امریکہ فوجی کارروائی کا نتیجہ مکمل جنگ ہو گا – شمالی کوریا

شمالی کوریا میں اعلیٰ حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی
کشیدگی اور بین الاقوامی مذمت کے باوجود شمالی کوریا اپنے میزائل تجربے جاری رکھے گا۔ شمالی کوریا کے نائب وزیرِ خارجہ ہان سونگ ریول کا کہنا تھا کہ ’ہم ہفتہ وار، ماہانہ، اور سالانہ بنیادوں پر اپنے تجربے جاری رکھیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اس قدر غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ فوجی کارروائی کرے تو اس کا نتیجہ مکمل جنگ ہو گا۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر مائیک پینس کا کہنا تھا کہ امریکہ کا شمالی کوریا کے حوالے سے سٹریٹیجک صبر کا دور ختم ہو گیا ہے۔

وہ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل کے تجربے کے چند ہی گھنٹوں بعد جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول پہنچے تھے۔ امریکہ اور شمالی کوریا کی جانب سے شعلہ بیان بازی کے بعد کوریائی جزیرہ نما پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کے اعلیٰ سکیورٹی مشیر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر بڑھتے تناؤ کے باعث امریکہ اور چین اس حوالے سے ‘کئی تجاویز’ پر غور کر رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر مک ماسٹر نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ چین کے ساتھ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ‘یہ وہ صورتحال ہے جسے مزید نہیں بڑھنا چاہیے۔’

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین اس مسلے پر ‘ہمارے ساتھ کام کر رہا ہے۔’ چین جو کہ شمالی کوریا کا سب سے بڑا اتحادی ہے اس وقت اپنے پڑوسی ملک پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی دباؤ میں آ گیا ہے۔

شمالی کوریا کی جنگی تیاریاں

خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس مختلف رینج کے 1000 میزائل ہیں جن
میں انتہائی طویل رینج کے ایسے میزائل بھی شامل ہیں جو مستقبل میں امریکہ کو نشانہ بنانے کے قابل ہو سکیں گے۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ٹیکٹیکل آرٹلری راکٹوں سے شروع ہونے والا شمالی کوریا کا میزائل پروگرام گذشتہ چند دہائیوں میں کافی پیشرفت کر چکا ہے اور اب پیانگ یانگ کے پاس شارٹ اور میڈیم رینج کے بلسٹک میزائل ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے اس سے بھی زیادہ رینج کے میزائلوں پر تحقیق اور تیاری کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں شمالی کوریا نے اعلان کیا تھا وہ بین البراعظمی رینج کے میزائل تیار کر رہا ہے جن میں مغربی ممالک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہو گی۔

میزائلوں کی رینج

شارٹ یا کم رینج میزائل: ایک ہزار کلومیٹر سے یا اس سے کم

میڈیم یا درمیانی رینج میزائل: ایک ہزار سے تین ہزار کلومیٹر

انٹرمیڈیٹ یا متوسط رینج: تین ہزار سے پانچ ہزار کلومیٹر

انٹر کانٹنینٹل یا بین البراعظمی رینج: ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر سے زیادہ

بذریعہ: فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹ

شارٹ یا کم رینج میزائل

شمالی کوریا کا جدید میزائل پروگرام سکڈ میزائلوں سے شروع ہوا تھا جن کی پہلی کھیپ مبینہ طور پر 1976 میں مصر سے منگائی گئی تھی۔ 1984 تک شمالی کوریا اسی طرز کے واسونگ نامی میزائل تیار کر رہا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کم رینج کے متعدد قسم کے میزائل ہیں جو کہ ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ دونوں کوریائی ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور قانونی طور پر دونوں ایک دوسرے کے خلاف حالتِ جنگ میں ہیں۔

امریکہ میں ’سنٹر فار نان پرولفریشن سٹڈیز‘ کے مطابق واسونگ ۔5 اور واسونگ 6 کی بالترتیب 300 اور 500 کلومیٹر کی رینج ہے۔ یہ میزائل روایتی وار ہیڈ استعمال کرتے ہیں مگر ان میں کیمیائی، بائیولوجیکل، اور جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ ان دونوں میزائلوں کو ٹیسٹ کیا جا چکا ہے اور واسونگ ۔6 ایران کو بھی بیچا جا چکا ہے۔

درمیانی رینج کے میزائل

1980 کی دہائی میں شمالی کوریا نے ایک نیا درمیانی رینج کا میزائل، نوڈانگ تیار کرنا شروع کیا جس کی رینج تقریباً 1000 کلومیٹر تھی۔ یہ میزائل بھی سکڈ میزائل کے ڈیزائن پر تیار کیا گیا مگر اس کا حجم 50 فیصد زیادہ تھا اور اس کا انجن زیادہ طاقتور تھا۔ انٹرنیشل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے اپریل 2016 کے جائزے میں کہا گیا کہ یہ میزائل ایک ٹیسٹ شدہ نظام کے تحت لائے گئے ہیں اور یہ جنوبی کوریا کے تمام اور جاپان کے بیشتر علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ شمالی کوریا نے اکتوبر 2010 میں انھیں میزائلوں میں جدت لا کر ان کی رینج 1600 کلومیٹر تک کر دی جس کے نتیجے میں یہ جاپانی جزیرے اوکیناوا میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نوڈنگ کو 2006، 2009، 2014، اور 2016 میں ٹیسٹ کیا گیا۔

متوسط رینج کے میزائل

شمالی کوریا کئی سالوں سے موسودان نامی میزائل کے تجربے کر رہا ہے اور آخری مرتبہ انھیں 2016 میں ٹیسٹ کیا گیا۔ ان میزائلوں کی رینج کے بارے میں اندازوں میں کافی تضاد ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ان کی رینج 2500 کلومیٹر ہے جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی رینج 3200 کلومیٹر ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق کے 4000 کلومیٹر تک نشانہ بنا سکتے ہیں۔

نوڈنگ۔ بی یا ٹیپوڈونگ۔ایکس نامی میزائل شمالی کوریا اور جاپان دونوں کے تمام علاقوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس کی رینج کی حد میں گوام میں امریکی فوجی اڈے بھی آتے ہیں۔ وار ہیڈ کے حوالے سے ان میزائلوں کی صلاحیتوں کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں مگر خیال کیا جاتا ہے کہ ایک سے سوا ایک ٹن کا وار ہیڈ لے جا سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’زمین سے زمین تک مار کرنے والا میڈیم ٹو لانج رینج کے بلسٹک‘ میزائل بھی تیار کیے ہیں۔ اس طرز کے پکگکسونگ کا اگشت 2016 میں تجربہ کیا گیا جسے ایک آبدوز سے لانچ کیا گیا۔

پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ انھوں اس کے لیے سالڈ ایندھن استعمال کیا جس کے ذریعے اسے لانچ کرنے کا عمل جلدی ہو سکے گا۔ تاہم اس کی رینج کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

بین البراعظمی بلسٹک میزائل

شمالی کوریا اپنا طویل ترین رینج کا میزائل تیار کر رہا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ موبائل لانچر سے داغا جا سکے گا اور اس کا نام کے این ۔ 08 ہو گا۔ اس پیشرفت کا ابتدائی اندازہ اس وقت لگایا گیا جب ستمبر 2016 میں شمالی کوریا نے ایک نیا راکٹ انجن ٹیسٹ کیا جو کہ ایک بین البراعظمی بلسٹک میزائل پر لگایا جا سکے گا۔ امریکی وزارتِ دفاع کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس کم از کم چھ کے این_08 میزائل ہیں جو کہ امریکہ کے بیشتر علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا نے اس سے بھی زیادہ رینج والا کے این۔ 14 تیار کر لیا ہے مگر اسے کبھی عوامی سطح پر ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ جنوری 2017 میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک بین البراعظمی بلسٹک میزائل تیار کرنے کے آخری مراحل میں ہے۔

اردن ائیر لائن کا صدر ٹرمپ کو شستہ جواب

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں دس ہوائی اڈوں سے نو ائیر لائنز کی پروازوں میں کچھ ڈیجیٹل آلات ہینڈ بیگیج میں لے جانے پر پابندی عائد کی ہے۔ ان میں اردن کی ’’رائل جورڈن‘‘ بھی شامل ہے۔ 14 گھنٹے کی پرواز کے دوران اپنے مسافروں کا دل بھلانے کے لیے اس فضائی کمپنی نے انگریزی زبان میں ایک دل نشیں گانا تیار کیا ہے۔ اس کے شاعرانہ بول کا اردو زبان میں نثری ترجمہ کچھ اس طرح ہے، ہر ہفتے ایک نئی پابندی جائیے امریکہ جب تک ہو ممکن ہمیں شاعر بنایا بیٹا تم نے کوئی ہماری فلائٹس کو برباد کر سکتا نہیں محض مذاق مذاق میں ہمارے پاس ہے ہر ہفتے ایک اچھی ٹپ یہ نظم رائل اردن ائیر لائن کا اپنے مسافروں کے لئے خاص تحفہ ہے ۔

اس فضائی کمپنی کے پاس اپنے مسافروں کے لیے ایک دس نکاتی’’ ایجنڈا ‘‘بھی ہے۔ جس میں لکھا ہے ’’وقت گذارنے کے دس طریقے‘‘ کتاب پڑھیے ، سنیکس کا مزہ لیجئے، ساتھی مسافر کو ہیلو کیجئے، مراقبہ کیجئے، گھنٹہ بھر سوچیے کہ آگے کیا کرنا ہے ، پرواز ایک معجزہ ہے اس کی تعریف کیجئے، انٹرنیٹ نہیں تھا تب بھی تو لوگ سفر کرتے تھے اسی پرسوچئے،آرام کیجئے ، ٹیبل کو’’کی بورڈ‘‘کیجئے، دوران پرواز ڈیوٹی فری شاپنگ کیجئے، زندگی کے معنی کیا ہیں یہی سوچئے، آپ لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ کیوں رکھتے ہیں ،اس کی وجوہات پر غور کیجئے۔ اس ایجنڈے کو مسافر کافی انجوائے کر رہے ہیں۔

لیپ ٹاپ بم حقیقت یا فسانہ

9/11 کا ملبہ تو صاف ہوچکا مگر اس کے اثرات دنیا بھر میں اب تک مرتب ہو رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد کئی فضائی اور انشورنس کمپنیاں بند ہو گئیں، کچھ بند ہونے کے قریب پہنچ گئی تھیں۔ اس سانحے سے فضائی انڈسٹری کو شدید دھچکا پہنچا۔ وقت کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات بھی کئے جاتے رہے۔ 2006 میں ایک سو ملی لٹر سے زیادہ مائع لیجانے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مگر مکار دشمن ہر حربہ آزماتا رہا اور کسی نہ کسی طرح انسانوں کو خوفزدہ کرتا رہا۔ صومالیہ میں پرواز کرنے والے طیارے کو پیش آنے والا حادثہ بالکل الگ قسم کا تھا،اس حادثے میں ایک سیٹ پر بیٹھا ہواس شخص جل کر راکھ ہو گیا تھا یہ وہی دہشت گرد تھا جس کا تعلق’’الشباب‘‘ نامی ایک تنظیم سے بتایا جاتا ہے۔ اس کے پاس ایک ’’لیپ ٹاپ بم‘‘ تھا ۔ باقی تمام مسافر بحفاظت ہوائی اڈے پراتر گئے تھے۔

پائلٹ نے طیارے کو مہارت کے ساتھ نیچے اتار لیا تھا۔ حادثے کے وقت یہ نیچی پرواز کر رہا تھا، ابھی اس نے بلندی پر جانا تھا۔ اگر ذرا سی اونچائی پر ہوتا، توشائد مسافروں کو بچانا مشکل ہو جاتا۔ جلتی پر تیل کا کام مصر میں روسی اور ایک روسی ریاست میں ملیشیا کے طیارے کی تباہی نے پوری کر دی تھی۔ روسی طیارے میں 224 مسافر مارے گئے تھے۔ اسی عرصے میں جوتے سے آتش گیر مادہ برآمد ہوا۔ 2006 میں آتش گیر مادہ پکڑا گیا۔ 2010 اور 2011 میں بھی آتش گیر مواد پکڑا گیا۔ یہی سوچ کر یا کسی اطلاع پر امریکی خفیہ ایجنسیوں نے اپنی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اب دہشت گرد ایسا کیمیکل تیار کر رہے ہیں جو بہت کم جگہ میں سما سکتا ہے اور اس کی مدد سے کسی جہاز کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی نے اپنی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد لیپ ٹاپ بم بنا رہے ہیں۔ ایک خفیہ ادارے نے صومالیہ سے سفر کرنے والے اسی طیارے کی مثال دی ہے جس میں سوراخ ہو گیا تھا۔

ویسے امریکی ایجنسیوں پر اعتبار کیسا، پوراعراق تباہ کر دیا ، ایٹم بم اب تک نہ ملا۔ غلط اطلاع پر برطانیہ میں کافی لے دے ہوئی ، مگر امریکہ نے عراق کو تہس نہس کرنے کے باوجود اف تک نہ کی۔ 21 مارچ کو امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے ایک آفس آرڈر کے ذریعے سے 8 ممالک کی 9 فضائی کمپنیوں کو اپنے ملک میں کمپیوٹر لیب ٹاپ ، آئی پیڈ ، ڈی وی ڈی پلیئر اور گیم پلیئر سمیت ایک خاص سائزسے بڑے ڈیجیٹل آلات لانے سے روک دیا ہے۔ امریکی اور برطانوی پابندیوں کا اطلاق 10 ہوائی اڈوں سے پرواز کرنے والی پر، نو فضائی کمپنیوں پر ہو گا۔ جن میں محمد شیخ انٹر نیشنل ائیر پورٹ ، اتاترک ائیر پورٹ، استنبول ترکی، قاہرہ انٹرنیشنل ائیر پورٹ مصر، ملکہ عالیہ انٹرنیشنل ائیرپورٹ، اومان ، اردن، شاہ عبدالعزیز ائیر پورٹ ، کویت انٹرنیشنل ائیر پورٹ، انٹر نیشنل ائیرپورٹ قطر، ابوظہبی انٹرنیشنل ائیر پورٹ، متحدہ عرب امارات ائیرپورٹ اور دبئی ائیر پورٹ بھی شامل ہیں۔

جبکہ کمپنیوں میں رائل اردن، مصر ائیر، ترکش ائیر لائن ، رائل ائیر مراکش، قطر ائیر لائن بھی شامل ہیں۔ برطانوی حکم نامے سے برطانیہ میں کام کرنے والی چھ فضائی کمپنیاں بھی متاثرہوں گی۔ برٹش ائیر وئیر اورایزی جیٹ بھی ان میں شامل ہیں۔ پابندی سے ڈیڑھ  کروڑ مسافر متاثر ہوں گے۔ 2017ء میں ان ائیر پورٹ سے سالانہ ایک کروڑ 42 لاکھ مسافروں نے سفر کیا جن میں لاکھوں امریکی اور برطانوی شہری بھی شامل تھے۔ تقریبا سوا لاکھ مسافر جدہ ائیر پورٹ اور اٹھارہ لاکھ ابوظہبی سے اڑنے والی پروازوں میں برطانیہ گئے تھے۔ حکم کی پیروی کرتے ہوئے فضائی کمپنیوں نے اپنے مسافروں کو بھی ایسے آلات لا نے سے روکتے ہوئے انہیں خبردار کیا ہے کہ اگران کے پاس سے اس قسم کی کوئی چیز برآمد ہوئی تو طیارے سے اتارا بھی جا سکتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ بکنگ کی صورت میں ان حساس آلات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ، دوسرے یہ کہ ان کی وارنٹی بھی ختم ہو جائے گی۔

کاروباری افراد بھی اس حکم سے متاثر ہوں گے جو اپنا ایک ایک لمحہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ایک فضائی کمپنی کا کہنا ہے کہ پابندی اکتوبر کے آخر میں ختم ہو جائے گی مگر ایسا نہیں ہو گا ، وہ یہ بات شائد امریکی سینیٹر فینسٹائن کی بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہہ رہے ہیں جن کے مطابق امریکی صدرٹرمپ کی حکومت جلد ہی ختم ہونے والی ہے۔ مگر ایسا نہیں ہو گا۔ اگرٹرمپ کو صدر بنانے میں کسی پلان کا عمل دخل ہے تو جنہوں نے یہ پلان بنایا ہے وہ اس وقت بھی موجود ہیں اورحکومت کی پشت پر بھی ہوں گے اس لئے فضائی کمپنیاں لمبی مدت کوپیش نظر رکھتے ہوئے تیاری کریں۔

صہیب مرغوب

اور لگائو سفری پابندیاں ! سیاحوں کی تعداد میں 63 لاکھ کی کمی، طیاروں میں سیٹیں خالی

جنوری اور فروری امریکہ میں ٹور ازم انڈسٹری کے لیے اچھے ثابت نہیں ہوئے۔ حتیٰ کہ امریکہ اور برطانیہ کے مابین خالی فلائٹوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک امریکی افسر کے مطابق سوا تین لاکھ میں سے صرف سوا سو افراد سفری پابندیوں کا نشانہ بنیں گے۔ لیکن یہ تو تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ پابندی کے اگلے ہی روز امریکی ہوائی اڈے ’’جیل خانوں‘‘ کا سا منظر پیش کر رہے تھے۔ ہوائی اڈے کے ہر کونے میں سینکڑوں لوگوں سے پوچھ گچھ جاری تھی۔ چند دنوں کے اندر اندر بہت سے افراد ڈی پورٹ کر دئیے گئے تھے۔ امریکہ کا سفر نہ کرنے کے حوالے سے جاری کردہ ٹریول گائیڈز نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اب نا صرف غیر ملکی بلکہ امریکی خود بھی سفر سے گریزاں ہیں۔ متعدد پروفیشنلز نے بھی امریکہ میں ہونے والی کانفرنسوں میں شرکت نہ کرنے میں ہی عافیت جانی۔

شائد برطانیوں کو امریکہ روانگی میں دل چسپی نہیں رہی ۔ ’’گلوبل انسٹی ٹیوٹ فار ٹریو ل ‘‘کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف ایک ہفتے میں امریکہ کی بکنگ میں 18.5 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اگرچہ عالمی طور پر ٹور ازم انڈسٹری میں 2016ء میں ایک فیصد انحطاط دیکھنے میں آیا مگر امریکہ کے لئے فلائٹس کی بکنگ میں 22 فیصد تک کمی کچھ اور ہی ظاہر کرتی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان سانس فرانسسکو ، نیو یارک اور لاس ویگاس کو ہوا ہے۔ جہاں آن لائن بکنگ میں کمی کے بعد ہوٹل نے اپنے کرائیوں میں 32 سے 40 فیصد تک کمی کر دی ہے۔ صرف فلاڈیلفیا میں ایک بڑی کانفرنس منسوخ ہونے سے شہری حکومت کو کم از کم 70 کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔xd7.jpg.pagespeed.ic.an5YKZ5gr_

انتخابات سے پہلے تو فلاڈیلفیا کی شہری انتظامیہ کو سیاحوں کی تعداد میں 4 لاکھ اضافے کی توقع تھی لیکن اس ان کی تعداد میں مسلسل کمی نے شہری انتظامیہ کے ہوش اڑا دئیے ہیں۔ بعض دوسرے شہروں کے لئے سیاحوں کی تعداد میں پچھلے سال کے مقابلے میں تین لاکھ کی کمی ہونے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ امریکہ نے صرف 6 ممالک کے مہاجرین اور سیاحتی ویزہ رکھنے والوں کی آمد پر پابندی لگائی ہے۔ لیکن برطانیہ میں ان ممالک کے سے تعلق اور دوہری شہریت رکھنے والوں کو امریکہ کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے اسی لئے امریکہ جانے والی کئی فلائٹس میں خال خال ہی مسافر دکھائی دیتے ہیں۔ ایک فرم نے سال بھر میں سیاحوں کی تعداد میں 63 لاکھ کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ جس سے امریکہ کو 11 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔

کیا امریکا اور چین میں جنگ ہونے کو ہے؟

راج مینن Anne and Bernard Spitzer چیئر رکھنے والے ممتاز امریکی پولیٹیکل سائنٹسٹ ہیں۔ وہ سٹی یونیورسٹی نیویارک کے Powell اسکول میں بین الاقوامی تعلقات عامہ کے پروفیسر ہیں۔ راج مینن کولمبیا یونیورسٹی کے Saltzman انسٹی ٹیوٹ آف وار اینڈ پیس کے سنیئر ریسرچ فولص بھی ہیں۔ جنگ و امن اور بین الاقوامی تعلقات کے موضوع پر ان کی سات کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں، جن میں ’ سوویت پاور اینڈ دی تھرڈ ورلڈ‘،’لیمٹس ٹو سوویت پاور‘،’Russia, the Caucasus, and Central Asia‘، ’انرجی اینڈ کونفلیکٹ ان سینٹرل ایشیا اینڈ دی کوکاسس‘،’دی اینڈ آف الائنسز‘، ’کونفلیکٹ ان یوکرائن؛ دی ان ونڈنگ آف دی پوسٹ کولڈ وار آرڈر‘،’دی کونسیٹ آف سی ہیومینٹرین انٹر وینشن‘ شامل ہیں۔ جنگ اور بین الاقوامی تعلقات پر ان کے مضامین اور تجزیے ممتاز اخبارات اور جرائد میں شایع ہوتے رہتے ہیں۔ زیرنظر مضمون میں انہوں نے امریکا اور چین کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگ کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، جس کا ترجمہ قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

چین قائم کی تو قوم پرست نقشے پر ڈیموکریشن لائن کو برقرار رکھا، جس کے تحت چین جنوبی چینی سمندر کے اہم حصوں پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس موقف پر بیجنگ کی پالیسی پر نیوی گیشن (بحری جہازوں کے گزرنے) اور اوور فلائٹ (ہوائی حدود کے استعمال) کے حقوق پر دوسرے ممالک کے تحفظات ہیں کہ کیا چین اسی وجہ سے زیادہ سے زیادہ طاقت ور ہوتا جا رہا ہے؟ یہ تحفظات بھی ہیں کہ ہر سال 5 کھرب ڈالر مالیت کا سامان جنوبی چینی سمندر سے گزرتا ہے۔ چین اور دیگر 167 ریاستوں نے 1994 میں اقوام متحدہ کے کنوینشن آن دی لا آف دی سی ( یو این سی ایل او ایس) کے تحت ہونے والے ایکسکلوزو اکنامک زون (ای زی زی) معاہدے پر دستخط کیے، تاہم اس معاہدے میں امریکا شامل نہیں تھا۔ اس معاہدے کی رو سے چین کو اپنے ساحل سے بارہ ناٹیکل میل کی حدود میں خود مختاری حاصل ہے۔ ای زی زی کے تحت چین کو ٹیریٹوریل (علاقائی) سمندر میں دو سو ناٹیکل میل تک ماہی گیری اور آبی وسائل استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، جب کہ وہ دیگر ریاستوں کو زمینی اور فضائی راستہ دینے کو یقینی بنانے کا پابند ہے۔

یو این سی ایل او ایس کے تحت ریاست کو ای زی زی کنٹرول زون میں مصنوعی جزائر، تنصیبات اور تعمیرات کرنے اور استعمال کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔ یہ حق موجودہ صورت حال میں ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ ان سب کو زیادہ پیچیدہ جو بات بنا رہی ہے وہ یہ ہے کہ چینی جنوبی سمندروں میں زیادہ تر جزائر اور کھاڑیوں کو جو چین کو ای زی زی کی بنیاد پر فراہم کی گئی ان پر یو این سی ایل او ایس کے تحت دوسرے ممالک بھی دعویٰ کر رہے ہیں۔ اور اسی بات نے ان جزائر پر چین کی فوجی تعمیراتی پراجیکٹس کی قانونی حیثیت پر سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اسی طرح توانائی کے وسائل، ماہی گیری کے حقوق اور زمینی ملکیت پر بھی دعویٰ کیے جارہے ہیں۔

اس پر بھی ہارڈ اور سافٹ دو نظریے ہیں۔ بیجنگ کا دعویٰ ہے اس نے جنوبی چینی سمندر میں بحری اور فضائی آمدورفت کو برقرار رکھا ہوا ہے، تاہم یہ حق جنگی بحری اور ہوائی جہازوں کو حاصل نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں جنگی جہازوں نے اس حدود کے قریب پروازیں کی ہیں اور امریکی جنگی جہاز بھی اس خطے میں چینی حدود کے باہر پروازیں کرتے ہیں۔ 2015 میں بھی چینی جنگی جہازوں نے اسپارٹلے جزائر کے سوبی ریف میں امریکی جہاز کو وارننگ دی تھی۔ اس جزیرے پر چین اور تائیوان دونوں ہی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ گذشتہ سال دسمبر میں بھی چینی بحریہ نے ایک زیرآب ڈرون کو پکڑلیا تھا جسے فلپائن کے ساحل کے قریب موجود امریکی جنگی جہاز Bowditch سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ تا ہم بعد میں اس جہاز کو چھوڑ دیا گیا۔ اسی نوعیت کے واقعات 2000 ,2001 2002 ,2009 ,2013اور 2014 میں بھی ہوئے۔ 2001 میں ہنین جزیرے کی سات سو میل کی حدود میں چین کی جانب سے امریکی بحری جہاز کے جاسوسی پر مامور جہاز EP3 کو چین میں زبردستی ایمرجینسی لینڈنگ کرائی گئی، جس پر عملے کے 24 ارکان سوار تھے۔ اس واقعے نے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی پیدا کردی تھی۔ چین نے عملے کو گیارہ دن بعد اور جہاز EP3 کو کھول کر تین ماہ بعد ٹکڑوں میں واپس کیا تھا۔

جنوبی چینی سمندر میں چین کی اجارہ داری کچھ نئی نہیں ہے۔ چین کا موقف ان پانیوں میں اپنے کم زور پڑوسیوں کے لیے بہت سخت رہا ہے۔ 1974میں اس کی افواج نے پراسیل/زیشا جزائر سے جنوبی ویت نام کی فوج کو بے دخل کر دیا تھا۔ بیجنگ ان جزائر پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن ابھی تک وہاں کا کنٹرول نہیں سنبھالا ہے۔ چین فضائی، بحری گشت اور سخت موقف کے ساتھ اسپارٹلے/نینشا جزائر پر بھی ملکیت کا دعوے دار ہے، جسے تائیوان، ویت نام، اور خطے کے دیگر ممالک مسترد کرتے ہیں۔ 1988 میں چین نے ویت نام کے زیرانتظام جانسن ریف پر بھی زبردستی قبضہ کر لیا تھا اور یہ اسپارٹلے جزائر میں اس کا ساتواں قبضہ تھا۔

جنوب مشرقی ممالک میں صرف ویت نام ہی چین کے برے رویے کا شکار ملک نہیں ہے۔ فلپائن اور چین دونوں ممالک فلپائن کے لوزون جزیرے سے 124 ناٹیکل میل فاصلے پر موجود Panatag (Scarborough) Shoal /Huangyang جزیرے کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ 2012 میں چین اس پر قابض ہوا، جب کہ 1995 میں بھی چین نے فلپائن کے پیلاوان جزیرے سے 129 ناٹیکل میل کے فاصلے پر موجود Panganiban (aka Mischief Reef) ریف سے فلپائن کو بے دخل کر دیا تھا۔ 2016 میں جب ہیگ کی ایک بین الاقوامی ثالثی عدالت نے Mischief Reef اور Scarborough Shoal جزیرے پر فلپائن کی حیثیت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا تو چین کی وزارت خارجہ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا، جب کہ چینی وزیراعظم ژی جن پنگ نے وزارت خارجہ کے اس بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی چینی سمندر زمانہ قدیم سے ہی چین کی ملکیت ہیں۔

چین ان جزائر پر فوجی تعمیرات میں مصروف ہے جس میں بڑے پیمانے پر مصنوعی جزائر، بندرگاہیں، فوجی ہوائی اڈے، گودام اور فوجی جہازوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہینگرز شامل ہیں، جب کہ چین نے ان میں سے کچھ جزائر پرراڈار سسٹمز، اینٹی ایئر کرافٹ میزائل اور اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹمٕ بھی نصب کررکھا ہے۔ اور یہی وہ پراجیکٹس ہیں جن کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ انہیں بند کر دیں گے، لیکن چین کی جنوبی چینی سمندر میں ان سرگرمیوں کو جاری رکھنے یا مستقل کرنے کے حوالے سے چین کے ارادوں کے بارے میں شکوک و شبہات ہیں۔ چینی قیادت ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دیے گئے بیانات اور دھمکیوں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے واضح کر چکی ہے کہ ’جنوبی چینی سمندر کے تنازعے میں امریکا فریق نہیں ہے اور اسے چاہیے کہ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جنوبی چینی سمندر میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے سے گریز کرے۔‘

قوم پرست چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے ٹرمپ کے دعویٰ کا تمسخر اڑاتے ہوئے اسے نتائج بھگتنے کی دھمکی دیتے ہوئے لکھا ہے ’امریکا کے پاس جنوبی چینی سمندر پر غالب ہونے کی طاقت نہیں ہے۔ اگر ٹیلر ایک بڑی نیوکلیئر طاقت کو اس کے اپنے علاقے سے بے دخل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ پہلے نیوکلیئر اسٹریٹیجی کے بارے میں اچھی طرح پڑھ لیں اور کیا انتظامیہ کو فوجی کارروائی کے اس دھمکی آمیز بیان کو فالو کرنا چاہیے تھا۔‘

گلوبل ٹائمز مزید لکھتا ہے کہ ’دونوں طرف فوجی تصادم کی بھرپور تیاری ہے‘ اعلیٰ چینی قیادت یہ بات واضح کر چکی ہے کہ بیجنگ جنوبی چینی سمندر میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس تنازعے کا حل چین اور اس کے پڑوسی ممالک کو نکالنا ہے اور واشنگٹن کے بہتر یہی ہے وہ اس معاملے میں اپنی ٹانگ مت اڑائے۔ دیکھا جائے تو چین کا دفاعی بجٹ امریکا کے دفاعی بجٹ کا بہ مشکل ایک چوتھائی ہو گا جب کہ امریکا کی بحری اور فضائی افواج چین کی نسبت زیادہ جدید اور ہلاکت خیز آلات سے لیس ہیں۔ تاہم اس کے باوجود چین کی جنوبی چینی سمندر پر دعوے کی قانونی صحت اور تاریخی صداقت پر بحث واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات میں موجود تلخی کو مزید بڑھا رہی ہے۔

اس میں اسٹریٹیجکلی اہم نقطہ یہ ہے کہ یہ علاقے امریکا سے ہزاروں میل کی دوری پر ہیں۔ چین اب تک طاقت ور تاریخی اور قوم پرستی کی یادوں کے ساتھ اپنی قومی شناخت اور وقار قائم رکھے ہوئے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ مغرب کے ہاتھوں دو صدیوں تک رسوا ہونے والا چین اب دنیا میں تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ 1990 سے اب تک چین 30 ارب ڈالر کا جدید روسی فوجی ساز و سامان خرید چکا ہے اور اپنے طور پر ایڈوانسڈ ویپنری (مختلف قسم کے ہتھیاروں کا مجموعہ) کی تعمیر اور ڈیولپمنٹ کی گنجائش رکھتا ہے۔ چین اپنی فوجی حکمت عملی سے جنوبی چینی سمندر میں ہونے والے کسی بھی تصادم میں امریکی بحریہ کو بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے، کیوں کہ اس کا محل وقو ع بھی اس کے اتحادی کے طور پر کام کرتا ہے۔ آخر میں بیجنگ وہاں ہار سکتا ہے، لیکن امریکا کو اس فتح کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑے گی، اور یہ ’فتح‘ کس نوعیت کی ہوگی؟

اگر ایک بار جنگ شروع ہوگئی تو پھر دونوں ممالک کے صدور کا پیچھے ہٹنا بہت مشکل ہو گا۔ ژی جن پنگ خود کو ٹرمپ کی طرح ایک مضبوط شخص قرار دیتے ہیں اور وہ اندرون ملک اور بیرون ملک اپنے دشمنوں کو شکست دینے کے اہل ہیں۔ اور جب چینی سرزمین اور اس کے وقار کے دفاع کی بات ہو تو وہ پیچھے نہ ہٹ کر انہیں اپنے اس تاثر کو برقرار رکھنا ضروری سمجھیں گے۔ ژی کو اسی طرح ایک اور مسئلے کا سامنا ہے۔ قوم پرستی ملک میں ماؤازم کو بہت پہلے ایک طرف کر چکی ہے۔ اگر جن پنگ اور ان کے ساتھی ٹرمپ کے چیلنجز کے سامنے پست ہمت ثابت ہوئے تو نہ صرف انہیں اپنی قانونی حیثیت کھونے کا خطرہ لاحق ہو گا، بل کہ عوام کے سڑکوں پر نکلنے کے امکانات بھی ہیں اور سوشل میڈیا کے دور میں ایسا بہت جلد ہو سکتا ہے۔ اور یہ چین جیسے سرکش ملک میں ایک ممنوع خیال ہے۔ یقیناً چین کی حکم راں جماعت اس خطرے کو بھی سمجھتی ہے کہ قابو سے باہر ہونے والی قوم پرستی سے اس کے اقتدار کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

چینی اخبار پیپلز ڈیلی نے حال ہی میں بین الاقوامی ثالثی عدالت کی جانب سے فلپائن کے حق میں ہونے والے فیصلے پر سوشل میڈیا فورمز اور سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کی اس خلاف عقل حب الوطنی کی مذمت کی۔ خارجہ پالیسی کو پہلی بار عوامی ردعمل سے دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر 2005 میں ملک بھر میں ہونے والے جاپان مخالف مظاہروں میں جاپانی نصابی کتب کے خلاف اشتعال انگیزی پیدا کی گئی کہ جاپان نے ان کتب میں دوسری جنگ عظیم کے دوران چین پر کیے گیے جاپانی ظلم وستم کے ناخوش گوار حصے حذف کر دیے۔ یہ مظاہرے کئی شہروں میں پھیل گئے اور صرف شنگھائی ہی میں سڑکوں پر مظاہرہ کرنے والے دس ہزار سے زاید مشتعل مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔ ابتدا میں قیادت نے ان ریلیوں کی حمایت کی لیکن بعد میں وہ انہیں قابو کرنے میں ناکام رہے۔

چین کے خلاف چڑھائی کی صورت میں صدر ٹرمپ خود اسی طرح کی صورت حال کا شکار ہو سکتے ہیں، کیوں کہ وہ بھی خود کو بہت مضبوط قرار دیتے ہوئے امریکا کا کھویا ہوا وقار واپس لانے اور اسے دوبارہ عظیم بنانے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ اُن کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اُن کی خود پرستی اور جیت کا تصور ہے جو انہیں ٹوئٹر کے ذریعے اشتعال انگیز پیغامات بھیجنے سے روکنے میں بھی ناکام ہے۔ ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ کیسے ایک صدر اپنے قریبی اتحادی ملک آسٹریلیا کے وزیراعظم کو فون کال کر کے غیرمہذب انداز میں دھمکی آمیز رویہ اختیار کرے۔ چین اور امریکا کے درمیان ہونے والے فوجی تنازعے میں دونوں فریق بات کو بڑھاوا دینے چاہتے ہیں، جو کہ ایٹمی جنگ کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے چینی برآمدات پر 45 فی صد ٹیرف لاگو کردیا ہے اور وہ متواتر چین کی مذمت کرتے ہوئے اس پر کرنسی میں ہیر پھیر اور امریکیوں کی ملازمتیں چرانے جیسے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، ان بیانات نے بھی دنیا کے دو طاقت ور ترین ملکوں کے درمیان تناؤ کی فضا پیدا کردی ہے۔

دسمبر میں تائیوانی صدرTsai Ing-wen کے ساتھ ہونے والی ٹیلے فونک گفت گو نے صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے، جس نے ان کی ’ون چائنا‘ پالیسی کے بارے میں کمٹمنٹ کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں جس پر امریکا 1972 سے قائم ہے۔ چینی حکام وائٹ ہاؤس پر یہ بات بالکل واضح کرچکے تھے کہ صدر ژی کو اس وقت تک پہلی فون کال بھی نہیں کی جانی چاہیے جب تک نئے صدر ون چائنا پالیسی کے ساتھ رہنے پر متفق نہیں ہو جاتے۔ نو فروری کو چینی صدر کے ساتھ ہونے والی طویل ٹیلے فونک گفت گو کے درمیان ٹرمپ نے ژی کو اس بات کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم نئے امریکی صدر کی سیمابی فطرت سے واقف چینی حکام ان کے بیانات اور طرزعمل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جلد یا بہ دیر اگر ٹرمپ نے چین کے ساتھ تنازعے کے معاملے پر اپنے جوش خطابت پر قابو نہیں پایا تو چین کے راہ نما بھی اس بات کو بڑھائیں گے جس سے صورت حال مزید سنگین ہوگی۔

اب تک تو انہوں نے ٹرمپ کو سمجھنے کے لے خود کو روک رکھا ہے جو کہ خود امریکیوں کے لیے بھی آسان کام نہیں ہے۔ ٹرمپ اور ان کے ساتھی اس بات پر بضد ہیں کہ چین وہی کرے جیسا وہ کہہ رہے ہیں۔ وہ اپنی ذات اور ملک کو ایسے پیچیدہ علاقائی مسئلے میں ملوث کررہے ہیں جو کہ امریکی ساحلوں سے بہت دور ہے۔ واشنگٹن اس گھمنڈ میں ہے کہ جیسے وہ ورلڈ آرڈر کا پاسبان ہو، لیکن مستقل اپنی خواہش کے مطابق قانون توڑ رہا ہے، چاہے وہ 2003 میں عراق پر چڑھائی ہو یا خفیہ قیدیوں کے گلوبل نیٹ ورک میں کھلے عام بدترین تشدد، اس تناظر میں امریکی طرزعمل غیرملکی طاقتوں کے سامنے عیاں ہے۔ اگرچہ یہ ٹرمپ ازم کا جز دکھائی دیتا ہے مگر اس کی جڑیں کافی پرانی ہیں۔

ٹرمپ کے جیتنے کے بعد واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ہونے والے تندوتیز بیانات کے تبادلے کو ہم نظرانداز نہیں کر سکتے۔ اسلحے کے بڑے ذخائر رکھنے والی دو حریف طاقتوں کے درمیان سیاسی محاذ آرائی بہت معنی رکھتی ہے۔ ایک دوسرے پر عدم اعتماد غلط معلومات کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ٹرمپ کی بدگوئی، تند مزاجی سے مرتب ہونے والے اثرات پر خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ لیکن ملکی سیاست میں ادارے اور قانون، شہری آرگنائزیشز، پریس اور عوامی احتجاج تو اپنا کام کر سکتے ہیں۔

بین الاقوامی سیاست میں بحرانی صورت حال اچانک رونما ہو سکتی ہے۔ اور امریکی صدور کے تند اور جلد بازی کے رویے پر نظر ثانی کا طریقہ ویسے بھی بہت کم زور ہے۔ وہ فوراً فوجی طاقت کے استعمال پر غور شروع کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی سیاسی طاقت اور معلومات کے بہاؤ سے رائے عامہ کو تبدیل کر سکتے ہیں (ذرا عراق جنگ کے بارے میں سوچیں)۔ اس صورت حال میں شہریوں کی تنقید اور بڑے احتجاج غداری یا بغاوت کو دعوت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی چینی سمندر میں تصادم اور دونوں اطراف بڑھتی ہوئی دشمنی کیوبن میزائل کرائسز طرز کی صورت حال پیدا کر سکتی ہے، جب کہ اس وقت امریکا کو جغرافیائی فائدہ بھی حاصل نہیں ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ چین اور امریکا میں جنگ ممکن نہیں ہوسکتی تو یہ پھر آپ پرانے وقتوں کی بات سوچ رہے ہیں، جب کہ ایسا نہیں ہے۔

Breitbart نیوز کے سابق ایگزیکٹیو چیئرمین اسٹیفن بینن اور اب ٹرمپ کے سیاسی چیف اسٹریٹیجسٹ (فوجی حکمت عملی کے ماہر ) پرشایع ہونے والی حالیہ خبریں دیکھیں۔ انہیں قومی سلامتی کونسل اور پرنسپل کمیٹی (روزانہ کی بنیاد پر قومی سلامتی کے معاملات پر مشاورت کے لیے قائم اعلیٰ ترین انٹر ایجنسی فورم) کے ہر اجلاس میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ان خفیہ اجلاسوں میں انہیں شرکت کی اجازت ٹرمپ کی خصوصی منظوری سے دی گئی ہے۔ ان اجلاسوں کی حساس نوعیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چیئرمین آف جوائنٹ اسٹاف اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر بھی اس وقت شرکت کرتے ہیں جب ان کی ذمے داریوں یا پیشہ ورانہ مہارت پر بات کی جا رہی ہو۔ بینن نے گذشتہ مارچ میں ایک ریڈیو انٹرویو میں چین کے بارے میں کہا تھا،’ہم اگلے 5 سے دس سالوں میں جنوبی چینی سمندر میں جنگ کرنے جا رہے ہیں ناں؟ اس بات میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ وہ وہاں ایئر کرافٹ کیریئر بنا کر ان پر میزائل نصب کر رہے ہیں۔ وہ یہاں امریکا میں ہمارے سامنے آ رہے ہیں اور آپ کو سمجھنا چاہیے یہ بات کتنی اہم ہے۔‘ بینن کی اس مہلک پیش گوئی کے بارے میں سوچیں۔ پھر نئے صدر کی سیمابی فطرت اور ان کی دی گئی ہدایت پر غور کریں۔ پھر اس اہم پیغام کو دیکھیں: یہ پرانا وقت نہیں ہے۔ امریکیوں کی بڑی تعداد تو جانتی بھی نہیں ہے کہ جنوبی چینی سمندر کہاں ہے۔‘

سید بابر علی / راجن مینن

کیا ایران اور امریکہ کشیدگی کے نئے دور کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

US-propaganda-for-waging-war-on-Iranڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار میں آئے ابھی تین ہفتے ہی گزرے تھے جب انھوں نے ایران کو ’دنیا کی درجہِ اوّل کی دہشتگرد ریاست‘ قرار دیتے ہوئے اسے ’سرکاری طور پر نوٹس‘ جاری کر دیا تھا۔ اس کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایران اور امریکہ کے تعلقات کشیدگی کے نئے دور کی جانب بڑھ رہے ہیں؟

امریکہ سے تعلقات یا روابط رکھنے والے ایرانیوں کے لیے یہ پریشانی کا دور ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ آنے والوں پر سفری پابندی والے سات ممالک میں ایران بھی شامل ہے جبکہ بڑی تعداد میں ایرانی نژاد لوگ امریکہ میں رہتے ہیں۔ امریکہ میں غیر ملکی طلبہ میں ایرانیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور وزٹ ویزے پر امریکہ آنے والوں میں بھی ایرانی سب سے آگے ہیں۔    RETHINKING-IRAN-monitor-us-iran-flagٹرمپ کی جانب سے سفری پابندی کو فی الحال عدالت نے معطل کر دیا ہے۔ پابندی کے اعلان کے بعد بی بی سی فارسی کو ایسے سینکڑوں ایرانیوں کے پیغامات موصول ہوئے جن کی زندگیاں بے یقینی کا شکار ہو گئی تھیں۔ ان کا تعلق تمام شعبہ ہائے زندگی سے تھا، محققین، طلبہ، ہم جنس پرست تارکینِ وطن، خاندانوں سے ملنے آئے بزرگ۔ اور بہت سے لوگوں کو ڈر ہے کہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ مگر صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے اب تک صرف ایرانی ہی پریشان نہیں۔ امریکہ بھر میں لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو ’پھاڑ پھینکنے‘ اور ایران کے خلاف پابندیوں کو ’تین گنا‘ کر دینے کا اپنا وعدہ پورا کر بھی سکیں گے یا نہیں۔ir3

اور اگر تہران اور واشنگٹن کے درمیان بیان بازی جاری رہی تو آئندہ مئی میں ہونے والے ایرانی انتخابات پر کیا اثر پڑے گا ؟ انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ’تباہ کن‘ قرار دیا تھا مگر ایرانی معاملات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا، اس کا بہترین پیمانہ ان کے وزیرِ دفاع جیمز میتھس کا بیان ہے۔ جنوری میں سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے جیمز میتھس کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ نامکمل معاہدہ ہے۔ مگر جب امریکہ زبان دیتا ہے تو اسے ہمیں پورا کرنا ہے۔‘ اوباما انتظامیہ میں ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق کورڈینیٹر گیری سامور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس معاہدے کو مزید سخت کرنے کی کوشش کرے۔

’مگر انھیں جلد ہی احساس ہوگا کہ کسی قسم کے بھی مذاکرات دوبارہ کرنے سے امریکہ کو پابندیوں میں مزید نرمی کرنی پڑے گی۔‘ بہت سے لوگ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس معاہدے پر صرف امریکہ کے دستخط نہیں ہیں۔ اگر ٹرمپ اس معاہدے سے پیچھے ہٹتے ہیں تو یورپی یونین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، اور روس سے دوری کا خطرہ مول لیں گے جس کی وجہ سے کسی قسم کی نئی پابندیوں پر عمل کروانا مزید مشکل ہو جائے گا۔ یونیورسٹی آف ڈینور کے مشرقِ وسطیٰ سینٹر کے نادر ہاشمی کہتے ہیں کہ معاہدے کو ناکام بنانے کے دیگر طریقے بھی ہیں۔

’میرے خیال میں ٹرمپ اس معاہدے کا انتہائی سختی سے نفاذ کریں گے اور امید کریں گے کہ ایران کہیں تو غلطی کرے اور پھر معاہدہ توڑنے کا الزام اس پر لگے۔‘ ادھر ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے قدامت پسند حامی صدر ٹرمپ کے جواب میں اب تک قدرے خاموش ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جھگڑالو صدر ان لوگوں کے لیے فائدے کی بات ہو سکتی ہے۔ ’بڑے شیطان‘ کے خلاف شعلہ بیانی کر کے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے والے آیت اللہ خامنہ ای امریکہ سے سخت لہجے میں بیان بازی کرنا خوب جانتے ہیں۔

حال ہی میں انھوں نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’ہم ٹرمپ کی ستائش کرتے ہیں۔ انھوں نے امریکہ کا اصل چہرہ بے نقاب کر کے ہمارا زیادہ تر کام کر دیا۔‘ جنوبی فلوریڈا کی یونیورسٹی میں امورِ ایران کے ماہر محسن ملانی کہتے ہیں کہ کچھ قدامت پسند عناصر صدر ٹرمپ کو ایسا شخص سمجھتے ہیں جن کے ساتھ وہ کام کر سکتے ہیں۔ ’ان کا ماننا ہے کہ وہ عملیت پسند غیر نظریاتی تاجر اور اچھے معاہدہ ساز ہیں جو کہ تہران کے ساتھ مذاکرات کرنے کو راضی ہوں گے۔‘

جس شخص کے لیے صدر ٹرمپ کا برسرِاقتدار آنا زیادہ خوش آئند نہیں ہے وہ ہیں موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی۔ انھیں مئی میں دوبارہ انتخاب لڑنا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی ان کی دو بڑی کامیابیوں، جوہری معاہدہ اور امریکہ سے تعلقات میں بہتری، پر تاریک سایہ ڈال سکتی ہے۔ جیسے ہی انتخابی مہم شروع ہوگی صدر روحانی کے مخالفیں ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کو حسن روحانی کے خلاف استعمال کریں گے۔ قومی ایرانی امریکی کونسل کی ترتا پارسی کہتی ہیں کہ ’اگر سفری پابندی ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اشارہ ہے تو اس سب سے ایرانی انتخابات پر ضرور اثر پڑ سکتا ہے۔‘

مگر کیا قدامت پسند کامیاب ہو سکیں گے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ اگرچہ پابندیوں کے خاتمے کے ٹھوس فوائد ایران میں بڑے پیمانے پر دیکھے جانا باقی ہیں۔ ایران کی عالمی سطح پر واپسی اور کاروبار کی توقع سے لاکھوں عام لوگوں کی امیدیں بڑھی ہیں۔ یہ واضح ہے کہ وہ اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کو واپس جاتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

امریکہ اور چین کی خطرے کے نشان کو چھوتی ہوئی کشیدگی

ساؤتھ چائنا سی (جنوبی بحیرہ چین) میں ‘فریڈم آف نیویگیشن’ یا جہاز رانی کی آزادی کے نام پر امریکی طیارہ بردار جہاز کارل ونس کی گشت سے چین اور امریکہ کے مابین کشیدگی خطرے کے نشان کو چھونے لگے گی۔ چین سے تعلق رکھنے والے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی فوج کی اس طرح کی کارروائیوں سے خطے میں حادثاتی طور پر جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔ امریکی بحریہ کے تھرڈ فلیٹ سے تعلق رکھنے والا یہ طیارہ بردار جہاز دس فروری کو مغربی بحرالکاہل کے جزیرے گوام پہنچا تھا۔ اس طیارہ بردار جہاز پر F 18 طیاروں سمیت ساٹھ طیارے موجود ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس امریکی جہاز جسے جاپان میں موجود طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس رونلڈ ریگن کی مدد بھی حاصل رہے گی اس کے ساؤتھ چائنا سی میں گشت کی نوعیت اور وسعت کیا ہو گی۔ لیکن ایک بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ساؤتھ چائنا سی جہاں سے ہر سال پانچ کھرب ڈالر مالیت کا تجارتی مال گزرتا ہے وہاں امریکی بحریہ کے گشت کو چین اشتعال انگیزی کی شکل میں دیکھ رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ میں وزیر خارجہ کے اہم عہدے پر فائز ریکس ٹلرسن نے اپنی نامزدگی کی توثیق کے لیے کانگرس کے سامنے پیش ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ساؤتھ چائنا سی میں بنائے گئے ان جزائر تک چین کی پہنچ کو روکنا ہو گا۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ نے امریکی طیارہ بردار جہاز کے ساؤتھ چائنا سی میں گشت کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین بین الاقوامی قوانین کے تحت دوسرے ملکوں کے اس خطے میں بحری اور فضائی حقوق کی پاسداری کرتا ہے لیکن کسی بھی ملک کی طرف سے جہاز رانی کی آزادی کے بہانے اپنی خودمختاری اور سکیورٹی کے خلاف کوئی اقدام برداشت نہیں کرے گا۔ چین ساؤتھ چائنا سی کے تقریباً تمام حصے پر جن میں چین کے ساحل سے آٹھ سو میل دور یہ جزائر بھی شامل ہیں ان پر اپنی ملکیت کا دعوئیدار ہے۔ چین نے گذشتہ ہفتے ہی اس خطے میں اپنی بحری مشقیں مکمل کی ہیں جس میں اس کے طیارہ بردار جہاز نے بھی حصہ لیا اور جس کی وجہ سے خطے کےدوسرے ملکوں میں تشویش بھی پائی جاتی تھی۔

امریکہ کے مطابق چین نے سنہ 2014 سے اب تک سپارٹلی جزائر میں تین ہزار ایکڑ زمین سمندر سے نکال لی ہے۔ اس سمندر میں امریکی بحریہ کی نقل و حرکت کوئی اتنی غیر معمولی بات بھی نہیں ہے۔ ایک سال قبل یو ایس ایس جان سی سٹینس نے اس طرح کا چکر لگایا تھا۔ کارل ونس اس سے قبل 2015 میں بھی اس خطے میں آ چکا ہے۔ 35 سال قبل امریکی بحریہ میں شامل کیے جانے کے بعد سے اب تک یہ جہاز اس خطے میں 16 آپریشن کر چکا ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق گذشتہ ہفتے ایک لڑاکا بحری جہاز یو ایس ایس کوروناڈو جو عارضی طور پر سنگاپور میں لنگر انداز ہے اس نے بھی ساؤتھ چائنا سی کے اسی علاقے میں تربیتی آپریشن کیے تھے۔

اسی سمندر میں گزشتہ برس چینی بحریہ نے ایک امریکی بحری ڈرون کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ امریکہ نے کہا تھا اس کا یہ بحری ڈرون سمندری سطح کے سروے کے مشن پر تھا۔ امریکی کی درخواست پر چند دن بعد چینی حکام نے یہ ڈرون امریکہ کے حوالے کر دیا تھا۔ ایسی کارروائیوں سے کس حادثاتی جھڑپ یا لڑائی شروع ہونے کے امکان کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے چینی تجزیہ کار ساؤتھ چائنا سی میں نگرانی کرنے والے ایک چینی طیارے اور ایک امریکی طیارے کی آپس میں ٹکر سے بال بال بچ جانے کے واقع کا حوالہ دیتے ہیں۔ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ساؤتھ چائنا سی کا یہ حصہ اکیسویں صدی کے ‘بحری سلک روڈ’ یا بحری شاہراہ ریشم کی اہم کڑی ہے۔

اخبار کا کہنا تھا کہ طیارہ بردار جہاز اس خطے میں بھیج کر نئی امریکی انتظامیہ اشتعال انگیزی اور خطے کے ملکوں اور چین کے درمیان خیلج پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اخبار کے خیال میں اس سے امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گی اور اس سے دونوں ملک کی افواج کے درمیان تصادم بھی ہو سکتا ہے۔