مودی کو بلوچستان کا کرارا جواب : انصار عباسی

انصار عباسی

 

Advertisements

جو دب گیا وہ مر گیا

پچھلے دو ہفتے سے بالخصوص بھارت اور پاکستان کی قیادت ایک دوسرے کے بارے میں جو لفظیات استعمال کر رہی ہے، اس کے بعد سے دونوں ممالک میں موجود انتہا پسند جنگجوانہ سوچ کے پرچارک یقیناً خوشی سے نہال ایک ٹانگ پر ناچ رہے ہیں۔ جنگجوئی ایسی صنعت ہے جس میں بے انتہا فوری منافع ہے۔ جیسے سالن خراب ہو جائے تو اس میں مرچیں تیز کر دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اسی طرح اپنی خامیاں چھپانے کا اس سے اچھا طریقہ کیا ہو سکتا ہے کہ سامنے والے سے بھڑ جاؤ۔ پبلک اپنا اصل مسئلہ بھول بھال کر نئے تماشے میں لگ جائے گی۔ لفظی جنگ جیتنے کے لیے دلائل کی قطعاً ضرورت نہیں، بس آواز بلند اور شور مسلسل رہنا چاہیے۔ جو دب گیا وہ مرگیا۔

اب تک تو یہ تھا کہ دونوں ممالک کی لفظی جنگ کشمیری محور کے گرد تھی۔لیکن کشمیر میں مبینہ پاکستانی مداخلت اور بلوچستان میں مبینہ بھارتی مداخلت کے لگاتار الزامات کے سبب اب یہ لفظی جنگ پھیلتے پھیلتے پریشانی کی سرحدوں میں داخل ہو رہی ہے۔ یہ تو کوئی ماجھا بھی جانتا ہے کہ الفاظ ہی آگے چل کے بارود بن جاتے ہیں۔ لفظی جنگ میں یہ پرواہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ کس کے بارے میں کیا کہنے سے کس کو کتنا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مثلاً کشمیر تنازعے سے توجہ ہٹانے کے لیے مودی کا بلوچستان کو بیچ میں لانا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لیے کسی سٹرٹیجک من و سلویٰ سے کم نہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے جب جب پاکستان کی آواز کشمیریوں کی آواز سے بھی اوپر نکلنے لگتی ہے تو بھارت کو دنیا کی توجہ کشمیری جدو جہد سے ہٹانے کے لیے سرحدپارسے مداخلت کے پروپیگنڈے کی سنہری مچھلی  ہاتھ آ جاتی ہے۔

بلوچستان کا مسئلہ سیاسی و انسانی ضرور ہے مگر اس کا کشمیر سے موازنہ بھی لفظی جنگ میں برتی جانے والی بددیانتی کی اعلیٰ مثال ہے۔ بلوچ بے چینی کشمیر کی طرح بین الاقوامی نہیں بلکہ وفاقِ پاکستان کے ایک یونٹ اور مرکزی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کا جھگڑا ہے۔ کشمیر پر دو ممالک یعنی بھارت اور پاکستان کا کلی اور ایک ملک یعنی چین کا جزوی دعویِٰ ملکیت ہے۔ مگر بلوچستان پر نہ ایران کا ملکیتی دعوی ہے نہ افغانستان کا۔ ہاں اگر پاکستان بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں جاری نکسل تحریک یا شمالی مشرقی بھارتی ریاستوں کی مسلح قوم پرست تحریکوں کی بابت اپنی دخل در معقولات رائے دیتا  تب مودی جی کے پاس بھی جواز تھا کہ وہ بلوچستان اور سندھ کا طعنہ دیں۔ لیکن سیاق و سباق سے ہٹ کر محض کشمیر کے تازہ انتفادہ سے توجہ ہٹانے کے لیے بلوچستان کو بیچ میں گھسیٹنا پوائنٹ اسکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔

البتہ کشمیر کا کسی بھی طور کوئی قریب ترین موازنہ بنتا ہے تو مشرقی تیمور یا فلسطین سے بنتا ہے۔ مگر پاکستان کے کسی باقاعدہ صوبے سے کشمیر کا موازنہ ایسا ہے کہ ایک تیلی اور جاٹ کسان کی تو تو میں میں کے دوران تیلی نے کہا جاٹ رے جاٹ تیرے سر پے کھاٹ۔ جاٹ نے ترنت جواب دیا، تیلی رے تیلی تیرے سر پے کولہو۔ تیلی نے کہا جاٹ جی مجا نئیں آیا، قافیے سے قافیہ ملا نہیں۔ جاٹ نے کہا، ابے مرغی کے ، قافیہ ملے نہ ملے سر پے کو لہو رکھنے سے تیری ایسی تیسی تو ہوگئی۔ جس زمانے میں بھارتی پنجاب میں خالصتان علیحدگی پسند تحریک چل رہی تھی تو پاکستان کی جانب سے اس کی مبینہ مدد کا تاثر اپنی جگہ مگر پاکستان نے انڈین یونین میں پنجاب کی موجودگی کو متنازعہ بنانے یا چیلنج کرنے سے گریز کیا۔ کیونکہ ایسے موقف کو کوئی بھی سنجیدگی سے نہ لیتا۔ لیکن اب بلوچستان کا لفظ مودی کی زبان پر آنے کے بعد تیلی رے تیلی تیرے سر پے کولہو کی منطق غیر سنجیدگی و غیر ذمے داری کے رویے کو دوطرفہ بڑھاوا دے سکتی ہے۔

بلوچستان کی بابت پاکستان میں گفتگو کرنے والے ابھی بہت لوگ باقی ہیں۔ اس مسئلے پر مودی اسٹائل موقع پرستانہ ہمدردی کی ضرورت نہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے کشمیر کے معاملے پر ارون دھتی رائے اور برکھا دت کے موقف کو محترم حافظ سعید اعلانیہ و اخباریہ سراہیں۔ جس زمانے میں جنرل ضیا الحق کی جابریت عروج پر تھی تو کراچی کے بھارتی قونصل خانے میں ایک اردو مشاعرے کا انعقاد ہوا ( غالباً پارتھا سارتھی قونصل جنرل تھے)۔ مشاعرے میں حبیب جالب بھی مدعو تھے۔ شعرا و سامعین کی آبی و کبابی تشفی کے بعد مشاعرہ جما۔ حبیب جالب کی باری آئی تو کسی نے فرمائش کی کہ جالب صاحب وہ نظم ضرور سنائیے گا ’’ ظلمت کو ضیا ، صر صر کو صبا ، بندے کو خدا کیا لکھنا ‘‘۔

جالب نے چشمہ اتارتے ہوئے کہا ’’ برخوردار اس جگہ نہیں سناؤں گا۔ باہر فٹ پاتھ پر آجانا۔ جتنی بار کہو گے سناؤں گا ‘‘…جہاں تک مودی کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر یا گلگت بلتستان پر برسنے کا معاملہ ہے تو متنازعہ علاقہ ہونے کے سبب کوئی بھی بھارتی کچھ بھی کہہ سکتا ہے جیسے کوئی بھی پاکستانی بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے بارے میں کوئی بھی رائے دے سکتا ہے۔ مگر اس بابت مودی جی کے مزید کچھ کہنے سے لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب سری نگر کے حالات بہرحال ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر یا گلگت بلتستان میں سیاسی گھٹن کا ماحول ضرور ہے مگر اتنا نہیں کہ مظفر آباد کے لوگ بھارتی ترنگا لہراتے ہوئے سڑک پر نکل آئیں۔ یہاں کی پولیس کے پاس لوگوں کو نابینا کرنے کے لیے چھرے والی بندوقیں نہیں ہیں۔ یہاں لوگ غائب ضرور ہوئے ہیں مگر اجتماعی قبریں نہیں ہیں۔ یہاں فوج اور نیم فوجی و حساس ادارے ضرور ہیں مگر بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کی طرح انھیں اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے بے لگام اختیارات حاصل نہیں اور ہر ایک کلومیٹر پر فوجی چوکی بھی نہیں۔

المیہ یہ نہیں کہ بھارت اور پاکستان کی قیادت کس طرح لفظی جنگ میں لاکھوں لوگوں کے ارمان بطور ایندھن استعمال کر رہی ہے بلکہ المیہ یہ ہے کہ دونوں قیادتوں کا موقف اور حکمتِ عملی وقتی ضرورتوں کے حساب سے مستقل ٹھنڈی گرم، منفی و مثبت ، عقل و بے عقلی کی سان پر چڑھی رہتی ہے۔ چنانچہ سائل پریشان ہی رہتا ہے کہ دلی و اسلام آباد  کے کس بیان اور کس موقف پر اعتبار کرے اور کسے نظر انداز کردے۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ ورلڈ ریسلنگ انٹر ٹینمنٹ ( ڈبلیو ڈبلیو ای ) یا ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن ( ڈبلیو ڈبلیو ایف ) اپنی رکنیت اگر پروفیشنل اداکار پہلوانوں کے ساتھ ساتھ ممالک کے لیے بھی کھول دیں تو بھارت اور پاکستان کو ان کے ستر سالہ کمرشل ریسلنگ ریکارڈ کی بنیاد پر دونوں فیڈریشنز ’’ یا استاد ’’ کہتے ہوئے ہاتھ جوڑ کے رکنیت پیش کریں گی۔

وسعت اللہ خان

کوئٹہ سانحہ : سارے دوست چلے گئے اب کیا کہوں

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گذشتہ 11 سالوں سے بار اور بینچ مسلسل حملہ آوروں کے نشانے پر ہے۔ اس عرصے میں پر تشدد واقعات میں تین ججز اور 41 سے زیادہ وکلا ہلاک ہو چکے ہیں۔ شہر پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور نگاہیں اور انتظامی گرفت روز بروز مضبوط ہونے کے باوجود دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگز کا سلسلہ رک نہیں پایا۔

کوئٹہ میں وکلا اور ججوں پر حملوں کی ٹائم لائن

فروری 2007 میں کوئٹہ ڈسٹرکٹ کورٹ میں خودکش حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کمرہ عدالت میں موجود سینیئر سول جج عبدالوحید درانی اور چھ وکیلوں سمیت 11 افراد ہلاک اور 30 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

سات جولائی 2008 کوئٹہ میں جان محمد روڑ پر نامعلوم حملہ آوروں نے وکیل غلام مصطفیٰ قریشی کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ ان کا تعلق اہل تشیع فرقے سے تھا۔

چھ ستمبر 2010 کو کوئٹہ کے وکیل زمان مری کی گولیوں سے چھلنی لاش مستونگ سے ملی تھی انھیں کوئٹہ سے اغوا کیا گیا تھا، اسی طرح کوئٹہ سے ہی لاپتہ وکیل علی شیر کرد کی تشدد شدہ لاش 24 ستمبر 2010 خضدار سے ملی تھی۔

30 اگست 2012 کو کوئٹہ میں واقع منیر مینگل روڈ پر سیشن جج ذولفقار نقوی ان کے گارڈ اور ڈرائیور کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ چار اپریل 2013 کو سابق ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان صلاح الدین مینگل کو سریاب روڈ سے اغوا کیا گیا اور تقریباً ایک ماہ بعد ان کی بازیابی عمل میں آئی تھی، ان کی رہائی کے لیے تاوان طلب کیا گیا تھا۔

دو سال کے وقفے کے بعد 20 جون 2014 کوئٹہ کے جناح ٹاؤن میں فائرنگ کے ایک واقع میں ماحولیات سے متعلق ٹربیونل کے جج سخی سلطان ہلاک ہوگئے۔

11 نومبر 2014 انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نظیر لانگو ایک بم حملے میں محفوظ رہے۔ اس واقع میں ایک شخص ہلاک اور 20 افراد رخمی ہوگئے تھے۔

آٹھ جون 2016 کو سپن روڈ پر بلوچستان لا کالج کے پرنسپل بیریسٹر امان اللہ

اچکزئی کو حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا، اسی طرح تین اگست کو ایڈووکیٹ جہانزیب علوی کو فیصل ٹاؤن میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

8 اگست کو بلال انور کاسی منوجان روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ میں ہلاک ہوئے، جن کی لاش جب سول ہپستال پہنچائی گئی تو خودکش حملہ کیا گیا، جس میں تاحال بار کے صدر باز محمد کاکڑ سمیت کم از کم 34 وکلا ہلاک ہو چکے ہیں۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر علی احمد کرد سے جب بی بی سی نے رابطہ کیا تو وہ ہسپتال میں موجود تھے۔ صدمے سے دوچار سینیئر وکیل کا کہنا تھا کہ ’سارے دوست چلے گئے، جونیئر چلے گئے، وکلا کی ایک بہت بڑی تعداد ختم ہوگئی اب کیا کہوں۔ پہلے خدشات تھے لیکن اب تو عملی طور پر ہوگیا۔‘ کوئٹہ میں ججز اور وکلا پر حملوں اور ہلاکتوں پر انسانی حقوق کمیشن بھی اپنے خدشات کا اظہار اور سکیورٹی فراہم کرنے کی سفارشات پیش کرچکا ہے۔

کمیشن کے صوبائی صدر طاہر خان کے مطابق وکلا کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس انٹیلیجینس معلومات ہوتی ہے، ان کے پاس جن کی معلومات آتی ہے ان کو پکڑ لیں اور اگر کسی سے مالی معاونت ہو رہی ہے تو اس کو تلاش کیا جائے۔ ’کبھی ضرب عضب تو کبھی قومی ایکشن پلان ان میں کامیابی حاصل کیوں نہیں ہوتی، یہ عناصر کیسے بچے ہوئے ہیں، ان کے لیے سنگین اقدامات کی ضرورت ہے اور خارجہ پالیسی پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے۔‘ تجزیہ نگار فرید کاسی کے اس حملے میں چھ رشتے دار ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا واقعہ اس لیے بڑا ہے کہ جو حق اور انصاف کے لیے کھڑے ہوتے ہیں انھیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ’یقیناً صورتحال بہتر ہو رہی ہے لیکن اس قسم کے واقعات کا ہونا بھی تو اداروں کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔‘

ریاض سہیل

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

Pasni

Gwadar Port looking towards the Gulf of Oman
Gwadar Port looking towards the Gulf of Oman 
Pasni (Urduپسنى‎), is a medium-sized town and a fishing port in Gwadar DistrictBalochistanPakistan. Its population is around 33.000.[1] It is located on the Makran coast on Arabian Sea about 300 km from Karachi. Administratively, Pasni is the headquarters of the Pasni sub-division ofGwadar district that includes Pasni and Ormara Tehsils (tehsil – county) as well as Astola Island which lies 40 km ESE of Pasni, in the Arabian Sea. The city of Pasni is itself administratively subdivided into two Union Councils.[2]

Topography

The topography of the area is marked by low jagged hills of the Makran Coastal Range, while flat land is more common towards the coast. Jabal Zarain is a small hill astride a promontory (Cape or Ras Jaddi) south of Pasni and marks the highest point (416′ ASL) in the area. The unspoilt and pristine beaches of Pasni offer some of the most enchanting sceneries along the Arabian Sea. Shadi Kaur (river) fed by adjoining rain water streams, drains into the Arabian Sea just north of the town. Vegetation is sparse and consists mostly of hardy desert shrubs. Most of the non-marine edible products are brought in from Turbat as well as faraway Karachi.
Pasni town, like the rest of Makran Coast, is affected by a seismic fault line (Makran Accretionary Front) caused by the northward movement (40–50 mm/year) of the Arabian Plate against theEurasian Plate. Tectonic activity emanating from this subduction zone in the Arabian Sea causes occasional, low intensity quakes. On 28 Nov, 1945, a tsunami, triggered by a submarine earthquake (7.8 Richter), completely destroyed Pasni town.

Demography

Various kinship groups exist side by side in Pasni. These include RaisKhodai[disambiguation needed]KalmatiSangur, and Shahzada[disambiguation needed] who belong to traditional ruling communities and currently, tend to dominate land ownership and the fishing industry. Pasni also has some other castes such as BarrJadgaalWadaila people living in this small town, but the working classes have traditionally comprised MedhDarzada, Push, Maqsoodi and Naqeeb, some of whom are groups that were historically slaves of the ruling families. People of East African ancestry commonly known as ‘Sheedis‘ can also be found in Pasni in small numbers; this African lineage is found at low frequency in the rest of Makran, as well as Karachi. ‘Sheedis’ are mostly descended from female slaves brought in as concubines in the early 19th century, when slave trade flourished under Omani Sultans whose suzerainty extended over Gwadar till 1958. [1]

Facilities

The town houses a modern fish harbour and Port of Pasni, with fishing being the main occupation of the town dwellers. Frozen catch is also sent to Turbat and Karachi for sale in the larger markets.
A joint-user airfield is shared by Pakistan Air Force (PAF), Pakistan Navy and civil aviation. PAF as well as PN-Aviation operational facilities are housed nearby. Daily commercial flights link the town with Karachi.
In 2008, the government approved the construction of Shadi Kaur storage dam near Pasni, which is expected to alleviate some of the power deficiency of the region.[3]

History

Other than being a small fishing village, the town does not figure much in history. Alexander the Great is said to have stopped at Pasni (called ‘Cysa’ in Arrian’s treatise Indica) while unsuccessfully trying to rendezvous with his admiral, Nearchus, during a disastrous exodus via Makran after the Indian Campaign (325 BC). According to one theory, Admiral Nearchus’ well-stocked fleet was supposed to have continuously provisioned Alexander’s army as the latter marched West along the barren coast towards Persia. In the event, a major portion of Alexander’s route through Makran (Bela-Averan-Hoshab-Turbat and then south to Pasni-Gwadar) turned out to be much further inland than expected, apparently due to faulty knowledge of the terrain.[2]
An unexplored Harappan-era settlement known as Sokhta Koh is tucked away in the low hills, about 25 km north of Pasni. It is conjectured that this was an ancient Harappan outpost which traded luxury wares with Mesopotamia and Persian Gulf settlements.
The town of Pasni, along with Gwadar, were burned by the Portuguese in 1581, having had some violent encounters with the Kalmatis in the area.[4] The town was attacked again, by Baloch rebels during the 1898 Baloch uprising; the town was looted, and the telegraph lines running to Gwadar severed.[4]

Enhanced by Zemanta

Sui Gas Field

Sui gas field is the biggest natural gas field in Pakistan. It is located near Sui in Balochistan. The gas field was discovered in the late 1952 and the commercial exploitation of the field began in 1955.
Sui gas field accounts for 26% of Pakistan’s gas production.[1] Remaining reserves are estimated to be at about 2 trillion cubic feet (57×10^9 m3) and the daily production is around 604 million cubic feet (17.1×10^6 m3).
The operator of the field is Pakistan Petroleum Limited.
The law and order situation in Balochistan is a matter for concern for PPL. Repeated attacks on supply lines of natural gas from Sui gas field to rest of the country has become an order of the day. As a protective measure, Chief of Army Staff Ashfaq Pervez Kayani has ordered that Frontier Corps (FC) will take charge of Sui gas fields and army soldiers will be withdrawn from all over the province.[2]
Enhanced by Zemanta

Sui Blochistan

Sui (Urdu: سوی‎) is a sub-district of Dera Bugti District in Balochistan, Pakistan. The Sui gas field is located near Sui town.

  Location

Town of sui is at the corner where the provinces of Baluchistan, Sindh and Punjab meet. About 9 Km from Punjab, 10 Km from Sindh. River indus flows 25 Km to the East of it. It is 40Km south of Dera Bugti. Sui has gas compression facilities from where Natural gas is pipelined to nearby Punjab and Sindh towns. It is also pipelined to Quetta the largest city of Balochistan about 200 miles away.

 Administration

The town of Sui serves as the administrative centre of Sui tehsil, a subdivision of the district, the town of Sui itself functions as a Union Council.[1] It is at the corner where the province of Sindh and Punjab meet. About 6 miles from Punjab, 7 Miles from Sindh. River indus flows 20 miles to the East of it.
Enhanced by Zemanta

Dera Bugti

English: Nawan Brahumdagh Bugti sitting beside...
English: Nawan Brahumdagh Bugti sitting beside Shaheed Nawab Akber Khan Bugti in a cricket stadium of Sui,Dera Bugti 

Dera Bugti is a district within the Balochistan province of Pakistan.
Administration
The district is administratively subdivided into three sub-divisions, these are:[1]

  Population

The population of Dera Bugti district was estimated to be over 250,000 in 2005. Over 99% of the people of the area are Muslims. The Bugti is the Baloch tribe in the district.

Enhanced by Zemanta