’’ کلبھوشن یادیو کی بیوی نے جوتے میں کیا چھپا رکھا تھا؟‘‘

پاکستان کے دفتر خارجہ نے سزا یافتہ جاسوس کلبھوشن یادیو کی اس کی ماں اور اہلیہ کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات کے حوالے سے بھارت کی تنقید کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کی بیوی کے جوتے میں کچھ تھا اور اس کو سکیورٹی کی بنیاد پر ضبط کر لیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ یادیو کی بیوی کے جوتے میں کچھ تھا اور اب اس کی تحقیقات کی جا رہی ہے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان کو متبادل جوتا مہیا کر دیا گیا تھا اور اس کے زیورات بھی ملاقات کے بعد لوٹا دیے گئے تھے۔ اس خاتون نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ اس کو جوتے کے سوا سب کچھ واپس کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر فیصل بھارتی حکومت کے ان الزامات کا جواب دے رہے تھے کہ یادیو کی ماں اور اہلیہ کی ملاقات کے دوران میں ثقافتی اور مذہبی حساسیت کو ملحوظ نہیں رکھا گیا تھا۔ سکیورٹی کے پیشگی حفاظتی اقدامات کے تحت ان کی بے توقیری کی گئی تھی۔ بھارت کی خارجہ امور کی وزارت نے یہ شکایت کی تھی۔ لیکن دفتر خارجہ نے اس دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ’’ اگر بھارت کو فی الواقع کوئی سنجیدہ تشویش لاحق تھی تو مہمان یا بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو اس ملاقات کے فوری بعد میڈیا کے سامنے اس کا اظہار کرنا چاہیے تھا‘‘۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’ پاکستان الفاظ کی بے مقصد جنگ میں الجھنا نہیں چاہتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یادیو کی والدہ نے میڈیا کے لیے جاری کردہ بیان میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا اور اپنے بیٹے سے ملاقات کو انسانی جذبہ خیر سگالی کا مظہر قرار دیا تھا۔ اس کے سوا کسی اور چیز ضرورت نہیں تھی‘‘۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے اس کی والدہ اور بیوی کی دفتر خارجہ، اسلام آباد میں سوموار کے روز قریباً چالیس منٹ تک ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے درمیان شیشے کی دیوار حائل تھی ۔ انھوں نے انٹرکام کے ذریعے ایک دوسرے سے بات چیت کی تھی۔ اس موقع پر بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ بھی موجود تھے۔

انھوں نے پاکستان سے واپسی کے بعد نئی دہلی میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے تین گھنٹے تک طویل ملاقات کی تھی اور انھوں نے مس سوراج کو یادیو سے اپنی بات چیت کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ اس کے بعد بھارتی وزارت برائے امور خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی خوف وہراس کے ماحول میں ملاقات ہوئی تھی اور انھیں ایک دوسرے سے کھل کر بات چیت کا موقع نہیں دیا گیا حتیٰ کہ جب یادیو کی والدہ نے اس سے مادری زبان میں بات کرنے کی کوشش کی تو انھیں روک دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس کلبھوشن سدھیر یادیو کو ایک فوجی عدالت نے پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔ اس نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل کی تھی کہ اس کو سنائی گئی سزائے موت معاف کر دی جائے ۔

اس نے ایک ویڈیو بیان میں اقرار کیا تھا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسیس ونگ ( را) نے اس کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں کو اسپانسر کیا تھا۔ اس نے خاص طور پر بلوچ علاحدگی پسندوں کو تشدد پر اکسایا تھا اور بلوچستان میں فرقہ ورانہ بنیاد پر دہشت گردی کے حملوں میں بھی اسی کا ہاتھ کار فرما تھا۔ اس علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا مقصد عدم استحکام پیدا کرنا اور پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں خوف پیدا کرنا تھا۔ مسٹر یادیو کے بہ قول کراچی میں سپرنٹنڈینٹ پولیس ( ایس پی) چودھری اسلم کے قتل میں بھی را ملوث تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ بلوچستان میں پاک فوج کے ایک ذیلی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن ( ایف ڈبلیو او) کے ورکروں پر حملوں، کوئٹہ، تربت اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں بلوچ قوم پرستوں کے بارودی سرنگوں یا دھماکا خیز مواد کے ذریعے حملوں میں براہ راست را کا ہاتھ کار فرما تھا۔

اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

Advertisements

بھارتی جاسوس کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کو پاکستانی ویزا جاری

پاکستان نے اپنے ہاں قید مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوو کی والدہ اور اہلیہ کو ویزہ جاری کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے ٹوئٹر پر ایک اس بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کو ویزہ جاری کر دیا ہے تاکہ وہ پاکستان آ کر اس سے ملاقات کر سکیں ۔  پاکستانی حکام نے گزشتہ سال مارچ میں کلبھوشن یادیوو کو جنوب مغربی صوبہ بلوچستان سے گرفتار کیا تھا اور اس پر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے اور تخریب کاری کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔ اس مبینہ بھارتی جاسوس کو فوجی عدالت کی طرف سے سزائے موت بھی سنائی جا چکی ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کلبھوشن سے اس کی والدہ اور اہلیہ کی ملاقات کروانے کی پیشکش کی تھی جب کہ اس تک قونصلر رسائی کی کی جانے والی بھارتی درخواست کو اسلام آباد مسترد کر چکا تھا جس پر بھارت اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں بھی لے جا چکا ہے۔ پاکستان نے کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد اس کا ایک وڈیو اعترافی بیان بھی جاری کیا تھا جس میں اسے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے منسلک ہوتے ہوئے پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کا اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

کھوپڑیاں اور چوہے : بھارتی کسان سراپا احتجاج

گذشتہ ہفتے انڈیا میں ایک کسان نے زندہ چوہا دانتوں میں پکڑ کر انوکھا احتجاج
ریکارڈ کروایا۔ 65 سالہ چناگو ڈانگی پالانیسامی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے کسانوں کی حالتِ زار کی طرف حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے قریب جنتر منتر کے علاقے میں ایک خیمے میں مجھے بتایا : ‘میں اور میرے کسان ساتھی یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر حالات میں تبدیلی نہ ہوئی تو ہم چوہے کھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔’ پالانیسامی اور ان کے سو کے قریب ساتھی اس عارضی پناہ گاہ میں گذشتہ 40 روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق تمل ناڈو کے ان علاقوں سے ہے جو حالیہ برسوں میں شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے انڈیا نے اس خشک سالی کو بھلا دیا ہے۔ اس لیے پالانیسامی اور ان کے ساتھی نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا یہ انوکھا طریقہ سوچا ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں حکومت کی جانب سے قحط زدہ علاقوں کے لیے مختص رقوم دی جائیں جب کہ معمر کسانوں کو پنشنیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ وہ قرضوں کی معافی، فصلوں کی بہتر قیمت اور اپنی زمینوں کی آبپاشی کے لیے مزید نہروں کی مانگ بھی کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے روایتی لباس پہن رکھے ہیں اور وہ انسانی کھوپڑیاں لہرا رہے ہیں جو ان کے بقول مردہ کسانوں کی ہیں۔ انھوں نے آدھے سر منڈوا رکھے ہیں اور منھ میں زندہ چوہے پکڑ رکھے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ہاتھ کاٹ کر ‘احتجاجی خون’ بہا رہے ہیں، جب کہ کچھ گرم بجری پر لوٹ رہے ہیں۔ کچھ لوگ فرضی جنازوں کی رسمیں بھی ادا کر رہے ہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ مطالبے تسلیم نہ ہونے تک دہلی میں ڈٹے رہیں گے. جب ان لوگوں کو وزیرِ اعظم سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تو انھوں نے ایوانِ وزیرِ اعظم کے قریب اپنے کپڑے اتار لیے۔ جب ان میں سے ایک احتجاجی نے چوہا منھ میں پکڑ کر خود کو ایک درخت سے لٹک کر پھانسی دینے کی کوشش کی تو آگ بجھانے والے عملے کو بلانا پڑا۔ ان میں سے کئی افراد کو علاج کے لیے ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔ انھیں میڈیا کی جانب سے توجہ تو ملی ہے لیکن بعض مظاہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کا میڈیا انھیں کرتب باز سمجھتا ہے اور ان کے احتجاج کے پیچھے درد و کرب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔

ایک مبصر نے لکھا کہ یہ احتجاج ‘مضحکہ خیز حد تک بڑھ گیا ہے جہاں اس کا مقصد احتجاج سے زیادہ پرفارمنس بن کر رہ گیا ہے۔’ تمل ناڈو کے 40 فیصد سے زیادہ لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ وہاں خشک سالی، فصلوں کی کم قیمتوں اور زرعی قرضے حاصل کرنے میں مشکلات نے اس ریاست میں کئی عشروں کا بدترین بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس بات کا تعین ہونا ابھی باقی ہے کہ آیا اس احتجاج کا کوئی فائدہ ہو گا یا نہیں۔ انڈیا میں ناکام احتجاجی مظاہرے کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم ان مظاہروں میں حصہ لینے والے منفرد طریقے سے اپنے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انڈیا میں زراعت کی شرحِ نمو سکڑ کر 1.2 فیصد رہ گئی ہے، جہاں لاکھوں کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

پالانیسامی کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل تک ان کے پاس ساڑھے چار ایکڑ زمین تھی جہاں چاول، گنا، دالیں اور کپاس بکثرت اگتی تھیں۔ لیکن برسوں کی خشک سالی نے ان کی زمین کو بنجر بنا دیا ہے۔ ان کے دو بیٹے چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، ان پر چھ لاکھ روپے قرض چڑھ گیا اور ان کے گھر پر موجود سونا گروی پڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ‘یہ میری زندگی کا بدترین زرعی بحران ہے۔ میں نے ایسا بحران پہلے کبھی نہیں دیکھا۔’ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تمل ناڈو کے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک 58 کسان خودکشیاں کر چکے ہیں۔ تاہم ایک مقامی تنظیم کے مطابق اصل تعداد ڈھائی سو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ جنتر منتر میں موجود یہ کسان اپنی بنجر زمینوں اور مردہ درختوں کی کہانیاں سناتے ہیں، جب کہ درجۂ حرارت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پالانیسامی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر اپنی ڈائری میں کچھ تحریر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حال میں کچھ شاعری بھی کی ہے جس میں وہ اپنے گھر کو یاد کرتے ہیں۔

مر چکی ہے، مر چکی ہے، زراعت مر چکی ہے

اذیت ہے، اذیت ہے، زراعت کی موت

جل رہے ہیں، جل رہے ہیں

کسانوں کے دل اور پیٹ

روکو، اسے روکو

کسانوں کی موت کو

سوتک بسواس

بی بی سی نیوز، انڈیا

سابق پاکستانی کرنل کس کے قبضے میں؟

پاکستان کے سابق لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) محمد حبیب ظاہر کی گذشتہ ہفتے پراسرار گمشدگی کے بعد انڈیا اور پاکستان کے میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ کرنل ظاہر کو انڈین ایجینسیوں نے نیپال سے اغوا کر لیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کرنل ظاہر کسی نوکری کے سلسلے میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو آئے اور وہاں سے وہ انڈیا اور نیپال کے بارڈر پر لمبینی کے علاقے میں گئے جہاں انھیں آخری بار دیکھا گیا۔ لمبینی ایک بڑا خطہ ہے جس میں بھیروا، بوٹول اور لومبینی کے علاقے شامل ہیں۔ لمیبنی وہ جگہ ہے جہاں بودھ مذہب کے بانی گوتم بودھ کی پیدائش ہوئی تھی۔ اسی خطے میں سونولی کی سرحدی چوکی ہے۔ یہ نیپال اور انڈیا کے درمیان سب سے بڑی چوکیوں میں سے ایک ہے۔

اس سرحد ی راستے سے ہزاروں نیپالی اور انڈین شہری ایک دوسرے کے علاقے میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ بڑا حساس ہے اور یہاں ہر طرف سکیورٹی ایجینسیوں کی نظر رہتی ہے۔ انڈین سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیاں مقامی نیپالی ہوائی اڈے اور قریبی علاقوں سے بلا روک ٹوک نیپال کی جانب سے انڈین علاقے میں آ جا سکتی ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کے میڈیا کی قیاس آرائیوں کے برعکس نیپال میں کرنل ظاہر کی پراسرار گمشدگی کے بارے میں میڈیا میں بہت زیادہ خبریں نہیں آئی ہیں۔ نیپال کی پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے لیکن اس کے بارے میں کچھ بتایا نہیں گیا ہے۔

لمبینی کے قریبی ہوائی اڈے سے باہر نکلتے ہوئے اور ہوائی اڈے کے باہر ایک شخص کی ملاقات کی جو مبینہ فوٹیج پولیس کے پاس ہے وہ بھی ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ فوٹیج اس تفتیش کا حصہ ہے اور وہ اس میں نظر آنے والے شخص کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ نیبالی میڈیا انڈیا کے کسی معاملے میں ہمیشہ محتاط طریقے سے تبصرہ کرتا ہے۔ اس نے کسی طرح کی قیاس آرائی سے گریز کیا ہے لیکن یہاں کے صحافی اور سکیورٹی کے پہلوؤں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار عموماً یہی نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ کرنل ظاہر کو انڈین ایجنسیوں نے پکڑا ہے جب کہ عام لوگوں کا بھی یہی خیال ہے۔

انڈیا کی خفیہ ایجنسیاں ماضی میں بھی کشمیری علیحدگی پسندوں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے لوٹنے والے سابق عسکریت پسندوں اور سعودی عرب اور دبئ وغیرہ سے نکالے جانے والے شدت پسندوں کو نیپال پہنچنے پر حراست میں لیتیں اور پھر دکھایا جاتا کہ انھیں انڈیا، پاکستان سرحد کے نزدیک انڈیا میں داخل ہوتے ہوئے پکڑا گیا۔ سنہ 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن اور ان کی فیملی کو بھی خفیہ ایجنٹوں نے پاکستان سے نیپال پہنچنے پر ہی گرفتار کیا تھا۔ کرنل ظاہر کی گمشدگی کا معاملہ عین اس وقت سامنے آیا جب پاکستان میں انڈین بحریہ کے سابق کمانڈو کلبھوشن جادھو کو جاسوسی اور دہشت گردی کے مبینہ جرم کی پاداش میں موت کی سزا سنائی گئی۔ کرنل ظاہر جس جگہ سے غائب ہوئے ہیں وہ نسبتآ کوئی بڑی جگہ نہیں ہے لیکن وہ انڈیا کی سرحد سے بالکل نزدیک واقع ہے۔

کچھ ہی فاصلے پر انڈیا کے ضلع گورکھپور کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ سرحد پر انڈیا کی جانب سکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کی نقل و حرکت بہت زیادہ ہے۔ چونکہ نیپالی اور انڈین کسی ویزے کے بغیر ایک دوسرے کے یہاں آ جا سکتے ہیں اس لیے ہر مشتبہ شخص اور حرکت پر نظر رہتی ہے۔ کرنل ظاہر کی گمشدگی کے تقریبا دس دن بعد بھی ان کا غائب ہونا سربستہ راز سے کم نہیں۔ جس نوعیت کا یہ واقعہ ہے اس کے پیش نظر نیپال کی تفتیش سے بھی کسی بڑی کامیابی کی توقع بہت کم ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اگر وہ کسی کے قبضے یا گرفت میں ہیں تو انھیں کسی نہ کسی مرحلے پر سامنے لانا ہی ہو گا۔ لیکن جب تک وہ سامنے نہیں آتے تب تک قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور ان کی گمشدگی پراسرار بنی رہے گی۔

شکیل اختر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لمبینی

کلبھوشن یادو، ہم کب سیکھیں گے؟

عبداللہ شیخ میرے بُرے وقتوں کے دوست ہیں، میرے اِس بندے سے خواہ کتنے ہی نظریاتی، علمی اور سیاسی اختلاف ہوجائیں لیکن میرا اور اِس کا تعلق خراب نہیں ہوتا۔ اِس میں عبداللہ کا بڑا پن بھی ہے اور درگزر کرنے کی عادت بھی۔ میں جب دبئی میں تھا اور مجھے حالات کی سمجھ نہیں آرہی تھی تو اُس وقت عبداللہ بھائی بھی دبئی میں تھے۔ اُن کو جب یہ پتہ چلا کہ میں دبئی ہوں تو پہلے ناراض ہوئے کہ بتایا کیوں نہیں اور پھر ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ میرے ساتھ اُس وقت تک رہے جب تک میں پاکستان نہیں آگیا۔

وہاں میں نے اُن میں ایک عجیب بات نوٹ کی، اور وہ یہ کہ عبداللہ بھائی خطرناک حد تک جذباتی ہیں۔ یہ پاکستان کے معاملے میں کسی کی نہیں سنتے تھے۔ انگریزی میں اتنے ماہر نہیں ہیں لیکن دماغ میں فوری ترجمہ کرتے ہوئے مخالف کو مناسب ’شٹ اپ کال‘ ضرور دے دیتے ہیں۔ جس فلیٹ میں وہ اور میں ساتھ رہ رہے تھے، وہاں اکثریت بھارتیوں کی تھی جبکہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے صرف ہم دو ہی تھے۔ لیکن آپ یقین کیجئے کہ اِس قلیل تعداد کے باوجود بھی ہمارا اُن پر ایک عجیب رعب تھا۔

اِس رعب میں عبداللہ بھائی کا کردار بھی اہم تھا کہ اُنہوں نے فلیٹ میں شفٹ ہوتے ساتھ ہی اپنی دھاک بٹھا دی تھی۔ ایک دو کو اپنے طریقے سے دبایا تو باقیوں کی بولتی بند ہو گئی تھی۔ سب سے زیادہ اثر اُس وقت ہوا جب چند لڑکے بالکونی میں بیٹھ کر شراب نوشی کر رہے تھے، عبداللہ نے اُن کو دو دفعہ وارننگ دی اور جب وہ نہیں مانے تو تیسری وارننگ ہاتھ میں چھڑی پکڑ کر دی اور یہ وارننگ اتنی زبردست تھی کہ سب لڑکے چپ چاپ تتر بتر ہو گئے، میں نے اُن سے حیرانی سے کہا کہ یار انسان بنیں، کیوں پردیس میں اپنے لئے مصیبت مول لے رہے ہیں؟ عبداللہ بھائی نے کِھلکھِلا کر جواب دیا کہ اگر میں اِن کو چاقو مار دیتا تب بھی اِن میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کسی سے میری شکایت لگاتے، یہ بزدل لوگ ہیں اور ایک دھمکی میں دبک جاتے ہیں۔ میں جتنے ماہ وہاں رہا میں نے عبداللہ بھائی کی باتوں میں سچائی محسوس کی۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی جانب، کلبھوشن یادو کو پاکستان نے بلوچستان سے گرفتار کیا، یہ گرفتاری بلوچستان میں سیکیورٹی ایجنسیوں کی بہت بڑی کامیابی تھی جس نے بعد ازاں بلوچستان میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اِس بھارتی ایجنٹ نے آن ریکارڈ ہنستے مسکراتے اپنے تمام گناہ تسلیم بھی کئے، اب جب پاکستان میں فوجی عدالت نے اُس کو سزائے موت سنا دی تو اچانک بھارت میں ایک بھونچال اُٹھ گیا۔ وہ بندہ جس نے زندگی میں کبھی مچھر بھی نہیں مارا تھا وہ بھی کلبھوشن کے لئے پاکستان سے ٹکر لینے کی بات کرنے لگا۔ گزشتہ روز بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کلبھوشن کو دھرتی کا بیٹا قرار دیتے ہوئے راجیا سبھا میں پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ آنے والے وقت کیلئے تیار رہے۔ یہ وہی سشما سوراج ہیں جنہوں نے 2016ء میں ہمیں سفارت کاری سکھائی تھی اور میں نے اِن کا طرزِ عمل قریب سے دیکھا تھا کہ راقم اُس وقت ایک بھارتی چینل کا نمائندہ خصوصی تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم شروع دن سے چیخ رہے ہیں کہ بھارت بلوچستان میں بدامنی کا ذمہ دار ہے، وہ وہاں صوبائیت کا زہر پھیلا رہا ہے، وہ وہاں فرقہ واریت کو زہریلی ہوا دے رہا ہے اور وہ بلوچستان کو الگ کرنے کی سازش بُن رہا ہے لیکن دنیا نہ تو ہمیں سنجیدہ لے رہی ہے اور نہ ہی ہماری بات کو سنجیدگی سے سُن رہی ہے۔ دنیا ہماری بات کو ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے نکال دیتی ہے، لیکن دوسری طرف بھارت ہے جسے دنیا سنجیدہ بھی لیتی ہے اور اُس کی بات کو اہمیت بھی دیتی ہے۔ کیوں؟ کلبھوشن کے معاملے میں دیکھ لیں، ہمارے پاس بندہ بھی ہے اور ثبوت بھی ہیں، یہاں تک کہ اُس کے جعلی دستاویزات اور اُس کا سروس نمبر بھی ہے لیکن اِس کے باوجود ہم کہیں بھی یہ بات ثابت نہیں کرسکے۔

ہم نے اِس کو کہیں موثر انداز میں نہیں اٹھایا، حتیٰ کہ سشما سوراج بھی یہ نہیں بتا سکتی ہیں کہ 41885z کے سروس کوڈ کا حامل بندہ پاکستان میں کس سے ملنے آیا تھا، اور اُس کا اعترافی بیان کس تاریخ کا اپریل فول تھا؟ ہم نے اُس کو انٹرنیشنل فورمز میں بھی نہیں اُٹھایا لیکن دوسری طرف بھارت کو دیکھیں کہ اُس نے کلبھوشن کو معصوم کہہ دیا، اُس کو دھرتی کا بیٹا قرار دے دیا اور راجیا سبھا کے پلیٹ فارم سے ہمیں دھمکیاں بھی دے ڈالیں۔ پاکستان کے بھارت میں ہائی کمشنر عبدالباسط کو بُلا کر احتجاج ریکارڈ کروایا تو اُنہوں نے بہت اچھا جواب دیا کہ دہشت گردی بھی آپ کرتے ہیں اور معصوم بھی آپ بنتے ہیں، یہ کیا تماشا ہے؟

ہم آپ کا احتجاج مسترد کرتے ہیں لیکن اُس کے باوجود میڈیا میں کلبھوشن گونج رہا ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ ہوش مندی ہے، یہ پراپیگنڈہ ٹول کا زبردست استعمال ہے۔ ہم سب کچھ ہوتے ہوئے کچھ بھی نہیں کرسکے، آج بھی ہم دنیا کی بیڈ بُکس میں ہیں اور بھارت صرف سفارت کاری اور پراپیگنڈہ ٹولز کا درست استعمال کرکے دنیا بھر کی نظروں میں گڈ بکس میں ہے۔ آپ عبداللہ شیخ کی طرح ایک مرتبہ جرات کر کے بھارت کو جواب تو دیں، یہ چوں چراں بھی نہیں کر سکے گا۔ بھارت کو بغیر کسی اگر مگر کے، قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر شیٹ اپ کالز دیں یہ دوبارہ اونچی آواز میں بات نہیں کرے گا۔ دنیا آج بھی 2016ء میں سب سے زیادہ دھماکوں اور ریپ کے واقعات کے بعد بھی بھارت پر اعتماد کرتی ہے اور ہم کامیاب فوجی آپریشنز اور 85 فیصد دہشت گردی میں کمی کے باوجود بھی بد اعتماد ٹھہرتے ہیں۔ ہم کب سیکھیں گے؟

سالار سلیمان

’بس ایک ہی مسلمان تو مرا‘

بھارت کی ریاست راجستھان میں مسلم ڈیری تاجروں پر ہندو گئو رکشکوں کے بہیمانہ حملے کے مناظر ابھی تک لوگوں کے ذہن میں تازہ ہیں۔ گئو رکشک ملک کی کئی ریاستوں میں شاہراہوں اور اہم راستوں پر غیر قانونی طور پر ناکہ بندی کرتے ہیں اور مویشیوں کو لانے لے جانے والوں کو اکثر مارتے پیٹتے اور ان سے جبراً پیسے وصول کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ گائے کی منتقلی موت سے کھیلنے کے برابر ہے۔ ابھی الور کے حملے کی تصویر ذہن سے مٹ بھی نہیں پائی تھی کہ جمعہ کو جھارکھنڈ میں ایک 20 برس کے مسلم لڑکے کو ایک ہجوم نے مار مار کر اس لیے ہلاک کر دیا کیونکہ وہ ایک ہندو لڑکی سے پیار کرتا تھا۔

اتر پردیش میں سادھو آدتیہ ناتھ یوگی کی حکومت بننے کے بعد حکومت نے غیر قانونی ذبح خانوں کے خلاف کارروائی کرنے کے نام پر بھینس، بکرے اور مرغ کے کاروبار پر تقریـباً روک لگا دی ہے۔ ریاست میں لاکھوں لوگ گوشت کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ گوشت کا ذکر اس طرح کیا جا رہا ہے جیسے اس کا کاروبار یا اسے کھانا کوئی جرم ہو۔ اس کے باوجود کہ کئی ارب ڈالر کے اس کاروبار سے لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی جڑی ہوئی ہے حکومت نے ابھی تک کوئی متبادل قانونی راستہ نہیں نکالا کہ یہ کاروبار بحال ہو سکے۔ بی جے پی نے جو مہم چلا رکھی تھی وہ گئو کشی کے خلاف تھی۔ شمال کی سبھی ریاستوں میں گائے کے ذبیحے پر بہت پہلے سے پابندی عائد ہے لیکن یوگی نے جو اقدامات کیے ہیں اس کا نشانہ بھینس بکرے اور مرغ کا گوشت ہے۔

گوشت اور چمڑے کی صنعت سے روایتی طور پر دلت اور مسلمان منسلک رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ گوشت کے خلاف ایک منظم تحریک چلا کر دلتوں بالخصوص مسلمانوں کو اقتصادی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس وقت ہندوستان کئی خانوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک طرف بی جے پی اور اس کے ہندو نطریے کے حامی ہیں جنھیں لگتا ہے کہ اب تک ملک میں ہر چیز غلط تھی اور وہ اب دور قدیم کے علوم کی بنیاد پر ملک میں ایک ثقافتی، مذہبی اور اقتصادی انقلاب لانے والے ہیں۔ کسی موثر سیاسی چیلنج کے نہ ہونے کے سبب انھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ حکومت تاحیات قائم رہے گی اور اس کے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ بی جے پی کی جیت اتنی موثر ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی اب ہندو راشٹر کے قیام کی باتیں کرنے لگے ہیں۔

دوسری طرف مسلمان ہیں جو اس وقت انتہائی خوفزدہ ہیں۔ روایتی طور پر وہ ہمیشہ بی جے پی کے خلاف رہے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے اس وقت وہ بے سہارا ہیں، اقتصادی طور پر وہ پہلے ہی سماج کے حاشیے پر تھے اب انھیں اپنی شناخت، رہن سہن اور ثقافت سبھی کے بارے میں انجانے اندیشوں نے گھیر لیا ہے۔ تیسری جانب وہ ہندوستانی ہیں جو ملک کے بدلتے ہوئے پس منظر کو کچھ تشویش اور کچھ تجسس سے دیکھ رہے ہیں۔ فضا میں کچھ گھبراہٹ اور بے چینی بھی ہے لیکن جو بات یکساں طور پر پورے ملک میں پائی جاتی ہے وہ ہے مسلمانوں سے نفرت۔ پچھلے کچھ عرصے سے ہندوؤں میں مسلمانوں کے تئیں خاصی نفرت پیدا ہوئی ہے۔

ان نفرتوں کے بہت سے اسباب ہیں۔ ان کے لیے بہت حد تک خود مسلمان بھی ذمہ دار ہیں لیکن ان سے نفرت پیدا کرنے میں سب سے اہم کرداد ملک کی غیر بی جے پی، نام نہاد سیکولر جماعتوں نے ادا کیا ہے۔ ان جماعتوں نے مسلمانوں کو نہ صرف پس ماندگی اور غربت سے نکلنے نہیں دیا بلکہ انھیں اپنی پالیسیوں سے باقی ہندوؤں کی نظر میں دشمن بنا دیا ہے۔ یہ نفرتیں اب اتنی بڑھی ہوئی ہیں کہ بہت سے لوگ جب مسلم تاجروں پر الور جیسے ہجومی حملے کو دیکھتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں ’ایسا کیا ہوا بس ایک ہی مسلمان تو مرا۔ انہیں صحیح کرنا ضروری ہے۔‘ ہندوستان کی سیاست بدل رہی ہے۔ اس بدلتی ہوئی سیاست میں ابھی بہت سے رنگ سامنے آئیں گے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ سیاست میں کوئی بھی چیز مستقل نہیں ہوتی نہ تصور مستقل ہوتے ہیں اور نہ ہی حکومتیں، صرف تبدیلی ہی ایک مستقل حقیقت ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔

 شکیل اختر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی