امریکا کو تاریخ میں دوسری مرتبہ شدید معاشی بحران کا سامنا

امریکا میں اسٹاک مارکیٹس کو شدید بحران کا سامنا ہے اور صرف اپریل میں انڈیکس میں 2.2؍ فیصد دیکھنے کو ملی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ اقتصادی جنگ کی وجہ سے ملک کو دوسری مرتبہ ’’عظیم کساد‘‘ جیسے خطرات کا سامنا ہے، 500؍ انڈیکس میں رواں ہفتے کے دوران 2.2؍ فیصد کمی دیکھنے کو ملی، ڈالر شدید دبائو کا شکار رہا۔ رپورٹ کے مطابق، چین کی جانب سے اپنی درآمدی اشیاء پر بھاری ڈیوٹیاں عائد کیے جانے کے بعد سے امریکا کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری سہ ماہی کے دوران، ایس اینڈ پی انڈیکس کی کارکردگی پہلے تجارتی سیشن کے دوران مایوس کن رہی۔ ایسی صورتحال 89؍ سال قبل بھی پیش آئی تھی جب یہ انڈیکس 2.5؍ فیصد تک گر گیا تھا۔ اس وقت اثاثوں کی فروخت (سیل آف) کی وجہ سے یہ بحران آیا تھا اور اسے امریکی تاریخ کا بدترین بحران قرار دیا گیا تھا۔

ڈائو جونز انڈسٹریل ایوریج 1.9؍ فیصد زوال کا شکار نظر آیا جبکہ ٹیکنالوجی سے لیس نسدق کمپوزٹ انڈیکس 2.74؍ فیصد تک گر گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حملوں کی وجہ سے نسدق کی لسٹ پر موجود سب سے بڑی کمپنی، امیزون، کے نقصانات میں اضافہ دیکھنے کو ملا اور اس کے شیئرز کی قیمت میں 5؍ فیصد کمی ہوئی۔ یاد رہے کہ دوسری جنگ عظیم سے قبل عظیم کساد (انگریزی میں دی گریٹ ڈپریشن) ایک عالمی اقتصادی بحران تھا، مختلف ملکوں کو مختلف برسوں کے دوران اس بحران کا سامنا کرنا پڑا لیکن زیادہ تر ملکوں میں یہ بحران 1929ء سے لے کر 1940ء کی دہائی کے اوائل تک رہا۔ گریٹ ڈپریشن کو 20ویں صدی کا بدترین بحران قرار دیا جاتا ہے، اس بحران کا آغاز امریکا میں 29؍ اکتوبر 1929ء کو اسٹاک مارکیٹ کریش ہونے سے ہوا تھا، اس دن کو امریکی تاریخ میں بلیک ٹیوزڈے (سیاہ منگل) کہا جاتا ہے۔

اس واقعے کے بعد بحران پوری دنیا میں پھیل گیا تھا۔ شکاگو میں پرفارمنس ٹرسٹ کیپیٹل پارٹنرز نامی کمپنی کے ڈائریکٹر ٹریڈنگ برائن بیٹل کا کہنا تھا کہ صورتحال بہت پیچیدہ ہے کیونکہ معاملہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اثاثوں کی فروخت کا نہیں رہا، صورتحال ایسی بنتی جا رہی ہے کہ فروخت کرنے والے اثاثے بیچنے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور انہیں بنیادی اصولوں کا علم ہی نہیں۔ جنوری میں ایس اینڈ پی 500؍ انڈیکس 10؍ فیصد پر ٹریڈ کر رہا تھا اور اس کے بعد سے صورتحال کو درست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ چین نے امریکا کی 128؍ مصنوعات پر اضافی 25؍ فیصد ڈیوٹی عائد کر دی تھی جن میں گوشت، شراب، پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔ یہ اقدامات امریکا کی جانب سے چین کی ایلومینم اور دیگر اشیا پر درآمدی ڈیوٹی عائد کیے جانے کے بعد کیے گئے تھے۔

امریکا کی جانب سے مزید ڈیوٹی عائد کیے جانے کی صورت میں چین نے بھی ’’متوازن‘‘ رد عمل دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ دوسری جانب امریکا میں معاشی سیکورٹی کے متعلق مشورے دینے والی کمپنی اسپراٹ ہولڈنگز رک رول کا کہنا ہے کہ اگر معاشی کشیدگی کا سلسلہ جاری رہا تو ایک دہائی بعد سونے کی قیمتوں میں اعلیٰ ترین سطح تک اضافہ ہو سکتا ہے اور قیمتیں 1400؍ ڈالر فی اونس (28.34؍ گرام) تک جا سکتی ہیں۔ چین اور امریکا کی معاشی جنگ کی وجہ سے سرمایہ کار پریشانی کا شکار ہیں۔ رواں ہفتے امریکی حکومت کی جانب سے چین کیخلاف مزید اقدامات کیے جانے کا امکان ہے۔ تنازع بڑھنے کی صورت میں توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی اشیا کی طلب کم ہو سکتی ہے اور اس سے نہ صرف بجٹ خسارہ بڑھے گا بلکہ ڈالر کی قیمتوں کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ اردو

Advertisements

روس نے بیلسٹک میزائل ’ شیطان 2 ‘ کا کامیاب تجربہ کر لیا

روس نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سرمت کا تجربہ کر لیا ہے اس میزائل کو نیٹو نے ’شیطان 2‘ کا نام دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس نے گزشتہ روز نیوکلیئر ٹیکنالوجی لے جانے والے بیلسٹک میزائل ’ آر ایس 28 سرمت ‘ کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے، یہ میزائل بیک وقت 24 وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کے ذریعے دنیا میں کسی بھی مقام کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ روس کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میزائل کا کامیاب تجربہ روس کے شمال مغربی علاقے آرکٹک سرکل کے نزدیک کیا گیا۔ کامیاب تجرنے کے بعد روس کے ذخیرہ ہتھیار میں ایک اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا اضافہ ہوا ہے جسے نیٹو نے شیطان 2 کا نام دیا ہے جو ایٹمی مواد اور ہتھیار کو لے جانے اور دور تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

روس کے صدر پیوٹن نے اپنے ایک خطاب میں اس میزائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ 200 ٹن وزنی جنگی ہتھیار 16 ہزار میل تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کی صلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے یہ میزائل قطب شمالی سے امریکا کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر پیوٹن نے امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد سب سے خطرناک میزائل کا تجربہ کیا ہے جسے روسی صدر سفارتی جوڑ توڑ میں بطور دباؤ استعمال کریں گے تاہم روس کی جانب سے کیے گئے میزائل تجربے سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں تیزی آئے گی۔

ایمزون کو ٹرمپ کی وجہ سے 53 ارب ڈالر کا نقصان

امریکی کمپنی ایمزون امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ محاز آرائی کا نشانہ ہے ، جو کہ آمدنی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی آن لائن خوردہ کمپنی ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی کی وجہ سے ایمزون کی مارکیٹ قدر میں 53 ارب ڈالر کمی واقع ہوئی اور اُس کے حصص کی قیمت 7ا عشاریہ 4 فیصد گر گئی۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایمزون سے متعلق ٹیکس قواعد تبدیل کر کے اُسے قابو کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں پریشانی ہے کہ آن لائن خوردہ فروشی کی وجہ سے چھوٹے خوردہ کاروبار ختم ہو رہے ہیں۔

اس حوالے سے ایمزون کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ ایمزون کو اس لیے نشانہ بنانا چاہتے ہیں کیونکہ ایمزون کے سی ای او جیف بیزوس معروف امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ کے مالک بھی ہیں اور یہ اخبار اکثر صدر ٹرمپ پر تنقید کرتا ہے۔ یہ ایسے وقت پر ہوا ہے کہ جب کیمبرج انالیٹیکا اور فیس بک ڈیٹا چوری اسکینڈل کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص دباؤ کا شکار ہیں۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ فیس بک کے خلاف کارروائی چاہتی ہے لیکن صدر ٹرمپ کے نشانے پر اس وقت صرف ایمزون ہے۔

 

Kim Jong Un visits Beijing

With smiles and firm handshakes, North Korea and China used a surprise summit this week to show that despite recent tensions, Pyongyang still has a powerful backer and Beijing will not be sidelined in discussions about the fate of its unpredictable neighbor. North Korean leader Kim Jong Un’s secretive talks with Chinese President Xi Jinping in Beijing appear aimed at improving both countries’ positions ahead of Kim’s anticipated meetings with South Korean President Moon Jae-in and U.S. President Donald Trump in the coming weeks. A key objective for Beijing is to reassert its relevance to the upcoming talks, from which it has been excluded. China has appeared increasingly shut out as its relations with the North deteriorated and Pyongyang reached out to Seoul and Washington.
“Kim Jong Un’s visit shows that China is not marginalized, but playing a leading role. This saves China a lot of face,” said Pang Zhongying, a North Korea expert at Renmin University in Beijing. Official reports from both countries on Wednesday depicted in effusive terms warm ties between the two leaders in an effort to downplay recent tensions over Kim’s development of nuclear weapons and long-range missiles. In the reports, “Kim reaffirms the traditional friendship between the two countries as if nothing had ever happened, when the relationship had plummeted to unprecedented lows,” said Bonnie Glaser, an Asia expert at the Center for Strategic and International Studies.

 

 

 

 

 

 

 

ٹرمپ کے اقدامات سے عالمی تجارتی جنگ چھڑنے کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی درآمدات پر اربوں ڈالر کی ڈیوٹیز لگانے کے اقدامات سے دنیا میں تجارتی جنگ چھڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا جب کہ یورپ بھی امریکی اقدامات پر انتقامی کارروائی کرنے کے لیے غور کر رہا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پہلے اسٹیل اور ایلومینیم درآمدات پر ٹیرف عائد کیے گئے اور اس کے بعد چین کی 60 ارب ڈالر کی درآمدات پر 25 فیصد تک ٹیرف لگا دیے گئے۔ امریکا نے ان چینی شعبوں کو ہدف بنایا جس میں واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ ان میں چین نے امریکی ٹیکنالوجی چرائی ہے۔

جواب میں بیجنگ نے بھی امریکا کو اس کی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی ہے اور اس سلسلے میں چینی وزارت تجارت نے 128 اشیا پر ایک فہرست بھی تیار کر لی ہے۔ ان امریکی اشیا پر 10 سے 25 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری طرف یورپ بھی امریکی اقدامات پر انتقامی کارروائی کرنے کے لیے غور کر رہا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے متنبہ کیا ہے کہ یورپ کمزوری دکھائے بغیر واشنگٹن کی دھمکیوں کا جواب دے گا تاہم تجارتی کشیدگی کم ہونے کے بھی اشارے ملے ہیں، امریکا اور چین نے تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق چینی نائب وزیراعظم اور انچارج معیشت لیو ہی اور امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، چینی نائب وزیراعظم نے امریکی وزیر سے کہا کہ بیجنگ اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہے مگر امید ہے کہ دونوں ممالک ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساتھ کام کریں گے۔ انھوں نے حقوق ملکیت دانش سے متعلق چینی پریکٹسز میں امریکی تحقیقات کو تجارتی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ قبل ازیں چین نے امریکا کو 3 ارب ڈالرکی مصنوعات پر انتقامی ڈیوٹیوں کی دھمکی بھی دی۔

امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی محاذ آرائی میں اضافہ

صدر ٹرمپ نے چین سے ہونے والی درآمدات پر 60 ارب ڈالر کے محصولات عائد کرتے ہوئے چین سے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے 375 ارب ڈالر کے تجارتی سرپلس میں کم سے کم 100 ارب ڈالر کی کمی کرے۔ تاہم جواب میں چین نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ اگر امریکہ ہائی ٹیک اشیاء کی چین کو برآمد پر پابندیاں عائد کرتا رہے گا تو چین کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ کم نہیں ہو گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین نے امریکی کمپنیوں کو مجبور کیا ہے کہ اگر وہ چین میں کاروبار کرنا چاہتی ہیں تو اپنے دانشورانہ ملکیت کے حقوق چین منتقل کریں۔

تاہم چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن یِنگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکہ چین کو وہ اشیاء برآمد کرنے سے انکار کرتا ہے جو چین خریدنے کا خواہش مند ہے تو پھر چین کے تجارتی سرپلس کے بارے میں امریکی تنقید غیر مناسب ہے۔ چین امریکہ سے ہائی ٹیک اشیاء خریدنے کی خواہش رکھتا ہے تاہم امریکہ اس سے کتراتا رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا، ’’چین امریکہ سے کتنی مقدار میں سویابین خریدے جو ایک بوئنگ جہاز کے برابر ہو؟ اور پھر اگر چین امریکہ سے چند بوئنگ جہاز خرید لیتا ہے تو کیا امریکہ بھی چین سے اتنے ہی C919 جہاز خریدے گا؟‘‘ C919 چین کا خود تیار کردہ مسافر جہاز ہے۔

تجارتی محاذ آزائی کے باوجود چین نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ اس مسئلے کا باوقار حل تلاش کرنے کے لئے چین سے بات چیت پر آمادہ ہو گا جو باہمی احترام کی بنیاد پر ہو۔ گزشتہ سال امریکہ کی چین کے لئے زرعی برآمدات 19.6 ارب ڈالر تھیں جن میں سے صرف سویابین کی برآمدات کی مالیت 12.4 ارب ڈالر تھی۔ امریکہ میں بوئنگ طیارے بنانے والی کمپنی نے گزشتہ سال چین کو 7000 سے زائد بوئنگ طیارے فروخت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جن کی مالیت 11 کھرب ڈالر ہے۔ بوئنگ کمپنی یہ طیارے اگلے 20 برس کے دوران چین کو فروخت کرنا چاہتی ہے۔

امریکہ کی طرف سے چینی درآمدات پر محصولات عائد کرنے کے جواب میں چینی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین ایسے یک طرفہ اقدامات کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ چینی وزارت نے بیان میں مزید کہا، ’’ اگر چین کے جائز حقوق متاثر ہوئے تو وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ہمیں اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے تمام ضروری اقدامات اُٹھانے ہوں گے۔‘‘ امریکہ کے تجارتی نمائندے رابرٹ لائیٹ ھائیزر کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے چینی درآمدات پر عائد ہونے والے محصولات سے چین کا اعلیٰ ٹکنالوجی کا حامل شعبہ زیادہ متاثر ہو گا اور امریکہ میں چین کی سرمایہ کاری پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ اس کے علاوہ چین کی امریکہ کو سلے سلائے کپڑوں کی برآمد بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

بیجنگ میں قائم تھنک ٹینک مرکز برائے چین اور عالمگیریت کے سینئر فیلو ہی وائی وین کا کہنا ہے کہ فی الحال امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات کا کوئی امکان نہیں کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ چینی درآمدات پر محصولات عائد کرتے ہوئے چین پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی جاری رکھنے پر مصر دکھائی دیتی ہے۔ خدشہ ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی محاذ آرائی میں شدت کے ساتھ اضافہ ہو جائے جس کے اثرات دیگر ملکوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

یورپ بھی شمالی کوریائی میزائلوں کی زد میں ہے : جرمن خفیہ ادارہ

جرمنی کی انٹيليجنس ايجنسی کے ايک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ شمالی کوريائی میزائل وسطی يورپ تک بھی پہنچ سکتے ہيں۔ شمالی کوريائی رہنما کم جونگ ان امريکا تک پہنچنے والے ميزائل بنانے کا اعلانیہ دعویٰ کر چکے ہيں۔ جرمنی کی انٹيليجنس ايجنسی بی اين ڈی کے ڈپٹی ڈائريکٹر اولے ڈيہل نے يہ بات ملکی ارکان پارلیمان کو دی گئی ایک بریفنگ میں بتائی۔ اس بارے ميں خبر جرمن اخبار ’بلڈ ام زونٹاگ‘ ميں شائع ہوئی ہے اور اخبار نے ميٹنگ ميں شامل افراد کے ذرائع سے يہ بات لکھی ہے۔ ڈيہل کے مطابق يہ بات يقين کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ شمالی کوريا اس صلاحيت کا حامل ہے۔ اس اخبار کی رپورٹ ميں يہ بھی لکھا ہے کہ جرمن خفيہ ايجنسی BND جنوبی اور شمالی کوريا کے مابين مذاکرات کو مثبت پيش رفت کے طور پر ديکھتی ہے۔ فوری طور پر بی اين ڈی نے خبر پر کوئی تبصرہ نہيں کيا۔

يہ امر بھی اہم ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابنديوں اور عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کے باوجود پيونگ يانگ اپنا متنازعہ جوہری و ميزائل پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ کم جونگ اُن کھلے عام اس بات کا اقرار کر چکے ہيں کہ وہ امريکی سرزمين تک مار کرنے والے ميزائل بنانے کی تياريوں ميں مصروف ہيں۔ پيونگ يانگ کے مطابق يہ اقدامات محض دفاعی نوعيت کے ہيں اور ان کا مقصد امريکا کے ’قبضے‘ سے بچنا ہے تاہم امريکا ايسے الزامات کو رد کرتا ہے۔
دريں اثناء پيونگ يانگ کے ايک سينئر سفارت کار فن لينڈ کے ليے روانہ ہوچکے ہيں۔ اس دورے پر وہ امريکی و جنوبی کوريائی نمائندوں سے بات چيت کريں گے۔ ان کی ملاقات ميں شمالی کوريا کے رہنما کم جونگ ان اور امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ايک ممکنہ ملاقات پر بھی تبادلہ خيال متوقع ہے۔ واضح رہے کہ حال ہی ميں جنوبی کوريا ميں منعقدہ سرمائی المپکس ميں شمالی و جنوبی کوريائی ايتھليٹس کی مل کر شرکت کے بعد سے جزيرہ نما کوريا ميں جاری کشيدگی ميں کمی آئی ہے۔

سی آئی اے کے سربراہ کے طور پر جینا ہاسپل کی نامزدگی پر تنقید

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی نئے سربراہ کے طور پر جینا ہاسپل کی نامزدگی پر تنقید کی جا رہی ہے۔ اگر وہ اس عہدے کے لیے منتخب کر لی گئیں تو پہلی مرتبہ اس اہم امریکی ادارے کی کمان ایک خاتون کے ہاتھوں میں آ سکے گی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے امریکی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ جینا ہاسپل کو خفیہ اینٹلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کا سربراہ نامزد کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جینا ہاسپل کو فروری سن دو ہزار سترہ میں سی آئی اے کی نائب ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا، تب بھی کئی حلقوں نے ان کی مخالفت کی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو برطرف کرنے کے بعد سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو کو نیا وزیر خارجہ بنایا جا رہا ہے، اس لے سی آئی اے کے سربراہ کی پوزیشن خالی ہو گئی ہے۔ دوسری طرف کئی حلقے پومپیو کو وزیر خارجہ بنائے جانے کے فیصلے کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔ ہاسپل تھائی لینڈ میں سی آئی اے کی ’بلیک سائٹ‘ کی نگران بھی رہی ہیں۔ گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کو امریکا میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد تھائی لینڈ میں یہ خفیہ حراستی مرکز قائم کیا گیا تھا، جہاں مشتبہ افراد کے خلاف تحقیقات کے متنازعہ طریقوں کا انتخاب کیا گا تھا۔ سن دو ہزار تین تا پانچ اس مرکز میں ’واٹر بورڈنگ‘ کا طریقہ کار بھی استعمال کیا گیا۔

ہاسپل نے سن انیس سو پچاسی میں سی آئی اے میں کام کرنا شروع کیا تھا۔ وہ اپنے طویل کیریئر میں ’انڈر کور ایجنٹ‘ کے طور پر بھی خدمات سر انجام دے چکی ہیں، اس لیے ان کے بارے میں زیادہ معلومات عام نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی صدر سی آئی اے کے سربراہ کی تعیناتی نہیں کر سکتا بلکہ صرف نامزد ہی کر سکتا ہے۔ اس لیے نامزدگی کے بعد ہاسپل کو سینیٹ کے سامنے خود کو بہترین امیدوار ثابت کرنا ہو گا۔ ری پبلکن سینیٹر جان مککین نے کہا ہے کہ جینا ہاسپل کو بہترین امیدوار ثابت کرنے کی خاطر کئی اہم سوالات کے جوابات دینا ہوں گے، جن میں ان کی مبینہ طور پر ’تشدد کے پروگرام‘ میں شمولیت بھی ہے۔ جان مککین کے مطابق، ’’ہاسپل کو بتانا ہو گا کہ سی آئی اے کے اس تحققاتی پروگرام میں ان کا کردار کیا تھا۔ سینیٹ نہ صرف اس ملازمت کے کے لیے ہاسپل کی تمام صلاحیتوں کا جائزہ لے گی بلکہ یہ جاننے کی کوشش بھی کرے گی کہ تشدد اور موجود قوانین کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے۔‘‘

ٹرمپ نے وزیر خارجہ کو بھی فارغ کر دیا

امریکی صدر نے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو اُن کے منصب سے ہٹا دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اب سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو امریکا کے نئے وزیر خارجہ ہوں گے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ چند پالیسی معاملات پر اختلافات گزشتہ برس سے جاری تھے۔ امریکی میڈیا نے انہی کے تناظر میں کہنا شروع کر دیا تھا کہ ٹلرسن کسی بھی وقت منصب سے ہٹائے جا سکتے ہیں یا وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ ان خبروں پر ہمیشہ ٹلرسن کا کہنا تھا کہ ان کا صدر سے کوئی اختلاف نہیں اور وہ بدستور اپنے ملک کے وزیر خارجہ ہیں لیکن ساری صورت حال واضح ہو گئی ہے۔

ٹلرسن کی جگہ اگلے وزیر خارجہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو کو مقرر کیا گیا ہے۔ پومپیو کے وزیر خارجہ بنائے جانے کی بھی رپورٹیں ذرائع ابلاغ پر آتی رہی تھیں۔ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ سے تمام سابقہ رپورٹوں کو تصدیق کر دی۔ ٹرمپ کے مطابق پومپیو اس منصب پر اپنے فرائض شاندار انداز میں سرانجام دیں گے۔ امریکی صدر نے ریکس ٹلرسن کی بطور وزیر خارجہ خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے اُن کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے خفیہ ادارے سی آئی اے کی سربراہ کے طور پر ایک خاتون جینا ہاسپل کو نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہاسپل پہلی امریکی خاتون ہوں گی جو اِس اہم ادارے کی سربراہی سنبھالیں گی۔

ٹلرسن کو منصب سے ہٹانے اور سی آئی اے کی سربراہی میں تبدیلی کو امریکی صدر کی انتظامیہ میں ایک بہت بڑے تبدیل شدہ منظرنامے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سابق وزیر خارجہ اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات کی ابتدائی خبریں گزشتہ برس اکتوبر میں گردش کرنا شروع ہو گئی تھیں۔ ٹلرسن منصب وزارت خارجہ سنبھالنے سے قبل ایکسون موبیل ادارے کے چیف ایگزیکٹو تھے۔ یہ امر اہم ہے کہ ٹرمپ نے چند مرتبہ کھلے عام سبکدوش ہونے والے وزیر خارجہ کی سرگرمیوں اور اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ اس میں خاص طور پر روس کے حوالے سے جاری پالیسی پر اختلافات کا امریکی میڈیا ذکر کرتا رہا تھا۔ مائیک پومپیو امریکا کے سترویں وزیر خارجہ ہوں گے۔ انہوں نے جنوری سن 2017 میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر کا منصب سنبھالا تھا۔ پچپن سالہ پومپیو کا تعلق ریاست کنساس سے ہے اور وہیں سے وہ ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

امریکہ شمالی کوریا سربراہی ملاقات، امکان اور سوالات

صدر ٹرمپ کی جانب سے جوہری پروگرام پر شمالی کوریا کے صدر کی براہ راست مذاکرات کی دعوت قبول کیے جانے کے ماہرین اور تجزیہ کار اس پہلو پر غور کر رہے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان عشروں سے جاری شدید تناؤ کی صورت حال میں یہ ملاقات ہو بھی سکے گی اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو اس کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کے ان سابق امریکی عہدے داروں اور تجزیہ کاروں نے جو شمالی کوریا سے تفصیلی طور پر نمٹ چکے ہیں کہا ہے کہ اب جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے ایک ایسا سفارتی مشن شروع کیا ہے جس کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں ہے ، انہیں پیچیدہ غیر یقینی مسائل کا سامنا ہے ۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ صدر ٹرمپ شمالی کوریا کے لیڈر کم جون ان کی جانب سے ملک کے جوہری پروگرام پر گفتگو کا دعوت نامہ قبول کر چکے ہیں، جس سے امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان لگ بھگ ایک عشرے تک قائم رہنے والے سفارتی تعطل ٹوٹنے کی امیدیں از سر نو پیدا ہو گئی ہیں۔ اگر یہ      سربراہی اجلاس ہو گیا تو اس سے ٹرمپ کو دنیا کے ایک سب سے مشکل مسئلے کے حل کے لیے اپنے پیش رووں سے بہتر موقع مل جائے گا۔ سینٹر فار نیول انیلیسز میں بین الاقوامی أمور کے گروپ کے ڈائریکٹر کین گوسے نے اس اعلان کو غیر معمولی اور تاریخی قرار دے کر اس کا خیر مقدم کیا۔

الیکزینڈر ورشوبو نے جو جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ کے دور میں سول میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں کہا کہ دعوت نامے کو قبول کرنا صدر کے لیے ایک درست فیصلہ تھا۔ انہوں نے کم کی جانب سے جوہری پروگرام کے خاتمے اور مذاکرات کے دوران مزید کسی جوہری تجربے سے گریز کرنے کے وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ پیانگ یانگ جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکہ کی شرائط پوری کر چکا تھا ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سابق عہدے دار ایونز ریور نے جو شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں کہا کہ پیانگ یانگ جنوب میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے ۔

بشکریہ وائس آف امریکہ