ملازمت میں ترقی نماز کی ادائیگی سے مشروط

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین کی ترقی کے لیے کارکردگی کے علاوہ پابندی کے ساتھ نماز کی ادائیگی سے مشروط ہو گی۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا سے سینیچر کے روز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ بعدازاں سپریم کورٹ کے ملازمین کی جانب سے ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گی۔

صحافی اورنگزیب جرال کے مطابق پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ مظفر آباد کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں درج ہے کہ چیف جسٹس ابراہیم ضیا کا کہنا تھا کہ ‘آج کے بعد سپریم کورٹ میں تعینات ہر کوئی آفیسر و اہلکار نماز کا پابند ہو گا۔ سالانہ ترقی نماز کی باقاعدگی سے مشروط ہو گی۔ دو گروپ بنائیں ایک گروپ کی امامت خود کرواؤں گا جبکہ دوسرے گروپ کی امامت امام مسجد کروائیں گے۔’ چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا کا یہ بھی کہنا تھا کہ خفیہ طور پر چیک بھی کیا جائے گا کہ کون ملازم نماز کی پابندی نہیں کرتا۔

انھوں نے کہا کہ ‘سرکاری ملازمین اپنے فرائض منصبی پوری محنت، دیانت، خلوص نیت، لگن اور ذاتی پسند نا پسند سے بالاتر ہو کر سر انجام دیں علاقائی، لسانی اور گروہی تعصبات سے بالا تر ہو کر ملت اسلامیہ کے فرد کی حیثیت سے اپنے فرائض کی بجا آوری یقینی بنائیں۔ چیف جسٹس ابراہیم ضیا کی جانب سے سپریم کورٹ کے ملازمین کی ترقی کارکردگی کے علاوہ نماز کے ساتھ مشروط کرنے پر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے عام لوگوں کی رائے بھی تقسیم ہے۔

مظفرآباد سنڑل بار کے سابق سیکرٹری جنرل ناصر احمد ایڈوکیٹ نے اس بیان پر اپنے اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارے عقیدے کے مطابق نماز فرض ہے اگر کوئی ملازم نماز جیسے فرض کو ادا کرنے میں کوتائی کرتا ہو تو ممکن نہیں کہ وہ ملازم فرائضں منصبی بھی درست انداز میں ادا کرے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چیف جسٹس نے ملازمین کو فرض پر عمل کرنے کو کہا ہے تو اس میں کوئی عار نہیں کیونکہ بحثیت مسلمان ہم ا س سے انکار نہیں کر سکتے۔

شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے امرالدین کا کہنا ہے ‘نماز ہر مسلمان پر فرض ہے لیکن ملازم کی ترقی کارکردگی اور ایمانداری سے مشروط ہونی چاہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی ملازم نماز پڑھے مگر وہ اپنے فرائضی منصبی دیانتداری سے ادا نہ کرے تو کیا وہ ترقی کا مستحق ہو گا۔’ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں پہلی مرتبہ کسی بھی سرکاری ادارے کے سربراہ نے اس طرح کے احکامات جاری کیے ہیں جس میں سرکاری ملازم کی ترقی کے لیے کارکردگی کے ساتھ ساتھ نماز کی پابندی سے ادائیگی کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s