Kim Jong Un visits Beijing

With smiles and firm handshakes, North Korea and China used a surprise summit this week to show that despite recent tensions, Pyongyang still has a powerful backer and Beijing will not be sidelined in discussions about the fate of its unpredictable neighbor. North Korean leader Kim Jong Un’s secretive talks with Chinese President Xi Jinping in Beijing appear aimed at improving both countries’ positions ahead of Kim’s anticipated meetings with South Korean President Moon Jae-in and U.S. President Donald Trump in the coming weeks. A key objective for Beijing is to reassert its relevance to the upcoming talks, from which it has been excluded. China has appeared increasingly shut out as its relations with the North deteriorated and Pyongyang reached out to Seoul and Washington.
“Kim Jong Un’s visit shows that China is not marginalized, but playing a leading role. This saves China a lot of face,” said Pang Zhongying, a North Korea expert at Renmin University in Beijing. Official reports from both countries on Wednesday depicted in effusive terms warm ties between the two leaders in an effort to downplay recent tensions over Kim’s development of nuclear weapons and long-range missiles. In the reports, “Kim reaffirms the traditional friendship between the two countries as if nothing had ever happened, when the relationship had plummeted to unprecedented lows,” said Bonnie Glaser, an Asia expert at the Center for Strategic and International Studies.

 

 

 

 

 

 

 

Advertisements

بیجنگ آنے والی شمالی کوریا کی اہم شخصیت کون ہے ؟

چین میں یہ قیاس آرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں کہ غیر متوقع طور پر بیجنگ آنے والے شمالی کوریا کے اعلیٰ اہلکار کم جونگ ان ہیں۔ جاپان کے ذرائع ابلاغ نے سب سے پہلے اطلاع دی تھی کہ سخت سکیورٹی انتظامات میں سفارتی ٹرین پر بیجنگ پہنچنے والی ہائی پروفائل شخصیت شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان ہیں۔
جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری شخصیت کی شناخت کے بارے میں نہیں جانتے لیکن صورت حال پر قریبی نظر رکھی ہوئی ہے۔ شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان کا 2011 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ ہو سکتا ہے۔

ابھی تک شمالی کوریا اور چین کی جانب سے سرکاری طور پر ان قیاس آرائیوں پر موقف سامنے نہیں آیا لیکن اس طرح کا دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہو گا۔
گذشتہ ماہ ہی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کو ملاقات کی دعوت دی تھی جو انھوں نے قبول بھی کر لی اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس ملاقات سے پہلے درکار پیچیدہ سفارتی تقاضوں کو پورا کرنے کے حوالے سے حکام در پردہ کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اور چینی رہنماؤں کی امریکی صدر سے ملاقات سے پہلے ملاقات متوقع ہے، کیونکہ چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا اتحادی ہے۔

جاپانی ٹی وی نیپون کی ویڈیو فوٹیج میں ایک ٹرین کی نیلی بوگی کو دیکھا جا سکتا ہے جس پر پیلی لکیریں ہیں۔ چینل کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بوگی کا استعمال کم کے والد نے 2011 میں بیجنگ کے دورے کے دوران کیا تھا کیونکہ وہ ہوائی سفر سے خوفزدہ تھے۔ بیجنگ میں ریلوے سٹیشن کی جانب جانے والی سڑک کو بند کر دیا گیا تھا اور سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے. بیجنگ ریلوے سٹیشن کے باہر واقع ایک دکان کے مینیجر نے بتایا کہ انھوں نے ریلوے سٹیشن پر معمول سے ہٹ کر سرگرمیوں کو دیکھا۔ انھوں نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ’ ریلوے سٹیشن کے باہر سڑک پر پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد تعینات تھی اور سٹیشن کو اندر سے بند کیا گیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق پولیس اہلکاروں نے سیاحوں کو بیجنگ کے مشہور تیان اینمن سکوائر سے دور رکھا ہے جو کہ گریٹ ہال میں اہم ملاقات کے وقت کیا جاتا ہے۔ امریکی اخبار بلوم برگ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دورہ کرنے والے اعلیٰ شمالی کوریائی رہنما کم جونگ ان ہی ہیں لیکن جنوبی کوریا کی خبررساں ایجنسی یونہاپ سے بات کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کم جونگ ان کی بہن کم یو جونگ بھی ہو سکتی ہیں جنھوں نے جنوبی کوریا میں منعقدہ سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی تھی۔ جنوبی کوریا کے ایک اہلکار کے مطابق’ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی کہ کون بیجنگ کے دورے پر ہے لیکن ہم نے تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے صورت حال پر قریبی نظر رکھی ہوئی ہے۔

یورپ بھی شمالی کوریائی میزائلوں کی زد میں ہے : جرمن خفیہ ادارہ

جرمنی کی انٹيليجنس ايجنسی کے ايک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ شمالی کوريائی میزائل وسطی يورپ تک بھی پہنچ سکتے ہيں۔ شمالی کوريائی رہنما کم جونگ ان امريکا تک پہنچنے والے ميزائل بنانے کا اعلانیہ دعویٰ کر چکے ہيں۔ جرمنی کی انٹيليجنس ايجنسی بی اين ڈی کے ڈپٹی ڈائريکٹر اولے ڈيہل نے يہ بات ملکی ارکان پارلیمان کو دی گئی ایک بریفنگ میں بتائی۔ اس بارے ميں خبر جرمن اخبار ’بلڈ ام زونٹاگ‘ ميں شائع ہوئی ہے اور اخبار نے ميٹنگ ميں شامل افراد کے ذرائع سے يہ بات لکھی ہے۔ ڈيہل کے مطابق يہ بات يقين کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ شمالی کوريا اس صلاحيت کا حامل ہے۔ اس اخبار کی رپورٹ ميں يہ بھی لکھا ہے کہ جرمن خفيہ ايجنسی BND جنوبی اور شمالی کوريا کے مابين مذاکرات کو مثبت پيش رفت کے طور پر ديکھتی ہے۔ فوری طور پر بی اين ڈی نے خبر پر کوئی تبصرہ نہيں کيا۔

يہ امر بھی اہم ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابنديوں اور عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کے باوجود پيونگ يانگ اپنا متنازعہ جوہری و ميزائل پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ کم جونگ اُن کھلے عام اس بات کا اقرار کر چکے ہيں کہ وہ امريکی سرزمين تک مار کرنے والے ميزائل بنانے کی تياريوں ميں مصروف ہيں۔ پيونگ يانگ کے مطابق يہ اقدامات محض دفاعی نوعيت کے ہيں اور ان کا مقصد امريکا کے ’قبضے‘ سے بچنا ہے تاہم امريکا ايسے الزامات کو رد کرتا ہے۔
دريں اثناء پيونگ يانگ کے ايک سينئر سفارت کار فن لينڈ کے ليے روانہ ہوچکے ہيں۔ اس دورے پر وہ امريکی و جنوبی کوريائی نمائندوں سے بات چيت کريں گے۔ ان کی ملاقات ميں شمالی کوريا کے رہنما کم جونگ ان اور امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ايک ممکنہ ملاقات پر بھی تبادلہ خيال متوقع ہے۔ واضح رہے کہ حال ہی ميں جنوبی کوريا ميں منعقدہ سرمائی المپکس ميں شمالی و جنوبی کوريائی ايتھليٹس کی مل کر شرکت کے بعد سے جزيرہ نما کوريا ميں جاری کشيدگی ميں کمی آئی ہے۔

امریکہ شمالی کوریا سربراہی ملاقات، امکان اور سوالات

صدر ٹرمپ کی جانب سے جوہری پروگرام پر شمالی کوریا کے صدر کی براہ راست مذاکرات کی دعوت قبول کیے جانے کے ماہرین اور تجزیہ کار اس پہلو پر غور کر رہے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان عشروں سے جاری شدید تناؤ کی صورت حال میں یہ ملاقات ہو بھی سکے گی اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو اس کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کے ان سابق امریکی عہدے داروں اور تجزیہ کاروں نے جو شمالی کوریا سے تفصیلی طور پر نمٹ چکے ہیں کہا ہے کہ اب جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے ایک ایسا سفارتی مشن شروع کیا ہے جس کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں ہے ، انہیں پیچیدہ غیر یقینی مسائل کا سامنا ہے ۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ صدر ٹرمپ شمالی کوریا کے لیڈر کم جون ان کی جانب سے ملک کے جوہری پروگرام پر گفتگو کا دعوت نامہ قبول کر چکے ہیں، جس سے امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان لگ بھگ ایک عشرے تک قائم رہنے والے سفارتی تعطل ٹوٹنے کی امیدیں از سر نو پیدا ہو گئی ہیں۔ اگر یہ      سربراہی اجلاس ہو گیا تو اس سے ٹرمپ کو دنیا کے ایک سب سے مشکل مسئلے کے حل کے لیے اپنے پیش رووں سے بہتر موقع مل جائے گا۔ سینٹر فار نیول انیلیسز میں بین الاقوامی أمور کے گروپ کے ڈائریکٹر کین گوسے نے اس اعلان کو غیر معمولی اور تاریخی قرار دے کر اس کا خیر مقدم کیا۔

الیکزینڈر ورشوبو نے جو جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ کے دور میں سول میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں کہا کہ دعوت نامے کو قبول کرنا صدر کے لیے ایک درست فیصلہ تھا۔ انہوں نے کم کی جانب سے جوہری پروگرام کے خاتمے اور مذاکرات کے دوران مزید کسی جوہری تجربے سے گریز کرنے کے وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ پیانگ یانگ جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکہ کی شرائط پوری کر چکا تھا ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سابق عہدے دار ایونز ریور نے جو شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں کہا کہ پیانگ یانگ جنوب میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے ۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

ڈونلڈ ٹرمپ، کم جونگ اُن کے درمیان تاریخی ملاقات طے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سپریم رہنما کِم جونگ اُن کے سے پہلی تاریخی ملاقات کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ اس پیشرفت کو دونوں ممالک کے درمیان لاتعلقی ختم کرنے کے حوالے سے اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے سامنے کھڑے ہو کر جنوبی کوریا کے مشیر قومی سلامتی چُنگ یو یونگ نے ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان پہلی ملاقات کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات مئی کے آخر میں ہو گی۔ چُنگ یو یونگ حال ہی میں پیانگ یانگ سے لوٹے ہیں جہاں انہوں نے کم جونگ اُن سے ملاقات کی اور ان کے مطابق ’شمالی کوریا کے رہنما نے امریکی صدر سے جلد از جلد ملاقات کی آرزو کا اظہار کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیشرفت کو پیانگ یانگ کو اس کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام ختم کرنے پر قائل کرنے کے لیے ’بہترین‘ قرار دیا۔

انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ’ملاقات طے ہو گئی ہے اور کم جونگ اُن نے جنوبی کاریا کے نمائندوں سے جوہری ہتھیاروں کے تخفیف کی بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس عرصے میں شمالی کوریا کوئی میزائل تجربہ بھی نہیں کرے گا، یہ ایک اہم پیشرفت ہے تاہم معاہدہ ہونے تک پابندیاں عائد رہیں گی۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے اس پیشرفت کو ’معجزہ‘ قرار دیا۔ جنوبی کوریا میں ’سرمائی اولمپکس‘ کے دوران پیانگ یانگ نے اپنا وفد بھی بھیجا تھا، جہاں دونوں ممالک کے مندوبین کے درمیان ملاقات بھی ہوئی، جسے سیئول نے ’امن گیمز‘ قرار دیا اور دونوں ممالک نے ایک ہی پرچم تلے مارچ کیا۔ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان یہ اہم پیشرفت واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان انتہائی کشیدگی کے بعد سامنے آئی، جس نے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا ماحول پیدا کر دیا تھا۔ چند ماہ قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے کِم جونگ اُن کے قد اور وزن کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ’چھوٹا راکٹ مین‘ قرار دیا، جس کے جواب میں شمالی کوریا کے رہنما نے امریکی صدر کو ’پاگل‘ اور ’احمق‘ قرار کہا تھا۔

شمالی کوریا کی جنوبی کوریا سے تعلق بڑھانے کی خواہش

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے جنوبی کوریا سے آئے وفد سے کہا ہے کہ وہ دوبارہ اتحاد کر کے نئی تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن نے وفد سے کہا کہ وہ باہمی تعلقات میں بھرپور اضافہ اور مضبوطی دیکھنا چاہتے ہیں۔ شمالی کوریا کے رہنما نے جنوبی کوریا کے وفد کے اعزاز میں پیر کی شب عشایئہ دیا۔ صدر کم کے سنہ 2011 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے سیول سے آنے والے پہلے سرکاری اہلکاروں نے ان سے ملاقات کی ہے۔ جنوبی کوریا میں سرمائی اولمپکس کے انعقاد کے بعد سے دونوں کوریائی ریاستوں کے تعلقات میں قدرے گرم جوشی دیکھنے میں آئی ہے۔

جنوبی کوریا کے وفد میں دو اہلکار وزرا کی سطح کے ہیں جبکہ ان کے علاوہ انٹیلیجنس چیف سُو ہُون اور قومی سلامتی کے مشیر چنگ اوئی یانگ شامل ہیں۔
مسٹر چنگ نے اس سے پہلے صحافیوں کو بتایا کہ وہ شمالی اور جنوبی کوریا کے باہمی تعلقات میں بہتری اور مذاکرات سے متعلق اپنے صدر مون جائے اِن کی قرارداد پیش کریں گے۔ اطلاعات ہیں کہ خصوصی وفد سے ملاقات کے بعد صدر کم نے امور پر تبادلۂ خیال بھی کیا اور تسلی بخش معاہدہ بھی کیا۔ انھوں نے متعلقہ حکام کو اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے تیز تر اقدامات کرنے کا حکم دیا۔

وفد کے دو روز دورے میں جنوبی کوریا کے اہلکاروں کی توجہ کا مرکز مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنا تھا تاکہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں سے پیچھا چھڑایا جا سکے۔ اور امریکہ اور پیانگ یانگ کے درمیان بات چیت کا آغاز ممکن ہو۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ شمالی اور جنوبی کوریا کے بہتر ہوتے تعلقات پر نظر رکھے ہوئے ہے تاہم وہ اس وقت تک پیانگ یانگ (شمال کوریا) سے مذاکرات نہیں کرے گا جب تک وہ جوہری ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوتا۔ شمالی کوریا نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہے۔ امکان ہے کہ جنوبی کوریائی اہلکار چنگ اور سُو اس کے بعد واشنگٹن جائیں گے تاکہ ان مذاکرات کے حوالے سے امریکی حکام کو آگاہ کر سکیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو

اقوام متحدہ کی نئی پابندیاں جنگی اقدام کے مترادف ہیں : شمالی کوریا

شمالی کوریا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے پیونگ یانگ کے خلاف حالیہ پابندیاں جنگ کے مترادف ہیں اور یہ ملک کے خلاف مکمل اقتصادی محاصرے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے ذریعے نشر ہونے والے بیان میں وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ “ہم اقوام متحدہ کی جانب سے نئی پابندیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور انہیں اپنی خود مختاری پر کھلا حملہ اور جنگی اقدام شمار کرتے ہیں جو جزیرہ نما کوریا اور خطّے میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈال دے گا”۔

وزارت خارجہ کے مطابق “شمالی کوریا کی ریاست کی جانب سے نیوکلیئر طاقت بننے سے متعلق تاریخی کامیابی کے سبب امریکا شدید خوف کا شکار ہے، اسی وجہ سے وہ ہمارے خلاف زیادہ سے زیادہ پابندیاں عائد کرنے کے جنون میں مبتلا ہے”۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ “ہم اپنے دفاع کے لیے جوہری میدان میں مزاحمت کو اور مضبوط بنائیں گے۔ اس کا مقصد بنیادی طور پر امریکا کی جانب سے جوہری دھمکیوں ، بلیک میلنگ اور دشمنانہ کارروائیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس واسطے امریکا کے مقابل عملی قوت کا توازن پیدا کیا جائے گا”۔

یاد رہے کہ سلامتی کونسل نے شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان کے مطابق شمالی کوریا کے جوہری میزائل پروگرام کے لیے پیونگ یانگ کی تیل کی درآمدات پر روک لگانا ہے۔ سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان نے متقفہ طور پر پابندیوں کی قرارداد کو مںظور کر لیا۔ واشنگٹن نے حالیہ قرارداد چین کے ساتھ مذاکرات کے بعد پیش کی جو شمالی کوریا کا واحد حلیف اور اس کے لیے تیل کا بنیادی ذریعہ ہے۔ قرارداد منظور ہونے کے فوری بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ “دنیا امن چاہتی ہے موت نہیں”۔ ادھر اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر نکی ہیلی نے شمالی کوریا کو “جدید دنیا میں بدی کی سب سے بڑی مثال” قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ قرارداد پیونگ یانگ کے لیے واضح پیغام ہے کہ مزید خلاف ورزیوں پر اسے مزید پابندیوں اور علاحدگی کا سامنا کرنا پڑے گا”۔ اقوام متحدہ کی پابندیاں شمالی کوریا کے لیے تیل کی 75 فی صد مصنوعات پر پابندی عائد کرتی ہیں۔

شمالی کوریا کا نیا بیلسٹک میزائل پورے امریکہ کو نشانہ بنا سکتا ہے

شمالی کوریا نے ایک نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعوی کیا ہے اور جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ براعظم امریکہ کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس تازہ تجربے کے بعد شمالی کوریا کے سرکاری ٹیلی وژن سے اعلان کیا گیا ہے شمالی کوریا نے جوہری ریاست بننے کا مشن پورا کر لیا ہے۔ شمالی کوریا کے مطابق یہ نیا ہواسانگ 15 میزائل طاقت ور ترین میزائل ہے اور اسے منہ اندھیرے لانچ کیا گیا۔ یہ میزائل جاپان کے پانیوں میں جا کر گرا تاہم اس کی اڑان شمالی کوریا کی جانب سے تجربہ کیے گئے ماضی کے سبھی میزائلوں سے زیادہ بلند تھی۔

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے جواب میں پریسزژن سٹرائک میزائل یا تیر بہ ہدف میزائلوں کی مشقیں کی ہیں۔ امریکی محکمہِ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے اس ممکنہ تجربے کا جائزہ لے رہا ہے۔ جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یوناپ کے مطابق مذکورہ میزائل جنوبی پیونگان صوبے میں پیونگ سونگ سے مشرق کی جانب اڑا۔ اس سال شمالی کوریا نے متعدد بیلسٹک میزائلوں کے تجربے کیے ہیں جن میں ان کا پہلا بین الابرِعاظمی بیلسٹک میزائل بھی شامل ہے۔

اسی دوران میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی سطح پر کشیدگی میں اٰضافہ ہوا ہے۔ شمالی کوریا اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے جوہری اسلحے کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ پیانگ یانگ نے اپنے میزائل پروگرام کے منصوبے کو راز میں بھی نہیں رکھا کہ وہ ایسا میزائل بنانا چاہتا ہے جو امریکہ کی سرزمین کو نشانہ بنا سکے اور یہ کہ اس نے ہائڈروجن بم تیار کر لیا ہے۔ گذشتہ ماہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری حملے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

امریکہ فوجی کارروائی کا نتیجہ مکمل جنگ ہو گا – شمالی کوریا

شمالی کوریا میں اعلیٰ حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی
کشیدگی اور بین الاقوامی مذمت کے باوجود شمالی کوریا اپنے میزائل تجربے جاری رکھے گا۔ شمالی کوریا کے نائب وزیرِ خارجہ ہان سونگ ریول کا کہنا تھا کہ ’ہم ہفتہ وار، ماہانہ، اور سالانہ بنیادوں پر اپنے تجربے جاری رکھیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اس قدر غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ فوجی کارروائی کرے تو اس کا نتیجہ مکمل جنگ ہو گا۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر مائیک پینس کا کہنا تھا کہ امریکہ کا شمالی کوریا کے حوالے سے سٹریٹیجک صبر کا دور ختم ہو گیا ہے۔

وہ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل کے تجربے کے چند ہی گھنٹوں بعد جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول پہنچے تھے۔ امریکہ اور شمالی کوریا کی جانب سے شعلہ بیان بازی کے بعد کوریائی جزیرہ نما پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کے اعلیٰ سکیورٹی مشیر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر بڑھتے تناؤ کے باعث امریکہ اور چین اس حوالے سے ‘کئی تجاویز’ پر غور کر رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر مک ماسٹر نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ چین کے ساتھ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ‘یہ وہ صورتحال ہے جسے مزید نہیں بڑھنا چاہیے۔’

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین اس مسلے پر ‘ہمارے ساتھ کام کر رہا ہے۔’ چین جو کہ شمالی کوریا کا سب سے بڑا اتحادی ہے اس وقت اپنے پڑوسی ملک پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی دباؤ میں آ گیا ہے۔

شمالی کوریا کی جنگی تیاریاں

خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس مختلف رینج کے 1000 میزائل ہیں جن
میں انتہائی طویل رینج کے ایسے میزائل بھی شامل ہیں جو مستقبل میں امریکہ کو نشانہ بنانے کے قابل ہو سکیں گے۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ٹیکٹیکل آرٹلری راکٹوں سے شروع ہونے والا شمالی کوریا کا میزائل پروگرام گذشتہ چند دہائیوں میں کافی پیشرفت کر چکا ہے اور اب پیانگ یانگ کے پاس شارٹ اور میڈیم رینج کے بلسٹک میزائل ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے اس سے بھی زیادہ رینج کے میزائلوں پر تحقیق اور تیاری کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں شمالی کوریا نے اعلان کیا تھا وہ بین البراعظمی رینج کے میزائل تیار کر رہا ہے جن میں مغربی ممالک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہو گی۔

میزائلوں کی رینج

شارٹ یا کم رینج میزائل: ایک ہزار کلومیٹر سے یا اس سے کم

میڈیم یا درمیانی رینج میزائل: ایک ہزار سے تین ہزار کلومیٹر

انٹرمیڈیٹ یا متوسط رینج: تین ہزار سے پانچ ہزار کلومیٹر

انٹر کانٹنینٹل یا بین البراعظمی رینج: ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر سے زیادہ

بذریعہ: فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹ

شارٹ یا کم رینج میزائل

شمالی کوریا کا جدید میزائل پروگرام سکڈ میزائلوں سے شروع ہوا تھا جن کی پہلی کھیپ مبینہ طور پر 1976 میں مصر سے منگائی گئی تھی۔ 1984 تک شمالی کوریا اسی طرز کے واسونگ نامی میزائل تیار کر رہا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کم رینج کے متعدد قسم کے میزائل ہیں جو کہ ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ دونوں کوریائی ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور قانونی طور پر دونوں ایک دوسرے کے خلاف حالتِ جنگ میں ہیں۔

امریکہ میں ’سنٹر فار نان پرولفریشن سٹڈیز‘ کے مطابق واسونگ ۔5 اور واسونگ 6 کی بالترتیب 300 اور 500 کلومیٹر کی رینج ہے۔ یہ میزائل روایتی وار ہیڈ استعمال کرتے ہیں مگر ان میں کیمیائی، بائیولوجیکل، اور جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ ان دونوں میزائلوں کو ٹیسٹ کیا جا چکا ہے اور واسونگ ۔6 ایران کو بھی بیچا جا چکا ہے۔

درمیانی رینج کے میزائل

1980 کی دہائی میں شمالی کوریا نے ایک نیا درمیانی رینج کا میزائل، نوڈانگ تیار کرنا شروع کیا جس کی رینج تقریباً 1000 کلومیٹر تھی۔ یہ میزائل بھی سکڈ میزائل کے ڈیزائن پر تیار کیا گیا مگر اس کا حجم 50 فیصد زیادہ تھا اور اس کا انجن زیادہ طاقتور تھا۔ انٹرنیشل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے اپریل 2016 کے جائزے میں کہا گیا کہ یہ میزائل ایک ٹیسٹ شدہ نظام کے تحت لائے گئے ہیں اور یہ جنوبی کوریا کے تمام اور جاپان کے بیشتر علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ شمالی کوریا نے اکتوبر 2010 میں انھیں میزائلوں میں جدت لا کر ان کی رینج 1600 کلومیٹر تک کر دی جس کے نتیجے میں یہ جاپانی جزیرے اوکیناوا میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نوڈنگ کو 2006، 2009، 2014، اور 2016 میں ٹیسٹ کیا گیا۔

متوسط رینج کے میزائل

شمالی کوریا کئی سالوں سے موسودان نامی میزائل کے تجربے کر رہا ہے اور آخری مرتبہ انھیں 2016 میں ٹیسٹ کیا گیا۔ ان میزائلوں کی رینج کے بارے میں اندازوں میں کافی تضاد ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ان کی رینج 2500 کلومیٹر ہے جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی رینج 3200 کلومیٹر ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق کے 4000 کلومیٹر تک نشانہ بنا سکتے ہیں۔

نوڈنگ۔ بی یا ٹیپوڈونگ۔ایکس نامی میزائل شمالی کوریا اور جاپان دونوں کے تمام علاقوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس کی رینج کی حد میں گوام میں امریکی فوجی اڈے بھی آتے ہیں۔ وار ہیڈ کے حوالے سے ان میزائلوں کی صلاحیتوں کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں مگر خیال کیا جاتا ہے کہ ایک سے سوا ایک ٹن کا وار ہیڈ لے جا سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’زمین سے زمین تک مار کرنے والا میڈیم ٹو لانج رینج کے بلسٹک‘ میزائل بھی تیار کیے ہیں۔ اس طرز کے پکگکسونگ کا اگشت 2016 میں تجربہ کیا گیا جسے ایک آبدوز سے لانچ کیا گیا۔

پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ انھوں اس کے لیے سالڈ ایندھن استعمال کیا جس کے ذریعے اسے لانچ کرنے کا عمل جلدی ہو سکے گا۔ تاہم اس کی رینج کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

بین البراعظمی بلسٹک میزائل

شمالی کوریا اپنا طویل ترین رینج کا میزائل تیار کر رہا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ موبائل لانچر سے داغا جا سکے گا اور اس کا نام کے این ۔ 08 ہو گا۔ اس پیشرفت کا ابتدائی اندازہ اس وقت لگایا گیا جب ستمبر 2016 میں شمالی کوریا نے ایک نیا راکٹ انجن ٹیسٹ کیا جو کہ ایک بین البراعظمی بلسٹک میزائل پر لگایا جا سکے گا۔ امریکی وزارتِ دفاع کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کم از کم چھ کے این_08 میزائل ہیں جو کہ امریکہ کے بیشتر علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا نے اس سے بھی زیادہ رینج والا کے این۔ 14 تیار کر لیا ہے مگر اسے کبھی عوامی سطح پر ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ جنوری 2017 میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک بین البراعظمی بلسٹک میزائل تیار کرنے کے آخری مراحل میں ہے۔