اقوام متحدہ کی نئی پابندیاں جنگی اقدام کے مترادف ہیں : شمالی کوریا

شمالی کوریا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے پیونگ یانگ کے خلاف حالیہ پابندیاں جنگ کے مترادف ہیں اور یہ ملک کے خلاف مکمل اقتصادی محاصرے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے ذریعے نشر ہونے والے بیان میں وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ “ہم اقوام متحدہ کی جانب سے نئی پابندیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور انہیں اپنی خود مختاری پر کھلا حملہ اور جنگی اقدام شمار کرتے ہیں جو جزیرہ نما کوریا اور خطّے میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈال دے گا”۔

وزارت خارجہ کے مطابق “شمالی کوریا کی ریاست کی جانب سے نیوکلیئر طاقت بننے سے متعلق تاریخی کامیابی کے سبب امریکا شدید خوف کا شکار ہے، اسی وجہ سے وہ ہمارے خلاف زیادہ سے زیادہ پابندیاں عائد کرنے کے جنون میں مبتلا ہے”۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ “ہم اپنے دفاع کے لیے جوہری میدان میں مزاحمت کو اور مضبوط بنائیں گے۔ اس کا مقصد بنیادی طور پر امریکا کی جانب سے جوہری دھمکیوں ، بلیک میلنگ اور دشمنانہ کارروائیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس واسطے امریکا کے مقابل عملی قوت کا توازن پیدا کیا جائے گا”۔

یاد رہے کہ سلامتی کونسل نے شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان کے مطابق شمالی کوریا کے جوہری میزائل پروگرام کے لیے پیونگ یانگ کی تیل کی درآمدات پر روک لگانا ہے۔ سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان نے متقفہ طور پر پابندیوں کی قرارداد کو مںظور کر لیا۔ واشنگٹن نے حالیہ قرارداد چین کے ساتھ مذاکرات کے بعد پیش کی جو شمالی کوریا کا واحد حلیف اور اس کے لیے تیل کا بنیادی ذریعہ ہے۔ قرارداد منظور ہونے کے فوری بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ “دنیا امن چاہتی ہے موت نہیں”۔ ادھر اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر نکی ہیلی نے شمالی کوریا کو “جدید دنیا میں بدی کی سب سے بڑی مثال” قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ قرارداد پیونگ یانگ کے لیے واضح پیغام ہے کہ مزید خلاف ورزیوں پر اسے مزید پابندیوں اور علاحدگی کا سامنا کرنا پڑے گا”۔ اقوام متحدہ کی پابندیاں شمالی کوریا کے لیے تیل کی 75 فی صد مصنوعات پر پابندی عائد کرتی ہیں۔

Advertisements

شمالی کوریا کا نیا بیلسٹک میزائل پورے امریکہ کو نشانہ بنا سکتا ہے

شمالی کوریا نے ایک نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعوی کیا ہے اور جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ براعظم امریکہ کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس تازہ تجربے کے بعد شمالی کوریا کے سرکاری ٹیلی وژن سے اعلان کیا گیا ہے شمالی کوریا نے جوہری ریاست بننے کا مشن پورا کر لیا ہے۔ شمالی کوریا کے مطابق یہ نیا ہواسانگ 15 میزائل طاقت ور ترین میزائل ہے اور اسے منہ اندھیرے لانچ کیا گیا۔ یہ میزائل جاپان کے پانیوں میں جا کر گرا تاہم اس کی اڑان شمالی کوریا کی جانب سے تجربہ کیے گئے ماضی کے سبھی میزائلوں سے زیادہ بلند تھی۔

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے جواب میں پریسزژن سٹرائک میزائل یا تیر بہ ہدف میزائلوں کی مشقیں کی ہیں۔ امریکی محکمہِ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے اس ممکنہ تجربے کا جائزہ لے رہا ہے۔ جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یوناپ کے مطابق مذکورہ میزائل جنوبی پیونگان صوبے میں پیونگ سونگ سے مشرق کی جانب اڑا۔ اس سال شمالی کوریا نے متعدد بیلسٹک میزائلوں کے تجربے کیے ہیں جن میں ان کا پہلا بین الابرِعاظمی بیلسٹک میزائل بھی شامل ہے۔

اسی دوران میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی سطح پر کشیدگی میں اٰضافہ ہوا ہے۔ شمالی کوریا اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے جوہری اسلحے کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ پیانگ یانگ نے اپنے میزائل پروگرام کے منصوبے کو راز میں بھی نہیں رکھا کہ وہ ایسا میزائل بنانا چاہتا ہے جو امریکہ کی سرزمین کو نشانہ بنا سکے اور یہ کہ اس نے ہائڈروجن بم تیار کر لیا ہے۔ گذشتہ ماہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری حملے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

امریکہ فوجی کارروائی کا نتیجہ مکمل جنگ ہو گا – شمالی کوریا

شمالی کوریا میں اعلیٰ حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی
کشیدگی اور بین الاقوامی مذمت کے باوجود شمالی کوریا اپنے میزائل تجربے جاری رکھے گا۔ شمالی کوریا کے نائب وزیرِ خارجہ ہان سونگ ریول کا کہنا تھا کہ ’ہم ہفتہ وار، ماہانہ، اور سالانہ بنیادوں پر اپنے تجربے جاری رکھیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اس قدر غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ فوجی کارروائی کرے تو اس کا نتیجہ مکمل جنگ ہو گا۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر مائیک پینس کا کہنا تھا کہ امریکہ کا شمالی کوریا کے حوالے سے سٹریٹیجک صبر کا دور ختم ہو گیا ہے۔

وہ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل کے تجربے کے چند ہی گھنٹوں بعد جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول پہنچے تھے۔ امریکہ اور شمالی کوریا کی جانب سے شعلہ بیان بازی کے بعد کوریائی جزیرہ نما پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کے اعلیٰ سکیورٹی مشیر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر بڑھتے تناؤ کے باعث امریکہ اور چین اس حوالے سے ‘کئی تجاویز’ پر غور کر رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر مک ماسٹر نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ چین کے ساتھ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ‘یہ وہ صورتحال ہے جسے مزید نہیں بڑھنا چاہیے۔’

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین اس مسلے پر ‘ہمارے ساتھ کام کر رہا ہے۔’ چین جو کہ شمالی کوریا کا سب سے بڑا اتحادی ہے اس وقت اپنے پڑوسی ملک پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی دباؤ میں آ گیا ہے۔

شمالی کوریا کی جنگی تیاریاں

خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس مختلف رینج کے 1000 میزائل ہیں جن
میں انتہائی طویل رینج کے ایسے میزائل بھی شامل ہیں جو مستقبل میں امریکہ کو نشانہ بنانے کے قابل ہو سکیں گے۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ٹیکٹیکل آرٹلری راکٹوں سے شروع ہونے والا شمالی کوریا کا میزائل پروگرام گذشتہ چند دہائیوں میں کافی پیشرفت کر چکا ہے اور اب پیانگ یانگ کے پاس شارٹ اور میڈیم رینج کے بلسٹک میزائل ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے اس سے بھی زیادہ رینج کے میزائلوں پر تحقیق اور تیاری کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں شمالی کوریا نے اعلان کیا تھا وہ بین البراعظمی رینج کے میزائل تیار کر رہا ہے جن میں مغربی ممالک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہو گی۔

میزائلوں کی رینج

شارٹ یا کم رینج میزائل: ایک ہزار کلومیٹر سے یا اس سے کم

میڈیم یا درمیانی رینج میزائل: ایک ہزار سے تین ہزار کلومیٹر

انٹرمیڈیٹ یا متوسط رینج: تین ہزار سے پانچ ہزار کلومیٹر

انٹر کانٹنینٹل یا بین البراعظمی رینج: ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر سے زیادہ

بذریعہ: فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹ

شارٹ یا کم رینج میزائل

شمالی کوریا کا جدید میزائل پروگرام سکڈ میزائلوں سے شروع ہوا تھا جن کی پہلی کھیپ مبینہ طور پر 1976 میں مصر سے منگائی گئی تھی۔ 1984 تک شمالی کوریا اسی طرز کے واسونگ نامی میزائل تیار کر رہا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کم رینج کے متعدد قسم کے میزائل ہیں جو کہ ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ دونوں کوریائی ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور قانونی طور پر دونوں ایک دوسرے کے خلاف حالتِ جنگ میں ہیں۔

امریکہ میں ’سنٹر فار نان پرولفریشن سٹڈیز‘ کے مطابق واسونگ ۔5 اور واسونگ 6 کی بالترتیب 300 اور 500 کلومیٹر کی رینج ہے۔ یہ میزائل روایتی وار ہیڈ استعمال کرتے ہیں مگر ان میں کیمیائی، بائیولوجیکل، اور جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ ان دونوں میزائلوں کو ٹیسٹ کیا جا چکا ہے اور واسونگ ۔6 ایران کو بھی بیچا جا چکا ہے۔

درمیانی رینج کے میزائل

1980 کی دہائی میں شمالی کوریا نے ایک نیا درمیانی رینج کا میزائل، نوڈانگ تیار کرنا شروع کیا جس کی رینج تقریباً 1000 کلومیٹر تھی۔ یہ میزائل بھی سکڈ میزائل کے ڈیزائن پر تیار کیا گیا مگر اس کا حجم 50 فیصد زیادہ تھا اور اس کا انجن زیادہ طاقتور تھا۔ انٹرنیشل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے اپریل 2016 کے جائزے میں کہا گیا کہ یہ میزائل ایک ٹیسٹ شدہ نظام کے تحت لائے گئے ہیں اور یہ جنوبی کوریا کے تمام اور جاپان کے بیشتر علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ شمالی کوریا نے اکتوبر 2010 میں انھیں میزائلوں میں جدت لا کر ان کی رینج 1600 کلومیٹر تک کر دی جس کے نتیجے میں یہ جاپانی جزیرے اوکیناوا میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نوڈنگ کو 2006، 2009، 2014، اور 2016 میں ٹیسٹ کیا گیا۔

متوسط رینج کے میزائل

شمالی کوریا کئی سالوں سے موسودان نامی میزائل کے تجربے کر رہا ہے اور آخری مرتبہ انھیں 2016 میں ٹیسٹ کیا گیا۔ ان میزائلوں کی رینج کے بارے میں اندازوں میں کافی تضاد ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ان کی رینج 2500 کلومیٹر ہے جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی رینج 3200 کلومیٹر ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق کے 4000 کلومیٹر تک نشانہ بنا سکتے ہیں۔

نوڈنگ۔ بی یا ٹیپوڈونگ۔ایکس نامی میزائل شمالی کوریا اور جاپان دونوں کے تمام علاقوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس کی رینج کی حد میں گوام میں امریکی فوجی اڈے بھی آتے ہیں۔ وار ہیڈ کے حوالے سے ان میزائلوں کی صلاحیتوں کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں مگر خیال کیا جاتا ہے کہ ایک سے سوا ایک ٹن کا وار ہیڈ لے جا سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’زمین سے زمین تک مار کرنے والا میڈیم ٹو لانج رینج کے بلسٹک‘ میزائل بھی تیار کیے ہیں۔ اس طرز کے پکگکسونگ کا اگشت 2016 میں تجربہ کیا گیا جسے ایک آبدوز سے لانچ کیا گیا۔

پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ انھوں اس کے لیے سالڈ ایندھن استعمال کیا جس کے ذریعے اسے لانچ کرنے کا عمل جلدی ہو سکے گا۔ تاہم اس کی رینج کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

بین البراعظمی بلسٹک میزائل

شمالی کوریا اپنا طویل ترین رینج کا میزائل تیار کر رہا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ موبائل لانچر سے داغا جا سکے گا اور اس کا نام کے این ۔ 08 ہو گا۔ اس پیشرفت کا ابتدائی اندازہ اس وقت لگایا گیا جب ستمبر 2016 میں شمالی کوریا نے ایک نیا راکٹ انجن ٹیسٹ کیا جو کہ ایک بین البراعظمی بلسٹک میزائل پر لگایا جا سکے گا۔ امریکی وزارتِ دفاع کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کم از کم چھ کے این_08 میزائل ہیں جو کہ امریکہ کے بیشتر علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا نے اس سے بھی زیادہ رینج والا کے این۔ 14 تیار کر لیا ہے مگر اسے کبھی عوامی سطح پر ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ جنوری 2017 میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک بین البراعظمی بلسٹک میزائل تیار کرنے کے آخری مراحل میں ہے۔

کیمیکل حملے کے صرف 15 منٹ بعد کم جونگ نام ہلاک ہو گئے تھے

ملائشیا کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کے سوتیلے بھائی کم جونگ نام کی ہلاکت اعصاب شکن زہریلے مادے سے کیے جانے والے حملے کے بعد 15 سے 20 منٹ کے اندر ہوئی۔ خیال رہے کہ وی ایکس ایک غیر معمولی تباہ کن کیمیائی ہتھیار ہے اور اس کا ایک قطرہ بھی انسانی جلد پر گرنے سے انسان مر سکتا ہے۔ یہ کیمیکل جلد کے راستے انسانی جسم میں داخل ہو کر نظامِ اعصاب کو تباہ کر دیتا ہے۔

ملائشیا کے وزیرِ صحت سبرامایم سانتھاسیوم کے مطابق اس مہلک حملے کے بعد کوئی دوائی کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔ شمالی کوریا کے سربراہ کے سوتیلے بھائی کے قتل کے سلسلے میں گرفتار انڈونیشیا کی سیتی ایسیاہ نامی ایک خاتون نے 25 فروری حکام کو دوران تفتیش بتایا کہ وہ سمجھی تھیں کہ انھیں یہ ‘شرارت’ کرنے کے لیے صرف 90 ڈالر کی رقم دی گئی۔ خاتون کا کہنا تھا کہ انھیں ایک مزاحیہ ریئلٹی شو میں حصہ لینے کے لیے 90 ڈالر کم جونگ نام کے چہرے پر ‘بے بی آئل’ ملنے کے لیے دیے گئے تھے۔

ملائیشیا کے تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ دو خواتین نے اپنے ہاتھوں پر زہریلا مادہ ملا اور پھر ان ہاتھوں سے کم کا چہرہ پونچھ دیا لیکن اگر ایسا ہوتا تو وہ دونوں بھی اسی وقت مر چکی ہوتیں۔ اس صورتحال میں بظاہر لگتا یہی ہے کہ جس کپڑے سے کم کا چہرہ صاف کیا گیا اس پر وی ایکس کی بہت کم مقدار جو ممکنہ طور پر صرف ایک قطرہ بھی ہو سکتی ہے، موجود تھی۔ لیکن یہ کام کسی بھی طرح آسان نہیں تھا۔ مجرموں نے اس کی مشق کی ہو گی کہ قطرہ کم کو چھوئے لیکن وہ خود اس سے محفوظ رہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ مجرموں نے 13 فروری سے پہلے شاپنگ مالز میں اس کام کی مشق کی ہو گی۔