جرمن جریدے کے سرورق پر امریکی صدر ٹرمپ کا خاکہ

جرمنی کے معروف جریدے “ڈر شپیگل” نے ہفتے کے روز اپنی نئی اشاعت کے سرورق پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک خاکہ شائع کیا ہے جس میں وہ مجسمہ آزادی کا سر کاٹ کر اپنے ہاتھ میں تھامے کھڑے ہیں۔ اس خاکے کے منظر عام پر آنے کے بعد یورپ اور امریکا میں تنقید کا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ ہفت روزہ جریدے کے سرورق پر یہ خاکہ امریکی فن کار ایڈل روڈریگز نے بنایا ہے۔ خاکے میں ٹرمپ ایک ہاتھ میں امریکی مجسمہ آزادی کا کٹا ہوا سر اور دوسرے ہاتھ میں چُھرا لیے کھڑے ہیں جس سے خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔

سرورق کے بائیں جانب نیچے یہ عبارت تحریر ہے : “سب سے پہلے امریكا “.. نئے امریکی صدر کا نعرہ. جریدے کے چیف ایڈیٹر نے جرمن نیوز ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ ” ہمارے سرورق پر امریکی صدر اس علامت کا سر کاٹ رہے ہیں جو 1886 سے امریکا میں مہاجرین اور پناہ گزینوں کا خیرمقدم کر رہی ہے”۔ جرمن اخبار “بیلڈ” نے براہ راست طور پر اس خاکے کا موازنہ داعش کے سابق معروف برطانوی جلاد محمد اموازی عُرف جہادی جون سے کیا ہے جو تنظیم کی جانب سے جاری وڈیو کلپوں میں یرغمالیوں کے سربریدہ سروں کے ساتھ نمودار ہوتا تھا۔

یورپی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر اور جرمن لبرل پارٹی کے رکن الگزینڈر لیمبڈورف نے اس خاکے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ” سطحی انداز میں دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کا تمسخر اڑایا گیا ہے”۔ ادھر قدامت پسند اخبار “دی ویلٹ” کا موقف ہے کہ ڈر شپیگل جریدہ “صحافت کی قدر کو گرا رہا ہے”۔ دوسری جانب برلن میں ہفتے کے روز مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کے نزدیک مذکورہ جریدے کا سرورق ہاتھوں میں تھامے ٹرمپ کے خاکے کے خلاف احتجاج کیا۔ امریکا میں واشنگٹن پوسٹ اخبار نے “ڈر شپیگل” کے سرورق کو “حیرت ناک” قرار دیا۔ جمعے کے روز امریکی ہفت روزہ “دی نیویارکر” نے اپنے آخری اشاعت کے سرورق پر ایک خاکے میں مجسمہ آزادی کی مشعل کو بجھا ہوا دکھایا تھا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s