کھوپڑیاں اور چوہے : بھارتی کسان سراپا احتجاج

گذشتہ ہفتے انڈیا میں ایک کسان نے زندہ چوہا دانتوں میں پکڑ کر انوکھا احتجاج
ریکارڈ کروایا۔ 65 سالہ چناگو ڈانگی پالانیسامی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے کسانوں کی حالتِ زار کی طرف حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے قریب جنتر منتر کے علاقے میں ایک خیمے میں مجھے بتایا : ‘میں اور میرے کسان ساتھی یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر حالات میں تبدیلی نہ ہوئی تو ہم چوہے کھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔’ پالانیسامی اور ان کے سو کے قریب ساتھی اس عارضی پناہ گاہ میں گذشتہ 40 روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق تمل ناڈو کے ان علاقوں سے ہے جو حالیہ برسوں میں شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے انڈیا نے اس خشک سالی کو بھلا دیا ہے۔ اس لیے پالانیسامی اور ان کے ساتھی نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا یہ انوکھا طریقہ سوچا ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں حکومت کی جانب سے قحط زدہ علاقوں کے لیے مختص رقوم دی جائیں جب کہ معمر کسانوں کو پنشنیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ وہ قرضوں کی معافی، فصلوں کی بہتر قیمت اور اپنی زمینوں کی آبپاشی کے لیے مزید نہروں کی مانگ بھی کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے روایتی لباس پہن رکھے ہیں اور وہ انسانی کھوپڑیاں لہرا رہے ہیں جو ان کے بقول مردہ کسانوں کی ہیں۔ انھوں نے آدھے سر منڈوا رکھے ہیں اور منھ میں زندہ چوہے پکڑ رکھے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ہاتھ کاٹ کر ‘احتجاجی خون’ بہا رہے ہیں، جب کہ کچھ گرم بجری پر لوٹ رہے ہیں۔ کچھ لوگ فرضی جنازوں کی رسمیں بھی ادا کر رہے ہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ مطالبے تسلیم نہ ہونے تک دہلی میں ڈٹے رہیں گے. جب ان لوگوں کو وزیرِ اعظم سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تو انھوں نے ایوانِ وزیرِ اعظم کے قریب اپنے کپڑے اتار لیے۔ جب ان میں سے ایک احتجاجی نے چوہا منھ میں پکڑ کر خود کو ایک درخت سے لٹک کر پھانسی دینے کی کوشش کی تو آگ بجھانے والے عملے کو بلانا پڑا۔ ان میں سے کئی افراد کو علاج کے لیے ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔ انھیں میڈیا کی جانب سے توجہ تو ملی ہے لیکن بعض مظاہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کا میڈیا انھیں کرتب باز سمجھتا ہے اور ان کے احتجاج کے پیچھے درد و کرب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔

ایک مبصر نے لکھا کہ یہ احتجاج ‘مضحکہ خیز حد تک بڑھ گیا ہے جہاں اس کا مقصد احتجاج سے زیادہ پرفارمنس بن کر رہ گیا ہے۔’ تمل ناڈو کے 40 فیصد سے زیادہ لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ وہاں خشک سالی، فصلوں کی کم قیمتوں اور زرعی قرضے حاصل کرنے میں مشکلات نے اس ریاست میں کئی عشروں کا بدترین بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس بات کا تعین ہونا ابھی باقی ہے کہ آیا اس احتجاج کا کوئی فائدہ ہو گا یا نہیں۔ انڈیا میں ناکام احتجاجی مظاہرے کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم ان مظاہروں میں حصہ لینے والے منفرد طریقے سے اپنے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انڈیا میں زراعت کی شرحِ نمو سکڑ کر 1.2 فیصد رہ گئی ہے، جہاں لاکھوں کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

پالانیسامی کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل تک ان کے پاس ساڑھے چار ایکڑ زمین تھی جہاں چاول، گنا، دالیں اور کپاس بکثرت اگتی تھیں۔ لیکن برسوں کی خشک سالی نے ان کی زمین کو بنجر بنا دیا ہے۔ ان کے دو بیٹے چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، ان پر چھ لاکھ روپے قرض چڑھ گیا اور ان کے گھر پر موجود سونا گروی پڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ‘یہ میری زندگی کا بدترین زرعی بحران ہے۔ میں نے ایسا بحران پہلے کبھی نہیں دیکھا۔’ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تمل ناڈو کے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک 58 کسان خودکشیاں کر چکے ہیں۔ تاہم ایک مقامی تنظیم کے مطابق اصل تعداد ڈھائی سو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ جنتر منتر میں موجود یہ کسان اپنی بنجر زمینوں اور مردہ درختوں کی کہانیاں سناتے ہیں، جب کہ درجۂ حرارت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پالانیسامی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر اپنی ڈائری میں کچھ تحریر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حال میں کچھ شاعری بھی کی ہے جس میں وہ اپنے گھر کو یاد کرتے ہیں۔

مر چکی ہے، مر چکی ہے، زراعت مر چکی ہے

اذیت ہے، اذیت ہے، زراعت کی موت

جل رہے ہیں، جل رہے ہیں

کسانوں کے دل اور پیٹ

روکو، اسے روکو

کسانوں کی موت کو

سوتک بسواس

بی بی سی نیوز، انڈیا

سابق پاکستانی کرنل کس کے قبضے میں؟

پاکستان کے سابق لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) محمد حبیب ظاہر کی گذشتہ ہفتے پراسرار گمشدگی کے بعد انڈیا اور پاکستان کے میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ کرنل ظاہر کو انڈین ایجینسیوں نے نیپال سے اغوا کر لیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کرنل ظاہر کسی نوکری کے سلسلے میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو آئے اور وہاں سے وہ انڈیا اور نیپال کے بارڈر پر لمبینی کے علاقے میں گئے جہاں انھیں آخری بار دیکھا گیا۔ لمبینی ایک بڑا خطہ ہے جس میں بھیروا، بوٹول اور لومبینی کے علاقے شامل ہیں۔ لمیبنی وہ جگہ ہے جہاں بودھ مذہب کے بانی گوتم بودھ کی پیدائش ہوئی تھی۔ اسی خطے میں سونولی کی سرحدی چوکی ہے۔ یہ نیپال اور انڈیا کے درمیان سب سے بڑی چوکیوں میں سے ایک ہے۔

اس سرحد ی راستے سے ہزاروں نیپالی اور انڈین شہری ایک دوسرے کے علاقے میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ بڑا حساس ہے اور یہاں ہر طرف سکیورٹی ایجینسیوں کی نظر رہتی ہے۔ انڈین سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیاں مقامی نیپالی ہوائی اڈے اور قریبی علاقوں سے بلا روک ٹوک نیپال کی جانب سے انڈین علاقے میں آ جا سکتی ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کے میڈیا کی قیاس آرائیوں کے برعکس نیپال میں کرنل ظاہر کی پراسرار گمشدگی کے بارے میں میڈیا میں بہت زیادہ خبریں نہیں آئی ہیں۔ نیپال کی پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے لیکن اس کے بارے میں کچھ بتایا نہیں گیا ہے۔

لمبینی کے قریبی ہوائی اڈے سے باہر نکلتے ہوئے اور ہوائی اڈے کے باہر ایک شخص کی ملاقات کی جو مبینہ فوٹیج پولیس کے پاس ہے وہ بھی ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ فوٹیج اس تفتیش کا حصہ ہے اور وہ اس میں نظر آنے والے شخص کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ نیبالی میڈیا انڈیا کے کسی معاملے میں ہمیشہ محتاط طریقے سے تبصرہ کرتا ہے۔ اس نے کسی طرح کی قیاس آرائی سے گریز کیا ہے لیکن یہاں کے صحافی اور سکیورٹی کے پہلوؤں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار عموماً یہی نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ کرنل ظاہر کو انڈین ایجنسیوں نے پکڑا ہے جب کہ عام لوگوں کا بھی یہی خیال ہے۔

انڈیا کی خفیہ ایجنسیاں ماضی میں بھی کشمیری علیحدگی پسندوں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے لوٹنے والے سابق عسکریت پسندوں اور سعودی عرب اور دبئ وغیرہ سے نکالے جانے والے شدت پسندوں کو نیپال پہنچنے پر حراست میں لیتیں اور پھر دکھایا جاتا کہ انھیں انڈیا، پاکستان سرحد کے نزدیک انڈیا میں داخل ہوتے ہوئے پکڑا گیا۔ سنہ 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن اور ان کی فیملی کو بھی خفیہ ایجنٹوں نے پاکستان سے نیپال پہنچنے پر ہی گرفتار کیا تھا۔ کرنل ظاہر کی گمشدگی کا معاملہ عین اس وقت سامنے آیا جب پاکستان میں انڈین بحریہ کے سابق کمانڈو کلبھوشن جادھو کو جاسوسی اور دہشت گردی کے مبینہ جرم کی پاداش میں موت کی سزا سنائی گئی۔ کرنل ظاہر جس جگہ سے غائب ہوئے ہیں وہ نسبتآ کوئی بڑی جگہ نہیں ہے لیکن وہ انڈیا کی سرحد سے بالکل نزدیک واقع ہے۔

کچھ ہی فاصلے پر انڈیا کے ضلع گورکھپور کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ سرحد پر انڈیا کی جانب سکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کی نقل و حرکت بہت زیادہ ہے۔ چونکہ نیپالی اور انڈین کسی ویزے کے بغیر ایک دوسرے کے یہاں آ جا سکتے ہیں اس لیے ہر مشتبہ شخص اور حرکت پر نظر رہتی ہے۔ کرنل ظاہر کی گمشدگی کے تقریبا دس دن بعد بھی ان کا غائب ہونا سربستہ راز سے کم نہیں۔ جس نوعیت کا یہ واقعہ ہے اس کے پیش نظر نیپال کی تفتیش سے بھی کسی بڑی کامیابی کی توقع بہت کم ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اگر وہ کسی کے قبضے یا گرفت میں ہیں تو انھیں کسی نہ کسی مرحلے پر سامنے لانا ہی ہو گا۔ لیکن جب تک وہ سامنے نہیں آتے تب تک قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور ان کی گمشدگی پراسرار بنی رہے گی۔

شکیل اختر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لمبینی

کلبھوشن یادو، ہم کب سیکھیں گے؟

عبداللہ شیخ میرے بُرے وقتوں کے دوست ہیں، میرے اِس بندے سے خواہ کتنے ہی نظریاتی، علمی اور سیاسی اختلاف ہوجائیں لیکن میرا اور اِس کا تعلق خراب نہیں ہوتا۔ اِس میں عبداللہ کا بڑا پن بھی ہے اور درگزر کرنے کی عادت بھی۔ میں جب دبئی میں تھا اور مجھے حالات کی سمجھ نہیں آرہی تھی تو اُس وقت عبداللہ بھائی بھی دبئی میں تھے۔ اُن کو جب یہ پتہ چلا کہ میں دبئی ہوں تو پہلے ناراض ہوئے کہ بتایا کیوں نہیں اور پھر ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ میرے ساتھ اُس وقت تک رہے جب تک میں پاکستان نہیں آگیا۔

وہاں میں نے اُن میں ایک عجیب بات نوٹ کی، اور وہ یہ کہ عبداللہ بھائی خطرناک حد تک جذباتی ہیں۔ یہ پاکستان کے معاملے میں کسی کی نہیں سنتے تھے۔ انگریزی میں اتنے ماہر نہیں ہیں لیکن دماغ میں فوری ترجمہ کرتے ہوئے مخالف کو مناسب ’شٹ اپ کال‘ ضرور دے دیتے ہیں۔ جس فلیٹ میں وہ اور میں ساتھ رہ رہے تھے، وہاں اکثریت بھارتیوں کی تھی جبکہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے صرف ہم دو ہی تھے۔ لیکن آپ یقین کیجئے کہ اِس قلیل تعداد کے باوجود بھی ہمارا اُن پر ایک عجیب رعب تھا۔

اِس رعب میں عبداللہ بھائی کا کردار بھی اہم تھا کہ اُنہوں نے فلیٹ میں شفٹ ہوتے ساتھ ہی اپنی دھاک بٹھا دی تھی۔ ایک دو کو اپنے طریقے سے دبایا تو باقیوں کی بولتی بند ہو گئی تھی۔ سب سے زیادہ اثر اُس وقت ہوا جب چند لڑکے بالکونی میں بیٹھ کر شراب نوشی کر رہے تھے، عبداللہ نے اُن کو دو دفعہ وارننگ دی اور جب وہ نہیں مانے تو تیسری وارننگ ہاتھ میں چھڑی پکڑ کر دی اور یہ وارننگ اتنی زبردست تھی کہ سب لڑکے چپ چاپ تتر بتر ہو گئے، میں نے اُن سے حیرانی سے کہا کہ یار انسان بنیں، کیوں پردیس میں اپنے لئے مصیبت مول لے رہے ہیں؟ عبداللہ بھائی نے کِھلکھِلا کر جواب دیا کہ اگر میں اِن کو چاقو مار دیتا تب بھی اِن میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کسی سے میری شکایت لگاتے، یہ بزدل لوگ ہیں اور ایک دھمکی میں دبک جاتے ہیں۔ میں جتنے ماہ وہاں رہا میں نے عبداللہ بھائی کی باتوں میں سچائی محسوس کی۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی جانب، کلبھوشن یادو کو پاکستان نے بلوچستان سے گرفتار کیا، یہ گرفتاری بلوچستان میں سیکیورٹی ایجنسیوں کی بہت بڑی کامیابی تھی جس نے بعد ازاں بلوچستان میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اِس بھارتی ایجنٹ نے آن ریکارڈ ہنستے مسکراتے اپنے تمام گناہ تسلیم بھی کئے، اب جب پاکستان میں فوجی عدالت نے اُس کو سزائے موت سنا دی تو اچانک بھارت میں ایک بھونچال اُٹھ گیا۔ وہ بندہ جس نے زندگی میں کبھی مچھر بھی نہیں مارا تھا وہ بھی کلبھوشن کے لئے پاکستان سے ٹکر لینے کی بات کرنے لگا۔ گزشتہ روز بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کلبھوشن کو دھرتی کا بیٹا قرار دیتے ہوئے راجیا سبھا میں پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ آنے والے وقت کیلئے تیار رہے۔ یہ وہی سشما سوراج ہیں جنہوں نے 2016ء میں ہمیں سفارت کاری سکھائی تھی اور میں نے اِن کا طرزِ عمل قریب سے دیکھا تھا کہ راقم اُس وقت ایک بھارتی چینل کا نمائندہ خصوصی تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم شروع دن سے چیخ رہے ہیں کہ بھارت بلوچستان میں بدامنی کا ذمہ دار ہے، وہ وہاں صوبائیت کا زہر پھیلا رہا ہے، وہ وہاں فرقہ واریت کو زہریلی ہوا دے رہا ہے اور وہ بلوچستان کو الگ کرنے کی سازش بُن رہا ہے لیکن دنیا نہ تو ہمیں سنجیدہ لے رہی ہے اور نہ ہی ہماری بات کو سنجیدگی سے سُن رہی ہے۔ دنیا ہماری بات کو ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے نکال دیتی ہے، لیکن دوسری طرف بھارت ہے جسے دنیا سنجیدہ بھی لیتی ہے اور اُس کی بات کو اہمیت بھی دیتی ہے۔ کیوں؟ کلبھوشن کے معاملے میں دیکھ لیں، ہمارے پاس بندہ بھی ہے اور ثبوت بھی ہیں، یہاں تک کہ اُس کے جعلی دستاویزات اور اُس کا سروس نمبر بھی ہے لیکن اِس کے باوجود ہم کہیں بھی یہ بات ثابت نہیں کرسکے۔

ہم نے اِس کو کہیں موثر انداز میں نہیں اٹھایا، حتیٰ کہ سشما سوراج بھی یہ نہیں بتا سکتی ہیں کہ 41885z کے سروس کوڈ کا حامل بندہ پاکستان میں کس سے ملنے آیا تھا، اور اُس کا اعترافی بیان کس تاریخ کا اپریل فول تھا؟ ہم نے اُس کو انٹرنیشنل فورمز میں بھی نہیں اُٹھایا لیکن دوسری طرف بھارت کو دیکھیں کہ اُس نے کلبھوشن کو معصوم کہہ دیا، اُس کو دھرتی کا بیٹا قرار دے دیا اور راجیا سبھا کے پلیٹ فارم سے ہمیں دھمکیاں بھی دے ڈالیں۔ پاکستان کے بھارت میں ہائی کمشنر عبدالباسط کو بُلا کر احتجاج ریکارڈ کروایا تو اُنہوں نے بہت اچھا جواب دیا کہ دہشت گردی بھی آپ کرتے ہیں اور معصوم بھی آپ بنتے ہیں، یہ کیا تماشا ہے؟

ہم آپ کا احتجاج مسترد کرتے ہیں لیکن اُس کے باوجود میڈیا میں کلبھوشن گونج رہا ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ ہوش مندی ہے، یہ پراپیگنڈہ ٹول کا زبردست استعمال ہے۔ ہم سب کچھ ہوتے ہوئے کچھ بھی نہیں کرسکے، آج بھی ہم دنیا کی بیڈ بُکس میں ہیں اور بھارت صرف سفارت کاری اور پراپیگنڈہ ٹولز کا درست استعمال کرکے دنیا بھر کی نظروں میں گڈ بکس میں ہے۔ آپ عبداللہ شیخ کی طرح ایک مرتبہ جرات کر کے بھارت کو جواب تو دیں، یہ چوں چراں بھی نہیں کر سکے گا۔ بھارت کو بغیر کسی اگر مگر کے، قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر شیٹ اپ کالز دیں یہ دوبارہ اونچی آواز میں بات نہیں کرے گا۔ دنیا آج بھی 2016ء میں سب سے زیادہ دھماکوں اور ریپ کے واقعات کے بعد بھی بھارت پر اعتماد کرتی ہے اور ہم کامیاب فوجی آپریشنز اور 85 فیصد دہشت گردی میں کمی کے باوجود بھی بد اعتماد ٹھہرتے ہیں۔ ہم کب سیکھیں گے؟

سالار سلیمان

’بس ایک ہی مسلمان تو مرا‘

بھارت کی ریاست راجستھان میں مسلم ڈیری تاجروں پر ہندو گئو رکشکوں کے بہیمانہ حملے کے مناظر ابھی تک لوگوں کے ذہن میں تازہ ہیں۔ گئو رکشک ملک کی کئی ریاستوں میں شاہراہوں اور اہم راستوں پر غیر قانونی طور پر ناکہ بندی کرتے ہیں اور مویشیوں کو لانے لے جانے والوں کو اکثر مارتے پیٹتے اور ان سے جبراً پیسے وصول کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ گائے کی منتقلی موت سے کھیلنے کے برابر ہے۔ ابھی الور کے حملے کی تصویر ذہن سے مٹ بھی نہیں پائی تھی کہ جمعہ کو جھارکھنڈ میں ایک 20 برس کے مسلم لڑکے کو ایک ہجوم نے مار مار کر اس لیے ہلاک کر دیا کیونکہ وہ ایک ہندو لڑکی سے پیار کرتا تھا۔

اتر پردیش میں سادھو آدتیہ ناتھ یوگی کی حکومت بننے کے بعد حکومت نے غیر قانونی ذبح خانوں کے خلاف کارروائی کرنے کے نام پر بھینس، بکرے اور مرغ کے کاروبار پر تقریـباً روک لگا دی ہے۔ ریاست میں لاکھوں لوگ گوشت کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ گوشت کا ذکر اس طرح کیا جا رہا ہے جیسے اس کا کاروبار یا اسے کھانا کوئی جرم ہو۔ اس کے باوجود کہ کئی ارب ڈالر کے اس کاروبار سے لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی جڑی ہوئی ہے حکومت نے ابھی تک کوئی متبادل قانونی راستہ نہیں نکالا کہ یہ کاروبار بحال ہو سکے۔ بی جے پی نے جو مہم چلا رکھی تھی وہ گئو کشی کے خلاف تھی۔ شمال کی سبھی ریاستوں میں گائے کے ذبیحے پر بہت پہلے سے پابندی عائد ہے لیکن یوگی نے جو اقدامات کیے ہیں اس کا نشانہ بھینس بکرے اور مرغ کا گوشت ہے۔

گوشت اور چمڑے کی صنعت سے روایتی طور پر دلت اور مسلمان منسلک رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ گوشت کے خلاف ایک منظم تحریک چلا کر دلتوں بالخصوص مسلمانوں کو اقتصادی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس وقت ہندوستان کئی خانوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک طرف بی جے پی اور اس کے ہندو نطریے کے حامی ہیں جنھیں لگتا ہے کہ اب تک ملک میں ہر چیز غلط تھی اور وہ اب دور قدیم کے علوم کی بنیاد پر ملک میں ایک ثقافتی، مذہبی اور اقتصادی انقلاب لانے والے ہیں۔ کسی موثر سیاسی چیلنج کے نہ ہونے کے سبب انھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ حکومت تاحیات قائم رہے گی اور اس کے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ بی جے پی کی جیت اتنی موثر ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی اب ہندو راشٹر کے قیام کی باتیں کرنے لگے ہیں۔

دوسری طرف مسلمان ہیں جو اس وقت انتہائی خوفزدہ ہیں۔ روایتی طور پر وہ ہمیشہ بی جے پی کے خلاف رہے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے اس وقت وہ بے سہارا ہیں، اقتصادی طور پر وہ پہلے ہی سماج کے حاشیے پر تھے اب انھیں اپنی شناخت، رہن سہن اور ثقافت سبھی کے بارے میں انجانے اندیشوں نے گھیر لیا ہے۔ تیسری جانب وہ ہندوستانی ہیں جو ملک کے بدلتے ہوئے پس منظر کو کچھ تشویش اور کچھ تجسس سے دیکھ رہے ہیں۔ فضا میں کچھ گھبراہٹ اور بے چینی بھی ہے لیکن جو بات یکساں طور پر پورے ملک میں پائی جاتی ہے وہ ہے مسلمانوں سے نفرت۔ پچھلے کچھ عرصے سے ہندوؤں میں مسلمانوں کے تئیں خاصی نفرت پیدا ہوئی ہے۔

ان نفرتوں کے بہت سے اسباب ہیں۔ ان کے لیے بہت حد تک خود مسلمان بھی ذمہ دار ہیں لیکن ان سے نفرت پیدا کرنے میں سب سے اہم کرداد ملک کی غیر بی جے پی، نام نہاد سیکولر جماعتوں نے ادا کیا ہے۔ ان جماعتوں نے مسلمانوں کو نہ صرف پس ماندگی اور غربت سے نکلنے نہیں دیا بلکہ انھیں اپنی پالیسیوں سے باقی ہندوؤں کی نظر میں دشمن بنا دیا ہے۔ یہ نفرتیں اب اتنی بڑھی ہوئی ہیں کہ بہت سے لوگ جب مسلم تاجروں پر الور جیسے ہجومی حملے کو دیکھتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں ’ایسا کیا ہوا بس ایک ہی مسلمان تو مرا۔ انہیں صحیح کرنا ضروری ہے۔‘ ہندوستان کی سیاست بدل رہی ہے۔ اس بدلتی ہوئی سیاست میں ابھی بہت سے رنگ سامنے آئیں گے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ سیاست میں کوئی بھی چیز مستقل نہیں ہوتی نہ تصور مستقل ہوتے ہیں اور نہ ہی حکومتیں، صرف تبدیلی ہی ایک مستقل حقیقت ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔

 شکیل اختر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

انڈیا اسرائیل کے قریب تر آ رہا ہے ؟

انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اپنے اسرائیلی ہم منصب اور وزارت خارجہ کے اہلکاروں کے ساتھ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل کو حتمی شکل دینے کے لیے گذشتہ دنوں اسرائیل میں تھے۔ اگرچہ اس دورے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن نئی دہلی میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ دورہ جولائی میں متوقع ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے قیام کے 25 برس مکمل ہونے کے موقع پر تل ابیب کا دورہ کریں گے۔ یہ کسی انڈین وزیر اعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ ہو گا۔ اسے دونوں ممالک میں ایک تاریخی دورہ کہا جا رہا ہے۔

اس دورے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی ماضی کی پالیسیوں سے انحراف کرتے ہوئے اسرائیل کے اپنے اس دورے میں فلسطینی علاقے کا دورہ نہیں کریں گے۔ ان کا یہ دورہ صرف اسرائیل تک محدود ہو گا۔ اس سے پہلے بی جے پی اور کانگریس دونوں کی حکومتوں میں جب بھی انڈیا کے وزیر خارجہ نے دورہ کیا تو وہ دونوں ہی جانب گئے۔ انڈیا کے سابق صدر پرنب مکھرجی جب سنہ 2015 میں اسرائیل گئے تھے تو انھوں نے غرب اردن کا دورہ کیا اور فلسطینی پار لیمان سے خطاب بھی کیا تھا۔

مودی حکومت ابتدا سے ہی ان تعلقات کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی پالیسی کے حق میں تھی۔ انڈیا فلسطینی مملکت کے قیام اور دو مملکت کے اصول کا بہت بڑا حامی رہا ہے۔ موجودہ حکومت بھی فلسطینی مملکت کی حامی ہے اور مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے ایک پر امن حل کی حمایت کرتی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اسرائیل سے انڈیا کے تعلقات انتہائی گہرے ہوئے ہیں۔ کارگل کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی نظام میں اسرائیل کا رول بڑھتا گیا ہے۔ انڈیا آج اسرائیل کے دفاعی ساز و سامان خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ سرحدی حفاظتی نظام، قومی سلامتی اور دہشت گردی کے انسداد کے معاملات میں اسرائیل انڈیا کے ساتھ زبردست اشتراک کر رہا ہے۔ ڈیری، بنجر علاقوں میں آبپاشی، زراعت، توانائی اور انجنیئرنگ و سائنس کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور اشتراک تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

سیاسی اعتبار سے بھارتیہ جنتا پارٹی ابتدا سے ہی اسرائیل کی حامی رہی ہے۔ انڈیا میں ایک طبقہ ایسا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے ٹکراؤ میں اسرائیل کا ہمدرد رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسرائیل سے فطری طور پر بھی تعلقات گہرے ہونے سے دونوں ممالک کی قربت بڑھنے لگی ہے۔ انڈیا نے چند مہینے قبل اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کی قرارداد پر ووٹنگ میں غیر جانبدار رہ کر اسرائیل کی واضح طور پر حمایت کی تھی۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بات چیت کا عمل ختم ہونے، عرب خطے کی غیر یقینی صورت حال اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دو مملکت کے حل کی مخالفت کے بعد انڈیا کی سوچ میں کافی تبدیلی آئی ہے۔

انڈیا کی حکومت اسرائیل سے اپنے تعلقات کو فلسطینی اسرائیل تنازعے کے پس منظر میں نہیں بلکہ ایک عملی اور انتہائی فائدے مند رشتے کے تناظر میں دیکھتی ہے۔ اسرائیل اور انڈیا حالیہ دنوں میں صرف قریب ہی نہیں آئے بلکہ علیحدگی اور بین الاقوامی تنہائی کے اس دور میں انڈیا امریکہ کے بعد اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی بن کر ابھر رہا ہے۔ انڈیا کا یہ کہنا ہے کہ اسرائیل سے قربت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت نہیں کرتا یا عرب ممالک سے اس کے تعلقات کی نوعیت بدل رہی ہے۔ مودی حکومت نے ان رشتوں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کے بجائے انھیں علیحدہ کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی رشتوں میں ایک عملی اور حقیقت پسندانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

شکیل اختر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

کشمیر ڈائری : ’کس کس کو سمجھائیں کہ ہمارا بیٹا بے گناہ ہے‘

محمد حسین فاضلی کے گھر کے پچھلے حصے میں کئی چیزیں بکھری پڑی ہیں، ویسے ہی جیسے حسین اور ان کے خاندان کی زندگی اور سکون گزشتہ 12 برسوں سے بِکھرا ہوا تھا۔ 43 سالہ حسین سری نگر میں اپنے گھر میں کمبل اوڑھے بیٹھے ہیں اور ارد گرد بیٹھے لوگوں کو جیل میں گزارے وقت کی کہانی سنا رہے ہیں۔ جو بھی آتا ہے حسین کھڑے ہوکر اسے گلے لگاتے ہیں۔ اتنا عرصہ گزر چکا ہے کہ وہ یہاں آنے والے کئی لوگوں اور اپنے خاندان کی نئی نسل میں سے کسی کو بھی نہیں پہچانتے۔ حسین کو گذشتہ دنوں ایک عدالت نے 2005 میں دلی میں ہونے والے سلسلے وار بم دھماکوں کے الزامات سے بری کیا ہے۔ ان دھماکوں میں 68 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حسین کو رہا ہونے کی خوشی تو ہے، لیکن وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ جیل میں 12 برس قید کے دوران ان کے ماں باپ کی صحت خراب گئی ہے۔ حسین کے بقول ’اب گھر پہنچ کر مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں نے کیا کھویا، گھر پہنچا تو ماں کو بستر پر لیٹا پایا، باپ کی آنکھوں کی روشنی بھی ختم ہو گئی ہے.‘ محمد حسین فاضلی اپنے گھر کے جس کمرے میں بیٹھے ہیں، وہاں کونے میں ایک سیاہ رنگ کا پرانا ٹیلی فون رکھا ہوا ہے۔ جب وہ جیل میں تھے تو حسین کا اپنے ماں باپ سے رابطے کا واحد ذریعہ یہ فون ہی تھا۔ گذشتہ 12 برس میں حسین کے ماں باپ کبھی اپنے بیٹے کو ملنے نہیں جا سکے، کیوں کہ وہ دلی آنے جانے کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

حسین بار بار ایک ہی سوال پوچھتے ہیں، ’میرے 12 سال کون واپس لوٹائے گا؟‘ شادی کی عمر، بیگناہ ہونے کے باوجود بارہ سال جیل میں گزارنے پر حسین سوال کرتے ہیں کہ ’جس طرح مجھے 12 سال کے بعد جیل سے بری کر دیا گیا، کیا بارہ سال پہلے ایسا نہیں ہو سکتا تھا؟ میری زندگی تو تباہ ہو گئی. جب گرفتار کیا گیا تو میری شادی کی عمر تھی۔‘ یہ پوچھنے پر کہ کیا جن لوگوں نے آپ کو گرفتار کیا تھا، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے یا پھر آپ کو معاوضہ ملنا چاہیے، تو ان کا کہنا تھا کہ’ میرا مطالبہ ہے کہ جن پولیس والوں نے مجھے اٹھایا تھا، ان سے یہ پوچھا جائے کہ میرے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا؟‘

جب حسین کو گرفتار کیا گیا اس وقت ان کی عمر 31 برس تھی اور گھر میں شادی کی باتیں ہو رہی تھیں۔ اب حسین کے والد کو یہ خدشہ ہے کہ بیٹے پر جو داغ لگا ہے وہ اتنی جلدی نہیں مٹے گا۔ حسین کے والد کا کہنا تھا ’کس کس کو سمجھائیں کہ ہمارا بیٹا بے گناہ ہے.‘ تاہم انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ انہوں نے مرنے سے پہلے بیٹے کو دیکھ لیا ’بس یہ ایک خواب تھا کی مرنے سے پہلے بیٹے کو دیکھ لیں، جو مکمل ہو گیا.‘

چند منٹ کی پوچھ گچھ

حسین کو اپنے گھر سے یہ کہہ کر گرفتار کیا گیا تھا کہ چند منٹ کی پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا جائے گا۔ حسین کو یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ انہیں کیوں گرفتار کیا گیا اور کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ انہیں کئی دنوں کے بعد ایک صحافی سے پتہ چلا کہ وہ دلی میں ہیں۔ دلی دھماکوں کے الزامات میں انہیں دلی لے جایا گیا اور پھر انہیں 12 سال جیل میں کاٹنے پڑے. اپنی رہائی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انھیں خدا پر بھروسہ تھا کہ انصاف کی جیت ہو گی۔ حسین کے بقول انھیں صرف اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ وہ کشمیری ہیں ’ مجھے اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ میں کشمیری مسلمان ہوں‘۔

ماجد جہانگير

بی بی سی، سرینگر

’کشمیر میں تشدد نے نوجوان کو بے خوف کر دیا ہے : رپورٹ

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے انڈیا مخالف مظاہروں کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال نے کشمیری نوجوانوں کے دلوں سے موت کا خوف نکال دیا ہے اور وہ موت کو گلے لگانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہ بات انڈیا میں ایک پانچ رکنی تحقیقاتی کمیشن کی طرف سے کشمیر کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں کشمیر کی نوجوان نسل کی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے کہی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کشمیریوں کا خیال ہے کہ بنیادی مسئلہ انڈیا کی ریاست کی طرف سے اس بحران کا اعتراف نہ کرنا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کشمیری سمجھتے ہیں کہ انڈیا کشمیر کو سیاسی مسئلہ تسلیم کرنے اور اس کے سیاسی حل پر تیار نہیں ہے۔

سنہ 2016 میں کشمیر میں عام لوگوں سے ملاقاتوں کے بعد یہ رپورٹ مرتب کرنے والے گروپ میں سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، اقلیتیوں کے قومی کمیشن کے سابق سربراہ وجاہت حبیب اللہ، بھارتی فضایہ کے ایئر واس مارشل (ریٹائرڈ) کپل کاک، معروف صحافی بھارت بھوشن اور سینٹر آف ڈائیلاگ اینڈ ریکنسیلیشن کے پروگرام ڈائریکٹر ششہوبا بریو شامل تھے۔ اس گروپ نے سنہ 2016 میں کشمیر کے مختلاف علاقوں میں شدید مظاہروں اور سینکڑوں نوجوانوں کی ہلاکت کے واقعات کے بعد بٹگرام، شوپیاں، اننت ناگ اور بارہ مولہ کا دورہ کیا اور وہاں سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے گروپوں کے علاوہ پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں سے بھی مسئلہ کشمیر کے بارے میں بات کی۔ اس کے علاوہ گروپ نے کشمیر کے سرکردہ سیاسی قائدین انجیئر رشید، سیف الدین سوز اور سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ نیشنل کانفرنس کے کئی ممبران سے بات کی۔ گروپ نے رپورٹ کے بنیادی نتائج میں کہا کہ جتنے بھی کشمیریوں سے انھوں نے ملاقاتیں کئیں ان سب نے مسئلہ کے سیاسی حل پر زور دیا اور کہا کہ جب تک اس کا سیاس حل تلاش نہیں کر لیا جاتا وادی میں موت اور تباہی کا سلسلہ زیادہ شدت سے جاری رہے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیریوں کا کہنا ہے کہ انڈیا پر ان کو اعتماد نہیں رہا اور بداعتمادی کی یہ خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ کچھ کشمیریوں کا خیال ہے کہ انڈیا کی ریاست کشمیر کو صرف قومی سلامتی کے زوایے سے دیکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تمام کشمیری سابق وزیر اعظم اور بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپائی کی اس تجویز کو یاد کرتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلہ کو انسانی ہمدری کے دائرے میں حل کیا جائے۔ لوگوں کو یقین ہے کہ دہلی کی موجودہ حکومت مسئلہ کے سیاسی حل میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ کمشیر کے نوجوانوں کے بارے میں جو کشمیر کی کل آبادی کا اڑسٹھ فیصد بنتے ہیں رپورٹ میں کہا کہ کشمیر کا نوجوان بے خوف اور شدید نا امیدی کا شکار ہے۔ ایک نوجوان جس کا نام رپورٹ میں ظاہر نہیں کیا گیا اس کے حوالے سے کہا گیا کہ ’سب سے اچھی چیز جس کے ہم شکر گزار بھی ہیں وہ ہتھیاروں کا استعمال ہے جس میں پیلٹ گنیں شامل ہیں، جس نے ہمارا ڈر اور خوف نکال دیا ہے۔ ہم اب شہادتوں پر جشن مناتے ہیں۔‘ رپورٹ میں کہا گیا نوجوانوں میں کچھ تو انڈیا سے مذاکرات کرنے پر تیار ہی نہیں ہیں اور ان کے روز مرہ کی بول چال کے الفاظ ہی بدل گئے ہیں جن میں ہڑتال، کرفیو، شہادت اور برہانی وانی کے الفاظ کا استعمال حاوی رہتا ہے۔

رپورٹ کہا گیا کہ لوگوں سمجھتے ہیں کہ مظاہروں میں وقفہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ عمومی طور پر ایک خوف ہے کہ آئندہ موسم گرما میں اپریل سے ستمبر کے درمیان کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ سنہ 2017 میں اپنی شدت اور سنگینی کے اعتبار سے کوئی بڑا واقع پیش آ سکتا ہے۔ عام کشمیریوں کے ذہنوں میں اس مسئلے کے حل کا جو خاکہ ہے اسے بیان کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ لوگوں کے خیال میں اس مسئلے سے وابستہ تمام فریقوں، انڈیا، پاکستان اور تمام کشمیر کے عوام کو شامل کیے بغیر اس کا حل ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ فریقین کو اس مسئلہ کے حل کے لیے لچک دار رویے اپنا ہو گا تاکہ کشمیر کے لوگوں کی مشکلات دور ہو سکیں۔

‘سرحد پر بھارتی فوجیوں کو کھانے کے لالے’

 سرحد پر تعینات بھارتی فوجیوں کو مبینہ طور پر کھانے کے لالے پڑ گئے، ناقص معیار کے کھانے سے دلبرداشتہ ہو کر ایک فوجی اہلکار نے اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لے لیا۔ بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ایک فوجی تیج بہادر یادیو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک وڈیو شیئر کی ہے جس میں انہوں نے سرحد پر جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑنے والے فوجیوں کو ملنے والے ناقص اور ناکافی کھانے کا تذکرہ کیا ہے۔ تیج بہادر یادیو کا کہنا ہے کہ ‘بھوکے پیٹ کیا خاک جنگ لڑیں، ناشتے میں جلا ہوا پراٹھا اور ایک کپ چائے ملتی ہے’۔ بھارتی فوجی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ‘جو بھی راشن فوجیوں کے کھانے کے لیے آتا ہے اسے بازاروں میں فروخت کردیا جاتا ہے’۔ فوجی اہلکار نے یہ بھی کہا کہ ‘دوپہر میں صرف 2 روٹیاں ملتی ہیں، کھانے میں مصالحے اور گھی کے بغیر بنی دال ملتی ہے’۔ تیج بہادر نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات تو فوجی جوان خالی پیٹ ہی سو جاتے ہیں۔

وڈیو میں فوجی اہلکار کہہ رہا ہے کہ اسے سرکار سے کوئی شکایت نہیں کیوں کہ حکومت سب کچھ بھیجتی ہے لیکن اعلیٰ حکام اسے بیچ کر کھا جاتے ہیں جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ فیس بک پر شیئر کی گئی اس بھارتی فوجی کی وڈیو جس میں اس نے بھارتی حکومت کے دعووں کو بے نقاب کیا، اسے اب تک لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں اور یہ انٹرنیٹ پر وائرل ہوچکی ہے۔ فوجی جوان کی یہ وڈیو سامنے آنے کے بعد بھارتی میڈیا نے بھی حکومت اور فوج پر تنقید شروع کردی اور فوج کے اندر ہونے والی کرپشن پر نئی بحث چھڑ گئی۔

بھارتی اخبار دی نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تعینات اس فوجی کی وڈیو سامنے آنے کے بعد بی ایس ایف نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ بی ایس ایف کے ترجمان نے اخبار کو بتایا کہ جموں میں بی ایس ایف کے ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل رینک کے افسر کو اس حوالے سے آگاہ کردیا گیا ہے اور انہیں معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے۔ اخبار کے مطابق ترجمان نے تصدیق کی کہ فوجی جوان کانسٹیبل تیج بہادر یادیو بی ایس ایف کا اہلکار ہے جو راجوری سیکٹر میں تعینات ہے۔ ترجمان کے مطابق تیج بہادر کے الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہیں جس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب حکام نے یادیو کے فیس بک پیج اور وڈیوز کے حقیقی ہونے کی تحقیقات بھی شروع کردی ہیں۔