اسرائیل : فلسطینی کے قتل کی سزا پتھراؤ کی سزا سے بھی کم

palestinoاسرائیل میں عدالت نے منگل کے روز ایک فوجی اہل کار ایلور ازاریا کو 18 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ مذکورہ فوجی نے تقریبا ایک برس پہلے مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں زخمی 21 سالہ فلسطینی نوجوان عبدالفتاح الشریف کو ہلاک کر دیا تھا۔ ایلور کا دعوی تھا کہ فلسطینی نوجوان کارروائی کرنے کی کوشش کر رہا تھا جب کہ درحقیقت نہتّا عبدالفتاح زخمی حالت میں زمین پر پڑا ہوا تھا۔ اس دوران ایلور نے عبدالفتاح کے سر میں گولی مار کر اسے قتل کر ڈالا۔

پتھراؤ .. اور قتل

فلسطینی نوجوان کے گھرانے نے اس تخفیف شُدہ سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ” ایلور کو دی جانے والی سزا.. پتھراؤ کرنے والے فلسطینی بچے کو دی جانے والی سزا سے بھی کم ہے۔ اداروں کا برتاؤ چِیخ چِیخ کر کہہ رہا ہے کہ سب لوگ اس فوجی کو سپورٹ کر رہے ہیں اور ایک طاقت ور نظام قانونی ادارے پر دباؤ ڈال رہا ہے جب کہ ہر چیز فلسطینیوں کے خلاف اُلٹی صورت میں سامنے آ رہی ہے”۔ ادھر وزارت اطلاعات کے سکریٹری محمود خليفہ نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ اسرائیلی فوجی عدالت کی جانب سے شہید عبدالفتاح کے قاتل کو 18 ماہ کی تخفیف شدہ سزا اس امر کی تصدیق ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کے تمام تر اداروں کو اُس دہشت گردی اور شدت پسندی کی خدمت کرنے کے لیے بھرتی کر لیا گیا ہے جو غاصب ریاستی حکام فلسطین ، اس کے اداروں اور عوام کے خلاف عمل میں لا رہے ہیں”۔

قاتل کا استقبال تالیوں کے ساتھ1513473

محمود خلیفہ کے مطابق قاتل ایلور ازاریا کا عدالت میں تالیوں اور نسل پرستی پر مبنی نعروں کے بیچ استقبال کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض حکام کی عدالتیں جنگی جرائم کے ارتکاب کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں”۔ دوسری جانب بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈاکٹر حنا عیسی نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ “اسرائیل کا یہ فیصلہ اسرائیلی فوجداری قانون کے تحت لاگو اقدامات کی مخالفت ہے۔ یہ قانون دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قتل کے کسی بھی جرم کی سزا تین برس یا اس سے زیادہ مدت کی قید کا متقاضی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے مقدمے کی پیروی میں فوجداری قانون کے متعین کردہ اقدامات کی پابندی بھی نہیں کی اور چند منٹوں میں سماعت مکمل کر دی”۔

اسرائیل نے اس فیصلے کے ذریعے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کی غلطیوں پر بین الاقوامی قانون کے مطابق محاسبہ کرتا ہے۔ تاہم عملی طور پر اس نے قاتل فوجی کو بین الاقوامی تحقیق یا عالمی عدالتِ جرائم میں پیش ہونے سے بچا لیا۔ اس لیے کہ عالمی عدالت ان جرائم پر نظر نہیں کرتی جن کا فیصلہ اُن ممالک میں دیا جا چکا ہوتا ہے جہاں ان جرائم کا ارتکاب ہوا۔ عدالتی فیصلے کے بعد شدت پسند یہودیوں کے ایک گروپ نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایلور کو فوری طور پر آزاد کیا جائے کیوں کہ وہ ایک قومی ہیرو ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s