ایک بوڑھی فرسودہ سوچ

میری عمر ( پچاس پچپن برس اور اس سے اوپر) کے لوگ گواہی دیں گے کہ جب ہم بچے تھے تو ہمارے روز و شب کیسے تھے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم سورج غروب ہونے کے بعد باہر نہیں کھیل سکتے تھے۔ مغرب کے وقت ہر حال میں گھر کی چار دیواری میں موجودگی لازمی تھی۔ اس بارے میں کوئی بہانہ یا سفارش باپ کے ڈنڈے یا ماں کی چپل کے سامنے کارگر نہیں تھی۔ یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ کوئی بچہ رات دس بجے کے بعد بستر سے باہر ہو بھلے نیند آئے نہ آئے۔ اسکول ہوم ورک بھی رات کے کھانے کے بعد سونے سے پہلے مکمل کرنا ہوتا تھا۔ صرف اس رات دیر تک جاگنے کی اجازت تھی جب اگلے دن یا تو ہفتہ وار یا تہوار کی چھٹی ہو۔ مگر جاگنے کا یہ مطلب نہیں تھا کہ بچہ مسلسل ٹی وی کے سامنے بیٹھا رہے۔ ہمیں صرف بچوں کے ٹی وی پروگرام دیکھنے کی اجازت تھی اور یہ پروگرام رات آٹھ بجے سے پہلے پہلے ٹیلی کاسٹ ہو جایا کرتے تھے۔

اگر بیماری آزاری جیسی کوئی حقیقی مجبوری نہیں تو اسکول سے غیر حاضری تقریباً ناممکنات میں سے تھی اور ناغے کے بعد اسکول میں آمد پر غیر حاضری کے سبب سے متعلق درخواست بھی بستے میں ہونی ضروری تھی جس پر بچے کے سرپرست کے دستخط یا انگوٹھا لازمی تھا اور یہ درخواست تب تک موثر نہیں ہوتی تھی جب تک ہیڈ ماسٹر یا ہیڈ مسٹریس اس پر تصدیقی دستخط نہ کر دیں۔

اسکول کے اوقات کے بعد بھی بچے کی جان نہیں چھوٹتی تھی۔ جو بچہ بعد از عصر محلے یا اسکول کے گراؤنڈ میں کسی گیم یا سرگرمی میں حصہ نہیں لیتا تھا اس کے بارے میں عمومی رائے یہی ہوتی کہ یا تو یہ بیمار ہے یا پھر جسمانی طور سے کمزور ہے۔ اسکول میں پڑھنے والا کوئی بھی بچہ اگر شام کو ٹیوشن پڑھتا تھا تو اس کے بارے میں یہ تاثر بنتا چلا جاتا کہ شاید یہ اسکول کی پڑھائی میں پھسڈی ہے تب ہی تو اس کے والدین ٹیوشن دلواتے ہیں۔

والدین اور اساتذہ کے نزدیک جو باتیں کبیرہ گناہوں کی حیثیت رکھتی تھیں ان میں ہوم ورک مکمل نہ کرنا ، بچے سے گالم گلوچ سرزد ہونا، کسی بھی جاننے والے بڑے کو دیکھ کر سلام نہ کرنا ، دو بڑوں کی گفتگو کے بیچ بول پڑنا ، اکیلے یا ساتھی بچوں کے ساتھ کسی سینما گھر کے آس پاس پایا جانا ، کسی اجنبی سے مسلسل بات کرنا ، گلیوں میں بلا مقصد گھومتے پایا جانا، بازار سے کوئی شے بلا اجازت خرید کے وہیں کھڑے کھڑے کھا لینا ، پالتو جانوروں کو بلا جواز تنگ کرنا، پیسے یا کھانے پینے کی اشیا گھر میں یا گھر سے باہر چرانا۔ ان جرائم کی سزا میں سرزنش سے لے کر بول چال کی عارضی معطلی، دیوار کی جانب منہ کر  کے کھڑا کیا جانا یا پھر پٹائی۔ اس زمانے میں گھر یا اسکول میں سرزنشی پٹائی تربیت کا حصہ سمجھی جاتی تھی فوجداری جرم نہ بنی تھی۔ تب ہی تو والدین بچے کو اسکول میں داخل کرواتے وقت دھڑلے سے کہتے تھے ’’ماسٹر صاحب ہمارا لختِ جگر آپ کے حوالے۔ ہڈیاں آپ کی گوشت ہمارا‘‘۔ بچے کو اس وقت اپنا باپ قصائی محسوس ہوتا تھا۔ لیکن آج لگتا ہے کہ اس قصابی کے پیچھے کیسی محبت چھپی ہوئی تھی۔

جب میں آج اپنے یا دوسروں کے بچوں کے شب و روز دیکھتا ہوں تو اپنے بچپنے کی یادوں پر دکھ ہوتا ہے۔ ہمیں گھر میں اکثر کفایت شعاری یا فضول خرچی جیسے الفاظ سننے پڑتے تھے۔ آج کا بچہ دراصل اپنے والدین کا باپ یا ماں ہے۔ وہ باقاعدہ والدین کو اپنی ہر پسند نا پسند کے بارے میں حکماً درخواست کرتا ہے اور والدین بہ رضا و رغبت اس بچے کی فرمائشی غلامی پر رضامند رہتے ہیں۔ آج کے والدین یہ تصور ہی نہیں کر سکتے کہ بچے کی جا بے جا فرمائش دراصل محبت نہیں بلکہ اس کی زیرِ تعمیر شخصیت پر کتنا بڑا ظلم ہے۔ آج کا بچہ نہ کے مطلب سے ناواقف اور صرف ہاں کے مطلب سے واقف ہے۔ اس کے ناز و نعم کا اس کی اخلاقی و تعلیمی تربیت سے اگر کوئی لینا دینا ہے بھی تو واجبی سا۔

ہمیں اپنے والدین سے کپڑے گندے یا میلے کرنے پر خوب سننا پڑتی تھیں لیکن آج کے بچے کو اس بارے میں کوئی تشویش نہیں کیونکہ اسے کپڑے دھونے کے صابن یا ڈیٹرجنٹ کے اشتہارات سے یہ تعلیم مل رہی ہے کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔ اسے ہر ماہ نئے کپڑے دلانا والدین کا فرض ہے۔ اگر روزانہ نہیں تو ہر ہفتے ایک نیا کھلونا ضرور چاہئیے۔ کس بچے کو اپنی عمر کے اعتبار سے کون سا کھلونا چاہیے اس کا فیصلہ بچہ خود کرتا ہے اور آج کل وہ پلاسٹک کی بندوق یا پستول وغیرہ سے کم پر راضی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دیگر ہم عمروں سے کڑا مقابلہ ہے۔ وہ فٹ بال ، کرکٹ ، ہاکی یا بیڈ منٹن صرف ٹی وی پر دیکھتا ہے اور خود محلے یا خاندان کے بچوں کے ساتھ ’’ خود کش بمبار ’’ یا ڈاکو ڈاکو یا اغوا کار کھیلنا پسند ہے۔ بچوں کی دو ٹیموں میں سے ایک ظالم اور دوسری مظلوم بن جاتی ہے اور پھر پوزیشنیں بدل لی جاتی ہیں۔

باہر کب تک رہنا ہے اور رات کو کس وقت گھر لوٹنا ہے اس کا فیصلہ بھی بچے خود کرتے ہیں۔ گھر آ کر ماں کے ہاتھ کا کھانا کھانا ہے یا باہر کا برگر آرڈر کرنا ہے اس کا فیصلہ بھی بچہ خود کرتا ہے۔ آئس کریم خود خریدنے کے لیے بھی پیسے چاہئیں۔ رات کو وہ اپنے والدین کو سلا کر کمپیوٹر گیمز آف کر کے سوتا ہے اور صبح جب اسکول کے لیے روانہ ہوتا ہے تو آدھا سوتا جاگتا کلاس روم تک پہنچتا ہے۔ سرزنش ، سزا ، مار ، یہ اصطلاحات اس کے لیے اجنبی ہیں۔ ٹی وی ڈراموں یا فلموں سے لیے گئے ڈائیلاگ اس بچے کی لسانی ذہانت کے طور پر فخریہ انداز میں بتائے جاتے ہیں۔ ٹیوشن نہ پڑھنے کا سبب والدین کی غربت تو ہوسکتی ہے بچے کی تعلیمی کمزوری ہرگز نہیں۔ اسکول میں اگر گریڈ کم آرہا ہے تو یہ بچے کا نہیں ٹیچر یا اسکول کا قصور ہے۔ اگر محلے سے اس کی کوئی شکایت آئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمسائے اس سے جلتے ہیں۔

اب مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوتی جب میں ایک بارہ سالہ بچے کے ہاتھ میں موبائیل فون دیکھتا ہوں جو اسے سالگرہ پر آنٹی کی جانب سے تحفے میں ملا۔ اس کی میز پر کتاب کے بجائے ٹیبلٹ دیکھتا ہوں جس میں کتاب نہیں بلکہ گیمز اپ لوڈ ہوتے ہیں۔ اس کی کلائی پر گھڑی دیکھتا ہوں ، گویا کسی کارپوریٹ میٹنگ میں پہنچنے سے دیر نہ ہو جائے۔ ایک چودہ برس کے بچے کی ذاتی موٹر سائیکل دیکھتا ہوں اور حیرانی نہیں ہوتی کیونکہ اس کے ساتھ کے بچوں کے پاس تو اپنی ذاتی کاریں اور مسلح محافظ ہیں۔ اب اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں ایک سٹھیایا ہوا بڈھا ہوں جو اپنے دور کو اچھا اور آج کے دور کو حسبِ عادت برا کہہ رہا ہے تو ایسا نہیں ہے۔ ہر دور اپنی نسل کے لیے نئے مسائل اور نئے حل مع نئی اخلاقیات لاتا ہے۔ ہو سکتا ہے موجودہ دور کے لیے یہی ٹھیک ہو جو آج کے بچے کر رہے ہیں ، سیکھ رہے ہیں یا پڑھ رہے ہیں۔ البتہ مجھے ان میں سے بہت سی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ شاید آپ ٹھیک ہی سوچ رہے ہیں۔ شاید میری سوچ یا میں واقعی بوڑھا ہو گیا ہوں۔

وسعت اللہ خان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s