کیا امریکی سفری پابندی صرف مسلمانوں کے خلاف ہے : عدالت

امریکہ میں سان فرانسسکو کی اپیل کورٹ نے سوال کیا ہے کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی جانے والی سفری پابندی صرف مسلمانوں کے خلاف ہے؟ منگل کو عدالت نائنتھ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں تین رکنی بنچ کے ممبر جج رچرڈ کلفٹن نے عدالتی کاروائی کے دوران سوال کیا کہ اگر اس پابندی سے پوری دنیا میں موجود صرف 15 فیصد مسلمان متاثر ہو رہے ہوں تو کیا یہ پابندی امتیازی سلوک کہلائی جا سکتی ہے یا نہیں؟ اس کارروائی میں دونوں فریقین کی جانب سے ایک گھنٹے تک دلائل دیے جاتے رہے جہاں امریکی محکمہ انصاف نے پہلے اپنا موقف بیان کیا اور عدالت سے استدا کی کہ اس پابندی کو بحال کیا جائے۔

محکمہ انصاف کے وکیل آگسٹ فلینٹجے نے عدالت کو بتایا کہ کانگریس نے صدر کو اس بات کا مجاز بنایا ہے کہ وہ ملک میں داخل ہونے والوں پر قابو رکھ سکیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن اور سوڈان کے شہری امریکہ کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ امریکہ میں موجود کئی صومالی شہری دہشت گرد گروپ الشباب کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔ دوسری جانب سے ریاست واشنگٹن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سفری پابندی کے حکم کے معطلی سے امریکی حکومت کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچا ہے۔

وکیل نوح پُرسل نے کہا کہ اس پابندی سے ریاست واشنگٹن کے ہزاروں شہری متاثر ہوئے ہیں جن میں طلبہ بھی شامل ہیں اور وہ لوگ جو اپنے خاندان والوں سے ملنا چاہتے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے آخری لمحات میں اس بات پر بحث ہوئی کہ کیا یہ پابندی مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنا رہی ہے یا نہیں۔ محکمہ انصاف کے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق سفری پابندی میں کسی مذہب کو نشانہ نہیں بنایا گیا لیکن عدالت میں وکیل نوح پُرسل نے صدر ٹرمپ کے بیانات کا حوالہ دیا جس سے اشارہ ملتا تھا کہ یہ پابندی مسلمانوں کے خلاف ہے۔

جج رچرڈ کلفٹن نے پوچھا کہ یہ پابندی صرف ان سات ممالک کے لیے ہے جن کے بارے میں سابق صدر اوباما کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ خطرے کا باعث بن سکتے ہیں تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ صدر اوباما کی انتظامیہ نے بھی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا تھا؟ جواب میں وکیل نوح پُرسل نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے مکمل پابندی کی بات کی تھی اور یہ حکم مکمل پابندی تو نہیں ہے لیکن امتیازی ضرور ہے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے اس حکم کے بعد امریکہ میں کئی جگہوں پر احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ملک میں ان سات ممالک کے مسافروں میں بےچینی اور بےیقینی کی کیفیت پھیل گئی تھی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s