رحمۃ للعالمین ﷺ کے پاک نام پر

گناہگار تو شاید سب ہیں لیکن میں تو بہت ہی زیادہ گناہگار ہوں۔ مغفرت کی امید ہے تو اپنے عمل کے سہارے نہیں بلکہ غفورالرحیم کی صفت رحمت اور رحمت اللعالمین ﷺ کے جذبہ رحمت کو دیکھ کر بخشش کی توقع لگائے بیٹھا ہوں۔ تاہم حیرت زدہ ہوں کہ وہ لوگ روز قیامت اللہ کو کیا جواب دیں گے جو اس کے نبی پاکﷺ کے پاک نام اور مقدس دین کو اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے اور اس کی آڑ میں آپﷺ کی امت کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کوئی مسلمان ہوکر نبی آخرالزمان ﷺ کے خاتم النبین ﷺ ہونے میں رتی برابر بھی شک کرے ۔ سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی مسلمان جان بوجھ کرختم نبوت ﷺ کے عقیدے اور قوانین میں تبدیلی یا ان سے متعلق سوال اٹھانے کا سوچ سکتا ہے۔

ذہن نہیں مانتا کہ مسلمان ہو کر بھی کوئی دانستہ ختم نبوت ﷺ کے عقیدے اور قانون کو متنازع بنانے کا خیال ذہن میں لا سکتا ہے۔ اس لئے مجھے یقین ہے کہ جو کچھ ہوا وہ کوئی سازش تھی یا پھر حکمرانوں اور ان کے اتحادیوں کی حماقت ممبران پارلیمنٹ کے حلف نامے میں تبدیلی کی جو غیرضروری حماقت کی گئی، اس کے اگر ذمہ دار ہیں بھی تو حکمران ہیں یا پھر ان کے اتحادی۔ بنیادی ذمہ داری بلاشبہ وزیر قانون زاہد حامد کی بنتی ہے، پھر کابینہ اور پارلیمنٹ کی۔ وزیر داخلہ احسن اقبال میرے ٹی وی پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں آن ریکارڈ دعویٰ کر چکے ہیں کہ قومی اسمبلی کی جس کمیٹی نے حلف نامے میں تبدیلی کے قانون کی منظوری دی اس میں جے یو آئی کے ممبر بھی موجود تھے جبکہ مولانا فضل الرحمان صاحب کا موقف ہے کہ پارلیمنٹ اجتماعی گناہ کی مرتکب ہوئی ہے۔

اب اگرچہ قانون واپس لے لیا گیا لیکن بہرحال جو جرم سرزد ہوا، اس کا ذمہ دار اگر کوئی ہے تو حکومت یا پھر بقول مولانا فضل الرحمٰن پوری پارلیمنٹ، لیکن اس میں راولپنڈی میں رہنے والے رحمۃ للعالمین ﷺ کے امتی اس مزدور کا تو ہرگز کوئی قصور نہیں کہ جو روزانہ بچوں کا پیٹ پالنے کی خاطر اسلام آباد میں دیہاڑی لگانے جاتا ہے اور رستہ بند ہونے کی وجہ سے وہ گزشتہ ایک ہفتے سے مزدوری نہیں کر سکا۔ اسی طرح رحمۃ للعالمین ﷺ کے اس امتی کا بھی کوئی قصور نہیں کہ جو ذاتی گاڑی نہ ہونے کی وجہ سے اسلام آباد اور پنڈی کے مابین آنے جانے کے لئے میٹرو استعمال کرتا تھا لیکن اس کی بندش کی وجہ سے اب وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا میٹرو کے کھلنے کا انتظار کر رہا ہے ۔

اسی طرح گوجر خان سے تعلق رکھنے والے رحمۃ للعالمینﷺ کے اس امتی کا تو قانون بدلنے کے عمل سے کوئی تعلق نہیں تھا جو اپنی بیمار والدہ کو شفا اسپتال لا رہا تھا لیکن رستہ بند ہونے کی وجہ سے اسے بلک بلک کر روتے ہوئے اپنی والدہ کواسپتال پہنچائے بغیر ان کی لاش کے ساتھ واپس جانا پڑا۔ وہ باپ تو وزیر ہے اور نہ کابینہ کا رکن بلکہ شاید موجودہ حکومت سے خادم حسین رضوی سے بھی زیادہ نالاں ہیں کہ جو اپنے جگر گوشے کو سڑکوں کی بندش کی وجہ سے اسپتال نہ پہنچا سکا۔ اسی طرح پیغمبرانہ پیشے سے وابستہ ان سینکڑوں اساتذہ کرام کا تو مجھے کوئی قصور نظر نہیں آیا، جو دھرنے کی وجہ سے اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے متعلقہ تعلیمی اداروں تک آنے جانے سے قاصر ہیں۔

کیا فیض آباد، کنہ پل ، آئی ایٹ اور گردونواح کے علاقوں میں رہنے والے لاکھوں پاکستانی اس رحمۃللعالمین ﷺ کے امتی نہیں کہ جس کے نام کی آڑ لے کر گزشتہ ایک ہفتے سے ان سب کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے اور کیا روز قیامت ان لوگوں کے ہاتھ ، حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے گریبانوں پر نہیں ہوں گے کہ جنہوں نے دھرنے کے ذریعے ان کا جینا حرام کر دیا ۔ کون یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ان لاکھوں لوگوں کے دلوں میں رحمۃللعالمین ﷺ کی محبت کسی دھرنا دینے والوں سے کم ہے۔ جس رحمۃ للعالمین ﷺ کے پاک نام پر اس کی امت کو تکلیف دی جا رہی ہے، اس نبیﷺ نے تو مسلمان کی شان یہ بتائی ہے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہتے ہیں ۔

آپﷺ نے رستہ کھلا رکھنے کے لئے مسجد تک کو ڈھانے کا رستہ دکھایا ہے۔ آپﷺ نے تو بندئہ مومن کی حرمت کعبۃ اللہ سے زیادہ بیان فرمائی ہے۔ بات صرف زاہد حامد اور احسن اقبال کی ذات تک محدود ہوتی تو ہم جیسے گناہگار پھر بھی خاموش رہتے لیکن اب تو عاشق رسولﷺ جسٹس شوکت عزیز صدیقی بھی فیصلے کی صورت میں بول اٹھے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ماضی کے بعض اقدامات اور فیصلوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کے ایک سچے عاشق رسول ﷺ ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ ان کے ماضی کے بعض فیصلوں اور کمنٹس پر لبرل حلقوں کی طرف سے اس بنیاد پر اعتراض اٹھایا جاتا رہا کہ شاید ان سے خادم حسین رضوی جیسے لوگوں کو شہ ملتی ہے لیکن اب کی بار تو جسٹس صاحب بھی خاموش نہیں رہ سکے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی، علمی میدان میں اس نعیم صدیقی کے جانشین اور پیروکار ہیں جنہوں نے محسن انسانیت ﷺ جیسی شہرہ آفاق کتاب تصنیف کی۔ جسٹس صاحب کسی کو تحفہ دیتے وقت کوئی اور چیز نہیں بلکہ سیرت النبیﷺ پر مبنی اس کتاب یعنی محسن انسانیت ﷺ کا تحفہ دیتے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر شان رسول ﷺ میں گستاخی سے متعلق کیس میں ان کا تفصیلی اور علمی فیصلہ نبی رحمت ﷺ سے ان کی محبت اور اس موضوع کے علمی نزاکتوں پر ان کے عبور کا بین ثبوت ہے ۔

مجھے یقین ہے کہ وہ کسی بھی حوالے سے کسی مصلحت یا خوف کا شکار تو ہو سکتے ہیں لیکن اس موضوع پر وہ کسی مصلحت یا خوف کا شکار ہوں گے ، میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ اب جب اس جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی فیصلہ دینا پڑا کہ لبیک تحریک والوں کو اپنا دھرنا ختم کر دینا چاہئے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملہ حد سے نکل گیا ہے ۔ جسٹس صاحب نے اپنے فیصلے میں کیا خوبصورت بات کہی ہے کہ محمد مصطفی ﷺ نے رستے سے کانٹے اٹھائے اور آپ لوگوں نے راستے بند کر دئے ہیں ۔ ان کے اس فیصلے نے ثابت کر دیا کہ نہ صرف دھرنا غیرقانونی ہے بلکہ رحمت اللعالمینﷺ کی تعلیمات کے بھی منافی ہے ۔ لیکن افسوس کہ اس کے بعد بھی دھرنے کے منتظمین دھرنا ختم کرنے پر آمادہ نہیں ۔

دلیل ان کی یہ ہے کہ احتجاج کرنا اور دھرنا دینا ان کا قانونی حق ہے لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے خلاف قانون قرار دلوائے جانے کے بعد بھی وہ اپنا دھرنا ختم نہیں کر رہے ۔ عدالت عالیہ کا حکم آ گیا کہ معصوم عوام کے رستے بند کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے لیکن دھرنا دینے والے پھر بھی اپنی عدالت لگائے بیٹھے ہیں ۔ اندیشہ ہے کہ دھرنا کے منتظمین خود یا کسی کے ایماء پر ایک اور سانحہ لال مسجد برپا کرنے کے مشن پر آئے ہیں لیکن مجھے حیرت ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر سیاست کرنے والے مولانا فضل الرحمان، پروفیسر ساجد میر اور صاحبزادہ فضل کریم وغیرہ بھی خاموش ہیں۔ وہ حکومت کا حصہ بھی ہیں اور خادم حسین رضوی کی طرح اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے بھی ۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ میدان میں کیوں نہیں آتے ۔ اگر حکومت غلط کر رہی ہے تو اس کو سمجھا دیں یا پھر اس سے الگ ہو جائیں اور اگر دھرنا دینے والے غلط کر رہے ہیں تو ان کو سمجھا دیں یا پھر فتویٰ دے دیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ اسلامی تعلیمات اور قانون کے منافی ہے ۔ کیا یہ حضرات بھی ایک اور سانحہ لال مسجد کے انتظار میں بیٹھے ہیں تاکہ بعد ازاں ان لاشوں پر اپنی سیاست چمکا سکیں ۔

افتخار عارف صاحب نے کیا خوب فرمایا ہے کہ
رحمت سید لولاک ﷺ پہ کامل ایمان
امت سید لولاکﷺ سے خوف آتا ہے

سلیم صافی

Advertisements

وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس نے کیا کہہ دیا

گزشتہ منگل کے روز جنگ اخبارمیں شائع ہونے والی خبر کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس ریاض احمد خان نے سود کے متعلق کیس کو سنتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جس وقت سود کی ممانعت کا حکم ہوا اُس وقت کی معیشت آج سے مختلف ہے۔ چیف جسٹس شرعی عدالت نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اُس وقت کے نظام کو آج کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ interest کی تعریف سود نہیں، بلکہ نقصان کا ازالہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ خبر پڑھ کر یقین نہیں آیا کہ یہ سوال شرعی عدالت کے چیف جسٹس نے اٹھائے!!! ہو سکتا ہے کہ وہ سود کے متعلق ایک خاص طبقہ فکر کے ذہن میں موجود سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لیے ایسے سوال اٹھا رہے ہوں ورنہ ایک شرعی عدالت میں ایسی بات کیسے کی جاسکتی ہے کہ سود کے متعلق احکام کا تعلق اُس دور کی معیشت سے تھا جب قرآن پاک نازل ہوا۔

یہ تو وہی بات ہوئی جو مغرب اورمغرب زدہ دیسی ترقی پسند اور ’’روشن خیال‘‘ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام کو نئے دور کے ساتھ اپنے آپ کو بدلنا چائیے۔ یہ وہی طبقہ ہے جس کے لیے کہا گیا کہ خود بدلتے نہیں ،قرآن کو بدلتے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے شرعی احکامات کی حیثیت اٹل ہے۔ جو حکم اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے واضح طور پر آ گیا وہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اُسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے،اُسی کے مطابق ہمیں ایک اسلامی معاشرہ تشکیل دینا ہے اور اس کے لیے وقت یا دور کی کوئی اہمیت نہیں۔ سود کے متعلق اسلام کے احکامات واضح ہیں اور اسی بنا پر وفاقی شرعی عدالت نے 1991 میں اپنے فیصلہ میں پاکستان میں رائج سود کی تمام اقسام کو قرآن اور سنت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمہ کا حکم دیا تھا۔

اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا لیکن سپریم کورٹ نے بھی شرعی عدالت کے حکم کی تائید کرتے ہوئے حکومت کو سود کے خاتمہ کا حکم دیا۔ بعدازاں جنرل مشرف دور میں سپریم کورٹ نے یہ معاملہ دوبارہ وفاقی شرعی عدالت کے سپرد کر دیا اور ہدایت دی کہ اس معاملہ کو دوبارہ دیکھا جائے۔ شرعی عدالت کے 1991 کے فیصلہ کو لٹکانے اور پھر اِدھر سے اُدھر بھیجنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ کوئی حکومت سودی نظام کے خاتمہ کے لیے سنجیدہ نہ تھی۔ سال 2002 میں یہ معاملہ شرعی عدالت کے سپرد کیا گیا اور آج سال 2017 میں اسی کیس کو ابھی تک سنا جا رہا ہے۔ ان پندرہ سالوں میں شاہد اس کیس کو پندرہ بار بھی نہیں سنا گیا اور معاملات جیسے چل رہے ہیں اگر ایسے ہی چلتے رہے تو محسوس ایسا ہوتا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ آنے میں شاید ایک آدھ صدی انتظار کرنا پڑے۔

کیس کس سست روی سے چل رہا ہے وہ ایک الگ بحث ہے لیکن ماضی میں اس کیس سے جڑے ایک اہم فرد سے آج بات ہوئی تو اُن کا کہنا تھا کہ سود کے متعلق شرعی عدالت اور پھر سپریم کورٹ میں نوے کی دہائی میں طویل بحث ہوئی اُس میں ہر زاویے سے اس معاملہ کو گہرائی سے دیکھا گیا جس کے نتیجہ میں ملک کی اعلیٰ عدلیہ اس نتیجہ پر پہنچی کہ سودی نظام کو ختم کیا جائے کیوں کہ یہ نظام معیشت اسلامی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان صاحب کا کہنا تھا کہ شرعی عدالت کو چاہیے کہ اپنے پرانے فیصلہ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ اپیلیٹ بنچ کے فیصلے کو پڑھ لیں تو بہت سے سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔ ورنہ اگر ہم مغرب یا مغرب سے مرعوب یہاں موجود ایک طبقہ کی سوچ کو اہمیت دینے بیٹھ جائیں گے تو سود کے ساتھ ساتھ دوسرے شرعی احکامات کے تقدس کی بھی پامالی ہو گی۔ کیا اسی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد یہ بات نہیں کرتے کہ مسلمان خواتین کے لیے پردہ کا حکم تو اُسی دور کے لیے تھا؟ یہ طبقہ تو اسلامی ریاست کو مانتا ہی نہیں اور ریاست کے سیکولر ہونے کی بات کرتا ہے تاکہ شرعی احکامات کے نفاذ کا کوئی سوال ہی نہ اُٹھائے۔

انصار عباسی

’بس ایک ہی مسلمان تو مرا‘

بھارت کی ریاست راجستھان میں مسلم ڈیری تاجروں پر ہندو گئو رکشکوں کے بہیمانہ حملے کے مناظر ابھی تک لوگوں کے ذہن میں تازہ ہیں۔ گئو رکشک ملک کی کئی ریاستوں میں شاہراہوں اور اہم راستوں پر غیر قانونی طور پر ناکہ بندی کرتے ہیں اور مویشیوں کو لانے لے جانے والوں کو اکثر مارتے پیٹتے اور ان سے جبراً پیسے وصول کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ گائے کی منتقلی موت سے کھیلنے کے برابر ہے۔ ابھی الور کے حملے کی تصویر ذہن سے مٹ بھی نہیں پائی تھی کہ جمعہ کو جھارکھنڈ میں ایک 20 برس کے مسلم لڑکے کو ایک ہجوم نے مار مار کر اس لیے ہلاک کر دیا کیونکہ وہ ایک ہندو لڑکی سے پیار کرتا تھا۔

اتر پردیش میں سادھو آدتیہ ناتھ یوگی کی حکومت بننے کے بعد حکومت نے غیر قانونی ذبح خانوں کے خلاف کارروائی کرنے کے نام پر بھینس، بکرے اور مرغ کے کاروبار پر تقریـباً روک لگا دی ہے۔ ریاست میں لاکھوں لوگ گوشت کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ گوشت کا ذکر اس طرح کیا جا رہا ہے جیسے اس کا کاروبار یا اسے کھانا کوئی جرم ہو۔ اس کے باوجود کہ کئی ارب ڈالر کے اس کاروبار سے لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی جڑی ہوئی ہے حکومت نے ابھی تک کوئی متبادل قانونی راستہ نہیں نکالا کہ یہ کاروبار بحال ہو سکے۔ بی جے پی نے جو مہم چلا رکھی تھی وہ گئو کشی کے خلاف تھی۔ شمال کی سبھی ریاستوں میں گائے کے ذبیحے پر بہت پہلے سے پابندی عائد ہے لیکن یوگی نے جو اقدامات کیے ہیں اس کا نشانہ بھینس بکرے اور مرغ کا گوشت ہے۔

گوشت اور چمڑے کی صنعت سے روایتی طور پر دلت اور مسلمان منسلک رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ گوشت کے خلاف ایک منظم تحریک چلا کر دلتوں بالخصوص مسلمانوں کو اقتصادی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس وقت ہندوستان کئی خانوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک طرف بی جے پی اور اس کے ہندو نطریے کے حامی ہیں جنھیں لگتا ہے کہ اب تک ملک میں ہر چیز غلط تھی اور وہ اب دور قدیم کے علوم کی بنیاد پر ملک میں ایک ثقافتی، مذہبی اور اقتصادی انقلاب لانے والے ہیں۔ کسی موثر سیاسی چیلنج کے نہ ہونے کے سبب انھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ حکومت تاحیات قائم رہے گی اور اس کے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ بی جے پی کی جیت اتنی موثر ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی اب ہندو راشٹر کے قیام کی باتیں کرنے لگے ہیں۔

دوسری طرف مسلمان ہیں جو اس وقت انتہائی خوفزدہ ہیں۔ روایتی طور پر وہ ہمیشہ بی جے پی کے خلاف رہے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے اس وقت وہ بے سہارا ہیں، اقتصادی طور پر وہ پہلے ہی سماج کے حاشیے پر تھے اب انھیں اپنی شناخت، رہن سہن اور ثقافت سبھی کے بارے میں انجانے اندیشوں نے گھیر لیا ہے۔ تیسری جانب وہ ہندوستانی ہیں جو ملک کے بدلتے ہوئے پس منظر کو کچھ تشویش اور کچھ تجسس سے دیکھ رہے ہیں۔ فضا میں کچھ گھبراہٹ اور بے چینی بھی ہے لیکن جو بات یکساں طور پر پورے ملک میں پائی جاتی ہے وہ ہے مسلمانوں سے نفرت۔ پچھلے کچھ عرصے سے ہندوؤں میں مسلمانوں کے تئیں خاصی نفرت پیدا ہوئی ہے۔

ان نفرتوں کے بہت سے اسباب ہیں۔ ان کے لیے بہت حد تک خود مسلمان بھی ذمہ دار ہیں لیکن ان سے نفرت پیدا کرنے میں سب سے اہم کرداد ملک کی غیر بی جے پی، نام نہاد سیکولر جماعتوں نے ادا کیا ہے۔ ان جماعتوں نے مسلمانوں کو نہ صرف پس ماندگی اور غربت سے نکلنے نہیں دیا بلکہ انھیں اپنی پالیسیوں سے باقی ہندوؤں کی نظر میں دشمن بنا دیا ہے۔ یہ نفرتیں اب اتنی بڑھی ہوئی ہیں کہ بہت سے لوگ جب مسلم تاجروں پر الور جیسے ہجومی حملے کو دیکھتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں ’ایسا کیا ہوا بس ایک ہی مسلمان تو مرا۔ انہیں صحیح کرنا ضروری ہے۔‘ ہندوستان کی سیاست بدل رہی ہے۔ اس بدلتی ہوئی سیاست میں ابھی بہت سے رنگ سامنے آئیں گے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ سیاست میں کوئی بھی چیز مستقل نہیں ہوتی نہ تصور مستقل ہوتے ہیں اور نہ ہی حکومتیں، صرف تبدیلی ہی ایک مستقل حقیقت ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔

 شکیل اختر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

مسلمان حکمرانوں کی غلامانہ ذہنیت

اس وقت پوری دنیا میں افرا تفری کا عالم ہے۔ ہر جانب مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے اور المیہ یہ ہے کہ دہشت گردی کا جہاں نام آئے، اسے اسلام کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ اسلام کا دہشت گردی کے ساتھ دور دور کا کوئی واسطہ نہیں۔ ابھی دنیا کے ایک مہذب ملک کینیڈا کی ایک مسجد میں گزشتہ شب نماز عشا کے دوران تین دہشت گردوں نے بلااشتعال و بے سبب فائرنگ کرکے چھ بے گناہ نمازیوں کو شہید کر دیا اور آٹھ عبادت گزار شدید زخمی ہو گئے۔ اسے دہشت گردی نہیں، حادثاتی واقعہ یا چند افراد کا ذاتی فعل قرار دیا جائے گا۔ اگر حملہ آوروں میں بدقسمتی سے کوئی مسلمان ہوتا تو یہ اتفاقی واقعہ نہ شمار ہوتا۔ بلکہ اسلام پر الزام لگتا۔ یہ دوہرے معیار اور دوغلی پالیسی انسانیت کی تذلیل ہے۔

وطن عزیز پاکستان میں عالمی قوتوں کے دباؤ پر جماعۃ الدعوہ اور فلاح انسانیت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ بھی مغربی دباؤ کا نتیجہ ہے اور یہاں بھی ان قوتوں کی دوعملی اور منافقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ جماعۃ الدعوہ ہو یا فلاح انسانیت، اگر انھوں نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے تو قانون کے مطابق عدالتوں کو فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ یہ کیا اندھیر نگری ہے کہ ٹرمپ کے آنے کے بعد پاکستانی حکمرانوں نے ایسی تنظیم پر پابندی لگائی ہے، جو مظلوم کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لئے سرگرم عمل ہے، ہر آفت کے وقت اس کا پورا نیٹ ورک متاثرہ علاقوں میں خدمت انسانیت میں سرگرم نظر آتا ہے۔ ان کا موقف بالکل واضح ہے کہ پرامن معاشرے میں دھماکے کرنا اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ ایسے حالات میں مودی جیسے بدترین اور متعصب اسلام دشمن بنیے سے زیادہ اس فیصلے پر کسی اور کو خوشی نہیں ہوئی ہو گی۔

اقوام متحدہ میں اگر ہمارے دشمنوں نے پاکستان میں کام کرنے والی فلاحی اور سماجی تنظیموں کے خلاف فضا تیار کی ہے تو اس کا توڑ کرنا بھی حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ حکومت میں آنے والی پارٹیاں کسی خاندان یا طبقے کی نمایندہ نہیں ہوتیں۔ وہ پوری قوم کی نمایندگی کرتی ہیں، خواہ ملک کے اندر آپس میں بعض امور پر اختلافات بھی ہوں۔ جہاں تک جماعۃ الدعوہ کا تعلق ہے، وہ کوئی سیاسی جماعت بھی نہیں اور نہ ہی اس نے حکومتِ وقت کے خلاف کبھی کوئی تحریک چلائی ہے۔

حافظ محمد سعید کی شخصیت پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں متعارف ہے۔ انھوں نے قانون کو کبھی ہاتھ میں نہیں لیا، نہ ہی سالمیتِ وطن کے خلاف کبھی کوئی بات کہی ہے۔ وہ محبِ وطن پاکستانی کی حیثیت سے ہر طبقۂ فکر میں یکساں معروف و مقبول ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے غیر ملکی دباؤ کے تحت ان کو دیگر چار ساتھیوں سمیت نظر بند کر دیا ہے۔ یہ سارا عمل محل نظر ہی نہیں قابل تشویش ہے۔ جن دشمنوں کے کہنے پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے، وہ تو پاکستان کے وجود کو بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انھیں پاک فوج کی قوت اور نئے اسلحے کے کامیاب تجربات بھی ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ وہ پاکستان کو ایٹمی قوت کے طور پر بھی گوارا کرنے کے روادار نہیں۔ کل کو اگر وہ اپنے مزید مطالبات منوانے کے لئے اور دباؤ بڑھائیں گے تو کیا ہمارے بزدل حکمران ان کے سامنے بھی جھکتے چلے جائیں گے؟

دنیا میں وہی قومیں سربلند و سرخرو ہوتی ہیں، جو اپنے فیصلے، اپنے نظریات اور اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کر کرتی ہیں۔ اس کے برعکس جو دوسروں کے کاسہ لیس بن کر زندہ رہنا چاہتے ہیں، کبھی عزت اور وقار کا مقام نہیں پا سکتے۔ حافظ محمد سعید صاحب نے درست کہا ہے کہ وہ اس حکم نامے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ عدالتیں پورا کیس سن کر انصاف کے ساتھ فیصلے کریں تو عوام کو اعتماد ملتا ہے۔ امن پسند شہری قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے، بلکہ قانون کے مطابق اپنی شکایات کے ازالے کے لئے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ جب عدالتیں عوام کو انصاف فراہم کر رہی ہوں تو ملک کے اندر مایوسی اور شر نہیں پھیلتا۔ خدانخواستہ عدالتیں اپنے فرائض ادا کرنے سے قاصر ہو جائیں تو پھر معاشرے انتشار اور تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہم نے اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کے اندر زندگی بھر حکمرانوں کے ظلم و ستم کے خلاف جہاں جمہوری اور پرامن احتجاج کیا ہے ، وہیں ہم نے عدالتوں کے ذریعے بھی اپنے حقوق کی جنگ لڑی ہے۔ ہم نے بدترین مظالم کا سامنا بھی کیا ہے مگر کبھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا۔ ماضی میں جماعت اسلامی پر بھی پابندیاں لگی تھیں۔ مولانا مودودیؒ نے ان پابندیوں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کیا تھا۔ متحدہ پاکستان میں مشرقی پاکستان ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد جماعت اسلامی پر ایوبی مارشل لاء کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں غیر دستوری قرار دی گئیں اور جماعت اسلامی بحال کر دی گئی۔ جبکہ اس کے برعکس مغربی پاکستان ہائیکورٹ نے حکومتی فیصلے پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے جماعت اسلامی کو کالعدم قرار دے دیا۔ حکومت اور جماعت دونوں سپریم کورٹ میں چلی گئیں۔ ملک کی عدالت عظمیٰ نے اپنے تاریخی فیصلے میں ایوب خان حکومت کے ظالمانہ اقدامات کو بنیادی انسانی حقوق اور دستور کی خلاف قرار دیتے ہوئے جماعت پر لگائی گئی پابندی کو غیر مشروط طور پر ختم کر دیا۔

اب بھی ملک میں عدلیہ موجود ہے اور دستور میں بنیادی انسانی حقوق بھی محفوظ ہیں۔ ہمیں امید یہی ہے کہ عدالتیں اپنے ملک کے شہریوں اور تنظیموں کو وہ تحفظ ضرور فراہم کریں گی، جس کا اللہ اور اس کے رسولؐ اور دستور پاکستان نے انھیں حق دیا ہے۔ حکومت کی اس نئی کارروائی کو بزدلانہ عمل ہی شمار کیا جائے گا اور تاریخ میں ان کا یہ کارنامہ سیاہ حروف میں لکھا جائے گا۔ اس سے قبل خود حکومت کئی بار کہہ چکی ہے کہ حافظ محمد سعید نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ اب بتایا جائے کہ اب ان کا کون سا عمل غیر قانونی ہے؟

حافظ محمد ادریس

آیئندہ پینتیس سالوں میں اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہو گا : امریکی تھنک ٹینک

ایک امریکی غیرجانبدار تھنک ٹینک، پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق کے مطابق 2050 کے بعد عیسائیت کی جگہ اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔ تحقیق کے مطابق 2010 میں دنیا بھر میں موجود مسلمانوں کی تعداد ایک ارب 60 کروڑ کے قریب تھی، جو دنیا کی آبادی کے تقریباً 23 فیصد کے برابر تھی جبکہ اس وقت دنیا میں موجود عیسائیوں کی تعداد 2 ارب 20 کروڑ(دنیا کی آبادی کا 31 فیصد) کے برابر تھی۔ پیو ریسرچ سینٹر کی اس رپورٹ میں دنیا بھر کی مذہبی آبادیوں کا تجزیہ کیا گیا تھا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 2050 تک دنیا میں دونوں مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد برابر ہو جائے گی جبکہ اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔islam_553552764

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس تبدیلی کی اہم وجہ عیسائی خاندانوں کی نسبت مسلمان خاندانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی زیادہ تعداد ہو گی، تاہم اس رپورٹ میں اسلام کے پھیلاؤ کے دیگر عوامل (جیسے کہ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کے ابلاغ عامہ کا استعمال) کو واضح نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مستقبل میں دنیا میں موجود مسلمان نسبتاً جوان جبکہ عیسائی افراد کی عمر زیادہ ہو گی۔ ایک جانب جہاں ماضی میں اسلام کا پھیلاؤ مشرق وسطیٰ میں زیادہ رہا، ایشیا پیسیفک وہ علاقے ہیں جہاں مسلمانوں کی زیادہ تعداد موجود ہیں اور انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک ہے، وہیں 2050 تک بھارت مسلم اکثریتی ملک بن جائے گا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کی آبادی کا 18 فیصد حصہ مسلمانوں پر مبنی ہوگا۔
پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق میں جب لوگوں سے یہ سوال کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں تو 49 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ کئی مسلمان امریکا مخالف جذبات رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا میں مسلمانوں کے حوالے سے پائے جانے والے تاثر میں واضح جانب داری دیکھنے کو ملتی ہے، ڈیموکریٹس مسلمانوں کو مثبت جبکہ رپبلکن عقیدہ اسلام کے حوالے سے منفی جذبات رکھتے ہیں۔