وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس نے کیا کہہ دیا

گزشتہ منگل کے روز جنگ اخبارمیں شائع ہونے والی خبر کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس ریاض احمد خان نے سود کے متعلق کیس کو سنتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جس وقت سود کی ممانعت کا حکم ہوا اُس وقت کی معیشت آج سے مختلف ہے۔ چیف جسٹس شرعی عدالت نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اُس وقت کے نظام کو آج کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ interest کی تعریف سود نہیں، بلکہ نقصان کا ازالہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ خبر پڑھ کر یقین نہیں آیا کہ یہ سوال شرعی عدالت کے چیف جسٹس نے اٹھائے!!! ہو سکتا ہے کہ وہ سود کے متعلق ایک خاص طبقہ فکر کے ذہن میں موجود سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لیے ایسے سوال اٹھا رہے ہوں ورنہ ایک شرعی عدالت میں ایسی بات کیسے کی جاسکتی ہے کہ سود کے متعلق احکام کا تعلق اُس دور کی معیشت سے تھا جب قرآن پاک نازل ہوا۔

یہ تو وہی بات ہوئی جو مغرب اورمغرب زدہ دیسی ترقی پسند اور ’’روشن خیال‘‘ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام کو نئے دور کے ساتھ اپنے آپ کو بدلنا چائیے۔ یہ وہی طبقہ ہے جس کے لیے کہا گیا کہ خود بدلتے نہیں ،قرآن کو بدلتے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے شرعی احکامات کی حیثیت اٹل ہے۔ جو حکم اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے واضح طور پر آ گیا وہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اُسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے،اُسی کے مطابق ہمیں ایک اسلامی معاشرہ تشکیل دینا ہے اور اس کے لیے وقت یا دور کی کوئی اہمیت نہیں۔ سود کے متعلق اسلام کے احکامات واضح ہیں اور اسی بنا پر وفاقی شرعی عدالت نے 1991 میں اپنے فیصلہ میں پاکستان میں رائج سود کی تمام اقسام کو قرآن اور سنت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمہ کا حکم دیا تھا۔

اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا لیکن سپریم کورٹ نے بھی شرعی عدالت کے حکم کی تائید کرتے ہوئے حکومت کو سود کے خاتمہ کا حکم دیا۔ بعدازاں جنرل مشرف دور میں سپریم کورٹ نے یہ معاملہ دوبارہ وفاقی شرعی عدالت کے سپرد کر دیا اور ہدایت دی کہ اس معاملہ کو دوبارہ دیکھا جائے۔ شرعی عدالت کے 1991 کے فیصلہ کو لٹکانے اور پھر اِدھر سے اُدھر بھیجنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ کوئی حکومت سودی نظام کے خاتمہ کے لیے سنجیدہ نہ تھی۔ سال 2002 میں یہ معاملہ شرعی عدالت کے سپرد کیا گیا اور آج سال 2017 میں اسی کیس کو ابھی تک سنا جا رہا ہے۔ ان پندرہ سالوں میں شاہد اس کیس کو پندرہ بار بھی نہیں سنا گیا اور معاملات جیسے چل رہے ہیں اگر ایسے ہی چلتے رہے تو محسوس ایسا ہوتا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ آنے میں شاید ایک آدھ صدی انتظار کرنا پڑے۔

کیس کس سست روی سے چل رہا ہے وہ ایک الگ بحث ہے لیکن ماضی میں اس کیس سے جڑے ایک اہم فرد سے آج بات ہوئی تو اُن کا کہنا تھا کہ سود کے متعلق شرعی عدالت اور پھر سپریم کورٹ میں نوے کی دہائی میں طویل بحث ہوئی اُس میں ہر زاویے سے اس معاملہ کو گہرائی سے دیکھا گیا جس کے نتیجہ میں ملک کی اعلیٰ عدلیہ اس نتیجہ پر پہنچی کہ سودی نظام کو ختم کیا جائے کیوں کہ یہ نظام معیشت اسلامی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان صاحب کا کہنا تھا کہ شرعی عدالت کو چاہیے کہ اپنے پرانے فیصلہ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ اپیلیٹ بنچ کے فیصلے کو پڑھ لیں تو بہت سے سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔ ورنہ اگر ہم مغرب یا مغرب سے مرعوب یہاں موجود ایک طبقہ کی سوچ کو اہمیت دینے بیٹھ جائیں گے تو سود کے ساتھ ساتھ دوسرے شرعی احکامات کے تقدس کی بھی پامالی ہو گی۔ کیا اسی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد یہ بات نہیں کرتے کہ مسلمان خواتین کے لیے پردہ کا حکم تو اُسی دور کے لیے تھا؟ یہ طبقہ تو اسلامی ریاست کو مانتا ہی نہیں اور ریاست کے سیکولر ہونے کی بات کرتا ہے تاکہ شرعی احکامات کے نفاذ کا کوئی سوال ہی نہ اُٹھائے۔

انصار عباسی

’بس ایک ہی مسلمان تو مرا‘

بھارت کی ریاست راجستھان میں مسلم ڈیری تاجروں پر ہندو گئو رکشکوں کے بہیمانہ حملے کے مناظر ابھی تک لوگوں کے ذہن میں تازہ ہیں۔ گئو رکشک ملک کی کئی ریاستوں میں شاہراہوں اور اہم راستوں پر غیر قانونی طور پر ناکہ بندی کرتے ہیں اور مویشیوں کو لانے لے جانے والوں کو اکثر مارتے پیٹتے اور ان سے جبراً پیسے وصول کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ گائے کی منتقلی موت سے کھیلنے کے برابر ہے۔ ابھی الور کے حملے کی تصویر ذہن سے مٹ بھی نہیں پائی تھی کہ جمعہ کو جھارکھنڈ میں ایک 20 برس کے مسلم لڑکے کو ایک ہجوم نے مار مار کر اس لیے ہلاک کر دیا کیونکہ وہ ایک ہندو لڑکی سے پیار کرتا تھا۔

اتر پردیش میں سادھو آدتیہ ناتھ یوگی کی حکومت بننے کے بعد حکومت نے غیر قانونی ذبح خانوں کے خلاف کارروائی کرنے کے نام پر بھینس، بکرے اور مرغ کے کاروبار پر تقریـباً روک لگا دی ہے۔ ریاست میں لاکھوں لوگ گوشت کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ گوشت کا ذکر اس طرح کیا جا رہا ہے جیسے اس کا کاروبار یا اسے کھانا کوئی جرم ہو۔ اس کے باوجود کہ کئی ارب ڈالر کے اس کاروبار سے لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی جڑی ہوئی ہے حکومت نے ابھی تک کوئی متبادل قانونی راستہ نہیں نکالا کہ یہ کاروبار بحال ہو سکے۔ بی جے پی نے جو مہم چلا رکھی تھی وہ گئو کشی کے خلاف تھی۔ شمال کی سبھی ریاستوں میں گائے کے ذبیحے پر بہت پہلے سے پابندی عائد ہے لیکن یوگی نے جو اقدامات کیے ہیں اس کا نشانہ بھینس بکرے اور مرغ کا گوشت ہے۔

گوشت اور چمڑے کی صنعت سے روایتی طور پر دلت اور مسلمان منسلک رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ گوشت کے خلاف ایک منظم تحریک چلا کر دلتوں بالخصوص مسلمانوں کو اقتصادی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس وقت ہندوستان کئی خانوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک طرف بی جے پی اور اس کے ہندو نطریے کے حامی ہیں جنھیں لگتا ہے کہ اب تک ملک میں ہر چیز غلط تھی اور وہ اب دور قدیم کے علوم کی بنیاد پر ملک میں ایک ثقافتی، مذہبی اور اقتصادی انقلاب لانے والے ہیں۔ کسی موثر سیاسی چیلنج کے نہ ہونے کے سبب انھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ حکومت تاحیات قائم رہے گی اور اس کے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ بی جے پی کی جیت اتنی موثر ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی اب ہندو راشٹر کے قیام کی باتیں کرنے لگے ہیں۔

دوسری طرف مسلمان ہیں جو اس وقت انتہائی خوفزدہ ہیں۔ روایتی طور پر وہ ہمیشہ بی جے پی کے خلاف رہے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے اس وقت وہ بے سہارا ہیں، اقتصادی طور پر وہ پہلے ہی سماج کے حاشیے پر تھے اب انھیں اپنی شناخت، رہن سہن اور ثقافت سبھی کے بارے میں انجانے اندیشوں نے گھیر لیا ہے۔ تیسری جانب وہ ہندوستانی ہیں جو ملک کے بدلتے ہوئے پس منظر کو کچھ تشویش اور کچھ تجسس سے دیکھ رہے ہیں۔ فضا میں کچھ گھبراہٹ اور بے چینی بھی ہے لیکن جو بات یکساں طور پر پورے ملک میں پائی جاتی ہے وہ ہے مسلمانوں سے نفرت۔ پچھلے کچھ عرصے سے ہندوؤں میں مسلمانوں کے تئیں خاصی نفرت پیدا ہوئی ہے۔

ان نفرتوں کے بہت سے اسباب ہیں۔ ان کے لیے بہت حد تک خود مسلمان بھی ذمہ دار ہیں لیکن ان سے نفرت پیدا کرنے میں سب سے اہم کرداد ملک کی غیر بی جے پی، نام نہاد سیکولر جماعتوں نے ادا کیا ہے۔ ان جماعتوں نے مسلمانوں کو نہ صرف پس ماندگی اور غربت سے نکلنے نہیں دیا بلکہ انھیں اپنی پالیسیوں سے باقی ہندوؤں کی نظر میں دشمن بنا دیا ہے۔ یہ نفرتیں اب اتنی بڑھی ہوئی ہیں کہ بہت سے لوگ جب مسلم تاجروں پر الور جیسے ہجومی حملے کو دیکھتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں ’ایسا کیا ہوا بس ایک ہی مسلمان تو مرا۔ انہیں صحیح کرنا ضروری ہے۔‘ ہندوستان کی سیاست بدل رہی ہے۔ اس بدلتی ہوئی سیاست میں ابھی بہت سے رنگ سامنے آئیں گے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ سیاست میں کوئی بھی چیز مستقل نہیں ہوتی نہ تصور مستقل ہوتے ہیں اور نہ ہی حکومتیں، صرف تبدیلی ہی ایک مستقل حقیقت ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔

 شکیل اختر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

مسلمان حکمرانوں کی غلامانہ ذہنیت

اس وقت پوری دنیا میں افرا تفری کا عالم ہے۔ ہر جانب مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے اور المیہ یہ ہے کہ دہشت گردی کا جہاں نام آئے، اسے اسلام کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ اسلام کا دہشت گردی کے ساتھ دور دور کا کوئی واسطہ نہیں۔ ابھی دنیا کے ایک مہذب ملک کینیڈا کی ایک مسجد میں گزشتہ شب نماز عشا کے دوران تین دہشت گردوں نے بلااشتعال و بے سبب فائرنگ کرکے چھ بے گناہ نمازیوں کو شہید کر دیا اور آٹھ عبادت گزار شدید زخمی ہو گئے۔ اسے دہشت گردی نہیں، حادثاتی واقعہ یا چند افراد کا ذاتی فعل قرار دیا جائے گا۔ اگر حملہ آوروں میں بدقسمتی سے کوئی مسلمان ہوتا تو یہ اتفاقی واقعہ نہ شمار ہوتا۔ بلکہ اسلام پر الزام لگتا۔ یہ دوہرے معیار اور دوغلی پالیسی انسانیت کی تذلیل ہے۔

وطن عزیز پاکستان میں عالمی قوتوں کے دباؤ پر جماعۃ الدعوہ اور فلاح انسانیت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ بھی مغربی دباؤ کا نتیجہ ہے اور یہاں بھی ان قوتوں کی دوعملی اور منافقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ جماعۃ الدعوہ ہو یا فلاح انسانیت، اگر انھوں نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے تو قانون کے مطابق عدالتوں کو فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ یہ کیا اندھیر نگری ہے کہ ٹرمپ کے آنے کے بعد پاکستانی حکمرانوں نے ایسی تنظیم پر پابندی لگائی ہے، جو مظلوم کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لئے سرگرم عمل ہے، ہر آفت کے وقت اس کا پورا نیٹ ورک متاثرہ علاقوں میں خدمت انسانیت میں سرگرم نظر آتا ہے۔ ان کا موقف بالکل واضح ہے کہ پرامن معاشرے میں دھماکے کرنا اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ ایسے حالات میں مودی جیسے بدترین اور متعصب اسلام دشمن بنیے سے زیادہ اس فیصلے پر کسی اور کو خوشی نہیں ہوئی ہو گی۔

اقوام متحدہ میں اگر ہمارے دشمنوں نے پاکستان میں کام کرنے والی فلاحی اور سماجی تنظیموں کے خلاف فضا تیار کی ہے تو اس کا توڑ کرنا بھی حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ حکومت میں آنے والی پارٹیاں کسی خاندان یا طبقے کی نمایندہ نہیں ہوتیں۔ وہ پوری قوم کی نمایندگی کرتی ہیں، خواہ ملک کے اندر آپس میں بعض امور پر اختلافات بھی ہوں۔ جہاں تک جماعۃ الدعوہ کا تعلق ہے، وہ کوئی سیاسی جماعت بھی نہیں اور نہ ہی اس نے حکومتِ وقت کے خلاف کبھی کوئی تحریک چلائی ہے۔

حافظ محمد سعید کی شخصیت پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں متعارف ہے۔ انھوں نے قانون کو کبھی ہاتھ میں نہیں لیا، نہ ہی سالمیتِ وطن کے خلاف کبھی کوئی بات کہی ہے۔ وہ محبِ وطن پاکستانی کی حیثیت سے ہر طبقۂ فکر میں یکساں معروف و مقبول ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے غیر ملکی دباؤ کے تحت ان کو دیگر چار ساتھیوں سمیت نظر بند کر دیا ہے۔ یہ سارا عمل محل نظر ہی نہیں قابل تشویش ہے۔ جن دشمنوں کے کہنے پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے، وہ تو پاکستان کے وجود کو بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انھیں پاک فوج کی قوت اور نئے اسلحے کے کامیاب تجربات بھی ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ وہ پاکستان کو ایٹمی قوت کے طور پر بھی گوارا کرنے کے روادار نہیں۔ کل کو اگر وہ اپنے مزید مطالبات منوانے کے لئے اور دباؤ بڑھائیں گے تو کیا ہمارے بزدل حکمران ان کے سامنے بھی جھکتے چلے جائیں گے؟

دنیا میں وہی قومیں سربلند و سرخرو ہوتی ہیں، جو اپنے فیصلے، اپنے نظریات اور اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کر کرتی ہیں۔ اس کے برعکس جو دوسروں کے کاسہ لیس بن کر زندہ رہنا چاہتے ہیں، کبھی عزت اور وقار کا مقام نہیں پا سکتے۔ حافظ محمد سعید صاحب نے درست کہا ہے کہ وہ اس حکم نامے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ عدالتیں پورا کیس سن کر انصاف کے ساتھ فیصلے کریں تو عوام کو اعتماد ملتا ہے۔ امن پسند شہری قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے، بلکہ قانون کے مطابق اپنی شکایات کے ازالے کے لئے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ جب عدالتیں عوام کو انصاف فراہم کر رہی ہوں تو ملک کے اندر مایوسی اور شر نہیں پھیلتا۔ خدانخواستہ عدالتیں اپنے فرائض ادا کرنے سے قاصر ہو جائیں تو پھر معاشرے انتشار اور تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہم نے اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کے اندر زندگی بھر حکمرانوں کے ظلم و ستم کے خلاف جہاں جمہوری اور پرامن احتجاج کیا ہے ، وہیں ہم نے عدالتوں کے ذریعے بھی اپنے حقوق کی جنگ لڑی ہے۔ ہم نے بدترین مظالم کا سامنا بھی کیا ہے مگر کبھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا۔ ماضی میں جماعت اسلامی پر بھی پابندیاں لگی تھیں۔ مولانا مودودیؒ نے ان پابندیوں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کیا تھا۔ متحدہ پاکستان میں مشرقی پاکستان ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد جماعت اسلامی پر ایوبی مارشل لاء کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں غیر دستوری قرار دی گئیں اور جماعت اسلامی بحال کر دی گئی۔ جبکہ اس کے برعکس مغربی پاکستان ہائیکورٹ نے حکومتی فیصلے پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے جماعت اسلامی کو کالعدم قرار دے دیا۔ حکومت اور جماعت دونوں سپریم کورٹ میں چلی گئیں۔ ملک کی عدالت عظمیٰ نے اپنے تاریخی فیصلے میں ایوب خان حکومت کے ظالمانہ اقدامات کو بنیادی انسانی حقوق اور دستور کی خلاف قرار دیتے ہوئے جماعت پر لگائی گئی پابندی کو غیر مشروط طور پر ختم کر دیا۔

اب بھی ملک میں عدلیہ موجود ہے اور دستور میں بنیادی انسانی حقوق بھی محفوظ ہیں۔ ہمیں امید یہی ہے کہ عدالتیں اپنے ملک کے شہریوں اور تنظیموں کو وہ تحفظ ضرور فراہم کریں گی، جس کا اللہ اور اس کے رسولؐ اور دستور پاکستان نے انھیں حق دیا ہے۔ حکومت کی اس نئی کارروائی کو بزدلانہ عمل ہی شمار کیا جائے گا اور تاریخ میں ان کا یہ کارنامہ سیاہ حروف میں لکھا جائے گا۔ اس سے قبل خود حکومت کئی بار کہہ چکی ہے کہ حافظ محمد سعید نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ اب بتایا جائے کہ اب ان کا کون سا عمل غیر قانونی ہے؟

حافظ محمد ادریس

آیئندہ پینتیس سالوں میں اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہو گا : امریکی تھنک ٹینک

ایک امریکی غیرجانبدار تھنک ٹینک، پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق کے مطابق 2050 کے بعد عیسائیت کی جگہ اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔ تحقیق کے مطابق 2010 میں دنیا بھر میں موجود مسلمانوں کی تعداد ایک ارب 60 کروڑ کے قریب تھی، جو دنیا کی آبادی کے تقریباً 23 فیصد کے برابر تھی جبکہ اس وقت دنیا میں موجود عیسائیوں کی تعداد 2 ارب 20 کروڑ(دنیا کی آبادی کا 31 فیصد) کے برابر تھی۔ پیو ریسرچ سینٹر کی اس رپورٹ میں دنیا بھر کی مذہبی آبادیوں کا تجزیہ کیا گیا تھا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 2050 تک دنیا میں دونوں مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد برابر ہو جائے گی جبکہ اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔islam_553552764

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس تبدیلی کی اہم وجہ عیسائی خاندانوں کی نسبت مسلمان خاندانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی زیادہ تعداد ہو گی، تاہم اس رپورٹ میں اسلام کے پھیلاؤ کے دیگر عوامل (جیسے کہ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کے ابلاغ عامہ کا استعمال) کو واضح نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مستقبل میں دنیا میں موجود مسلمان نسبتاً جوان جبکہ عیسائی افراد کی عمر زیادہ ہو گی۔ ایک جانب جہاں ماضی میں اسلام کا پھیلاؤ مشرق وسطیٰ میں زیادہ رہا، ایشیا پیسیفک وہ علاقے ہیں جہاں مسلمانوں کی زیادہ تعداد موجود ہیں اور انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک ہے، وہیں 2050 تک بھارت مسلم اکثریتی ملک بن جائے گا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کی آبادی کا 18 فیصد حصہ مسلمانوں پر مبنی ہوگا۔
پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق میں جب لوگوں سے یہ سوال کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں تو 49 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ کئی مسلمان امریکا مخالف جذبات رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا میں مسلمانوں کے حوالے سے پائے جانے والے تاثر میں واضح جانب داری دیکھنے کو ملتی ہے، ڈیموکریٹس مسلمانوں کو مثبت جبکہ رپبلکن عقیدہ اسلام کے حوالے سے منفی جذبات رکھتے ہیں۔

ملازمت میں ترقی نماز کی ادائیگی سے مشروط

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین کی ترقی کے لیے کارکردگی کے علاوہ پابندی کے ساتھ نماز کی ادائیگی سے مشروط ہو گی۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا سے سینیچر کے روز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ بعدازاں سپریم کورٹ کے ملازمین کی جانب سے ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گی۔

صحافی اورنگزیب جرال کے مطابق پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ مظفر آباد کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں درج ہے کہ چیف جسٹس ابراہیم ضیا کا کہنا تھا کہ ‘آج کے بعد سپریم کورٹ میں تعینات ہر کوئی آفیسر و اہلکار نماز کا پابند ہو گا۔ سالانہ ترقی نماز کی باقاعدگی سے مشروط ہو گی۔ دو گروپ بنائیں ایک گروپ کی امامت خود کرواؤں گا جبکہ دوسرے گروپ کی امامت امام مسجد کروائیں گے۔’ چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا کا یہ بھی کہنا تھا کہ خفیہ طور پر چیک بھی کیا جائے گا کہ کون ملازم نماز کی پابندی نہیں کرتا۔

انھوں نے کہا کہ ‘سرکاری ملازمین اپنے فرائض منصبی پوری محنت، دیانت، خلوص نیت، لگن اور ذاتی پسند نا پسند سے بالاتر ہو کر سر انجام دیں علاقائی، لسانی اور گروہی تعصبات سے بالا تر ہو کر ملت اسلامیہ کے فرد کی حیثیت سے اپنے فرائض کی بجا آوری یقینی بنائیں۔ چیف جسٹس ابراہیم ضیا کی جانب سے سپریم کورٹ کے ملازمین کی ترقی کارکردگی کے علاوہ نماز کے ساتھ مشروط کرنے پر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے عام لوگوں کی رائے بھی تقسیم ہے۔

مظفرآباد سنڑل بار کے سابق سیکرٹری جنرل ناصر احمد ایڈوکیٹ نے اس بیان پر اپنے اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارے عقیدے کے مطابق نماز فرض ہے اگر کوئی ملازم نماز جیسے فرض کو ادا کرنے میں کوتائی کرتا ہو تو ممکن نہیں کہ وہ ملازم فرائضں منصبی بھی درست انداز میں ادا کرے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چیف جسٹس نے ملازمین کو فرض پر عمل کرنے کو کہا ہے تو اس میں کوئی عار نہیں کیونکہ بحثیت مسلمان ہم ا س سے انکار نہیں کر سکتے۔

شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے امرالدین کا کہنا ہے ‘نماز ہر مسلمان پر فرض ہے لیکن ملازم کی ترقی کارکردگی اور ایمانداری سے مشروط ہونی چاہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی ملازم نماز پڑھے مگر وہ اپنے فرائضی منصبی دیانتداری سے ادا نہ کرے تو کیا وہ ترقی کا مستحق ہو گا۔’ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں پہلی مرتبہ کسی بھی سرکاری ادارے کے سربراہ نے اس طرح کے احکامات جاری کیے ہیں جس میں سرکاری ملازم کی ترقی کے لیے کارکردگی کے ساتھ ساتھ نماز کی پابندی سے ادائیگی کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

الحمراء کے محلات

الحمراء صرف ایک محل نہیں‘ وہ نہایت وسیع باغات کے درمیان بیرون شہر گویا ایک شاہی اقامت گاہ تھی۔ اس کی تعمیر پر بہت زیادہ دولت خرچ کی گئی۔ تاہم اس کا تعمیری سامان زیادہ مضبوط نہ تھا۔ اپنے عظیم حسن کے باوجود وہ غیر مستحکم تعمیراتی سامان کے ذریعہ بنی ہوئی ایک عمارت کہی جائے گی۔ الحمراء کے محلات اس وقت بنائے گئے جبکہ یہاں کی مسلم حکومت سمٹ کر صرف غرناطہ تک محدد و گئی تھی۔ اس کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ لال قلعہ کے حکمران کی طرح وہ باہر سے مضبوط پتھر بھاری مقدار میں منگا سکے۔ وہ زیادہ مستحکم عمارت کھڑی نہیں کر سکتے تھے‘ اس لیے شاید اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لئے انہوں نے زیادہ خوبصورت عمارتیں کھڑی کر دیں۔

قصر الحمراء 2200 مربع میٹر کے رقبہ میں واقع ہے۔ اس کے ہر حصہ میں آیتیں‘ حدیثیں‘ دعائیں‘ اشعار اور دوسری عربی عبارتیں لکھی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ خاص طور پر بنو الاحمر کا خاندانی اشعار والا غالب الا اللہ اس کے ہر حصہ میں نقش کیا ہوا نظر آتا ہے۔ آخری دور کی سلطنت غرناطہ (1232-1492) کا بانی محمد بن یوسف الاحمر تھا۔ وہ ارجونہ کا قلعدار تھا۔ اس نے بغاوت کر کے غرناطہ پر قبضہ کر لیا اور اپنا لقب الغالب باللہ اختیار کیا۔ اسی سلطنت کے زمانہ میں غرناطہ کا مشہور قصر الحمراء تعمیر ہوا۔ اس خاندان (بنو احمر) کے حکمرانوں نے اسی لفظ کو اپنا اشعار بنا لیا۔ وہ عمارتوں وغیرہ پر کثرت سے ولا غالب الا اللہ لکھا کرتے تھے۔ اقبالؔ 1933ء میں اندلس گئے تھے۔ واپسی کے بعد انہوں نے مختلف مواقع پر اپنے سفر کے تاثرات بتائے۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا : میں الحمراء کے ایوانوں میں جابجا گھومتا پھرا۔ مگر (انسانوں سے خالی اس قصر میں) جدھر نظر اٹھتی دیوار پر ھواالغالب لکھا ہوا نظر آتا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہاں تو ہر طرف خدا غالب ہے۔ کہیں انسان نظر آئے تو بات بھی ہو۔

مولانا وحید الدین

 (سفرنامہ’’ اسپین و فلسطین ‘‘سے ماخوذ)

ایک اور مولانا مودودی کی ضرورت

قرآن کریم کو ام الکتاب اس لئے کہا گیا ہے کہ اس میں ازل سے ابد تک، پیدا و پنہاں، تمام علوم و فنون کی معلومات اور بشارتیں دی گئی ہیں۔ زمانہ ء حال کو تو ہم دیکھ ہی رہے ہیں، زمانہ ء ماضی پر نظر ڈالیں تو کوئی ایسا موضوع نہیں جس کا ذکر قرآن حکیم میں موجود نہ ہو۔ مغرب کے فلاسفہ اور سائنس دان چونکہ قرآنِ حکیم سے اکتسابِ فیض نہیں کر پاتے اس لئے ان کو معلوم نہیں کہ جو ایجادات وہ کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں ان سب کی نوید ام الکتاب میں دی جا چکی ہے اور مشرق کے واعظ و حفاظ چونکہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی سے بے بہرہ ہیں اس لئے ان کو بھی معلوم نہیں کہ خداوندِ کریم و جلیل نے ان کے سینوں کے اندر علم و ہنر کا کیسا ماہِ تمام رکھ دیا ہے!

1980ء کے عشرے میں پاک آرمی میں ’’آرمی بک کلب‘‘ کے نام سے ایک نئی طرح ایجاد کی گئی۔ ہر آفیسر سے 200 روپے سالانہ کے حساب سے چندہ جمع کیا جاتا تھا جس کے عوض سال بھر میں چار کتابیں ایشو کی جاتی تھیں۔ ان میں زیادہ تر کتابیں ملٹری ہسٹری اور دیگر عسکری موضوعات پر ہوتی تھیں۔ کچھ برسوں کے بعد کسی نے اعتراض کیا کہ یہ ساری کتابیں انگریزی میں کیوں ہوتی ہیں۔ اردو میں بھی کوئی ایک آدھ کتاب دی جانی چاہیے۔ لیکن چونکہ اردو زبان میں ملٹری کے بارے میں کوئی ایسی ثقہ تصنیف موجود نہیں تھی اس لئے آرمی بک کلب کی انتظامیہ نے سوچ سوچ کر اس کا یہ حل نکالا کہ اگر عسکری اردو نہیں تو ’’اسلامی اردو‘‘ ہی سے آغاز کیا جائے۔911500_575503559150167_1856583474_n

چنانچہ 1990ء کے عشرے میں مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کی ایک ایک جلد بھی ہر سال فراہم کی جانے لگی۔ یعنی تین کتابیں انگریزی میں ملٹری ہسٹری پر اور ایک (تفہیم القرآن) اردو میں۔۔۔ یہ سلسلہ چھ سال تک چلتا رہا۔ شائد 1994ء وہ آخری سال تھا جس میں تفہیم القرآن کی چھ کی چھ جلدیں پوری ہو گئیں۔ دریں اثناء آرمی کے ساتھ نیوی اور ائر فورس نے بھی پہلے آرمی بک کلب میں شمولیت اختیار کی تو اس سکیم کا نام ’’سروسز بک کلب‘‘ رکھا گیا لیکن بعد میں بحریہ اور فضائیہ نے اپنے اپنے بک کلب الگ بنا لئے۔

اس بک کلب نے آرمی آفیسرز کو دو بڑے فائدے بہم پہنچائے۔ ایک تو یہ کہ افسروں (سیکنڈ لیفٹیننٹ سے لے کر جنرل تک) کی غالب تعداد کلاسیکل عسکری تاریخ کو ’’ازراہِ مجبوری‘‘ پڑھنے لگی اور دوسرے تفہیم القرآن کو افسروں کی کلاس میں بار مل گیا۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس بک کلب سکیم کا سب سے بڑا فائدہ دینِ اسلام کی یہی تفہیم تھی جو مولانا مودودی کی چھ جلدوں پر مشتمل اس کتاب کے توسط سے مسلح افواج کے افسروں کو اپنی قومی زبان میں قرآن حکیم کے متن اور اس کے ترجمے اور تفسیر سے روشناس اور سرشار کر گئی۔ فوج کی پروفیشنل غیر مرئی اخلاقیات میں مولانا مودودی کی اس تفسیر نے ایک زبردست کیٹالسٹ (Catalyst) کا کام کیا!

مجھ جیسا بندۂ گہنہ گار بھی ہر سال ماہِ رمضان میں پورے 30 پاروں کی تفسیر اور ترجمہ پڑھنے لگا۔ بار بار اس ایکسرسائز کا فائدہ یہ ہوا کہ ذہن میں اسلام کی بنیادی تعلیمات غیر محسوس طریقے سے راہ پانے لگیں۔ حضرت مودودی کا طرزِ تحریر بھی دل میں کھب جانے والا تھا اور فوجی افسروں کو بطورِ خاص اس لئے بھی اپیل کرتا تھا کہ اس میں تعقّل (Reasoning) اور تجزیئے (Analysis) کو کسوٹی بنا کر قرآن کریم کے موضوعات کی تشریح کی گئی تھی۔ ہر سورہ کا زمانہء نزول، اس کی شانِ نزول، مباحث و موضوعات اور پھر رکوع وار ترجمہ اور تفسیر اس قدر مدلل تھی کہ بار بار تلاوت کرنے اور پڑھنے کے بعد بھی جی کو سیری نہیں ہوتی تھی!

پھر ایک دو برس بعد ماہ رمضان ہی کے دوران وہ وقت بھی آیا جب میں نے دوسرے مفسرین کی متداول اردو اور انگریزی تفاسیر کی طرف بھی توجہ دی اور ہر مکتبہ ء فکر و مسلک کی تفسیروں اور تراجم کی ورق گردانی کرنے لگا جس سے نہ صرف یہ کہ دینِ اسلام کی حقانیت دل میں راسخ ہوتی چلی گئی بلکہ میرا مطمعِ نظر بھی وسیع اور لچکدار ہوتا رہا۔ جو تفسیر اور جو ترجمہ دل کو زیادہ اچھا لگا وہی یاد رہ گیا۔ اور پھر اگلا مرحلہ وہ آیا کہ میں نے تفہیم القرآن کی ہر جلد میں جگہ جگہ اپنے محدود علم کے مطابق حواشی قلمبند کرنے شروع کر دیئے۔ آج بھی مولانائے مرحوم و مغفور کی تفہیم پر ان حواشی کو کھول کر دیکھتا ہوں تو دل میں شکرِ ایزدی بجا لاتا ہوں کہ اس نے مجھ نا چیز اور کم فہم انسان کے فہم میں دین کو سمجھنے کا یہ شعور عطا کیا اور تفہیم القرآن کو اس کا سبب بنایا۔

مولانا مودودی کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ وہ ہر سورہ کے نزول کا جو تاریخی پسِ منظر بیان کرتے ہیں اور جو مضامین زیر بحث لاتے ہیں ان کی سپورٹ میں مشرق و مغرب کے حکماء اور فلاسفہ کے حوالے کوٹ (Quote) کرتے چلے جاتے ہیں۔ پڑھنے والے کو حیرت ہوتی ہے کہ مفسر اور مترجم کا مبلغ فہم و فراست کس کینڈے کا ہے۔ ان کے دلائل قاری کے دل میں براہینِ قاطع کی طرح اتر جاتے ہیں۔ اور ایک اور لطف یہ بھی ہے کہ قاری کے سینے میں اخذِ معلومات کی مزید جوت بھی جگاتے جاتے ہیں۔ مجھے بارہا ایسے معلوم ہوا کہ ان کی تفسیر نہ صرف ماضی و حال کے حقائق کی شارح ہے بلکہ مستقبل کی بھی ترجمان ہے!

  لیفٹیننٹ کرنل (ر)غلام جیلانی خان

نوکری ‘ایڈم’ نام والے کو ملے گی یا ‘محمد’ کو؟

our-lovely-new-office-space-in-the-heart-of-new-york-cityبی بی سی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسلمان نام والے کسی شخص کے مقابلے میں برطانوی نام کے نوکری کے امیدوار کو تین گنا زیادہ انٹرویوز کے لیے بلایا جاتا ہے۔ ان سائڈ آؤٹ نے ایک ہی طرح کی علمی لیاقت اور تجربے والے دو سی وی ایڈم اور محمد کے نام سے 100 کمپنیوں کو روانہ کیا جنھوں نے نوکریوں کے لیے اشتہار دے رکھا تھا۔ ایڈم کو 12 جگہوں سے انٹرویو کی پیش کش کی گئی جبکہ محمد کو صرف چار جگہ سے بلایا گيا۔ ہر چند کہ یہ تجربہ چھوٹے پیمانے پر کیا گیا تھا لیکن یہ پہلے کی جانے والی علمی تحقیق کے نتائج سے بہت مماثل ہے۔

ان تحقیقات میں یہ پایا گيا ہے کہ برطانیہ کے مسلمانوں کی مینیجر اور پیشہ ورانہ شعبوں میں دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے مقابلے میں نمائندگی کم ہے۔ ان دونوں نقلی ناموں سے لندن میں ایڈورٹائزنگ اور سیلز کے بزنس مینیجر کے طور پر 100 کمپنیوں میں درخواست دی گئی تھی۔ ڈھائی مہینے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ایڈم کو محمد کے مقابلے تین گنا زیادہ جگہوں سے بلاوا آيا۔ ان دونوں کے سی وی یعنی احوال و کوائف کو چار جاب کی سائٹوں پر بھی ڈالا گیا جہاں سے پانچ کمپنیوں نے ایڈم سے رجوع کیا جبکہ محمد سے صرف دو کمپنیوں نے رابطہ کیا۔seat-geek-new-office-12-740x533

برسٹل یونیورسٹی کے پروفیسر تقی محمود نے بی بی سی کے تجربے کا تجزیہ کیا۔ انھوں نے کہا: مسلم نام والے سی وی کو تین میں سے ایک معاملے میں ہی خاطر میں لایا جاتا ہے۔ میرے خیال سے تین میں سے دو ہونا چاہیے تھا لیکن یہ لندن جیسے شہر کے لیے بہت برا ہے جو ٹیلنٹ کا بھوکا ہے۔ برسٹل یونیورسٹی میں ہونے والے ایک مطالعے میں پایا گیا کہ ایک مسلمان کے مقابلے میں سفید فام مسیحیوں کو انٹریویو کے لیے بلائے جانے کا 76 فیصد زیادہ امکان ہے۔ برطانیہ کی مسلم کونسل کا کہنا ہے کہ سنہ 2011 کی آخری مردم شماری کے مطابق لندن کے 82 لاکھ باشندوں میں مسلمانوں کی تعداد دس لاکھ سے ذرا زیادہ ہے لیکن نصف سے زیادہ کنبے غربت میں زندگی گزار رہے ہیں اور یہ شرح کسی دوسرے مذہبی فرقے سے زیادہ ہے۔ پروفیسر محمود نے کہا کہ جب وہ نوجوان تھے تو انھیں کام کی جگہ پر نام بدلنے کی تجویز دی گئی تھی۔

یوگیش کرشن داوے کا کہنا ہے کہ انھیں ان کے نام کے سبب نظر انداز کیا گيا. انھوں نے کہا: ‘طالب علم کی حیثیت سے جب میں نے کام کیا تو میرے مالک نے میرا نام دیکھتے ہی کہا ‘یہ نہیں چلے گا۔ تم خود کو ٹیری مائلز یا اسی طرح کچھ اور کہو۔ اور مجھے یہ اچھا نہیں لگا۔’ انھوں نے کہا: ‘میں اپنی مرضی سے اپنا نام نہیں بدلوں گا اور میں نے اپنی بچیوں کا بھی پاکستانی یا مسلمانوں والا نام رکھا ہے حالانکہ میں سوچتا ہوں کہ جب وہ ملازمت کی تلاش میں جائیں گی تو ہو سکتا ہے کہ یہ ان کے لیے نقصان دہ ہو۔’ مسلمانوں کے خلاف اس قسم کے تعصبات سنہ 2009 میں روزگار اور پینشن کے شعبے میں ہونے والے ایک سروے میں بھی پایا گيا، جبکہ سنہ 2015 کی ایک رپورٹ میں خیراتی ادارے ڈیموس نے کہا ہے کہ مسلمانوں کا تناسب مینیجر اور پیشہ ورانہ آسامیوں پر دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے مقابلے میں کم ہے۔