ناصر اورچ , بوسنیا جنگ کے دوران مسلمانوں کی حفاظت کرنیوالا

naser-oric111جب بوسنیا ہرزے گوینا میں جگہ جگہ مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل عام شروع ہوا تو بیس کے پیٹے میں ایک جوان بوشنیک مجاہد ناصر اورچ نے کوئی دو تین سو دیگر ساتھیوں کے ساتھ مشرقی بوسنیا کے علاقے میں مسلمانوں کا دفاع کرنا شروع کر دیا رفتہ رفتہ لگ بھگ آٹھ سو میل کا علاقہ ناصر اورچ کے کنٹرول میں آ چکا تھا۔ کبھی کبھی یہ جنگجو سربوں کے علاقوں میں گھس کر بھی کارروائیاں کرتے تھے۔ مشرقی بوسنیا کے جنگلوں اور پہاڑوں میں سربوں کے خلاف ناصر اورچ واحد جنگی مخالف تھا جو اسی درندگی سے جوابی کارروائیاں کرتا تھا جیسی ان کی جانب سے کی جاتی تھی۔ جب یوگو سلاویہ ٹوٹا تو یوگو سلاویہ کی قومی فوج جو دنیا کی چھٹی بڑی فوج تھی، وہ بھی نسلی گروہوں میں بٹ گئی اور جس گروہ کے ہاتھ جو اسلحہ لگا‘ وہ اسے بعد میں خانہ جنگی میں استعمال کرتا رہا۔

سب سے زیادہ اسلحہ سربوں کے ہتھے چڑھا جو شروع میں دونوں مسلمانوں اور کروٹس عیسائیوں پر اور بعد میں صرف مسلمانوں پر استعمال ہوتا رہا۔ خانہ جنگی کے دوران مسلمان اورکروٹس عیسائی دونوں سربوں کے نشانے پر تھے اور مشرقی بوسنیا سے تمام مسلمانوں اور عیسائیوں کو مغرب کی جانب دھکیل دیا گیا۔ دراصل سرب آرتھوڈوکس اس طرح ایک عظیم سربیہ کی ریاست کے خواب دیکھتے ہیں جس طرح شدت پسند ہندو تنظیم اور اکھنڈ بھارت کی سلطنت برصغیر تا مشرق و مغرب تک چاہتے ہیں۔ یوگو سلاویہ کی یہ خانہ جنگی جب موستار تک پہنچی تو مسلمان اورکروٹس عیسائی مل کر سربوں کے خلاف لڑتے رہے مگر کہتے ہیں کہ کروٹس کیتھولک عیسائیوں اور سرب آرتھوڈوکس عیسائیوں کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ طے پایا کہ اگر اس علاقے سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دیا جائے تو تمام مغربی بوسنیا کو کروشیا میں شامل کر دیا جائے گا اور موستار کو کروٹس کا دارالحکومت بنا دیا جائے گا اور مشرقی بوسنیا سربیہ کی ریاست میں ضم کر دیا جائے گا۔naser-potocari

مگر اس معاہدہ کی آج تک کھل کر تصدیق نہیں ہو سکی۔ لیکن یہ بات مصدقہ ہے کہ خانہ جنگی کے اوائل میں مسلمان اور کروٹس کیتھولک دونوں سربوں کے خلاف اکٹھے تھے اور بعد میں صرف مسلمان ہی ہر طرف قتل عام کا شکار ہوئے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد ناصر اورچ بوشنیک قوم کے ہیرو بن کر ابھرے اور ان پر کئی کتابیں بھی لکھی گئیں۔ کچھ سال پہلے سوئٹزر لینڈ (Switzerland) میں دوران سفر انہیں سربیہ کے دبائو کے زیر اثر بطور جنگی مجرم گرفتار کر لیا گیا ، لیکن14 دنوں کے بعد ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بری کر دیا گیا۔ ناصر اورچ آج بھی بوسنیا ہرزے گووینا میں مقیم ہیں اور سربیہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ جیسے جنگ کے دوران سربوں کے جنگی لیڈرز راتکو ملاڈچ (Ratko Mladic) اور اڈون کاراجچ (Radovan Karadzic) پر ہیگ Hague میں جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا گیا اسی طرح ناصر اورچ پر بھی جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے۔

ناصر اورچ سابقہ یوگوسلاویہ کی فوج میں اسی کی دہائی میں رہے ۔ فوج کی ملازمت سے فراغت کے بعد پولیس ٹریننگ کو جوائن کیا۔ کوسووو میں بھی رہے ۔ بلغراد میں وہ ایک کلب میں رہے۔ سرب کے فوجیوں کے ظلم کے خلاف ان کی جدوجہد پورے بوسنیا میں مشہور ہے ۔ گزشتہ سال بھی جنگی جرائم سے متعلقہ عدالت میں ان کا کیس چلتا رہا۔ جنگ کے بعد وہ پولیس سے بچنے کے لئے بوسنیا کے دوردراز علاقہ میں قیام پذیر رہے لیکن بعد میں منظر عام پر آ گئے۔

(ایک آوارہ گرد کی نظر سے اقتباس)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s