پیشہ ور صاحبو تم بھکاری نہیں

شاید آپ کو یاد ہو لگ بھگ دو برس پہلے لاہور میں ایک ماں تین معصوم بچے لے کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔ ان بچوں کے گلے میں پڑے پلے کارڈز پر لکھا تھا ’غربت کے ہاتھوں مجبور برائے فروخت۔‘ اس کے بعد کئی شہروں میں پریس کلب یا مصروف چوک پر ہر چند روز بعد کوئی نہ کوئی مرد یا عورت اپنے بچوں کو ایسے ہی پلے کارڈز پہنا کر سڑک پر لانے لگا۔ شروع شروع میں تو میڈیا نے اس سٹوری کو کوریج بھی دی۔ کوریج بند ہوئی تو یہ بچے اور ان کے والدین بھی کہیں چلے گئے۔ بہت سی بسوں ویگنوں میں ایسے کردار بھی نظر آتے تھے جو سفر شروع ہوتے ہی مسافروں کی گود میں کارڈ پھینکنے لگتے۔ ان پر ایک ہی طرح کی عبارت درج ہوتی ’میں یتیم ہوں، پانچ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ گھر والی کو ٹی بی ہے، ایک بچی معذور ہے۔ اللہ کے نام پر کچھ امداد فرما دیجیے۔‘ کارڈ کے ایک کونے پر باریک سا لکھا ہوتا ہے ’مدینہ پرنٹنگ پریس۔‘

کچھ عرصے میں مسافر جب ان مجبوروں لاچاروں کو پہچاننے لگتے تو یہ کسی اور روٹ کی بس یا ویگن پکڑ لیتے۔ اب یہ کارڈ ہولڈر خاصے نایاب ہو چکے ہیں۔
ایک زمانے تک ایسے بھی کردار نظر آتے رہے کہ پرات میں چھولے بھرے ہیں اور سر پر اٹھائے چلے جا رہے ہیں۔ اچانک ٹھوکر لگنے سے گر پڑے یا چلتے چلتے گر کے بے ہوش ہو گئے یا پھر یکدم مرگی کا دورہ پڑا اور سڑک پر لیٹ کر تڑپنے لگے۔ چھولے زمین پر بکھر گئے۔ پانچ دس راہ گیر جمع ہو گئے۔ کوئی پانی پلاتا، کوئی پیٹھ سہلاتا، کوئی ترس کھا کر سو دو سو تھما دیتا اور تھوڑی دیر میں چھولے والا اٹھتا اور آہستہ آہستہ چل پڑتا۔ اگلے روز کی تیاری بھی تو کرنا تھی۔

کئی عورتیں یا مرد کسی ڈاکٹر کا نسخہ، دوا کا پیکٹ یا ایکسرے شیٹ لے کر چوک میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ گزرتے لوگ ان کی مدد بھی کر دیتے ہیں مگر اگلے روز پھر یہ مریض اسی جگہ اپنا ’طبی سامان‘ اٹھائے کھڑے ہوتے ہیں۔ یقیناً ان میں سے کچھ حقیقی ضرورت مند ہیں مگر لوگوں کی ہمدردی اور امداد حاصل کرنے کے یہ طریقے پیشہ ور حضرات اتنی تعداد میں نقل کرتے ہیں کہ اصل ضرورت مند نقلیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ انسان ہی نہیں کئی ریاستیں بھی اپنے مسائل، دکھ اور محرومیاں طرح طرح سے مارکیٹ کرتی ہیں تاکہ بغیر محنت کے ان حکمران طبقات کی روزی روٹی چلتی رہے جو اپنی قوم کو معذوری کے ریڑھے پر بٹھا کے دنیا بھر میں آواز لگانا قطعاً معیوب نہیں سمجھتے۔

آمدنی قرض کی شکل میں ہو کہ خیرات بس آتی رہے۔ مگر جو بھی مال آتا ہے وہ ریڑھا کھینچنے والا اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے۔ ریڑھے پر بٹھائی قوم کو دو وقت کی روٹی اور دلاسے کے سوا عموماً کچھ نہیں ملتا۔ چند ممالک نے ایک اور تکنیک ایجاد کی ہے۔ وہ دھمکی کی بنیاد پر امداد، خیرات و قرض اکھٹا کرتے ہیں۔ اگر تم نے ہماری مدد نہ کی تو ہمیں دہشت گرد کھا جائیں گے اس کے بعد تمہاری باری ہے۔ پھر مت کہنا کہ بروقت وارننگ نہیں دی۔ اگر تم نے ہمارا وظیفہ بند کیا تو بے روزگاری پھیلے گی اور مذہبی شدت پسند اس بے روزگار خام مال کو استعمال کرتے ہوئے اقتدار پر ووٹ یا بنا ووٹ قبضہ کر لیں گے۔ لہذا ہمیں ریاست چلاتے رہنے کے لیے پیسے بھی دو، سفارتی مدد بھی اور اسلحہ بھی۔ یہ تم ہم پر نہیں خود پر احسان کرو گے۔ خبردار جو کردار کشی کی۔

اگر تم نے یونہی ہاتھ روکے رکھا تو ہماری معیشت ڈوب جائے گی اور خانہ جنگی شروع ہو جائے گی اور یہ خانہ جنگی صرف ہماری چار دیواری تک ہی نہ رہے گی۔ اگر اس افراتفری سے فائدہ اٹھا کر کسی پاگل گروہ یا فرد نے ریاست کو یرغمال بنا لیا تو سوچو ہمارے ایٹمی ہتھیار کس کے ہاتھ میں ہوں گے؟ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے جلدی سے جیب ڈھیلی کرو۔ آج چار پانچ ارب ڈالر میں بھی کام چل جائے گا۔ کل کھربوں بھی خرچ کرو گے تو ہماری ریاست تحلیل ہونے کے بعد اردگرد پھیلنے والی تباہی پر قابو نہ پا سکو گے۔ کیا تم کروڑوں نئے پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھا پاؤ گے؟ ہم نے آج تک اپنی غیرت پر سمجھوتہ نہیں کیا، بس تمہارے بھلے کے لیے تمہیں آگاہ کر رہے ہیں۔

مگر یہ تحکمانہ کارڈ بھی دیگر طریقوں کی طرح زیادہ دیر نہیں چلتا۔ خیراتی رفتہ رفتہ جاننے لگتے ہیں کہ واقعی ریاست ڈوب رہی ہے یا ڈوبنے کی اداکاری کر رہی ہے۔ کوئی پاگل ہی ہو گا جو اپنے ریڑھے پے بیٹھے معذور یا ریاست کو مرنے دے۔ کمینہ خود نہ ترس جائے گا۔

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

Advertisements

ہمارا نظام بینکاری بھی گیم چینجر ہو سکتا ہے؟ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

پچھلی کئی دہائیوں سے مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے پاکستان میں قومی بچتوں کی شرحیں انتہائی پست رہی ہیں جبکہ گزشتہ 13 برسوں میں یہ شرح مزید گری ہے۔ مالی سال 2002-3ء میں بچتوں کی شرح 20.8 فیصد تھی جو 2015-16ء میں گر کر 14.3 فیصد رہ گئی۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ چین میں قومی بچتوں کا تناسب 46 فیصد، تھائی لینڈ میں 33 فیصد، بھارت میں 31 فیصد اور بنگلہ دیش میں 28 فیصد ہے۔ فوجی حکومت کے دور میں 2002ء اور 2004ء میں حکومتی شعبے کے دو بڑے بینکوں کو نجکاری کے نام پر غیر ملکیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بینکوں نے اجارہ داری قائم کر کے نفع و نقصان میں شراکت کی بنیاد پر لئے گئے کھاتے داروں کو اپنے منافع میں شریک کرنے کے بجائے ان کو دی جانے والی شرح منافع میں کٹوتی کر کے اپنا منافع بڑھانا شروع کر دیا۔ چند حقائق پیش ہیں:۔

(1) 1999ء میں بینکوں کا ٹیکس سے قبل مجموعی منافع 7؍ارب روپے تھا جبکہ بینکوں نے بچت کھاتے داروں کو اوسطاً 7 فیصد سالانہ منافع دیا تھا۔

(2) 2009ء میں 81؍ ارب روپے کا منافع ہوا مگر شرح منافع 5.1 فیصد رہی۔

(3) 2013ء میں منافع 162؍ارب روپے مگر شرح منافع 6.5 فیصد رہی۔

(4) 2016ء میں منافع 314؍ ارب روپے مگر شرح منافع 3.75 فیصد رہی۔

فرینڈز آف پاکستان کے 26؍ستمبر 2008ء کے اعلامیہ کے تحت آئی ایم ایف نے تباہ کن شرائط پر نومبر 2008ء میں پاکستان کے لئے 7.6؍ارب ڈالر کا قرضہ منظور کیا۔ اس کے فوراً بعد بینکوں نے گٹھ جوڑ کرکے صنعت، تجارت، زراعت اور برآمدات وغیرہ کے لئے بڑے پیمانے پر قرضے فراہم کرنے کے اپنے اصل کام کو جاری رکھنے کے بجائے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے حکومت کو بڑے پیمانے پر قرضے دینا شروع کر دئیے۔ اس فیصلے سے بھی معیشت کی شرح نمو متاثر ہوئی، روزگار کے کم مواقع میسر آئے، قومی بچتوں کی شرح گری اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ آگے چل کر اس بات کے شواہد اور زیادہ واضح ہو گئے کہ اس تباہ کن پالیسی کو آئی ایم ایف کی آشیر باد حاصل تھی جس سے بینکوں کا منافع تو یقیناً بڑھا مگر معیشت کو نقصان پہنچا۔ بینکوں کے مجموعی قرضوں اور مجموعی سرمایہ کاری کا تقابلی جائزہ نذر قارئین ہے:

(ارب روپے)

2008ء

2016ء

اضافہ

مجموعی سرمایہ کاری

1087

7509

6422

مجموعی قرضے

3173

5499

2326

مندرجہ بالا اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ 8؍ برسوں میں بینکوں کے مجموعی قرضوں میں صرف 2326؍ ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ سرمایہ کاری میں اضافے کا حجم 6422؍ ارب روپے رہا۔ واضح رہے کہ اسی مدت میں بینکوں کے ڈپازٹس میں 8186؍ ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔ اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ حکومت کو دئیے گئے قرضوں پر مشتمل تھا جو ٹیکسوں کی بڑے پیمانے پر چوری ہونے دینے سے پیدا ہونے والے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے دئیے گئے تھے۔ اس قسم کے تباہ کن فیصلے کی پاکستان تو کیا دنیا بھر میں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں جو پریشان کن پیش رفت شعبہ بینکاری میں ہوئی ہیں ان میں سے دو یہ ہیں:

(1) مارچ 2017ء میں شائع ہونے والے سندھ بینک کے سالانہ گوشواروں سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت سندھ کی ملکیت اور زیرانتظام سندھ بینک حیران کن طور پر زبردست مشکلات اور نقصان کا شکار نجی شعبے کے ’’سمٹ بینک‘‘ کو خرید کر اپنے اندر ضم کرنے کے لئے پرتول رہا ہے۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو اس سے صوبہ سندھ اور اس کے عوام کا نقصان ہو گا اور اس کا فائدہ سمٹ بینک کے مالکان کو ہو گا جن کے دور میں سمٹ بینک کو زبردست نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سمٹ بینک پہلے پاکستان میں بنگلہ دیش کا روپالی بینک تھا۔ یہ بینک بعد میں عارف حبیب بینک بنا اور پھر پیپلز پارٹی کے دور میں اکتوبر 2010ء میں اس وقت کی وفاقی حکومت کی آشیر باد اور اسٹیٹ بینک کی منظوری سے اس بینک کے اکثریتی حصص ماریشس کی ایک پارٹی کے حوالے کر دئیے گئے اور اس طرح سمٹ بینک معرض وجود میں آیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد پاکستان میں بینک گاجر مولی کی طرح فروخت ہو رہے تھے چنانچہ مائی بینک اور اٹلس بینک بھی سمٹ بینک میں ضم ہو گئے۔ یہ بات بھی نوٹ کرنا اہم ہے کہ سندھ بھر میں سمٹ بینک کی شاخوں کی تعداد سے کہیں زیادہ اس بینک کی شاخیں ملک کے دوسرے صوبوں میں ہیں اور اس کی شاخوں، قرضوں اور پھنسے ہوئے قرضوں کا حجم سندھ بینک سے کہیں زیادہ ہے۔ سندھ بینک کو حکومتی شعبے میں قائم کرنے کا بنیادی مقصد صوبہ سندھ کی معیشت کی ترقی اور صوبے کے عوام کو بینکاری کی خدمات فراہم کر کے ان کی حالت بہتر بنانا ہے چنانچہ اس بات کا کوئی جواز نہیں ہے کہ سندھ کے مالی وسائل سمٹ بینک کے ’’نجاتی پیکیج‘‘ پر صرف کئے جائیں۔

(2) یہ بات حیرت سے پڑھی جائے گی کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے حکومتی شعبے کے فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کی سفارش اس بنیاد پر کی ہے اس کی کارکردگی ناقص ہے۔ فرسٹ ویمن بینک دنیا کا واحد ویمن بینک ہے اور اس کی شاخوں کی تعداد صرف 42 ہے۔ قائمہ کمیٹی کی یہ سفارش بنیادی حقائق کا ادراک کئے بغیر کی گئی ہے۔ فرسٹ ویمن بینک حکومتی شعبے میں رہتے ہوئے ملک کی لاکھوں خواتین کا ملک کی معاشی ترقی میں کردار بڑھانے اور ان کو ہنرمند بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ فرسٹ ویمن بینک کی خراب کارکردگی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے وفاقی حکومت نے وعدہ کرنے کے باوجود اس بینک کو 500 ملین روپے کا سرمایہ فراہم نہیں کیا حالانکہ اسٹیٹ بینک نے کسب بینک کو بینک اسلامی کے ہاتھ نہ صرف ایک ہزار روپے میں فروخت کیا بلکہ بینک اسلامی کو لمبی مدت کے لئے 20؍ ارب روپے کا سرمایہ بھی فراہم کیا۔ یہ فیصلہ متنازع اور غیر شفاف تھا۔ اگر کسب بینک ملک میں کام کرنے والے کسی بڑے بینک کو فروخت کیا جاتا تو بہتر قیمت ملتی اور اسٹیٹ بینک کو سرمایہ فراہم کرنے کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔

آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر نے اکتوبر 2016ء میں کہا تھا کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں خواتین کا کردار گیم چینجر ہو سکتا ہے۔ اگر ملک کے تیسرے بڑے بینک یونائیٹڈ بینک میں ایک خاتون کو صدر مقرر کیا جا سکتا ہے تو فرسٹ ویمن بینک میں بھی کسی لائق اور تجربہ کار خاتون بینکار کو صدر مقرر کیا جا سکتا ہے۔ انہیں ذمہ داری دی جائے کہ دسمبر 2018ء تک فرسٹ ویمن بینک کی ملک بھر میں 300 مزید شاخیں کھولی جائیں اور خواتین کو ہنرمند بنانے کے لئے ٹریننگ پروگرام شروع کئے جائیں۔ حکومت کو اس بینک کو مرحلہ وار چند ارب روپے کا سرمایہ بھی فراہم کرنا ہو گا اور خواتین کے لئے بڑے پیمانے پر ووکیشنل ٹریننگ کی رفتار تیز کرنا ہو گی۔ سندھ بینک کے لئے بھی موقع ہے کہ سمٹ بینک میں اپنا سرمایہ لگانے کے بجائے بے نظیر شہید کے وژن کی روشنی میں قائم کئے گئے فرسٹ ویمن بینک کی تیز رفتار ترقی کے لئے کردار ادا کرے۔

اگر مندرجہ بالا گزارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور سی پیک منصوبے سے رونما ہونے والے سنہری مواقع سے استفادہ کرنے کے لئے شعبہ بینکاری میں بھی بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی جائیں تو بینکاری کا شعبہ بھی جس کے مجموعی ڈپازٹس کا حجم 11؍ ہزار ارب روپے سے زائد ہے، یقیناً گیم چینجر ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

ملک میں 19 سال بعد چھٹی مردم شماری کا آغاز

png2

ملک بھر میں 19 سال کے بعد چھٹی مردم و خانہ شماری کا آغاز ہو گیا۔ چیف شماریات آصف باجوہ نے بتایا کہ شمار کنندہ عملے میں مختلف محکموں کے 1 لاکھ 18 ہزار افراد شامل ہیں جن میں پاکستان شماریات بیورو سے تعلق رکھنے والا عملہ بھی شریک ہے، جبکہ ان تمام افراد کو مردم شماری کے لیے خصوصی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ملک کے 63 اضلاع میں ہونے والی مردم شماری میں 1 لاکھ 75 ہزار فوجی اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے، جو شمار کرنے کے ساتھ ساتھ سروے کرنے والے عملے کو سیکیورٹی بھی فراہم کریں گے۔

 خیال رہے کے مردم شماری کا پہلا مرحلہ 15 اپریل تک مکمل ہوجائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے کا آغاز 25 اپریل سے ہو گا جو 25 مئی تک جاری رہے گا۔ مردم شماری کے دوسرے مرحلے میں 87 اضلاع کو شمار کیا جائے گا، جبکہ  ردم  شماری کی رپورٹس 2 ماہ میں مکمل کر لی جائیں گی۔ چیف شماریات کا مزید کہنا تھا کہ مردم شماری کے اصل پلان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

 

 

 

نئی مردم شماری کے نئے تقاضے

مردم شماری شروع ہو چکی ہے۔ اس ضمن میں چھوٹے صوبوں کے تحفظات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ لیکن ان سب تحفظات کے باوجود فوج کی نگرانی میں مردم شماری ہونا ایک خوش آیند بات ہے۔ تا ہم جو لوگ  فوج کی نگرانی میں مردم شماری کا مطالبہ کر رہے تھے وہ اب مزید بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ بعض کا خیال یہ ہے کہ اس مردم شماری کا فائدہ پنجاب کو ہو گا، شائد یہی خوف چھوٹے صوبوں کی قیادت کو کھائے جا رہا ہے۔ اور اسی لیے کئی سال مردم شماری ہو بھی نہیں سکی۔

بلوچستان میں بلوچوں کو خوف ہے کہ نئی مردم شماری کے نتیجے میں بلوچستان میں بلوچوں کی آبادی کا تناسب کم ہو جائے گا۔ وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ پہلے افغانوں کو بلوچستان سے نکالا جائے پھر مردم شماری کی جائے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ نہ نو من تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچے گی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب افغانوں کو نکالنے کی بات کی جائے توتب یہی بلوچ قیادت افغانوں کے نکالنے کی بھی مخالفت کر دیتی ہے۔ اگر بلوچستان کی مردم شماری میں بلوچوں کی تعداد کم ہو گئی تو کیا ہو گا۔ لیکن یہ سوال اس لیے اہم نہیں کہ مردم شماری حقیقت پر مبنی ہونی چاہیے اگر واقعی بلوچستان میں بلوچوں کی آبادی کم ہو چکی ہے۔ اور اگر وہاں پختونوں کی آبادی بڑھ گئی ہے تو مردم شماری میں یہ حقیقت سامنے آنے میں کوئی مذائقہ نہیں۔ کیونکہ اس حقیقت کو چھپا کر ملک کی کوئی خدمت نہیں کی جا سکتی۔

مجھے تو  اس دلیل میں بھی کوئی وزن نظر نہیں آتا کہ گوادر میں کسی غیر بلوچ کو مردم شماری میں شامل نہیں کیا جائے۔ جو بھی پاکستانی روزگار یا کسی اور مقصد کے لیے گوادر چلا گیا ہے اس کو مردم شماری میں اپنا پتہ گوادر کا لکھوانے کا بھر پور حق ہے۔ گوادر پورے پاکستان کا ہے۔ وہ گوادر میں اپنے ووٹ کا بھی اندراج کرا سکتا ہے۔ یہ عجیب منطق  ہے کہ آپ  رہیں گوادر میں لیکن مردم شماری میں آپ کا اندرج  وہاں نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح سندھی  قیادت کو  یہ خوف ہے کہ اس مردم شماری میں  سندھ کی شہری آبادی کا تناسب بڑھ جائے گا جب کہ شہری آبادی کی قیادت کے دعویداروں کو یہ خوف ہے کہ اس سے  دیہی سندھ کی آبادی کا  تناسب بڑھ جائے گا۔ ایک طرف ایم کیو ایم کو یہ خوف ہے کہ نئی مردم شماری میں کراچی اور حیدر آباد کی آبادی کم ہو جائے گی تو دوسری طرف پیپلزپارٹی کو یہ خوف ہے کہ اندرون سندھ کی آبادی کا تناسب  کراچی اور حیدرآباد کے مقابلے میں کم نہ ہو جائے۔ اگر کراچی کی آبادی بڑھنے کی وجہ سے وہاں کی سیٹیں بڑھ گئیں۔ تو یقیناً سندھ کی سیاست میں تبدیلی آ جائے گی۔ جس کا پیپلزپارٹی کو نقصان ہو گا۔ اسی لیے پیپلزپارٹی بھی پریشان ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد وزیر اعلیٰ کا تعلق شہری آبادی سے ہوا کرے۔

کے پی کے کی میں بھی مردم شماری کی عجیب صورتحال ہے۔ وہاں بھی اس حوالہ سے تحفظات موجود ہیں۔ سب سے پہلے تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے ہی مطالبہ کیا تھا مردم شماری فوج کی نگرانی میں کرائی جائے۔ لیکن اب ان کو بھی اس حوالہ سے تحفظات ہیں کیونکہ انھیں بھی یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ اس مردم شماری کے بعد کے پی کے کا سیاسی منظر نامہ کیا ہو گا۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے پنجاب میں سکون ہے۔ پنجاب میں مردم شماری کے حوالہ سے کوئی سنجیدہ تحفظات سامنے نہیں آئے۔ اس کی شائد ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پنجاب میں لسانیت کی بنیاد پر سیاست کا وجود نہیں۔ پنجاب میں تو کوئی پنجابی کے نام پر بھی سیاست کی دکان نہیں چمکا سکتا۔ اسی طرح پنجاب میں دیہی اور شہری سیاست میں کوئی سیاسی تنازعہ نہیں ہے۔ بلکہ پنجاب کی شہری اور دیہی سیاسی قیادت ایک ہی ہے ۔ چونکہ سیاسی مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے۔ اسی لیے تنازعہ نہیں ہے۔

اس طرح یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ لسانیت اور قوم پرستی کی سیاست کرنے والے سیاستدان اس مردم شماری سے پریشان ہیں۔ انھیں مردم شماری کے نتیجے میں بدلتے پاکستان سے اپنی سیاست خطرہ میں نظر آرہی ہے۔ وہ آج بھی ستر سال پرانی بنیاد پر سیاست کرنے کے خواہش مند ہیں۔ لیکن انھیں یہ بھی نظر آرہا ہے کہ اس بدلتے پاکستان میں ان کی سیاست خطرے  میں ہے۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے پنجاب کو یقیناً اس مردم شماری  اسے کوئی خوف نہیں۔ یہ  امید کی جا رہی ہے کہ لاہور کی آبادی بڑھنے سے یہاں کی سیٹیں بڑھ جائیں گے۔ سیاسی حلقہ اشارہ دے رہے ہیں کہ لاہور میں کم از کم قومی اسمبلی کی ایک نشست کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح وسطیٰ پنجاب کے تمام شہروں میں سیٹوں  میں  اضافہ کی توقع کی جا رہی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق نئی مردم شماری میں پنجاب کی آبادی میں بھی  مناسب اضافہ سامنے آ جائے گا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیگر صوبوں میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں رہی ہے۔ جس کی وجہ سے دیگر صوبوں سے لوگ پنجاب منتقل ہو ئے ہیں۔ اسی وجہ سے پنجاب کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ میں اس ضمن میں پریشان بھی ہوں کیوں کہ پنجاب کی عددی اکثرئت سے چھوٹے صوبے پہلے ہی پریشان ہیں۔ اور اس میں اگر اضافہ ہو گیا تو یقیناً اس پریشانی میں اضافہ ہو گا۔ کیا نئی مردم شماری پنجاب کی جمہوری حکمرانی میں اضافہ کرے گی اور اگر ایسا ہو گیا تو اس کی پاکستان کی  جمہوریت اور یکجہتی پر کیا اثرات ہوںگے۔

یہ درست ہے کہ سینیٹ میں تمام صوبوں کی برابر نمایندگی ہے لیکن قومی اسمبلی تو ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے۔  مردم شماری ایک آئینی تقاضا ہے۔ اس سے وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہے۔ مردم شماری میں تاخیر بھی اسی لیے ہوتی رہی کہ سیاسی مفاد عوامی مفاد کے طابع آتے رہے۔ لیکن اب جب عدلیہ کے دباؤ میں فوج کی نگرانی میں مردم شماری ہو رہی تو سیاستدان پریشان ہیں۔ اور یہ پریشانی آیندہ آنے والے چند دنوں میں مزید عیاں ہو جائے گی۔ لیکن عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مردم شماری اگر چند مخصوص سیاستدانوں کے مفاد میں نہیں بھی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ عوامی مفاد میں ہے۔ یہ پاکستان کے ہر شہری کے حقوق کا تعین کرے گی۔ جو شائد سیاستدانوں کی ترجیح نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں نئی مردم شماری سے آنے والے نتائج کے لیے نہ صرف کود تیار رہنا چاہیے بلکہ قوم کو بھی اس کے لیے تیار کرنا ہو گا۔

مزمل سہروردی