون پارلیمنٹ کے پچھلے دروازے پر پارکنگ لاٹ میں اپنی اپنی گاڑیوں کے انتظار میں کھڑے ارکانِ پارلیمان کی جانب بڑھا۔ جی قرار داد پاکستان کب کہاں کس نے کیوں پیش کی تھی ؟

’’ مجھے یاد نہیں کہ کہاں پیش ہوئی تھی ’’۔( سینیٹر نعمان وزیر تحریکِ انصاف )۔

’’ اتنی تفصیل آپ کو کیسے بتاؤں۔ ہم ہسٹری کے طالبِ علم ہیں۔ لیکن آپ بہت چھوٹے ہیں اور سوال بہت بڑا ہے ’’۔ ( اکرم درانی سابق وزیرِ اعلی خیبر پختون خوا ، ایم این اے جمعیت علماِ اسلام )۔

’’ دیکھئے قرار دادِ پاکستان کا یہ تھا کہ جو ہمارا لاہور کا مینار بنا ہوا ہے مینارِ پاکستان۔ یہ ایک جگہ ہے جو ہم نے بنائی ہے۔ اور ہمارے جو اکابرین تھے تحریکِ پاکستان کے جن میں قائدِ اعظم محمد علی جناح اور دیگر لوگ تھے۔ انھوں نے تحریکِ پاکستان میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا ’’۔ ( شیخ صلاح الدین ایم این اے۔ ایم کیو ایم )۔

’’ بیٹے مجھے معلوم ہے۔ تئیس مارچ انیس سو چالیس کو ایک قرارداد پیش ہوئی تھی۔ اس میں قائدِ اعظم بھی تھے۔ علامہ اقبال تھے یا نہیں تھے مجھے یاد نہیں ’’۔( سینیٹر الیاس بلور۔ عوامی نیشنل پارٹی )۔

’’ یہ قرار داد جو آل پاکستان انڈیا مسلم لیگ نے پیش کی۔ اس کی کیا وجوہات تھیں ؟ اس کے لیے اس نے جدوجہد کی۔ اس جدوجہد کو آگے بڑھانا چاہیے‘‘۔ ( ڈاکٹر رمیش کمار ایم این اے مسلم لیگ ن )۔

’’ میں پوری ہسٹری تو نہیں جانتا لیکن مجھے یاد ہے کہ قرار دادِ پاکستان پیش کرنے والے پاکستان میں نہیں ہیں۔ ہمیں نیشنل ہیروز پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ وہ آج یوکے میں دفن ہیں۔ اگر ہم ان کو لے آتے تو تئیس مارچ دوبالا ہو جاتا۔ اب آپ کی سمجھ میں آ گیا‘‘۔ یہ تھی سابق وزیرِ داخلہ اور موجودہ سینیٹر رحمان ملک کی تحقیق جنھیں کراچی یونیورسٹی اعزازی ڈاکٹریٹ سے بھی نواز چکی ہے۔ ( غالباً رحمان ملک کا اشارہ چوہدری رحمت علی کی جانب تھا جو کیمبرج میں دفن ہیں کیونکہ قرار داد پیش کرنے والے مولوی فضل الحق تو ڈھاکے میں محوِ آرام ہیں )۔

یقیناً ہماری اسمبلیوں میں رضا ربانی ، ایاز صادق ، فرحت اللہ بابر ، اعتزاز احسن ، مشاہد حسین ، شیریں مزاری جیسے درجنوں بہت ہی پڑھے لکھے جان کار لوگ بھی موجود ہیں جن کے سبب یہ ملک چل رہا ہے۔ مگر ہر ایک علمی انجن کے پیچھے لاعلمی کے جو درجنوں ڈبے لگے ہوئے ہیں وہ کس گنتی شمار میں ہیں۔کیا وہ محض حق میں یا خلاف ہاتھ کھڑے کرنے والے روبوٹس ہی رہیں گے ؟ کیا قسمت پائی ہے تئیس مارچ کی قرار داد سے پیدا ہونے والے پاکستان نے۔

وسعت اللہ خان

حسین حقانی نیٹ ورک

حسین حقانی سفارت کاری کی ’میرا‘ بنتے جا رہے ہیں۔ حقانی صاحب کو اچھی طرح علم ہے کہ کب، کیسے اور کس طرح سے میڈیا کی توجہ حاصل کرنی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھا گیا اُن کا حالیہ کالم ہی اُٹھا کر دیکھ لیں، کہ وہ کالم بادی النظر میں تو ٹرمپ کے مسئلے پر لکھا گیا تھا لیکن آدھے سے زیادہ کالم میں اپنی کہانی اور اپنی اہمیت جتاتے رہے اور پاکستانی میڈیا میں اُن کے بطور سفیر کردار پر بحث اور انگلیاں اُٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ یہ کالم اگر کسی عام لکھاری نے لکھا ہوتا تو یقینًا نتائج مختلف ہوتے، عین ممکن ہے کہ وہ شائع ہی نہ ہوتا اور اگر ہوتا بھی تو اُس میں بیان کردہ باتوں کے مطابق سخت ایکشن لیا جاتا، کیونکہ حسین حقانی نے اپنے کالم میں خود کو غدار ثابت کیا ہے اور وہ آئین کے مطابق غداری کی ہر تعریف پر پورا اُترتے ہیں۔

حسین حقانی کا ماضی انتہائی شاندار ہے جو کہ ثابت کرتا ہے کہ اگر آپ ’کیٹ فش‘ ہیں تو آپ کو جھیل سوکھنے سے پہلے ہی اپنا بندوبست کرلینا چاہیئے۔ بطورِ سفیر، حقانی کی سری لنکا میں تعیناتی کے ابواب تو پھر سہی لیکن جب زرداری حکومت نے اپنے دوستوں کو نوازنے کا سلسلہ شروع کیا تو حسین حقانی اُن لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بہتی گنگا میں صرف ہاتھ ہی نہیں دھوئے بلکہ جی بھر کر نہائے۔ اُنہوں نے اپنی وفاداری کے عوض امریکہ میں بطور سفیر تعیناتی کروائی، اُس کی وجہ وہ اپنے کالم میں اپنا امریکی حلقوں میں اثر و رسوخ بتاتے ہیں جبکہ پڑھنے والے سمجھتے ہیں کہ ایسا اثر حاصل کرنے کیلئے انسان کو اخلاقی سطح سے کتنا نیچے گرنا پڑتا ہے۔Hussain-Haqqani-Edward-Said-Hall-11-Aug-2014-003

ابتداء میں حسین حقانی ملک کی سب سے بڑی طلبہ تنظیم سے منسلک رہے تھے اور اُس دور میں وہ باقاعدگی کے ساتھ کراچی میں قائم امریکی قونصل خانے کی لائبریری جاتے تھے۔ اُس کے بعد صحافت کا آغاز کیا اور وائس آف امریکہ ریڈیو کیلئے افغانستان کی جنگ کو کور کیا۔ ضیاء الحق کی مدد سے انہوں نے اپنا سیاسی سفر شروع کیا اور بعد میں نواز شریف کے قریب ہو گئے۔ اُس کے بعد اُنہوں نے بینظیر بھٹو کا کیمپ جوائن کیا اور فوائد سمیٹے۔ زرداری سے دوستی انہوں نے 2008ء میں کیش کروائی جب وہ امریکہ میں سفیر تعینات رہے۔ وقت کو سمجھنے والے حقانی نے مشرف دور کا بیشتر حصہ امریکہ میں گزارا۔

زرداری دور میں جب امریکہ نے پاکستان کے علم میں لائے بغیر اُسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کیا تو سب ہی کہہ رہے تھے کہ یہ ’ان سائیڈ جاب‘ ہے۔ تاہم چند ہی دنوں کے بعد میموگیٹ کا اسکینڈل شروع ہو گیا اور میڈیا سے بن لادن اسٹوری پسِ منظر میں چلی گئی۔ اُس دوران حسین حقانی نے استعفیٰ دیا اور چند روز کے بعد پاسپورٹ تھام کر امریکہ سدھار گئے۔ آج کل وہ امریکہ میں بطور سمدھی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور وقتاً فوقتاً ہمیں یہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ اُنہوں نے حکومت اور قوم کو کیسے بیوقوف بنایا۔ حقانی کا انجام کیا ہو گا، یہ ہمارا آج کا موضوع نہیں ہے۔ تاہم حقانی نے امریکی جریدے کے کالم میں جو اعتراف کئے ہیں وہ کس نوعیت کے ہیں، یہ ہمارا موضوع ہے۔

حسین حقانی نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے بن لادن آپریشن میں امریکہ کی مدد کی تھی اور یہ مدد ’آؤٹ آف دی وے‘ تھی۔ یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ کیا وہ یہ مدد کرنے کے مجاز تھے کیونکہ وہ اُس وقت امریکہ میں بطور سفیر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے اور یہ سفیر کے کرنے کے کام نہیں ہیں اور نہ ہی اُن کے ایس او پیز میں یہ بات شامل ہوتی ہے۔ کیا پیپلز پارٹی اُن کے اقدامات سے آگاہ تھی؟ اِس کا جواب حقانی نے اپنے کالم میں خود ہی دیا ہے کہ اُس وقت کے صدر اور وزیر اعظم اُن کے اقدامات سے نہ صرف آگاہ تھے بلکہ معاون بھی تھے اور منظوری بھی دے رہے تھے۔

اب پیپلز پارٹی کی قیادت سے بھی سوال ہونا چاہیئے کہ آپ کے کیمپ میں ایک غدار کیا کررہا تھا؟ جس کی وفاداریاں پاکستان سے زیادہ امریکیوں کیلئے تھیں اور جس نے پاکستان سے پہلے امریکہ کا سوچا۔ کیا آرمی کو اُن اقدامات کا علم تھا؟ حسین حقانی نے تسلیم کیا ہے کہ اُنہوں نے سی آئی اے کے جاسوس پاکستان لانے میں اہم کردار ادا کیا اور اُن کو ویزے جاری کئے۔ لگے ہاتھوں وہ یہ بھی بتا دیتے کہ کتنے جاسوس اِس ملک میں آئے؟ وہ کون سے آلات یہاں لائے؟ اِس سے پاکستان کی سیکیورٹی کس حد تک کمزور ہوئی اور یہ جاسوس اب کہاں ہیں؟

یہ بھی بتا دیتے کہ اُن جاسوسوں کا کام صرف بن لادن کی تلاش نہیں تھا بلکہ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی جاسوسی کرنے بھی آئے تھے اور وہ اِس میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں، تو اِس کا جواب ہے کہ امریکہ کے وہ جاسوس ابھی تک ناکام ہیں کیونکہ الحمد اللہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام جاری ہے۔ اب سوال اُٹھتا ہے کہ اگر پاکستان کا سفیر امریکہ میں یہ گل کھلاتا رہا ہے تو اُس کے نیچے کا عملہ کیا کرتا رہا ہو گا؟ اگر اعلیٰ ترین عہدے پر فائز شخص ایسا گھٹیا اور غدار ہے تو وہاں موجود دیگر عملے کی صورتحال کیا ہے؟

کیا اب یہ ضرورت نہیں کہ بیوروکریسی پر شکنجہ کسا جائے جو کہ تمام ہی مسائل کی جڑ معلوم ہوتی ہے، فوج پر تو منہ اُٹھا کر کوئی بھی تنقید کر لیتا ہے، بیورو کریسی کا احتساب کب ہو گا اور اب جب کہ اُن کے قبیلے کے ایک اہم سردار نے اپنی غداری بھی تسلیم کر لی ہے۔ میری ذاتی نظر میں حسین حقانی نے جو بھی کیا ہے، اُس نے یہ کام اکیلے نہیں کئے ہیں بلکہ امریکہ میں رہتے ہوئے بھی پاکستان میں اپنے نیٹ ورک کے ذریعے اُس نے یہ تمام کام کئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں اُس نیٹ ورک کے خلاف کوئی آپریشن ہو گا؟ کیونکہ اِس ’حقانی نیٹ ورک‘ کے خلاف آپریشن کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

کیا حسین حقانی کے اعتراف غداری کے زمرے میں نہیں آتے ہیں؟ اگر ایک آرٹیکل کو بنیاد بنا کر پورا چینل بند کیا جا سکتا ہے، ایک آرٹیکل یا رپورٹ کو بنیاد بنا کر حملے کئے جا سکتے ہیں، ایک آرٹیکل کو بنیاد بنا کر آپریشنز کئے جا سکتے ہیں تو ایک اعترافی آرٹیکل کو بنیاد بنا کر سابق سفارتکار پر غداری کا مقدمہ کیوں نہیں چل سکتا؟ اگر قانون طاقتور ہے اور ملک میں قانون کی حکمرانی ہے تو پھر ایسا ہونا چاہیئے وگرنہ دوسری صورت میں اگر حسین حقانی کو نشان عبرت نہیں بنایا جاتا ہے تو یہ باقی ماندہ بیوروکریسی کیلئے کیسی مثال ہوگی، یہ سوچنے کی بات ہے۔

سالار سلیمان

غداری بذریعہ قرعہ اندازی

سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو جنرل ضیا الحق کے جنازے کی آبدیدہ رننگ کمنٹری کرنے کے بعد مردِ مومن  کی آنکھوں کے تارے وزیرِ اعلی پنجاب اور آئی جے آئی کے صدر میاں نواز شریف کے مشیرِ اطلاعات، سابق وفاقی سیکریٹری اطلاعات، سری لنکا میں نواز شریف حکومت اور امریکا میں زرداری حکومت کے سابق سفیر حسین حقانی کو غدار کہنے سے اگر مسئلہ حل ہو جاتا ہے تو میں بھی کہہ دیتا ہوں غدار غدار حقانی غدار۔ لیکن پھر ضیا دور سے آج تک حسین حقانی کی طرح حالات کی ہوا کا رخ دیکھ  کر ایک سے دوسرا پینترا اور چولا بدلنے والی اسٹیبلشمنٹ کو کیا کہوں جو اپنی بقا کے لیے کبھی شیر کے ساتھ دوڑتی ہے کبھی شکاری کے ساتھ اور کبھی بیک وقت دونوں کے ساتھ۔ جو یو ٹرن کو بھی خطِ مستقیم ثابت کرنے  کے فن میں طاق ہے۔ جسے ہر آڑھے ٹیڑھے موڑ پر کوئی نہ کوئی بکرا چاہیے جو ابنِ الوقتی کے چرنوں میں قربان کرنے کے بعد دوڑ جاری رکھی جا سکے۔

مثلاً ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو تب ہی کیوں ایٹمی راز غیر ملکیوں کو بانٹنے کے اعترافِ جرم کی خاطر ٹی وی پر پیش کیا گیا جب یہ اعتراف حاصل کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ رہا۔ کیا اسلام آباد میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ اعترافی بیان سے پہلے کے دس پندرہ برس میں ڈاکٹر قدیر کیا کر رہے تھے، کہاں جا رہے تھے، کس سے مل رہے تھے، کیوں مل رہے تھے؟  بینک اکاؤنٹس کا اسٹیٹس کیا تھا، املاک کی سرمایہ کاری کہاں کہاں ہو رہی تھی؟ کیا یہ بات کسی کو سمجھائی جا سکتی ہے کہ کہوٹہ کے اوپر سے تو پرندہ بھی بنا اجازت نہیں گزر سکتا اور ڈاکٹر قدیر تنِ تنہا شمالی کوریا سے ایران اور لیبیا تک ایٹمی بلیو پرنٹس ایسے بانٹ رہے تھے گویا فارمولے نہ ہوں بوجھے میں بھری ریوڑیاں ہوں؟

آج بھی یہ سوال گہری قبر میں دفن ہے کہ کیا ڈاکٹر قدیر نے یہ کام تنِ تنہا کیا جیسا کہ سرکاری ریکارڈ میں دعوی کیا گیا ہے یا پھر اس گروہ میں اور بھی کئی پردہ نشین تھے جن کے نام بتانا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ آج تک کس مائی کے لال کو جرات ہوئی کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے کمیشن تو کجا کمیشن کی تشکیل کی آواز ہی بلند کر سکے۔ کمیشن کچھ نہ بتائے سوائے یہ کہ اس ایٹمی سکینڈل میں سلطانی گواہ کون کون ہے؟ اب آئیے حسین حقانی کے ویزہ کیس کی طرف۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکا اور پاکستان کے ستر سالہ تعلقات کبھی بھی ایسے نہیں رہے جو محض حکومتوں کے درمیان ہوں۔  دونوں ممالک کے حساس اور عسکری ادارے براہ راست بھی ایک دوسرے سے تعاون کرتے اور رابطے میں رہتے ہیں۔

سیٹو اور سینٹو میں پاکستان کی شمولیت کے بعد پشاور کے بڈابیر ایر بیس کی سہولت سے اسٹرٹیجک قربت اور ہم آہنگی کا جو رشتہ شروع ہوا اور افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت کے بعد سے دونوں ممالک کے دفاعی اور سراغ رساں اداروں کے درمیان تعاون نے قربت کی جو نئی شکل اختیار کی وہ بین الاقوامی تعلقات کا پھٹیچر سے پھٹیچر طالبِ علم بھی جانتا ہے۔ کم و بیش اسی نوعیت کی قربت پاک سعودی اور پاک چائنا اسٹیبلشمنٹ کے بھی مابین ہے پھر بھی اگر دعوی کیا جائے کہ دو طرفہ نوعیت کا کوئی بھی حساس معاملہ ان میں سے کسی بھی ملک کی اسٹیلشمنٹ سے پوشیدہ ہے۔ تو یہ بات ماورائے عقل محسوس ہوتی ہے۔

ضیا الحق کے دور میں جب ریگن کی سی آئی اے کے سربراہ ولیم کیسی کا گلیکسی طیارہ رات کے اندھیرے میں چکلالہ ایر بیس پر اترتا تھا تو کون سا امیگریشن افسر ان سے بصدِ ادب پوچھتا تھا سر پاسپورٹ پلیز ؟؟ یا امریکی رکنِ کانگریس چارلی ولسن اپنے دوستوں کے ساتھ وقت بے وقت پاکستان کے چکر لگاتے تھے اور ہر طرح کے پروٹوکول اور تحفظ کے مستحق سمجھے جاتے تھے اور ہر شخص سے براہ راست ملنا اپنا حق سمجھتے تھے تب کسی کے ذہن میں شائبہ کیوں نہیں تھا کہ یہ امریکی یہاں کیا اور کیوں کر رہے ہیں اور ان کے کیا اور کیوں کا علم اور ریکارڈ کس ادارے کے پاس ہے یا نہیں ہے؟ بڈبیر سے لے کر نائن الیون کے بعد تک پوشید و اعلانیہ تعلقات و تعاون کی طویل زنجیر میں حسین حقانی تو محض ایک کمزور سی کڑی ہے جسے اب پوری زنجیر کے برابر بتایا جا رہا ہے۔

چلیے مان لیا حسین حقانی نے سیکیورٹی اداروں کی کلیرنس سے بالا بالا گیلانی زرداری حکومت کے کہنے پر مشکوک امریکیوں کو ویزے جاری کیے۔ مگر سفارتخانے میں جو ویزا افسر پاسپورٹ پر سٹیکر لگاتے ہیں ان کا ماتھا کسی بھی نام پر کیوں نہیں ٹھنکا؟ ہر حساس سفارتخانے کی طرح واشنگٹن کے پاکستانی سفارتخانے یا امریکی شہروں میں قائم قونصل خانوں میں کوئی تو ملٹری اتاشی ہو گا۔ کوئی تو تھرڈ سیکریٹری ہو گا جو کسی حساس ادارے کا نمایندہ ہوگا۔ (اس میں حیران ہونے کی کوئی بات نہیں۔ دنیا بھر کی انٹیلی جینس ایجنسیوں کی جانب سے سفارتی افسروں کے روپ میں اپنے اہلکار متعین رکھنا ایک معمول کا سفارتی راستہ ہے)۔

کیا ان خصوصی سفارتی اہلکاروں کے ہوتے ہوئے بھی قومی حساس ادارے اندھیرے میں رہ سکتے ہیں؟ اگر ایسا نہیں تھا تو درونِ خانہ کسی حساس ادارے نے کبھی سویلین اہلکاروں سے پوچھا بھائی صاحب یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ کن امریکیوں کو ویزے دے رہے ہیں؟ چلیے مان لیا سویلین حکومت نے حساس قومی اداروں کو اس بابت اعتماد میں لینا مناسب نہیں سمجھا۔ لیکن اگر حساس اداروں کو یہ پتہ چل گیا تھا کہ امریکا میں پاکستانی سفارت خانہ من مانی کرتے ہوئے مشکوک ویزے جاری کر رہا ہے تو پھر جب یہ ویزہ ہولڈرز کسی پاکستانی ایرپورٹ پر اترے تو ان کے پیچھے کارندے لگائے گئے یا نہیں؟ اگر لگائے گئے تو یقیناً ان کی نقل و حرکت متعلقہ اداروں کے علم میں مسلسل رہی ہو گی۔ اگر نہیں لگائے گئے تو کیوں نہیں لگائے گئے؟

اگر دو مئی دو ہزار گیارہ کو ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈو ایکشن نہ ہوتا تو کیا پراسرار ویزوں کی کہانی کی الماری کا پٹ کبھی کھلتا؟ چلیے ایک کمیشن اس پر بھی سہی کہ کیا حسین حقانی نے بند کمرے میں خود پاسپورٹوں پر ٹھپے لگائے یا دیگر اہلکاروں سے جبری طور پر لگوائے کہ یہ راز دو مئی دو ہزار گیارہ سے پہلے تک سوائے زرداری و گیلانی کسی کو بھی نہ پتہ چلے۔ اس کا اہتمام حسین حقانی نے کیسے کیا؟

ایبٹ آباد واقعہ کی تہہ تک اترنے کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ آج ہی میں جیئد سابق سفارتکار اور ایبٹ آباد کمیشن کے رکن اشرف جہانگیر قاضی کا تازہ مضمون پڑھ رہا تھا۔ لکھتے ہیں کہ اس وقت کے صدر ، وزیرِ اعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف نے کمیشن کے سامنے شہادت قلمبند کروانے سے معذرت کر لی۔ حسین حقانی نے کمیشن کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ ایک معزز رکن کے اختلافی نوٹ سمیت حکومت کو پیش کر دی۔ پچھلے پانچ برس کے دوران پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے متفقہ قراردادوں میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ کمیشن کی رپورٹ جاری کی جائے۔ مگر حکومت نے گویا سنا ہی نہیں۔ قاضی صاحب نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ رپورٹ جاری کی جائے۔

اشرف جہانگیر قاضی نے الجزیرہ کی جانب سے لیک ہونے والی ایبٹ آباد کمیشن کی عبوری رپورٹ کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اس رپورٹ کے حوالے گڈ گورننس کے لیے پاکستان میں کام کرنے والی تنظیم پلڈاٹ نے بھی دو ہزار تیرہ میں جاری کیے۔ لیک ہونے والی عبوری رپورٹ میں ایبٹ آباد ایکشن کو پورے حکومتی نظام کی ناکامی قرار دیا گیا اور حملے سے پہلے اور بعد کے سرکاری ادارتی ردِعمل کو سستی، لاعلمی، غفلت، نااہلی اور غیر ذمے داری پر محمول کرتے ہوئے کہا گیا کہ متعلقہ اداروں نے یا تو اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں پوری نہیں کیں یا پھر اپنے قانونی دائرہ کار سے باہر نکل کے دیگر اداروں کی ذمے داریاں بھی اٹھانے کی کوشش کی ان ذمے داریوں کو نبھانے کی اہلیت کے بغیر۔

کیا کسی بھی حکومت میں اتنی جرات ہے کہ آیندہ ایسے تباہ کن واقعات سے بچنے کے لیے قومی غفلتوں کے پانیوں پر تیرتے ہوئے ایبٹ آباد کے مردے کو مکمل پوسٹ مارٹم کے بعد خود احتسابی کے کفن میں باعزت دفنا سکے؟  جب تک یہ لمحہ نہیں آتا تب تک ایسے سانحات و واقعات کے تابوتوں پر طرح طرح کے کمیشنی پھولوں کی چادر چڑھاتے رہیئے اور قرعہ اندازی کے ذریعے کسی ایک کو پکڑ کر اس پر غداری کا بوجھ لاد شہر میں گھماتے رہیئے۔ ہم بھی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے واہ واہ پکارتے تالی بازوں میں شامل رہیں گے۔

وسعت اللہ خان