امریکا کا اقوام متحدہ کی امداد میں کمی کا اعلان

امریکا نے اقوام متحدہ کے بجٹ میں کٹوتی کا اعلان کر دیا ہے ، اقوام متحدہ میں امریکی مشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق واشنگٹن اقوام متحدہ کے بجٹ میں 28 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کٹوتی کرے گا، اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکلی ہیلی نے کہا ہے اقوام متحدہ میں امداد میں کمی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ٹھیک سمت میں بڑا اقدام ہے، ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی نااہلیت اور فضولی خرچی کے چرچے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکی عوام کی فراخدلی کا ناجائز فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے اور اسے بغیر چیک کئے نہیں چھوڑ سکتے، انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس سال کے بجٹ میں کٹوتی کے فیصلے سے خوش ہیں، آپ کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ ہم اپنے مفادات کا تحفط کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی اہلیت کو بڑھانے کیلئے طریقہ کار تلاش کرتے رہیں گے، واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا تھا۔

Advertisements

دو تہائی امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر بنائے جانے پر پشیمان

امریکا میں ایک سروے کے مطابق دو تہائی امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے پر پشیمان ہیں۔ واضح رہے کہ امریکیوں کا کہنا تھا کہ ارب پتی امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر امریکا بننے کے بعد امریکا تقسیم ہو کر رہ گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے سے قبل اتنی مشکلات نہیں تھیں جتنی انہیں اب جھیلنی پڑتی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بھی بڑی تیزی سے تنزلی کا شکار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں چین نے امریکی صدر پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہا کہ اب سرد جنگ کی ذہنیت سے چھٹکارا پانا ہو گا۔ دوسری طرف روس نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیکیورٹی پالیسی سامراجیت ہے۔

امریکہ : کون سے ممالک ہیں جن پر امداد بند کر دینے کی دھمکی کارگر ثابت نہیں ہوئی

سب سے زیادہ امریکی امداد وصول کرنے والے 12 ملکوں کی فہرست میں اسرائیل کے علاوہ ایک بھی ملک ایسا نہیں جس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف پیش ہونے والی قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیا ہو۔ امریکی دفترِ خارجہ کی طرف سے کانگریس کو سال 2018 کے بحٹ کے لیے بین الاقوامی امداد کے بارے میں جو درخواست دی گئی ہے اس کے تحت اسرائیل بدستور امریکی امداد وصول کرنے والے ملکوں کی فہرست میں اول نمبر پر ہے۔ اسرائیل کے بعد اسلامی ملکوں میں سب سے زیادہ امداد مصر کو دی جاتی ہے جو اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی قرارداد کا محرک بھی تھا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کے بارے میں قرارداد پیش ہونے سے قبل امریکی سفیر نکی ہیلی نے اقوام متحدہ کے 193 ملکوں میں سے ایک سو اسی ملکوں کو خطوط ارسال کیے تھے جس میں اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ نکی ہیلی کی طرف سے سفارتی آداب سے ہٹ کر دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے یہ بات بھی کہی گئی تھی کہ جو ملک امریکی امداد وصول کرتے ہیں ان کی طرف سے قرارداد کے حق میں ووٹ دیے جانے کی صورت میں امداد پر نظر ثانی بھی کی جا سکتی ہے۔

امریکہ کی طرف سے دی جانے والی دھمکی کتنی کارگر ثابت ہوئی اور کون سے ایسے ممالک ہیں جن پر امریکی دھمکی کا کوئئ خاص اثر نہیں ہوا اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 35 ملک جنھوں نے مذکورہ قرارداد پر ہونے والی رائے شماری میں شرکت نہیں کی ان میں صرف یوگینڈا ایسا ملک ہے جو سب سے زیادہ امریکی امداد وصول کرنے والے ملکوں کی فہرست میں ساتویں نمبر پر ہے۔ کینیا اور زیمبیا بھی امداد وصول کرنے والے ملکوں میں ہیں اور یہ دونوں ملک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس اہم اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے۔

اسرائیل کو اور دنیا کے دیگر ملکوں کو دی جانے والی امریکی امداد کی ترسیل کے طریقہ کار میں بہت واضح بنیادی نوعیت کا فرق ہے۔ کانگریس سے منظوری کے بعد اسرائیل کو دی جانے والی امداد امریکہ میں اسرائیلی حکومت کے کھاتوں میں منتقل کر دی جاتی ہے اور اسرائیل کی حکومت کو اس بارے میں بھی پورا اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اسے جہاں چاہے اور جس مد میں چاہے استعمال کرے۔ امداد کی رقم پر ملنے والے سود پر بھی اسرائیلی حکومت کو مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ دوسری طرف دنیا کے دیگر ملکوں کو اس نوعیت کی رعایت اور سہولت حاصل نہیں ہوتی۔

امدادی رقم امریکی حکومت کے اکاؤنٹس میں ہی رہتی ہے اور امداد وصول کرنے والی حکومتیں امریکی انتظامیہ کی مرضی اور منشا سے پہلے سے متعین کردہ مدوں میں ہی اس رقم کو استعمال کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کو ہر سال تین ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دی جاتی ہے جس کے بعد مصر کا نمبر آتا ہے جس کو وصول ہونے والی سالانہ امداد ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر کے قریب ہے۔ یہ امداد مصر کو سنہ 1978 میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سے بغیر کسی تعطل کے مل رہی ہے۔

فراز ہاشمی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام

صدر ٹرمپ کی دھمکی بے اثر، امریکی امداد بند ہونے کا کوئی خطرہ نہیں

تمام عرب ممالک سمیت دنیا کے 120 ملکوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹ ڈالتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ واپس لے۔ امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ وہ اُن تمام ممالک کیلئے امریکی امداد بند کر دیں گے جنہوں نے مصر کی طرف سے تیار کردہ قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ اس سے قبل سلامتی کونسل کے کل 15 میں سے 14 ارکان نے امریکی اقدام کے خلاف ووٹ دیا تھا جسے امریکہ نے ویٹو کر دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے بعد اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے، ’’مشرق وسطیٰ میں احمقانہ طور پر 70 کھرب ڈالر خرچ کرنے کے بعد وقت آ گیا ہے کہ اب ہم یہ رقم اپنے ملک کی تعمیر نو پر خرچ کریں۔‘‘

مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ امریکی امداد مصر اور اُردن کو فراہم کی جاتی ہے لیکن ان دونوں ممالک میں صدر ٹرمپ کی دھمکی کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اُردن کے ایک وزیر کا کہنا ہے کہ امریکی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ مستحکم اُردن اس خطے میں امریکی مفادات کیلئے کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔
اُردن کو ہر سال امریکہ سے فوجی اور دیگر شعبوں کیلئے ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی امداد ملتی ہے۔ مذکورہ وزیر نے کہا کہ اس بات کی توقع نہیں ہے کہ امریکی انتظامیہ یہ امداد بند کر دے گی۔ تاہم اگر اُس نے ایسا کیا تو یہ اُردن کی معیشت کیلئے تباہ کن ہو گا۔

اُردن کے سابق وزیر اعظم طاہر المسری نے کہا ہے کہ مسائل کے شکار اس خطے میں امریکی اتحادی ہونے کی حیثیت سے غالباً اُردن کیلئے امریکی امداد برقرار رہے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکہ یہ امداد خیرات کے طور پر نہیں دے رہا بلکہ یہ اُردن کی طرف سے علاقے میں استحکام برقرار رکھنے کے اقدامات کا معاوضہ ہے۔ طاہر المسری نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمان اور عرب ملک صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے اقدام کو مکمل طور پر رد کرنے سے کم کسی بات پر رضامند نہ ہوتے۔

یروشلم میں مسلمانوں، یہودیوں اور مسیحیوں کی مقدس مذہبی عمارات موجود ہیں اور اس کی حیثیت کے بارے میں عرصہ دراز سے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعہ جاری رہا ہے جسے طے کرنے کی لاتعداد کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ اُردن کا شاہی خاندان یروشلم میں موجود مسلمانوں کے قبلہ اول کا محافظ ہے اور یروشلم کی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کے خیال سے اُردن میں تناؤ بڑھ جاتا ہے۔ اُدھر مصر میں ایٹلانٹک کونسل کے ایک ماہر ایچ اے ہیلیئر کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی دھمکی کے باوجود مصر کیلئے ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی امریکی امداد بند ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

بیت المقدس کے معاملے پر امریکا کی عالمی برادری کو دھمکی

امریکا نے پوری عالمی برادری کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف قرارداد کی حمایت نہ کی جائے۔ اقوام متحدہ میں امریکی مستقل مندوب نکی ہیلی نے مختلف سفیروں کو خط میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جنرل اسمبلی میں بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کئےجانے کے خلاف قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک کے نام صدرٹرمپ کو بتاؤں گی اور ایک ایک ووٹ کا حساب رکھا جائے گا۔

اقوام متحدہ میں امریکا کی مستقل مندوب نکی ہیلی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہم نے امریکی عوام کی خواہشات کے مطابق بیت المقدس میں سفارتخانہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، جن ممالک کی ہم مدد کرچکے ہیں ان سے امریکا کو نشانہ بنانے کی توقع نہیں رکھتے تاہم جنرل اسمبلی میں امریکی فیصلے کے خلاف تنقیدی ووٹ ڈالا جائے گا اور اس دوران قرارداد کی حمایت کرنے والے ہر ملک کا نام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتاؤں گی، اور ایک ایک ووٹ کا حساب رکھا جائے گا۔

خیال رہے کہ 18 دسمبر کو سلامتی کونسل میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق یکطرفہ امریکی فیصلہ مسترد کرنے کی درخواست امریکا نے ویٹو کردی تھی جبکہ امریکا کے اہم اتحادی ممالک برطانیہ، فرانس، جاپان، اٹلی اور یوکرین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالے جس میں کہا گیا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق کسی بھی فیصلے کی قانونی حیثیت نہیں ہو گی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس کل متوقع ہے جس میں اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد پیش کرنے کا امکان ہے۔

یروشلم کے مسئلے پر جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب

امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے خلاف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس 15 رکنی سلامتی کونسل کے ہونے والے اجلاس کے ردِ عمل میں طلب کیا گیا ہے جس میں امریکہ نے یروشلم سے متعلق پیش کی جانے والی قرارداد ویٹو کر دی تھی۔ مذکورہ قرارداد کونسل کے رکن مصر نے پیش کی تھی جس میں امریکہ یا صد رڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر “یروشلم سے متعلق حالیہ فیصلوں پر تشویش” کا اظہار کیا گیا تھا۔

کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن امریکہ نے مستقل رکن کو حاصل اختیار استعمال کرتے ہوئے قراداد ویٹو کر دی تھی۔ قرارداد مسترد ہونے پر فلسطین اور دیگر مسلم ملکوں نے سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اب وہ یہ قرارداد عالمی ادارے کی 193 رکنی جنرل اسمبلی سے منظور کرائیں گے۔ اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کے مطابق جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس مسلمان اور عرب ملکوں کی درخواست پر ہی بلایا گیا ہے۔

عالمی ادارے میں فلسطین کے سفیر ریاض منصور نے کہا ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک قرارداد رائے شماری کے لیے پیش کی جائے گی جس میں امریکہ سے یروشلم سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ گو کہ جنرل اسمبلی میں منظور کی جانے والی قراردادوں پر عمل درآمد رکن ملکوں پر لازمی نہیں لیکن اس کے باوجود جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی سیاسی اہمیت ہے۔ جنرل اسمبلی کا اجلاس طلب کیے جانے کے بعد اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایسی کسی بھی قرارداد کی حمایت کرنے والے ملکوں کا نام یاد رکھے گا جس میں امریکی فیصلوں پر نکتہ چینی کی گئی ہو۔

ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں نکی ہیلی نے کہا ہے کہ امریکہ نے یہ فیصلہ کہ اس کا سفارت خانہ کہاں ہونا چاہیے، اپنے عوام کی خواہش کی بنیاد پر کیا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس بنیاد پر وہ ملک بھی امریکہ کو نشانہ بنائیں جن کی امریکہ ماضی میں مدد کرتا رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ جلد اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دے گا۔ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف مسلمان ملکوں کے علاوہ امریکہ کے اتحادی یورپی ممالک نے بھی سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔

اقوامِ متحدہ میں 1950ء میں منظور کی جانے والی ایک قرارداد کے مطابق کسی بھی اہم مسئلے پر سکیورٹی کونسل کی ناکامی کی صورت میں رکن ملکوں کو مشترکہ اقدامات کی سفارش کرنے کی غرض سے عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کا خصوصی ہنگامی اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے۔ اس قرارداد کے تحت گزشتہ 67 برسوں میں اب تک جنرل اسمبلی کے صرف 10 ایسے ہنگامی اجلاس ہوئے ہیں۔
آخری بار 2009ء میں مشرقی یروشلم اور دیگر فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے کے خلاف جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ہونے والا اجلاس اسی 2009ء کے اجلاس کا تسلسل ہو گا۔

جنرل اسمبلی : امریکی مندوب کے سفیروں کو دھمکی آمیز خطوط

اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نیکی ہالے نے سفیروں کو دھمکی آمیز خطوط ارسال کیے ہیں کہ جن میں واضح طور دھمکی آمیز انداز میں کہا گیا ہے امریکی صدر کو ہر اس ملک کے بارے میں بتایا جائے گا جو جنرل اسمبلی میں حالیہ قراداد کے حق میں ووٹ دے گا۔ واضح رہے کہ سلامتی کونسل میں متنازعہ امریکی فیصلہ جس میں بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا گیا تھا کے خلاف ووٹنگ کرائی جا رہی ہے جسے امریکہ نے ویٹو کر دیا تھا۔ اب جنرل اسملبی میں متنازعہ امریکی فیصلے کے خلاف ووٹنگ کرائی جائے گی۔
امریکی مندوب نیکی ہالے نے واضح کیا کہ امریکی صدر نے خود کہا ہے کہ جو ملک بھی اس ووٹنگ کے حق میں ووٹ دے انہیں آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے خلاف قرارداد پر ایک ایک ووٹ کا حساب رکھا جائے گا۔