کیا حکم ہے میرے آقا : وسعت اللہ خان

مبارک ہو۔ ایک اور دھرنا پرامن ختم ہو گیا۔ اب اگلا دھرنا ٹوٹ پڑنے تک بلا خوف و خطر رہا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد کی لال مسجد اور جامعہ حفصہ خالی کرانے کے آٹھ روزہ فوجی آپریشن میں دس کمانڈوز سمیت ایک سو دو لوگ جاں بحق اور ایک سو اٹھانوے زخمی ہوئے اور ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک روزہ پولیس کارروائی کے دوران چودہ افراد جاں بحق اور سو کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔ لال مسجد آپریشن یا ماڈل ٹاؤن میں طاقت کا استعمال کسی عدالت کے حکم پر نہیں بلکہ حکومت نے اپنی صوابدید پر کیا۔ فیض آباد آپریشن اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے کہنے پر دارلحکومت کے ڈپٹی کمشنر اور آئی جی نے کیا۔ ایسا وزیرِ داخلہ احسن اقبال کہتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اگر دھرنا کامیابی سے اکھاڑ پھینکا جاتا تب بھی احسن اقبال، ڈی سی اور آئی جی کو مکمل کریڈٹ دیتے کہ نہیں۔ البتہ اہلِ دھرنا کے ساتھ جو تحریری سمجھوتہ ہوا، اس پر ڈپٹی کمشنر یا آئی جی کے نہیں بلکہ لڑکی والوں کی طرف سے سیکریٹری اور وزیرِ داخلہ کے دستخط ہیں۔

اچھی بات ہے کہ جو ہونا تھا اکیس روز میں ہی ہو گیا۔ کسی کو یاد ہے دو ہزار چودہ کا ایک سو چھبیس دن والا دھرنا۔ جب پارلیمنٹ کے لان میں کپڑے دھو کے الگنیوں پر لٹکائے جا رہے تھے۔ پائپ لائن توڑ کر نہایا جا رہا تھا، اینٹوں کے چولہوں پر کھانے پک رہے تھے۔ آس پاس ہی مٹی کے قدمچوں پر بیٹھ کر حوائج سے فراغت پائی جا رہی تھی اور دھار کا رخ پارلیمنٹ کی طرف تھا۔ ججوں اور ارکانِ پارلیمان کو پتلی سڑکوں سے ہو کر دفتر پہنچنا پڑ رہا تھا۔ وزیرِ اغطم ہاؤس کا جنگلہ ، کئی پولیس افسروں کے سر اور سرکاری ٹیلی ویڑن کے دفاتر میں رکھے آلات توڑ دیے گئے تھے۔

کسی کو یاد ہے کہ کسی عدالت نے وہ والا دھرنا ختم کرنے کی ڈیڈ لائن دی ہو؟ اور جب ڈیڈ لائن پوری نہ ہوئی ہو تو حکومت کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری ہو گیا ہو ؟ کسی کو یاد ہے حکومت نے طاقت کا استعمال کر کے وہ دھرنا ختم کروانے کی کوشش کی ہو ؟ کسی کو یاد ہے کہ ایک سو چھبیس روز میں قانون نافذ کرنے والے دستوں کی گولی سے کوئی مرا ہو ؟ اس وقت بھی پھینٹی کس کی زیادہ لگی تھی ؟ پولیس کی کہ مظاہرین کی ؟ مقدمات تو تب بھی درج ہوئے تھے اور وہ بھی سنگین قانونی دفعات کے تحت۔ کیا کسی کو ریاستی رٹ چیلنج کرنے، حساس سرکاری عمارات پر حملہ کرنے، پولیس پر تشدد کرنے اور لاکھوں شہریوں کی زندگی اجیرن کرنے کے تعلق سے کسی بھی قانون کے تحت سزا ملی ؟ تو پھر فیض آباد کے اہلِ دھرنا نے بھی اگر اپنے زورِ بازو پر یہ رعائیتیں حاصل کر لیں تو کیا غلط ہو گیا۔

اٹھارویں صدی میں اورنگ زیب کی وفات کے بعد وہ طوائف الملوکی مچی کہ جس کا منہ اٹھتا دلی میں گھس کے شہر کو تلپٹ کر دیتا بھلے وہ سکھ ہوں کہ مراٹھا ، نادرشاہ ہو کہ احمد شاہ ابدالی۔اسی طرح پچھلے چند برس سے جس کا موڈ ہوتا ہے، ہزار دو ہزار بندے لے کر راجد ھانی اسلام آباد پر چڑھ دوڑتا ہے اور پھر سرکار کو کبھی ٹھوڑی میں ہاتھ دے کر،کبھی ہنس کر،کبھی آنکھوں میں آنسو بھر کے، کبھی خدا کا واسطہ دے کر،کبھی بند دروازوں کے پیچھے ترلے کر کے، تو کبھی کچھ مطالبات مان کے اور سارے پولیس پرچے واپس لے کے عزت سے اہلِ دھرنا کو واپس بھیجنا پڑتا ہے۔

مولانا طاہر القادری کے دو ہزار تیرہ کے انقلابی اور عمران خان کے دو ہزار چودہ کے نظام کی شفافی کے دھرنے کے بعد مولانا خادم حسین رضوی کا دھرنا تب تک یاد رہے گا جب تک اس سے بھی اعلیٰ اور فصیح و بلیغ دھرنا سامنے نہیں آتا۔مولانا بذاتِ خود ایک زندہ کرامت ہیں۔ چند برس پہلے تک وہ بس لاہور کی ایک سرکاری مسجد میں پیش امام تھے اور انھیں لاہور اور مضافات کے بریلوی بھائی ہی جانتے تھے۔ لیکن جب گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو توہینِ مذہب کے شبہے میں قتل کرنے والے ممتاز قادری کو عدالتی فیصلے کے تحت پھانسی دی گئی تو مولانا خادم حسین نے ممتاز قادری کے مشن کا بیڑہ اٹھا لیا۔ قادری صاحب کے گھر والوں کو آج بھلے زیادہ لوگ نہ جانتے ہوں مگر خادم حسین رضوی کا الحمدللہ صدرِ مملکت سے لے کر میرے محلے کے طفیلے ترکھان تک سب کو لگ پتہ گیا ہے۔
پاناما کیس میں نااہل ہونے کے بعد جب ’’ مجھے کیوں نکالا فیم ’’نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑنا پڑا اور ان کی خالی سیٹ پر بیگم کلثوم نواز نے ضمنی انتخاب جیتا تو ان کی جیت کو یہ خبر کھا گئی کہ الیکشن کمیشن سے منظور شدہ ایک نئی نئی پارٹی تحریک لبیک یا رسول اللہ کے امیدوار نے بھی لاہور کے حلقہ ایک سو بیس سے سات ہزار ووٹ لیے اور پھر اتنے ہی ووٹ این اے چار پشاور کے ضمنی انتخاب میں بھی حاصل کیے۔

اس کے بعد سے خادم حسین رضوی صاحب میں گویا جناتی طاقت آ گئی اور انھوں نے الیکشن ایکٹ دو ہزار سترہ کے حلف نامے کی غلطی کو پارلیمنٹ کی جانب سے فوری طور پر تسلیم کر کے درست کرنے کے باوجود اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر اپنے حامی بٹھا کر دونوں شہروں کے لاکھوں لوگوں کو اکیس روز تک ختمِ نبوت کے عقیدے کو لاحق خطرات سے بالتفصیل کما حقہہ نہایت آسان اور سلیس عوامی اندازِ بیاں میں آگاہ کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی ڈانٹ پھٹکار کے بعد سرکار نے سنیچر کو غیرت میں آ کر ڈنڈے، ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کے زور پر یہ دھرنا اٹھانے کی کوشش کی مگر رضوی صاحب کے پتھروں اور غلیلوں سے مسلح جانثاروں نے یہ کوشش ناکام بنا دی اور معاملہ کراچی تک پھیل گیا۔ حتیٰ کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی کہنا پڑا کہ مار سے نہیں پیار سے بات کی جائے اور پھر حکومت نے ’’ علاقہ معززین‘‘ کے کہنے پر دوسرا گال بھی آ گے کر دیا۔

اسلام آباد اورنگ زیب کے بعد کی دلی مفت میں نہیں بنا، اس کے لیے جنرل ضیا کے دور سے اب تک خوب گوڈی کی گئی۔ جب ہاتھوں میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کی شکل میں الہ دین کا چراغ آیا تو اسے رگڑ کر ہم نے تو پوری فیکٹری ڈال لی۔ ہر سائز، ہر ماڈل ہر نظریے کا آرڈر لے لیا گیا۔ نفرت کسی سے نہیں محبت سب سے کے اصول پر انکار کسی کو نہیں کیا گیا۔ پر مشکل یہ ہے کہ الہ دین کے جن کو ہر وقت کوئی نہ کوئی کام اور مصروفیت چاہئیے۔ اب بہت دنوں سے کوئی خاص کام ہی نہیں بچا، کوئی بڑا آرڈر بھی نہیں آیا۔ آپ کتنی دیر تک کسی جن کو درخت پر اترنے چڑھنے کا غیر دلچسپ کام دے کر مصروف رکھ سکتے ہیں۔ چنانچہ چراغ اب جن کے ہاتھ میں ہے اور پوچھنے کی باری الہ دین کی ہے ’’کیا حکم ہے میرے آقا ‘‘؟۔

وسعت اللہ خان

Advertisements

ختم نبوت کا حلف نامہ : راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آ گئی

ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع تبدیلی کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آگئی۔ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی گئی تین رکنی کمیٹی میں سینیٹر راجہ ظفرالحق، وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر موسمیاتی تبدیلی مشاہد اللہ خان شامل تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے معاملے سے متعلق مذہبی جماعتوں کی درخواستوں کی سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ کو کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کو یقینی بنانے اور اسے آئندہ سماعت تک عوام کے سامنے نہ لانے کی ہدایت کی تھی۔

رپورٹ کے مندرجات کے مطابق تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے بل کے اصل مسودے، مجوزہ بل میں پیش کی گئی ترامیم اور سینیٹ میں ہونے والی تقاریر کا جائزہ لیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاسوں میں بل میں کئی ترامیم کی تجاویز دی گئیں، لیکن میں سے کوئی بھی ’ختم نبوت‘ سے متعلق نہیں تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سینیٹ کمیٹی کی طرف سے ایوان میں بھیجے گئے بل پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر حمداللہ نے ’ختم نبوت‘ کے حلف نامے میں الفاظ کی تبدیلی پر اعتراز اٹھاتے ہوئے اسے اصل حالت میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا، مسلم لیگ (ن) نے حافظ حمد اللہ کی ترمیم کی حمایت کی۔

آئینی طریقہ کار کے مطابق بل کو دوبارہ قومی اسمبلی بھیجا گیا کیونکہ قومی اسمبلی کی جانب سے سینٹ کو بھیجے گئے بل کے اصل مسودے میں ترامیم تھیں۔
بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا تھا، تمام جماعتوں کے ارکان کو یہ اندازہ ہوا کہ انہوں نے غلطی کر دی جسے دور کیا جانا چاہیے، تاہم اپوزیشن کے سیکشن 203 پر ہنگامہ آرائی کی وجہ سے بل، جو ترمیم شدہ تھا، منظور کر لیا گیا اور اسے حتمی منظوری کے لیے سینیٹ کو بھیج دیا گیا۔ ماحول میں کشیدگی کے باوجود سینیٹ میں ’ختم نبوت‘ کے حلف نامے سے متعلق ترامیم متفقہ طور پر منظور ہو گئیں، جس کے بعد بل کو صدر مملکت نے منظور کر لیا اور وہ قانون بن گیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ حقیقت ہے کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ہم تحقیقات کرنا چاہتے تھے کہ اصل حلف نامہ کس طرح اور کیوں تبدیل ہوا۔ ذرائع کے مطابق اس کے لیے ایک مشیر سے مشورہ کیا گیا۔ ایک وزیر، جو کمیٹی کی سطح پر بل کا مسودہ تیار کرنے والوں میں سے ایک تھے۔ ایک وزیر کے ساتھ تین یا چار ملاقاتیں کی گئیں جنہوں نے تسلیم کیا کہ بنیادی طور پر یہ ان کی پہلی ذمہ داری تھی کہ وہ یہ دیکھتے کہ مسودے میں کوئی متنازع بات شامل نہ ہو، لیکن وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنی قانونی مہارت، تجربے اور زبان پر عبور کے باوجود اپنا فرض ادا نہیں کر سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ عوام ان لوگوں کے خلاف ایکشن کی توقع کر رہے ہیں جنہوں نے ’ختم نبوت‘ کے حلف نامے کو تبدیل کیا اور اس مسئلے کی وجہ بنے۔
رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی کہ معاملے کے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لازمی طور پر لیا جانا چاہیے۔ رپورٹ پر کمیٹی کے دو ارکان راجہ ظفرالحق اور مشاہد اللہ خان نے دستخط بھی کیے۔ خیال رہے کہ ’الیکشنز ایکٹ 2017‘ میں متنازع ترمیم کے ذریعے ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی کے باعث مذہبی جماعتیں اشتعال میں آگئیں اور انہوں نے مغربی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے جان بوجھ کر اس تبدیلی کا الزام لگایا۔ اگرچہ پارلیمنٹ کے ذریعے حلف نامے کو اصل حالت میں بحال کر دیا گیا، لیکن مذہبی جماعتوں کی جانب سے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ اور فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دیا گیا۔ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی یہ رپورٹ تاحال کسی آفس کو جمع نہیں کرائی گئی۔

فوجیوں کو سیاست کا شوق ہے تو نوکری چھوڑ دیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد دھرنے کے بارے میں سماعت کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ آرمی چیف کی آزادانہ حیثیت کیا ہے اور وہ کیسے دھرنے کے معاملے میں ایگزیکیٹو کا حکم ماننے کی بجائے ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں؟
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ملک کے ادارے ہی ریاست کے خلاف کام کر رہے ہیں اور اگر فوجیوں کو سیاست کرنے کا شوق ہے تو وہ نوکری سے مستعفی ہو کر سیاست میں آئیں۔ جسٹس شوکت صدیقی نے فیض آباد انٹرچینج کے مقام پر مذہبی جماعت کے دھرنے کے بارے میں نوٹس اور وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو دھرنا ختم کرنے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی آئین میں آرمی چیف کی بطور ثالث بننے کی کیا حیثیت ہے؟ اُنھوں نے کہا کہ ریاست کے ساتھ ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟

عدالت کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدے میں آرمی چیف اور ان کے نمائندے کا شکرایہ ادا کیا گیا ہے جنھوں نے دھرنا ختم کرنے سے متعلق اہم کردار ادا کیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وفاقی وزیر داخلہ سے استفسار کیا کہ وہ میجر جنرل صاحب کون ہیں جنھوں نے دھرنا ختم کروانے کے لیے آرمی چیف کے نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی ؟ عدالت کا کہنا تھا کہ اس میجر جنرل کا نام سوشل میڈیا پر چل رہا ہے۔ سماعت میں خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سیکٹر انچارج بریگیڈیئر عرفان شکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سوشل میڈیا پر چھپنے والا مواد غیر تصدیق شدہ ہوتا ہے، اس لیے اس پر ریمارکس بھی نہیں دینے چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ دھرنے کے پیچھے آئی ایس آئی کا کوئی کردار نہیں ہے۔

آئی ایس ائی کے سیکٹر انچارج نے عدالت کو بتایا کہ صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے دو ہی راستے تھے کہ اسے پر امن طریقے سے حل کیا جاتا یا پھر پرتشدد طریقے سے علاقہ خالی کروایا جاتا۔ اُنھوں نے کہا کہ جب عدالت کا حکم ملا تو پھر پرامن راستے کا انتخاب کیا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آئی ایس آئی کے سیکٹر انچارج سے استفسار کیا کہ ’آپ انتظامیہ کا حصہ ہیں، آپ ثالث کیسے بن گئے؟‘ عدالت کا کہنا تھا کہ بیرونی جارحیت کی صورت میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم نے انڈیا کے ساتھ 1965 کی جنگ میں جھولی پھیلا کر افواج کے لیے چندہ جمع کیا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فوج کا یہ کردار قابل قبول نہیں کہ قانون توڑنے اور قانون نافذ کرانے والوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے۔ عدالت نے سوال کیا کہ ’فوجی کیوں خوامخواہ ہیرو بنے پھرتے ہیں؟‘ اور کہا کہ فوج اپنے آئینی کردار کے اندر رہے۔ جسٹس صدیقی نے کہا کہ ’ان سب باتوں کے بعد میری زندگی کو خطرہ ہے، مار دیا جاؤں گا یا غائب کر دیا جاؤں گا۔‘ سوشل میڈیا پر آئی ایس آئی کے میجر جنرل فیض حمید کا نام لیا جارہا ہے جو آرمی چیف کے نمائندے کی حیثیت سے پیش ہوئے تھے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سکیورٹی ادارے پورے ملک میں ردالفساد کے نام سے آپریشن کر رہے ہیں تاکہ ملک سے دہشت گردی کو ختم کیا جا سکے۔ بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’کیا ان اداروں کو فیض آباد دھرنا نظر نہیں آیا؟‘ عدالت کے استفسار پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ دھرنا دینے والوں کے ساتھ معاہدہ قومی قیادت نے اتفاق رائے سے کیا جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون توڑنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان فوج کا ثالثی کردار قابل قبول نہیں ہے۔ احسن اقبال نے عدالت کو بتایا کہ ملک ایک ایسی صورت حال پر آ گیا تھا جہاں خانہ جنگی کا خطرہ تھا اس لیے حالات کو دیکھتے ہوئے معاہدہ کرنا ناگزیر تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات کو فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدے سے کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وزیر داخلہ سے استفسار کیا کہ کیا اگر فیض آباد کے قریب حمزہ کیمپ کی بجائے فو ج کا ہیڈ کوراٹر ہوتا تو تب بھی مظاہرین اسی جگہ پر دھرنا دیتے؟ اس پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اس کا جواب تو مظاہرین ہی دے سکتے ہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ حکومت اور دھرنا دینے والی قیادت کے درمیان جو معاہدہ طے پایا ہے اس میں ججوں سے معافی مانگنے کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا کیونکہ مظاہرین نے دھرنے کے دوران اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے بارے میں نازیبا الفاظ ادا کیے تھے۔

سماعت کے دوران عدالت نے وزیر داخلہ کی سرزنش بھی کی کہ اُنھوں نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو تنہا چھوڑ دیا۔ عدالت نے وزیر داخلہ سے ان وجوہات کے بارے میں بھی طلب کیا ہے جس کی وجہ سے دھرنا دینے والوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی ناکام ہوئی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

وزیر قانون زاہد حامد نے عہدے سے استعفی دے دیا

فیض آباد انٹر چینج پر دھرنے کے خلاف طاقت کے استعمال اور ملک بھر میں مظاہروں کے بعد وزیر قانون زاہد حامد نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ فیض آباد انٹر چینج پر گزشتہ 3 ہفتوں سے دھرنا دینے والی مذہبی جماعتوں کا سب سے پہلا مطالبہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ تھا لیکن حکومت اس شرط کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھی لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ حکومت نے یہ مطالبہ ماننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے ملک کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں فیصلہ ہوا ہے کہ زاہد حامد آئندہ 24 گھنٹوں میں اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو پیش کر دیں گے۔ بعدازں علی الصبح وزیر قانون زاہد حامد نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

اسلام آباد دھرنا : لگے گی آگ تو

اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان دیوار بن جانے والے دھرنے کے خلاف پولیس ایکشن کے بعد، ملک بھر میں احتجاج شروع کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے دو ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود، کسی کارروائی پر آمادگی ظاہر نہیں کی تھی۔
علمائے کرام اور مشائخ عظام کے کئی وفود سے ملاقاتیں کرنے، اور دھرنا قائدین سے بار بار رابطے کے باوجود اُنہیں اِس بات پر آمادہ نہیں کیا جا سکا تھا کہ وہ عام شہریوں کی آمدورفت میں خلل ڈالنے کے بجائے اپنا دھرنا قریبی پریڈ گراؤنڈ میں منتقل کر لیں۔ اس سے قطع نظر کہ ان کے مطالبات کیا تھے، اور ان کا کوئی جواز تھا بھی یا نہیں، یا تھا تو کتنے فیصد تھا، یہ ایک حقیقت ہے کہ انہوں نے جذباتی فضا قائم کر رکھی تھی۔

خدشہ تھا کہ ان کے خلاف بلا سوچے سمجھے کارروائی کی گئی، تو ہنگامہ پھیل سکتا ہے، اور ملک بھر کے در و دیوار کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال رک رک کر بڑھتے اور بڑھ بڑھ کر رکتے رہے۔ ان کی والدہ آپا نثار فاطمہ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ لاہور میں ان کا حلقۂ درس قرآن خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک یونیورسٹی کی سی حیثیت رکھتا تھا۔ احسن اقبال نے اُس مرحومہ کا دودھ پیا اور اُس کی گود میں پرورش پائی ہے۔

اسلامی اقدار کے معاملے میں اُن سے کسی مدا ہنت کی توقع نہیں کی جا سکتی، نہ ہی کسی مذہبی گروہ کو نشانہ بنانے کی تمنا وہ پال سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی سی پوری کوشش کی کہ افہام و تفہیم بلکہ منت سماجت سے معاملہ طے ہو جائے، لیکن سست روی کمزوری سمجھی جانے لگی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیا، اور سپریم کورٹ نے بھی صورتِ حال کی سنگینی کا شدت سے احساس کیا۔ اس سے انتظامیہ کو نفسیاتی تقویت ملی، اور وہ تازہ دم اقدام کے بارے میں سوچنے لگی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم تھا کہ دھرنے کو شاہراہِ عام سے اٹھا کر قریبی پریڈ گراؤنڈ میں منتقل کیا جائے۔ انتظامیہ کی بے عملی کی وجہ وزیر داخلہ کو قرار دیا گیا تو عدالت نے اُنہیں توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کر دیا۔ اس پر اسلام آباد انتظامیہ نے پولیس، ایف سی اور رینجرز کی مدد سے دھرنا نشینوں کو دھکیل کر پریڈ گراؤنڈ لے جانے کا عمل شروع کیا، تو انتہائی احتیاط سے کام لینے کا مظاہرہ کر کے دکھایا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر مسلح تھے، آنسو گیس ان کا بڑا ہتھیار تھا، اور وہ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے تھے۔ حکومت احتجاج کرنے والوں کو لاشوں اور زخمیوں کا تحفہ نہیں دینا چاہتی تھی کہ ان کی سرخی کے اثرات سمیٹنا مشکل سے مشکل تر ہو جاتے۔

لال مسجد کے محصورین کے خلاف جنرل پرویز مشرف کی خونین کارروائی کے تباہ کن نتائج، اور ماڈل ٹاؤن لاہور میں ادارہ منہاج القرآن کو جانے والے راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے کے لیے کئے جانے والے منہ زور اقدام کی فتنہ سامانیاں سب کے سامنے تھیں۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ کسی فتنے سے ملک کو محفوظ رکھنا اِس وقت اولین ترجیح تھی، اور ہونا بھی چاہیے تھی۔ اس پولیس ایکشن کے نتیجے میں ملک بھر میں جذباتی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پیمرا نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، فوراً ٹی وی چینلز کو نشریات بند کرنے کا حکم دے دیا، حالانکہ ایکشن کے ابتدائی چند گھنٹوں میں ٹی وی کیمروں نے جو منظر دکھائے، اس سے دھرنا دینے والوں کے حق میں جذبات پیدا نہیں ہوئے۔

جب لوگوں نے دیکھا کہ ان میں سے بعض کے پاس آنسو گیس کے گولے، انہیں داغنے والی بندوقیں، پتھر انڈیلنے والی غلیلیں موجود ہیں، اور ان کے ساتھ ہی ساتھ ایسا دریائی پتھر بھی بڑی مقدار میں پایا جا رہا ہے جو اسلام آباد میں نہیں ہوتا تو تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مذکورہ پتھر کی خصوصیت یہ بتائی گئی کہ یہ کم وزن ہوتا ہے اور دور تک مار کر سکتا ہے۔ اس سے پہلے یہ خبر بھی میڈیا ہی کے ذریعے لوگوں تک پہنچی تھی کہ دھرنے پر آنکھ رکھنے والے سی سی ٹی وی کیمروں کی تاریں کاٹ ڈالی گئی ہیں۔ ’’حساس راز‘‘ اُن تک کیسے پہنچا، یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ جس طرح ہجوم کے اندر موجود بعض افراد پولیس کا مقابلہ کر رہے تھے، اس سے اُن کی ’’پیشہ ورانہ‘‘ مہارت کا پتہ چلتا تھا، لگتا تھا وہ باقاعدہ تربیت یافتہ جنگجو ہیں۔اِس صورتِ حال نے بھی تہہ در تہہ سوالات کو مزید پیچیدہ کر دیا۔

پیمرا حکام کو چاہیے تھا کہ فوری طور پر پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے) سے رابطہ کر کے ہنگاموں کی لائیو کوریج کے حدود طے کرتے۔ انہیں یکسر بند کر دینا مسئلے کا حل نہیں تھا، البتہ کوریج کے حدود و قیود کا تعین کیا جا سکتا تھا، اور اب بھی کیا جانا چاہئے کہ فتنہ پھیلے نہیں، اس کی تباہ کاری عیاں ہو سکے۔ وقت آ گیا ہے کہ غیر قانونی اجتماعات کو روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ پاکستان میں جو شخص (یا گروہ) جب چاہے کہیں دھرنا دے سکتا ہے، جب چاہے جلوس نکال سکتا ہے، اور جب چاہے کسی بازار یا شاہراہ پر جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کر سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہمارے آئین نے اظہارِ رائے کی آزادی کو تسلیم کیا ہے، اور اجتماع کی آزادی بھی بنیادی حقوق میں شامل ہے، لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ جہاں اور جب کسی کا جی چاہے دھما چوکڑی مچا دے۔

آمدو رفت کا حق بھی ہر شخص کا بنیادی حق ہے، کسی کو اس کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں۔ طالب علموں، دفتری اہلکاروں، کارخانوں میں کام کرنے والوں، دفتروں میں فرائض ادا کرنے والوں، گاڑیوں، بسوں اور ایمبولینسوں کو روکنے اور ان کی راہ محدود کرنے کی کوئی کوشش کسی انسانی معاشرے میں برداشت نہیں کی جا سکتی۔ وقت آ گیا ہے کہ اس لاقانونیت کے متعلق باقاعدہ قانون سازی کر کے قید اور جرمانے کی بھاری سزائیں مقرر کی جائیں، کم از کم دس سال قید اور نقصان کے مطابق جرمانہ۔ دفعہ 144 کا ڈھیلا ڈھالا وجود کوئی مسئلہ حل نہیں کر سکے گا۔

یہ معاملہ کسی ایک جماعت، مسلک، حکومت یا اپوزیشن کا نہیں ہے۔ اس پر ہر ایک کو اپنے اپنے مفادات سے اوپر اُٹھ کر دیکھنا چاہیے۔ قانون کے دائرے میں رہ کر اگر احتجاج نہیں کیا جائے گا، تو ہم اپنے آپ پر جہنم کے دروازے کھول رہے ہوں گے۔ لاقانونیت کی حوصلہ افزائی اپنے اوپر خود کش دھماکہ ہے۔ پاکستانی ریاست کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا جائے گا، تو کسی سیاست دان کے لیے بھی حکومت کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ یہ اظہارِ مسرت کا نہیں، اظہارِ تاسّف کا موقع ہے ؂

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پر صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

ڈاکٹر راحت اندوری کی اسی غزل کے دو اور اشعار(بہ ادنیٰ تصرف) بھی سنتے جائیے ؂

جو آج صاحبِ مسند ہیں کل نہیں ہوں گے
کرایہ دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے

سب کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ’’پاکستان‘‘ تھوڑی ہے

مجیب الرحمٰن شامی

اسلام آباد دھرنا : شیلنگ، گرفتاریاں اور جھڑپیں

کئی روز تک انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد بالآخر انتظامیہ نے فیض آباد انٹرچینج خالی کروانے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا۔ دھرنے کے شرکاء کو صبح 7 بجے تک دھرنا ختم کرنے کی حتمی ڈیڈ لائن دی گئی تھی تاہم ڈیڈ لائن کے ختم ہونے کے بعد 8 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں نے دھرنے کے شرکاء کو چاروں اطراف سے گھیر کر آپریشن لانچ کر دیا۔ دھرنے کے شرکاء کے پاس شیلنگ سے بچنے کے لیے ماسک اور پتھراؤ کے لیے غلیل موجود ہیں جس سے مسلسل سیکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جارہا ہے۔ اب تک 150 کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

اسلام آباد دھرنا : نیوز چینلز آف ایئر کر دیئے گئے، فیس بک اور ٹویٹر بھی بند

اسلام آباد دھرنے کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد کی صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے تمام پرائیویٹ ٹیلی ویژن (ٹی وی) نیوز چینلز کو عارضی طور پر بند کرنے کا حکم دے دیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی حکم پر پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے پہلے تمام ٹی وی چینلز کو دھرنے کی کوریج نہ دینے کی ہدایت جاری کی تھیں بعدِ ازاں تمام پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو بند کرنے کا حکم دے دیا۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ہدایت کے فوری بعد ملک کے مختلف علاقوں میں نیوز چینلز بند ہونا شروع ہو گئے۔ پیمرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹفیکیشن کے مطابق تمام میڈیا ہاؤسز کو اپنے اسٹاف کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئیں۔ ریگولیٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ کی درخواست پر یہ ہدایت نامہ جاری کیا گیا جس کے مطابق تمام میڈیا ہاؤسز کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی پاسداری کرتے ہوئے براہِ راست کوریج بند کریں۔

سوشل میڈیا ویب سائیٹس بلاک
اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں سماجی رابطے کی مقبول ترین ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر بھی بلاک ہونا شروع ہو گئیں ہیں۔ خیال رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر موجود علاقے فیض آباد انٹر چینج پر 7 نومبر سے دھرنے پر بیٹھے مذہبی جماعتوں کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے آج صبح آپریشن کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ دھرنے کے شرکاء کو سیکیورٹی اہلکاروں نے چاروں اطراف سے گھیر کر آنسو گیس کی شیلنگ شروع کی اور اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہو گئے جبکہ پولیس کے مطابق اب تک متعدد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ فیض آباد آپریشن کے بعد اسلام آباد دھرنے کے مظاہرین کی حمایت میں ملک کے دیگر کئی شہروں میں بھی مظاہروں کا آغاز ہو گیا۔