جو دب گیا وہ مر گیا

پچھلے دو ہفتے سے بالخصوص بھارت اور پاکستان کی قیادت ایک دوسرے کے بارے میں جو لفظیات استعمال کر رہی ہے، اس کے بعد سے دونوں ممالک میں موجود انتہا پسند جنگجوانہ سوچ کے پرچارک یقیناً خوشی سے نہال ایک ٹانگ پر ناچ رہے ہیں۔ جنگجوئی ایسی صنعت ہے جس میں بے انتہا فوری منافع ہے۔ جیسے سالن خراب ہو جائے تو اس میں مرچیں تیز کر دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اسی طرح اپنی خامیاں چھپانے کا اس سے اچھا طریقہ کیا ہو سکتا ہے کہ سامنے والے سے بھڑ جاؤ۔ پبلک اپنا اصل مسئلہ بھول بھال کر نئے تماشے میں لگ جائے گی۔ لفظی جنگ جیتنے کے لیے دلائل کی قطعاً ضرورت نہیں، بس آواز بلند اور شور مسلسل رہنا چاہیے۔ جو دب گیا وہ مرگیا۔

اب تک تو یہ تھا کہ دونوں ممالک کی لفظی جنگ کشمیری محور کے گرد تھی۔لیکن کشمیر میں مبینہ پاکستانی مداخلت اور بلوچستان میں مبینہ بھارتی مداخلت کے لگاتار الزامات کے سبب اب یہ لفظی جنگ پھیلتے پھیلتے پریشانی کی سرحدوں میں داخل ہو رہی ہے۔ یہ تو کوئی ماجھا بھی جانتا ہے کہ الفاظ ہی آگے چل کے بارود بن جاتے ہیں۔ لفظی جنگ میں یہ پرواہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ کس کے بارے میں کیا کہنے سے کس کو کتنا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مثلاً کشمیر تنازعے سے توجہ ہٹانے کے لیے مودی کا بلوچستان کو بیچ میں لانا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لیے کسی سٹرٹیجک من و سلویٰ سے کم نہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے جب جب پاکستان کی آواز کشمیریوں کی آواز سے بھی اوپر نکلنے لگتی ہے تو بھارت کو دنیا کی توجہ کشمیری جدو جہد سے ہٹانے کے لیے سرحدپارسے مداخلت کے پروپیگنڈے کی سنہری مچھلی  ہاتھ آ جاتی ہے۔

بلوچستان کا مسئلہ سیاسی و انسانی ضرور ہے مگر اس کا کشمیر سے موازنہ بھی لفظی جنگ میں برتی جانے والی بددیانتی کی اعلیٰ مثال ہے۔ بلوچ بے چینی کشمیر کی طرح بین الاقوامی نہیں بلکہ وفاقِ پاکستان کے ایک یونٹ اور مرکزی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کا جھگڑا ہے۔ کشمیر پر دو ممالک یعنی بھارت اور پاکستان کا کلی اور ایک ملک یعنی چین کا جزوی دعویِٰ ملکیت ہے۔ مگر بلوچستان پر نہ ایران کا ملکیتی دعوی ہے نہ افغانستان کا۔ ہاں اگر پاکستان بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں جاری نکسل تحریک یا شمالی مشرقی بھارتی ریاستوں کی مسلح قوم پرست تحریکوں کی بابت اپنی دخل در معقولات رائے دیتا  تب مودی جی کے پاس بھی جواز تھا کہ وہ بلوچستان اور سندھ کا طعنہ دیں۔ لیکن سیاق و سباق سے ہٹ کر محض کشمیر کے تازہ انتفادہ سے توجہ ہٹانے کے لیے بلوچستان کو بیچ میں گھسیٹنا پوائنٹ اسکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔

البتہ کشمیر کا کسی بھی طور کوئی قریب ترین موازنہ بنتا ہے تو مشرقی تیمور یا فلسطین سے بنتا ہے۔ مگر پاکستان کے کسی باقاعدہ صوبے سے کشمیر کا موازنہ ایسا ہے کہ ایک تیلی اور جاٹ کسان کی تو تو میں میں کے دوران تیلی نے کہا جاٹ رے جاٹ تیرے سر پے کھاٹ۔ جاٹ نے ترنت جواب دیا، تیلی رے تیلی تیرے سر پے کولہو۔ تیلی نے کہا جاٹ جی مجا نئیں آیا، قافیے سے قافیہ ملا نہیں۔ جاٹ نے کہا، ابے مرغی کے ، قافیہ ملے نہ ملے سر پے کو لہو رکھنے سے تیری ایسی تیسی تو ہوگئی۔ جس زمانے میں بھارتی پنجاب میں خالصتان علیحدگی پسند تحریک چل رہی تھی تو پاکستان کی جانب سے اس کی مبینہ مدد کا تاثر اپنی جگہ مگر پاکستان نے انڈین یونین میں پنجاب کی موجودگی کو متنازعہ بنانے یا چیلنج کرنے سے گریز کیا۔ کیونکہ ایسے موقف کو کوئی بھی سنجیدگی سے نہ لیتا۔ لیکن اب بلوچستان کا لفظ مودی کی زبان پر آنے کے بعد تیلی رے تیلی تیرے سر پے کولہو کی منطق غیر سنجیدگی و غیر ذمے داری کے رویے کو دوطرفہ بڑھاوا دے سکتی ہے۔

بلوچستان کی بابت پاکستان میں گفتگو کرنے والے ابھی بہت لوگ باقی ہیں۔ اس مسئلے پر مودی اسٹائل موقع پرستانہ ہمدردی کی ضرورت نہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے کشمیر کے معاملے پر ارون دھتی رائے اور برکھا دت کے موقف کو محترم حافظ سعید اعلانیہ و اخباریہ سراہیں۔ جس زمانے میں جنرل ضیا الحق کی جابریت عروج پر تھی تو کراچی کے بھارتی قونصل خانے میں ایک اردو مشاعرے کا انعقاد ہوا ( غالباً پارتھا سارتھی قونصل جنرل تھے)۔ مشاعرے میں حبیب جالب بھی مدعو تھے۔ شعرا و سامعین کی آبی و کبابی تشفی کے بعد مشاعرہ جما۔ حبیب جالب کی باری آئی تو کسی نے فرمائش کی کہ جالب صاحب وہ نظم ضرور سنائیے گا ’’ ظلمت کو ضیا ، صر صر کو صبا ، بندے کو خدا کیا لکھنا ‘‘۔

جالب نے چشمہ اتارتے ہوئے کہا ’’ برخوردار اس جگہ نہیں سناؤں گا۔ باہر فٹ پاتھ پر آجانا۔ جتنی بار کہو گے سناؤں گا ‘‘…جہاں تک مودی کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر یا گلگت بلتستان پر برسنے کا معاملہ ہے تو متنازعہ علاقہ ہونے کے سبب کوئی بھی بھارتی کچھ بھی کہہ سکتا ہے جیسے کوئی بھی پاکستانی بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے بارے میں کوئی بھی رائے دے سکتا ہے۔ مگر اس بابت مودی جی کے مزید کچھ کہنے سے لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب سری نگر کے حالات بہرحال ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر یا گلگت بلتستان میں سیاسی گھٹن کا ماحول ضرور ہے مگر اتنا نہیں کہ مظفر آباد کے لوگ بھارتی ترنگا لہراتے ہوئے سڑک پر نکل آئیں۔ یہاں کی پولیس کے پاس لوگوں کو نابینا کرنے کے لیے چھرے والی بندوقیں نہیں ہیں۔ یہاں لوگ غائب ضرور ہوئے ہیں مگر اجتماعی قبریں نہیں ہیں۔ یہاں فوج اور نیم فوجی و حساس ادارے ضرور ہیں مگر بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کی طرح انھیں اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے بے لگام اختیارات حاصل نہیں اور ہر ایک کلومیٹر پر فوجی چوکی بھی نہیں۔

المیہ یہ نہیں کہ بھارت اور پاکستان کی قیادت کس طرح لفظی جنگ میں لاکھوں لوگوں کے ارمان بطور ایندھن استعمال کر رہی ہے بلکہ المیہ یہ ہے کہ دونوں قیادتوں کا موقف اور حکمتِ عملی وقتی ضرورتوں کے حساب سے مستقل ٹھنڈی گرم، منفی و مثبت ، عقل و بے عقلی کی سان پر چڑھی رہتی ہے۔ چنانچہ سائل پریشان ہی رہتا ہے کہ دلی و اسلام آباد  کے کس بیان اور کس موقف پر اعتبار کرے اور کسے نظر انداز کردے۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ ورلڈ ریسلنگ انٹر ٹینمنٹ ( ڈبلیو ڈبلیو ای ) یا ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن ( ڈبلیو ڈبلیو ایف ) اپنی رکنیت اگر پروفیشنل اداکار پہلوانوں کے ساتھ ساتھ ممالک کے لیے بھی کھول دیں تو بھارت اور پاکستان کو ان کے ستر سالہ کمرشل ریسلنگ ریکارڈ کی بنیاد پر دونوں فیڈریشنز ’’ یا استاد ’’ کہتے ہوئے ہاتھ جوڑ کے رکنیت پیش کریں گی۔

وسعت اللہ خان

کوئٹہ سانحہ : سارے دوست چلے گئے اب کیا کہوں

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گذشتہ 11 سالوں سے بار اور بینچ مسلسل حملہ آوروں کے نشانے پر ہے۔ اس عرصے میں پر تشدد واقعات میں تین ججز اور 41 سے زیادہ وکلا ہلاک ہو چکے ہیں۔ شہر پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور نگاہیں اور انتظامی گرفت روز بروز مضبوط ہونے کے باوجود دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگز کا سلسلہ رک نہیں پایا۔

کوئٹہ میں وکلا اور ججوں پر حملوں کی ٹائم لائن

فروری 2007 میں کوئٹہ ڈسٹرکٹ کورٹ میں خودکش حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کمرہ عدالت میں موجود سینیئر سول جج عبدالوحید درانی اور چھ وکیلوں سمیت 11 افراد ہلاک اور 30 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

سات جولائی 2008 کوئٹہ میں جان محمد روڑ پر نامعلوم حملہ آوروں نے وکیل غلام مصطفیٰ قریشی کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ ان کا تعلق اہل تشیع فرقے سے تھا۔

چھ ستمبر 2010 کو کوئٹہ کے وکیل زمان مری کی گولیوں سے چھلنی لاش مستونگ سے ملی تھی انھیں کوئٹہ سے اغوا کیا گیا تھا، اسی طرح کوئٹہ سے ہی لاپتہ وکیل علی شیر کرد کی تشدد شدہ لاش 24 ستمبر 2010 خضدار سے ملی تھی۔

30 اگست 2012 کو کوئٹہ میں واقع منیر مینگل روڈ پر سیشن جج ذولفقار نقوی ان کے گارڈ اور ڈرائیور کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ چار اپریل 2013 کو سابق ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان صلاح الدین مینگل کو سریاب روڈ سے اغوا کیا گیا اور تقریباً ایک ماہ بعد ان کی بازیابی عمل میں آئی تھی، ان کی رہائی کے لیے تاوان طلب کیا گیا تھا۔

دو سال کے وقفے کے بعد 20 جون 2014 کوئٹہ کے جناح ٹاؤن میں فائرنگ کے ایک واقع میں ماحولیات سے متعلق ٹربیونل کے جج سخی سلطان ہلاک ہوگئے۔

11 نومبر 2014 انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نظیر لانگو ایک بم حملے میں محفوظ رہے۔ اس واقع میں ایک شخص ہلاک اور 20 افراد رخمی ہوگئے تھے۔

آٹھ جون 2016 کو سپن روڈ پر بلوچستان لا کالج کے پرنسپل بیریسٹر امان اللہ

اچکزئی کو حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا، اسی طرح تین اگست کو ایڈووکیٹ جہانزیب علوی کو فیصل ٹاؤن میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

8 اگست کو بلال انور کاسی منوجان روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ میں ہلاک ہوئے، جن کی لاش جب سول ہپستال پہنچائی گئی تو خودکش حملہ کیا گیا، جس میں تاحال بار کے صدر باز محمد کاکڑ سمیت کم از کم 34 وکلا ہلاک ہو چکے ہیں۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر علی احمد کرد سے جب بی بی سی نے رابطہ کیا تو وہ ہسپتال میں موجود تھے۔ صدمے سے دوچار سینیئر وکیل کا کہنا تھا کہ ’سارے دوست چلے گئے، جونیئر چلے گئے، وکلا کی ایک بہت بڑی تعداد ختم ہوگئی اب کیا کہوں۔ پہلے خدشات تھے لیکن اب تو عملی طور پر ہوگیا۔‘ کوئٹہ میں ججز اور وکلا پر حملوں اور ہلاکتوں پر انسانی حقوق کمیشن بھی اپنے خدشات کا اظہار اور سکیورٹی فراہم کرنے کی سفارشات پیش کرچکا ہے۔

کمیشن کے صوبائی صدر طاہر خان کے مطابق وکلا کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس انٹیلیجینس معلومات ہوتی ہے، ان کے پاس جن کی معلومات آتی ہے ان کو پکڑ لیں اور اگر کسی سے مالی معاونت ہو رہی ہے تو اس کو تلاش کیا جائے۔ ’کبھی ضرب عضب تو کبھی قومی ایکشن پلان ان میں کامیابی حاصل کیوں نہیں ہوتی، یہ عناصر کیسے بچے ہوئے ہیں، ان کے لیے سنگین اقدامات کی ضرورت ہے اور خارجہ پالیسی پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے۔‘ تجزیہ نگار فرید کاسی کے اس حملے میں چھ رشتے دار ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا واقعہ اس لیے بڑا ہے کہ جو حق اور انصاف کے لیے کھڑے ہوتے ہیں انھیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ’یقیناً صورتحال بہتر ہو رہی ہے لیکن اس قسم کے واقعات کا ہونا بھی تو اداروں کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔‘

ریاض سہیل

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

Pasni

Gwadar Port looking towards the Gulf of Oman
Gwadar Port looking towards the Gulf of Oman 
Pasni (Urduپسنى‎), is a medium-sized town and a fishing port in Gwadar DistrictBalochistanPakistan. Its population is around 33.000.[1] It is located on the Makran coast on Arabian Sea about 300 km from Karachi. Administratively, Pasni is the headquarters of the Pasni sub-division ofGwadar district that includes Pasni and Ormara Tehsils (tehsil – county) as well as Astola Island which lies 40 km ESE of Pasni, in the Arabian Sea. The city of Pasni is itself administratively subdivided into two Union Councils.[2]

Topography

The topography of the area is marked by low jagged hills of the Makran Coastal Range, while flat land is more common towards the coast. Jabal Zarain is a small hill astride a promontory (Cape or Ras Jaddi) south of Pasni and marks the highest point (416′ ASL) in the area. The unspoilt and pristine beaches of Pasni offer some of the most enchanting sceneries along the Arabian Sea. Shadi Kaur (river) fed by adjoining rain water streams, drains into the Arabian Sea just north of the town. Vegetation is sparse and consists mostly of hardy desert shrubs. Most of the non-marine edible products are brought in from Turbat as well as faraway Karachi.
Pasni town, like the rest of Makran Coast, is affected by a seismic fault line (Makran Accretionary Front) caused by the northward movement (40–50 mm/year) of the Arabian Plate against theEurasian Plate. Tectonic activity emanating from this subduction zone in the Arabian Sea causes occasional, low intensity quakes. On 28 Nov, 1945, a tsunami, triggered by a submarine earthquake (7.8 Richter), completely destroyed Pasni town.

Demography

Various kinship groups exist side by side in Pasni. These include RaisKhodai[disambiguation needed]KalmatiSangur, and Shahzada[disambiguation needed] who belong to traditional ruling communities and currently, tend to dominate land ownership and the fishing industry. Pasni also has some other castes such as BarrJadgaalWadaila people living in this small town, but the working classes have traditionally comprised MedhDarzada, Push, Maqsoodi and Naqeeb, some of whom are groups that were historically slaves of the ruling families. People of East African ancestry commonly known as ‘Sheedis‘ can also be found in Pasni in small numbers; this African lineage is found at low frequency in the rest of Makran, as well as Karachi. ‘Sheedis’ are mostly descended from female slaves brought in as concubines in the early 19th century, when slave trade flourished under Omani Sultans whose suzerainty extended over Gwadar till 1958. [1]

Facilities

The town houses a modern fish harbour and Port of Pasni, with fishing being the main occupation of the town dwellers. Frozen catch is also sent to Turbat and Karachi for sale in the larger markets.
A joint-user airfield is shared by Pakistan Air Force (PAF), Pakistan Navy and civil aviation. PAF as well as PN-Aviation operational facilities are housed nearby. Daily commercial flights link the town with Karachi.
In 2008, the government approved the construction of Shadi Kaur storage dam near Pasni, which is expected to alleviate some of the power deficiency of the region.[3]

History

Other than being a small fishing village, the town does not figure much in history. Alexander the Great is said to have stopped at Pasni (called ‘Cysa’ in Arrian’s treatise Indica) while unsuccessfully trying to rendezvous with his admiral, Nearchus, during a disastrous exodus via Makran after the Indian Campaign (325 BC). According to one theory, Admiral Nearchus’ well-stocked fleet was supposed to have continuously provisioned Alexander’s army as the latter marched West along the barren coast towards Persia. In the event, a major portion of Alexander’s route through Makran (Bela-Averan-Hoshab-Turbat and then south to Pasni-Gwadar) turned out to be much further inland than expected, apparently due to faulty knowledge of the terrain.[2]
An unexplored Harappan-era settlement known as Sokhta Koh is tucked away in the low hills, about 25 km north of Pasni. It is conjectured that this was an ancient Harappan outpost which traded luxury wares with Mesopotamia and Persian Gulf settlements.
The town of Pasni, along with Gwadar, were burned by the Portuguese in 1581, having had some violent encounters with the Kalmatis in the area.[4] The town was attacked again, by Baloch rebels during the 1898 Baloch uprising; the town was looted, and the telegraph lines running to Gwadar severed.[4]

Enhanced by Zemanta

Sui Gas Field

Sui gas field is the biggest natural gas field in Pakistan. It is located near Sui in Balochistan. The gas field was discovered in the late 1952 and the commercial exploitation of the field began in 1955.
Sui gas field accounts for 26% of Pakistan’s gas production.[1] Remaining reserves are estimated to be at about 2 trillion cubic feet (57×10^9 m3) and the daily production is around 604 million cubic feet (17.1×10^6 m3).
The operator of the field is Pakistan Petroleum Limited.
The law and order situation in Balochistan is a matter for concern for PPL. Repeated attacks on supply lines of natural gas from Sui gas field to rest of the country has become an order of the day. As a protective measure, Chief of Army Staff Ashfaq Pervez Kayani has ordered that Frontier Corps (FC) will take charge of Sui gas fields and army soldiers will be withdrawn from all over the province.[2]
Enhanced by Zemanta

Sui Blochistan

Sui (Urdu: سوی‎) is a sub-district of Dera Bugti District in Balochistan, Pakistan. The Sui gas field is located near Sui town.

  Location

Town of sui is at the corner where the provinces of Baluchistan, Sindh and Punjab meet. About 9 Km from Punjab, 10 Km from Sindh. River indus flows 25 Km to the East of it. It is 40Km south of Dera Bugti. Sui has gas compression facilities from where Natural gas is pipelined to nearby Punjab and Sindh towns. It is also pipelined to Quetta the largest city of Balochistan about 200 miles away.

 Administration

The town of Sui serves as the administrative centre of Sui tehsil, a subdivision of the district, the town of Sui itself functions as a Union Council.[1] It is at the corner where the province of Sindh and Punjab meet. About 6 miles from Punjab, 7 Miles from Sindh. River indus flows 20 miles to the East of it.
Enhanced by Zemanta

Dera Bugti

English: Nawan Brahumdagh Bugti sitting beside...
English: Nawan Brahumdagh Bugti sitting beside Shaheed Nawab Akber Khan Bugti in a cricket stadium of Sui,Dera Bugti 

Dera Bugti is a district within the Balochistan province of Pakistan.
Administration
The district is administratively subdivided into three sub-divisions, these are:[1]

  Population

The population of Dera Bugti district was estimated to be over 250,000 in 2005. Over 99% of the people of the area are Muslims. The Bugti is the Baloch tribe in the district.

Enhanced by Zemanta

Iftikhar Muhammad Chaudhry

Iftikhar Muhammad Chaudhry, Chief Justice of t...
Iftikhar Muhammad Chaudhry, Chief Justice of the Pakistani Supreme Court
Iftikhar Muhammad Chaudhry, MoF (Urdu: اِفتِخارمُحَمّد چودهرى‎), (born 12 December 1948), is the 18th and the incumbent Chief Justice of Pakistan, having been nominated by former President General Pervez Musharraf on 30 June 2005, prior to his suspension on 3 November 2007.
 
Hailing from Quetta, Balochistan Province of Pakistan, Chaudhry was educated at the Sindh University and beginning the practice as an advocate from the Sindh High Court in 1976, and ascended as a senior advocate at Supreme Court before taking a government law assignment in Quetta. In 1990, after being appointed as an additional judge at the Balochistan High Court by then-President Ghulam Ishaq Khan, Chaudhry secured the nomination of Chief justice of Balochistan High Court by the President Rafiq Tarar, in 1999. The same year, he controversially took oath under chairman joint chiefs general Musharraf, validating the LFO ordnance No. 2002, and ascended to the Supreme court in 2002. On 30 June 2005, President Musharraf approved the appointment of Chaudhry as chief justice, and refused to resign despite the pressure exerted by Musharraf, therefore leading to his suspension on 3 November 2007.
 
The news of his suspension sparked the greater unrest, civil opinion, distressful economical situation, and the authoritarian actions decided the departure of Musharraf as chief of army staff in 2007, and ousted from the country in 2009. Released by the orders of Prime minister Yousaf Raza Gillani, the ban of restoration remain intact by the upcoming president Asif Zardari who also faced a massive public resentment and demonstration against him in entire country. Finally on 22 March 2009, Chaudhry was reinstated among with several other senior justices and judges.
 
His notable rulings including the suo motu notice of controversial privatization of the Pakistan Steel Mills, leading the case of missing persons in Balochistan, arguing and issuing orders against the New Murree project regarding as environmental catastrophe, ruling the National Reconciliation Ordinance (NRO) as unconstitutional and irrelevant. Recently, after proceeding the notice of contempt against the Prime minister Yousaf Raza Gillani who forcefully refusing to direct a letter to Swiss authorities over President’s hidden assets in Swiss Banks, Chaudry retroactively discharged and ousted Gillani and his government on April 26, 2012.
 
Iftikhar Muhammad Chaudhry was born on 12 December 1948 in Quetta, Balochistan Province, Pakistan. His family is originally from Faisalabad. He belongs to Highly Respected Rajput tribe of Punjab. His father, Chaudhry Jan Muhammad, a police officer, migrated to a village in Faisalabad District and then went to Quetta, Balochistan during the Partition of British India in 1947.He has spent all his life in Quetta and moved to Islamabad, when he was elevated judge of Supreme Court of Pakistan in the year 2000.Chaudhry has three brothers who are settled abroad and he is second eldest child of his parents.
He is married to Faiqa Iftikhar and has five children. His two sons are Arsalan Iftikhar and Ahmed Balach Iftikhar. He has three daughters namely Ayesha Iftikhar, Ifrah Iftikhar and Palwasha Iftikhar.

  Career in law

Chaudhry has a Bachelors in Arts and Bachelors in Law (LLB) from Jamshoro-Sindh.[1] He joined the bar in 1974. Later, he was enrolled as Advocate of the High Court in 1976 and as an Advocate of the Supreme Court in 1985.[1] In 1989 he was appointed Advocate General, Balochistan by Akbar Bugti the then Chief Minister of Balochistan.[1] He was elevated as Additional Judge, Balochistan High Court on 6 November 1990 until 21 April 1999.[1]
 
On 22 April 1999 he became Chief Justice of Balochistan High Court. Besides remaining as Judge of High Court, he discharged duties as Banking Judge, Judge Special Court for Speedy Trials, Judge Customs Appellate Courts as well as Company Judge. Chaudhry also remained President of High Court Bar Association, Quetta, and was elected twice as Member of the Bar Council. In 1992 he was appointed as Chairman of Balochistan Local Council Election Authority and thereafter for second term in 1998. He also worked as Chairman, Provincial Review Board for the province of Balochistan and was twice appointed as Chairman of the Pakistan Red Crescent Society, Balochistan.[1]
 
On 4 February 2000 he was nominated Justice of Supreme Court of Pakistan. He is said to be the youngest Chief Justice of Pakistan, who will be serving the longest period that any other chief justice has ever served in the history of Pakistan’s judiciary. On 30 June 2005 he became the Chief Justice of Pakistan.[1] At present, Justice Iftikhar is also functioning as Chairman, Enrollment Committee of Pakistan Bar Council and as Chairman, Supreme Court Building Committee.[1]
Enhanced by Zemanta

Astola Island

Sunset at Astola Island
Sunset at Astola Island 
English: A view of sea from the Astola Island ...
  A view of sea from the Astola Island of Pakistan

Astola Island, also known as Jezira Haft Talar (Urdu: جزیرہ ہفت تلار‎) or ‘Island of the Seven Hills’, is a small uninhabited Pakistani island in the Arabian Sea approximately 25 km (16 mi) south of the nearest part of the coast and 39 km (24 mi) southeast of the fishing port of Pasni. Astola is Pakistan’s largest offshore island at approximately 6.7 km (4.2 mi) long with a maximum width of 2.3 km (1.4 mi) and an area of approximately 6.7 km2 (2.6 sq mi). The highest point is 246 ft (75 m) above sea level. Its geographical coordinates are Latitude 25° 7’21.51″N and Longitude 63°50’51.53″E. Administratively, the island is part of the Pasni subdistrict of Gwadar District in Balochistan province. The island can be accessed by motorized boats from Pasni, with a journey time of about 5 hours to reach the island.

History
The earliest mention of Astola is in Arrian‘s account of Admiral Nearchos, who was dispatched by Alexander the Great to explore the coast of the Arabian Sea and the Persian Gulf in 325 BCE. The sailors in Nearchos’s fleet were “frightened at the weird tales told about an uninhabited island, which Arrian calls Nosala”.[1]

 Geography

The island consists of a large tilted plateau and a series of seven small hillocks (hence the local name “Haft Talar” or “Seven Hills”), with deep chasms and crevices, which are several feet wide.[citation needed] There are several natural caves and coves on the island. The south face of the island slopes off gradually whereas the north face is cliff-like with a sharp vertical drop.[citation needed]

  Ecology

Isolation has helped maintain several endemic life forms on Astola. The endangered Green turtle (Chelonia mydas) and the Hawksbill turtle (Eretmochelys imbracata) nest on the beach at the foot of the cliffs. The island is also an important area for endemic reptiles such as the Astola viper (Echis carinatus astolae). The island is reported to support a large number of breeding water birds including coursers, curlews, godwits, gulls, plovers and sanderlings. Feral cats, originally introduced by fishermen to control the endemic rodent population, pose an increasing threat to wildlife breeding sites.
Vegetation on the island is sparse and largely consists of scrubs and large bushes. There are no trees on the island. The largest shrub on the island is Prosopis juliflora, which was introduced into South Asia in 1877 from South America. There is no source of fresh water on the island and the vegetation depends on occasional rainfall and soil moisture for survival. Astola is also home to coral reef.

 Man-made features

In 1982, the Government of Pakistan installed a small gas-powered beacon on the island for the safety of passing vessels, which was replaced by a solar-powered one in 1987.[2]
Between September and May of each year, Astola becomes a temporary base for mainland fishermen for catching lobsters and oysters. From June to August, the island remains uninhabited due to the fishing off-season, the rough seas and high tides.
There is a small mosque dedicated to the Muslim saint, Khawaja Khizr, which is used by the mainland fishermen during the fishing season. Ruins of an ancient Hindu temple of the Hindu goddess, Kali are located on the island.[3] The island was also known to the Hindus as Satadip.[4]
In Arrian’s Indica, which describes the westward journey of Alexander’s fleet after the Indus Valley campaign (325 BC), Admiral Nearchus is quoted as having anchored by an island named ‘Carnine’. It was said to be inhabited by the Ichthyophagoi (‘fish eaters’ in Greek) and where, “even mutton had a fishy taste”. The Persian phrase mahi khoran (fish eaters) has become the modern name of the coastal region of Makran. Some scholars have assumed Carnine to be Astola, without considering the extreme aridity and lack of fresh water, which renders the place inhospitable for human habitation, as well as animal husbandry. In all likelihood, Carnine was the name of an island in the inland sea, presently known as Khor Kalmat. This latter conjecture supports Nearchus’ coast-hugging voyage (which would have kept him well away from Astola), a compulsion meant to provision Alexander’s army that was supposed to have marched along a coastal route.

 Eco-tourism

Astola island is a popular but “hard” destination for eco-tourism, although there are no lodging facilities on the island. Overnight tourists must camp on the island and bring their own provisions. Camping, fishing and scuba-diving expeditions are popular. It is also a site for observing turtle breeding. There has been some damage to Astola’s ecology due to domesticated cats left behind by fishermen, which have threatened bird nesting sites and turtle hatcheries.

Enhanced by Zemanta

Gadani Beach

Gadani Beach
Gadani Beach
Gadani is a coastal village of Lasbela District located in the southern part of Balochistan along the Arabian Sea, Pakistan. It is also a Union Council of Hub Tehsil[1] and is just a 1 hour drive away from Karachi, Sindh. The population of Gadani was estimated to be around 10,000 in 2005. More than 97% of the population is Muslim with a small Hindu minority. The majority of population speaks Balochi and there is a large Sindhi speaking minority. In Gadani majority of the population speaks a language named Lasi, this language is derived from Sindhi or Jadgali.
 
Many prehistoric shell-midden sites were discovered along the shores of a small bay, near Gadani. They are characterized of heaps of fragments of marine and mangrove shells among which are flint and jasper tools and stone querns. The first radiocarbon dates obtained from these middens indicate they result from the activity of people who settled along the coast both during the seventh and the fifth millennium before present
Enhanced by Zemanta