پی ایس ایل فائنل ، ہم سب کا ؟

کپتان بھی کمال آدمی ہے۔ اچھا بھلا چلتے چلتے اچانک کسی انٹرویو یا بیان میں کوئی ایسی متنازعہ بات کہہ دیتے ہیں کہ پوری ن لیگ ان پر چڑھ  دوڑتی ہے۔ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا فائنل لاہور میں کرانے کا اعلان ہوا تو کپتان نے اس کی مخالفت کر دی۔ جب تک لاہور میں فائنل کا اعلان نہیں ہوا تھا کپتان اس کی حمایت کر رہا تھا۔ عمران کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے لگی لپٹی بات کرنی نہیں آتی۔ جوش جذبات میں بعض اوقات وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ ایک ہی ایشو پر پچھلی بار کیا موقف اختیار کیا تھا یہی وجہ ہے کہ مخالفین یوٹرن لینے کا الزام لگا دیتے ہیں۔

کرکٹ کی طرح سیاست میں بھی ٹائمنگ بہت اہم ہوتی ہے۔ کرکٹر کپتان کی ٹائمنگ غضب کی تھی مگر سیاست میں… بہتر ہے، اسے رہنے ہی دیں۔ کپتان کو سیاست کے اسرار و رموز سیکھنے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ شیخ رشید ان کے اتحادی ہیں۔ وہ جب چاہیں ان سے داؤ پیچ سیکھ سکتے ہیں۔ جس دن خان نے لاہور میں فائنل کرانے کی مخالفت کی تھی اسی دن بلکہ تھوڑی دیر بعد شیخ رشید سے فائنل کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ تواسٹیڈیم ضرور جائیں گے دیکھنے کے لیے۔ عمران نے فائنل کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ اپنی جگہ درست ہیں لیکن یہ بات کرتے ہوئے وہ بھول گئے کہ عوام کی نبض کیا کہہ رہی ہے۔ عوامی نبض پر ہاتھ رکھنا کوئی شیخ رشید صاحب سے سیکھے۔ کپتان سے زیادہ سوجھ بوجھ کا مظاہرہ تو ان کے وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک نے کیا۔ انھوں نے کہا تھا وقت ملا تو لاہور ضرور جاؤں گا۔

پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کیوں؟ یہ سب سے اہم سوال ہے۔ پورا ٹورنامنٹ دبئی اور شارجہ میں کھیلا گیا تو پھر اس کا فائنل بھی وہیں ہو جاتا تو اس میں کیا برائی تھی۔ کوئی اگر یہ دعویٰ کرے کہ سیکیورٹی کے خدشات ہیں تو اسے بھی غلط نہیں کہا جا سکتا۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے جب لاہور سمیت ملک کے کئی علاقوں میں دھماکے ہوئے ہیں۔ اللہ کسی حادثے سے بچائے مگر خدشات موجود ہیں۔ جہاں ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے سیکیورٹی فورسز فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں وہیں دہشتگرد بھی اپنا وار کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہوں گے۔ عوامی خواہشات کے مطابق پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرانے کا فیصلہ ہوا ہے تو اب اس کی سپورٹ سب پر فرض ہے۔

اب یہ فائنل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔ وزیراعظم، آرمی چیف، وزیراعلیٰ پنجاب سمیت ساری اہم شخصیات سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ فائنل سے چند دن پہلے اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم ( ای سی او) کا انعقاد کر کے دشمن کو یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ پاکستان پر امن ملک ہے۔ ہم دہشت گردوں سے ڈرنے والے نہیں۔ فائنل لاہور میں کرانے کا فیصلہ واپس لینے کا مقصد یہ ہوتا کہ ہم دہشت گردوں سے ڈر گئے ہیں۔

قوم کی خواہش ہے کہ دہشت گردی پر مکمل قابو پا لیا جائے لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ جب تک ان وطن دشمنوں کا خاتمہ نہیں ہوتا ہم اپنے معمولات زندگی ترک کر دیں۔ کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ حادثے کے خوف سے انسان سفر کرنا ہی چھوڑ دے۔ کپتان کو خدشہ ہے کہ خدانخواستہ کوئی واقعہ ہو گیا تو مدت تک انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہو سکے گی تو اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے کون سی انٹرنیشنل کرکٹ یہاں ہو رہی ہے۔ 3 مارچ 2009ء میں قذافی اسٹیڈیم کے قریب لبرٹی راؤنڈ اباؤٹ پر سری لنکن کرکٹ ٹیم کو نشانہ ہی اس لیے بنایا گیا تھا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہو سکے۔ سری لنکن ٹیم اپنا دورہ ادھورا چھوڑ کر چلی گئی تھی اور پھر ہمارے میدان ویران ہو گئے۔

سری لنکن ٹیم پر حملے کے 6 برس بعد مئی 2015ء میں زمبابوے کی ٹیم نے جرات کا مظاہرہ کیا اور 2 ٹی ٹوئنٹی اور 3 ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلنے پاکستان آ گئی۔ تمام 5 میچوں کا اہتمام قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کیا گیا۔ دونوں ٹی ٹوئنٹی اور پہلا ون ڈے خیریت سے گزر گیا۔ دوسرے ون ڈے کے دوران رات 9بجے کے قریب اسٹیڈیم جہاں میچ ہو رہا تھا سے کافی فاصلے یعنی فیروز پور روڈ پر ایک خود کش حملہ آور رکشہ میں سوار آیا اور ایک سب انسپکٹر عبدالمجیدکے روکنے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ سب انسپکٹر شہید ہو گیا مگر اس نے دہشتگرد کو سیکیورٹی حصار توڑنے میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ دھماکے کے باوجود دوسرا ون ڈے نہ صرف جاری رہا بلکہ مکمل بھی ہوا۔ زمبابوے کی ٹیم مینجمنٹ تک دھماکے کی خبر پہنچ گئی مگر انھوں نے آخری ون ڈے کھیلنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔

کرکٹ کے ساتھ میرا جنون پرانا ہے ۔ ٹی ٹوئنٹی کی سیریز کے دوران مصروفیت ایسی تھی کہ اسٹیڈیم نہیں جا سکا۔ ون ڈے سیریز کے دوران جانا بھی مشکل لگ رہا تھا۔ دوسرے ون ڈے کے دوران دھماکے کی خبر ملی تو تیسرے اور آخری ون ڈے میں شرکت کے لیے اسٹیڈیم جانا ضروری ہو گیا۔ 29 مئی کی وہ سہ پہر آج بھی یاد ہے۔ گاڑی قذافی اسٹیڈیم سے ’’میلوں‘‘ دور کھڑی کرنا پڑی۔ کاروں سے اترنے کے بعد پیدل چلتے گئے اور تھوڑا چلنے کے بعد سیکیورٹی چیک کا پہلا ناکہ آ گیا۔ اسے کراس کیا، تھوڑی دورچلے تو ایک اور ناکہ آ گیا ، اس موقع پر منیر نیازی کا وہ شعر یاد آگیا کہ۔

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریاکے پار اترا تو میں نے دیکھا

دوسرے کے بعد تیسرا، پھر چوتھا، پانچواں، چھٹا ۔ ناکے آتے گئے، تلاشی ہوتی گئی اورپھر وہ وقت آگیا جب میں اور میری اہلیہ اسٹیڈیم کے گیٹ کے سامنے کھڑے تھے۔ مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ اتنی جگہ جامہ تلاشی اور چیکنگ کے باوجود بالکل برا نہیں لگا ۔ اسٹیڈیم میں داخل ہوا تو کراؤڈ کی تعداد اور ان کا جوش دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اس قوم کو دہشت گردوں کی کارروائیوں سے ڈرایا نہیں جا سکتا۔ سنا ہے بیشتر انٹرنیشنل کرکٹر فائنل کے لیے لاہور نہیں آ رہے۔ کوئی بات نہیں۔ ہمارے اپنے کھلاڑی موجود ہوں گے۔ ہمارے کھلاڑی بھی انٹرنیشنل ہیں۔ ایسے کھلاڑی جو ابھی ڈومیسٹک لیول پر ہی کھیل رہے ہیں وہ بھی کسی انٹرنیشنل پلیئر سے کم نہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہو گا۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے منٹور ویون رچرڈز لاہور آ رہے ہیں۔

توقع ہے کچھ دیگر غیر ملکی بھی آئیں گے۔ کپتان نے شاید لاہور میں فائنل کی مخالفت اس لیے کی کہ نجم سیٹھی پی ایس ایل کے چیئرمین ہیں۔ انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ لاہور میں فائنل نجم سیٹھی نہیں پاکستان کرا رہا ہے۔ کپتان صرف سیاستدان نہیں سابق کرکٹر بھی ہیں۔ ان کی بات کا اثر انٹرنیشنل کرکٹر بھی لیتے ہیں۔ کپتان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نوجوان انھیں بہت پسندکرتے ہیں۔ لاہور میں فائنل کے انعقاد پر آصف علی زرداری نے بھی تنقید کی ہے لیکن انھوں نے الفاظ کا چناؤ بڑی مہارت سے کیا ہے۔ اگرچہ تنقید ان کی بھی غیر مناسب ہے۔ سیاست کو سیاست تک رہنے دیں تو بہتر ہے۔ خوشیوں کے لیے ترسی ہوئی اس قوم کو اور نہ ترسائیں۔ کیا کپتان نے یہ نہیں دیکھا کہ ٹکٹوں کے حصول کے لیے شائقین میں کتنا جوش تھا۔ بھارتی میڈیا پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ یوں لگتا ہے کہ وہاں کوئی سوگ کی کیفیت ہے۔ آئیں ! دعا کریں ، پی ایس ایل کا فائنل خیرو عافیت سے ہو جائے۔ پھر ہم جشن اور بھارت سوگ منائے گا۔

ایاز خان

میں کیوں نہیں چاہتا کہ پی ایس ایل کا فائنل پاکستان میں ہو؟

آپ نے بالکل ٹھیک پڑھا، میں ہرگز نہیں چاہتا کہ پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) ٹو کا فائنل اِن حالات میں پاکستان میں منعقد ہو۔ اِس پُر فضاء ماحول میں جب اکثریت اِس بات پر خوشی منا رہی ہو کہ اب پاکستان کے میدان بھی ایک بار پھر آباد ہونے والے ہیں، اِس طرح کی منفی رائے قائم کرنا اور پھر اُس کا اظہار کرنا ہرگز آسان کام نہیں، لیکن ایسا کرنے کے لئے میرے پاس ایک نہیں بلکہ متعدد وجوہات ہیں، جن پر آگے جا کر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔ جتنی خواہش آپ رکھتے ہیں کہ پاکستان میں کھیل کے میدان آباد ہونے چائیے، کم از کم اُتنی خواہش تو میری بھی ہے کہ وطنِ عزیز میں جلد سے جلد امن کا راج ہو اور ایک بار پھر ہمارے میدان ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعروں سے گونج اُٹھیں، لیکن شاید یہ سب کچھ خواہشات اور جذبات کے بہاؤ میں بہہ جانے سے ممکن نہیں۔ ہر معاملے کی طرح فائنل کے انعقاد کے حوالے سے بھی ہم تقسیم ہو چکے ہیں۔ ہر معاملے کو مثبت پہلو سے دیکھنے والے بہت خوش ہیں کہ پہلی بار حکومت نے جُراتمندانہ فیصلہ کیا ہے، فائنل ہر حال میں پاکستان میں ہی ہونا چاہیئے تاکہ دشمن کو ہم یہ پیغام دے سکیں کہ ہم پاکستانی کسی سے ڈرنے والے اور دبنے والے نہیں، اور اگر خیر و عافیت سے فائنل منعقد ہوجائے تو پھر بہت جلد پاکستان میں ایک بار بین الاقوامی کھیل کا آغاز ہو جائے گا۔

دن میں تارے دیکھنے اور دِکھانے والوں کے برعکس ہر وقت بُرا سوچنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ سچ پوچھیئے تو اِس بار میرا بھی شمار ایسے ہی لوگوں میں ہو رہا ہے، لیکن شاید اِس کی وجہ منفی سوچ نہیں، بلکہ حقیقت پسندانہ موقف ہے۔ ہم سب کو بطور پاکستانی کچھ چیزیں بہت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیئں۔ جیسے کہ اگر پی ایس ایل کا فائنل بخیر و عافیت سے منعقد ہو بھی جائے تب بھی کوئی غیر ملکی ٹیم اُس وقت تک پاکستان آنے کے لئے تیار نہیں ہو گی جب تک یہاں آئے روز ہونے والے بم دھماکوں کا خاتمہ نہ ہو جائے، جب تک پاکستان کے موقف کو دنیا بھر میں بہترین انداز میں پیش نہ کر دیا جائے اور جب تک دنیا کو یہ باور نہ کروا دیا جائے کہ پاکستان اب ایک محفوظ ملک بن چکا ہے۔

لیکن اگر خداںخواستہ، خدانخواستہ، خدانخواستہ فائنل سے پہلے یا اُسی دن کوئی دہشتگردی کا واقعہ رونما ہوجائے تو کیا ہم اندازہ بھی کر سکتے ہیں کہ اِس قسم کی کارروائی کے نتائج کس قدر خوفناک ہو سکتے ہیں؟ اِس طرح کی کارروائی کے نتیجے میں پاکستان شاید صدیوں تک بین الاقوامی کھیل کی میزبانی سے محروم ہو سکتا ہے۔ یہ باتیں اِس لئے کی جا رہی ہیں کہ فائنل لاہور میں منعقد کرنے والے بھی اِس وقت شدید خوف کا شکار ہیں، ابھی جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو خبر موصول ہوئی کہ قذافی اسٹیڈیم کے گِرد دکانیں، ہوٹل اور شادی ہال آج سے ہی بند کر دیے گئے ہیں، یعنی پانچ دنوں کے لئے غریب کو اُس کی روزی روٹی سے دور کر دیا گیا۔ اتنے دن تک اُن کا چولہا کون جلائے گا کسی کو خبر نہیں۔ سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لئے پورے پنجاب سے پولیس نفری لاہور منگوائی جا رہی ہے، جس سے شاید لاہور تو محفوظ ہو جائے، مگر جہاں سے نفری منگوائی جا رہی ہے، وہاں کی حفاظت کون کرے گا؟ اِس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں۔

کھیل کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ یہ چہروں پر خوشیاں بکھیرتا ہے اور تناؤ کو کم کرتا ہے، لیکن سچ بتائیے کہ لاہور میں فائنل منعقد کرکے ماحول کو سازگار بنایا جا رہا ہے یا لوگوں کی پریشانی میں اضافہ کیا جا رہا ہے، تناؤ کو کم کیا جا رہا ہے یا سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اگلے پانچ دن تک شہر لاہور اور پورے پنجاب کے ماحول کو کشیدہ بنایا جا رہا ہے۔ اِس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ فائنل میں پہنچنے والی دو ٹیموں میں شامل غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آنے پر آمادگی کا اظہار کرتے ہیں یا نہیں۔ یہ انتہائی اہم نقطہ ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اگر ان کھلاڑیوں نے آنے سے انکار کردیا تو 50 دیگر کھلاڑیوں کی فہرست تیار ہے جن کو شامل کرنے کے حوالے سے ڈرافٹ کیا جائے گا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اُن کھلاڑیوں کی اکثریت اِس قدر غیر معروف ہیں کہ جن کا ہم نے نام بھی پہلے نہیں سُنا۔ جناب معاملہ یہ ہے کہ اگر کراچی کنگز سے کرس گیل، کمار سنگاکارا اور کائرن پولارڈ کو الگ کردیا جائے تو کیا کھیل کا مزہ آئے گا؟

اگر کوئٹہ گلیڈئیٹرز سے کیون پیٹرسن اور رائلے روسو نکل جائیں تو کیا کھیل جم سکے گا؟ اگر پشاور زلمی میں ڈیرن سیمی، تمیم اقبال اور شکیب الحسن شامل نہ ہوں تو کیا آپ اور میں کھیل سے لُطف اندوز ہوسکیں گے اور اگر شین واٹسن، بریڈ ہیڈن اور ڈیون اسمتھ اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ نہیں رہے تو پی ایس ایل کا فائنل اپنے رنگ بکھیر سکے گا؟ پھر بتایا جارہا ہے کہ شاید غیر ملکی مبصرین فائنل کے لئے پاکستان نہ آئیں، اگر ایسا ہوا تو انٹرٹینمنٹ کا وہ ماحول بنایا جا سکے گا جو اب تک بنا ہوا ہے؟ اگر اِن سب کے بغیر ہی فائنل کھیلا گیا تو معاف کیجئے گا، یہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل نہیں بلکہ ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا فائنل کہلایا جانا چاہیئے۔

اگر مقصد یہی ہے کہ کچھ ہوجائے، بس پاکستان میں فائنل کرنا ہے تو ضرور یہ شوق پورا کیجئے، انشاءاللہ ضرور یہ کام ہو جائے گا، لیکن معاف کیجئے گا، اِس طرح سے کم از کم بین الاقوامی کرکٹ کو بحال کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوسکے گا۔ مجھے معلوم ہے کہ اِس نازک موقع پر اِس طرح کے خیالات کا پرچار مناسب نہیں، لیکن شاید یہ تلخ باتیں اتنی نقصان دہ ثابت نہ ہوں، جتنا نقصان ہمیں کسی بھی غلطی کی صورت بھُگتنا پڑسکتا ہے۔ عام طور پر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اُن کی باتیں ٹھیک ثابت ہوں، لیکن یقین کیجئے، میں اِس وقت دل سے دعا کر رہا ہوں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ سب غلط ثابت ہوجائے، اور نہ صرف پی ایس ایل کا فائنل بخیر و عافیت منعقد ہوجائے بلکہ جلد از جلد غیر ملکی ٹیمیں بھی یہاں آنا شروع ہو جائیں، کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ اب بہت دل کرتا ہے کہ اپنے ہیروز کو میدان جا کر کھیلتا دیکھا جائے، اور ایک بار پھر نعرے لگائے جائیں،

’’جیتا گا بھائی جیتے گا، پاکستان جیتے گا۔‘‘

فہیم پٹیل

چوکوں پر چوراہوں پر لٹکا دو : انصار عباسی

انصار عباسی

 

The Sultan of Swing Wasim Akram

1962664_10152450939607555_5563242797367691766_n

Here’s a timeless World Cup vignette – The Sultan of Swing Wasim Akram relives *those* two dream balls in the 1992 final. The ones that Allan Lamb and Chris Lewis never saw.