بجلی کا مسئلہ اور جماعت اسلامی

بجلی کا مسئلہ گزشتہ کئی عشروں سے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن کر رہا ہے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (K.E.S.C) آزادی سے قبل قائم ہوئی تھی۔ کے ای ایس سی نے بجلی کی پیداوار اور صارفین کو بجلی کی فراہمی کا فریضہ 60 سال سے زیادہ عرصہ تک انجام دیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے 80ء کی دہائی تک یہ کمپنی اپنے فرائض تسلی بخش طور پر انجام دیتی رہی۔ نئی آباد ہونے والی بستیوں کو بجلی فراہم کی گئی اور صارفین کی مانگ پوری کرنے کے لیے بجلی کی پیداوار کا ہدف پورا کیا گیا۔ پھر کے ای ایس سی کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں وفاق کے حوالے کیا گیا۔ اب یہ ادارہ اسلام آباد سے کنٹرول ہونے لگا۔ سیاسی بھرتیاں شروع ہوئیں، بجلی کی چوری بھی بڑھی، پہلے صرف میٹر میں ٹیمپرنگ ہوتی تھی، پھر کنڈا سسٹم آ گیا۔

یہ کنڈا سسٹم امرا کے علاقوں، متوسط طبقے اور نچلے متوسط طبقے کی بستیوں میں آیا۔ کنڈا لگانے کا طریقہ  عملے نے لوگوں کو سکھایا۔ میٹر میں ہیر پھیر، بل میں کمی اور نئے کنکشن کی فراہمی کے ریٹ ہر علاقے کے الگ الگ طے ہوئے۔ اس طرح کے ای ایس سی میں خسارے کا آغاز ہوا۔ 90ء کی دہائی کے آخری برسوں میں کراچی میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے اثرات کے ای ایس سی پر پڑنے لگے۔ لسانی بنیادوں پر بھرتیاں ہونے لگیں، انتظامیہ کو مفلوج کیا جانے لگا اور مزدور تنظیمیں لسانی رنگ میں ڈھل گئیں۔ کے ای ایس سی کا خسارہ خطرناک حد تک پہنچ گیا۔

پرویز مشرف حکومت نے 2003ء میں ایماندار سی ایس پی افسر ملک شاہد حامد کو کے ای ایس سی کا سربراہ مقرر کیا۔ شاہد حامد انجنیئر نہیں تھے مگر ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ انھوں نے کے ای ایس سی میں بنیادی اصلاحات کے نفاذ کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ کچھ افسران نکالے گئے اور کچھ کے نام وفاقی تحقیقاتی اداروں کو بھیجے گئے۔ کے ای ایس سی کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے منصوبہ بندی کا آغاز ہوا۔ کارکنوں کے لیے سخت شرائط کے لیے ملازمت کا نیا طریقہ کار وضح کیا گیا۔ پھر ایک روز موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے شاہد حامد کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ صبح اپنے گھر سے دفتر جا رہے تھے۔ تحقیقاتی ایجنسیوں نے طویل جدوجہد کے بعد ایم کیو ایم کے کارکن صولت مرزا کو اس قتل کے الزام میں گرفتار کیا اور انھیں سزائے موت دی گئی اور کے ای ایس سی کی تنظیمِ نو کا سلسلہ رک گیا۔ پھر کے ای ایس ا ی کو فوجی افسروں کے حوالے کیا گیا۔

ان افسروں نے بجلی کی چوری روکنے، بجلی کی پیداوار کو بڑھانے اور غیر حاضر کارکنوں کے احتساب کے لیے اہم اقدامات کیے جس کی بنا پر کے ای ایس سی کے حالات میں تبدیلی رونما ہوئی۔ جنرل مشرف کے دور میں کے ای ایس سی کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا۔ کے ای ایس سی کی مزدور انجمنوں نے اس فیصلے کے خلاف زبردست مزاحمت کی۔ مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم نے مزدوروں کی اس تحریک کی حمایت نہیں کی۔ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں مزدوروں کے ساتھ تھیں مگر عوامی حمایت نہ ہونے کی بنا پر مزدوروں کی یہ تحریک ناکام ہو گئی۔ پھر مزدور انجمنوں نے زرداری دور میں احتجاجی تحریک چلائی مگر  یہ تحریک بھی ناکامی سے دوچار ہوئی۔

کمپنی نے بجلی کی مانگ پوری کرنے کے لیے  اقدامات کیے۔ شہر کو طبقاتی طور پر تقسیم کر دیا گیا۔ امراء کے علاقے لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیدیے گئے، متوسط طبقے اور نچلی متوسط طبقے کی بستیوں میں 4 سے 6 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جانے لگی اور غریبوں کی بستیوں میں 8 سے 10 گھنٹوں تک لوڈ شیڈنگ ہونے لگی جو آج تک جاری ہے۔ پھر بجلی کے ٹیرف میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا۔ اضافی سرچارج عوام  پر ڈال دیا گیا ۔ دو کمرے کا مکان جس میں صرف ایک ٹی وی، ریفریجریٹر اور کپڑے دھونے کی مشین ہوتی ہے، وہاں دس ہزار سے زائد کا بل بھیجا جانے لگا۔ بعض لوگوں کو تو ایک کمرے کے مکان کا بل دس ہزار روپے سے زائد آنے لگا۔

شکایات درج کرانا بھی خاصا مشکل ہو گیا ۔ پی ای سی ایچ ایس سمیت کئی علاقے جو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں وہ بھی بجلی کے نئے بحران کا شکار ہوئے۔ ان علاقوں میں بغیر کوئی وجہ بتائے 10 ،10 گھنٹے تک بجلی کی فراہمی معطل رہی ۔ کنڈا سسٹم کے تدارک کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں کاپر کے تار تبدیل کر کے المونیم کے تار نصب کر دئیے۔ مگر دو سال پہلے جب کراچی گرمی کی شدید لہر کا شکار ہوا تو المونیم کے تار اس گرمی کو برداشت نہ کر سکے جس پر شہر میں بجلی کا شدید بحران پیدا ہوا۔ بجلی کے نرخ مزید  بڑھا دیئے گئے۔

سول سوسائٹی کے فعال اراکین حاجی ناظم اور کرامت علی وغیرہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے لیے ہمیشہ متحرک رہتے ہیں۔ یہ صاحبان بنیادی حقوق کے لیے جلسہ جلوس، مظاہرے اور عدالتوں سے رجوع کرنے کے تمام طریقوں کو استعمال کرتے ہیں۔ حاجی ناظم اور ان کے ساتھیوں نے سرچارج یا شہریوں کے ساتھ ہونے والی دیگر زیادتیوں کے ازالہ کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

شہریوں کو امید ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کراچی کے شہریوں کے بنیادی حق کے تحفظ کے لیے جامع فیصلہ دے گی۔ مگر شہریوں کے اس حق کا تحفظ محض غیر سرکاری تنظیموں کی کوششوں سے ہی ممکن نہیں، جب تک سیاسی جماعتیں ان حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد نہیں کرتیں مسائل حل نہیں ہوں گے۔ دائیں بازو کی مذہبی جماعت جماعت اسلامی کراچی کی قیادت نے اس معاملہ کی گہرائی کو محسوس کیا۔ جماعت کے کراچی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں ایک منظم مہم شروع کی گئی۔

اس مہم کے دوران پولیس نے جماعت اسلامی کے دفتر کا گھیراؤ کیا، اس دوران کچھ کارکن گرفتار بھی ہوئے۔ جماعت کی قیادت نے عوامی کلچر کو اپناتے ہوئے اپنے مظاہرے میں بھینسوں کو بھی استعمال کیا اور اردو کے محاورے ’’بھینس کے آگے بین بجانا‘‘ کی مشق کی۔ 70ء کی دہائی میں جماعت اسلامی کے اکابرین ذاتی ملکیت کے تحفظ کے نظریہ کے اسیر تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ  ریاست کو حق نہیں کہ صنعتی اداروں اور بینکوں وغیرہ کو قومی تحویل میں لے مگر سرمایہ دارانہ نظام کی جیرہ دستی اور پھر فری مارکٹ اکانومی کے دور میں شہری کی حیثیت محض ’’جنس‘‘ میں تبدیل ہوئی۔

اب صورتحال کے ادراک کے بعد جماعت کی قیادت بنیادی سہولتوں کے اداروں کو قومی ملکیت میں لینے کے حق میں ہے جو مسائل کا بنیادی حل ہے۔ پھر تنقید نگار یہ کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ صرف ان شہریوں کے لیے جدوجہد کی ہے جو مسلمان ہیں جس کی بناء پر غیر مسلم شہری اس طرح کی جدوجہد سے متاثر نہیں ہوئے مگر ایک مثبت بات یہ ہے کہ اب جماعت اسلامی کی قیادت ان تمام مسائل پر جدوجہد کرنے لگی ہے جو پاکستان کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ پہلے حافظ نعیم اور ان کے ساتھیوں نے چین کے تیار کردہ چنگ چی رکشوں پر پابندی کے خلاف جدوجہد کی تھی اور اب بجلی کے مسئلے پر جدوجہد کر کے تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کی ہر شہری کو سستی اور بلا رکاوٹ بجلی کی فراہمی کی جدوجہد ایک خوشگوار تبدیلی ہے۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

کراچی کی ترقی میں بہت کلیدی کردار نعمت اللہ خان کا ہے : عشرت العباد

Ishrat-ul-ibad-Naimatullah-Khan-640x366

کراچی میں ٹراما سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ کراچی کی ترقی میں بہت کلیدی کردار سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کا ہے۔ عشرت العباد خان نے مزید کہا کہ نعمت اللہ خان نے ترقیاتی کام نہایت ایمانداری سے کیا۔ خیال رہے کہ کراچی میں 2001 سے 2005 تک جماعت اسلامی کی بلدیاتی حکومت رہی، اس دور میں شہر کے ناظم (میئر) نعمت اللہ خان تھے، جو اب جماعت اسلامی کے فلاحی ادارے الخدمت فاؤنڈیشن کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔

نعمت اللہ خان کی تعریف کرتے ہوئے گورنر سندھ نے مزید کہا کہ انہوں نے شہر کی مارچ 2005 تک خدمت کی، اسی سال شہر میں دوبارہ بلدیاتی انتخابات ہوئے، اور اکتوبر 2005 میں نئی بلدیاتی حکومت قائم ہوئی۔ عشرت العباد کا کہنا تھا کہ نعمت اللہ خان نے جس رفتار سے کراچی کی ترقی کا عمل شروع کیا تھا، 2005 میں بننے والی شہری حکومت نے اس رفتار کو برقرار نہیں رکھا، اور شہریوں کو مایوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ نعمت اللہ خان بہترین، ایماندار اور خاندانی آدمی ہیں، انہوں نے کے تھری کا منصوبہ شروع کیا تو اس میں 75 ہزار کروڑ روپے کی بچت کی، ان کی ہمیشہ سے عزت کرتا ہوں، ان کی سوچ بہت اچھی ہے۔

جعلی پولیس مقابلے :میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ؟

 

ایدھی اب بھی زندہ ہیں – ایدھی کے متاثر کن اقوال

انسانیت کا دُکھ درد بانٹ کر دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنے والے عبدالستار ایدھی کی زبان سے نکلنے والا ہر ایک لفظ لوگوں پر اثر انداز ہوا۔ ایدھی صاحب نے زندگی بھر انجام دئیے گئے کارناموں سے پوری دنیا کے لیے مثالیں قائم کیں اور بلاشبہ ’’زیادہ کام اور کم کلام‘‘ موت تک اُن کی زندگی کا بنیادی اصول رہا۔ اگرچہ عظیم شخصیت، عبدالستار ایدھی سے بہت زیادہ اقوال منسوب نہیں، لیکن یہاں اُن کے کچھ ایسے اقوال پیش کیے جا رہے ہیں، جو آپ کو زندگی بھر متاثر کریں گے:

٭ میرا مذہب انسانیت ہے، جس کی بنیادیں دنیا کے ہر مذہب میں موجود ہیں۔

٭ میں نے کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی۔ ایسی تعلیم کا مصرف ہی کیا کہ جب ہم انسان نہ بن سکیں۔ میری درس گاہ انسانیت کی فلاح و بہبود ہے۔

٭ بلقیس، کسی ایک کی موت کو دل پر مت لو۔ خدا کو مساوات سے یاد رکھو، جس کا وہ اطلاق کرتا ہے۔ کوئی انسان مختلف نہیں، امیر ترین سے لے کر غریب ترین تک۔ یہاں سے لے کر دنیا کے آخری سرے تک تمام انسانوں کے ساتھ مساوی سلوک کرو، جو مساوات کی ایک مثال ہے۔

٭ کئی برس بعد بھی، آج متعدد افراد مجھ سے شکایت اور سوال کرتے ہیں کہ تم عیسائیوں اور ہندوؤں کو اپنی ایمبولینس میں کیوں اُٹھاتے ہو اور میں جواب دیتا ہوں ؛ اس لیے کہ ایمبولینس تم سے زیادہ مسلمان ہے۔

٭ خالی الفاظ اور طویل تعریفیں خدا کو متاثر نہیں کرتیں۔ خدا کو اپنے عقیدے اور اعمال سے متاثر کرو۔

٭ خواہشات کے پیچھے بھاگنا ہمارے اندر ہنگامہ برپا کرتا ہے۔ جب شیطان رہنما بن جائے، تو ڈکیت اور جرائم پیشہ افراد بنتے ہیں۔ شیطان انسانوں کو اُن کے ضمیر کے خلاف لڑنے پر اُکساتا ہے کہ وہ مہنگی اشیا خرید سکیں اور پھر زیادہ تر اپنا سب کچھ ہار جاتے ہیں۔ اندرونی دشمن پر صرف ذاتی انقلاب ہی کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔

٭مقدس کتاب کو اپنی روحوں میں کھولو، گودوں میں نہیں۔ اپنے دل کو کھولو اور خدا کی مخلوق کو دیکھو۔ ان کی حالت ِزار میں تمہیں خدا دکھائی دے گا۔

٭ ایسے افراد جو دنیا کو تبدیل کرنے پر یقین رکھتے تھے یا تو حالات کی وجہ سے بھوکے تھے یا پھر انہوں نے اپنی مرضی سے محرومی کا انتخاب کیا تھا۔

٭ظاہری شان و شوکت دھوکا دیتی ہے اور اس سے دستبردار ہونے سے سچ اور عاجزی میں اضافہ ہوتا ہے۔

(اُردو ٹرائب سپیشل)

ایدھی کا سفر : میمن والسیر کور سے ایدھی فاؤنڈیشن تک

کسی یتیم کو سہارا چاہیے یا پھر کسی بے نام بچے کو والد کا نام، زخمی کو ہسپتال پہنچانا ہو یا بیمار کو دوا چاہیے ہو، بھوکے افراد کا پیٹ بھرنا ہو یا پھر لاوارث لاش کو دفنانا ہو۔ یہ سب اُمور ایدھی فاؤنڈیشن بغیر کسی معاوضے اور احسان جتائے بغیر کرتی ہے۔ 115 ہیلپ لائن یا ملک بھر میں کام کرنے والے 117 ایدھی سینٹرز بے رحمی اور اذیت کا شکار افراد کے مداوا کر رہے ہیں۔ فرقہ واریت اور مذہبی تفریق سے نفرت کرنے والے عبدالستار ایدھی نےساری زندگی ایک ہی پیغام دیا کہ ’انسان بنو، انسانیت پھیلاؤ ، مذہب اور ذات پات بعد میں انسانیت پہلے۔‘

20 سال کی کم عمر میں ایدھی نے انسانیت کی مدد کے لیے یہ اصول اپنایا کہ حکومت وقت سے کبھی مدد نہیں لینی اپنی مدد آپ کا شعور عوام میں اجاگر کرنے کے لیے انھیں کے چندے کے انھی کی مدد کا آغاز کیا ۔

وہ کہتے تھے کہ ’میں صرف پاکستانیوں سے لیتا ہوں میں انھیں خیرات دینے والی قوم بنانا چاہتا ہوں۔‘ ایدھی فاؤنڈیشن کے قیام کے پیچھے مسلسل چھ دہائیوں پر مشتمل ان کی جدوجہد ہے۔ 1948 میں میٹھادر میں میمن برادری نے ایک مخیر تنظیم کی بنیاد رکھی۔ ایدھی نے کچھ ہی عرصہ اس تنظیم کی ڈسپینسری میں کام کرنے کے بعد یہ مطالبہ کیا کہ اسےمیمن برادری تک محدود نہیں کرنا درست نہیں ہے مگر یہ مطالبہ نہیں مانا گیا اور انھیں تنطیم چھوڑنا پڑی۔ ایدھی نے سماجی خدمات کا آغاز سنہ 1950 میں ایک ضعیف شخص کو پاکستان سے انڈیا ان کے خاندان تک پہنچا کر کیا۔

سنہ 1951 میں میٹھادر کے علاقے میں دو سے تین سو روپے عوض پگڑی پر دوکان حاصل کی اور وہاں ایک ڈسپنسری قائم کی۔ ابتدا میں اس کا نام ’میمن والسیر کور‘ رکھا گیا۔ سیمنٹ کا بینچ ایدھی کا بستر تھا کیونکہ وہ ڈسپینسری کو کبھی بند نہیں کرتے تھے۔ برادری ازم سے باہر نکلنے کے لیے ایدھی نے ڈسپنسری کا نام بدل دیا اور وہاں ایک ڈسپنسری کے علاوہ ایک ’میٹرنٹی ہوم‘ کھولا اور نرسنگ کورس بھی شروع کروایا۔ ڈسپنسری کے باہر آویزاں بینر پر یہ درج تھا ’ انسانیت کے نام پر جو دے اس کا بھی بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا‘

1957 میں میٹھا درسے باہر ان کی تنظیم نے سماجی خدمات کا آغاز کیا جو کہ ملیر میں ’ہانگ کانگ فلو‘ کے متاثرین کی مدد کے لیے تھا۔ ایک کاروباری شخصیت نے ایدھی کو 20 ہزار روپے دیے جس سے انھوں نے ایک پرانی وین خریدی اور اسے ’غریب آدمی وین‘ کا نام دیا۔یہ وہ وقت تھا جب کراچی کے سرکاری ہسپتال کے پاس صرف پانچ ایمبولینس تھیں۔ آنے والے عرصے میں لوگوں نے کھالیں، کپڑے اور خواراک بھی ڈسپینری بھجوانی شروع کی۔ جب ایدھی نے، خواتین کے لیے میٹرنٹی ہوم بنایا، پھر اپاہج اور معمر افراد کو چھت فراہم کرنے کی کوشش کی اور تعفن زدہ لاشوں کی تدفین کا آغاز کیا تو ان کے خلاف مخالفین نے پروپیگنڈا مزید بڑھا دیا۔ ان کو ملنے والے عطیات پر بھی سوال اٹھے۔

ایسے میں ایدھی نے دو کام کیے ایک تو ڈسپینری کا نام ’ایدھی ڈسپنری‘ رکھا اور دوسرے باہر بورڈ پر یہ عبارت لکھی ’عطیات دینے والا کوئی بھی شخص شک و شبہے کی صورت میں اپنی رقم واپس لے سکتا ہے۔‘ایدھی فاؤنڈ.یشن کی بنیاد 1978 میں رکھی گئی۔ 1988 میں فاؤنڈیشن نے پاکستان کی سب سے بڑی تدفین سروس شروع کی۔ وہ لاوراث لاشوں کو کفناتے تھے، یہ نہیں دیکھتے تھے کہ حادثے کیسے پیش آیا، لاش کتنی تعفن زدہ ہے مرنے والا کس مذہب یا رنگ و نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ کہتے تھے ’مسخ شدہ لاشیں دیکھ کر میں یہ سوچتا ہوں کہ یہ میتیں میری تمھاری یا کسی کی بھی ہو سکتی ہیں، تو کراہیت کیسی؟ سنہ 1990 تک ایدھی کی ایمرجنسی ہیلپ لائن 115 منظور ہو چکی تھی۔

کراچی میں جب قتل و غارت کا آغاز ہوا تو ایدھی نے تمام ایمبولینس کے عملے کو ہدایت کی کہ وہ آنکھیں اور کان بند کر کے اپنا کا جاری رکھیں کیونکہ انھیں متاثرہ افراد کو جلد ازجلد ہسپتال پہنچانا ہے۔ 1998 تک ملک بھر میں پھیلا ایدھی فاؤنڈیشن کے نیٹ ورک کو ایک کنٹرول ٹاور سے منسلک کر دیا گیا۔ ملک بھر میں آج 335 ایدھی سینٹرز ہیں اور ملک کے بڑے شہروں میں 17 ایدھی ہومز ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن 2000 ملازمین کام کرتے ہیں۔ چار ہوائی جہاز، 1800 ایمبولینسز، کینسر ہسپتال، ہوم فار ہوم لیس، ایدھی شیلٹرز اور ایدھی ویلج ، ایدھی چائلڈ ہوم ، بلقیس ایدھی میٹرنٹی ہوم، ایدھی فری لیبارٹری، ایدھی فری لنگر اور ایدھی ویٹنری ہسپتال کام کر رہے ہیں۔

سیلاب اور سمندری حادثات کے موقع پر رسیکیو کے کشتیاں بھی موجود ہیں۔  ہر ایدھی سینٹر کے باہر ایک جھولا ہے جس کے بارے میں ایدھی کہتے تھے کہ ’اپنے بچے کو کبھی کوڑے میں مت پھینکو، قتل مت کرو، اُسے جھولے میں ڈال دو۔‘بلقیس ایدھی ٹرسٹ کے ہیڈ کواٹر میں میٹرنٹی ہوم چلاتی ہیں، سالانہ تقریباً ڈھائی سو بچوں کو بے اولاد جوڑوں کے سپرد کیا جاتا ہے۔ ایدھی ہومز مز اور ویلفیئر سینٹرز میں کل 8500 بچے اور مرد خواتین کو سائبان فراہم کیا جاتا ہے جو لاوارث، ہیں یا کسی وجہ سے ان کے خاندان والے انھیں خود ایدھی سینٹر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اپنی دن بھر کی مصروفیات کے باوجود ایدھی ہوم میں پرورش پانے والے یتیم بچوں کے لیے عبدالستار ایدھی کچھ وقت ضرور نکالتے تھے۔

افعانستان، برطانیہ، امریکہ، بنگلہ دیش، جاپان ، نیپال اور آسٹریلیا میں بھی ایدھی فاؤنڈیشن کے دفاتر موجود ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے ٹرسٹیز میں ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی اورپانچ بچے شامل ہیں۔ فاؤنڈیشن کے ہیڈکوراٹر سے منسلک ان کی چھوٹی سی رہائش گاہ جہاں دنیا کی کوئی پرتعیش چیز دکھائی نہیں دیتی اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کے امیر ترین غریب شخص اپنے پیچھے صرف انسانیت کا درس اور فلاح کا ایسا نظام چھوڑ کر گئے ہے۔ جو یہی پیغام دیتا ہے کہ کامیابی کے لیے سرمایہ نہیں بلکہ سچی لگن اور مسلسل کوشش درکار ہے۔

حمیرا کنول

بی بی سی اردو ڈاٹ کام

ایدھی فاؤنڈیشن کا کام ایک لمحے کیلئے بھی نہ رکا

عبدالستار ایدھی کے انتقال کی خبرنے جہاں ہر شخص کو سوگوار کردیا ہے وہاں کئی افراد نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ایدھی صاحب کے جانے کے بعد ان کی فاؤنڈیشن کا مستقبل کیا ہو گا؟ اس بارے میں ایدھی صاحب کے صاحب زادے فیصل ایدھی نے ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ فاونڈیشن کے سربراہ کے انتقال پر بھی ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے خدمات کا صلہ جاری رکھا گیا۔ کراچی کے قدیم ترین علاقے کھارادر کے ایدھی فاونڈیشن ٹرسٹ کے کنٹرول روم میں کام ایک لمحے کیلئے نہیں رکا بلکہ جہاں جہاں سے ایمرجنسی کال آئی وہاں وہاں ایمبولینسوں نے خدمات فراہم کیں۔ پورے پاکستان کے پونے چار سو ایدھی مراکز میں کوئی سرگرمی ایک پل کیلئے نہیں رکی۔

لگتا ہے ایدھی صاحب پرلوک نہیں بس کچھ دنوں کے لیے بیرونِ ملک دورے پر سدھارے ہیں۔ وسعت اللہ خان کے بقول اسے کہتے ہیں ’شو مسٹ گو آن‘۔ ایدھی نے اس کے سوا زندگی بھر اور کیا بھی کیا؟ دوسری جانب فیصل ایدھی نے اپنے والد کی علالت کے دوران ہی ایدھی فاونڈیشن کی ذمہ داریاں اپنی والدہ کی مشاورت سے انجام دینا شروع کر دی تھیں۔ اس حوالے سے فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ 20 زندگیاں بھی مل جائیں تو اپنے والد جیسا نہیں بن سکتا البتہ ان کے والد کا دکھی انسانیت کی خدمت کا مشن جاری رہے گا۔ اگرچہ فاؤنڈیشن کے سربراہ کی تدفین کا عمل جاری تھا تاہم پھر بھی فیصل ایدھی کی جانب سے ملک بھر میں ایدھی سروسز جاری رکھنے کی ہدایات کی گئیں۔

فوج کے دستے نے ایدھی کو گارڈ آف آنر پیش کیا

کراچی میں جمعے کی شب انتقال کر جانے والے فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کو کراچی میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے، جہاں ان کے  صاحبزادے فیصل ایدھی نے ان کے جسدِ خاکی کو لحد میں اتارا۔ فیصل ایدھی نے جمعے کو بتایا تھا کہ عبدالستار ایدھی نے 25 سال قبل ایدھی ویلج میں اپنی قبر تیار کی تھی۔

اس سے قبل عبدالستار ایدھی کی نمازِ جنازہ کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں ادا کی گئی جس میں اعلیٰ شخصیات کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ بدالستار ایدھی گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور طویل علالت کے بعد جمعے کی شب 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

ان کی وفات پر سنیچر کو ملک بھر میں سوگ منایا جا رہا ہے اور انھیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔ عبدالستار ایدھی کے جسد خاکی کو سنیچر کی صبح سرد خانے سے میٹھا در میں واقع اُن کی رہائش گاہ منتقل کیا گیا جہاں غسل کے بعد قومی پرچم میں لپٹی ان کی میّت توپ گاڑی پر رکھ کر نیشنل سٹیڈیم لے جائی گئی۔ نمازِ جنازہ کے بعد پاکستانی فوج کے دستے نے ایدھی کو گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ ان کی میت کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے صدرِ پاکستان ممنون حسین، مسلح افواج کے سربراہان، اعلیٰ سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کے رہنما نیشنل سٹیڈیم پہنچے جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے صدرِ پاکستان ممنون حسین، مسلح افواج کے سربراہان، اعلیٰ سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کے رہنما نیشنل سٹیڈیم پہنچے عوام کی بہت بڑی تعداد بھی جنازے میں شریک ہوئی اور نماز سے قبل شہریوں کے لیے مخصوص دروازوں پر طویل قطاریں دیکھی جا سکتی تھیں۔ پاکستانی بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایدھی کا جنازہ بحریہ کے خصوصی دستے نے نیشنل سٹیڈیم سے ایدھی ولیج منتقل کیا۔

 ایدھی کے جنازے پر گارڈ آف آنر اور گن سلیوٹ بھی پیش کیا جائے گا آئی ایس پی آر کے مطابق نمازِ جنازہ سے قبل علاقے کی سکیورٹی فوج اور رینجرز نے سنبھال رکھی تھی جنھیں قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی مدد بھی حاصل تھی۔ نامہ نگار کے مطابق رینجرز اور سکیورٹی حکام سٹیڈیم میں داخل ہونے والے ہر فرد کی جامہ تلاشی لیتے رہے جبکہ کمانڈوز بھی تعینات کیے گئے تھے۔ عبدالستار ایدھی کے صاحب زادے فیصل ایدھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی تھی کہ عبدالستار ایدھی کے جنازے کے لیے سڑکیں بند نہ کی جائیں۔