ترک عوام کا ریفرنڈم میں تاریخی فیصلہ

ترک سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق صدارتی اختیارات سے متعلق ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج آ چکے ہیں جس میں 51.4 فیصد ووٹرز نے صدر رجب طیب اردوان کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ریفرینڈم کے سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد صدر رجب طیب اردوان 2029 تک عہدے پر فائز رہیں گے اور انہیں وہ اختیارات حاصل ہو جائیں گے جو اس وقت وزیراعظم کو حاصل ہیں جن میں کابینہ کے وزرا کا انتخاب، سینیئر ججوں کے چناؤ اور پارلیمان کو برخاست کرنے کے وسیع اختیارات شامل ہیں۔

ریفرینڈم کے لیے ایک لاکھ 67 ہزار پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے جہاں ساڑھے 5 کروڑ رجسٹرڈ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم بن علی یلدرم کو فون کر کے نتائج پر مبارکباد دی اور کہا ہے کہ ترک ریفرنڈم میں عوام نے صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دیدیا ہے۔ ترکی کے صدر کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کے لیے تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

ترک پارلیمان نے جنوری میں آئین کے آرٹیکل 18 کی منظوری دی تھی ۔ صدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کے استحکام کے لیے تبدیلیاں ضروری ہیں۔ نئی اصلاحات کے تحت ملک کے وزیراعظم کا عہدہ ختم ہو جائیگا اس کی جگہ نائب صدر لیں گے۔ اسکے علاوہ پارلیمنٹ میں اراکین کی تعداد 550 سے بڑھکر 600 ہو جائیگی جبکہ رکن پارلیمنٹ بننے کیلئے عمرکی حد 25 سال سے کم کرکے 18 سال ہو جائیگی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s