امریکہ فوجی کارروائی کا نتیجہ مکمل جنگ ہو گا – شمالی کوریا

شمالی کوریا میں اعلیٰ حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی
کشیدگی اور بین الاقوامی مذمت کے باوجود شمالی کوریا اپنے میزائل تجربے جاری رکھے گا۔ شمالی کوریا کے نائب وزیرِ خارجہ ہان سونگ ریول کا کہنا تھا کہ ’ہم ہفتہ وار، ماہانہ، اور سالانہ بنیادوں پر اپنے تجربے جاری رکھیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اس قدر غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ فوجی کارروائی کرے تو اس کا نتیجہ مکمل جنگ ہو گا۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر مائیک پینس کا کہنا تھا کہ امریکہ کا شمالی کوریا کے حوالے سے سٹریٹیجک صبر کا دور ختم ہو گیا ہے۔

وہ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل کے تجربے کے چند ہی گھنٹوں بعد جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول پہنچے تھے۔ امریکہ اور شمالی کوریا کی جانب سے شعلہ بیان بازی کے بعد کوریائی جزیرہ نما پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کے اعلیٰ سکیورٹی مشیر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر بڑھتے تناؤ کے باعث امریکہ اور چین اس حوالے سے ‘کئی تجاویز’ پر غور کر رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر مک ماسٹر نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ چین کے ساتھ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ‘یہ وہ صورتحال ہے جسے مزید نہیں بڑھنا چاہیے۔’

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین اس مسلے پر ‘ہمارے ساتھ کام کر رہا ہے۔’ چین جو کہ شمالی کوریا کا سب سے بڑا اتحادی ہے اس وقت اپنے پڑوسی ملک پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی دباؤ میں آ گیا ہے۔

Advertisements

شمالی کوریا کی جنگی تیاریاں

خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس مختلف رینج کے 1000 میزائل ہیں جن
میں انتہائی طویل رینج کے ایسے میزائل بھی شامل ہیں جو مستقبل میں امریکہ کو نشانہ بنانے کے قابل ہو سکیں گے۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ٹیکٹیکل آرٹلری راکٹوں سے شروع ہونے والا شمالی کوریا کا میزائل پروگرام گذشتہ چند دہائیوں میں کافی پیشرفت کر چکا ہے اور اب پیانگ یانگ کے پاس شارٹ اور میڈیم رینج کے بلسٹک میزائل ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے اس سے بھی زیادہ رینج کے میزائلوں پر تحقیق اور تیاری کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں شمالی کوریا نے اعلان کیا تھا وہ بین البراعظمی رینج کے میزائل تیار کر رہا ہے جن میں مغربی ممالک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہو گی۔

میزائلوں کی رینج

شارٹ یا کم رینج میزائل: ایک ہزار کلومیٹر سے یا اس سے کم

میڈیم یا درمیانی رینج میزائل: ایک ہزار سے تین ہزار کلومیٹر

انٹرمیڈیٹ یا متوسط رینج: تین ہزار سے پانچ ہزار کلومیٹر

انٹر کانٹنینٹل یا بین البراعظمی رینج: ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر سے زیادہ

بذریعہ: فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹ

شارٹ یا کم رینج میزائل

شمالی کوریا کا جدید میزائل پروگرام سکڈ میزائلوں سے شروع ہوا تھا جن کی پہلی کھیپ مبینہ طور پر 1976 میں مصر سے منگائی گئی تھی۔ 1984 تک شمالی کوریا اسی طرز کے واسونگ نامی میزائل تیار کر رہا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کم رینج کے متعدد قسم کے میزائل ہیں جو کہ ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ دونوں کوریائی ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور قانونی طور پر دونوں ایک دوسرے کے خلاف حالتِ جنگ میں ہیں۔

امریکہ میں ’سنٹر فار نان پرولفریشن سٹڈیز‘ کے مطابق واسونگ ۔5 اور واسونگ 6 کی بالترتیب 300 اور 500 کلومیٹر کی رینج ہے۔ یہ میزائل روایتی وار ہیڈ استعمال کرتے ہیں مگر ان میں کیمیائی، بائیولوجیکل، اور جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ ان دونوں میزائلوں کو ٹیسٹ کیا جا چکا ہے اور واسونگ ۔6 ایران کو بھی بیچا جا چکا ہے۔

درمیانی رینج کے میزائل

1980 کی دہائی میں شمالی کوریا نے ایک نیا درمیانی رینج کا میزائل، نوڈانگ تیار کرنا شروع کیا جس کی رینج تقریباً 1000 کلومیٹر تھی۔ یہ میزائل بھی سکڈ میزائل کے ڈیزائن پر تیار کیا گیا مگر اس کا حجم 50 فیصد زیادہ تھا اور اس کا انجن زیادہ طاقتور تھا۔ انٹرنیشل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے اپریل 2016 کے جائزے میں کہا گیا کہ یہ میزائل ایک ٹیسٹ شدہ نظام کے تحت لائے گئے ہیں اور یہ جنوبی کوریا کے تمام اور جاپان کے بیشتر علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ شمالی کوریا نے اکتوبر 2010 میں انھیں میزائلوں میں جدت لا کر ان کی رینج 1600 کلومیٹر تک کر دی جس کے نتیجے میں یہ جاپانی جزیرے اوکیناوا میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نوڈنگ کو 2006، 2009، 2014، اور 2016 میں ٹیسٹ کیا گیا۔

متوسط رینج کے میزائل

شمالی کوریا کئی سالوں سے موسودان نامی میزائل کے تجربے کر رہا ہے اور آخری مرتبہ انھیں 2016 میں ٹیسٹ کیا گیا۔ ان میزائلوں کی رینج کے بارے میں اندازوں میں کافی تضاد ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ان کی رینج 2500 کلومیٹر ہے جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی رینج 3200 کلومیٹر ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق کے 4000 کلومیٹر تک نشانہ بنا سکتے ہیں۔

نوڈنگ۔ بی یا ٹیپوڈونگ۔ایکس نامی میزائل شمالی کوریا اور جاپان دونوں کے تمام علاقوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس کی رینج کی حد میں گوام میں امریکی فوجی اڈے بھی آتے ہیں۔ وار ہیڈ کے حوالے سے ان میزائلوں کی صلاحیتوں کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں مگر خیال کیا جاتا ہے کہ ایک سے سوا ایک ٹن کا وار ہیڈ لے جا سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’زمین سے زمین تک مار کرنے والا میڈیم ٹو لانج رینج کے بلسٹک‘ میزائل بھی تیار کیے ہیں۔ اس طرز کے پکگکسونگ کا اگشت 2016 میں تجربہ کیا گیا جسے ایک آبدوز سے لانچ کیا گیا۔

پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ انھوں اس کے لیے سالڈ ایندھن استعمال کیا جس کے ذریعے اسے لانچ کرنے کا عمل جلدی ہو سکے گا۔ تاہم اس کی رینج کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

بین البراعظمی بلسٹک میزائل

شمالی کوریا اپنا طویل ترین رینج کا میزائل تیار کر رہا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ موبائل لانچر سے داغا جا سکے گا اور اس کا نام کے این ۔ 08 ہو گا۔ اس پیشرفت کا ابتدائی اندازہ اس وقت لگایا گیا جب ستمبر 2016 میں شمالی کوریا نے ایک نیا راکٹ انجن ٹیسٹ کیا جو کہ ایک بین البراعظمی بلسٹک میزائل پر لگایا جا سکے گا۔ امریکی وزارتِ دفاع کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کم از کم چھ کے این_08 میزائل ہیں جو کہ امریکہ کے بیشتر علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا نے اس سے بھی زیادہ رینج والا کے این۔ 14 تیار کر لیا ہے مگر اسے کبھی عوامی سطح پر ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ جنوری 2017 میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک بین البراعظمی بلسٹک میزائل تیار کرنے کے آخری مراحل میں ہے۔

کیمیکل حملے کے صرف 15 منٹ بعد کم جونگ نام ہلاک ہو گئے تھے

ملائشیا کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کے سوتیلے بھائی کم جونگ نام کی ہلاکت اعصاب شکن زہریلے مادے سے کیے جانے والے حملے کے بعد 15 سے 20 منٹ کے اندر ہوئی۔ خیال رہے کہ وی ایکس ایک غیر معمولی تباہ کن کیمیائی ہتھیار ہے اور اس کا ایک قطرہ بھی انسانی جلد پر گرنے سے انسان مر سکتا ہے۔ یہ کیمیکل جلد کے راستے انسانی جسم میں داخل ہو کر نظامِ اعصاب کو تباہ کر دیتا ہے۔

ملائشیا کے وزیرِ صحت سبرامایم سانتھاسیوم کے مطابق اس مہلک حملے کے بعد کوئی دوائی کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔ شمالی کوریا کے سربراہ کے سوتیلے بھائی کے قتل کے سلسلے میں گرفتار انڈونیشیا کی سیتی ایسیاہ نامی ایک خاتون نے 25 فروری حکام کو دوران تفتیش بتایا کہ وہ سمجھی تھیں کہ انھیں یہ ‘شرارت’ کرنے کے لیے صرف 90 ڈالر کی رقم دی گئی۔ خاتون کا کہنا تھا کہ انھیں ایک مزاحیہ ریئلٹی شو میں حصہ لینے کے لیے 90 ڈالر کم جونگ نام کے چہرے پر ‘بے بی آئل’ ملنے کے لیے دیے گئے تھے۔

ملائیشیا کے تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ دو خواتین نے اپنے ہاتھوں پر زہریلا مادہ ملا اور پھر ان ہاتھوں سے کم کا چہرہ پونچھ دیا لیکن اگر ایسا ہوتا تو وہ دونوں بھی اسی وقت مر چکی ہوتیں۔ اس صورتحال میں بظاہر لگتا یہی ہے کہ جس کپڑے سے کم کا چہرہ صاف کیا گیا اس پر وی ایکس کی بہت کم مقدار جو ممکنہ طور پر صرف ایک قطرہ بھی ہو سکتی ہے، موجود تھی۔ لیکن یہ کام کسی بھی طرح آسان نہیں تھا۔ مجرموں نے اس کی مشق کی ہو گی کہ قطرہ کم کو چھوئے لیکن وہ خود اس سے محفوظ رہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ مجرموں نے 13 فروری سے پہلے شاپنگ مالز میں اس کام کی مشق کی ہو گی۔

Ghauri (missile)

English: Medium-range ballistic missile with a...

The Hatf V, named Ghauri-5 (Urduغوری‎), is a medium-range ballistic missile (MRBM) developed by Khan Research Laboratories (KRL) of Pakistan. Powered by a single stage liquid fuel rocket motor, the missile has an optimum range of 1,500 km and can carry a payload of 700 kg.[1][2] Two variants of the Ghauri were produced under the Pakistani missile research and development program[3] and the development of a third was cancelled. The Ghauri-II uses increased motor assembly length and improved propellants for an increased range of 2,300 km (1,400 mi).[4] The Ghauri-V had a planned range of 10,000–14,000 km.[1]
The missile is named after the Persian ruler Shahabuddin Muhammad Ghauri, while the “Hatf” designation originates from the name of the sword or lance of Muhammad.[5

Design

The Ghauri design incorporates mechanisms that start spinning the single booster stage and warhead combination from approximately 10 seconds before termination of the powered flight at 110 seconds. At this point the warhead is separated from the rocket booster stage to fly on a re-entry trajectory that remains stable to its target. With the addition of GPS targeting the warhead accuracy is greatly enhanced.[6] The “revised” CEP of this system is 190 m. The United States government states that the Ghauri design is based on North Korea’s Rodong-1 (also known as Nodong-1) missile[7]

Operational history

The Ghauri was first test-fired on 6 April 1998 from the Tilla Range near Malute, Jhelum, about 76 miles south of the capital Islamabad.[8] Fired from a mobile launcher, it travelled 1,100 km (680 mi) in a flight lasting 9 minutes and 58 seconds before hitting its designated target in the desert ofBalochistan. The ISPR reported that the missile is capable of carrying all kind of warheads besides hitting its target at a range of 1,300 kilometers.[9]

Naming controversy

In February 2006, the Afghan Karzai regime delivered a complained to Pakistan over naming its lethal ballistic missiles after Afghan kings and rulers (i.e. AbdaliGhaznavid and Ghauri), arguing that their names should be bracketed with academic, cultural and peace-promoting institutions, not with tools of destruction and killing. However, Pakistan declined to change the missiles’ names stating that these Muslim rulers are considered heroes in Pakistan as well, and naming missiles after them is not controversial.[10][11][12][13]

Enhanced by Zemanta